’’اور مدین کی طرف(ہم نے بھیجا) ان کے بھائی شعیبؑ کو۔‘‘
اس قوم کے بارے میں ہم سورۃ الاعراف کے مطالعہ کے دوران پڑھ چکے ہیں کہ یہ لوگ بنی قطورہ میں سے تھے اور خلیج عقبہ کے دا ہنی (مشرقی) طرف کے علاقہ میں آباد تھے۔ اس علاقہ میں یہ لوگ ایک بڑی مضبوط قوم بن کر ابھرے تھے۔ یہ علاقہ اُس وقت کی دو بہت اہم بین الاقوامی شاہراہوں کے مقامِ انقطاع (intersection) پر واقع تھا۔ ایک شاہراہ شمالاً جنوباً تھی جو شام سے یمن جاتی تھی اور دوسری شرقاً غرباً تھی جو عراق سے مصر کو جاتی تھی۔ چنانچہ تمام تجارتی قافلے یہیں سے گزرتے تھے جس کی وجہ سے یہ علاقہ اس زمانے کا بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ نتیجتاً یہاں کے لوگ بہت خوشحال ہو گئے تھے ‘مگر ساتھ ہی ناپ تول میں کمی اور راہزنی جیسے قبیح جرائم میں بھی ملوث تھے۔
’’اللہ کی عطا کردہ بچت ہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو۔‘‘
انصاف کے ساتھ پورا پورا ناپو اور تولو‘ اور لوگوں کی چیزوں میں کمی کر کے ان کی حق تلفی نہ کیا کرو۔ اگر تم لوگ دیانتداری سے تجارت کرو ‘اور اس طرح اللہ تعالیٰ تمہیں جو منافع عطا کریں‘اسی پرقناعت کرو تو یہ تمہاری دنیا و آخرت کے لیے بہت بہتر ہو گا۔
وَ مَاۤ اَنَا عَلَیۡکُمۡ بِحَفِیۡظٍ ﴿۸۶﴾
’’لیکن میں تمہارے اوپر کوئی نگران نہیں ہوں۔‘‘
میں تو تمہیں سمجھا سکتاہوں‘نیکی کی تلقین کر سکتا ہوں‘تم پر میرا کوئی زور نہیں ہے۔
’’انہوں نے کہا :اے شعیب! کیا تمہاری نماز تمہیں اس بات کا حکم دیتی ہے کہ ہم چھوڑ دیں ان کوجن کو پوجتے آئے ہیں ہمارے آباء و اَجداد؟‘‘
اگرچہ حضرت شعیب علیہ السلام کی گفتگو میں ان کے شرک کا تذکرہ نہیں ہے‘ مگراُن کے اس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ بنیادی طورپر اس مرضِ شرک میں بھی مبتلا تھے جو تمام گمراہ قوموں کا مشترک مرض رہا ہے۔
’’یا (تمہاری نماز یہ سکھاتی ہے کہ) ہم اپنے اموال میں اپنی مرضی کے مطابق تصرف نہ کریں؟‘‘
یعنی ہماری ملکیت میں جو سامان اور مال ہے کیا ہم اس کے استعمال میں بھی اپنی مرضی نہیں کر سکتے؟ یہ وہی تصور ہے جو آج کے جدیدزمانے میں sacred right of ownership کے خوبصورت الفاظ میں پیش کیا جاتاہے‘جبکہ اسلام میں ملکیت کا ایسا تصور نہیں ہے۔ اسلام کی رو سے ہر چیز کا مالک اللہ ہے اور دنیا کا یہ مال اور سازوسامان انسانوں کے پاس اللہ کی امانت ہے‘ جس میں اللہ کی مرضی کے خلاف تصرف کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ لہٰذا اسلام ملکیت کے کسی ’’مقدس حق‘‘ کو تسلیم نہیں کرتا ‘کیونکہ: ؎
ایں امانت چند روزہ نزدِ ماست
درحقیقت مالکِ ہر شے خداست
یعنی یہ مال و دولت ہمارے پاس چند دن کی امانت ہے ‘ورنہ حقیقت میں ہر شے کا مالک حقیقی تو اللہ ہی ہے۔ بہر حال جب انسان خود کو مالک سمجھتا ہے تو پھر وہ وہی کچھ کہتا ہے جو حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم نے کہا تھا کہ ہمارا مال ہے ‘ہم جیسے چاہیں اس میں تصرف کریں!
