’’اے میری قوم کے لوگو!میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔نہیں ہے میرا اجر مگر اسی کے ذمہ جس نے مجھے پیدا فرمایا ہے۔ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘
’’وہ آسمان سے تم پر خوب پانی برسائے گا‘اور تمہاری موجودہ قوت میں مزید قوت کا اضافہ فرمائے گا ‘اور تم روگردانی نہ کرو مجرم بن کر۔‘‘
قرآن حکیم کے کئی مقامات سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف اپنا رسول اپنے پیغام کے ساتھ بھیجتا ہے تو اب اس قوم کی قسمت اس پیغام کے ساتھ معلق ہو جاتی ہے۔ اگر وہ قوم رسول پر ایمان لے آتی ہے اور اس پیغام کو قبول کر لیتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر اپنی نعمتوں کے درواز ے کھول دیتا ہے‘ بصورتِ دیگر اسے تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔
’’ہم تو یہی کہتے ہیں کہ تم پر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑی ہے۔‘‘
یعنی ہمارا خیال تو یہی ہے کہ آپ جو ہمارے معبودوں کا انکار کرتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں اس کی وجہ سے آپ کو ان کی طرف سے سزا ملی ہے اور آپ کا دماغی توازن ٹھیک نہیں رہا۔ اسی لیے آپ بہکی بہکی باتیں کر نے لگے ہیں۔
’’نہیں ہے کوئی بھی جاندار مگر اس کی پیشانی اُسی کی گرفت میں ہے۔‘‘
یعنی ہر جاندار کی قسمت اور تقدیر اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ حضورﷺ سے بھی ایک مشہور دعا میں یہ الفاظ منقول ہیں: حدیث((فِیْ قَبْضَتِکَ‘ نَاصِیَتِیْ بِیَدِکَ))۱ یعنی اے اللہ! میں تیرے ہی قبضۂ قدرت میں ہوں‘ میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
اِنَّ رَبِّیۡ عَلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۵۶﴾
’’یقینا میرا ربّ تو سیدھی راہ پر ہے۔‘‘
اگر اللہ تک رسائی حاصل کرنی ہے ‘اگر اسے پانا ہے تو وہ توحید اور عدل و انصاف کی سیدھی راہ پر ہی ملے گا۔
(۱)رواہ رزین ۔ بحوالہ مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب الدعوات‘ باب الدعوات فی الاوقات۔
’’یہ تھی قومِ عاد ‘جنہوں نے انکار کیا اپنے رب کی آیات کا اور نافرمانی کی اُس کے رسولوں کی ‘‘
یہاں پر اُن تمام انبیاء کو بھی رسول کہا گیاہے جو حضرت ہود علیہ السلام سے پہلے اس قوم میں مبعوث ہوئے۔ اکثر اس طرح ہوتا رہا ہے کہ کسی قوم میں پہلے بہت سے انبیاء کرام علیہم السلام ان کے معلمین کی حیثیت سے آتے رہے اور پھر آخرمیں ایک رسول ؑآیا۔ اور جیسا کہ قبل ازیں بھی نبی اور رسول کے فرق کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے کہ قرآن میں یہ دونوں الفاظ اگر الگ الگ آئیں تو ایک دوسرے کی جگہ پر آ سکتے ہیں‘ لیکن اگر یہ دونوں الفاظ اکٹھے ایک جگہ آ ئیں تو پھر ان میں سے ہر لفظ اپنے خاص معنی دیتا ہے۔
’’اور ثمود کی طرف (ہم نے بھیجا )اُن کے بھائی صالح کو ۔‘‘
قومِ عاد میں سے جو لوگ بچے تھے وہ اپنے علاقے سے آگے وسطی علاقے کی طرف جا کر ’’حجر‘‘ میں آباد ہوئے اور اُن لوگوں کی نسل میں سے ثمود نام کی ایک بڑی قوم ابھری ۔ پھر وقت کے ساتھ ساتھ جب اس قوم کے اندر بھی وہی خرابیاں پیدا ہو گئیں اور وہ لوگ بھی جب بت پرستی اور شرک کی لعنت میں مبتلا ہو گئے تو اُن کی اصلاح کے لیے حضرت صالح علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔
’’انہوں نے کہ اے صالح! آپ سے تو ہماری بڑی امیدیں وابستہ تھیں اس سے پہلے‘‘
یعنی آپ تو اپنے اخلاق و کردار کی وجہ سے پوری قوم کی امیدوں کا مرکز تھے۔ ہمیں تو توقع تھی کہ آپ اپنی صلاحیتوں کے سبب اپنے آباء و اَجداد اور پوری قوم کا نام روشن کریں گے‘ مگر آپ نے یہ کیا کیا؟ آ پ نے تو اپنے باپ دادا کے دین اور ان کے طور طریقوں پر ہی تنقید شروع کر دی ۔ آپ کی ان باتوں سے تو پوری قوم کی امیدوں پر پانی پھر گیاہے۔
’’کیا آپ ہمیں روک رہے ہیں ان کو پوجنے سے جن کو ہمارے آباء و اَجداد پوجتے تھے ؟اور یقینا جس چیز کی طرف آپ ہمیں بلا رہے ہیں اس کے بارے میں ہمیں بہت شکوک و شبہات ہیں۔‘‘
آپ کی اس دعوتِ توحید کے بارے میں ہمیں سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال دیا ہے۔ ہمارا دل آپ کی اس دعوت پر مطمئن نہیں ہے۔
’’صالحؑ نے کہا :اے میری قوم کے لوگو! ذرا سوچوتو سہی ‘ اگر میں (پہلے سے ہی )اپنے رب کی طرف سے بینہ پر تھا‘‘ حضرت صالح علیہ السلام نے بھی وہی بات کہی کہ دیکھو میری گزشتہ زندگی تمہارے سامنے ہے۔ میرا کردار اور میرااخلاق گواہ ہے کہ میں اس سے پہلے تمہارے معاشرے کا ایک صالح کردار اور سلیم الفطرت انسان تھا۔
وَ اٰتٰىنِیۡ مِنۡہُ رَحۡمَۃً
’’اور اللہ نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطا کردی‘‘
اور اب میرے پاس اللہ کی طر ف سے وحی بھی آ گئی ہے‘اللہ نے اپنی رحمتِ خاص سے مجھے نبوت سے بھی سرفراز فرما دیا ہے۔
’’تو اب اگر میں اُس کی نافرمانی کروں تو مجھے اللہ (کی پکڑ) سے کون بچائے گا؟ تم تو اضافہ نہیں کرو گے میرے لیے مگر خسارہ ہی میں!‘‘
یعنی اگر میں اپنی فطرتِ سلیم اور وحی الٰہی کی راہنمائی کے باوجود اس دعوتِ حق کو چھوڑ کر تمہیں خوش کرنے کے لیے گمراہی کا طریقہ اختیار کر لوں تو مجھے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کون بچائے گا؟تمہاری اس طرح کی باتوں سے تو معلوم ہوتا ہے کہ تم لوگ میری تباہی کے درپے ہو۔
اب ان آیات میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے‘مگر آپؑ کا ذکر انبا ء الرسل کے طور پر نہیں بلکہ بالکل مختلف انداز میں ہے۔ یہاں رسولوں کے ذکر میں ایک خوبصورت تقسیم کو مد نظر رکھیں ‘کہ اس سورت میں پہلے تین رسول جن کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے (حضرت نوح‘حضرت ہود اور حضرت صالح علیہم السلام) ان کا ذکر کرنے کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر مختصراً قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے‘اور آپؑ کے ذکر کے بعد پھرتین رسولوں کا تذکرہ ہے جو آپؑ ہی کی نسل میں سے تھے‘ بلکہ اُن میں سے حضرت لوط علیہ السلام تو آپؑ کے بھتیجے اور ہم عصر بھی تھے۔ یہاں پر حضرت لوط علیہ السلام کا ذکرانباء الرسل کے انداز میں آیا ہے اور اسی کے ذیل میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر ہے۔ جب حضرت لوط علیہ السلام کی قوم پر عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو عذاب کے فرشتے براہِ راست حضرت لوط علیہ السلام کے پاس جانے کے بجائے پہلے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس گئے اور وہاں نہ صرف قومِ لوطؑ پر عذاب کے بارے میں اُن کا حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ مکالمہ ہوا بلکہ فرشتوں نے حضرت سارہؑ کو حضرت اسحاق علیہ السلام کی ولادت کی خوشخبری بھی دی ۔
یاد رہے کہ سورۃ الاعراف میں بھی جب ان چھ رسولوں کا تذکرہ انباء الرسل کے انداز میں ہوا تو وہاں بھی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر نہیں کیا گیا اور جب سورۃ الانعام (جو سورۃ الاعراف کی جڑواں سورت ہے)میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تذکرہ آیا تو انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص النبیین کے انداز میں آیا ہے۔یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح کہیں بھی نہیں آیا کہ آپؑ کو اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہو‘ آپؑ نے اپنی قوم کو دعوتِ توحید دی ہو‘ قوم اس دعوت سے منکر ہوئی ہو اور پھر اس پر عذاب بھیج دیا گیا ہو۔
’’ابراہیم ؑنے بھی (جواب میں) سلام کہا‘پھر کچھ دیر نہ گزری کہ آپؑ لے آئے ایک بچھڑا بھناہوا۔‘‘
مہمانوں کی آمد کے فوراً بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ان کی ضیافت کے لیے ایک بچھڑا ذبح کیا اور اسے بھون کر ان کے سامنے پیش کر دیا۔
آیت 70
فَلَمَّا رَاٰۤ اَیۡدِیَہُمۡ لَا تَصِلُ اِلَیۡہِ
’’پھر جب آپؑ نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں‘‘
نَکِرَہُمۡ وَ اَوۡجَسَ مِنۡہُمۡ خِیۡفَۃً ؕ
’’تو آپؑ نے ان میں اجنبیت پائی اور ان کی طرف سے ایک خوف محسوس کیا۔‘‘
جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے محسوس کیا کہ رسمی اصرار کے باوجود بھی مہمان کسی طور کھانے کی دعوت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہو رہے تواب آپؑ بجا طور پر کھٹکے کہ یہ پر اسرار لوگ کون ہیں اور یہاں کس ارادے سے آئے ہیں؟ اُس زمانے میں یہ رواج بھی تھا کہ اگر کوئی شخص دشمنی کی غرض سے کسی کے پاس جاتا تو اس کے ہاں کا کھانا نہیں کھاتا تھا۔ اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ان کی طرف سے خدشہ محسوس ہوا ۔ جب انہوں نے آپؑ کا یہ خوف محسوس کیا تو:
’’انہوں نے کہا :آپؑ ڈرئیے نہیں‘اصل میں تو ہم بھیجے گئے ہیں قومِ لوط ؑکی طرف۔‘‘
یعنی ہم فرشتے ہیں اور ہمیں قومِ لوط ؑکی طرف عذاب کی غرض سے بھیجا گیا ہے۔
آیت 71
وَ امۡرَاَتُہٗ قَآئِمَۃٌ فَضَحِکَتۡ
’’اور آپؑ کی بیوی(کہیں قریب) کھڑی تھی تو وہ ہنس پڑی‘‘
حضرت سارہؑ قریب ہی کہیں پردے کے پیچھے کھڑی یہ ساری باتیں سن رہی تھیں تو آپؑ شاید حضرت ابراہیم علیہ السلام کی حالت پر ہنس پڑیں کہ میرے شوہر فرشتوں سے خوف زدہ ہو گئے تھے۔
’’تو ہم نے اسے بشارت دی اسحاقؑ کی اور اسحاقؑ کے بعد یعقوبؑ کی۔‘‘
