’’پھر جب آپؑ نے اُن کا سامان تیار کروا دیا تو فرمایا کہ (آئندہ) اپنے اس بھائی کو بھی میرے پاس لے کر آنا جو تمہارے والد سے(تمہارا بھائی) ہے۔‘‘
غلہ چونکہ راشن بندی کے تحت دیاجاتا تھا اس لیے انہوں نے درخواست کی ہو گی کہ ہمارا ایک بھائی اور بھی ہے ‘اس کے اہل خانہ بھی ہیں ‘اسے ہم اپنے والد کی خدمت کے لیے پیچھے چھوڑ آئے ہیں‘ اُس کے حصے کا غلہ بھی ہمیں دے دیا جائے۔ اس سلسلے میں سوال و جواب کے دوران انہوں نے یہ بھی بتایا ہو گاکہ ہم دس حقیقی بھائی ہیں جبکہ وہ گیارہواں بھائی باپ کی طرف سے سگا لیکن والدہ کی طرف سے سوتیلاہے۔ حضرت یوسف ؑنے یہ سارا ماجرا سننے کے بعد فرمایاہو گاکہ ٹھیک ہے میں آپ کے گیارہویں بھائی کے حصے کا اضافی غلہ تم لوگوں کو اس شرط پر دے دیتا ہوں کہ آئندہ جب تم لوگ غلہ لینے کے لیے آئو گے تو اپنے اس بھائی کو ساتھ لے کر آئو گے تا کہ میں تصدیق کر سکوںکہ تم لوگوں نے غلط بیانی کر کے مجھ سے اضافی غلہ تو نہیں لیا۔
’’اور یوسف ؑنے اپنے نوجوانوں سے کہا کہ ان کی پونجی (بھی واپس) اُن کے کجاووں میں رکھ دو‘‘ اس زمانے میں چیزوں کے عوض ہی چیزیں خرید ی جاتی تھیں۔ چنانچہ وہ لوگ بھی اپنے ہاں سے کچھ چیزیں (بھیڑ بکریوں کی اون وغیرہ) اس مقصد کے لیے لے کر آئے تھے اور غلے کی قیمت کے طور پر اپنی وہ چیزیں انہوں نے پیش کر دی تھیں۔ مگر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے ملازمین کو ہدایت کر دی کہ جب ان کے کجاووں میں گندم بھری جائے تو ان لوگوں کی یہ چیزیں بھی جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طو رپر ادا کی ہیں چپکے سے واپس ان کے کجاووں میں ہی رکھ دی جائیں۔
’’(اب ہم جائیں گے) اور اپنے اہل و عیال کے لیے غلہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے‘ اور ایک اونٹ کا بوجھ زیادہ لائیں گے۔ یہ (ایک اضافی)بوجھ (لاناتواب) بہت آسان ہے۔‘‘
’’یعقوبؑ نے فرمایا: میں اسے (واپس)ہرگز نہیں بھیجوں گا تمہارے ساتھ ‘یہاں تک کہ تم میرے سامنے پختہ قسم کھاؤ اللہ کی کہ تم لازماً اسے لے کر آئو گے میرے پاس ‘سوائے اس کے کہ تم سب کو گھیرے میں لے لیاجائے۔‘‘
ہاں اگر کوئی ایسی مصیبت آ جائے کہ تم سب کے سب گھیرلیے جائو اور وہاں سے گلو خلاصی مشکل ہو جائے تو اور بات ہے‘ مگر عام حالات میں تم لوگ اسے واپس میرے پاس لانے کے پابند ہو گے۔
’’اور میں تم کو بچا نہیں سکتا اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی۔‘‘
میں اللہ کے کسی فیصلے کو تم لوگوںسے نہیں ٹال سکتا۔ اگر اللہ کی مشیت میں تم لوگوں کو کوئی گزند پہنچنا منظور ہے تو میں اُس کو روک نہیں سکتا۔ یہ صرف انسانی کوشش کی حد تک احتیاطی تدابیر ہیں جو ہم اختیار کر سکتے ہیں۔
’’وہ (یعقوبؑ) بچانے والا نہیں تھا ان کو اللہ (کے فیصلے) سے کچھ بھی‘سوائے اس کے کہ یعقوبؑ کے دل میں ایک خیال تھا جو اُس نے اسے پورا کر لیا۔‘‘
حضرت یعقوب علیہ السلام کے دل میں ایک کھٹک تھی جسے دور کرنے کے لیے آپؑ نے یہ تدبیر اختیار کی کہ اپنے بیٹوں کو ہدایت کر دی کہ وہ ایک دروازے سے داخل ہونے کی بجائے مختلف دروازوں سے داخل ہوں‘ لیکن آپؑ کی یہ تدبیر اللہ کے کسی فیصلے پر اثر انداز نہیں ہو سکتی تھی۔
’’اور جب وہ آئے یوسفؑ کے پاس تو آپؑ نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ میں تمہارا بھائی ہوں‘‘
آپؑ نے اپنے چھوٹے بھائی بن یا مین کو علیحدگی میں اپنے پاس بلایا اور ان پر اپنی شناخت ظاہر کر دی کہ میں تمہارا بھائی یوسف ؑہوں جو بچپن میں کھوگیا تھا۔
فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۶۹﴾
’’تو اب مت غمگین ہونا اُس پر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔‘‘
حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے چھوٹے بھائی کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ مجھے اللہ نے اس اعلیٰ مقام تک پہنچایا ہے اور ہمیں آپس میں ملا بھی دیاہے ۔ چنانچہ اب ان بڑے بھائیوں کے رویے پر تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب سختی کے دن ختم ہو گئے ہیں۔
’’انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں بادشاہ کا جامِ زریں نہیں مل رہا اور جو اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کے بوجھ کے برابر غلہ دیا جائے گا‘ اور میں اس کا ذمہ دار ہوں۔‘‘
’’انہوں نے کہا: اللہ کی قسم آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ ہم زمین میں فساد مچانے نہیں آئے اور ہم چوری کرنے والے ہر گز نہیں ہیں۔‘‘
آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم قحط کے مارے لوگ یہاں اتنی دور سے غلہ لینے آئے ہیں ‘ہم کوئی چور ڈاکو نہیں ہیں۔ اُن کے اس فقرے اور اندازِ گفتگو میں بڑی لجاجت پائی جاتی ہے۔
’’انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہی ہے کہ جس کے سامان میں وہ (جامِ زرّیں) پایا جائے وہ خود ہی اس کا بدلہ ہو گا۔ ہم تو اسی طریقے سے ظالموں کو سزا دیا کرتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ہاں اگر ایسا ہوا تو پھر جس کے سامان میں سے آپ کا جام نکل آئے‘سزا کے طور پرآپ لوگ اسے اپنے پاس رکھ لیں‘ وہ آپ کا غلام بن جائے گا۔ ہمارے ہاں تو (شریعتِ ابراہیمی کی رو سے) چوری کے جرم کی یہی سزا رائج ہے۔
’’تو آپؑ نے (تلاشی) شروع کی اُن کے بوروں کی اپنے بھائی کے بورے سے پہلے‘ پھر آپؑ نے نکال لیا وہ (جام) اپنے بھائی کے سامان سے۔‘‘
کَذٰلِکَ کِدۡنَا لِیُوۡسُفَ ؕ
’’اس طرح سے ہم نے تدبیر کی یوسف کے لیے ۔‘‘
یہ ایک ایسی تدبیر تھی جس میں توریے کا سا انداز تھا اور اس سے مقصود کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ اس پورے خاندان کو آپس میں ملانا تھا۔ اس تدبیر کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے کہ حضرت یوسفؑ نے اپنی طرف سے ایسا نہیں کیا تھا بلکہ اللہ نے آپؑ کے لیے یہ ایک راہ نکالی تھی۔ یہ وضاحت اس لیے ضروری تھی تا کہ کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا نہ ہو کہ ایسی تدبیر اختیار کرنا تو شانِ نبوت کے منافی ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ لائق توجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار بھی مطلق ہے اور اس کا علم بھی ہر شے پر محیط ہے ۔ اللہ کو تو علم تھا کہ یہ عارضی سا معاملہ ہے اور اس سے کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔
’’آپؑ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ اپنے بھائی کو روکتے بادشاہ کے قانون کے مطابق سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔‘‘
