تحریر

يوسف

آیات ۳۳ تا ۵۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

33-35

اللہ کی توفیق کے بغیر پاکیزہ رہنا ناممکن ہے

ویڈیو

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۳﴾ فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾ ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿٪۳۵﴾

آیت 33

قَالَ رَبِّ السِّجۡنُ اَحَبُّ اِلَیَّ مِمَّا یَدۡعُوۡنَنِیۡۤ اِلَیۡہِ ۚ

’’یوسفؑ نے دعا کی: اے میرے پروردگار! مجھے قید زیادہ پسندہے اُس چیز سے جس کی طرف یہ مجھے بلا رہی ہیں۔‘‘

وَ اِلَّا تَصۡرِفۡ عَنِّیۡ کَیۡدَہُنَّ اَصۡبُ اِلَیۡہِنَّ وَ اَکُنۡ مِّنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۳۳﴾

’’اور اگر تو نے مجھ سے دور نہ کر دیا ان کی چالوں کو تو (ہو سکتا ہے) میں بھی ان کی طرف مائل ہو جائوں اور جاہلوں میں سے ہو جائوں۔‘‘

آیت 34

فَاسۡتَجَابَ لَہٗ رَبُّہٗ فَصَرَفَ عَنۡہُ کَیۡدَہُنَّ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۴﴾

’’تو آپؑ کے رب نے آپؑ کی دعا قبول کر لی اوراُن عورتوںکی چالوں کو آپؑ سے پھیر دیا۔ یقینا وہی ہے سننے والا‘جاننے والا۔‘‘

آیت 35

ثُمَّ بَدَا لَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا رَاَوُا الۡاٰیٰتِ لَیَسۡجُنُنَّہٗ حَتّٰی حِیۡنٍ ﴿٪۳۵﴾

’’پھر اُن لوگوں کو یہ بات سوجھی ساری نشانیاں دیکھ لینے کے بعد کہ اس کو کچھ عرصہ کے لیے جیل میں ڈال دیا جائے۔‘‘

اس تقریب میں جو کچھ ہوا اس معاملے کو پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں تھا‘چنانچہ اربابِ اختیار نے جب یہ سارے حالات دیکھے تو انہیں عافیت اور مصلحت اسی میں نظر آئی کہ حضرت یوسف ؑکو وقتی طور پر منظر سے ہٹا دیا جائے اور اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ کچھ عرصے کے لیے انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔

36

دو قیدیوں کے خواب

ویڈیو

وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ قَالَ اَحَدُہُمَاۤ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا ۚ وَ قَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِیۡ خُبۡزًا تَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡہُ ؕ نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۶﴾

آیت 36

وَ دَخَلَ مَعَہُ السِّجۡنَ فَتَیٰنِ ؕ

’’اور داخل ہوئے آپؑ کے ساتھ جیل میں دونوجوان ۔‘‘

جب حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل بھیجا گیا تو اتفاقاً اسی موقع پر دو اور قیدی بھی آپؑ کے ساتھ جیل میں داخل کیے گئے۔

قَالَ اَحَدُہُمَاۤ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَعۡصِرُ خَمۡرًا ۚ

’’ان میں سے ایک نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کر رہا ہوں۔‘‘

وَ قَالَ الۡاٰخَرُ اِنِّیۡۤ اَرٰىنِیۡۤ اَحۡمِلُ فَوۡقَ رَاۡسِیۡ خُبۡزًا تَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡہُ ؕ

’’اور دوسرے نے کہا کہ میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں اپنے سر پر روٹیاں اٹھائے ہوئے ہوں اور پرندے اس میں سے کھا رہے ہیں۔‘‘

نَبِّئۡنَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ ۚ اِنَّا نَرٰىکَ مِنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۳۶﴾

’’ہمیں ان خوابوں کی تعبیر بتا دیجیے ‘ ہم آپؑ کوبہت نیکوکار دیکھتے ہیں۔‘‘

ہم دیکھ رہے ہیں کہ آپؑ دوسرے قیدیوں سے بالکل مختلف ہیں۔ آپؑ اعلیٰ اخلاق اور قابلِ رشک کردار کے مالک ہیں۔ ہمیں اُمید ہے کہ آپؑ ہمارے خوابوں کے سلسلے میں ضرور ہماری راہنمائی فرمائیں گے۔

37-40

قید خانہ کا حکیمانہ وعظ

ویڈیو

قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾ وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۸﴾ یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۳۹﴾ مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۰﴾

آیت 37

قَالَ لَا یَاۡتِیۡکُمَا طَعَامٌ تُرۡزَقٰنِہٖۤ اِلَّا نَبَّاۡتُکُمَا بِتَاۡوِیۡلِہٖ قَبۡلَ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمَا ؕ

’’یوسف ؑنے فرمایا کہ تم لوگوں کو جو کھانا دیا جاتا ہے اس کے آنے سے پہلے پہلے میں تم دونوں کو اس کی تعبیر بتا دوں گا۔‘‘

