قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنۡ کُنۡتُمۡ فِیۡ شَکٍّ مِّنۡ دِیۡنِیۡ
’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ اے لوگو! اگر تمہیں میرے دین کے بارے میں کوئی شک ہے‘‘
اب سورۃ کے آخر میں فیصلہ کن انداز میں خطاب کیا جا رہا ہے کہ اے لوگو! یہ جو تم مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہو‘کہ میں اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کرلوں یا تمہارے ساتھ کسی حد تک مداہنت (compromise) کا رویہ اختیار کروں ‘تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہیں میرے دین کے بارے میں ابھی تک شک ہے۔ اگر ایسا ہے تو تم لوگ اپنا یہ شک دور کر لو:
فَلَاۤ اَعۡبُدُ الَّذِیۡنَ تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ اَعۡبُدُ اللّٰہَ الَّذِیۡ یَتَوَفّٰىکُمۡ ۚۖ
’’تو(جان لو کہ) میں ہر گز نہیں پوجنے والا اُن کو جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا ‘بلکہ میں تو پوجوں گا اُسی اللہ کو جو تمہیں قبض کرے گا۔‘‘
وَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۰۴﴾
’’اور مجھے حکم ہوا ہے کہ میں ایمان لانے والوں سے ہوجاؤں۔‘‘