اِنَّکَ لَاَنۡتَ الۡحَلِیۡمُ الرَّشِیۡدُ ﴿۸۷﴾
’’ہاں ایک تم ہی تو ہو جو بڑے باوقار اور نیک چلن ہو!‘‘
قوم کاحضرت شعیب علیہ السلام کو حلیم اور رشید کہناکسی تعظیم اور تکریم کے لیے نہیں تھا‘ بلکہ طعن اور استہزا کے طورپر تھا۔
’’آپؑ نے فرمایا :اے میری قوم کے لوگو! ذرا سوچو کہ اگرمیں (پہلے بھی) اپنے رب کی طرف سے بیّنہ پر تھا‘‘
حضرت شعیب علیہ السلام نے وہی بات فرمائی جو دوسرے انبیاء و رسل اپنی اپنی قوم سے فرماتے آئے تھے کہ تمہارے درمیان رہتے ہوئے میرا کردار اور اخلاق پہلے بھی مثالی تھا ‘میں اس معاشرے میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔اور سلیم الفطرت انسان کے طور پر معروف تھا۔
وَ رَزَقَنِیۡ مِنۡہُ رِزۡقًا حَسَنًا ؕ
’’اور اللہ نے اپنے پاس سے مجھے اچھا رزق بھی عطا کیا ہے‘‘
یعنی پھر مجھے اللہ نے نبوت اور رسالت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔
’’اور اے میری قوم کے لوگو! (دیکھو) میری دشمنی تمہیں اس انجام تک نہ لے جائے کہ تم پر بھی وہی عذاب آ جائے جیسا کہ آیا تھا قومِ نوحؑ‘قومِ ہودؑیا قومِ صالحؑ پر ۔‘‘
وَ مَا قَوۡمُ لُوۡطٍ مِّنۡکُمۡ بِبَعِیۡدٍ ﴿۸۹﴾
’’ اور قومِ لوطؑ تو تم سے زیادہ دُور بھی نہیں ہے۔‘‘
حضرت شعیب علیہ السلام سے پہلے ان چار قوموں پر عذابِ استیصال آ چکا تھا۔ اور یہ جو فرمایا گیا کہ قومِ لوط تم سے ’’بعید‘‘ نہیں ہے ‘یہ زمانی اور مکانی دونوں اعتبار سے ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل سے متصل علاقے میں قومِ مدین آباد تھی۔ اس علاقے سے ذرا ہٹ کر مشرق کی جانب بحیرئہ مردار ہے جس کے ساحل پر عامورہ اور سدوم کی وہ بستیاں تھیں جن میں حضرت لوط علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ زمانی اعتبار سے بھی ان دونوں اقوام میں ہزاروں سال کا نہیں بلکہ صرف چند سو سال کا بعد تھا۔بہر حال مجھے ان مفسرین سے اختلاف ہے جو حضرت شعیب علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ہم عصر سمجھتے ہیں۔ اس ضمن میں مجھے ان علماء کی رائے سے اتفاق ہے جن کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین میں جس شخص کے مہمان بنے تھے اور جن کی بیٹی کے ساتھ بعد میں آپؑ نے نکاح کیا تھا وہ مدین کے اُن لوگوں کی نسل سے کوئی نیک بزرگ تھے جو حضرت شعیب علیہ السلام کے ساتھ عذابِ استیصال سے بچ گئے تھے۔
دوسرا ا ہم نکتہ اس آیت میں یہ بیان ہوا ہے کہ بعض اوقات کسی داعی کے ساتھ ذاتی عناد اور دشمنی کی بنیاد پر کوئی شخص یا کوئی گروہ اس کی اصولی دعوت کو بھی ٹھکرا دیتا ہے۔ یہ انسانی رویے کا ایک بہت خطرناک پہلو ہے کیونکہ اس میں اس داعی کا تو کوئی نقصان نہیں ہوتا مگر صرف ذاتی تعصب کی بنیاد پر اس کی دعوت کو ٹھکرانے والے خود کو برباد کر لیتے ہیں۔
’’اور استغفار کرو اپنے رب سے ‘پھر اس کی طرف رجوع کرو۔یقینا میرا رب رحیم بھی ہے‘محبت فرمانے والا بھی۔‘‘
اپنے رب سے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرو اور اُس کی طرف پلٹ آؤ ۔ اُس کی عبادت اور اطاعت شعاری اختیار کرو تو تم اس کے دامنِ رحمت کو اپنے لیے وسیع پائو گے۔ وہ انتہائی رحم کرنے والا اور اپنی مخلوق سے محبت رکھنے والا ہے۔
’’اور ہم تو دیکھتے ہیں تمہیں اپنے درمیان ایک کمزور آدمی۔اور اگر تمہارا خاندان نہ ہوتا تو ہم تمہیں (کبھی کا)سنگسار کر چکے ہوتے ‘اور تم ہم پر غالب نہیں ہو۔‘‘
یہاں پر ایک اہم نکتہ یہ سمجھ لیں کہ جس زمانے میں جو سورت نازل ہوئی ہے اس میں نبی اکرمﷺ اور آپؐ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو پیش آنے والے معروضی حالات کے ساتھ تطابق پیدا کیا گیا ہے۔ یعنی گزشتہ اقوام کے واقعات جو مختلف سورتوں میں تواتر کے ساتھ بار بار آئے ہیں یہ تکرارِ محض نہیں ہے ‘بلکہ حضورﷺ کی دعوت و تحریک کو جس دور میں جن مسائل کا سامنا ہوتا تھا اس خاص دو رمیں نازل ہونے والی سورتوں میں ان مسائل کی مناسبت سے پچھلی اقوام کے حالات وواقعات سے وہ باتیں نمایاں کی جاتی تھیں جن میں حضورﷺ اور اہل ایمان کے لیے راہنمائی اور دلجوئی کا سامان موجود ہوتا۔ چنانچہ آیت زیر نظر میں حضرت شعیب علیہ السلام کے خاندان اور قبیلے کی حمایت کی بات اس لیے ہوئی ہے کہ اِدھر مکہ میں حضورﷺ کو بھی کچھ ایسے ہی حالات کا سامنا تھا۔ اُس زمانے میں بنو ہاشم کے سردار آپؐ کے چچا ابو طالب تھے جنہیں حضورﷺ سے بہت محبت تھی اور آپؐ نے اپنے بچپن کا کچھ عرصہ ان کے سایۂ عاطفت میں گزارا تھا۔ انہی کی وجہ سے آپؐ کو پورے قبیلہ بنی ہاشم کی پشت پناہی حاصل تھی۔اگر اُس وقت بنوہاشم کی سرداری کہیں ابولہب کے پاس ہوتی تو آپﷺ کواپنے خاندان اور قبیلہ کی یہ حمایت حاصل نہ ہوتی‘اس طرح مشرکین مکہ کو آپ ؐکے خلاف (معاذ اللہ) کوئی انتہائی اقدام کرنے کا موقع مل جاتا۔ لہٰذا یہاں حالات میں تطابق اس طرح پیدا کیا گیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے آج مکہ میں بنو ہاشم کی حمایت سے محمد رسول اللہ ﷺ کو ایک محفوظ قلعہ مہیا فرما دیا ہے ‘ بالکل اسی نوعیت کی حفاظت اُس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب علیہ السلام کو اُن کے خاندان کی حمایت کی صورت میں بھی عطا فرمائی تھی۔
’’آپؑ نے فرمایا : اے میری قوم کے لوگو! کیا میرا خاندان تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے ؟‘‘
حقیقت میں میرا پشت پناہ تو اللہ ہے۔ تم اللہ سے نہیں ڈرتے ‘ لیکن میرے خاندان سے ڈرتے ہو۔ کیا تمہارے نزدیک میرا خاندان اللہ سے زیادہ طاقتور ہے؟
وَ اتَّخَذۡتُمُوۡہُ وَرَآءَکُمۡ ظِہۡرِیًّا ؕ
’’اور اُس (اللہ) کو تو تم نے اپنی پیٹھوں کے پیچھے ڈال رکھاہے۔‘‘
یعنی اللہ کو تو تم لوگوں نے بالکل ہی بھلا چھوڑا ہے‘پس پشت ڈال دیا ہے۔یہ انسانی نفسیات کا ایک اہم پہلو ہے۔ اگرچہ آج ہم بھی اللہ کو اپنا خالق‘مالک اور معبود ماننے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر ساتھ ہی دنیا اور اس کے جھمیلوں میں اس قدر مگن رہتے ہیں کہ اللہ کا تصور مستحضر نہیں رہتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم کاروبارِ دنیا میں حقیقی مسبب الاسباب کو بھلا کر اسباب و حقائق (cause and fact) کی منطقی بھول بھلیوں میں گم رہتے ہیں: ؎
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!
