تحریر

يوسف

آیات ۹۴ تا ۱۰۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

94-98

حضرت یعقوب ؑ کی بینائی لوٹ آئی

ویڈیو

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾ قَالُوۡا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیۡ ضَلٰلِکَ الۡقَدِیۡمِ ﴿ٙ۹۵﴾ فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیۡنَ ﴿۹۷﴾ قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَکُمۡ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۸﴾

آیت 94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الۡعِیۡرُ قَالَ اَبُوۡہُمۡ اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿۹۴﴾

’’اور جب قافلہ چلا(مصر سے تو) ان کے والدنے فرمایا : مجھے یوسف کی خوشبو آرہی ہے ‘اگر تم لوگ یہ نہ کہو کہ میں سٹھیا گیا ہوں۔‘‘

یہاں پر یہ بات قابل غور ہے کہ جونہی حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص لے کر قافلہ مصر سے چلا اسی لمحے کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو اپنے بیٹے کی خوشبو پہنچ گئی۔ مگر اس سے پہلے ایک طویل عرصے تک آپؑ نے اپنے بیٹے کے ہجر میں رو رو کر اپنی آنکھیں سفید کر لیں‘ مگر یہ خوشبونہیں آئی۔ اس سے یہ نکتہ واضح ہوتا ہے کہ کوئی نبی ہو یا ولی‘ کسی معجزے یا کرامت کا ظہور کسی بھی شخصیت کا ذاتی کمال نہیں ہے‘بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے۔ وہ جس کو‘ جس وقت جو علم چاہے عطا فرما دے یا اس کے ہاتھوں جو چاہے دکھا دے۔ جیسے ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو مسجد نبویؐ میں خطبہ کے دوران اللہ تعالیٰ نے شام کے علاقے میں واقع اس میدانِ جنگ کا نقشہ دکھا دیا جہاں اُس وقت اسلامی افواج برسر پیکار تھیں‘ اور آپؓ نے فوج کے کمانڈر ساریہ کو ایک حربی تدبیر اختیارکرنے کی بآوازِ بلند تلقین فرمائی۔ جناب ساریہ نے میدانِ جنگ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی آواز سنی اور آپؓ کی ہدایت پر عمل کیا۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو اختیار تھا کہ جب چاہتے ایسا منظر دیکھ لیتے۔

آیت 95

قَالُوۡا تَاللّٰہِ اِنَّکَ لَفِیۡ ضَلٰلِکَ الۡقَدِیۡمِ ﴿ٙ۹۵﴾

’’انہوں (گھر والوں) نے کہا : اللہ کی قسم! آپؑ تواپنے اسی پرانے خبط ہی میں مبتلا ہیں۔‘‘

آپؑ کو شروع ہی سے یہ وہم ہے کہ یوسفؑ زندہ ہے اور آپؐ کو اس کے دوبارہ ملنے کا یقین ہے۔ یہ آپؑ کے ذہن پر اسی وہم کے غلبے کا اثر ہے جو آپؑ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ وہی پرانے خیالات یوسف کی خوشبو بن کر آپ کے دماغ میں آ رہے ہیں۔

آیت 96

فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الۡبَشِیۡرُ اَلۡقٰىہُ عَلٰی وَجۡہِہٖ فَارۡتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ

’’تو جب آیابشارت دینے والا اور اُس نے ڈالا اس (قمیص) کو یعقوبؑ کے چہرے پر تو آپؑ پھر سے ہو گئے دیکھنے والے۔‘‘

یوسف کی قمیص چہرے پر ڈالتے ہی حضرت یعقوب علیہ السلام کی بصارت لوٹ آئی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے سامنے زندگی کا سب سے اندوہناک غم بھی حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے ہی کی صورت میں سامنے آیا تھا جب برادرانِ یوسف نے اس پر خون لگا کر ان کے سامنے پیش کر دیا تھا کہ یوسف کو بھیڑیا کھا گیا اور اب زندگی کی سب سے بڑی خوشی بھی یوسف ؑکے کرتے ہی کی صورت میں نمودار ہو گئی۔

قَالَ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّکُمۡ ۚۙ اِنِّیۡۤ اَعۡلَمُ مِنَ اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۹۶﴾

’’آپؑ نے فرمایا: کیا میں تم سے کہتا نہیں تھا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ان چیزوں کا علم ہے جو تم نہیں جانتے؟‘‘

آیت 97

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا اسۡتَغۡفِرۡ لَنَا ذُنُوۡبَنَاۤ اِنَّا کُنَّا خٰطِئِیۡنَ ﴿۹۷﴾

’’انہوں نے کہا :ابا جان! ہمارے لیے ہمارے گناہوں کی مغفرت طلب کیجئے‘یقینا ہم ہی خطاکار تھے۔‘‘

آیت 98

قَالَ سَوۡفَ اَسۡتَغۡفِرُ لَکُمۡ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۹۸﴾

’’آپؑ نے فرمایا :عنقریب میں مغفرت طلب کروں گا تمہارے لیے اپنے رب سے‘ یقینا وہی ہے بخشش والا ‘بہت رحم کرنے والا۔‘‘

یہاں پر ’’سَوْفَ‘‘ کا لفظ بہت اہم ہے۔ یعنی آپؑ نے فوری طور پر ان کے لیے استغفار نہیں کیا بلکہ وعدہ کیا کہ میں عنقریب تم لوگوں کے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی اپنے بیٹوں کے بارے میں آپؑ کے دل میں رنج اور غصہ برقرار تھا۔شاید آپؑ کا خیال ہو کہ میں یوسفؑ سے مل کر ساری تفصیلات معلوم کروں گا‘ اس کے بعد جب تمام معاملات کی صفائی ہو جائے گی تو پھر میں اپنے رب سے ان کے لیے معافی کی درخواست کروں گا۔

