بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

يوسف

آیات ۱ تا ۱۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

چودہ مکی سورتوں(سورۂ یونس تاسورۃ المؤمنون) پر مشتمل اس طویل سلسلے میں تین تین سورتوں کے جو ذیلی گروپس ہیں‘ سورئہ یوسف ان میں سے پہلے ذیلی گروپ کا حصہ ہے‘ لیکن اس سورت کو اپنے مضمون اور خاص انداز کی بنا پر پہلی دو سورتوں (سورۂ یونس اور سورۂ ہود) کا ضمیمہ سمجھنا چاہیے۔ بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ سورۂ یوسف پورے قرآن مجید میں اپنے انداز کی ایک بالکل منفرد سورت ہے۔ اس کی ہلکی سی مشابہت صرف سورۂ طہٰ کے ساتھ ہے۔ سورۂ طہٰ بھی سورۂ یوسف کی طرح صرف ایک رسول یعنی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے تذکرے پر مشتمل ہے۔ ان دونوں سورتوں میں اس کے علاوہ ایک معنوی نسبت یہ بھی ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کے زمانے میں اور آپؑ کی وساطت سے بنی اسرائیل مصر میں داخل ہوئے تھے ‘جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں آپؑ کے ذریعے سے وہ لوگ وہاں سے نکلے تھے۔

اس سے پہلے مکی سورتوں میں انباء الرسل کا مضمون بہت شد و مد کے ساتھ بیان ہوا ہے ‘ جبکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکرقصصِ النبیین کے انداز میں آیا ہے‘ پہلے سورۃ الانعام میں اور پھر سورۂ ہود میں۔ مگر سورۂ یوسف قصص النبیین کے اعتبار سے بھی یوں منفرد ہے کہ پوری سورت ایک ہی نبی کے حالات پر مشتمل ہے۔ اس پورے قصے میں انبا ء الرسل کے انداز کی ہلکی سی جھلک بھی نظر نہیں آتی۔ یعنی اس طرح کا کوئی اشارہ کہیں بھی نہیں ملتا کہ حضرت یوسف علیہ السلام مصر میں اس قوم کی طرف مبعوث ہوئے تھے‘ یا پھر انہوں نے اپنی قوم کو دعوتِ توحید دینے کے بعد کہا ہو کہ اگر تم میری اس دعوت کو نہیں مانو گے تو تم پر اللہ کا عذاب آئے گا۔ پوری سورت میں ہمیں ان کی طرف سے جا بجا دعوت کی مثالیں ملتی ہیں مگر وہ ایک مصلح کے انداز میں تبلیغ کرتے نظر آتے ہیں۔ اس سے نبی اور رسول کے مابین فرق بھی واضح ہو جاتا ہے۔ رسولوں کے حالات کے ضمن میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ ایک رسول کی بعثت تعین کے ساتھ جس قوم کی طرف ہوتی تھی وہ انہیں اللہ واحد کی بندگی اور اپنی اطاعت کا حکم دیتا تھا: {اَنِ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ اتَّقُوۡہُ وَ اَطِیۡعُوۡنِ ۙ﴿۳﴾} (نوح)’’کہ تم اللہ کی بندگی کرو‘ اُس کا تقویٰ اختیار کرو اور میری اطاعت کرو‘‘۔ اور اگر وہ قوم اپنے رسول کی دعوت کو ردّ کرتی چلی جاتی تھی تو بالآخر اُس قوم پر اللہ کی طرف سے عذاب نازل ہو جاتا تھااور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیا جاتا تھا ---- لیکن نبی کا معاملہ اولیاء اللہ کی طرح ہوتا تھا۔ وہ اپنے معاشرے میں توحید کی دعوت دیتا‘ کفر و شرک اور بدعات سے اجتناب کی تلقین کرتا اور ان کی اصلاح کی کوشش کرتا۔ بنی اسرائیل میں انبیاء کرام علیہم السلام تسلسل کے ساتھ آتے رہے ہیں‘ لیکن رسول معدودے چند تھے۔اُمت مسلمہ میں بڑے بڑے اولیاءِ کرام رحمہم اللہ پیدا ہوئے ہیں اور انہوں نے عظیم الشان دعوتی اور تجدیدی خدمات انجام دی ہیں‘ لیکن وحی کا دروازہ انبیاء کرام علیہم السلام کے بعد بند ہو چکا ہے۔

اس سورت کے نزول اور اس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات کی اس قدر تفصیل بیان کرنے کا بنیادی سبب تو یہ ہے کہ محمد رسول اللہﷺ کے دعوائے نبوت کی خبریں جب یہودِ مدینہ تک پہنچیں تو انہوں نے تورات کی معلومات کی بنیاد پر شرارتاً مشرکین مکہ کو مختلف سوالات بھیجنے شروع کردیے‘ جو وہ حضورﷺ سے پوچھتے رہتے تھے۔ ان سوالات میں ایک اہم سوال یہ بھی تھاکہ بنی اسرائیل کے بارے میں آپؐ یہ واقعات توبیان کر رہے ہیں کہ مصر میں فرعون اُن پر ظلم کرتا تھا اور وہاں وہ غلامانہ زندگی بسر کر رہے تھے اور پھر حضرت موسیٰؑ اُن کو وہاں سے نکال کر لے گئے‘ مگر بنی اسرائیل کے جدِ امجد حضرت ابراہیم‘ حضرت اسحق اور حضرت یعقوب علیہم السلام تو فلسطین میں آباد تھے ‘ان کے بارے میں یہ بھی بتائیں کہ وہاں سے یہ لوگ مصر میں کیسے پہنچ گئے؟ یہ تاریخ کاایک سوال تھا‘ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ پورا واقعہ اس سورت میں بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان فرما دیا‘ بلکہ اس قصے کو قریش کے اس طرزِ عمل پر بھی منطبق کر دیا جو وہ برادر ان یوسف کی مانند نبی آخر الزماںﷺ کے ساتھ روا رکھے ہوئے تھے۔

میں یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ قرآن حکیم کے ساتھ میرا جو ذہنی و قلبی رشتہ اور معنوی ربط و تعلق قائم ہوا اس کا نقطۂ آغاز یہی سورۂ یوسف بنی‘ جب میں نے مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے قلم سے اس کی تفسیر کا مطالعہ کیا۔ میں نے ۱۹۴۷ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ہی تھا کہ مشرقی پنجاب میں فسادات شروع ہو گئے اور مسلمانوں کا قتل عام ہونے لگا۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک ہم اپنے شہر حصار میں محصور رہے۔ ہم نے اپنی حفاظت کے لیے مورچے قائم کر لیے تھے‘ جن میں شہر کے نوجوان اپنی باری سے ڈیوٹی دیتے۔ فارغ وقت میں‘میں اور میرے بڑے بھائی اظہار احمد ایک مسجد میں بیٹھ کر مطالعہ کرتے۔ اُن دنوں مولانا مودودیؒ کے ماہنامہ ترجمان القرآن میں ’’تفہیم القرآن‘‘ کے سلسلے میں سورۂ یوسف کی تفسیر شائع ہو رہی تھی۔ میں نے بھی میٹرک میں عربی کا مضمون رکھا تھا اور بھائی جان نے بھی جب میٹرک کیا تھا تو عربی پڑھی تھی۔ چنانچہ ہم مل کر سورۂ یوسف کی تفسیر کا مطالعہ کرتے اور اس پر باہم مذاکرہ کرتے۔ قرآن حکیم کی تلاوت اور ترجمے کی مدد سے اس کو سمجھنے کا معاملہ تو پہلے سے ہی تھا‘ لیکن اس تفسیری مطالعے اور مذاکرے سے قرآن حکیم کے ساتھ ذہنی و قلبی رشتہ استوار ہوا۔

1-3

قرآنِ کریم ایک عام فہم کتاب ہے

ویڈیو

الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾ اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲﴾ نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ٭ۖ وَ اِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۳﴾

آیت 1

الٓرٰ ۟ تِلۡکَ اٰیٰتُ الۡکِتٰبِ الۡمُبِیۡنِ ۟﴿۱﴾

’’ا ‘ل‘ ر۔یہ ایک روشن کتاب کی آیات ہیں۔‘‘

یہ اُس کتاب روشن کی آیات ہیں جو اپنا مدعا واضح طور پر بیان کرتی ہے اور کوئی ابہام باقی نہیں رہنے دیتی۔

آیت 2

اِنَّاۤ اَنۡزَلۡنٰہُ قُرۡءٰنًا عَرَبِیًّا

’’ہم نے اس کو نازل کیا ہے عربی قرآن بنا کر‘‘

یعنی وہ قرآن جو اُمّ الکتاب اور لوحِ محفوظ میں ہمارے پاس ہے ‘اس کو ہم نے قرآنِ عربی بنا کر محمد رسول اللہﷺپر نازل کیا ہے ۔

لَّعَلَّکُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲﴾

’’تاکہ تم لوگ اسے اچھی طرح سے سمجھ سکو۔‘‘

یہ خطاب عرب کے اُمیین سے ہے کہ ہمارے آخری رسولﷺکی اوّلین بعثت تمہاری طرف ہوئی ہے۔ آپﷺ کے مخاطبین اولین تم لوگ ہو۔ چنانچہ ہم نے قرآن کو تمہاری اپنی زبان میں نازل کیا ہے تاکہ تم لوگ اسے اچھی طرح سمجھ سکو۔

آیت 3

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ

’’(اے نبیﷺ!) ہم آپ کو سنانے لگے ہیں بہترین بیان‘‘

قَصَصَ (ق کی زبر کے ساتھ) یہاں بطور مصدر آیاہے اور اس کے معنی ہیں ’’بیان‘‘۔ اگر لفظ قِصَص (ق کی زیر کے ساتھ) ہوتا تو قصہ کی جمع کے معنی دیتا‘ اور اس صورت میں اس کا ترجمہ یوں ہوتا کہ ہم آپﷺ کو بہترین قصہ سنا رہے ہیں۔

بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ ٭ۖ وَ اِنۡ کُنۡتَ مِنۡ قَبۡلِہٖ لَمِنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۳﴾

’’اس قرآن کے ساتھ جو ہم نے آپؐ کی طرف وحی کیا ہے ‘اور یقینا آپؐ اس سے پہلے (اس سے) نا واقف تھے۔‘‘

یعنی قرآن میں اس وحی (سورت) کے نزول سے پہلے آپﷺ اس واقعہ سے واقف نہیں تھے۔

4-6

حضرت یوسف ؑ کا خوش کُن خواب

ویڈیو

اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾ قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۵﴾ وَ کَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ وَ یُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ وَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ اَتَمَّہَا عَلٰۤی اَبَوَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ اِنَّ رَبَّکَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ٪﴿۶﴾

آیت 4

اِذۡ قَالَ یُوۡسُفُ لِاَبِیۡہِ

’’جب یوسف ؑنے اپنے والد(یعقوبؑ) سے کہا‘‘

حضرت یعقوب علیہ السلام کی بڑی بیوی سے آپؑ کے دس بیٹے تھے اور وہ سب کے سب اُس وقت تک جوانی کی عمر کو پہنچ چکے تھے‘ جبکہ آپؑ کے دو بیٹے(یوسف ؑاور بن یا مین) آپؑ کی چھوٹی بیوی سے تھے ۔ اِ ن میں حضرت یوسف ؑبڑے تھے ‘مگر ابھی یہ دونوں ہی کم سن تھے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیۡ رَاَیۡتُ اَحَدَعَشَرَ کَوۡکَبًا وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ رَاَیۡتُہُمۡ لِیۡ سٰجِدِیۡنَ ﴿۴﴾

’’اباجان ! میں نے خواب میں دیکھا ہے گیارہ ستارو ںاور سورج اور چاند کو‘ میں نے اُن کو دیکھا ہے کہ وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔‘‘

آیت 5

قَالَ یٰبُنَیَّ لَا تَقۡصُصۡ رُءۡیَاکَ عَلٰۤی اِخۡوَتِکَ

’’یعقوبؑ نے فرمایا :اے میرے پیارے بیٹے! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کے سامنے بیان نہ کرنا‘‘

حضرت یعقوب علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ اس خواب میں یوسف ؑکے گیارہ بھائیوں اور ماں باپ کے بارے میں کوئی اشار ہ ہے اور شاید اللہ تعالیٰ میرے اس بیٹے کے لیے کوئی خاص فضیلت ظاہر کرنے والا ہے۔

فَیَکِیۡدُوۡا لَکَ کَیۡدًا ؕ

’’ورنہ وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں گے۔‘‘

ممکن ہے وہ لوگ خواب سن کر اس میں واضح اشارے کو بھانپ لیں تو ان کے اندر حسد کی آگ بھڑک اُٹھے اور پھر وہ تمہارے خلاف کوئی سازش کریں‘ تمہیں گزند پہنچانے کی کوشش کریں ۔

اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لِلۡاِنۡسَانِ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۵﴾

’’یقینا شیطان تو انسان کا کھلا دشمن ہے۔‘‘

وہ دشمنی میں کسی کو بھی کسی بھی وقت ‘کوئی بھی پٹی پڑھا سکتا ہے۔

آیت 6

وَ کَذٰلِکَ یَجۡتَبِیۡکَ رَبُّکَ

’’اور اسی طرح تمہارا ربّ تمہیں منتخب کرے گا‘‘

حضرت یعقوب علیہ السلام نے سمجھ لیا کہ میرے بیٹوں میں سے یوسف ؑکو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے لیے چن لیا ہے۔

وَ یُعَلِّمُکَ مِنۡ تَاۡوِیۡلِ الۡاَحَادِیۡثِ

’’اور تمہیں سکھائے گا تاویل الاحادیث میں سے (علم)‘‘

یہاں پر تاویل حدیث کے دو معنی ہو سکتے ہیں‘ ایک خوابوںکی تعبیر اور دوسرے معاملہ فہمی اور دور بینی‘ باتوں کی کنہ (تہ) تک پہنچ جانا‘ حقیقت تک رسائی ہو جانا۔

وَ یُتِمُّ نِعۡمَتَہٗ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اٰلِ یَعۡقُوۡبَ کَمَاۤ اَتَمَّہَا عَلٰۤی اَبَوَیۡکَ مِنۡ قَبۡلُ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اِسۡحٰقَ ؕ

’’اور اِتمام فرمائے گا اپنی نعمت کا تجھ پر اور آلِ یعقوبؑ پر جس طرح اُس نے اس سے پہلے اپنی نعمت کا اِتمام فرمایا تیرے آباء واَجداد ابراہیم ؑاور اسحاقؑ پر۔‘‘

یہاں حضرت یعقوب علیہ السلام نے کسرِ نفسی کے سبب حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق علیہما السلام کے ساتھ اپنا نام نہیں لیا۔

اِنَّ رَبَّکَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ٪﴿۶﴾

’’یقینا تیرا رب جاننے والا‘حکمت والا ہے۔‘‘

7-18

برادرانِ یوسف ؑ کی سازش

ویڈیو

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ یُوۡسُفَ وَ اِخۡوَتِہٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۷﴾ اِذۡ قَالُوۡا لَیُوۡسُفُ وَ اَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ ؕ اِنَّ اَبَانَا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنِۣ ۚ﴿ۖ۸﴾ اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ وَ تَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾ قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ وَ اَلۡقُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ یَلۡتَقِطۡہُ بَعۡضُ السَّیَّارَۃِ اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَا لَکَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰی یُوۡسُفَ وَ اِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾ اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَ یَلۡعَبۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۱۲﴾ قَالَ اِنِّیۡ لَیَحۡزُنُنِیۡۤ اَنۡ تَذۡہَبُوۡا بِہٖ وَ اَخَافُ اَنۡ یَّاۡکُلَہُ الذِّئۡبُ وَ اَنۡتُمۡ عَنۡہُ غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳﴾ قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾ فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَ اَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾ وَ جَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾ قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَ تَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَ لَوۡ کُنَّا صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾ وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾

آیت 7

لَقَدۡ کَانَ فِیۡ یُوۡسُفَ وَ اِخۡوَتِہٖۤ اٰیٰتٌ لِّلسَّآئِلِیۡنَ ﴿۷﴾

’’یقینا یوسفؑ اور آپؑ کے بھائیوں(کے قصے) میں (بہت سی)نشانیاں ہیں پوچھنے والوں کے لیے۔ ‘‘

یعنی جن لوگوں (قریشِ مکہ) نے یہ سوال پوچھا ہے اور جن لوگوں (یہودِمدینہ) کے کہنے پر پوچھا ہے‘ ان سب کے لیے اس قصے میں بہت سی نشانیاں ہیں۔اگر وہ صرف اس ایک قصے کو حقیقت کی نظروں سے دیکھیں اور اس پر غور کریں تو بہت سے حقائق نکھر کر اُن کے سامنے آ جائیں گے۔

آیت 8

اِذۡ قَالُوۡا لَیُوۡسُفُ وَ اَخُوۡہُ اَحَبُّ اِلٰۤی اَبِیۡنَا مِنَّا وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ ؕ

’’جب انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی ہمارے والد کو ہم سے زیادہ محبوب ہیں جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں۔‘‘

برادرانِ یوسف نے کہا کہ ہم پورے دس لوگ ہیں ‘سب کے سب جوان اور طاقتور ہیں‘ خاندان کی شان تو ہمارے دم قدم سے ہے (قبائلی زندگی میں نوجوان بیٹوں کی تعداد پر ہی کسی خاندان کی شان و شوکت اور قوت و طاقت کا انحصار ہوتا ہے) لیکن ہمارے والد ہمیں نظر انداز کر کے ان دو چھوٹے بچوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

اِنَّ اَبَانَا لَفِیۡ ضَلٰلٍ مُّبِیۡنِۣ ۚ﴿ۖ۸﴾

’’یقینا ہمارے والد صریح غلطی پر ہیں۔‘‘

آیت 9

اقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ اَوِ اطۡرَحُوۡہُ اَرۡضًا یَّخۡلُ لَکُمۡ وَجۡہُ اَبِیۡکُمۡ

’’(چنانچہ) قتل کر دو یوسف کو یا اسے پھینک آؤ (دور) کسی علاقے میں تا کہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری طرف ہو جائے‘‘

یوسف چونکہ ان دونوں میں بڑا ہے‘اس لیے وہی والد صاحب کی ساری توجہ اور عنایات کا مرکز و محور بنا ہوا ہے‘ چنانچہ جب یہ نہیں رہے گا تو لا محالہ والد صاحب کی تمام تر شفقت اور مہربانی ہمارے لیے ہی ہو گی۔

وَ تَکُوۡنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ قَوۡمًا صٰلِحِیۡنَ ﴿۹﴾

