وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ
’’ اور ان کو سنائیے نوحؑ کی خبر۔‘‘
اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَ تَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ
’’ جب اُسؑ نے کہا اپنی قوم سے کہ اے میری قوم کے لوگو! اگر تم پر بڑا بھاری گزر رہا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ نصیحت کرنا‘‘
میرا دعوتِ حق کے ساتھ کھڑا ہونا اور تبلیغ و تذکیر کا میرا یہ عمل اگر تم پر بہت شاق گزر رہا ہے کہ تم میرا مذاق اڑاتے ہو اور مجھ پر آوازے کستے ہو تو مجھے تمہاری مخالفت کی کوئی پروا نہیں۔
فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَ شُرَکَآءَکُمۡ
’’تو میں نے بس اللہ پر توکل کر لیا ہے‘ پس تم جمع کر لو اپنے سارے ذرائع اور اپنے شریکوں کو (بھی بلا لو)‘‘
ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۷۱﴾
’’پھر تم پر تمہارا معاملہ کسی اشتباہ میں نہ رہ جائے ‘پھر جو فیصلہ میرے بارے میں کرنا ہے کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔‘‘
اس طرزِ تخاطب سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا دل اپنی قوم کے رویے کی وجہ سے کس قدر دکھا ہوا تھا‘ اور ایسا ہونا بالکل فطری عمل تھا ۔ اللہ کے اس بندے نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو سمجھانے اور نصیحت کرنے میں دن رات ایک کر دیاتھا‘اپنا آرام و سکون تک قربان کر دیاتھا ‘مگر وہ قوم تھی کہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔ بہر حال ان الفاظ میں اللہ کے رسولؑ کی طرف سے ایک آخری بات چیلنج کے انداز میں کہی جا رہی ہے کہ تم لوگ اپنی ساری قوتیں مجتمع کر لو‘تمام وسائل اکٹھے کر لو اور پھر میرے ساتھ جو کر سکتے ہو کر گزرو!