’’اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ رہیں آسمان اور زمین ‘سوائے اُس کے جو آپؐ کا رب چاہے ۔‘‘
یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے۔ یہ قرآن کا واحد مقام ہے جہاں {خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا } کے ساتھ کچھ استثناآت بھی آئے ہیں۔ جہنم اور جنت کب تک رہیں گی یا جہنمی اور جنتی لوگ ان میں کب تک رہیں گے؟اس کے بارے میں فرمایا : {مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الۡاَرۡضُ} کہ جب تک آسمان و زمین قائم رہیں گے ۔ اِس سے مراد ابدیت بھی ہو سکتی ہے اور اس طرح کا کوئی اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ شاید کبھی کوئی ایسا وقت آ ئے جب زمین و آسمان کا وہ نظام بدل بھی جائے اور کوئی دوسرا نظام اس کی جگہ لے لے۔ واضح رہے کہ اس ’’زمین و آسمان‘‘ سے مراد بھی موجودہ زمین وآسمان نہیں ہوسکتے‘ اس لیے کہ ازروئے الفاظِ قرآنی یہ تو قیامت کے روز بدل ڈالے جائیں گے اور یہاں قیامت کے بعد پیش آنے والے حالات وواقعات کا ذکر ہو رہا ہے۔ پھر اس میں بھی ایک استثناء بیان کیا گیا ہے: {اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّکَ ؕ} ’’سوائے اس کے جو تیرا رب چاہے‘‘۔یعنی اگر اللہ تعالیٰ خود ہی کسی کے عذاب میں تخفیف کرنا چاہے یا کسی کو ایک مدت تک عذاب دے کر جہنم سے نکالنے کا فیصلہ فرمائے تو اسے اس کا پورا اختیار ہے۔ جزا و سزا کے بارے میں بھی اہل سنت کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اختیار مطلق ہے‘ لیکن یہ بھی اللہ تعالیٰ کا طے شدہ فیصلہ ہے کہ کفار کے لیے جہنم ابدی ٹھکانہ ہے ۔ واللہ اعلم!
اِنَّ رَبَّکَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیۡدُ
’’بے شک آپؐ کا رب جو ارادہ کرے اسے کر گزرنے والا ہے۔‘‘
’’اور جو لوگ نیک بخت ہوں گے وہ جنت میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش جب تک رہیں آسمان اور زمین ‘سوائے اس کے جو آپؐ کا رب چاہے ۔‘‘
عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴿۱۰۸﴾
’’یہ ایسی بخشش ہے جو کبھی ختم نہیں ہوگی۔‘‘
ان آیات میں جنت اورجہنم کا جو موازنہ کیا گیا ہے اس میں جنت کے لیے {عَطَآءً غَیۡرَ مَجۡذُوۡذٍ ﴿۱۰۸﴾} کے الفاظ اضافی طور پر استعمال کیے گئے ہیں۔ اس طرح کے لفظی فرق و تفاوت کا جب علماء و مفسرین باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں تو ان سے بڑے بڑے فلسفیانہ نکات پیدا ہوتے ہیں۔ چنانچہ جنت اور جہنم کے بارے میں حافظ ابن تیمیہؒ اور شیخ ابن عربی ؒدونوں نے ایک رائے پیش کی ہے جو اہل سنت کے عام اجماعی عقیدے سے مختلف ہے۔ ان دونوں بزرگوں کے درمیان اگرچہ بڑا نظریاتی بعد ہے (امام ابن تیمیہؒ بعض اوقات شیخ محی الدین ابن عربی پر تنقید کرتے ہوئے بہت سخت الفاظ استعمال کرتے ہیں) مگر اس رائے میں دونوں کا اتفاق ہے کہ جنت تو ابدی ہے مگر جہنم ابدی نہیں ہے۔ ایک وقت آئے گا ‘چاہے وہ ارب ہا سال کے بعد آئے ‘جب جہنم ختم کر دی جائے گی۔ اس کے برعکس اہل سنت کا اجماعی عقیدہ یہی ہے کہ جنت اور جہنم دونوں ابدی ہیں۔ واللہ اعلم!
’’اور اگر طے نہ ہو چکی ہوتی ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے ہی سے تو ان کے مابین فیصلہ کر دیا جاتا۔‘‘
وَ اِنَّہُمۡ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ مُرِیۡبٍ ﴿۱۱۰﴾
’’اور (اب تو) یہ لوگ اس (تورات) کے بارے میں الجھا دینے والے شک میں مبتلا ہو گئے ہیں۔‘‘
یہ بات سورۃ الشوریٰ میں وضاحت سے بیان کی گئی ہے کہ ہر رسول کی اُمت اپنی الہامی کتاب کی وارث ہو تی ہے۔ پھر جب اس امت پرزوال آتا ہے تو اپنی اس کتاب کے بارے میں بھی ان کے ہاں شکو ک و شبہات پیدا ہو جاتے ہیں کہ واقعتا یہ کتاب اللہ کی طرف سے ہے بھی یا نہیں!