’’اور پھر اس کے بعد نیک بن جانا۔‘‘

اس فقرے میں اُن کے نفس اور ضمیر کی کشمکش کی جھلک صاف نظر آ رہی ہے۔ ضمیر تو مسلسل ملامت کر رہا تھا کہ یہ کیا کرنے لگے ہو؟ اپنے بھائی کو قتل کرنا چاہتے ہو؟ یہ تمہاری سوچ درست نہیں ہے! لیکن عام طور پر ایسے مواقع پر انسان کا نفس اس کے ضمیر پر غالب آ جاتا ہے ‘جیسا کہ ہم نے سورۃ المائدۃ ‘آیت ۳۰میں ہابیل اور قابیل کے سلسلے میں پڑھا تھا: {فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ } ’’پس قابیل کے نفس نے اُسے آمادہ کر ہی لیا اپنے بھائی کے قتل کرنے پر۔‘‘

اسی طرح ان لوگوں نے بھی اپنے ضمیر کی آواز کو دبا کر آپس میں مشورہ کیا کہ ایک دفعہ یہ کڑوا گھونٹ حلق سے اتار لو‘ پھر اس کے بعد توبہ کر کے اور کفارہ وغیرہ ادا کر کے کسی نہ کسی طرح اس جرم کی تلافی کردیں گے اور باقی زندگی نیک بن کر رہیں گے۔

آیت 10

قَالَ قَآئِلٌ مِّنۡہُمۡ لَا تَقۡتُلُوۡا یُوۡسُفَ

’’کہا ان میں سے ایک کہنے والے نے کہ یوسف کو قتل مت کرو‘‘

یہ شریف النفس انسان اُن کے سب سے بڑے بھائی تھے جنہوں نے یہ مشورہ دیا ۔ ان کا نام یہودا تھا‘ اورانہی کے نام پر لفظ ’’یہودی‘‘بنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل مسئلہ تو اس سے پیچھا چھڑانے کا ہے ‘لہٰذاضروری نہیں کہ قتل جیسا گناہ کر کے ہی یہ مقصد حاصل کیا جائے‘ اس کے لیے کوئی دوسرا طریقہ بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

وَ اَلۡقُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ یَلۡتَقِطۡہُ بَعۡضُ السَّیَّارَۃِ

’’اور ڈال آؤ اسے کسی باؤلی کے طاقچے میں‘ اٹھا لے جائے گا اس کو کوئی قافلہ‘‘

پرانے زمانے کے کنویں کی ایک خاص قسم کو بائولی کہا جاتا تھا‘ اس کا منہ کھلا ہوتا تھا لیکن گہرائی میں یہ تدریجاً تنگ ہوتا جاتا تھا۔ پانی کی سطح کے قریب اس کی دیوار میں طاقچے سے بنائے جاتے تھے ۔ اس طرح کی باؤلیاں پرانے زمانے میں قافلوں کے راستوں پر بنائی جاتی تھیں۔ چنانچہ اس مشورے پر عمل کی صورت میں قوی امکان تھا کہ کسی قافلے کا ادھر سے گزر ہو گا اورقافلے والے یوسف کو بائولی سے نکال کر اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ بڑے بھائی کے اس مشورے کا مقصد بظاہر یہ تھا کہ اس طرح کم از کم یوسف کی جان بچ جائے گی اور ہم بھی اس کے خون سے ہاتھ رنگنے کے جرم کے مرتکب نہیں ہوں گے۔

اِنۡ کُنۡتُمۡ فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾

’’اگر تم کچھ کرنے ہی والے ہو۔‘‘

جب نو بھائی اس بات پر پوری طرح تل گئے کہ یوسف سے بہرحال چھٹکارا حاصل کرنا ہے تو دسواں بھائی ان کو اس حرکت سے بالکل منع تو نہیں کر سکا‘لیکن اس نے کوشش کی کہ کم از کم وہ لوگ یوسف کو قتل کرنے سے باز رہیں۔

آیت 11

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَا مَا لَکَ لَا تَاۡمَنَّا عَلٰی یُوۡسُفَ وَ اِنَّا لَہٗ لَنٰصِحُوۡنَ ﴿۱۱﴾

’’انہوں نے کہا :اباجان! کیا وجہ ہے کہ آپؑ ہم پر بھروسہ نہیں کرتے یوسف کے معاملے میں‘حالانکہ ہم تو اس کے بڑے خیرخواہ ہیں۔‘‘

آیت 12

اَرۡسِلۡہُ مَعَنَا غَدًا یَّرۡتَعۡ وَ یَلۡعَبۡ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’کل ذرا اسے ہمارے ساتھ بھیجئے‘ وہ کچھ کھائے پیے گا اور کھیلے کودے گا ‘ اور ہم یقینااس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔‘‘

انہوں نے کہا کہ ہم کل شکار پر جا رہے ہیں‘ آپؑ یوسف کو بھی ہمارے ساتھ بھیج دیجیے۔ وہاں یہ درختوں سے پھل وغیرہ کھائے گا اور کھیل کودسے بھی دل بہلائے گا۔ آپؑ اس کی طرف سے بالکل فکر مند نہ ہوں‘ ہم اس کی حفاظت کریں گے۔

آیت 13

قَالَ اِنِّیۡ لَیَحۡزُنُنِیۡۤ اَنۡ تَذۡہَبُوۡا بِہٖ وَ اَخَافُ اَنۡ یَّاۡکُلَہُ الذِّئۡبُ وَ اَنۡتُمۡ عَنۡہُ غٰفِلُوۡنَ ﴿۱۳﴾

’’یعقوبؑ نے فرمایا :مجھے یہ بات اندیشہ میں ڈالتی ہے کہ تم اسے لے جاؤ‘ اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ کھا جائے جبکہ تم اس سے غافل ہو جاؤ۔‘‘

مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وہ تمہارے ساتھ چلا جائے ‘پھر تم لوگ اپنی مصروفیات میں منہمک ہو جاؤ‘ اس طرح وہ جنگل میں اکیلا رہ جائے اور کوئی بھیڑیا اسے پھاڑ کھائے۔

آیت 14

قَالُوۡا لَئِنۡ اَکَلَہُ الذِّئۡبُ وَ نَحۡنُ عُصۡبَۃٌ اِنَّاۤ اِذًا لَّخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’وہ کہنے لگے کہ اگر (ہمارے ہوتے ہوئے) اسے بھیڑیا کھا گیا جبکہ ہم ایک طاقتور جماعت ہیں‘تب تو ہم بہت ہی نکمے ثابت ہوں گے۔‘‘

یہ کیسے ممکن ہے کہ ہمارے جیسے دس کڑیل جوانوں کے ہوتے ہوئے اسے بھیڑیا کھاجائے‘ ہم اتنے بھی گئے گزرے نہیں ہیں۔

آیت 15

فَلَمَّا ذَہَبُوۡا بِہٖ وَ اَجۡمَعُوۡۤا اَنۡ یَّجۡعَلُوۡہُ فِیۡ غَیٰبَتِ الۡجُبِّ ۚ

’’ پھر جب وہ اس کو لے گئے اور سب اس پر متفق ہو گئے کہ اسے ڈال دیں باؤلی کے طاقچے میں۔‘‘

یہاں پر اَجْمَعُوْٓا کے بعد عَلٰی کا صلہ محذوف ہے ‘یعنی اس منصوبے پر وہ سب کے سب جمع ہو گئے‘ انہوں نے اس رائے پر اتفاق کر لیا۔

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡہِ لَتُنَبِّئَنَّہُمۡ بِاَمۡرِہِمۡ ہٰذَا وَ ہُمۡ لَا یَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵﴾

’’اور ہم نے (اُس وقت) وحی کی یوسف کو کہ تم (ایک دن) اُن کو ان کی یہ حرکت ضرور جتلاؤ گے اور انہیں اس کا اندازہ بھی نہیں ہو گا۔‘‘