لفظ ’’دین‘‘ کی تعریف (definition) کے اعتبار سے قرآن کی یہ آیت بہت اہم ہے۔ یہاں دِیْنِ الْمَلِکِ (بادشاہ کے دین) سے مراد وہ نظام ہے جس کے تحت بادشاہ اس پورے ملک کو چلا رہا تھا‘ جس میں بادشاہ اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) کا مالک تھا۔ اس کا اختیار مطلق تھا‘ اس کا ہر حکم قانون تھا اور پورا نظامِ سلطنت و مملکت اس کے تابع تھا۔ اس حوالے سے ’’دین اللہ ‘‘کی اصطلاح بہت آسانی سے واضح ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اگر اللہ کے اقتدار (Sovereignty) اور اختیار مطلق کو تسلیم کر کے پورا نظامِ زندگی اس کے تابع کر دیا جائے تو یہی’’ دین اللہ ‘‘ کا عملی ظہور ہو گا۔ یہی وہ کیفیت تھی جو ’’دین اللہ‘‘ کے غلبے کے بعد جزیرہ نمائے عرب میں پیدا ہوئی تھی اور جس کی گواہی سورۃ النصر میں اس طرح دی گئی ہے: {اِذَا جَآءَ نَصۡرُ اللّٰہِ وَ الۡفَتۡحُ ۙ﴿۱﴾وَ رَاَیۡتَ النَّاسَ یَدۡخُلُوۡنَ فِیۡ دِیۡنِ اللّٰہِ اَفۡوَاجًا ۙ﴿۲﴾}۔ اسی طرح آج کا دین جسے عوام کی فلاح کا ضامن قرار دیا جا رہا ہے ’’دین الجمہور ‘‘ہے۔ اس دین یا نظام میں قانون سازی کا اختیار جمہور یعنی عوام یا عوام کے نمائندوں کو حاصل ہے‘ وہ جسے چاہیں جائز قرار دیں اور جسے چاہیں نا جائز ‘اور یہی سب سے بڑا کفر اور شرک ہے۔
بہر حال اس وقت مصر میں بادشاہی نظام رائج تھا جس کو حضرت یوسف علیہ السلام بدل نہیں سکتے تھے ‘کیونکہ آپؑ بادشاہ تو نہیں تھے۔ آپؑ کو جو اختیار حاصل تھا وہ اسی نظام کے مطابق اپنے شعبے اور محکمے کی حد تک تھا جس کے وہ انچارج تھے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپؑ کے لیے یہ تدبیر نکالی۔ آپؑ کے بھائیوں سے پہلے یہ اقرار کرالیا گیا کہ جس کے سامان سے وہ پیالہ برآمد ہوگا‘ سزا کے طور پر اسے خود ہی غلام بننا پڑے گا اور اس طرح حضرت یوسفؑ کے لیے جواز پیدا ہو گیا کہ وہ اپنے بھائی کو اپنے پاس روک سکیں۔
’’ہم درجے بلند کرتے ہیں جس کے چاہتے ہیں ۔اور ہر صاحب علم کے اوپر کوئی اور صاحبِ علم بھی ہے۔‘‘
یعنی علم کے لحاظ سے علماء کے درجات ہیں۔ ہر عالم کے اوپر اس سے بڑا عالم ہے اور یہ درجات اللہ تعالیٰ کی ذات پر جا کر اختتام پذیر ہوتے ہیں‘جو سب سے بڑا عالم ہے۔
’’ انہوں نے کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے پہلے اس کا بھائی بھی چوری کر چکا ہے۔‘‘
برادرانِ یوسف کی طبیعت کا ہلکا پن ملاحظہ ہو کہ اس پر انہوں نے فوراً کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس سے یہ بعید نہیں تھا‘ کیونکہ ایک زمانے میں اس کے ماں جائے بھائی (یوسف ؑ) نے بھی اسی طرح کی حرکت کی تھی۔
’’آپؑ نے (دل ہی دل میں) کہا کہ تم بجائے خود بہت بر ے لوگ ہو‘ اور جو کچھ تم بیان کر رہے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔‘‘
انہوں نے آپؑ پر بھی فوراً چوری کا بے بنیاد الزام لگادیا‘مگر آپؑ نے کمالِ حکمت اور صبر سے اسے برداشت کیا اور اس پر کسی قسم کاکوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔
’’وہ کہنے لگے : اے عزیز (صاحب اختیار)! اس کا والد جو ہے بہت بوڑھا ہے‘ تو آپؑ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ا یک کو رکھ لیں۔‘‘
اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾
’’ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپؑ بڑے ہی نیک انسان ہیں۔‘‘
یہ صورتِ حال ان لوگوں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔باپ کا اعتماد وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس دفعہ اللہ کے نام پر عہد کر کے بن یا مین کو اپنے ساتھ لائے تھے ۔ اب خیال آتا تھا کہ اگر اسے یہاں چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو والد کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔ چنانچہ وہ گڑ گڑانے پر آ گئے اور حضرت یوسف علیہ السلام کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپؑ بہت شریف اور نیک انسان ہیں‘ آپ ؑ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ اپنے پاس رکھ لیں‘ مگر اس کوجانے دیں۔
’’یوسف ؑ نے فرمایا :اللہ کی پناہ اس بات سے کہ ہم پکڑ لیں کسی اور کو اُس شخص کے بجائے جس کے پاس سے ہم نے اپنا مال برآمد کیا ہے‘ یقینا اس صورت میں تو ہم ظالم ہو ں گے۔‘‘
’’ان کے بڑے نے کہا :کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے والد نے تم سے اللہ کے نام پر پختہ عہد لیا ہوا ہے‘‘
اُن کے سب سے بڑے بھائی کا نام یہودا تھا ‘یہ وہی تھے جنہوں نے مشورہ دے کر حضرت یوسف ؑ کی جان بچائی تھی کہ اگر تم اُس کی جان کے درپے ہو گئے ہو تو اسے قتل مت کرو بلکہ کسی دور دراز علاقے میں پھینک آؤ۔
وَ مِنۡ قَبۡلُ مَا فَرَّطۡتُّمۡ فِیۡ یُوۡسُفَ ۚ
’’اور (کیا تم نہیں جانتے) جو زیادتی اس سے پہلے تم یوسف ؑکے معاملے میں کر چکے ہو!‘‘
’’اور ہم گواہی نہیں دے سکتے مگر اُسی چیز کی جس کے بارے میں ہمیں علم ہے‘ اور ہم غیب کے نگہبان نہیں ہیں۔‘‘
ابا جان! ہم نے اُسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا‘ ہم تو آپؑ کو وہی حقیقت بتا رہے ہیں جو ہمارے علم میں آئی ہے اور وہ یہ ہے کہ بن یا مین نے چوری کی ہے اور اس جرم میں وہ وہاں پکڑا گیاہے۔
’’آپؑ اس بستی (والوں) سے پوچھ لیں جس میں ہم تھے‘ اور اُس قافلے (والوں) سے جن کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ اور ہم (اپنے بیان میں) بالکل سچے ہیں۔‘‘
آپؑ مصر سے بھی حقیقت حال معلوم کرا سکتے ہیں یا پھر جس قافلے کے ساتھ ہم گئے تھے اس کے سب لوگ وہاں موجود تھے ‘ان کے سامنے یہ سب کچھ ہوا تھا ۔ آپؑ ان میں سے کسی سے بھی پوچھ لیں‘ وہ سارا ماجرا آپؑ کو بتادیں گے۔
’’آپؑ نے فرمایا: (نہیں!)بلکہ تمہارے لیے تمہارے نفسوں نے ایک کام آسان کر دیا ہے‘پس صبر ہی بہتر ہے۔‘‘
حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہاں پر پھر وہی فقرہ بولا جو حضرت یوسف علیہ السلام کی موت کے بارے میں خبر ملنے پر بولا تھا۔ انہیں یقین تھا کہ حقیقت وہ نہیں ہے جو وہ بیان کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا :بہرحال میں اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔
’’ہو سکتا ہے اللہ ان سب کو لے آئے میرے پاس۔ یقینا وہ سب کچھ جاننے والا ‘حکمت والا ہے۔‘‘
حضرت یعقوب علیہ السلام کے لیے حضرت یوسف علیہ السلام کا غم ہی کیا کم تھا کہ اب دیارِ غیر میں دوسرے بیٹے کے مصیبت میں گرفتار ہونے کی خبر مل گئی‘ اور پھر تیسرے بیٹے یہودا کا دکھ اس پر مستزاد جس نے مصر سے واپس آنے سے انکار کر دیا تھا‘ مگر پھر بھی آپؑ صبر کا دامن تھامے رہے۔ رنج وا لم کے سیل بے پناہ کا سامنا ہے مگر پائے استقامت میں لغزش نہیں آئی۔ بس اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھروسا ہے اور اُسی کی رحمت سے اُمید!
