بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

هود

آیات ۱ تا ۲۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۂ ہود کے دس رکوع ہیں ‘جن میں سے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ یہ سورت چونکہ سورۂ یونس کے ساتھ مل کر جوڑا بناتی ہے اس لیے سورۂ یونس کے بر عکس اس میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر بہت تفصیل کے ساتھ ہوا ہے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر بالکل سرسری انداز میں ہے۔ (سورۂ یونس میں حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر سرسری انداز میں ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر تفصیل کے ساتھ ہے۔) ان دونوں پیغمبروں کے ذکر کے درمیان میں باقی رسولوں کا ذکر اس سورت میں بالکل سورۃ الاعراف والے انداز میں ہے ‘یعنی ایک ایک رکوع میں ایک ایک رسول کا تذکرہ ہے۔

حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی مکرمﷺ سے عرض کیا:’’یارسول اللہ! آپؐ پر بڑھاپے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں‘‘۔ جواب میں حضورﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((شَیَّـبَتْنِیْ ھُوْدٌ وَاَخَوَاتُھَا))۱’’مجھے سورئہ ہود اور اس کی ہم مضمون سورتوں نے بوڑھا کر دیا ہے‘‘۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب ان سورتوں میں پے در پے تنبیہات نازل ہو رہی تھیں تو آپﷺ کو ہروقت یہ اندیشہ گھلائے دیتا ہوگا کہ کہیں اللہ کی دی ہوئی مہلت ختم نہ ہو جائے اور وہ آخری ساعت نہ آ جائے جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب میں پکڑ لینے کا فیصلہ صادر فرما دیتا ہے۔

(۱) رواہ الترمذی۔ مشکوٰۃ المصابیح‘ کتاب الرقاق‘ باب البکاء والخوف‘ الفصل الثانی۔

1

آیاتِ قرآنی کا اسلوب

ویڈیو

الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ ۙ﴿۱﴾

تمہید

آیت 1

الٓرٰ ۟ کِتٰبٌ اُحۡکِمَتۡ اٰیٰتُہٗ ثُمَّ فُصِّلَتۡ مِنۡ لَّدُنۡ حَکِیۡمٍ خَبِیۡرٍ ۙ﴿۱﴾

’’ا ‘ل ‘ر۔یہ وہ کتاب ہے جس کی آیات (پہلے) پختہ کی گئی ہیں‘ پھر ان کی تفصیل بیان کی گئی ہے اُس ہستی کی طرف سے جو حکیم اور خبیر ہے۔‘‘

اس کا ایک مفہو م یہ بھی ہو سکتا ہے کہ قرآن مجید میں شروع شروع میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ حجم کے اعتبار سے تو چھوٹی ‘ لیکن بہت جامع اور گہرے مفہوم کی حامل ہیں ‘جیسے کوزے میں سمند ر کو بند کر دیا گیاہو ۔ مثلاً سورۃ العصر‘ جس کے بارے میں امام شافعیؒ فرماتے ہیں: لَوْلَمْ یُنَزَّلْ مِنَ الْقُرْآنِ سِوَاھَا لَـکَفَتِ النَّاسِ یعنی ’’ اگر اس سورت کے علاوہ قرآن میں کچھ بھی نازل نہ ہوتا تو بھی یہ سورت لوگوں کی ہدایت کے لیے کافی تھی‘‘ ۔ امام شافعیؒ سورۃ العصر کے بارے میں مزید فرماتے ہیں: لَوْ تَدَبَّرَ النَّاسُ ھٰذِہِ السُّوْرَۃَ لَـوَسِعَتْھُمْ ’’اگر لوگ اس سورت پر ہی تدبر کریں تو یہ ان کی ہدایت کے لیے کافی ہو جائے گی‘‘۔ چنانچہ قرآن مجید کی ابتدائی سورتیں اور آیات بہت محکم اور جامع ہیں اور بعد میں انہی کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔ اور اس کتاب کا بنیادی پیغام یہ ہے:

2-4

قرآنِ حکیم کی دعوت

ویڈیو

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾ وَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ ؕ وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ کَبِیۡرٍ ﴿۳﴾ اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴﴾

آیت 2

اَلَّا تَعۡبُدُوۡۤا اِلَّا اللّٰہَ ؕ اِنَّنِیۡ لَکُمۡ مِّنۡہُ نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ ۙ﴿۲﴾

’’کہ مت عبادت کرو کسی کی سوائے اللہ کے۔یقینا میں ہوںتمہارے لیے اُسی کی جانب سے خبردار کرنے والا اور بشارت دینے والا۔‘‘

انبیاء ورسل کے لیے قرآن میں بشیر اور نذیر کے الفاظ بار بار آتے ہیں۔ جیسے سورۃ النسا ء میں فرمایا: {رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿۱۶۵﴾} اورسورۃ الانعام میں فرمایا: {وَ مَا نُرۡسِلُ الۡمُرۡسَلِیۡنَ اِلَّا مُبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ ۚ} (آیت۴۸)

آیت 3

وَّ اَنِ اسۡتَغۡفِرُوۡا رَبَّکُمۡ ثُمَّ تُوۡبُوۡۤا اِلَیۡہِ یُمَتِّعۡکُمۡ مَّتَاعًا حَسَنًا اِلٰۤی اَجَلٍ مُّسَمًّی وَّ یُؤۡتِ کُلَّ ذِیۡ فَضۡلٍ فَضۡلَہٗ ؕ

’’اور یہ کہ اپنے رب سے استغفار کرو‘پھر اُس کی جناب میں توبہ کرو‘وہ تمہیں (دُنیوی زندگی میں) مال و متاع دے گا بہت اچھاایک وقتِ معین تک اور ہر صاحب فضل کو اُس کے حصے کا فضل عطا کرے گا۔‘‘