یہاں حضرت شعیب علیہ السلام کااپنے خاندان کے مقابلے میں اللہ کا ذکر کرنا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ لوگ اللہ کو بخوبی جانتے تھے‘ اسی طرح مشرکین مکہ بھی اللہ کو مانتے تھے۔گویا اللہ کا معاملہ ایسے لوگوں کے نزدیک آنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل والا ہوتا ہے ۔ اسی لیے تو حضرت شعیب علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ تم لوگ میرے خاندان سے ڈرتے ہو مگر اللہ سے نہیں ڈرتے!حضرت شعیب علیہ السلام کے اس جواب میں قریش کے لیے یہ پیغام مضمر ہے کہ تمہیں بھی محمد رسول اللہﷺ کی طرف سے یہی جواب ہے۔
اِنَّ رَبِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۹۲﴾
’’یقینا میرا رب تو اُس سب کا احاطہ کیے ہوئے ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔‘‘
اللہ تمہارا اور تمہارے اعمال کا گھیرائو کیے ہوئے ہے ۔ تم اس کی گرفت سے نکل کر کہیں نہیں جا سکتے ہو۔
’’اور اے میری قوم کے لوگو! تم کرو جو کچھ کرسکتے ہو اپنی جگہ پر ‘میں بھی کر رہا ہوں جو میں(اپنی جگہ پر) کر سکتا ہوں۔‘‘
تم میرے خلاف جو بھی ریشہ دوانیاں کر سکتے ہو‘ جو بھی چالیں چل سکتے ہو‘ اور جو اقدامات بھی کر سکتے ہو‘ کر گزرو۔ اپنے طو رپر جو کچھ میں کر سکتا ہوں‘ جو کوشش مجھ سے بن آرہی ہے میں کررہا ہوں۔یہ چیلنج کرنے کا انداز سورۃ الانعام سے چلا آ رہا ہے۔ یہ گویا مکہ کے حالات کے ساتھ تطابق کیا جا رہا ہے ۔ مکہ میں حق و باطل کی کشمکش بھی اب انتہا کو پہنچ چکی تھی اوراس کی وجہ سے آپؐ کی طبیعت کے اندر ایک طرح کی بیزاری پیدا ہو چکی تھی کہ اب جوکچھ تم کر سکتے ہو کر لو!
’’فرعون اور اُس کے سرداروں کی طرف‘لیکن انہوں نے فرعون ہی کی پیروی کی ۔ حالانکہ فرعون کا معاملہ راستی والا نہیں تھا۔‘‘
آیت 98
یَقۡدُمُ قَوۡمَہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ
’’قیامت کے دن وہ آئے گا آگے چلتا ہوا اپنی قوم کے‘‘
دنیاکی طرح قیامت کے دن بھی اسے قیادت کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ وہ آگے آگے ہو گا اور اس کی قوم پیچھے پیچھے آ رہی ہو گی‘جیسے وہ لوگ دنیا میں اس کے پیچھے چلتے تھے۔
’’پھر وہ آگ کے گھاٹ پر انہیں اُتار دے گا۔ اور وہ بہت ہی برا گھاٹ ہے جس پر وہ اتارے جائیں گے۔‘‘
جس طرح جانوروں کا کوئی گروہ پانی پینے کے لیے گھاٹ پر آتا ہے اوراُن کا لیڈر آگے آگے جا رہا ہوتا ہے‘ ایسے ہی فرعون اپنی قوم کو جہنم کے گھاٹ پر لا اُتارے گا۔
’’یہ ہیں اُن بڑی بڑی بستیوں کی کچھ اہم خبریں جو ہم آپؐ کو سنا رہے ہیں ‘ ان میں ایسی بھی ہیں جو ابھی قائم ہیں اور ایسی بھی ہیں جو بالکل ختم ہو گئیں۔‘‘
حَصِیْدٌ کا لفظ اس کھیت کے لیے استعمال ہوتا ہے جس کی فصل کاٹ لی گئی ہو ۔ فصل کے کٹنے کے بعد کھیت میں جو ویرانی کا منظر ہوتا ہے اس کے ساتھ عذابِ استیصال سے تباہ شدہ بستیوں کوتشبیہہ دی گئی ہے ۔ پھر ان بستیوں میں کچھ تو ایسی ہیں جن کا نام و نشان تک مٹ چکا ہے مگر بعض ایسی بھی ہیں جن کے آثار کو باقی رکھا گیا ہے۔ مثلاً قومِ عاد کی آبادیوں کا کوئی نشان تک نہیں ملتا جس سے معلوم ہو سکے کہ یہ قوم کہاں آبادتھی(اگرچہ حال ہی میں سیٹلائٹ کے ذریعے ان کے شہر اور شداد کی جنت کے کچھ آثار زیر زمین ملنے کا دعویٰ سامنے آیا ہے)۔ دوسری طرف قومِ ثمود کے مکانات کے کھنڈرات آج تک موجود ہیں۔
’’تواُن کے کچھ بھی کام نہ آ سکے ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کے سوا پکارا کرتے تھے ‘جب آپؐ کے رب کا حکم آ پہنچا ۔‘‘
وَ مَا زَادُوۡہُمۡ غَیۡرَ تَتۡبِیۡبٍ ﴿۱۰۱﴾
’’اور انہوں نے کچھ اضافہ نہیں کیا اُن کے حق میں مگر بربادی ہی کا۔‘‘
جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب استیصال کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ان کی ہلاکت و بربادی کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کیا۔