’’اور صدمے سے آپؑ کی آنکھیں سفیدپڑ گئی تھیں کیونکہ آپؑ غم کو (اندر ہی اندر ) پیتے رہتے تھے۔‘‘
حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام سے بہت محبت تھی۔ بیٹے کے ہجر اور فراق میں آپؑ کے دل پر جو گزری تھی خود قرآن کے یہ الفاظ اس پر گواہ ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے جسے یہاں اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے بچے کا فوت ہو جانا یقینا بہت بڑا صدمہ ہے ‘لیکن بچے کا گم ہو جانا اس سے کئی گنا بڑا صدمہ ہے۔ فوت ہونے کی صورت میں اپنے سامنے تجہیز و تکفین ہونے سے‘ اپنے ہاتھوں دفن کرنے اور قبر بنا لینے سے کسی قدر صبر کا دامن ہاتھ میں رہتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس صبر میں ثبات پیدا ہوتا جاتا ہے۔ مگر بچے کے گم ہونے کی صورت میں اس کی یاد مستقل طور پر انسان کے لیے سوہانِ روح بن جاتی ہے ۔ یہ خیال کسی وقت چین نہیں لینے دیتا کہ نہ معلوم بچہ زندہ ہے یا فوت ہو گیاہے۔ اور اگر زندہ ہے تو کہاں ہے؟ اور کس حال میں ہے؟ یہی دکھ تھا جو حضرت یعقوب علیہ السلام کو اندر ہی اندر کھاگیا تھا اور رو رو کر آپؑ کی آنکھیں سفید ہو چکی تھیں۔ آپؑ کو وحی کے ذریعے یہ تو بتلا دیا گیا تھاکہ یوسف ؑزندہ ہیں اور آپؑ سے ضرور ملیں گے‘ مگر کہاں ہیں؟ کس حال میں ہیں؟ اور کب ملیں گے ؟یہ وہ سوالات تھے جو آپؑ کو سالہا سال سے مسلسل کرب میں مبتلا کیے ہوئے تھے۔ اب بن یامین کی جدائی پر یوسف ؑ کا غم پوری شدت سے عود کر آیا۔
’’یعقوبؑ نے فرمایا : میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ ہی سے کرتا ہوں‘‘
میں نے تم لوگوں سے تو کچھ نہیں کہا‘ میں نے تمہیں تو کوئی لعن طعن نہیں کی‘ تم سے تو میں نے کوئی باز پرس نہیں کی۔یہی الفاظ تھے جو نبی اکرمﷺ نے طائف کے دن اپنی دعامیں استعمال فرمائے تھے: حدیث((اَللّٰھُمَّ اِلَیْکَ اَشْکُوْ ضُعْفَ قُوَّتِیْ وَقِلَّۃَ حِیْلَتِیْ وَھَوَانِیْ عَلَی النَّاسِ‘ اِلٰی مَنْ تَـکِلُنِیْ؟ …))۱ ’’ اے اللہ! میں تیری جناب میں فریاد لے کر آیا ہوں اپنی قوت کی کمزوری اور اپنے وسائل کی کمی کی‘ اور لوگوں کے سامنے میری جو توہین ہو رہی ہے اس کی۔ اے اللہ !تو نے مجھے کس کے حوالے کر دیا ہے؟…‘‘
’’انہوں نے کہا : اے عزیز (صاحب اختیار) ! ہم پر اور ہمارے اہل و عیال پر بڑی سختی آ گئی ہے‘‘
کئی سال سے لگاتار قحط کا سماں تھا۔ آہستہ آہستہ اس کے اثرات زیادہ شدت کے ساتھ ظاہر ہو رہے ہوں گے۔ بھیڑبکریاں بھی ختم ہو چکی ہوں گی۔ اب تو ان کی اون بھی نہیں ہو گی جو اناج کی قیمت کے عوض دے سکیں۔
’’اور ہم بہت حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں‘لیکن (اس کے باوجود) آپؑ ہمارے لیے پیمانے پورے بھر کر دیجیے ‘‘
