تحریر

هود

آیات ۲۵ تا ۴۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

25-31

حضرت نوح علیہ السلام کی اپنی قوم کے ساتھ کشمکش

ویڈیو

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾ اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۶﴾ فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ ۚ وَ مَا نَرٰی لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭ بَلۡ نَظُنُّکُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾ قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ وَ اٰتٰىنِیۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَعُمِّیَتۡ عَلَیۡکُمۡ ؕ اَنُلۡزِمُکُمُوۡہَا وَ اَنۡتُمۡ لَہَا کٰرِہُوۡنَ ﴿۲۸﴾ وَ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾ وَ یٰقَوۡمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمۡ ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰﴾ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا ؕ اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۚۖ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾

آیت 25

وَ لَقَدۡ اَرۡسَلۡنَا نُوۡحًا اِلٰی قَوۡمِہٖۤ ۫ اِنِّیۡ لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۲۵﴾

’’اور ہم نے بھیجا نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف (توآپؑ نے کہا) کہ میں تمہارے لیے ایک کھلا خبردار کر دینے والا ہوں۔‘‘

آیت 26

اَنۡ لَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ اَلِیۡمٍ ﴿۲۶﴾

’’کہ مت پوجو کسی کو سوائے اللہ کے۔ مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے دردناک دن کے عذاب کا۔‘‘

آیت 27

فَقَالَ الۡمَلَاُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَوۡمِہٖ مَا نَرٰىکَ اِلَّا بَشَرًا مِّثۡلَنَا

’’تو اُس کی قوم کے اُن سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی تھی کہ ہم نہیں دیکھتے (اے نوح) آپ کو مگر اپنے جیسا ایک انسان‘‘

انہوں نے کہا کہ آپ تو بالکل ہمارے جیسے انسان ہیں۔ آپ میں ہمیں کوئی ایسی بات نظر نہیں آتی کہ ہم آپ کو اللہ کا فرستادہ مان لیں۔

وَ مَا نَرٰىکَ اتَّبَعَکَ اِلَّا الَّذِیۡنَ ہُمۡ اَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّاۡیِ ۚ

’’اور ہم نہیں دیکھتے مگر یہ کہ آپ کی پیروی کرنے والے بظاہر ہم میں ادنیٰ درجے کے لوگ ہیں۔‘‘

ہمیں بلا تامل نظر آ رہا ہے کہ چند مفلس ‘نادار اور نچلے طبقے کے لوگ آپ کے گرد اکٹھے ہو گئے ہیں‘ جبکہ ہمارے معاشرے کا کوئی بھی معزز اور معقول آدمی آپ سے متاثر نہیں ہوا۔

وَ مَا نَرٰی لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍۭ بَلۡ نَظُنُّکُمۡ کٰذِبِیۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اور ہمیں نظر نہیں آتی اپنے مقابلے میں تم لوگوں میں کوئی بھی فضیلت‘بلکہ ہمارا گمان تو یہی ہے کہ تم لوگ جھوٹے ہو۔‘‘

آیت 28

قَالَ یٰقَوۡمِ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ کُنۡتُ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّیۡ

’’نوحؑ نے کہا :اے میری قوم کے لوگو! ذرا غور کرو اگر میں (پہلے سے ہی) اپنے رب کی طرف سے بیّنہ پر تھا‘‘

یہ لفظ بَـیِّنَۃ اس سورت میں بار بار آئے گا۔ یعنی میں نے اپنی زندگی تمہارے درمیان گزاری ہے‘میرا کردار‘میرا اخلاق اور میرا رویہ ‘سب کچھ تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تم لوگ جانتے ہو کہ میں ایک شریف النفس اور سلیم الفطرت انسان ہوں۔ لہٰذا تم لوگ غور کرو کہ پہلے بھی اگر میں ایسی شخصیت کا حامل انسان تھا :

وَ اٰتٰىنِیۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِہٖ فَعُمِّیَتۡ عَلَیۡکُمۡ ؕ

’’ اور (اب) اُس نے مجھے اپنے پاس سے خاص رحمت بھی عطافرما دی ہے (اور یہ وہ چیز ہے) جس کو تمہاری نظروں سے پوشیدہ رکھاگیا ہے۔‘‘

یعنی میرے اوپر اللہ کی رحمت سے وحی آتی ہے جس کی کیفیت اور حقیقت کا ادراک تم لوگ نہیں کر سکتے ۔ میں اس کے بارے میں تم لوگوں کو بتا ہی سکتا ہوں‘دکھا تو نہیں سکتا۔

اَنُلۡزِمُکُمُوۡہَا وَ اَنۡتُمۡ لَہَا کٰرِہُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’توکیا ہم چپکا دیں تم پرا س کو (زبردستی) جبکہ تم لوگ اس کو نا پسند کرتے ہو؟‘‘

