’’تو (اے نبیﷺ!) آپ ڈٹے رہیں جیسا کہ آپ کو حکم ہوا ہے اور وہ بھی جنہوں نے توبہ کی ہے آپ کے ساتھ‘‘
آپﷺ کے ساتھ وہ لوگ بھی صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں جو شرک سے باز آئے ہیں‘جنہوں نے کفر کو چھوڑا ہے اور آپؐ کے ساتھ ایمان لائے ہیں۔
وَ لَا تَطۡغَوۡا ؕ
’’اور تم لوگ حد سے تجاوز نہ کرو۔‘‘
تجاوز کی ایک شکل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ منکرین حق پر جلد عذاب لے آنے کی خواہش کریں اور یہ بھی کہ چاروں طرف سے ان لوگوں کی مخالفت کے سبب کسی لمحے غصے میں آ جائیں اور حلم و بردباری کا دامن ہاتھ سے چھوڑ بیٹھیں۔
اِنَّہٗ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۱۱۲﴾
’’یقینا وہ تم لوگوں کے سب اعمال دیکھ رہا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال بھی دیکھ رہا ہے اور جو کچھ تمہارے مخالفین کر رہے ہیں ان کی تمام حرکتیں بھی اس کے علم میں ہیں۔ اس لیے اس کے ہاں سے تمہیں تمہارا اجر و ثواب ملے گا‘اور اُن لوگوں کو ان کے کرتوتوں کی سزاملے گی۔
آیت 113
وَ لَا تَرۡکَنُوۡۤا اِلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا
’’اور کوئی جھکائو پیدا نہ کرنا ان لوگوں کی طرف جنہوں نے ظلم کیا ‘‘
یہ خالص حق اور باطل کی کش مکش ہے ‘اس میں کہیں کوئی رشتہ داری کا معاملہ ‘کوئی پرانے مراسم‘قبیلے کی محبت وغیرہ عوامل تم لوگوں کو کسی لمحے ان کی طرف جھکنے پر مائل نہ کریں۔
’’اور (اے نبیﷺ!) نماز کو قائم رکھیے دن کے دونوں سروں پر اور رات کی کچھ گھڑیوں میں۔‘‘
دن کے دونوں سروں پرفجر اور عصر کے اوقات ہیں جبکہ رات میں مغرب اور عشاء شامل ہیں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ پانچ نمازوں کا موجودہ نظام گیارہ نبویؐ میں معراج کے بعد قائم ہوا ہے۔ اس سے پہلے مکی دور میں تقریباً ساڑھے دس برس تک نمازوں کے بارے میں جو احکام نازل ہوئے وہ اسی نوعیت کے ہیں ۔ یہاں ایک نکتہ پھر سے ذہن میں تازہ کر لیں کہ حضورﷺ سے اس انداز میں صیغۂ واحد میں جو خطاب کیا جاتا ہے ‘وہ دراصل آپﷺ کی وساطت سے امت کو حکم دینا مقصود ہوتا ہے۔