99

بنی اسرائیل کی مصر آمد

ویڈیو

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَبَوَیۡہِ وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ﴿ؕ۹۹﴾

آیت 99

فَلَمَّا دَخَلُوۡا عَلٰی یُوۡسُفَ اٰوٰۤی اِلَیۡہِ اَبَوَیۡہِ

’’پھر جب وہ سب یوسفؑ کے پاس پہنچ گئے تو انہوں نے جگہ دی اپنے پاس اپنے والدین کو‘‘

کنعان سے چل کر بنی اسرائیل کا یہ پورا خاندان جب حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس مصر پہنچا تو آپؑ نے خصوصی اعزاز کے ساتھ ان کا استقبال کیا اوراپنے والدین کو اپنے پاس امتیازی نشستیں پیش کیں۔

وَ قَالَ ادۡخُلُوۡا مِصۡرَ اِنۡ شَآءَ اللّٰہُ اٰمِنِیۡنَ ﴿ؕ۹۹﴾

’’اور کہا کہ اب آپ لوگ مصر میں داخل ہوجائیں‘ اللہ نے چاہا تو پورے امن و چین کے ساتھ (یہاں رہیں)۔‘‘

اب آپ لوگوں کو کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ اگر اللہ نے چاہا تو یہاں آپؑ کے لیے امن وچین اور سکون و راحت ہی ہے۔

100

حضرت یوسف ؑ کے حسین خواب کی تعبیر

ویڈیو

وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫ قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَ قَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ وَ جَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾

آیت 100

وَ رَفَعَ اَبَوَیۡہِ عَلَی الۡعَرۡشِ وَ خَرُّوۡا لَہٗ سُجَّدًا ۚ

’’اور آپؑ نے اپنے والدین کو اونچے تخت پر بٹھایا‘ اور وہ سب کے سب یوسف ؑ کے سامنے سجدے میں گر گئے۔‘‘

یہ سجدۂ تعظیمی تھا جوپہلی شریعتوں میں جائز تھا۔ شریعتِ محمدیﷺ میںجہاں دین کی تکمیل ہو گئی وہاں توحید کا معاملہ بھی آخری درجے میں تکمیل کو پہنچا دیا گیا۔ چنانچہ یہ سجدۂ تعظیمی اب حرامِ مطلق ہے۔ جو لوگ اپنے بزرگوں یا قبروں کو سجدہ کرتے ہیں وہ صریح شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔سابقہ انبیاء کرام علیہم السلام کے حالات و واقعات سے آج اس کے لیے کوئی دلیل اخذ کرنا قطعاًدرست نہیں۔

وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبۡلُ ۫

’’اور یوسف ؑنے کہا :ابا جان! یہ ہے تعبیر اُس خواب کی جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا‘‘

حضرت یوسف علیہ السلام کے اس خواب کا ذکر آیت ۴ میں ہے کہ گیارہ ستارے اور سورج اور چاند مجھے سجدہ کررہے ہیں ۔اس میں گیارہ بھائی ستاروں کی مانند جبکہ والدین سورج اور چاند کے حکم میں ہیں۔

قَدۡ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ

’’ میرے رب نے اس کو سچا کر دکھایا۔‘‘

وَ قَدۡ اَحۡسَنَ بِیۡۤ اِذۡ اَخۡرَجَنِیۡ مِنَ السِّجۡنِ

’’اور اُس نے مجھ پر بہت احسان کیا جب مجھے قیدخانے سے نکلوایا‘‘

وَ جَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الۡبَدۡوِ

’’اور آپ لوگوں کو (یہاں) لے آیا صحرا سے‘‘

آپ لوگوں کو صحرا کی پر مشقت زندگی سے نجات دلا کر یہاں مصر کے متمدن اور ترقی یافتہ ماحول میں پہنچا دیا‘جہاں زندگی کی ہر سہولت میسر ہے۔

مِنۡۢ بَعۡدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَ بَیۡنَ اِخۡوَتِیۡ ؕ

’’اس کے بعد کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان دشمنی ڈال دی تھی۔‘‘

اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡعَلِیۡمُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾

’’یقینا میرا ربّ غیر محسوس طور پر تدبیر کرتا ہے جو چاہتا ہے۔ یقینا وہی ہے ہر شے کا علم رکھنے والا‘ حکمت والا۔‘‘

اللہ تعالیٰ اپنی مشیت کے مطابق باریک بینی سے تدبیر کرتا ہے اور اس کی تدبیر بالآخر کامیاب ہوتی ہے۔اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام اللہ کے حضور دعا کر تے ہیں:

101

حضرت یوسف ؑ کی ایمان افروز دعا

ویڈیو

رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾

آیت 101

رَبِّ قَدۡ اٰتَیۡتَنِیۡ مِنَ الۡمُلۡکِ وَ عَلَّمۡتَنِیۡ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ۚ

’’اے میر ے ربّ! تو نے مجھے حکومت بھی عطا کی ہے اور مجھے خوابوں کی تعبیر (یا معاملہ فہمی) کا علم بھی سکھایا ہے۔‘‘

فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۟ اَنۡتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ

’’اے وہ ہستی جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے‘ تو ہی میرا کارساز ہے‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘

تَوَفَّنِیۡ مُسۡلِمًا وَّ اَلۡحِقۡنِیۡ بِالصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۰۱﴾

’’ مجھے وفات دیجیو فرمانبرداری کی حالت میں اور مجھے شامل کر دیجیو اپنے صالح بندوں میں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے