’’اور (کچھ عرصہ بعد) ایک قافلہ آیا تو انہوں نے بھیجا اپنے آگے چلنے والے کو‘‘
جب قافلے چلتے تھے تو ایک آدمی قافلے کے آگے آگے چلتا تھا۔ وہ قافلے کے پڑاؤ کے لیے جگہ کا انتخاب کرتا اور پانی وغیرہ کے انتظام کا جائزہ لیتا۔ قافلے والوں نے اس ڈیوٹی پر مامور شخص کو بھیجا کہ وہ جا کر پانی کاکھوج لگائے۔ اس شخص نے باؤلی دیکھی تو پانی نکالنے کی تدبیر کرنے لگا۔
فَاَدۡلٰی دَلۡوَہٗ ؕ
’’تو اس نے لٹکایا اپنا ڈول۔‘‘
حضرت یوسف ؑنے اس کے ڈول کو پکڑ لیا۔ اس نے جب ڈول کھینچا اور حضرت یوسف ؑکو دیکھا تو:
’’اور (مصر پہنچ کر) انہوں نے بیچ دیا اس کو بڑی تھوڑی سی قیمت پرچند درہم کے عوض ‘اوروہ تھے اس کے معاملے میں بہت ہی قناعت پسند ۔‘‘
اگرچہ انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کو مالِ تجارت سمجھ کر چھپایا تھا ‘مگر مصر پہنچ کر بالکل ہی معمولی قیمت پر فروخت کر دیا۔ اس زمانے میں درہم ایک دینار کا چوتھا حصہ ہوتا تھا ۔ گویا ا نہوں نے چند چونیوں کے عوض آپؑ کو بیچ دیا۔ اس لیے کہ آپؑ کے بارے میں اُس وقت تک انہیں کوئی خاص دلچسپی نہیں رہی تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں ‘ایک تو آپؑ ان کے لیے مفت کا مال تھے جس پر ان لوگوں کاکوئی سرمایہ وغیرہ نہیں لگا تھا ‘ لہٰذا جو مل گیا انہوں نے اسے غنیمت جانا۔ دوسرے ان لوگوں کو آپؑ کی طرف سے ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا تھا کہ لڑکے کے وارث آ کر کہیں اسے پہچان نہ لیں اور ان پر چوری کا الزام نہ لگ جائے۔ لہٰذا وہ جلد از جلد آپؑ کے معاملے سے جان چھڑانا چاہتے تھے۔
’’اور مصر کے جس شخص نے یوسف کو خریدا‘(اس نے) اپنی بیوی سے کہا:اس کو اچھے طریقے سے رکھنا‘ ہو سکتا ہے یہ ہمارے لیے نفع بخش ہو یا پھر ہم اسے اپنا بیٹا ہی بنا لیں۔‘‘
وہ شخص مصر کی حکومت میں بہت اعلیٰ منصب (عزیز مصر) پر فائز تھا۔ حضرت یوسف ؑ کو بیٹا بنانے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کے ہاں اولاد نہیں تھی۔
وَ کَذٰلِکَ مَکَّنَّا لِیُوۡسُفَ فِی الۡاَرۡضِ ۫
’’اور اس طرح ہم نے یوسف ؑکو اس ملک میں تمکن عطا کیا‘‘
اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے یوسف علیہ السلام کو اس دور کی متمدن ترین مملکت میں پہنچا دیا اور وہاں آپ ؑ کی رہائش کا بندوبست بھی کیا تو کسی جھونپڑی میں نہیں بلکہ ملک کے ایک بہت بڑے‘صاحبِ حیثیت شخص کے گھر میں‘ اور وہ بھی محض ایک غلام کے طور پر نہیں بلکہ خصوصی عزت و اکرام کے انداز میں۔
وَ لِنُعَلِّمَہٗ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ ؕ
’’اور تا کہ ہم اس کو سکھائیں باتوں کی تہہ تک پہنچنے کا علم۔‘‘
یعنی عزیز مصر کے گھر میں آپؑ کو جگہ بنا کردینے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہاں آپؑ کو ’’معاملہ فہمی‘‘ کی تربیت فراہم کی جائے۔ عزیز مصر کا گھر ایک طرح کا سیکریٹریٹ ہو گاجہاں آئے دن انتہائی اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوتے ہوں گے‘ اور قومی و بین الاقوامی نوعیت کے انتہائی اہم امور پر بحث و تمحیص کے بعد فیصلے کیے جاتے ہوں گے اور حضرت یوسف ؑکو ان تمام سرگرمیوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے مواقع میسر آتے ہوں گے ۔اس طرح بہت اعلیٰ سطح کی تعلیم و تربیت کا ایک انتظام تھا جو حضرت یوسف ؑکے لیے یہاں پر کر دیا گیا۔
’’آپؑ نے فرمایا :میں اللہ کی پناہ طلب کرتا ہوں‘ وہ میرا رب ہے‘ اُس نے مجھے اچھا ٹھکانہ دیا ہے۔‘‘
یہاں پر ’’ربّ‘‘ کے دونوں معنی لیے جا سکتے ہیں اللہ بھی اور آقا بھی۔ چنانچہ اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ وہ اللہ میرارب ہے اور اس نے میرے لیے بہت اچھے ٹھکانے کا انتظام کیا ہے ‘ میں اس کی نافرمانی کاکیسے سوچ سکتا ہوں! دوسرے معنی میں اس کا مفہوم یہ ہے کہ آپ کا خاوند میرا آقا ہے‘ وہ میرا محسن اور مربی بھی ہے‘ اس نے مجھے اپنے گھر میں بہت عزت و اکرام سے رکھا ہے‘اور میں اس کی خیانت کر کے اس کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاؤں‘ یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا! یہ دوسرا مفہوم اس لیے بھی زیادہ مناسب ہے کہ ’’رب‘‘ کا لفظ اس سورت میں آقا اور بادشاہ کے لیے متعدد بار استعمال ہوا ہے۔
’’اور اُس عورت نے ارادہ کیا آپؑ کا‘ اور آپؑ بھی ارادہ کر لیتے اس کا اگر نہ دیکھ لیتے اپنے رب کی ایک دلیل۔‘‘
حضرت یوسف علیہ السلام جوان تھے اور ممکن تھا طبع بشری کی بنیاد پر آپؑ کے دل میں بھی کوئی ایسا خیال جنم لیتا‘ مگراللہ نے اس نازک موقع پر آپؑ کی خصوصی مدد فرمائی اور اپنی خصوصی نشانی دکھا کر آپؑ کو کسی منفی خیال سے محفوظ رکھا۔ یہ نشانی کیا تھی ‘اس کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں ‘البتہ تورات میں اس کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے کہ عین اس موقع پر حضرت یعقوب علیہ السلام کی شکل دیوار پر ظاہر ہوئی اور آپؑ نے انگلی کا اشارہ کر کے حضرت یوسفؑ کو باز رہنے کے لیے کہا۔
’’یہ اس لیے کہ ہم پھیر دیں اس سے برائی اور بے حیائی کو۔‘‘
یعنی ہم نے اپنی نشانی دکھا کر حضرت یوسف ؑسے برائی اور بے حیائی کا رخ پھیر دیا اور یوں آپؑ کی عصمت و عفت کی حفاظت کا خصوصی اہتمام کیا۔
اِنَّہٗ مِنۡ عِبَادِنَا الۡمُخۡلَصِیۡنَ ﴿۲۴﴾
’’یقینا وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے تھے۔‘‘
واضح رہے کہ یہاں لفظ مُخْلَص (لام کی زبر کے ساتھ) آیا ہے۔ مُخلِص اور مُخلَص کے فرق کو سمجھ لیجیے۔ مُخلِص اسم الفاعل ہے یعنی خلوص و اخلاص سے کام کرنے والا اور مُخلَص وہ شخص ہے جس کو خالص کر لیا گیا ہو۔ اللہ کے مخلَص وہ ہیں جن کو اللہ نے اپنے لیے خالص کر لیا ہو ‘ یعنی اللہ کے خاص برگزیدہ اور چہیتے بندے۔
آیت 25
وَ اسۡتَبَقَا الۡبَابَ
’’اور وہ دونوں آگے پیچھے دروازے کی طرف دوڑے‘‘
یعنی حضرت یوسف ؑنے جب دیکھا کہ اس عورت کی نیت خراب ہے اور اس پر شیطنت کا بھوت سوار ہے تو آپؑ اس سے بچنے کے لیے دروازے کی طرف لپکے اور آپؑ کے پیچھے وہ بھی بھاگی تا کہ آپؑ کو قابو کر سکے۔
وَ قَدَّتۡ قَمِیۡصَہٗ مِنۡ دُبُرٍ
’’اور پھاڑ دی اس (عورت) نے آپؑ کی قمیص پیچھے سے‘‘
آپؑ کو دوڑتے ہوئے دیکھ کر اس عورت نے آپؑ کی طرف تیزی سے لپک کر پیچھے سے آپؑ کو پکڑنے کی کوشش کی تو آپؑ کی قمیص اس کے ہاتھ میں آ کر پھٹ گئی۔
وَّ اَلۡفَیَا سَیِّدَہَا لَدَا الۡبَابِ ؕ
’’اور پایا ان دونوں نے اس کے خاوند کو دروازے کے پاس۔‘‘
اس عورت نے لازماً ایسے وقت کا انتخاب کیا ہو گا جب اس کا خاوند گھر سے باہر تھا اور اس کے جلد گھر آنے کا امکان نہیں تھا ‘مگر جونہی وہ دونوں آگے پیچھے دروازے سے باہر نکلے تو غیر متوقع طور پر اس کا خاوند عین دروازے پر کھڑا تھا۔
’’وہ (فوراً) بولی کیا سزا ہونی چاہیے ایسے شخص کی جس نے ارادہ کیا تمہاری بیوی کے ساتھ برائی کا‘ سوائے اس کے کہ اسے جیل بھیج دیا جائے یا کوئی اور درد ناک سزا دی جائے!‘‘
اپنے خاوند کو دیکھتے ہی اس عورت نے فوراً پینترا بدلا اور اس کی غیرت کو للکارتے ہوئے بولی کہ اس لڑکے نے مجھ پر دست درازی کی ہے اور میں نے بڑی مشکل سے خود کو بچایا ہے۔ اب اس سے آپ ہی سمجھیں اور اسے کوئی عبرت ناک سزا دیں۔
آیت 26
قَالَ ہِیَ رَاوَدَتۡنِیۡ عَنۡ نَّفۡسِیۡ
’’آپؑ نے فرمایاکہ اسی نے مجھے پھسلانا چاہا تھا‘‘
صورتِ حال بہت نازک اور خطرناک رخ اختیار کرچکی تھی۔ حضرت یوسف ؑکو بھی اپنے دفاع میں کچھ نہ کچھ تو کہنا تھا۔ لہٰذا آپؑ نے صاف صاف بتا دیا کہ خود اس عورت نے مجھے گناہ پر آمادہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔
وَ شَہِدَ شَاہِدٌ مِّنۡ اَہۡلِہَا ۚ
’’اور گواہی دی عورت کے خاندان والوں میں سے ایک گواہ نے۔‘‘
اس عورت کے اپنے رشتہ داروں میں سے بھی کوئی شخص موقع پر آ پہنچا۔ اس نے موقع محل دیکھ کر وقوعہ کے بارے میں بڑی مدلل اور خوبصورت قرائنی شہادت (circumstancial evidence) دی کہ:
’’اور اگر اس کی قمیص پھٹی ہے پیچھے سے ‘تو پھر یہ جھوٹی ہے اور وہ سچاہے۔‘‘
اس عادلانہ اور حکیمانہ گواہی سے معلوم ہوتا ہے کہ جہاں اس معاشرے میں بہت سی خرابیاں تھیں(جن میں سے کچھ کا ذکر آگے آئے گا)وہاں اس گواہی دینے والے شخص جیسے حق گو اور انصاف پسند لوگ بھی موجود تھے جس نے قرابت دار ہوتے ہوئے بھی حق اور انصاف کی بات کی۔
’’پھر جب اس(عزیز مصر) نے دیکھا کہ آپؑ کی قمیص پھٹی ہو ئی ہے پیچھے سے‘تو اس نے کہا کہ یہ تم عورتوں کی چالوں میں سے (ایک چال ) ہے‘ یقینا تم عورتوں کے فریب بہت بڑے ہوتے ہیں۔‘‘
’’اور شہر میں عورتوں نے (اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے) کہا کہ عزیز کی بیوی تو اپنے غلام کو پھسلا رہی ہے۔‘‘
قَدۡ شَغَفَہَا حُبًّا ؕ
’’وہ اس کی محبت میں گرفتار ہو چکی ہے۔‘‘
اِنَّا لَنَرٰىہَا فِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۳۰﴾
’’یقینا ہم دیکھتے ہیں کہ وہ بہت بھٹک گئی ہے۔‘‘
اس کا اپنے غلام کے ساتھ اس طرح کا معاملہ! یہ تو بہت ہی گھٹیا بات ہے!
آیت 31
فَلَمَّا سَمِعَتۡ بِمَکۡرِہِنَّ
’’پھر جب اُس نے سنیں ان کی مکارانہ باتیں‘‘
عزیز مصر کی بیوی نے جب سنا کہ شہر میں اس کے خلاف اس طرح کے چرچے ہو رہے ہیں اور مصر کی عورتیں ایسی طعن آمیز باتیں کر رہی ہیں تو اس نے بھی جوابی کارروائی کا منصوبہ بنا لیا۔ یہ اس معاشرے کے انتہائی اعلیٰ سطح کے لوگوں کی بات تھی اور اس کا چرچا بھی اسی سطح پر ہو رہا تھا۔ اُسے بھی اپنے ارد گرد سب لوگوں کے کردار کا پتا تھا‘ کہاں کیا خرابی ہے اور کس کے ہاں کتنی گندگی ہے وہ سب جانتی تھی۔ چنانچہ اس نے اس اعلیٰ سوسائٹی کے اجتماعی کردار کا بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔
’’اُس نے دعوت دی اُن سب کو اور اہتمام کیا ایک تکیہ دار مجلس کا‘‘
اُس نے کھانے کی ایک پر تکلف تقریب کا اہتمام کیا جس میں مہمان عورتوں کے لیے گائو تکیے لگے ہوئے تھے۔
وَّ اٰتَتۡ کُلَّ وَاحِدَۃٍ مِّنۡہُنَّ سِکِّیۡنًا
’’اور ان میں سے ہر عورت کو اُس نے ایک چھری دے دی‘‘
کھانے کی چیزوں میں پھل وغیرہ بھی ہوں گے‘ چنانچہ ہر مہمان عورت کے سامنے ایک ایک چھری بھی رکھ دی گئی۔
وَّ قَالَتِ اخۡرُجۡ عَلَیۡہِنَّ ۚ
’’اور (یوسف ؑسے) کہا کہ اب تم ان کے سامنے آؤ!‘‘
فَلَمَّا رَاَیۡنَہٗۤ اَکۡبَرۡنَہٗ
’’پھر جب انہوں نے یوسف ؑکو دیکھا تو اسے بہت عظیم جانا(ششدر رہ گئیں)‘‘
وَ قَطَّعۡنَ اَیۡدِیَہُنَّ
’’اور ان سب نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے‘‘
عورتوں نے جب پاکیزگی اور تقدس کا پیکر ایک جوانِ رعنا اپنے سامنے کھڑا دیکھاتو مبہوت ہو کر رہ گئیں۔ سب کی سب آپؑ کے حسن و جمال پر ایسی فریفتہ ہوئیں کہ اپنے اپنے ہاتھ زخمی کر لیے۔ ممکن ہے کسی ایک عورت کا ہاتھ تو واقعی عالم حیرت و محویت میں کٹ گیا ہو اور اس کی طرف حضرت یوسف ؑبحیثیت خادم کے متوجہ ہوئے ہوں کہ خون صاف کر کے پٹی وغیرہ کر دیں اور یہ دیکھ کر باقی سب نے بھی اپنی اپنی انگلیاں دانستہ کاٹ لی ہوں کہ اس طرح یہی التفات انہیں بھی ملے گا۔ قَطَّعَبابِ تفعیل ہے ‘ جس میں کسی کام کو پورے اہتمام اور ارادے سے کرنے کے معنی پائے جاتے ہیں۔
’’اور اگر اس نے وہ نہ کیا جو میں اسے حکم دے رہی ہوں تو وہ لازماً قید میں پڑے گا اور ضرور ذلیل ہو کر رہے گا۔‘‘
اسے حکم دے رہی ہوں تو وہ لازماً قید میں پڑے گا اور ضرور ذلیل ہو کر رہے گا۔‘‘
اس عورت کا دھڑلے سے خصوصی دعوت کا اہتمام کرنا اور اس میں سب کو فخر سے بتانا کہ دیکھ لو یہ ہے و ہ شخص جس کے بارے میں تم مجھے ملامت کرتی تھیں‘ اور پھر پوری بے حیائی سے اعلان کرنا کہ ایک دفعہ تو یہ مجھ سے بچ گیا ہے مگر کب تک؟ آخر کار اسے میری بات ماننا ہوگی! اس سے تصور کیا جا سکتا ہے کہ ان کی اس انتہائی اونچی سطح کی سوسائٹی کی مجموعی طور پر اخلاقی حالت کیا تھی!