یہاں ذِیْ فَضْلٍ سے مراد ہے ’مستحقِ فضل‘۔ یعنی جو بھی فضل کا مستحق ہو گا ‘اللہ تعالیٰ اُسے اپنا فضل ضرور عطا فرمائے گا۔

وَ اِنۡ تَوَلَّوۡا فَاِنِّیۡۤ اَخَافُ عَلَیۡکُمۡ عَذَابَ یَوۡمٍ کَبِیۡرٍ ﴿۳﴾

’’اور اگر تم پھر جاؤ گے تو مجھے اندیشہ ہے تم پر ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا۔‘‘

آیت 4

اِلَی اللّٰہِ مَرۡجِعُکُمۡ ۚ وَ ہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۴﴾

’’اللہ ہی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے‘ اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘

5

قرآن کی دعوت اور مشرکین کا ردّ عمل

ویڈیو

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ یَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَہُمۡ لِیَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡہُ ؕ اَلَا حِیۡنَ یَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِیَابَہُمۡ ۙ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ۚ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۵﴾

آیت 5

اَلَاۤ اِنَّہُمۡ یَثۡنُوۡنَ صُدُوۡرَہُمۡ لِیَسۡتَخۡفُوۡا مِنۡہُ ؕ

’’آگاہ ہو جاؤ یہ لوگ اپنے سینوں کو دہرا کرتے ہیں تا کہ اللہ سے چھپ جائیں۔‘‘

یہ مقام مشکلات القرآن میں سے ہے اور اس کے بارے میں بہت سے اقوال ہیں۔ ثَنٰی یَثْنِیْ کے معنی پھیرنے‘ موڑنے اور لپیٹنے کے ہیں۔ مکہ میں رسول اللہﷺ کی دعوت کے مخالفین میں سے کچھ لوگوں کا رویہ ایسا تھا کہ آپﷺ کو آتے دیکھتے تو رخ بدل لیتے یا کپڑے کی اوٹ میں منہ چھپا لیتے‘ تاکہ کہیں آمنا سامنا نہ ہو جائے اور آپﷺ انہیں مخاطب کر کے کچھ اپنی باتیں نہ کہنے لگیں۔ یہاں ایسے لوگوں کی طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ حق کا سامنا اورحقیقت کا مواجہہ کرنے سے گھبراتے ہیں‘ حالانکہ کسی کے گریز کرنے سے حقیقت غائب نہیں ہو جاتی۔ شتر مرغ طوفان کے دوران اگر ریت میں سر چھپا لے تو اس سے طوفان کا رخ تبدیل نہیں ہو جاتا۔

اس کے علاوہ ایک رائے وہ ہے جو بخاری شریف میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے نقل ہوئی ہے کہ کچھ اہل ایمان پر حیا کا بہت زیادہ غلبہ تھا (مثلاً حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اِن اصحاب میں بہت نمایاں تھے) ایسے لوگ کبھی غسل کے وقت بھی عریاں ہونا پسند نہیں کرتے تھے اور ایسے مواقع پر اس انداز سے جھک جاتے تھے کہ جہاں تک ممکن ہو ستر چھپا رہے۔ اسی طرح قضائے حاجت کے وقت بھی پورے ستر کا اہتمام کرتے تھے۔ اس حوالے سے اس حکم کا منشا یہ ہے کہ تم اس سلسلے میں جو کچھ بھی کر لو ‘اللہ تعالیٰ کی نگاہوں سے تو نہیں چھپ سکتے ہو۔ لہٰذا ستر چھپانے کے بارے میں جو بھی احکامات ہیں اُن کی معروف طریقے سے پیروی کرو ۔ اس طرح کے کسی بھی معاملہ میں غلو کی ضرورت نہیں ہے۔

اَلَا حِیۡنَ یَسۡتَغۡشُوۡنَ ثِیَابَہُمۡ ۙ یَعۡلَمُ مَا یُسِرُّوۡنَ وَ مَا یُعۡلِنُوۡنَ ۚ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۵﴾

’’آگاہ ہو جاؤ کہ جب وہ اپنے اوپر اپنے کپڑے لپیٹتے ہیں تب بھی اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ چھپا رہے ہوتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کر رہے ہوتے ہیں۔وہ تو اس کو بھی جانتا ہے جو کچھ سینوں کے اندر ہے ۔‘‘

6

ہر مخلوق کا رزق اللہ کے ذمہ ہے

ویڈیو

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾

آیت 6

وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا

’’اور نہیں ہے کوئی بھی چلنے پھرنے والا (جاندار) زمین پر ‘مگر اس کا رزق اللہ کے ذمہ ہے‘‘

اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کے اندر تقسیمِ رزق کا جو نظام وضع کیا ہے اس میں اس نے ہر جاندار کے لیے اس کی ضروریاتِ زندگی فراہم کر دی ہیں۔ بچے کی پیدائش بعد میں ہوتی ہے مگر اس کے لیے ماں کی چھاتیوں میں دودھ پہلے پیدا ہو جاتا ہے۔ لیکن جہاں کوئی انسان یا انسانوں کا کوئی گروہ اللہ کے اس نظام اور اس کے قوانین کو پسِ پشت ڈال کر کوئی ایسا نظام یا ایسے قوانین وضع کرے جن کے تحت ایک فرد کے حصے کا رزق کسی دوسرے کی جھولی میں چلا جائے ‘تو رزق یا دولت کی تقسیم کا خدائی نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ اس لوٹ کھسوٹ کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ کہیں دولت کے بے جا انبار لگیں گے اور کہیں بے شمار انسان فاقوں پر مجبور ہو جائیں گے۔لہٰذا جہاں کہیں بھی رزق کی تقسیم میں کوئی کمی بیشی نظر آئے تو سمجھ لو کہ اس کا ذمہ دار خودانسان ہے۔

وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَا وَ مُسۡتَوۡدَعَہَا ؕ

’’اور وہ جانتا ہے اس کے مستقل ٹھکانے کو بھی اور اس کے عارضی طور پر سونپے جانے کی جگہ کو بھی۔‘‘

مُستَقَراور مُستَودَع دونوں الفاظ کی تشریح سورۃ الانعام کی آیت ۹۸ میں تفصیل کے ساتھ ہو چکی ہے ۔ وہاں ان الفاظ کے بارے میں تین مختلف اقوال بھی زیر بحث آ چکے ہیں۔

کُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶﴾

’’یہ سب کچھ ایک روشن کتاب میں (درج) ہے۔‘‘

وہی روشن اور واضح کتاب جو علمِ الٰہی کی کتاب ہے۔

7-8

اللہ کی عالی شان قدرت اور کافروں کی کج فہمی

ویڈیو

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَ لَئِنۡ قُلۡتَ اِنَّکُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾ وَ لَئِنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤی اُمَّۃٍ مَّعۡدُوۡدَۃٍ لَّیَقُوۡلُنَّ مَا یَحۡبِسُہٗ ؕ اَلَا یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمۡ لَیۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡہُمۡ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ٪﴿۸﴾

آیت 7

وَ ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ وَّ کَانَ عَرۡشُہٗ عَلَی الۡمَآءِ

’’اور وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں اور اُس کا تخت تھا پانی پر‘‘

میرے نزدیک یہ آیت آج بھی متشابہات میں سے ہے‘ لیکن شاید یہ اُس دَور کی طرف اشارہ ہے جب یہ دُنیا معرضِ وجود میں آئی۔ زمین کی تخلیق کے بارے میں سائنسی اور تاریخی ذرائع سے اب تک ملنے والی معلومات کو مجتمع کر کے جو آراء سامنے آئی ہیں اُن کے مطابق زمین جب ٹھنڈی ہونی شروع ہوئی تو اس سے بخارات اور مختلف اقسام کی گیسیں خارج ہوئیں۔ انہی گیسوں میں سے ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی پیدا ہوا جولاکھوں سال تک بارشوں کی صورت میں زمین پر برستا رہا۔پھر جب زمین ٹھنڈی ہو کر سکڑی تو اس کی سطح پر نشیب و فراز پیدا ہونے سے پہاڑ اور سمندر وجود میں آئے۔ اُس وقت تک کسی قسم کی کوئی مخلوق پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ وہ دور تھا جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اس زمین کی حد تک اللہ تعالیٰ کا تختِ حکومت (اس کا تصور انسانی ذہن سے ماوراء ہے) پانی پر تھا۔ پھر وہ دور آیا جب زمین کی آب وہوا زندگی کے لیے موافق ہوئی تو مٹی اور پانی سے وجود میں آنے والے دلدلی علاقوں میں نباتاتی یا حیوانی مخلوق کی ابتدائی شکلیں پیدا ہوئیں۔ (واللہ اعلم!)

لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ

’’تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون ہے تم میں سے اچھے عمل کرنے والا۔‘‘

یعنی انسانی زندگی کا وہ حصہ جو اس دنیا میں گزرتا ہے اس کا اصل مقصد امتحان ہے۔ علامہ اقبال نے اس شعر میں اس آیت کی بہت خوبصورت ترجمانی کی ہے:

قلزم ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!

وَ لَئِنۡ قُلۡتَ اِنَّکُمۡ مَّبۡعُوۡثُوۡنَ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡمَوۡتِ لَیَقُوۡلَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِنۡ ہٰذَاۤ اِلَّا سِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷﴾

’’اور اگر آپؐ کہیں کہ تمہیں اٹھایا جائے گا مرنے کے بعد تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘

آیت 8

وَ لَئِنۡ اَخَّرۡنَا عَنۡہُمُ الۡعَذَابَ اِلٰۤی اُمَّۃٍ مَّعۡدُوۡدَۃٍ لَّیَقُوۡلُنَّ مَا یَحۡبِسُہٗ ؕ

’’اور اگر مؤخر کیے رکھیں ہم اُن سے عذاب کو ایک خاص مدت تک تو وہ کہتے ہیں کہ کس چیز نے روک رکھا ہے اسے؟‘‘

کہ اتنے عرصے سے آپ(ﷺ) ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ تم پر عذاب آنے والا ہے‘مگر اب تک وہ عذاب آیا کیوں نہیں؟ آخر کس چیز نے اسے روک رکھا ہے؟

اَلَا یَوۡمَ یَاۡتِیۡہِمۡ لَیۡسَ مَصۡرُوۡفًا عَنۡہُمۡ وَ حَاقَ بِہِمۡ مَّا کَانُوۡا بِہٖ یَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ٪﴿۸﴾

’’آگاہ ہوجاؤ! جس دن یہ اُن پر آجائے گاتوان کی طرف سے پھیرا نہیں جائے گا‘اور اُن کو گھیرے میں لے لے گی وہی چیز جس کا یہ لوگ استہزا کیا کرتے تھے۔‘‘

9-11

انسان کی کم ظرفی

ویڈیو

وَ لَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً ثُمَّ نَزَعۡنٰہَا مِنۡہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَـُٔوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾ وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیۡ ؕ اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴿ۙ۱۰﴾ اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

آیت 9

وَ لَئِنۡ اَذَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنَّا رَحۡمَۃً

’’اور اگر ہم مزہ چکھاتے ہیں انسان کو اپنی طرف سے رحمت کا ‘‘

ثُمَّ نَزَعۡنٰہَا مِنۡہُ ۚ اِنَّہٗ لَیَـُٔوۡسٌ کَفُوۡرٌ ﴿۹﴾

’’پھر (جب )ہم اس سے وہ چھین لیتے ہیں تو وہ ہوجاتا ہے بالکل مایوس‘نہایت نا شکرا۔‘‘

انسان بنیادی طور پرکوتاہ نظر اور ناشکرا ہے۔ کسی نعمت ‘کامیابی یا خوشی کے بعد اگر اسے کوئی مشکل پیش آتی ہے تو اُس وقت وہ بھول جاتا ہے کہ ا س پر کبھی اللہ کی نظرِ کرم بھی تھی۔ چاہیے تو یہ کہ اچھے حالات میں انسان اللہ کا شکر ادا کرے اور جب کوئی سختی آ جائے تو اس پر صبر کرے اور ساتھ ہی ساتھ دل میں اطمینان رکھے کہ ہر طرح کے حالات اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتے ہیں‘اگر آج سختی ہے تو کل آسائش بھی تو تھی۔

آیت 10

وَ لَئِنۡ اَذَقۡنٰہُ نَعۡمَآءَ بَعۡدَ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُ لَیَقُوۡلَنَّ ذَہَبَ السَّیِّاٰتُ عَنِّیۡ ؕ

’’اور اگر ہم مزہ چکھائیں اسے نعمتوں کا کسی تکلیف کے بعد جو اس کو پہنچی ہوئی تھی تو ضرور کہے گا کہ میرے تو سارے دلدّر دُو رہو گئے۔‘‘

اِنَّہٗ لَفَرِحٌ فَخُوۡرٌ ﴿ۙ۱۰﴾

’’بے شک وہ اترانے والا اور فخر جتانے والا ہے ۔‘‘

جب کسی سختی کے بعد انسان کو آسائش یا کوئی نعمت مل جاتی ہے تو بجائے اس کے کہ اسے اللہ کی رحمت اور اس کا انعام سمجھتے ہوئے سجدئہ شکر بجا لائے‘وہ اس پر اترانا اور ڈینگیں مارنا شروع کر دیتا ہے اور اسے اپنی تدبیر کا نتیجہ اور اپنی محنت کا صلہ قرار دیتا ہے۔

آیت 11

اِلَّا الَّذِیۡنَ صَبَرُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ؕ

’’سوائے اُن لوگوں کے جنہوں نے صبر کی روش اختیار کی اور نیک اعمال کیے۔‘‘

یعنی سب انسان ایک جیسے نہیں ‘کچھ ایسے بھی ہیں جن کو اللہ نے حقیقی ایمان کی نعمت سے نواز رکھا ہے اور ایمان کے نتیجے میں ان کے دل صبر کی دولت سے مالا مال ہیں اور ان کے کردار سے اعمالِ صالحہ کے نور کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔

اُولٰٓئِکَ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ اَجۡرٌ کَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾

’’انہی کے لیے مغفرت اور بہت بڑا اجرہے۔‘‘

12-14

حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول اور قرآن اللہ کا کلام ہے

ویڈیو

فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعۡضَ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ وَ ضَآئِقٌۢ بِہٖ صَدۡرُکَ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ ؕ اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿ؕ۱۲﴾ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِہٖ مُفۡتَرَیٰتٍ وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۳﴾ فَاِلَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰہِ وَ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾

آیت 12

فَلَعَلَّکَ تَارِکٌۢ بَعۡضَ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیۡکَ

’’تو (اے نبیﷺ!) شاید آپ کچھ چیزیں چھوڑ دیں اُس میں سے جو آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے ‘‘

وَ ضَآئِقٌۢ بِہٖ صَدۡرُکَ اَنۡ یَّقُوۡلُوۡا لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ کَنۡزٌ اَوۡ جَآءَ مَعَہٗ مَلَکٌ ؕ

’’اور آپؐ کا سینہ اُس سے تنگ ہو رہا ہے جو وہ کہہ رہے ہیں ‘کہ کیوں نہیں ان کے اوپر اتار دیا گیا کوئی خزانہ یا کیوں نہیں آیا ان کے پاس کوئی فرشتہ۔‘‘

یہ مضمون اس سے پہلے بڑی وضاحت کے ساتھ سورۃالانعام میں آ چکا ہے ‘لیکن زیر مطالعہ گروپ کی مکی سورتوں میں بھی جا بجا مشرکین کی ایسی باتوں کا ذکر ملتا ہے۔ اس لیے کہ ان دونوں گروپس میں شامل یہ تمام مکی سورتیں ایک ہی دور میں نازل ہوئی ہیں۔

یہاں مکی سورتوں کی ترتیب مصحف کے بارے میں ایک اہم نکتہ سمجھ لیں ۔ رسول اللہﷺ کے قیامِ مکہ کے بارہ سال کے عرصے کو اگر چار چار سال کے تین حصوں میں تقسیم کریں تو پہلے حصے یعنی پہلے چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئیں وہ قرآن مجید کے آخری دو گروپوں میں شامل ہیں ‘یعنی سورئہ قٓ سے لے کر آخر تک۔ درمیانی چار سال کے دوران نازل ہونے والی سورتیں درمیانی گروپوں میں شامل ہیں اور آخری چار سال میں جو سورتیں نازل ہوئی ہیں وہ شروع کے دو گروپوں میں شامل ہیں۔ایک گروپ میں سورۃ الانعام اور سورۃ الاعراف جبکہ اس دوسرے گروپ میں سورۂ یونس تا سورۃ المؤمنون(اس میں صرف ایک استثناء ہے جس کا ذکر بعد میں آئے گا)۔

اِنَّمَاۤ اَنۡتَ نَذِیۡرٌ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ وَّکِیۡلٌ ﴿ؕ۱۲﴾

’’( اے نبیﷺ!)آپ تو صرف خبردار کرنے والے ہیں ‘اور ہر چیز کا ذمہ دار اللہ ہے۔‘‘

اس دور کی سورتوں میں مختلف انداز میں بار بار حضورﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپؐ کا فرضِ منصبی یہی ہے کہ آپؐ ان لوگوں کو خبردار کر دیں ۔اس کے بعد تمام معاملات اللہ کے حوالے ہیں۔ وہ بہتر جانتا ہے کہ ایمان یا ہدایت کی توفیق کسے دینی ہے اور کسے نہیں دینی۔ کوئی معجزہ دکھانا ہے یا نہیں‘نافرمانوں کو کب تک مہلت دینی ہے اور کب ان پر عذاب بھیجنا ہے ۔یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔

آیت 13

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ

’’کیا وہ کہتے ہیں کہ یہ (قرآن) اُس ؐ نے خود گھڑ لیا ہے۔‘‘

قُلۡ فَاۡتُوۡا بِعَشۡرِ سُوَرٍ مِّثۡلِہٖ مُفۡتَرَیٰتٍ

’’آپؐ کہیے کہ اچھا تم لوگ بھی لے آؤ اس جیسی دس سورتیں گھڑی ہوئی‘‘

مشرکین کو یہ چیلنج مختلف درجوں میں بار بار دیا گیا تھا۔ اس سے پہلے انہیں کہا گیا تھا کہ اس جیسا قرآن تم بھی بنا کر دکھاؤ (بنی اسرائیل : ۸۸)۔ یہاں دوسرے درجے میں ۱۰ سورتوں کا چیلنج دیا گیا۔ پھر اس کے بعد برسبیلِ تنزل صرف ایک سورت بناکر لانے کو کہا گیا ‘جس کا تذکرہ سورۂ یونس (آیت ۳۸) میں بھی ہے اور سورۃ البقرۃ (آیت ۲۳) میں بھی۔

وَّ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۳﴾

’’اور (اس کے لیے ) بلا لو تم جس کو بھی بلا سکتے ہو اللہ کے سوا‘اگر تم سچے ہو۔‘‘

آیت 14

فَاِلَّمۡ یَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ

’’پھر اگر وہ (تمہارے مدد گار) تمہاری اس دعا کو قبول نہ کریں‘‘

یعنی اگر وہ اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکیں اور تمہاری مدد کو نہ پہنچ سکیں:

فَاعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اُنۡزِلَ بِعِلۡمِ اللّٰہِ وَ اَنۡ لَّاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’تو جان لو کہ یہ اللہ ہی کے علم سے نازل ہوا ہے اور یہ کہ کوئی معبود نہیں ہے سوائے اُس کے۔تو کیا اب تم سرتسلیم خم کرتے ہو؟‘‘

یہ کفار ہی سے خطاب ہے کہ تم لوگ اس چیلنج کا جواب دینے کے لیے اپنے معبودوں کو پکاردیکھو‘کچھ خود محنت کرو اور کچھ اُن سے کہو کہ وہ القاء اور الہام کریں اور اس طرح مل جل کر دس سورتیں بنا لاؤ۔ اور اگر تمہارے یہ معبود تمہاری اس درخواست کو قبول نہ کر سکیں تو جان لو کہ نہ صرف یہ قرآن اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے بلکہ اللہ کے سوا کوئی اور معبود بھی نہیں۔ تو اس سب کچھ کے بعد بھی کیا تم ماننے والے نہیں ہو؟ ز ورِ استدلال ملاحظہ ہو کہ ایک ہی دلیل سے قرآن حکیم کے کلامِ الٰہی ہونے کا ثبوت بھی دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی توحید کا بھی۔

15-16

طے کر لو دنیا کے طلب گار ہو یا آخرت کے

ویڈیو

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فِیۡہَا وَ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یُبۡخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾

آیت 15

مَنۡ کَانَ یُرِیۡدُ الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا وَ زِیۡنَتَہَا

’’جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زیب و زینت کے طالب ہوں‘‘

جن لوگوں کا مقصدِ حیات ہی دنیوی مال و متاع کو حاصل کرنا ہو اور اسی کے لیے وہ رات دن دوڑ دھوپ میں لگے ہوں تو:

نُوَفِّ اِلَیۡہِمۡ اَعۡمَالَہُمۡ فِیۡہَا وَ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یُبۡخَسُوۡنَ ﴿۱۵﴾

’’ہم ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ انہیں اسی (دنیا کی زندگی) میں دے دیتے ہیں اور اس میں ان کی حق تلفی نہیں کی جاتی۔‘‘

ان لوگوں کے دل و دماغ پر دنیا پرستی چھائی ہوئی ہے‘ اور انہوں نے اپنی تمام تر صلاحیتیں دُنیوی زندگی کو حسین و دلکش بنانے کے لیے ہی صرف کر دی ہیں ۔ ان کی ساری منصوبہ بندی اسی دنیا کے مال و متاع کے حصول کے لیے ہے ۔ چنانچہ اُن کی اونچی اونچی عمارات بھی بن گئی ہیں‘کاروبار بھی خوب وسیع ہو گئے ہیں‘ہر قسم کا سامانِ آسائش بھی ان کی دسترس میں ہے‘عیش و عشرت کے مواقع بھی حسبِ خواہش انہیں میسر ہیں ۔ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ:

آیت 16

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ لَیۡسَ لَہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِلَّا النَّارُ ۫ۖ

’’یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں کچھ نہیں ہے سوائے آ گ کے۔‘‘

ان کی ساری محنت اور بھاگ دوڑ اسی دنیا کے لیے تھی ‘لہٰذا ہم نے ان کی محنت کا صلہ اسی دنیا میں دے کر ان کا حساب چکا دیا ہے ۔

وَ حَبِطَ مَا صَنَعُوۡا فِیۡہَا وَ بٰطِلٌ مَّا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’اور اس (دُنیا) میں انہوں نے جو کچھ کیا وہ سب حبط ہو جائے گا اور جو اعمال انہوں نے کیے وہ بھی ضائع ہو جائیں گے۔‘‘

روزِ محشر انہیں معلوم ہو گا کہ جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا اور جس کے لیے اپنی تمام تر استعدادات اور صلاحیتیں صرف کیں وہ سب ملیامیٹ ہو چکا ہے‘ اور اگر انہوں نے اپنے دل کو بہلانے کے لیے کوئی جھوٹی سچی نیکی کی ہو گی تو وہ بھی بے بنیاد ثابت ہو گی۔

17

رسالت محمدی ﷺ پرسب سے بڑا گواہ قرآن مجید ہے

ویڈیو

اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ وَ یَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً ؕ اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُہٗ ۚ فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ ٭ اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۷﴾

آیت 17

اَفَمَنۡ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنۡ رَّبِّہٖ

’’ تو بھلا وہ شخص جو اپنے رب کی طرف سے ایک واضح دلیل پر ہو‘‘

بَیِّنَۃ (واضح دلیل) سے مراد انسان کی فطرتِ سلیمہ ہے ۔انسان کے اندر جو روحِ ربانی پھونکی گئی ہے اس کی وجہ سے اللہ کی معرفت اس کے اندر موجود ہے۔ مگر یہ معرفتِ الٰہی انسان کے اندر خوابیدہ (dormant) ہوتی ہے۔ پھر جب وحی کے ذریعے واضح ہدایت اُس تک پہنچتی ہے تو وہ خوابیدہ معرفت فوراً جاگ جاتی ہے۔

وَ یَتۡلُوۡہُ شَاہِدٌ مِّنۡہُ

’’اور اس کے پیچھے آئے اللہ کی طرف سے ایک گواہ بھی‘‘

یعنی ایک سلیم الفطرت شخص جس کو خود اپنے وجود میں اور زمین و آسمان کی ساخت اور کائنات کے نظم و نسق میں توحید باری تعالیٰ کی واضح شہادت مل رہی تھی‘ جب اُس کے پاس قرآن کی صورت میںاللہ کی طرف سے ایک گواہی بھی آ گئی‘ تو یہ ’’نورٌ علٰی نورٍ‘‘ والا معاملہ ہو گیا۔ اور پھر اس پر مستزاد تورات کی تصدیق۔

وَ مِنۡ قَبۡلِہٖ کِتٰبُ مُوۡسٰۤی اِمَامًا وَّ رَحۡمَۃً

’’اور اس سے پہلے کتابِ موسیٰؑ بھی موجود تھی جو امام (راہنما) بھی تھی اور رحمت بھی۔‘‘

ایسا سلیم الفطرت شخص کیونکر ایمان نہیں لائے گا؟یہ تمثیل زیادہ وضاحت کے ساتھ سورۃ النور میں بیان ہوئی ہے۔

اُولٰٓئِکَ یُؤۡمِنُوۡنَ بِہٖ ؕ

’’یہی لوگ ہیں جو اس (قرآن) پر ایمان لائیں گے۔‘‘

وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِہٖ مِنَ الۡاَحۡزَابِ فَالنَّارُ مَوۡعِدُہٗ ۚ

’’اور جو اس کا انکار کرے گا ان گروہوں میں سے تو آگ ہی اُس کے وعدہ کی جگہ ہے۔‘‘

تو اب جو بھی اس کتاب کے منکر ہوں چاہے وہ مشرکین مکہ میں سے ہوں ‘ دوسرے کفار میں سے‘ یا اہل کتاب میں سے ‘ان کا موعود ٹھکانا بس دوزخ ہے۔

فَلَا تَکُ فِیۡ مِرۡیَۃٍ مِّنۡہُ ٭

’’تو آپؐ اس کے بارے میں کسی شک میں نہ پڑیں‘‘

اِنَّہُ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’یقینا یہ حق ہے آپؐ کے رب کی طرف سے لیکن اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔‘‘

18-22

سب سے بڑے ظالم اور بد نصیب لوگ

ویڈیو

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ اُولٰٓئِکَ یُعۡرَضُوۡنَ عَلٰی رَبِّہِمۡ وَ یَقُوۡلُ الۡاَشۡہَادُ ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ۚ اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾ الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾ اُولٰٓئِکَ لَمۡ یَکُوۡنُوۡا مُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ۘ یُضٰعَفُ لَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ مَا کَانُوۡا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَ مَا کَانُوۡا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾ اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ لَا جَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾

آیت 18

وَ مَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ؕ

’’اور اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا۔‘‘

جس نے خود کوئی چیز گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دی۔

اُولٰٓئِکَ یُعۡرَضُوۡنَ عَلٰی رَبِّہِمۡ

’’یہ وہ لوگ ہیں جو پیش کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے‘‘

وَ یَقُوۡلُ الۡاَشۡہَادُ ہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ کَذَبُوۡا عَلٰی رَبِّہِمۡ ۚ

’’اور گواہی دینے والے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے جھوٹ کہا تھا اپنے رب پر۔‘‘

اَلَا لَعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾

’’ آگاہ ہو جاؤ! ایسے ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔‘‘

ان جھوٹ گھڑنے والوں میں غلام احمد قادیانی آنجہانی اور اس جیسے دوسرے مدعیانِ نبوت بھی شامل ہوں گے۔

آیت 19

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ؕ

’’جو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں اور اس میں کجی تلاش کرتے ہیں ۔‘‘

تعلیماتِ حق اور طریقِ ہدایت پر خواہ مخواہ کے اعتراضات کرتے ہیں تاکہ لوگ اس راستے کو اختیار نہ کریں۔

وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’اور یہی لوگ آخرت کے منکر ہیں۔‘‘

یہ وہی بات ہے جو ہم سورۂ یونس میں بار بار پڑھ آئے ہیں : {لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا} کہ انہیں ہم سے ملاقات کی امید ہی نہیں اور ان کی اصل بیماری بھی یہی ہے کہ وہ دل سے آخرت کے منکر ہیں اور اسی وجہ سے ان کی عقلوں پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔

آیت 20

اُولٰٓئِکَ لَمۡ یَکُوۡنُوۡا مُعۡجِزِیۡنَ فِی الۡاَرۡضِ

’’یہ لوگ زمین میں (اللہ کو) ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہیں‘‘

یہ لوگ اللہ کے قابو سے باہر نہیں ہیں اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کو ہر گز شکست نہیں دے سکتے۔

وَ مَا کَانَ لَہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ اَوۡلِیَآءَ ۘ

’’اور نہ ہی اللہ کے سوا ان کا کوئی حمایتی ہے ۔‘‘

یُضٰعَفُ لَہُمُ الۡعَذَابُ ؕ

’’ان کے لیے عذاب دو گنا کیا جاتا رہے گا۔‘‘

مَا کَانُوۡا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ السَّمۡعَ وَ مَا کَانُوۡا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰﴾

’’(اس لیے کہ) نہ تو وہ سننے کی صلاحیت رکھتے تھے اور نہ ہی دیکھتے تھے ۔‘‘

وہ بالکل اندھے اور بہرے ہو گئے تھے۔سورۃالبقرۃ میں ایسے لوگوں کی کیفیت اس طرح بیان کی گئی ہے : {صُمٌّۢ بُکۡمٌ عُمۡیٌ فَہُمۡ لَا یَرۡجِعُوۡنَ ﴿ۙ۱۸﴾}۔ حق کے لیے ان لوگوں کے اسی رویہ کی وجہ سے ان کا عذاب بڑھایا جاتا رہے گا۔

آیت 21

اُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو برباد کر لیا اور اُن سے گم ہو گیا جو کچھ وہ افترا کیا کرتے تھے۔‘‘

تب انہیں اپنے جھوٹے معبود اور سفارشی‘ من گھڑت عقائد و نظریات اوراللہ تعالیٰ پرافترا پردازیوں میں سے کچھ بھی نہیں سوجھے گا۔یہ سب کچھ پادَر ہوا ہو جائے گا۔

آیت 22

لَا جَرَمَ اَنَّہُمۡ فِی الۡاٰخِرَۃِ ہُمُ الۡاَخۡسَرُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’کچھ شک نہیں کہ آخرت میں سب سے بڑھ کر خسارہ پانے والے یہی لوگ ہوں گے۔‘‘

واضح رہے کہ ’’اَخْسَرُ‘‘ افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔

اہلِ جہنم کے تذکرے کے بعد فوری تقابل (simultaneous contrast) کے لیے اب اہلِ جنت کا ذکر کیا جا رہا ہے۔

23

سعادت مند لوگ

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخۡبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾

آیت 23

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ اَخۡبَتُوۡۤا اِلٰی رَبِّہِمۡ ۙ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۳﴾

’’(اس کے برعکس) وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے اور اپنے رب کے سامنے عاجزی کی ‘وہ ہوں گے جنت والے‘اور اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘

24

بدنصیبوں اور خوش نصیبوں کی مثال

ویڈیو

مَثَلُ الۡفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعۡمٰی وَ الۡاَصَمِّ وَ الۡبَصِیۡرِ وَ السَّمِیۡعِ ؕ ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿٪۲۴﴾

آیت 24

مَثَلُ الۡفَرِیۡقَیۡنِ کَالۡاَعۡمٰی وَ الۡاَصَمِّ وَ الۡبَصِیۡرِ وَ السَّمِیۡعِ ؕ

’’ان دونوں گروہوں کی مثال ایسے ہے جیسے ایک شخص اندھا اور بہرہ ہو اور دوسرا دیکھنے اور سننے والا۔‘‘

ہَلۡ یَسۡتَوِیٰنِ مَثَلًا ؕ اَفَلَا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿٪۲۴﴾

’’ کیا یہ دونوں برابر ہیں مثال کے اعتبار سے؟تو کیا تم نصیحت اخذ نہیں کرتے!‘‘

بھلا دونوں کا حال یکساں ہو سکتا ہے؟ کیا تم اس مثال سے کوئی سبق حاصل نہیں کرتے؟

اب اگلے چھ رکوع انباء الرسل پر مشتمل ہیں۔ ان میں انہی چھ رسولوں اور اُن کی قوموں کے حالات بیان ہوئے ہیں جن کا ذکر ہم سورۃ الاعراف میں بھی پڑھ آئے ہیں ۔ یعنی حضرت نوح‘حضرت ہود‘حضرت صالح ‘ حضرت شعیب‘حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام۔ یہ چھ رسول ہیں جن کا ذکر قرآن حکیم میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ اس تکرار کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کے اولین مخاطب (اہل عرب) ان سب رسولوں اور ان کی قوموں کے حالات سے بخوبی واقف تھے۔ جس خطے میں یہ رسول اپنے اپنے زمانے میں مبعوث ہوئے اس کے بارے میں کچھ تفصیل ہم سورۃ الاعراف میں پڑھ آئے ہیں۔ یہاں ان میں سے چیدہ چیدہ معلومات ذہن میں پھرسے تازہ کر لیں۔

اگلے صفحے پر جو نقشہ دیا گیا ہے یہ گویا ’’ارض القرآن‘‘ کا نقشہ ہے۔ قرآن مجید میں جن رسولوں کے حالات کا تذکرہ ہے وہ سب کے سب اسی خطے کے اندر مبعوث کیے گئے ۔ نقشے میں جزیرہ نمائے عرب کے دائیں طرف خلیج فارس اور بائیں طرف بحیرئہ قلزم (بحیرئہ احمر) ہے‘ جو اوپر جا کر خلیج عقبہ اور خلیج سویز میں تقسیم ہو جاتا ہے ۔

نقشے پر اگر خلیج فارس سے اوپر سیدھی لکیر کھینچی جائے اور خلیج عقبہ کے شمالی کونے سے بھی ایک لکیر کھینچی جائے تو جہاں یہ دونوں لکیریں آپس میں ملیں گی‘یہ وہ علاقہ ہے جہاں پر حضرت نوح علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔یہیں سے اوپر شمال کی جانب ارارات کا پہاڑی سلسلہ ہے‘ جس میں کوہِ جودی پر آپؑ کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔ اس علاقے میں سیلاب کی صورت میں حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب آیا‘جس سے پوری قوم ہلاک ہو گئی۔ اُس وقت تک پوری نسلِ انسانی بس یہیں پر آباد تھی ‘چنانچہ سیلاب کے بعد نسل انسانی حضرت نوح علیہ السلام کی اولاد ہی سے آگے چلی۔

حضرت نوح علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام سام تھا‘ وہ اپنی اولاد کے ساتھ عراق کے علاقے میں آباد ہو گئے۔ اس علاقے میں اُن کی نسل سے بہت سی قومیں پیداہوئیں۔ انہیں میں سے ایک قوم اپنے مشہور سردار ـ’’عاد‘‘ کے نام کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ قومِ عاد جزیرہ نمائے عرب کے جنوب میں احقاف کے علاقے میں آباد تھی۔ اس قوم میں جب شرک عام ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کی اصلاح کے لیے بہت سے نبی بھیجے۔ ان انبیاء کے آخر میں حضرت ہود علیہ السلام ان کی طرف رسول مبعوث ہوکر آئے ۔ آپؑ کی دعوت کو رد کر کے جب یہ قوم بھی عذابِ الٰہی کی مستحق ہو گئی تو حضرت ہود علیہ السلام اپنے اہلِ ایمان ساتھیوں کو ساتھ لے کر عرب کے وسطی علاقے حجر کی طرف ہجرت کر گئے۔ یہاں پھر ا ن لوگوں کی نسل آگے بڑھی۔ ان میں سے قومِ ثمود نے خصوصی طور پر بہت ترقی کی۔ اس قوم کا نام بھی ثمود نامی کسی بڑی شخصیت کے نام پر مشہور ہوا۔ یہ لوگ فنِ تعمیر کے بہت ماہر تھے۔ چنانچہ انہوں نے میدانی علاقوں میں بھی عالی شان محلات تعمیر کیے اور Granite Rocks پر مشتمل انتہائی سخت پہاڑوں کو تراش کر خوبصورت مکانات بھی بنائے۔ اس قوم کی طرف حضرت صالح علیہ السلام مبعوث کیے گئے۔ یہ تینوں اقوام (قومِ نوحؑ‘قومِ عاد اور قومِ ثمود) حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے سے پہلے کی ہیں۔

دوسری طرف عراق میں جو سامیٔ النسل لوگ آباد تھے ان میں حضرت ابراہیم علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ آپؑ کا تذکرہ قرآن میں کہیں بھی ’’انباء الرسل‘‘ کے انداز میں نہیں کیا گیا۔ یہاں سورئہ ہود میں بھی آپؑ کا ذکر’’ قصص النبیین‘‘ کی طرز پرآیا ہے ۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عراق سے ہجرت کی اور بہت بڑا صحرائی علاقہ عبور کر کے شام چلے گئے۔ وہاں آپؑ نے فلسطین کے علاقے میں اپنے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام کو آباد کیا جبکہ اس سے پہلے اپنے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو آپؑ مکہ میں آباد کر چکے تھے ۔ حضرت لوط علیہ السلام آپؑ کے بھتیجے تھے۔ شام کی طرف ہجرت کرتے ہوئے وہؑ بھی آپؑ کے ساتھ تھے ۔ حضرت لوط علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے رسالت سے نواز کر عامورہ اور سدوم کے شہروں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ شہر بحیرۂ مردار (Dead Sea) کے کنارے پرآباد تھے۔ لہٰذا قومِ ثمود کے بعد انباء الرسل کے انداز میں حضرت لوط علیہ السلام ہی کاذکر آئے گا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جو اولاد آپؑ کی تیسری بیوی قطورہ سے ہوئی وہ خلیج عقبہ کے مشرقی علاقے میں آباد ہوئی۔ اپنے کسی مشہور سردار کے نام پر اس قوم اور اس علاقے کا نام ’’مدین‘‘مشہور ہوا۔ اس قوم کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔ انباء الرسل کے اس سلسلے میں حضرت شعیب علیہ السلام کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مصر میں مبعوث کیا گیا جو جزیرہ نمائے عرب سے باہر جزیرہ نمائے سینا (Senai Peninsula) کے دوسری طرف واقع ہے ۔آپؑ کی بعثت بنی اسرائیل میں ہوئی تھی ‘جو حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے فلسطین سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہوئے تھے۔ (سورئہ یوسف میں اس ہجرت کی پوری تفصیل موجود ہے۔)

بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ نے بہت سے انبیاء ورسل دنیا کے مختلف علاقوں میں مبعوث فرمائے ۔ اُن تمام پیغمبروں کی تاریخ بیان کرنا قرآن کا موضوع نہیں ہے۔ قرآن تو کتابِ ہدایت ہے اور انبیاء ورسل کے واقعات بھی ہدایت کے لیے ہی بیان کیے جاتے ہیں۔ اس ہدایت کے تمام پہلو کسی ایک رسول ؑکے قصے میں بھی موجود ہوتے ہیں مگر مذکورہ چھ رسولوں( علیہم السلام) کا ذکر بار بار اس لیے قرآن میں آیا ہے کہ اُن کے ناموں سے اہل عرب واقف تھے اور ان کی حکایات و روایات میں بھی ان کے تذکرے موجود تھے۔

یوٹیوب پر دیکھیے