اب اگر ایک بات آپ لوگوں کو پسند نہیں آ رہی توہم زبردستی اس کو تمہارے سر نہیں تھوپ سکتے۔ ہم آپ لوگوں کو مجبور تو نہیں کر سکتے کہ آپ ضرور ہی اللہ کو اپنا معبود اور مجھے اس کا رسول مانو۔

آیت 29

وَ یٰقَوۡمِ لَاۤ اَسۡئَلُکُمۡ عَلَیۡہِ مَالًا ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَ مَاۤ اَنَا بِطَارِدِ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ

’’اور اے میری قوم کے لوگو! میں تم سے اس کے بدلے کوئی مال طلب نہیں کرتا۔میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے ‘اور جو لوگ ایمان لائے ہیں میں ان کو دھتکارنے والا بھی نہیں ہوں۔‘‘

جن لوگوں کے بارے میں تم کہتے ہو کہ وہ ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں ‘وہ سب اہل ایمان ہیں‘ اور اس لحاظ سے میرے نزدیک وہ بہت اہم اور معزز لوگ ہیں۔ اب میں تمہارے کہنے پر ان کو خودسے دور نہیں ہٹا سکتا۔

اِنَّہُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّہِمۡ وَ لٰکِنِّیۡۤ اَرٰىکُمۡ قَوۡمًا تَجۡہَلُوۡنَ ﴿۲۹﴾

’’ وہ یقینا اپنے رب سے ملنے والے ہیں‘ لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت میں مبتلا ہو گئے ہو۔‘‘

آیت 30

وَ یٰقَوۡمِ مَنۡ یَّنۡصُرُنِیۡ مِنَ اللّٰہِ اِنۡ طَرَدۡتُّہُمۡ ؕ

’’اور اے میری قوم کے لوگو! (ذرا سوچوکہ) اگر میں ان کو اپنے ہاں سے بھگا دوں گا تو کون میری مدد کرے گا اللہ کے مقابلے میں؟‘‘

یہ سب سچے مؤمنین ‘اللہ کا ذکر کرنے والے اور اس سے دعائیں مانگنے والے لوگ ہیں۔ اگر میں تمہارے کہنے پر ان کو دھتکار دوں تو اللہ کی ناراضگی سے مجھے کون بچائے گا۔

اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳۰﴾

’’تو کیا تم لوگ نصیحت اخذ نہیں کرتے؟‘‘

آیت 31

وَ لَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ عِنۡدِیۡ خَزَآئِنُ اللّٰہِ

’’اور میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں‘‘

میں نے کب دعویٰ کیا ہے کہ اللہ کے خزانوں پر میرا اختیار ہے۔ یہ وہی بات ہے جو ہم سورۃ الانعام آیت۵۰ میں محمد رسول اللہﷺ کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔

وَ لَاۤ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ وَ لَاۤ اَقُوۡلُ اِنِّیۡ مَلَکٌ

’’اور نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں‘اور نہ میں کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں‘‘

وَّ لَاۤ اَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ تَزۡدَرِیۡۤ اَعۡیُنُکُمۡ لَنۡ یُّؤۡتِیَہُمُ اللّٰہُ خَیۡرًا ؕ

’’اور نہ میں یہ کہہ سکتا ہوں ان لوگوں کے بارے میں جنہیں تمہاری آنکھیں حقیر دیکھ رہی ہیں کہ اللہ انہیں کوئی خیر نہیں دے گا۔‘‘

کیا معلوم اللہ کے ہاں وہ بہت محبوب ہوں ‘اللہ انہیں بہت بلند مراتب عطا کرے اور اُخروی زندگی میں {فَرَوۡحٌ وَّ رَیۡحَانٌ ۬ۙ وَّ جَنَّتُ نَعِیۡمٍ ﴿۸۹﴾} (الواقعہ )کا مستحق ٹھہرائے۔

اَللّٰہُ اَعۡلَمُ بِمَا فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ ۚۖ اِنِّیۡۤ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۱﴾

’’اللہ خوب جانتا ہے جوکچھ ان کے دلوں میں ہے‘ (اگر میں اُن کو دور کر دوں) تب تو یقینا میں خود ظالموں میں سے ہو جاؤں گا۔‘‘

یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اپنے ایمان کے دعوے میں کتنا مخلص ہے اور کس کے دل میں اللہ کے لیے کتنی محبت ہے۔اگر میں تمہارے طعنوں سے تنگ آ کر ان اہل ایمان کو اپنے پاس سے اٹھا دوں تو میرا شمار ظالموں میں ہو گا۔

32-35

قوم کا حضرت نوح علیہ السلام سے عذاب لانے کا مطالبہ

ویڈیو

قَالُوۡا یٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَکۡثَرۡتَ جِدَالَنَا فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾ قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ اِنۡ شَآءَ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾ وَ لَا یَنۡفَعُکُمۡ نُصۡحِیۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَکُمۡ اِنۡ کَانَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یُّغۡوِیَکُمۡ ؕ ہُوَ رَبُّکُمۡ ۟ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَعَلَیَّ اِجۡرَامِیۡ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾

آیت 32

قَالُوۡا یٰنُوۡحُ قَدۡ جٰدَلۡتَنَا فَاَکۡثَرۡتَ جِدَالَنَا

’’انہوں نے کہا :اے نوح ! تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور خوب جھگڑا کیا‘‘

جب حضرت نوح علیہ السلام کی ان تمام باتوں کا علمی‘عقلی اور منطقی سطح پر کوئی جواب ان لوگوں سے نہ بن پڑا تو وہ خواہ مخواہ ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے کہ بس جی بہت ہو گیا بحث مباحثہ‘اب چھوڑیں ان دلیلوں کو اور:

فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۳۲﴾

’’پس لے آؤہم پر وہ عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو‘ اگر تم سچے ہو۔‘‘

آیت 33

قَالَ اِنَّمَا یَاۡتِیۡکُمۡ بِہِ اللّٰہُ اِنۡ شَآءَ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿۳۳﴾

’’آپؑ نے فرمایا کہ وہ (عذاب) تو اللہ ہی لائے گاتمہارے اوپر اگر وہ چاہے گا اور پھر تم اس کو شکست نہیں دے سکو گے۔‘‘

اگر اس نے تمہیں عذاب دینے کا فیصلہ کر لیا تو پھر تم لوگ اس کا مقابلہ کر کے اس کے عذاب سے بچ کر بھاگ نہیں سکو گے۔

آیت 34

وَ لَا یَنۡفَعُکُمۡ نُصۡحِیۡۤ اِنۡ اَرَدۡتُّ اَنۡ اَنۡصَحَ لَکُمۡ اِنۡ کَانَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ اَنۡ یُّغۡوِیَکُمۡ ؕ

’’اور تم لوگوں کو میری نصیحت کچھ فائدہ نہیں دے سکتی اگر میں تمہیں نصیحت کرنا بھی چاہوں‘اگر اللہ ہی تمہاری گمراہی کا فیصلہ کر چکا ہے۔‘‘

اگر تمہاری اس خواہ مخواہ کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث اللہ نے تمہاری گمراہی کے فیصلے پر مہر ثبت کر دی ہو تو پھر میری نصیحت اور خیر خواہی تمہارے حق میں کچھ بھی مفید نہیں ہو سکتی۔

ہُوَ رَبُّکُمۡ ۟ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿ؕ۳۴﴾

’’وہی تمہارا رب ہے ‘اور اُسی کی طرف تم لوٹا دیے جاؤ گے۔‘‘

آیت 35

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ اِنِ افۡتَرَیۡتُہٗ فَعَلَیَّ اِجۡرَامِیۡ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۳۵﴾

’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس (محمدﷺ) نے اس (قرآن) کو گھڑ لیا ہے؟آپؐ کہیے کہ اگر میں نے اسے گھڑ لیا ہے تو اس کا وبال مجھ ہی پر آئے گا‘ اور میں بری ہوں اس سے جو جرم تم کر رہے ہو۔‘‘

یہ ایک جملہ معترضہ ہے جو حضرت نوح علیہ السلام کے ذکرکے درمیان آ گیا ہے۔ اس میں رسول اللہﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبیﷺ! یہ تمام باتیں جو ہم آپؐ کو بذریعہ وحی بتاتے ہیں‘جیسے حضرت نوحؑ اور آپؑ کی قوم کی گفت و شنید نقل ہوئی‘ تو مشرکین مکہ کہتے ہیں کہ یہ باتیں اور قصے آپؐ خود اپنی طرف سے بنا کر انہیں سناتے ہیں۔ آپؐ ان پر واضح کر دیں کہ میں اگر واقعی یہ جرم کر رہا ہوں تو اس کا وبال بھی مجھ ہی پر آئے گا۔ مگر آپ لوگ اس کے دوسرے پہلو پر بھی غور کریں کہ اگر یہ کلام واقعی اللہ کی طرف سے ہے تو اس کو جھٹلا کر تم لوگ جس جرم کے مرتکب ہو رہے ہو ‘اس کے نتائج بھی پھر تم لوگوں کو ہی بھگتنا ہیں۔ بہر حال میں علی الاعلان کہے دیتا ہوں کہ میں تمہارے اس جرم سے بالکل بری ہوں۔ اس جملہ معتر ضہ کے بعد حضرت نوح علیہ السلام کے ذکر کا سلسلہ دوبارہ وہیں سے جوڑا جا رہا ہے۔

36-39

جو اہل حق کا مذاق اڑائے گاتو پھر اس کا بھی مذاق اڑایا جائے گا

ویڈیو

وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۚۖ۳۶﴾ وَ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾ وَ یَصۡنَعُ الۡفُلۡکَ ۟ وَ کُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ سَخِرُوۡا مِنۡہُ ؕ قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡکُمۡ کَمَا تَسۡخَرُوۡنَ ﴿ؕ۳۸﴾ فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۹﴾

آیت 36

وَ اُوۡحِیَ اِلٰی نُوۡحٍ اَنَّہٗ لَنۡ یُّؤۡمِنَ مِنۡ قَوۡمِکَ اِلَّا مَنۡ قَدۡ اٰمَنَ فَلَا تَبۡتَئِسۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿ۚۖ۳۶﴾

’’اور وحی کر دی گئی نوحؑ کی طرف کہ اب کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا تمہاری قوم میں سے سوائے ان لوگوں کے جوایمان لا چکے ہیں‘تو جو کچھ وہ کر رہے ہیں آپؑ اس کی وجہ سے غمگین نہ ہوں۔‘‘

آیت 37

وَ اصۡنَعِ الۡفُلۡکَ بِاَعۡیُنِنَا وَ وَحۡیِنَا

’’اور (اب )آپؑ کشتی بنائیے ہماری نگاہوں کے سامنے اور ہماری ہدایات کے مطابق‘‘

اس حکم سے یوں لگتا ہے کہ کشتی کی تیاری کے ہر مرحلے پر حضرت نوح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایات مل رہی تھیں‘ مثلاً لمبائی اتنی ہو‘چوڑائی اتنی ہو‘لکڑیاں یوں تیار کرو ‘وغیرہ۔

وَ لَا تُخَاطِبۡنِیۡ فِی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ۚ

’’اور جو ظالم ہیں ان کے بارے میں اب مجھ سے بات نہ کیجیے گا۔‘‘

اب ان منکرین میں سے کسی کے بارے میں کوئی درخواست ‘دعا یا سفارش وغیرہ آپ کی طرف سے نہ آئے‘ اب اس کا وقت گزر چکا ہے۔

اِنَّہُمۡ مُّغۡرَقُوۡنَ ﴿۳۷﴾

’’(اب) یہ سب کے سب غرق کیے جائیں گے۔‘‘

آیت 38

وَ یَصۡنَعُ الۡفُلۡکَ ۟ وَ کُلَّمَا مَرَّ عَلَیۡہِ مَلَاٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ سَخِرُوۡا مِنۡہُ ؕ

’’اور آپؑ کشتی بنا رہے تھے ‘اور جب بھی آپؑ کے پاس سے گزرتے آپؑ کی قوم کے سردار تو وہ آپؑ کا مذاق اڑاتے۔‘‘

حضرت نوح علیہ السلام اور آپؑ کے اہل ایمان ساتھی جس جگہ اور جس علاقے میں یہ کشتی بنار ہے تھے ظاہر ہے کہ وہاں ہر طرف خشکی ہی خشکی تھی‘ سمندر یا دریا کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ان حالات میں تصور کریں کہ کیا کیا باتیں اور کیسے کیسے تمسخر آمیز فقرے کہے جاتے ہوں گے کہ اب تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی بالکل ہی مت ماری گئی ہے کہ خشکی پر کشتی چلانے کا ارادہ ہے!

قَالَ اِنۡ تَسۡخَرُوۡا مِنَّا فَاِنَّا نَسۡخَرُ مِنۡکُمۡ کَمَا تَسۡخَرُوۡنَ ﴿ؕ۳۸﴾

’’نوحؑ فرماتے کہ اگر (آج) تم ہم سے تمسخر کر رہے ہو تو (وہ وقت قریب آنے والا ہے کہ ) ہم بھی تم سے تمسخر کریں گے جیسے کہ اب تم تمسخر کر رہے ہو۔‘‘

آیت 39

فَسَوۡفَ تَعۡلَمُوۡنَ ۙ مَنۡ یَّاۡتِیۡہِ عَذَابٌ یُّخۡزِیۡہِ وَ یَحِلُّ عَلَیۡہِ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿۳۹﴾

’’تو عنقریب تم جان لوگے کہ کس پر آتا ہے وہ عذاب جو اسے رسوا کر دے گا‘اور کس پر اترتا ہے وہ عذاب جو قائم رہنے والا(دائمی) ہو گا۔‘‘

40-44

قوم نوح علیہ السلام پر عذاب

ویڈیو

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ وَ مَنۡ اٰمَنَ ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾ وَ قَالَ ارۡکَبُوۡا فِیۡہَا بِسۡمِ اللّٰہِ مَ‍‍جۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾ وَ ہِیَ تَجۡرِیۡ بِہِمۡ فِیۡ مَوۡجٍ کَالۡجِبَالِ ۟ وَ نَادٰی نُوۡحُۨ ابۡنَہٗ وَ کَانَ فِیۡ مَعۡزِلٍ یّٰـبُنَیَّ ارۡکَبۡ مَّعَنَا وَ لَا تَکُنۡ مَّعَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۲﴾ قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعۡصِمُنِیۡ مِنَ الۡمَآءِ ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الۡیَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ ۚ وَ حَالَ بَیۡنَہُمَا الۡمَوۡجُ فَکَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِیۡنَ ﴿۴۳﴾ وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ وَ اسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ وَ قِیۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾

آیت 40

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَ اَمۡرُنَا وَ فَارَ التَّنُّوۡرُ ۙ

’’یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آ گیا اور تنور جوش سے اُبل پڑا‘‘

مشرقِ وسطیٰ کے اس پورے علاقے میں ایک بہت بڑے سیلاب کے واضح آثار بھی ملتے ہیں‘اس بارے میں تاریخی شہادتیں بھی موجود ہیں اور آج کا علم طبقات الارض (Geology) بھی اس کی تصدیق کرتا ہے۔ H.G.Wells نے اس سیلاب کی تاویل یوں کی ہے کہ یہ علاقہ بحیرۂ روم (Mediterranean) کی سطح سے بہت نیچا تھا‘ مگر سمندر کے مشرقی ساحل یعنی شام اور فلسطین کے ساتھ ساتھ موجود پہاڑی سلسلوں کی وجہ سے سمندر کا پانی خشکی کی طرف نہیں آ سکتا تھا۔ (جیسے کراچی کے بعض علاقوں کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ وہ سطح سمندر سے بہت نیچے ہیں مگر ساحلی علاقہ کی سطح چونکہ بلند ہے اس لیے سمندر کا پانی اس طرف نہیں آ سکتا۔) H.G.Wells کا خیال ہے کہ اس علاقے میں سمندر سے کسی وجہ سے پانی کے لیے کوئی راستہ بن گیا ہو گا جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ سمندر کی شکل اختیار کر گیا۔ قرآن مجید کے الفاظ کے مطابق اس سیلاب کا آغاز ایک خاص تنور سے ہوا تھا جس کے نیچے سے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ اس کے ساتھ ہی آسمان سے غیر معمولی انداز میں لگاتار بارشیں ہوئیں اور زمین نے بھی اپنے چشموں کے دہانے کھول دیے ۔ پھر آسمان اور زمین کے یہ دونوں پانی مل کر عظیم سیلاب کی صورت اختیار کر گئے۔ سورۃ القمر میں اس کی تفصیل بایں الفاظ بیان کی گئی ہے :

دوسرے مقام کی آیت

فَفَتَحۡنَاۤ اَبۡوَابَ السَّمَآءِ بِمَآءٍ مُّنۡہَمِرٍ ﴿۫ۖ۱۱﴾وَّ فَجَّرۡنَا الۡاَرۡضَ عُیُوۡنًا فَالۡتَقَی الۡمَآءُ عَلٰۤی اَمۡرٍ قَدۡ قُدِرَ ﴿ۚ۱۲﴾

’’پس ہم نے آسمان کے دروازے کھول دیے جن سے لگاتار بارش برسنے لگی اور زمین کو پھاڑ دیا کہ ہرطرف چشمے پھوٹ پڑے اور یہ دونوں طرح کے پانی اُس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گئے جو مقدر کر دیا گیا تھا۔‘‘

قُلۡنَا احۡمِلۡ فِیۡہَا مِنۡ کُلٍّ زَوۡجَیۡنِ اثۡنَیۡنِ وَ اَہۡلَکَ اِلَّا مَنۡ سَبَقَ عَلَیۡہِ الۡقَوۡلُ

’’ہم نے کہا: (اے نوح علیہ السلام !) اپنی اس کشتی میں تمام جانداروں کا ایک ایک جوڑا رکھ لو اور اپنے اہل و عیال کو بھی‘ سوائے ان کے جن کے بارے میں پہلے حکم گزر چکا ہے‘‘

یہ استثنائی حکم حضرت نوح علیہ السلام کی ایک بیوی اور آپؑ کے بیٹے ’’یام‘‘ (کنعان) کے بارے میں تھا‘ جو اُسی بیوی سے تھا‘ جبکہ آپؑ کے تین بیٹے حام‘سام اور یافث ایمان لا چکے تھے اور آپؑ کے ساتھ کشتی میں سوار ہوئے تھے۔ حضرت سام اور ان کی اولاد بعد میں اسی علاقے میں آباد ہوئی تھی۔ چنانچہ قومِ عاد ‘قومِ ثمود اور حضرت ابراہیم علیہ السلام سب سامیٔ النسل تھے۔ حام اور یافث دوسرے علاقوں میں جا کر آباد ہوئے اور اپنے اپنے علاقوں میں ان کی نسل بھی آگے چلی۔

وَ مَنۡ اٰمَنَ ؕ وَ مَاۤ اٰمَنَ مَعَہٗۤ اِلَّا قَلِیۡلٌ ﴿۴۰﴾

’’اوران لوگوں کو بھی (سوار کر لیں) جو ایمان لائے ہیں‘ اور نہیں ایمان لائے تھے آپؑ کے ساتھ مگر بہت ہی کم۔‘‘

یہاں پر لفظ قلیل انگریزی محاورہ " the little" کے ہم معنی ہے ‘یعنی بہت ہی تھوڑے ‘نہ ہونے کے برابر۔

آیت 41

وَ قَالَ ارۡکَبُوۡا فِیۡہَا بِسۡمِ اللّٰہِ مَ‍‍جۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ

’’اورنوحؑ نے فرمایا: سوار ہو جاؤ اس میں‘ اللہ کے نام کے ساتھ ہی ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا لنگر انداز ہونا بھی۔‘‘

جب تک اللہ چاہے گا اور جس سمت کو اسے چلائے گا یہ چلے گی اور جب اور جہاں اُس کی مشیت ہو گی یہ لنگرانداز ہو جائے گی۔

اِنَّ رَبِّیۡ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۴۱﴾

’’یقینا میرا رب بخشنے والا ‘بہت رحم کرنے والاہے۔‘‘

آیت 42

وَ ہِیَ تَجۡرِیۡ بِہِمۡ فِیۡ مَوۡجٍ کَالۡجِبَالِ ۟

’’اور وہ چل رہی تھی ان سب کو لے کر پہاڑ جیسی موجوں کے درمیان سے‘‘

وَ نَادٰی نُوۡحُۨ ابۡنَہٗ وَ کَانَ فِیۡ مَعۡزِلٍ یّٰـبُنَیَّ ارۡکَبۡ مَّعَنَا وَ لَا تَکُنۡ مَّعَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۴۲﴾

’’اور نوحؑ نے پکارا اپنے بیٹے کو اور وہ ایک کنارے کی طرف تھا ‘کہ اے میرے بیٹے آئو ہمارے ساتھ (کشتی میں) سوار ہو جاؤ اور کافروں کے ساتھ مت رہو۔‘‘

آیت 43

قَالَ سَاٰوِیۡۤ اِلٰی جَبَلٍ یَّعۡصِمُنِیۡ مِنَ الۡمَآءِ ؕ

’’اُس نے کہا کہ میں ابھی کسی پہاڑ پر چڑھ جائو ںگاجو مجھے پانی سے بچا لے گا۔‘‘

قَالَ لَا عَاصِمَ الۡیَوۡمَ مِنۡ اَمۡرِ اللّٰہِ اِلَّا مَنۡ رَّحِمَ ۚ

’’نوحؑ نے کہا :آج کے دن کوئی بچانے والا نہیں ہے اللہ کے امر سے‘سوائے اُس کے جس پر اللہ ہی رحم فرما دے۔‘‘

وَ حَالَ بَیۡنَہُمَا الۡمَوۡجُ فَکَانَ مِنَ الۡمُغۡرَقِیۡنَ ﴿۴۳﴾

’’اور حائل ہو گئی ان دونوں کے درمیان ایک موج اور وہ ہو گیا غرق ہونے والوں میں۔‘‘

اسی گفتگو کے دوران ایک بڑی موج آئی اور اس کی زدمیں آ کر آپؑ کی نظروں کے سامنے آپؑ کا وہ بیٹا غرق ہو گیا۔

آیت 44

وَ قِیۡلَ یٰۤاَرۡضُ ابۡلَعِیۡ مَآءَکِ

’’اور حکم ہوا کہ اے زمین تو اپنے پانی کو نگل جا‘‘

زمین کو اللہ تعالیٰ کاحکم ہوا کہ تو اپنے اس پانی کو اپنے اندر جذب کر لے۔ اللہ بہتر جانتا ہے کہ اس عمل میں کتنا وقت لگا ہو گا۔ بہر حال حکم الٰہی کے مطابق پانی زمین میں جذب ہو گیا۔