اس دفعہ ہم جو چیزیں غلے کی قیمت ادا کرنے کے لیے لے کر آئے ہیں وہ بہت کم اور ناقص ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ ان سے غلے کی قیمت پوری نہیں ہو سکتی۔
وَ تَصَدَّقۡ عَلَیۡنَا ؕ
’’اور ہمیں خیرات بھی دیجیے ۔‘‘
اپنے انتہائی خراب حالات کی وجہ سے ہم چونکہ خیرات کے مستحق ہو چکے ہیں‘ اس لیے آپؑ سے درخواست ہے کہ اس دفعہ کچھ غلہ آپ ہمیں خیرات میں بھی دیں۔
اِنَّ اللّٰہَ یَجۡزِی الۡمُتَصَدِّقِیۡنَ ﴿۸۸﴾
’’یقینا اللہ صدقہ دینے والوں کو جزاد یتا ہے۔‘‘
چونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کے لیے یہ ساری صورتِ حال بہت رقت انگیز تھی‘ اس لیے آپؑ مزید ضبط نہیں کر سکے اور آپؑ نے انہیں اپنے بارے میں بتانے کا فیصلہ کر لیا ۔
’’آپؑ نے پوچھا :کیا تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم نے کیا کیا تھا یوسف ؑاور اس کے بھائی کے ساتھ جب کہ تم نادان تھے!‘‘
آپؑ کا اپنے بھائیوں سے یہ سوال کرنا گویا اللہ تعالیٰ کے اس وعدے کا حرف بہ حرف ایفا تھا جس کا ذکر سورت کے آغاز میں ان الفاظ میں ہوا تھا: {وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾}۔ یہ تب کی بات ہے جب وہ سب بھائی مل کر آپؑ کو باؤلی میں پھینکنے کی تیاری کر رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس وقت ان الفاظ میں آپؑ کے دل پر الہام کیا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب آپؑ اپنے بھائیوں کو یہ بات ضرور جتلائیں گے‘ اور یہ ایسے وقت اور ایسی صورتِ حال میں ہو گا جب یہ بات ان کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گی۔
’’انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! اللہ نے آپؑ کو ہم پر فضیلت بخشی ہے اور یقینا ہم ہی خطاکار تھے۔‘‘
یقینا ہم خطاکار ہیں‘ بلاشبہ ظلم و زیادتی کے مرتکب ہم ہی ہوئے تھے۔
آیت 92
قَالَ لَا تَثۡرِیۡبَ عَلَیۡکُمُ الۡیَوۡمَ ؕ
’’یوسف ؑنے فرمایا: آج کے دن تم لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔‘‘
یہ اس قدر معمولی بات نہیں تھی جسے اس ایک فقرے میں ختم کر دیا جاتا‘ مگر حضرت یوسف علیہ السلام کی شخصیت کے ترفع ا ور اخلاق کی عظمت کی دلیل ہے کہ آپؑ نے اپنے ان خطا کار بھائیوں کو فوراً غیر مشروط طور پر معاف کر دیا۔
یہاں یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ نبی اکرمﷺ نے فتح مکہ کے موقع پر اپنے مخالفین ‘ جن کے جرائم کی فہرست بڑی طویل اور سنگین تھی‘ کو معاف کرتے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کے اسی قول کا تذکرہ کیا تھا۔ آپؐ نے فرمایا: حدیث((اَنَا اَقُوْلُ کَمَا قَالَ اَخِیْ یُوْسُفُ : لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ))’’میں آج (تمہارے بارے میں) وہی کہوں گا جو میرے بھائی حضرت یوسف علیہ السلام نے (اپنے بھائیوں سے) کہا تھا : (جاؤ) تم پرآج کوئی گرفت نہیں ہے!‘‘