یعنی فرشتوں نے حضرت سارہؑ کو حضرت اسحاقؑ کی ولادت کی خوشخبری دی اور ساتھ ہی حضرت یعقوبؑ یعنی پوتے کی بھی۔ اس وقت حضرت ہاجرہ ؑکے ہاں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی ولادت ہو چکی تھی۔ حضرت سارہؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پہلی بیوی تھیں جبکہ حضرت ہاجرہؑ کو آپؑ کی خدمت میں بادشاہِ مصر نے پیش کیا تھا۔ یہودیوں کے ہاں حضرت ہاجرہؑ کو کنیز سمجھا جاتا ہے ‘حالانکہ آپؑ مصر کے شاہی خاندان کی خاتون تھیں۔ آپؑ کے ہاں حضرت اسماعیل ؑکی ولادت ہوئی تو حضرت ابراہیم ؑ ان دونوں (ماں اور بیٹے) کو اللہ کے حکم سے حجاز میں اس جگہ چھوڑ آئے جہاں بعد میں بیت اللہ تعمیر ہونا تھا۔ بہر حال حضرت سارہؑ کے ہاں اس وقت تک کوئی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ فرشتوں نے آپؑ کو بیٹے کی اور پھر اس بیٹے کے بیٹے کی ولادت کی بشارت دی۔
’’ اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں تم پر اے نبی ؑکے گھر والو!‘‘
اس آیت میں ’’اہل بیت‘‘ کا مفہوم بہت واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ یہاں پر اس کا مصداق حضرت سارہؑ کے علاوہ کوئی اور نہیں‘ لہٰذا یہاں لازمی طور پر آپؑ ہی اہل بیت ہیں۔ چنانچہ محمد رسول اللہﷺکے معاملے میں بھی اہل بیتِ رسولﷺ ‘آپؐ کی ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن ہی ہیں۔ اور آپﷺ کا فرمان جو حضرت فاطمہ‘حضرت علی‘حضرت حسن اور حضرت حسین رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں ہے : حدیث((اَللّٰھُمَّ ھٰٓــؤُلاَئِ اَہْلُ بَیْتِیْ))۱ تو یہ گویاآپﷺ نے اپنے اہل بیت کے دائرے کو وسعت دیتے ہوئے فرمایا کہ یہ لوگ بھی میرے اہل بیت میں شامل ہیں۔
اِنَّہٗ حَمِیۡدٌ مَّجِیۡدٌ ﴿۷۳﴾
’’یقینا اللہ لائق حمد اور بزرگی والا ہے۔‘‘
اللہ تعالیٰ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے اور وہ بہت عظمتوں والا ہے۔
(۱)السنن الکبریٰ للبیھقی۲/۱۵۰۔ عن اُم سلمۃ ہندبنت ابی اُمیۃ۔
’’پھرجب ابراہیم ؑکا خوف جاتا رہا اور یہ بشارت بھی پہنچ گئی ‘تو آپؑ نے جھگڑنا شروع کر دیا ہم سے قومِ لوط ؑکے بارے میں۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ مجادلہ تورات میں بڑی تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرشتوں سے کہا کہ اگر ان بستیوں میں پچاس آدمی بھی راست باز ہوئے تو کیا پھر بھی ان کو ہلاک کردیا جائے گا؟ فرشتوں نے جواب دیا کہ نہیں‘ پھر انہیں ہلاک نہیں کیا جائے گا۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے چالیس آدمیوں کا پوچھا‘تو انہوں نے کہا کہ پھر بھی اُ ن کو تباہ نہیں کیا جائے گا۔ چنانچہ اس طرح بات ہوتے ہوتے پانچ آدمیوں پر آ گئی۔ اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو بتایا گیا کہ آپؑ اس بحث کو چھوڑ دیں۔ اب تو آپؑ کے رب کافیصلہ آ چکا ہے ‘کیونکہ ان بستیوں میں خود حضرت لوط علیہ السلام اور اِن کی دو بیٹیوں کے علاوہ کوئی ایک متنفس بھی راست باز نہیں ہے۔
’’یقینا ابراہیم ؑبہت ہی بردبار‘نرم دل اور اللہ کی جناب میں رجوع کرنے والے تھے۔‘‘
یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یہ تین صفات ایک ساتھ جمع فرما کر آپؑ کی بہت قدر افزائی بھی فرمائی گئی ہے اور آپؑ کے مجادلہ کرنے کی وجہ بھی بیان فرما دی گئی ہے کہ چونکہ آپؑ بہت حلیم الطبع اور دل کے نرم تھے‘اسی وجہ سے آپؑ نے آخری حد تک کوشش کی کہ عذاب کے ٹلنے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے۔ اسی طرح محمد رسول اللہﷺ کی طبیعت مبارک میں بھی خصوصی نرمی تھی اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی اللہ نے طبیعت کی خاص نرمی عطا کر رکھی تھی۔
’’اور جب آئے ہمارے فرستادے لوطؑ کے پاس تو آپؑ ان کی وجہ سے بڑے غمگین ہوئے ‘اور آپؑ کا دل بہت تنگ ہوا‘‘
وَّ قَالَ ہٰذَا یَوۡمٌ عَصِیۡبٌ ﴿۷۷﴾
’’اورآپؑ کہنے لگے کہ آج تو بہت سختی کا دن ہے۔‘‘
چونکہ ان بستیوں کے لوگوں میں اَمرد پرستی عام تھی‘ لہٰذا ان کی آخری آزمائش کے لیے فرشتوں کو ان کے پاس نوجوان خوبصورت لڑکوں کے روپ میں بھیجا گیا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو دیکھ کر اسی لیے پریشان ہوئے کہ اب وہ اپنے ان مہمانوں کا دفاع کیسے کریں گے۔ اس لیے کہ آپؑ جانتے تھے کہ ان کی قوم کے لوگ کسی اپیل یا دلیل سے باز آنے والے نہیں تھے اور آپؑ اکیلے زبردستی انہیں روک نہیں سکتے تھے۔
’’لوطؑ نے فرمایا :اے میری قوم کے لوگو! یہ میری بیٹیاں (موجود )ہیں‘وہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہیں‘‘
مفسرین نے اس کے ایک معنی تو یہ مراد لیے ہیں کہ تمہارے گھروں میں تمہاری بیویاں موجود ہیں جو میری بیٹیوں ہی کی مانند ہیں‘ کیونکہ نبی اپنی پوری قوم کے لیے باپ کی طرح ہوتاہے۔ جیسے سورۃ الاحزاب آیت ۶ میں حضورﷺ کے بارے میں فرمایا گیا ہے : وَ اَزۡوَاجُہٗۤ اُمَّہٰتُہُمۡ ؕ} کہ آپؐ کی تمام ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہن مؤمنین کی مائیں ہیں۔ اس کے دوسرے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ حضرت لوط علیہ السلام نے اپنی بیٹیوں کے بارے میں فرمایا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں ‘اُن سے جائز اور پاکیزہ طریقے سے نکاح کر لو ‘میں اس کے لیے تیار ہوں‘لیکن میرے ان مہمانوں کے بارے میں مجھے رسوا نہ کرو۔
’’لوطؑ نے کہا :کاش میرے پاس تمہارے مقابلہ کے لیے کوئی طاقت ہوتی یا کوئی مضبوط سہارا ہوتا جس کی میں پناہ لے لیتا۔‘‘
اس ضمن میں نبی اکرمﷺنے فرمایا: حدیث((یَرْحَمُ اللّٰہُ لُوْطًا لَقَدْ کَانَ یَاْوِیْ اِلٰی رُکْنٍ شَدِیْدٍ))۱ ’’اللہ رحم فرمائے لوطؑ پر‘ وہ ایک مضبوط قلعہ میں ہی توتھے۔‘‘یعنی اللہ تعالیٰ کی پشت پناہی اور حفاظت تو حضرت لوط علیہ السلام کو حاصل تھی۔ لیکن اس وقت جو صورتِ حال بن گئی تھی اس میں بر بنائے طبع بشری پریشانی اور خوف کا طاری ہو جانا نبوت کی عصمت کے منافی نہیں ہے۔ جیسے حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی وقتی طور پر جادوگروں کے سانپوں سے ڈر گئے تھے۔
(۱)صحیح البخاری‘ کتاب احادیث الانبیائ‘ باب قولہ عزوجل ونبئھم عن ضیف ابراھیم۔وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان ‘ باب زیادۃ طمانینۃ القلب بتظاھر الادلۃ
’’ فرشتوں نے کہا: اے لوطؑ! ہم آپؑ کے رب کے بھیجے ہوئے (فرشتے) ہیں ‘ یہ لوگ آپؑ تک نہیں پہنچ پائیں گے‘‘
فرشتوں نے اپنا تعارف کراتے ہوئے آپؑ کو تسلی دی کہ آپؑ اطمینان رکھیں‘یہ لوگ آپؑ کوکوئی گزند نہیں پہنچا سکیں گے۔پھر فرشتے نے اپنا ہاتھ ہلایا تو وہ سب نابکار اندھے ہو گئے۔
’’سوائے آپؑ کی بیوی کے ‘ا س پر بھی وہی مصیبت آئے گی جو سب پر آنے والی ہے۔‘‘
یعنی جب آپؑ اپنے گھر والوں کو لے کر یہاں سے نکلیں گے تو اپنی بیوی کو ساتھ لے کر نہیں جائیں گے۔ آپؑ کی اس بیوی کا ذکر سورۃ التحریم میں حضرت نوح علیہ السلام کی مشرک بیوی کے ساتھ اس طرح ہوا ہے : {ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیۡنَ کَفَرُوا امۡرَاَتَ نُوۡحٍ وَّ امۡرَاَتَ لُوۡطٍ ؕ کَانَتَا تَحۡتَ عَبۡدَیۡنِ مِنۡ عِبَادِنَا صَالِحَیۡنِ فَخَانَتٰہُمَا فَلَمۡ یُغۡنِیَا عَنۡہُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیۡئًا وَّ قِیۡلَ ادۡخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیۡنَ ﴿۱۰﴾} ’’اللہ کافروں کے لیے مثال بیان کرتا ہے نوحؑ کی بیوی اور لوطؑ کی بیوی کی۔ وہ دونوں عورتیں ہمارے دوبرگزیدہ بندوں کے تحت تھیں لیکن انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی ‘چنانچہ ان کے شوہر انہیں اللہ کے عذاب سے بچا نہیں سکے۔اور (ان دونوں عورتوں سے) کہہ دیا گیا کہ تم بھی (جہنم میں) داخل ہونے والوں کے ساتھ جہنم میں داخل ہو جاؤ۔‘‘
’’ان کے وعدے کا وقت صبح کا ہے ‘کیا صبح قریب نہیں ہے!‘‘
فرشتوں نے حضرت لوط علیہ السلام سے کہا کہ اب آپ لوگوں کے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ۔آپؑ فوری طور پر اپنی بچیوں کو لے کر یہاں سے نکل جائیں‘صبح ہوتے ہی ان بستیوں پر عذاب آ جائے گا۔ اور صبح ہونے میں اب دیر ہی کتنی ہے!
’’اور (مزید )ہم نے ان پر بارش برسائی تہہ بر تہہ کنکریوں کی۔‘‘
سِجِّیل اصل میں فارسی لفظ ہے۔ فارسی میں یہ ’’سنگ گل‘‘ تھا جو عربی میں آ کر سِجِّیل کا تلفظ اختیار کرگیا۔ سنگ کے معنی پتھر اور گل کے معنی مٹی کے ہیں۔ یعنی مٹی کے پتھر جو گیلی مٹی کے دھوپ میں گرم ہو کر پختہ ہوجانے کے بعد بنتے ہیں‘جیسے اینٹوں کو بھٹے میں پکایا جاتا ہے۔ ان بستیوں پر عذاب دو صورتوں میں آیا ‘ایک زمین کے اندر کوئی زور دار دھماکہ ہوا‘جس کے نتیجے میں زبردست زلزلہ آیا اور یہ بستیاں الٹ پلٹ ہو گئیں۔ پھر اوپر سے کنکریوں کی بارش ہوئی اور اس طرح انہیں ان پتھروں کے اندر دفن کر دیا گیا۔
آیت 83
مُّسَوَّمَۃً عِنۡدَ رَبِّکَ ؕ
’’وہ نشان زدہ تھے تمہارے رب کی طرف سے۔‘‘
یعنی ہر پتھر ایک آدمی کے لیے نشان زدہ اور مخصوص تھا۔
وَ مَا ہِیَ مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ بِبَعِیۡدٍ ﴿٪۸۳﴾
’’اور یہ ان ظالموں سے کوئی زیادہ دو رنہیں۔‘‘
یعنی مشرکین مکہ سے قومِ لوطؑ کی یہ بستیاں زیادہ دور نہیں ہیں۔ قریش کے قافلے جب فلسطین کی طرف جاتے تھے تو پہلے قومِ ثمود اور قومِ مدین کے علاقے سے گزرتے تھے ‘پھر قومِ لوط کی بستیوں کے آثار بھی اُن کے راستے میں آتے تھے۔