وَ یٰسَمَآءُ اَقۡلِعِیۡ وَ غِیۡضَ الۡمَآءُ وَ قُضِیَ الۡاَمۡرُ

’’اور اے آسمان تو بھی اب تھم جا‘اور پانی سکھا دیا گیا‘اور فیصلہ چکا دیا گیا‘‘

وَ اسۡتَوَتۡ عَلَی الۡجُوۡدِیِّ

’’اور کشتی جودی پہاڑ پر جا ٹھہری‘‘

کوہِ ارارات میں ’’جودی ‘‘ایک چوٹی کا نام ہے ۔ یہ دشوار گزار پہاڑی سلسلہ آذر بائیجان کے علاقے اور ترکی کی سرحد کے قریب ہے۔ کسی زمانے میں ایک ایسی خبر بھی مشہور ہوئی تھی کہ اس پہاڑی سلسلہ کی ایک چوٹی پر کسی جہا ز کے پائیلٹ نے کوئی کشتی نما چیز دیکھی تھی ۔ بہر حال قرآن کا فرمان ہے کہ ہم اس کشتی کو محفوظ رکھیں گے اور ایک زمانے میں یہ نشانی بن کر دنیا کے سامنے آئے گی (العنکبوت : ۱۵)۔ چنانچہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ کشتی اب بھی کوہِ جودی کی چوٹی پر موجود ہے اور ایک وقت آئے گا جب انسان اس تک رسائی حاصل کرلے گا۔

وَ قِیۡلَ بُعۡدًا لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۴﴾

’’اور کہہ دیا گیا دُوری (ہلاکت) ہے اُس قوم کے لیے جو ظالم تھی۔‘‘

یعنی اس قوم کا نام و نشان مٹا کر ہمیشہ کے لیے اسے نسیاً منسیاً کر دیا گیا۔

45-49

بیٹے کے حق میں حضرت نوح علیہ السلام کی سفارش قبول نہیں کی گئی

ویڈیو

وَ نَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ وَ اِنَّ وَعۡدَکَ الۡحَقُّ وَ اَنۡتَ اَحۡکَمُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۴۵﴾ قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ٭۫ۖ فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶﴾ قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنۡ اَسۡـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ وَ اِلَّا تَغۡفِرۡ لِیۡ وَ تَرۡحَمۡنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۴۷﴾ قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۸﴾ تِلۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہَاۤ اِلَیۡکَ ۚ مَا کُنۡتَ تَعۡلَمُہَاۤ اَنۡتَ وَ لَا قَوۡمُکَ مِنۡ قَبۡلِ ہٰذَا ؕۛ فَاصۡبِرۡ ؕۛ اِنَّ الۡعَاقِبَۃَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾

آیت 45

وَ نَادٰی نُوۡحٌ رَّبَّہٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابۡنِیۡ مِنۡ اَہۡلِیۡ

’’اور پکارا نوحؑ نے اپنے رب کو اور کہا کہ اے میرے پروردگار! میرا بیٹا میرے اہل میں سے تھا‘‘

وَ اِنَّ وَعۡدَکَ الۡحَقُّ وَ اَنۡتَ اَحۡکَمُ الۡحٰکِمِیۡنَ ﴿۴۵﴾

’’اور یقینا تیرا وعدہ سچا ہے اور تو تمام حاکموں میں سب سے بڑا اور سب سے اچھا فیصلہ کرنے والا حاکم ہے۔‘‘

پروردگار! تو نے وعدہ کیا تھا کہ تو میرے اہل کو بچا لے گا‘جبکہ میرا بیٹا تو میری آنکھوں کے سامنے ڈوبگیا۔

آیت 46

قَالَ یٰنُوۡحُ اِنَّہٗ لَیۡسَ مِنۡ اَہۡلِکَ ۚ اِنَّہٗ عَمَلٌ غَیۡرُ صَالِحٍ ٭۫ۖ

’’اللہ نے فرمایا کہ اے نوحؑ! وہ تمہارے اہل میں سے نہیں ہے ‘اس کے اعمال غیر صالح ہیں۔ ‘‘

اُس کے نظریات‘اُس کے عقائد‘اُس کا کردار سب کافرانہ تھے۔ وہ آپ کے اہل میں کیسے شمار ہو سکتا ہے؟ نبی کا گھرانا صرف نسب سے نہیں بنتا بلکہ ایمان و عمل صالح سے بنتا ہے۔ چنانچہ وہ آپ کے نسبی خاندان کا ایک رکن ہونے کے علی الرغم آپ کے ایمانی و اخلاقی خاندان کا فرد نہیں تھا۔

فَلَا تَسۡـَٔلۡنِ مَا لَـیۡسَ لَکَ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ

’’توآپ ؑمجھ سے اُس چیز کا سوال نہ کریں جس کے بارے میں آپؑ کو علم نہیں۔‘‘

اِنِّیۡۤ اَعِظُکَ اَنۡ تَکُوۡنَ مِنَ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۴۶﴾

’’میں آپؑ کو نصیحت کرتا ہوں کہ آپؑ جذبات سے مغلوب ہوجانے والوں میں سے نہ بنیں۔‘‘

یہ بہت سخت انداز ہے ۔یاد کیجیے کہ سورۃ الانعام کی آیت ۳۵ میں محمد رسول اللہﷺ سے بھی اس طرح کے الفاظ فرمائے گئے ہیں ۔

آیت 47

قَالَ رَبِّ اِنِّیۡۤ اَعُوۡذُ بِکَ اَنۡ اَسۡـَٔلَکَ مَا لَـیۡسَ لِیۡ بِہٖ عِلۡمٌ ؕ

’’نوحؑ نے عرض کیا : اے میرے پروردگار! میں تیری پناہ طلب کرتا ہوں اس سے کہ میں تجھ سے ایسی بات کا سوال کروں جس کے بارے میں میرے پاس کوئی علم نہیں ہے۔‘‘

وَ اِلَّا تَغۡفِرۡ لِیۡ وَ تَرۡحَمۡنِیۡۤ اَکُنۡ مِّنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۴۷﴾

’’اور اگر تو نے مجھے معاف نہ فرما دیا اور مجھ پر رحم نہ فرمایا تو میں ہو جاؤں گا خسارہ پانے والوں میں۔‘‘

آیت 48

قِیۡلَ یٰنُوۡحُ اہۡبِطۡ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَکٰتٍ عَلَیۡکَ وَ عَلٰۤی اُمَمٍ مِّمَّنۡ مَّعَکَ ؕ

’’حکم ہوااے نوحؑ اُتر جائو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتوں کے ساتھ ‘جو آپؑ پر بھی ہوں گی اور اُن اُمتوں پر بھی جو آپؑ کے ساتھیوں کی نسلوں سے وجود میں آئیں گی۔‘‘

عام خیال یہی ہے کہ اس طوفان کے بعد نسل انسانی حضرت نوح علیہ السلام کے ان تینوں بیٹوں سے چلی تھی ۔ اس سلسلے میں ماہرین علم الانساب کی مختلف آراء کا خلاصہ یہ ہے کہ آپؑ کے بیٹے حضرت سام اس علاقے میں آباد ہو گئے‘ جبکہ حضرت یافث کی اولاد وسطی ایشیا کے پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے روس کے میدانی علاقوں میں جا بسی۔ پھر وہاں سے ان میں سے کچھ لوگ صحرائے گوبی کو عبور کر کے چین کی طرف چلے گئے۔ چنانچہ وسطی ایشیا کے ممالک سے لے کر چین ‘اس کے ملحقہ علاقوں اور پورے یورپ میں اسی نسل کے لوگ آباد ہیں۔ ا ن کے علاوہ Anglo Saxons اور شمالی اقوام کے لوگ بھی اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

دوسری طرف حضرت حام کی نسل کے کچھ لوگ مشرق کی طرف کوچ کر کے ایران اور پھر ہندوستان میں آبسے۔ جبکہ ان میں سے بعض دوسرے قبائل جزیرہ نمائے سینا کو عبور کر کے مغرب میں سوڈان اور مصر کی طرف چلے گئے۔ چنانچہ آریائی اقوام ‘رومن‘جرمن‘یونانی اور مشرقی یورپ کے تمام لوگ حضرت حام ہی کی نسل سے تعلق رکھتے ہیں ‘واللہ اعلم۔

وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُہُمۡ ثُمَّ یَمَسُّہُمۡ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴۸﴾

’’اور کچھ اور قومیں(بھی ہوں گی) جنہیں ہم (دنیا کے) کچھ فوائد دیں گے ‘پھر اُن کو ہماری طرف سے ایک دردناک عذاب آپکڑے گا۔‘‘

جیسا کہ بعد میں قومِ عاد اور قومِ ثمود پر عذاب آیا ہے۔

آیت 49

تِلۡکَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡغَیۡبِ نُوۡحِیۡہَاۤ اِلَیۡکَ ۚ

’’(اے محمدﷺ!) یہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم وحی کر رہے ہیں آپ کی طرف۔‘‘

مَا کُنۡتَ تَعۡلَمُہَاۤ اَنۡتَ وَ لَا قَوۡمُکَ مِنۡ قَبۡلِ ہٰذَا ؕۛ

’’اس سے پہلے نہ آپؐ ان کو جانتے تھے اورنہ آپؐ کی قوم۔‘‘

فَاصۡبِرۡ ؕۛ اِنَّ الۡعَاقِبَۃَ لِلۡمُتَّقِیۡنَ ﴿٪۴۹﴾

’’تو آپؐ صبر کیجئے ‘یقینا انجام کار بھلا ہو گا اہلِ تقویٰ ہی کا۔‘‘

آپؐ ہمت اور صبر و استقامت کے ساتھ اپنا کام کیے چلے جائیں۔ یقینا انجامِ کار کی کامیابی اہلِ تقویٰ ہی کے لیے ہے ۔

یوٹیوب پر دیکھیے