یہ بات الہام کی صورت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے دل میں ڈالی گئی ہو گی‘ کیونکہ ابھی آپؑ کی عمرنبوت کی تو نہیں تھی کہ باقاعدہ وحی ہوتی۔ بہر حال آپؑ پر یہ الہام کیا گیا کہ ایک دن تم اپنے ان بھائیوں کو یہ بات اُس وقت جتلاؤ گے جب انہیں اس کا خیال بھی نہیں ہو گا۔ اس چھوٹے سے فقرے میں جو بلاغت ہے اس کا جواب نہیں۔ چند الفاظ کے اندر حضرت یوسف ؑکی تسلی کے لیے گویا پوری داستان بیان کر دی گئی ہے کہ تمہاری جان کو خطرہ نہیں ہے‘تم نہ صرف اس مشکل صورتِ حال سے نکلنے میں کامیاب ہو جاؤ گے بلکہ ایک دن ایسا بھی آئے گا جب تم اس قابل ہو گے کہ اپنے ان بھائیوں کو اُن کا یہ سلوک جتلاسکو۔

آیت 16

وَ جَآءُوۡۤ اَبَاہُمۡ عِشَآءً یَّبۡکُوۡنَ ؕ﴿۱۶﴾

’’اور وہ آئے اپنے والد کے پاس شام کو روتے ہوئے۔‘‘

آیت 17

قَالُوۡا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّا ذَہَبۡنَا نَسۡتَبِقُ وَ تَرَکۡنَا یُوۡسُفَ عِنۡدَ مَتَاعِنَا

’’انہوں نے کہا :ابا جان! ہم جا کر دوڑ کا مقابلہ کرنے لگے اور ہم نے چھوڑ دیا تھا یوسف کو اپنے سامان کے پاس‘‘

ہم نے اپنا اضافی سامان اکٹھا کر کے ایک جگہ رکھا اور اس سامان کے پاس ہم نے یوسف ؑکو چھوڑ دیا تھا۔خود ہم ایک دوسرے سے دوڑمیں مقابلہ کرتے ہوئے دور نکل گئے۔

فَاَکَلَہُ الذِّئۡبُ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِمُؤۡمِنٍ لَّنَا وَ لَوۡ کُنَّا صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۷﴾

’’تو اُسے کھا لیا ایک بھیڑیے نے۔اور آپؑ ہماری بات مانیں گے تو نہیں ‘خواہ ہم کتنے ہی سچے ہوں۔‘‘

آیت 18

وَ جَآءُوۡ عَلٰی قَمِیۡصِہٖ بِدَمٍ کَذِبٍ ؕ

’’اور وہ اُس کی قمیص پر جھوٹ موٹ کا خون بھی لگالائے۔‘‘

قَالَ بَلۡ سَوَّلَتۡ لَکُمۡ اَنۡفُسُکُمۡ اَمۡرًا ؕ

’’حضرت یعقوبؑ نے فرمایا:(واقعہ یوں نہیں)بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا ہے۔‘‘

ان کی بات سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ نہیں‘ بات کچھ اور ہے۔ یہ بات جو تم بتا رہے ہویہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑی بات کو ہلکا کر کے پیش کیا ہے اور تم لوگوں نے کوئی بہت بڑا غلط اقدام کیا ہے۔

فَصَبۡرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَ اللّٰہُ الۡمُسۡتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿۱۸﴾

’’اب صبر ہی بہترہے ‘اور اللہ ہی کی مدد طلب کی جا سکتی ہے اس پر جو تم بیان کر رہے ہو۔‘‘

حضرت یعقوب علیہ السلام اکیلے تھے‘ بوڑھے تھے اور دوسری طرف دس جوان بیٹے‘اس صورتِ حال میں اور کیاکہتے؟

یوٹیوب پر دیکھیے