جیل میں قیدیوں کے کھانے کے اوقات مقرر ہوں گے۔ آپؑ نے فرمایا کہ آپ لوگ اب تعبیر کے بارے میں فکر مت کرو‘ وہ تو میں کھانا آنے سے پہلے پہلے آپ لوگوں کو بتا دوں گا‘ لیکن میں تم لوگوں سے اس کے علاوہ بھی بات کرنا چاہتا ہوں‘ لہٰذا اِس وقت تم لوگ میری بات سنو ۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا یہ طریقہ ایک داعیٔ حق کے لیے راہنمائی کا ذریعہ ہے ۔ ایک داعی کی ہر وقت یہ کوشش ہونی چاہیے کہ تبلیغ کے لیے ‘حق بات لوگوںتک پہنچانے کے لیے جب اور جہاں موقع میسر آئے اس سے فائدہ اٹھائے۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے دیکھا کہ لوگ میری طرف خود متوجہ ہوئے ہیں تو آپؑ نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ان کی حاجت کو مؤخر کرکے پہلے انہیں پیغامِ حق پہنچانا ضروری سمجھا۔

ذٰلِکُمَا مِمَّا عَلَّمَنِیۡ رَبِّیۡ ؕ

’’یہ اُس علم میں سے ہے جو میرے ربّ نے مجھے سکھایا ہے۔‘‘

آپؑ نے انہی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنی بات شروع کی اور خوابوں کی تعبیر کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کا تعارف کرایا‘ کہ یہ علم مجھے میرے رب نے سکھایا ہے ‘اس میں میرا اپنا کوئی کمال نہیں ہے۔

اِنِّیۡ تَرَکۡتُ مِلَّۃَ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۷﴾

’’(دیکھو!) میں نے ترک کر دیا ہے اُس قوم کا راستہ جو اللہ پر ایمان نہیں رکھتے اور آخرت کے یہی لوگ منکر ہیں۔‘‘

آیت 38

وَ اتَّبَعۡتُ مِلَّۃَ اٰبَآءِیۡۤ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ وَ یَعۡقُوۡبَ ؕ

’’اور میں نے پیروی کی ہے اپنے آباء ابراہیم‘ اسحاق اور یعقوب ( علیہم السلام)کے طریقے کی۔‘‘

آپؑ کی اس بات سے موروثی اور شعوری عقائد کا فرق سمجھ میں آتا ہے۔ یعنی ایک تو وہ عقائد و نظریات ہیں جو بچہ اپنے والدین سے اپناتا ہے‘ جیسے ایک مسلمان گھرانے میں بچے کو موروثی طور پر اسلام کے عقائد ملتے ہیں۔ اللہ اور رسول ؐکانام وہ بچپن ہی سے جانتا ہے‘ ابتدائی کلمے اس کو پڑھا دیے جاتے ہیں‘ نماز بھی سکھا دی جاتی ہے۔ لیکن اگر وہ شعورکی عمرکو پہنچنے کے بعد اپنے آزادانہ انتخاب کے نتیجے میں اپنے علم اور غوروفکر سے کوئی عقیدہ اختیار کرے گا تو وہ اس کا شعوری عقیدہ ہو گا۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے اس شعوری عقیدے کا ذکر کیا کہ اگرچہ وہ جن لوگوں کے درمیان زندگی گزار رہے ہیں‘ وہ اللہ ‘اس کے کسی نبی اور وحی وغیرہ کے تصورات سے نابلدہیں‘ سب کے سب کافر اور مشرک ہیں‘مگر مجھے دیکھو میں نے اس ماحول کا اثر قبول نہیں کیا‘ اپنے ارد گرد کے لوگوں کے نظریات وعقائد نہیں اپنائے‘ بلکہ پورے شعور کے ساتھ اپنے آباء و اَجداد کے نظریات کوصحیح مانتے ہوئے ان کی پیروی کر رہا ہوں ‘صرف اس لیے نہیں کہ وہ میرے آباء و اَجداد تھے ‘ بلکہ اس لیے کہ یہی راستہ میرے نزدیک معقول اور عقل سلیم کے قریب تر ہے۔

مَا کَانَ لَنَاۤ اَنۡ نُّشۡرِکَ بِاللّٰہِ مِنۡ شَیۡءٍ ؕ

’’(دیکھو!) ہمارے لیے یہ روا نہیں ہے کہ ہم اللہ کے ساتھ کسی بھی شے کو شریک کریں۔‘‘

ذٰلِکَ مِنۡ فَضۡلِ اللّٰہِ عَلَیۡنَا وَ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿۳۸﴾

’’یہ اللہ کا بڑا فضل ہے ہم پر اور سب لوگوں پر لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔‘‘

یعنی شرک سے بچنے اور توحید کو اپنانے کا عقیدہ دراصل اللہ کا اپنے بندوں پر بہت بڑا فضل ہے ‘کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ اس حیثیت میں انسان کے شایانِ شان نہیں ہے کہ وہ ان چیزوں کی پرستش کرتا پھرے جنہیں خود اس کی خدمت اور استفادے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

آیت 39

یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ ءَاَرۡبَابٌ مُّتَفَرِّقُوۡنَ خَیۡرٌ اَمِ اللّٰہُ الۡوَاحِدُ الۡقَہَّارُ ﴿ؕ۳۹﴾

’’اے میرے جیل کے دونو ں ساتھیو! کیا بہت سے متفرق ربّ بہتر ہیں یا اکیلا اللہ سب پر حاوی و غالب؟‘‘

آیت 40

مَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اِلَّاۤ اَسۡمَآءً سَمَّیۡتُمُوۡہَاۤ اَنۡتُمۡ وَ اٰبَآؤُکُمۡ

’’نہیں پوجتے تم اُس (اللہ) کے سوا مگر چند ناموں کو جو موسوم کر رکھے ہیں تم لوگوں نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے‘‘

مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ بِہَا مِنۡ سُلۡطٰنٍ ؕ اِنِ الۡحُکۡمُ اِلَّا لِلّٰہِ ؕ

’’نہیں اتاری اللہ نے ان کے لیے کوئی سند۔اختیارِ مطلق تو صرف اللہ ہی کاہے۔‘‘

قانون بنانے اور اس کے مطابق حکم چلانے کا اختیار صرف اللہ کا ہے۔

اَمَرَ اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّاۤ اِیَّاہُ ؕ

’’اُس نے حکم دیا ہے کہ تم اُس کے سوا کسی کی بندگی مت کرو!‘‘

ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۰﴾

’’یہی ہے دین سیدھا(اور ہمیشہ سے قائم و دائم) لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔‘‘

41-42

قیدیوں کے خواب کی تعبیر

ویڈیو

یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾ وَ قَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫ فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۲﴾

آیت 41

یٰصَاحِبَیِ السِّجۡنِ اَمَّاۤ اَحَدُ کُمَا فَیَسۡقِیۡ رَبَّہٗ خَمۡرًا ۚ

’’اے میرے جیل کے دونوں ساتھیو! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔‘‘

یہاں پر رب کا لفظ بادشاہ کے لیے استعمال ہوا ہے۔ یہ اس شخص کے خواب کی تعبیر ہے جس نے خود کو شراب کشید کرتے ہوئے دیکھا تھا ۔ یہ شخص پہلے بھی بادشاہ کاساقی تھا مگر اس پر کوئی الزام لگا اور اسے جیل بھیج دیا گیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے خبر دے دی کہ اس کے خواب کے مطابق وہ اس الزام سے بری ہو کر اپنے پرانے عہدے پر بحال ہو جائے گا۔

وَ اَمَّا الۡاٰخَرُ فَیُصۡلَبُ فَتَاۡکُلُ الطَّیۡرُ مِنۡ رَّاۡسِہٖ ؕ

’’اور جو دوسرا ہے اُسے سولی دے دی جائے گی اور پرندے اُس کے سر میں سے (نوچ نوچ کر) کھائیں گے۔‘‘

قُضِیَ الۡاَمۡرُ الَّذِیۡ فِیۡہِ تَسۡتَفۡتِیٰنِ ﴿ؕ۴۱﴾

’’ فیصلہ کر دیا گیا ہے اُس معاملے کا جس کے بارے میں تم دونوں مجھ سے پوچھ رہے تھے۔‘‘

آیت 42

وَ قَالَ لِلَّذِیۡ ظَنَّ اَنَّہٗ نَاجٍ مِّنۡہُمَا اذۡکُرۡنِیۡ عِنۡدَ رَبِّکَ ۫

’’ اور یوسفؑ نے کہا اُس شخص سے جس کے بارے میں آپؑ نے گمان کیا کہ وہ ان دونوں میں سے نجات پائے گاکہ اپنے آقا سے میرا ذکر بھی کرنا۔‘‘

یعنی تمہیں کبھی موقع ملے تو بادشاہ کوبتانا کہ جیل میں ایک ایسا قیدی بھی ہے جس کا کوئی قصور نہیں اور اسے خواہ مخواہ جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔

فَاَنۡسٰہُ الشَّیۡطٰنُ ذِکۡرَ رَبِّہٖ فَلَبِثَ فِی السِّجۡنِ بِضۡعَ سِنِیۡنَ ﴿ؕ٪۴۲﴾

’’تو اُسے بھلائے رکھا شیطان نے ذکر کرنا اپنے آقا سے ‘تو آپؑ رہے جیل میں کئی برس تک۔‘‘

بِضْع کا لفظ عربی زبان میں دو سے لے کر نو تک (دس سے کم) کی تعداد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

43-44

بادشاہ کا خواب

ویڈیو

وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ ﴿۴۳﴾ قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَ مَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾

آیت 43

وَ قَالَ الۡمَلِکُ اِنِّیۡۤ اَرٰی سَبۡعَ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ

’’اور بادشاہ نے کہا کہ میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ سات موٹی گائیں ہیں‘ جن کو کھا رہی ہیں سات دبلی گائیں‘‘

اب یہاں سے اس قصے کا ایک نیا باب شروع ہو رہا ہے۔اُس وقت مصر پر فراعنہ کی حکومت نہیں تھی‘ بلکہ وہاں چرواہے بادشاہ (Hyksos Kings) حکمران تھے۔ تاریخ میں اکثر ایسے واقعات ملتے ہیں کہ کچھ صحرائی قبیلوں نے قوت حاصل کر کے متمدن علاقوں پر چڑھائی کی‘پھر یا تووہ لوٹ مار کر کے واپس چلے گئے یا اُن علاقوں پر اپنی حکومتیں قائم کر لیں۔ ایسی ہی ایک مثال مصر کے چرواہے بادشاہوں کی ہے جو صحرائی قبیلوں سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے کسی زمانے میں مصر پر حملہ کیا اور مقامی لوگوں (قبطی قوم) کو غلام بنا کر وہاں اپنی حکومت قائم کر لی۔ یہاںجس بادشاہ کا ذکر ہے وہ اسی خاندان سے تھا ۔ اس بادشاہ کے کردار اور رویے کی جو جھلک اس قصے میں دکھائی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اگرچہ توحید و رسالت سے نا بلد تھا مگر ایک نیک سرشت انسان تھا۔

وَّ سَبۡعَ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ؕ

’’اور سات بالیاں ہیں ہری اور دوسری (سات) خشک۔‘‘

یٰۤاَیُّہَا الۡمَلَاُ اَفۡتُوۡنِیۡ فِیۡ رُءۡیَایَ اِنۡ کُنۡتُمۡ لِلرُّءۡیَا تَعۡبُرُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’تو اے میرے درباریو! مجھے بتاؤ تعبیر میرے خواب کی اگر تم لوگ خوابوں کی تعبیر کر سکتے ہو۔‘‘

آیت 44

قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍ ۚ وَ مَا نَحۡنُ بِتَاۡوِیۡلِ الۡاَحۡلَامِ بِعٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾

’’انہوں نے کہا کہ یہ تو پریشان خیالات ہیں ‘اور ایسے خوابوں کی تعبیر ہم نہیں جانتے۔‘‘

بادشاہ کے خواب کو سن کر انہوں نے جواب دیا کہ یہ کوئی معنوی خواب نہیں‘ایسے ہی بے معنی اور منتشر قسم کے خیالات ہیں جن کی ہم کوئی تعبیر نہیں کر سکتے۔ فرائڈ کا بھی یہی خیال ہے کہ خواب میں انسان اپنے شہوانی خیالات اور دوسری دبی ہوئی نفسانی خواہشات کی تسکین کرنا چاہتا ہے‘ مگر اسلامی نکتہ نظر سے خواب تین قسم کے ہوتے ہیں۔ پہلی قسم ’’رویائے صادقہ‘‘ کی ہے یعنی سچے خواب‘ یہ اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور ایسے خوابوں کے بارے میں حضورﷺ نے فرمایا ہے کہ یہ نبوت کے اجزاء میں سے ہیں۔ دوسری قسم کے خواب وہ ہیں جو شیطان کی طرف سے ہوتے ہیں اور ان میں بعض اوقات شیاطینِ جن اپنی طرف سے خیالات انسانوں کے ذہنوں میں الہام بھی کرتے ہیں۔ تیسری قسم کے خواب وہ ہیں جن کا ذکر فرائڈ نے کیا ہے ۔ یعنی انسان کے اپنے ہی خیالات منتشر انداز میں مختلف وجوہات کی بنا پر سوتے وقت انسان کے ذہن میں آتے ہیں اور ان میں کوئی معنی یا ربط ہونا ضروری نہیں ہوتا۔

45-49

بادشاہ کے خواب کی تعبیر

ویڈیو

وَ قَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَ ادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴿۴۵﴾ یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾ قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۴۷﴾ ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ یَّاۡکُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ ﴿۴۸﴾ ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾

آیت 45

وَ قَالَ الَّذِیۡ نَجَا مِنۡہُمَا وَ ادَّکَرَ بَعۡدَ اُمَّۃٍ

’’اور کہا اُس شخص نے جو اُن دونوں (قیدیوں) میں سے نجات پا گیا تھا اور ایک طویل عرصے کے بعد اسے (اچانک) یاد آ گیا‘‘

وہ شخص جیل سے رہا ہو کر پھر سے ساقی گری کر رہا تھا ۔ اسے بادشاہ کے خواب کے ذکر سے اچانک حضرت یوسف علیہ السلام یا د آگئے کہ ہاں جیل میں ایک شخص ہے جو خوابوں کی تعبیر بتانے میں بڑا ماہر ہے۔

اَنَا اُنَبِّئُکُمۡ بِتَاۡوِیۡلِہٖ فَاَرۡسِلُوۡنِ ﴿۴۵﴾

’’(اس نے کہا) میں بتا دوں گا تم لوگوں کو اس کی تعبیر‘بس مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف کے پاس) بھیج دیں۔‘‘

اس طرح وہ شخص جیل میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس پہنچ کر آپؑ سے مخاطب ہو ا:

آیت 46

یُوۡسُفُ اَیُّہَا الصِّدِّیۡقُ اَفۡتِنَا فِیۡ سَبۡعِ بَقَرٰتٍ سِمَانٍ یَّاۡکُلُہُنَّ سَبۡعٌ عِجَافٌ وَّ سَبۡعِ سُنۡۢبُلٰتٍ خُضۡرٍ وَّ اُخَرَ یٰبِسٰتٍ ۙ

’’اے یوسف! اے راست باز!ہمیں تعبیر بتائیے سات موٹی گائیوں کے بارے میں کہ انہیں کھا رہی ہیں سات دبلی ‘اور سات سبز بالیوںاور دوسری (سات) خشک بالیوں کے بارے میں‘‘م

لَّعَلِّیۡۤ اَرۡجِعُ اِلَی النَّاسِ لَعَلَّہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۴۶﴾

’’تا کہ میں واپس جائوں (تعبیر لے کر)اُن لوگوں کے پاس‘ تا کہ انہیں بھی معلوم ہو جائے۔‘‘

آیت 47

قَالَ تَزۡرَعُوۡنَ سَبۡعَ سِنِیۡنَ دَاَبًا ۚ

’’یوسف ؑنے (تعبیر بتاتے ہوئے) فرمایاکہ تم سات سال تک خوب زراعت کرو گے لگاتار۔‘‘

فَمَا حَصَدۡتُّمۡ فَذَرُوۡہُ فِیۡ سُنۡۢبُلِہٖۤ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تَاۡکُلُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’تو (اس دوران میں)جوفصل بھی تم کاٹواُسے رہنے دینا اس کی بالیوں ہی میں‘ سوائے اُس قلیل تعداد کے جو تم کھاؤ۔‘‘

آپؑ نے صرف اس خواب کی تعبیر ہی نہیں بتائی بلکہ مسئلے کی تدبیر بھی بتا دی اور تدبیر بھی ایسی جو شاہی مشیروں کے وہم و گمان میں بھی نہیں آ سکتی تھی۔ آج کے سائنسی تجربات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ اناج کو محفوظ کرنے کا بہترین طریقہ یہی ہے کہ اسے سٹوں کے اندر ہی رہنے دیا جائے اور ان سٹوں کو محفوظ کر لیا جائے۔ اس طرح سے اناج خراب نہیں ہوتا اور اسے کیڑوں مکوڑوں سے بچانے کے لیے کسی اضافی preservative کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔

آیت 48

ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ سَبۡعٌ شِدَادٌ

’’پھر اس کے بعد سات سال آئیں گے بہت سخت‘‘ خوشحالی کے سات سالوں کے بعد سات سال تک خشک سالی کا سماں ہو گا جس کی وجہ سے ملک میں شدید قحط پڑ جائے گا۔

یَّاۡکُلۡنَ مَا قَدَّمۡتُمۡ لَہُنَّ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّا تُحۡصِنُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’وہ (سات سال) چٹ کر جائیں گے اس کو جو کچھ تم نے ان کے لیے بچا رکھا ہو گا سوائے اُس کے جو تم (بیج کے لیے) محفو ظ کر لو گے۔‘‘

حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر یہ بتائی کہ سات سال تک ملک میں بہت خوشحالی ہو گی‘ فصلیں بہت اچھی ہوں گی‘ مگر ان سات سالوں کے بعد سات سال ایسے آئیں گے جن میں خشک سالی کے سبب شدید قحط پڑجائے گا۔ اس مسئلے کی تدبیر آپؑ نے یہ بتائی کہ پہلے سات سال کے دوران صرف ضرورت کا اناج استعمال کرنا‘ اور باقیِ سٹوں کے اندر ہی محفوظ کرتے جانا اور جب قحط کا زمانہ آئے تو انِ سٹوں سے نکال کر بقدرِ ضرورت اناج استعمال کرنا۔

آیت 49

ثُمَّ یَاۡتِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَامٌ فِیۡہِ یُغَاثُ النَّاسُ وَ فِیۡہِ یَعۡصِرُوۡنَ ﴿٪۴۹﴾

’’پھر آئے گا اس کے بعد ایک سال کہ اس میں خوب بارشیں ہوں گی لوگوں پر اور اس میں وہ (انگور کا) رس نچوڑیں گے۔‘‘

جب خوب بارشیں ہوں گی تو انگور کی بیلیں خوب پھلیں پھولیں گی‘ انگور کی پیداوار بھی خوب ہو گی‘ لوگ خوب انگور نچوڑ یں گے اور شراب کشید کریں گے۔

50

بادشاہ کی طلبی اور حضرت یوسف ؑ کا انکار

ویڈیو

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّا جَآءَہُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾

آیت 50

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖ ۚ

’’(یہ سن کر )بادشاہ نے کہا کہ اُس شخص کو میرے پاس لے آؤ!‘‘

بادشاہ اپنے خواب کی تعبیر اور پھر اس کی ایسی اعلیٰ تدبیر سن کر یقینا بہت متاثر ہوا ہو گا اور اس نے سوچا ہو گا کہ ایسے ذہین‘فطین شخص کو جیل میں نہیں بلکہ بادشاہ کا مشیر ہونا چاہیے۔ چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اس قیدی کو فوراً میرے پاس لے کر آؤ۔

فَلَمَّا جَآءَہُ الرَّسُوۡلُ قَالَ ارۡجِعۡ اِلٰی رَبِّکَ

’’پھر جب آیا آپؑ کے پاس ایلچی‘ تو آپؑ نے فرمایا کہ تم واپس چلے جاؤ اپنے آقاکے پاس‘‘

بادشاہ کا پیغام لے کر جب قاصد آپؑ کے پاس پہنچا تو آپؑ نے اس کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا کہ میں اس طرح ابھی جیل سے باہر نہیں آنا چاہتا۔ پہلے پورے معاملے کی چھان بین کی جائے کہ مجھے کس جرم کی پاداش میں جیل بھیجا گیا تھا۔ اگر مجھ پر کوئی الزام ہے تو اس کی مکمل تفتیش ہواور اگر میرا کوئی قصور نہیں ہے تو مجھے علی الاعلان بے گناہ اور بری قرار دیا جائے ۔ چنانچہ آپؑ نے اس قاصد سے فرمایا کہ تم اپنے بادشاہ کے پاس واپس جاؤ :

فَسۡـَٔلۡہُ مَا بَالُ النِّسۡوَۃِ الّٰتِیۡ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ ؕ

’’اور اس سے پوچھو کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ تھا جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟‘‘

اِنَّ رَبِّیۡ بِکَیۡدِہِنَّ عَلِیۡمٌ ﴿۵۰﴾

’’یقینا میرا رب ان کی چالوں سے خوب واقف ہے۔‘‘

بادشاہ تک یہ بات پہنچی تو اس نے سب بیگمات کو طلب کر لیا۔

51-53

بیگماتِ مصر کی حضرت یوسف ؑ کے حق میں گواہی

ویڈیو

قَالَ مَا خَطۡبُکُنَّ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ یُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمۡنَا عَلَیۡہِ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ ۫ اَنَا رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۵۱﴾ ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۲﴾ وَ مَاۤ اُبَرِّیُٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۳﴾

آیت 51

قَالَ مَا خَطۡبُکُنَّ اِذۡ رَاوَدۡتُّنَّ یُوۡسُفَ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ

’’اُس نے پوچھا کہ کیا معاملہ تھا تمہارا جب تم سب نے پھسلانا چاہا تھا یوسف کو؟‘‘

قُلۡنَ حَاشَ لِلّٰہِ مَا عَلِمۡنَا عَلَیۡہِ مِنۡ سُوۡٓءٍ ؕ

’’انہوں نے کہا کہ اللہ گواہ ہے‘ہمارے علم میں اس کے بارے میں کوئی بھی برائی نہیں ہے۔‘‘

اُس وقت جو کچھ بھی ہوا تھا وہ سب ہماری طرف سے تھا‘یوسف ؑکی طرف سے کوئی غلط بات ہم نے محسوس نہیں کی۔

قَالَتِ امۡرَاَتُ الۡعَزِیۡزِ الۡـٰٔنَ حَصۡحَصَ الۡحَقُّ ۫ اَنَا رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۵۱﴾

’’(اس پر ) عزیز کی بیوی بھی بول اٹھی کہ اب حقیقت تو واضح ہو ہی گئی ہے‘میں نے ہی اس کو پھسلانے کی کوشش کی تھی اور وہ بالکل سچا ہے۔‘‘

اس طرح عزیز کی بیوی کو اس حقیقت کا برملا اظہار کرنا پڑا کہ یوسف ؑ نے نہ تو زبان سے کوئی غلط بیانی کی ہے اور نہ ہی اس کے کردار میں کوئی کھوٹ ہے۔

آیت 52

ذٰلِکَ لِیَعۡلَمَ اَنِّیۡ لَمۡ اَخُنۡہُ بِالۡغَیۡبِ

’’یہ اس لیے کہ وہ جان لے کہ میں نے اس کی غیرموجودگی میں اس کی خیانت نہیں کی‘‘

یہ فقرہ سیاقِ عبارت میں کس کی زبان سے ادا ہوا ہے اس کے بارے میں مفسرین کے بہت سے اقوال ہیں۔اس لیے کہ اس فقرے کے موقع محل اور الفاظ میں متعدد امکانات کی گنجائش ہے ۔ ان اقوال میںسے ایک قول یہ ہے کہ یہ فقرہ عزیز کی بیوی کی زبان ہی سے ادا ہوا ہے کہ میں نے ساری بات اس لیے سچ سچ بیان کر دی ہے تا کہ یوسف ؑکو معلوم ہو جائے کہ میں نے اس کی عدم موجودگی میں اس سے کوئی غلط بات منسوب کر کے اس کی خیانت نہیں کی۔

وَ اَنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِیۡ کَیۡدَ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿۵۲﴾

’’اور یہ کہ یقینا اللہ خیانت کرنے والوں کی چال کو کامیاب نہیں کرتا۔‘‘

آیت 53

وَ مَاۤ اُبَرِّیُٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنَّ النَّفۡسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ

’’اور میں اپنے نفس کو بری قرار نہیں دیتی‘یقینا (انسان کا) نفس تو برائی ہی کا حکم دیتا ہے‘‘

اِلَّا مَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۵۳﴾

’’ سوائے اُس کے جس پر میرا ربّ رحم فرمائے۔ یقینا میرا ربّ بہت بخشنے والا‘ نہایت رحم کرنے والاہے۔‘‘

اگر گزشتہ آیت میںنقل ہونے والے بیان کو عزیز مصر کی بیوی کا بیان مانا جائے تو اس صورت میں آیت زیرنظر بھی اسی کے کلام کا تسلسل قرار پائے گی اور اس کا ترجمہ وہی ہو گا جو اوپر کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ دراصل اس نظریے کے مطابق ہے جس کے تحت ہمارے بہت سے مفسرین اور قصہ گو حضرات نے مائی زُلیخا کو ولی اللہ کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ اور کچھ بعید بھی نہیں کہ اس کا عشق مجازی وقت کے ساتھ ساتھ عشق حقیقی میں تبدیل ہو گیا ہو اور وہ حقیقتاً ہدایت پر آ گئی ہو۔ بہر حال جو لوگ اس بات کو درست تسلیم کرتے ہیں وہ ان آیات کا ترجمہ اسی طرح کرتے ہیں ‘کیونکہ اس نے اعترافِ جرم کر کے توبہ کرلی تھی اور اس لحاظ سے مذکورہ مفسرین کا موقف یہ ہے کہ اعترافِ گناہ سے لے کر آیت ۵۳ کے اختتام تک اسی کا بیان ہے ۔

اس سلسلے میں دوسرا موقف (جو دورِ حاضر کے زیادہ تر مفسرین نے اختیار کیا ہے) یہ ہے کہ عزیز مصر کی بیوی کا بیان اس آیت پر ختم ہو گیا ہے : {اَنَا رَاوَدۡتُّہٗ عَنۡ نَّفۡسِہٖ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۵۱﴾} اور اس کے بعد حضرت یوسف علیہ السلام کا بیان نقل ہوا ہے ۔ اس صورت میں آیت ۵۲ اور ۵۳ کا مفہوم یوں ہو گاکہ جب بادشاہ کی تفتیشی کارروائی اور عزیز مصر کی بیوی کے برملا اعترافِ جرم کے بارے میں حضرت یوسف ؑکو بتایا گیا تو آپؑ نے فرمایا کہ اس سب کچھ سے میرا یہ مقصود نہیں تھا کہ کسی کی عزت و ناموس کا پردہ چاک ہو ‘بلکہ میں تو چاہتا تھا کہ عزیز مصر یہ جان لے کہ اگر اس نے مجھے اپنے گھر میں عزت و اکرام سے رکھا تھا اور مجھ پر اعتماد کیاتھا تو میں نے بھی اس کی عدم موجودگی میں اس کی خیانت کر کے اس کے اعتماد کو ٹھیس نہیں پہنچائی‘ اور میرا ایمان ہے کہ اللہ خیانت کرنے والوں کوراہ یاب نہیں کرتا۔ باقی میں خود کو بہت پارسا نہیں سمجھتا بلکہ سمجھتا ہوں کہ نفسِ انسانی تو انسان کو برائی پر ابھارتا ہی ہے اور ا س کے حملے سے صرف وہی بچ سکتا ہے جس پر میرا رب اپنی خصوصی نظرِ رحمت فرمائے ۔

اللہ تعالیٰ کی طرف سے میری حفاظت کا بھی اگر خصوصی انتظام نہ فرمایا جاتا تو مجھ سے بھی غلطی سرزد ہو سکتی تھی۔ مگر چونکہ میرارب بخشنے والا بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے اس لیے اس نے مجھ پر اپنی خصوصی رحمت فرمائی۔

54-57

حضرت یوسف ؑ کے لیے منصب خاص

ویڈیو

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡہُ لِنَفۡسِیۡ ۚ فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الۡیَوۡمَ لَدَیۡنَا مَکِیۡنٌ اَمِیۡنٌ ﴿۵۴﴾ قَالَ اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾ وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنۡہَا حَیۡثُ یَشَآءُ ؕ نُصِیۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾ وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿٪۵۷﴾

آیت 54

وَ قَالَ الۡمَلِکُ ائۡتُوۡنِیۡ بِہٖۤ اَسۡتَخۡلِصۡہُ لِنَفۡسِیۡ ۚ

’’اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اُس کو میرے پاس لے آؤ ‘ میں اُسے اپنا مصاحبِ خاص بناؤ ں گا۔‘‘

فَلَمَّا کَلَّمَہٗ قَالَ اِنَّکَ الۡیَوۡمَ لَدَیۡنَا مَکِیۡنٌ اَمِیۡنٌ ﴿۵۴﴾

’’تو جب بادشاہ نے آپؑ سے بات چیت کی توکہا کہ آج کے دن سے آپؑ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں۔‘‘

آج سے آپؑ کا شمار ہمارے خاص مقربین میںہو گا اور اس لحاظ سے مملکت کے اندر آپؑ کا ایک خاص مقام ہو گا۔آپ کی امانت و دیانت پر ہمیں پورا پورا بھروسا ہے۔

آیت 55

قَالَ اجۡعَلۡنِیۡ عَلٰی خَزَآئِنِ الۡاَرۡضِ ۚ اِنِّیۡ حَفِیۡظٌ عَلِیۡمٌ ﴿۵۵﴾

’’آپؑ نے فرمایا کہ مجھے ملک کے خزانوں پر مقرر کر دیں‘ میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور جاننے والا بھی ہوں۔‘‘

حضرت یوسف علیہ السلام جان چکے تھے کہ اس ملک پر بہت بڑی آفت آنے والی ہے اور اگر اس ممکنہ صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کے لیے بر وقت درست اور مؤثر اقدام نہ کیے گئے تو نہ صرف خود مصر ایک خوفناک قحط کی زد میں آجائے گا بلکہ آس پاس کے علاقوں کے لیے بھی بہت بھیانک حالات پیدا ہو جائیں گے۔ اس پورے خطے میں مصر ہی ایک ایسا ملک تھا جہاں غلہ اور دوسری اشیائے خوراک پیدا ہوتی تھیں۔ اس کے ہمسایہ میں چاروں طرف خشک صحرائی علاقے تھے اور اناج وغیرہ کے سلسلے میں ان علاقوں کا انحصار بھی مصر کی زراعت پرتھا۔ یہی وجہ تھی کہ آپؑ نے موقع دیکھا تو فوراً اپنی خدمات پیش کر دیں کہ اگر خزانے اور خوراک و زراعت کا پورا انتظام و انصرام میرے پاس ہو گا تو میں اس آفت کا سامنا کرنے کے لیے جامع اور ٹھوس منصوبہ بندی کر سکوں گا۔

آیت 56

وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۚ یَتَبَوَّاُ مِنۡہَا حَیۡثُ یَشَآءُ ؕ

’’اور اس طرح ہم نے یوسفؑ کو تمکن عطا کیا (مصر کی) زمین میں ‘ کہ وہ اس میں جہاں چاہے اپنا ٹھکانہ بنا لے۔‘‘

حضرت یوسف علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمکن عطا ہونے کا یہ دوسرامرحلہ تھا۔ پہلے مرحلے میں آپؑ کو بدوی اور صحرائی ماحول سے اٹھا کراس دور کے ایک نہایت متمدن ملک کی اعلیٰ ترین سطح کی سوسائٹی میں پہنچایا گیا‘ جبکہ دوسرے مرحلے میں آپؑ کو اسی ملک کے اربابِ اختیار و اقتدار کی صف میں ایک نہایت ممتاز مقام عطا کر دیا گیا‘ جس کے بعد آپؑ پورے اختیار کے ساتھ عزیز کے عہدے پر متمکن ہو گئے۔

نُصِیۡبُ بِرَحۡمَتِنَا مَنۡ نَّشَآءُ وَ لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾

’’ہم اپنی رحمت سے نوازتے ہیں جس کو چاہتے ہیں اور ہم نیکو کاروں کا اجرضائع نہیں کرتے۔‘‘

آیت 57

وَ لَاَجۡرُ الۡاٰخِرَۃِ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿٪۵۷﴾

’’ اور آخرت کا اجر تو بہت ہی بہتر ہے ان کے لیے جو ایمان لائیں اور تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں۔‘‘

اب یہاں سے آگے اس قصے کا ایک نیا باب شروع ہو نے جا رہا ہے۔واضح رہے کہ آئندہ رکوع کے مضامین اور گزشتہ مضمون کے درمیان زمانی اعتبار سے تقریباً دس سال کا بعد ہے۔ اب بات اس زمانے سے شروع ہورہی ہے جب مصر میں بہتر فصلوں کے سات سالہ دور کے بعد قحط پڑ چکا تھا۔ یہاں پر جو تفصیلات چھوڑ دی گئی ہیں اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی تعبیر کے عین مطابق سات سال تک مصر میں خوشحالی کا دور دورہ رہااور فصلوں کی پیداوار معمول سے کہیں بڑھ کر ہوئی۔ اس دوران حضرت یوسف علیہ السلام نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اناج کے بڑے بڑے ذخائر جمع کر لیے تھے۔ چنانچہ جب یہ پورا علاقہ قحط کی لپیٹ میں آیا تو مصر کی حکومت کے پاس نہ صرف اپنے عوام کے لیے بلکہ ملحقہ علاقوں کے لوگوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے بھی اناج وافر مقدار میں موجود تھا۔ چنانچہ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس غیر معمولی صورتِ حال کے پیش نظر ’’راشن بندی‘‘ کا ایک خاص نظام متعارف کروایا۔ اس نظام کے تحت ایک خاندان کو ایک سال کے لیے صرف اس قدر غلہ دیا جاتا تھا جس قدر ایک اونٹ اٹھا سکتا تھا اور اس کی قیمت اتنی وصول کی جاتی تھی جو وہ آسانی سے ادا کر سکیں۔ ان حالات میں فلسطین میں بھی قحط کا سماں تھا اور وہاں سے بھی لوگ قافلوں کی صورت میں مصر کی طرف غلہ لینے کے لیے آتے تھے۔ ایسے ہی ایک قافلے میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دس بھائی بھی غلہ لینے مصر پہنچے‘ جبکہ آپؑ کا ماں جایا بھائی ان کے ساتھ نہیں تھا ۔ اس لیے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے اس بیٹے کو کسی طرح بھی ان کے ساتھ کہیں بھیجنے پر آمادہ نہیں تھے۔

یوٹیوب پر دیکھیے