تحریر

هود

آیات ۱۱۶ تا ۱۲۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

116-117

برائی کو روکنے والے ہی عذاب سے بچتے ہیں

ویڈیو

فَلَوۡ لَا کَانَ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اُولُوۡا بَقِیَّۃٍ یَّنۡہَوۡنَ عَنِ الۡفَسَادِ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّنۡ اَنۡجَیۡنَا مِنۡہُمۡ ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِیۡہِ وَ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾ وَ مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾

آیت 116

فَلَوۡ لَا کَانَ مِنَ الۡقُرُوۡنِ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اُولُوۡا بَقِیَّۃٍ یَّنۡہَوۡنَ عَنِ الۡفَسَادِ فِی الۡاَرۡضِ

’’تو کیوں نہ ایسا ہوا کہ تم سے پہلے کی قوموں میں حق کے ایسے علمبردار ہوتے جو (اپنی اپنی قوموں کے لوگوں کو) روکتے زمین میں فساد مچانے سے‘‘

اِلَّا قَلِیۡلًا مِّمَّنۡ اَنۡجَیۡنَا مِنۡہُمۡ ۚ

’’مگر بہت تھوڑے لوگ ایسے تھے ‘جنہیں ہم نے اُن میں سے بچا لیا۔‘‘

یہ بات قرآن میں بار بار دہرائی گئی ہے کہ حق کے علمبردار ‘امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا حق ادا کرنے والے لوگ جہاں بھی ہوں ‘جس قوم سے بھی ہوں‘اللہ تعالیٰ ہمیشہ انہیں اپنی رحمت خاص سے بچا لیتا ہے۔

وَ اتَّبَعَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مَاۤ اُتۡرِفُوۡا فِیۡہِ وَ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۱۶﴾

’’اور پیچھے پڑے رہے وہ ظالم ان عیش و آرام کی چیزوں کے جو انہیں دی گئی تھیں اور وہ مجرم تھے۔‘‘

آیت 117

وَ مَا کَانَ رَبُّکَ لِیُہۡلِکَ الۡقُرٰی بِظُلۡمٍ وَّ اَہۡلُہَا مُصۡلِحُوۡنَ ﴿۱۱۷﴾

’’اور آپؐ کا رب ایسا نہیں کہ بستیوں کو ظلم کے ساتھ ہلاک کر دے جبکہ ان میں بسنے والے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں۔‘‘

ایسا نہیں ہوتا کہ کسی علاقے‘کسی ملک یا شہر میں اچھے کردار کے حامل‘ اپنی اور دوسروں کی اصلاح میں سرگرم لوگوں کی اکثریت ہو اور اللہ پھر بھی اس بستی پر عذاب بھیج دے۔

118-119

حق سے اختلاف کرنے والے ہر دور میں ہوں گے

ویڈیو

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿ۙ۱۱۸﴾ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّکَ ؕ وَ لِذٰلِکَ خَلَقَہُمۡ ؕ وَ تَمَّتۡ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

آیت 118

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً وَّ لَا یَزَالُوۡنَ مُخۡتَلِفِیۡنَ ﴿ۙ۱۱۸﴾

’’اور اگر آپؐ کا رب چاہتا تو تمام نوعِ انسانی کو ایک ہی اُمت بنا دیتا‘لیکن وہ تواختلاف کرتے ہی رہیں گے۔‘‘

جہاں کہیں بھی لوگ اکٹھے مل جل کر رہ رہے ہوں گے ان میں اختلافِ رائے کاہونا بالکل فطری بات ہے۔ مختلف لوگوں کی مختلف سوچ ہے ‘ہر ایک کا اپنا اپنا نقطہ نظر ہے اور اس کے لیے اپنا اپنا استدلال ہے۔ اسی کے مطابق ان کے نظریات ہیں اور اسی کے مطابق ان کے اعمال و افعال ۔ جب تک یہ استدلال علم اور قرآن وسنت کی بنیاد پر ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں‘ بشرطیکہ یہ اختلاف کی حد تک رہے اور تفرقہ کی صورت اختیار نہ کرے اور ’’من دیگر م تو دیگری‘‘ والا معاملہ نہ ہو۔

اس نکتہ کو یوں بھی سمجھنا چاہیے کہ امام ابو حنیفہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما دونوں نے قرآن و سنت سے استدلال کیا ہے ‘ مگر بعض اوقات دونوں بزرگوں کی آراء میں بہت زیادہ اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر ایسے اہل علم حضرات کے ہاں ایسا اختلاف کبھی بھی نزاع اور تفرقہ بازی کا باعث نہیں بنتا۔ ایک دوسرے زاویے سے دیکھا جائے تو دنیا کی رونق اور خوبصورتی بھی اسی تنوع اور اختلاف سے قائم ہے۔ ؎

گلہائے رنگا رنگ سے ہے رونق چمن

اے ذوق اس چمن کو ہے زیب اختلاف سے!

اگر دنیا میں یکسانیت (monotany) ہی ہو تو انسان کی طبیعت اس سے اکتا جائے۔

آیت 119

اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ رَبُّکَ ؕ وَ لِذٰلِکَ خَلَقَہُمۡ ؕ

’’سوائے اُس کے کہ جس پر آپؐ کا رب رحم فرما دے۔ اور اسی لیے اُس نے انہیں پیدا کیا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کے اندر یہ اختلاف اور تنوع خود رکھا ہے۔ دنیا میں اربوں انسان ہیں مگر ان میں کوئی سے دو انسانوں کے مزاج‘شکل و صورت اور آواز حتیٰ کہ انگلیوں کے نشانات آپس میں نہیں ملتے۔ لہٰذا اللہ انسانوں کو پیدا ہی اسی انداز پر کرتا ہے کہ ان میں تنوع اور انفرادیت قائم رہے۔ ایک حدیث نبویؐ کی رو سے انسان بھی معدنیات کی طرح ہیں۔ چنانچہ جس طرح معدنیات کی بے شمار اقسام ہیں مگر ہر ایک کی اپنی خصوصیات اور اپنی پہچان ہے‘ یہی معاملہ انسانوں کا ہے۔

وَ تَمَّتۡ کَلِمَۃُ رَبِّکَ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنَ الۡجِنَّۃِ وَ النَّاسِ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

’’اور آپؐ کے رب کی یہ بات پوری ہو کر رہے گی کہ میں جہنم کوِ جنوں اور انسانوں سب سے بھر کر رہوں گا۔‘‘

یعنی تمام مشرک‘سرکش‘نافرمان اور گناہگار جنوں اور انسانوں کو اکٹھا کر کے جہنم کا ایندھن بناؤ ں گا اور یوں ان سے جہنم کو بھر دوں گا۔اُس نے جنت بنائی ہے تو اسے بھی آباد کرنا ہے اور جہنم بنائی ہے تو اُسے بھی ایندھن فراہم کرنا ہے۔

120-123

اللہ کا دو ٹوک اعلان

ویڈیو

وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ ۚ وَ جَآءَکَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَقُّ وَ مَوۡعِظَۃٌ وَّ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾ وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ ؕ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲۱﴾ وَ انۡتَظِرُوۡا ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾ وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُ الۡاَمۡرُ کُلُّہٗ فَاعۡبُدۡہُ وَ تَوَکَّلۡ عَلَیۡہِ ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۲۳﴾

آیت 120

وَ کُلًّا نَّقُصُّ عَلَیۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الرُّسُلِ

’’اور (اے نبیﷺ!) ہم رسولوں کی خبروں میں سے ہر ایک آپ کو سنا رہے ہیں‘‘

یہ ’’انباء الرسل‘‘ کی وہی اصطلاح ہے جس کا ذکر قبل ازیں بار بار ہو اہے۔ حضرت نوح‘حضرت ہود‘ حضرت صالح‘حضرت لوط‘ حضرت شعیب اور حضرت موسیٰ fکے حالات ہم آپؐ کو بار بار اس لیے سنارہے ہیں :

مَا نُثَبِّتُ بِہٖ فُؤَادَکَ ۚ

’’(تاکہ) مضبوط رکھیں ہم اس کے ساتھ آپؐ کا دل۔‘‘

تا کہ ان واقعات کو سن کر آپؐ اور آپؐ کے ساتھیوں کے دلوں میں اطمینان بڑھے اور استقامت میں اضافہ ہو۔ ان واقعات کے ذریعے سے ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ مکہ میں آپؐ پر اور آپؐ کے ساتھیوں پر مصائب کے جو پہاڑ ٹوٹ رہے ہیں‘یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ‘بلکہ جب بھی کوئی رسول ؑکسی قوم کی طرف مبعوث ہوا اور اسے دعوتِ حق پیش کی تو اس کی مخالفت اسی شد ومد سے ہوئی۔ انبیاء ورسل اور ان کے ساتھیوں کو ہمیشہ ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ مگر جس طرح ہم نے ہر بار اہل حق کی مددکی اور بالٓا خر کامیاب وہی ہوئے‘ اسی طرح اب بھی حق و باطل کی اس جاں گسل کشمکش میں بول بالا حق ہی کا ہو گا‘اور آخر کار فتح آپؐ کی اور آپؐ کے ساتھیوں ہی کی ہو گی۔

وَ جَآءَکَ فِیۡ ہٰذِہِ الۡحَقُّ وَ مَوۡعِظَۃٌ وَّ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۲۰﴾

’’اور اس میں آپؐ کے پاس حق آیا ہے اور مؤمنین کے لیے اس میں نصیحت اور یاد دہانی ہے۔‘‘

یعنی اس قرآن میں یا اس سورت میں یا ان واقعات میں حق اور باطل کو بالکل واضح کر دیا گیا ہے اور مؤمنین کے لیے نصیحت اور یاد دہانی کا سامان بھی فراہم کر دیا گیا ہے۔

آیت 121

وَ قُلۡ لِّلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ اعۡمَلُوۡا عَلٰی مَکَانَتِکُمۡ ؕ اِنَّا عٰمِلُوۡنَ ﴿ۙ۱۲۱﴾

’’اور کہہ دیجیے ان لوگوں سے جو ایمان نہیں لاتے کہ تم اپنی جگہ پر کرو( جو کر سکتے ہو) ہم بھی کر رہے ہیں (جو کچھ ہم کر سکتے ہیں)۔‘‘

یعنی تم میری مخالفت اور دشمنی میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو‘ اس ضمن میں جو کر سکتے ہو بے شک میرے خلاف کر گزرو‘ تم اپنے طریقے پر چلتے رہو‘ ہم اپنی روش پرچلتے رہیں گے۔

آیت 122

وَ انۡتَظِرُوۡا ۚ اِنَّا مُنۡتَظِرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾

’’اور تم بھی انتظار کرو ‘ہم بھی منتظر ہیں۔‘‘

کہ اللہ کی طرف سے آخری فیصلہ کیا آتا ہے۔

آیت 123

وَ لِلّٰہِ غَیۡبُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ اِلَیۡہِ یُرۡجَعُ الۡاَمۡرُ کُلُّہٗ

’’ اور اللہ ہی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کی تمام چھپی چیزیں اور کل کا کل معاملہ اُسی کی جانب لوٹا دیا جائے گا‘‘

فَاعۡبُدۡہُ وَ تَوَکَّلۡ عَلَیۡہِ ؕ وَ مَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۲۳﴾

’’تو آپؐ اُسی کی عبادت کریں اور اُسی پر توکل کریں ۔اور یقینا آپؐ کا رب غافل نہیں ہے اس سے جو تم لوگ کر رہے ہو۔‘‘

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے