وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ
’’اور (اے نبیﷺ!) ہم رسولوں کی خبروں میں سے ہر ایک آپ کو سنا رہے ہیں‘‘
یہ ’’انباء الرسل‘‘ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہو اہے۔ حضرت نوح‘حضرت ہود‘ حضرت صالح‘حضرت لوط‘ حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ fکے حالات ہم آپؐ کو بار بار اس لیے سنارہے ہیں :
مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ ۚ
’’(تاکہ) مضبوط رکھیں ہم اس کے ساتھ آپؐ کا دل۔‘‘
تا کہ ان واقعات کو سن کر آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کے دلوں میں اطمینان بڑھے اور استقامت میں اضافہ ہو۔ ان واقعات کے ذریعے سے ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ میں آپؐ پر اور آپؐ کے ساتھیوں پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ‘بلکہ جب بھی کوئی رسول ؑکسی قوم کی طرف مبعوث ہوا اور اسے دعوتِ حق پیش کی تو اس کی مخالفت اسی شد ومد سے ہوئی۔ انبیاء ورسل اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جس طرح ہم نے ہر بار اہل حق کی مددکی اور بالٓا خر کامیاب وہی ہوئے‘ اسی طرح اب بھی حق و باطل کی اس جاں گسل کشمکش میں بول بالا حق ہی کا ہو گا‘اور آخر کار فتح آپؐ کی اور آپؐ کے ساتھیوں ہی کی ہو گی۔
وَ جَآءَکَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَقُّ وَ مَوۡعِظَۃٌ وَّ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾
’’اور اس میں آپؐ کے پاس حق آیا ہے اور مؤمنین کے لیے اس میں نصیحت اور یاد دہانی ہے۔‘‘
یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں یا ان واقعات میں حق اور باطل کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے اور مؤمنین کے لیے نصیحت اور یاد دہانی کا سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔
وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ ؕ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲۱﴾
’’اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے کہ تم اپنی جگہ پر کرو( جو کر سکتے ہو) ہم بھی کر رہے ہیں (جو کچھ ہم کر سکتے ہیں)۔‘‘
یعنی تم میری مخالفت اور دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو‘ اس ضمن میں جو کر سکتے ہو بے شک میرے خلاف کر گزرو‘ تم اپنے طریقے پر چلتے رہو‘ ہم اپنی روش پرچلتے رہیں گے۔
وَ انۡتَظِرُوۡا ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
’’اور تم بھی انتظار کرو ‘ہم بھی منتظر ہیں۔‘‘
کہ اللہ کی طرف سے آخری فیصلہ کیا آتا ہے۔
وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُ الۡاَمۡرُ کُلُّہٗ
’’ اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں اور کل کا کل معاملہ اُسی کی جانب لوٹا دیا جائے گا‘‘
فَاعۡبُدۡہُ وَ تَوَکَّلۡ عَلَیۡہِ ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۲۳﴾
’’تو آپؐ اُسی کی عبادت کریں اور اُسی پر توکل کریں ۔اور یقینا آپؐ کا رب غافل نہیں ہے اس سے جو تم لوگ کر رہے ہو۔‘‘
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo