تحریر

يونس

آیات ۹۹ تا ۱۰۳

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

99-100

ایمان اللہ کی توفیق سے ملتا ہے

ویڈیو

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّہُمۡ جَمِیۡعًا ؕ اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۹﴾ وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

آیت 99

وَ لَوۡ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ کُلُّہُمۡ جَمِیۡعًا ؕ

’’ اور (اے نبیﷺ!) اگر آپ کا رب چاہتا تو زمین میں جتنے لوگ بھی ہیں سب کے سب ایمان لے آتے۔‘‘

یہ مضمون سورۃ الانعام میں بڑے شد ومد کے ساتھ آ چکا ہے۔ حضورﷺ کی شدید خواہش تھی کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں‘مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمارا اپنا قانون ہے اوروہ یہ کہ جو حق کا طالب ہو گا اسے حق مل جائے گااور جو تعصب‘ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے گا‘اسے ہدایت نصیب نہیں ہو گی۔ اگر لوگوں کو مسلمان بنانا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کون سا مشکل کام تھا۔ وہ سب کو پیدا ہی ایسے کرتا کہ سب مؤمن‘متقی اور پرہیز گار ہوتے۔ آخر اس نے فرشتے بھی تو پیدا کیے ہیں جو کبھی غلطی کرتے ہیں نہ اس کی معصیت۔جیسا کہ سورۃ التحریم میں فرمایا: {لَّا یَعۡصُوۡنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَہُمۡ وَ یَفۡعَلُوۡنَ مَا یُؤۡمَرُوۡنَ ﴿۶﴾} ’’وہ اللہ کے احکام کی نا فرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے‘‘۔ لیکن انسانوں کو اُس نے پیدا ہی امتحان کے لیے کیا ہے۔ سورۃ الملک کے آغاز میں زندگی اور موت کی تخلیق کا یہی مقصد بتایا گیا ہے: {خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ } (آیت ۲) ’’اُس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون حسنِ عمل کا رویہ اختیار کرتا ہے‘‘۔ لہٰذا اے نبی (ﷺ )آپ اس معاملے میں اپنا فرض ادا کرتے جائیں‘کوئی ایمان لائے یا نہ لائے اس کی پروا نہ کریں‘کسی کو ہدایت دینے یا نہ دینے کا معاملہ ہم سے متعلق ہے۔

اَفَاَنۡتَ تُکۡرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوۡنُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۹۹﴾

’’تو کیا آپ لوگوں کو مجبور کر دیں گے کہ وہ ضرور ایمان لے آئیں!‘‘

اصل میں یہ ساری باتیں حضورﷺ کے دل مبارک کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ آپؐ ہر وقت دعوت و تبلیغ کیِ جدوجہد میں مصروف ہیں‘ پھر آپؐ کو یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں اس ضمن میں میری طرف سے کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔ جیسے سورۃ الاعراف (آیت ۲ میں) فرمایا: {فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ} کہ آپﷺ کے دل میں فرائض رسالت کے سلسلے میں کسی قسم کی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔ اوران لوگوں کے پیچھے آپﷺ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔

آیت 100

وَ مَا کَانَ لِنَفۡسٍ اَنۡ تُؤۡمِنَ اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’کسی جان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ وہ ایمان لائے مگر اللہ کے اذن سے ۔‘‘

وَ یَجۡعَلُ الرِّجۡسَ عَلَی الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾

’’اور وہ گندگی مسلط کر دیتا ہے اُن لوگوں پر جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘

101-103

ایمان اللہ کی آیات پر غوروفکر سے حاصل ہوتا ہے

ویڈیو

قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ فَہَلۡ یَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَیَّامِ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾ ثُمَّ نُنَجِّیۡ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کَذٰلِکَ ۚ حَقًّا عَلَیۡنَا نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۱۰۳﴾

آیت 101

قُلِ انۡظُرُوۡا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’ان سے کہیے کہ دیکھو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے۔‘‘

زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بے شمار نشانیاں ہیں‘ ان کو بنظر غائردیکھنے کی ضرورت ہے ۔

وَ مَا تُغۡنِی الۡاٰیٰتُ وَ النُّذُرُ عَنۡ قَوۡمٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾

’’لیکن یہ نشانیاں اور ڈراوے ان لوگوں کے کچھ کام نہیں آتے جو ایمان نہیں لانا چاہتے۔‘‘

آیت 102

فَہَلۡ یَنۡتَظِرُوۡنَ اِلَّا مِثۡلَ اَیَّامِ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’تو کیا یہ منتظر ہیں اسی طرح کے دنوں کے جیسے ان سے پہلے لوگوں پر گزر چکے ہیں؟‘‘

رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں پر آنے والے عذابِ استیصال والے دنوں کو قرآن حکیم میں ’’ایام اللہ‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ لوگ ایسے دنوں کے منتظر ہیں جو قومِ نوحؑ یا قومِ ہودؑیا قومِ صالحؑ یا قومِ لوطؑ کو دیکھنے پڑے تھے؟

قُلۡ فَانۡتَظِرُوۡۤا اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿۱۰۲﴾

’’ کہہ دیجیے کہ پس انتظار کرو‘میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں ہوں۔‘‘

آیت 103

ثُمَّ نُنَجِّیۡ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کَذٰلِکَ ۚ حَقًّا عَلَیۡنَا نُنۡجِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۱۰۳﴾

’’ پھر ہم نجات دیتے رہے ہیں اپنے رسولوںؑ کو اور اہل ایمان کو۔اسی طرح ہمارے اوپر حق ہے کہ ہم اہلِ ایمان کو نجات دیں۔‘‘

جیسے حضرت نوح ‘حضرت ہود اور حضرت صالح علیہم السلام کی قوموں میں سے جو لوگ ایمان لے آئے انہیں بچا لیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں میں سے کوئی ایک خوش قسمت بھی نہ نکلا کہ اسے بچایا جاتا۔ حضرت لوط علیہ السلام صرف اپنی دو بیٹیوں کو لے کر وہاں سے نکلے تھے‘ جبکہ ان کی اپنی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب کا نشانہ بنی۔

یوٹیوب پر دیکھیے