تحریر

يونس

آیات ۷۱ تا ۹۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

71-73

حضرت نوح ؑ کا پُر سوزوعظ۔

ویڈیو

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَ تَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَ شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۷۱﴾ فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ فَمَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ؕ اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۙوَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۷۲﴾ فَکَذَّبُوۡہُ فَنَجَّیۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ فِی الۡفُلۡکِ وَ جَعَلۡنٰہُمۡ خَلٰٓئِفَ وَ اَغۡرَقۡنَا الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۷۳﴾

تمہید

اب انبا ء الرسل کے سلسلے میں دو رکوع آ رہے ہیں‘ جن کا آغازِ سورت میں ذکر ہوا تھا کہ ان میں پہلے حضرت نوح علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ (آدھے رکوع میں) ہے اور بعد میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر قدرے تفصیل سے (ڈیڑھ رکوع میں)آیاہے۔ درمیان میں صرف حوالہ دیا گیا ہے کہ ہم نے مختلف قوموں کی طرف رسولوں کو بھیجا‘اس سلسلے میں کسی رسولؑ کانام نہیں لیا گیا۔

آیت 71

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ نُوۡحٍ ۘ

’’ اور ان کو سنائیے نوحؑ کی خبر۔‘‘

اِذۡ قَالَ لِقَوۡمِہٖ یٰقَوۡمِ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکُمۡ مَّقَامِیۡ وَ تَذۡکِیۡرِیۡ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ

’’ جب اُسؑ نے کہا اپنی قوم سے کہ اے میری قوم کے لوگو! اگر تم پر بڑا بھاری گزر رہا ہے میرا کھڑا ہونا اور اللہ کی آیات کے ساتھ نصیحت کرنا‘‘

میرا دعوتِ حق کے ساتھ کھڑا ہونا اور تبلیغ و تذکیر کا میرا یہ عمل اگر تم پر بہت شاق گزر رہا ہے کہ تم میرا مذاق اڑاتے ہو اور مجھ پر آوازے کستے ہو تو مجھے تمہاری مخالفت کی کوئی پروا نہیں۔

فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡتُ فَاَجۡمِعُوۡۤا اَمۡرَکُمۡ وَ شُرَکَآءَکُمۡ

’’تو میں نے بس اللہ پر توکل کر لیا ہے‘ پس تم جمع کر لو اپنے سارے ذرائع اور اپنے شریکوں کو (بھی بلا لو)‘‘

ثُمَّ لَا یَکُنۡ اَمۡرُکُمۡ عَلَیۡکُمۡ غُمَّۃً ثُمَّ اقۡضُوۡۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۷۱﴾

’’پھر تم پر تمہارا معاملہ کسی اشتباہ میں نہ رہ جائے ‘پھر جو فیصلہ میرے بارے میں کرنا ہے کر گزرو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔‘‘

اس طرزِ تخاطب سے اندازہ ہو رہا ہے کہ حضرت نوح علیہ السلام کا دل اپنی قوم کے رویے کی وجہ سے کس قدر دکھا ہوا تھا‘ اور ایسا ہونا بالکل فطری عمل تھا ۔ اللہ کے اس بندے نے ساڑھے نو سو سال تک اپنی قوم کو سمجھانے اور نصیحت کرنے میں دن رات ایک کر دیاتھا‘اپنا آرام و سکون تک قربان کر دیاتھا ‘مگر وہ قوم تھی کہ ٹس سے مس نہیں ہوئی تھی۔ بہر حال ان الفاظ میں اللہ کے رسولؑ کی طرف سے ایک آخری بات چیلنج کے انداز میں کہی جا رہی ہے کہ تم لوگ اپنی ساری قوتیں مجتمع کر لو‘تمام وسائل اکٹھے کر لو اور پھر میرے ساتھ جو کر سکتے ہو کر گزرو!

آیت 72

فَاِنۡ تَوَلَّیۡتُمۡ

’’پھر اگر تم (اس سے )اعراض کرو ‘‘

فَمَا سَاَلۡتُکُمۡ مِّنۡ اَجۡرٍ ؕ

’’تومیں نے تم لوگوں سے (کبھی) کوئی اجر تو نہیں مانگا۔‘‘

یعنی پھر اگر تم اس چیلنج کا سامنا نہ کر سکو اور میرے خلاف آخری اقدام کرنے کا حوصلہ بھی نہ کر پاؤ تو پھر ذرا ٹھنڈے دماغ سے سوچو تو سہی کہ میں پچھلے ساڑے نو سو سال سے تمہیں راہِ راست پر لانے کی جو جدوجہد کررہا ہوں اس کے عوض میں نے تم لوگوں سے کوئی معاوضہ ‘کوئی اُجرت‘کوئی تعریف و توصیف‘کوئی شاباش‘ الغرض کچھ بھی طلب نہیں کیا۔ تو کیا میرے اس طرز عمل سے تم لوگوں کو اتنی سی بات بھی سمجھ نہیں آتی کہ اس میں میرا کوئی ذاتی مفاد نہیں ہے؟ معلوم ہوتا ہے کہ وہ لوگ حضرت نوح علیہ السلام کا چیلنج قبول کرکے ان کے خلاف اقدام کرنے سے گریزاں تھے۔ انہیں ڈر تھا کہ اگر ہم نے انہیں قتل کر دیا تو ہم پر کوئی بڑی مصیبت نازل ہو جائے گی۔

اِنۡ اَجۡرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ ۙوَ اُمِرۡتُ اَنۡ اَکُوۡنَ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۷۲﴾

’’میرا اجر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے اور مجھے حکم ہو ا ہے کہ میں اس کے فرمانبردار بندوں میں سے رہوں۔‘‘

آیت 73

فَکَذَّبُوۡہُ فَنَجَّیۡنٰہُ وَ مَنۡ مَّعَہٗ فِی الۡفُلۡکِ وَ جَعَلۡنٰہُمۡ خَلٰٓئِفَ

’’تو انہوں نے (پھر بھی) جھٹلا دیا اُسؑ کو‘تو ہم نے نجات دے دی اُس کو اور جو بھی اُس کے ساتھ تھے کشتی میں اور ان کو بنا دیا جانشین‘‘

انہی لوگوں کو ہم نے زمین میں خلافت عطا کی۔

وَ اَغۡرَقۡنَا الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الۡمُنۡذَرِیۡنَ ﴿۷۳﴾

’’اور غرق کر دیا ہم نے ان لوگوں کوجنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی تھی ‘تو دیکھو کیسا انجام ہوا ان لوگوں کاجنہیں خبردار کر دیا گیا تھا!‘‘

74

اللہ سرکشوں کے دلوں پر مہرلگادیتا ہے

ویڈیو

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رُسُلًا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ فَجَآءُوۡہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ فَمَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا بِہٖ مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَذٰلِکَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۷۴﴾

آیت 74

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہٖ رُسُلًا اِلٰی قَوۡمِہِمۡ فَجَآءُوۡہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ

’’پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد بہت سے رسولوں کو اُن کی ( اپنی اپنی ) قوموںکی طرف ‘تو وہ (سب کے سب) آئے اُن کے پاس روشن دلیلیں لے کر‘‘

فَمَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا بِمَا کَذَّبُوۡا بِہٖ مِنۡ قَبۡلُ ؕ کَذٰلِکَ نَطۡبَعُ عَلٰی قُلُوۡبِ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿۷۴﴾

’’لیکن وہ (ساری روشن دلیلیں دیکھنے کے باوجود بھی) اُس چیز پر ایمان لانے والے نہ بنے جس کا پہلے انکار کر چکے تھے۔اسی طرح ہم مہر کر دیا کرتے ہیںحد سے تجاوز کرنے والوں کے دلوں پر۔‘‘

75-82

حضرت موسیٰ ؑ اور آلِ فرعون کی کشمکش

ویڈیو

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾ فَلَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰذَا لَسِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۶﴾ قَالَ مُوۡسٰۤی اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَکُمۡ ؕ اَسِحۡرٌ ہٰذَا ؕ وَ لَا یُفۡلِحُ السّٰحِرُوۡنَ ﴿۷۷﴾ قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا وَ تَکُوۡنَ لَکُمَا الۡکِبۡرِیَآءُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا نَحۡنُ لَکُمَا بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾ وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ائۡتُوۡنِیۡ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۷۹﴾ فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴿۸۰﴾ فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا قَالَ مُوۡسٰی مَا جِئۡتُمۡ بِہِ ۙ السِّحۡرُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَیُبۡطِلُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾ وَ یُحِقُّ اللّٰہُ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾

تمہید

عام طور پر قرآن حکیم میں انباء الرسل کے ضمن میں چھ رسولوں کا تذکرہ بار بار آیاہے ‘لیکن یہاں اختصار کے ساتھ حضرت نوح علیہ السلام کا صرف تین آیات میں ذکر کیا گیا ہے۔ پھر اس ایک آیت (۷۴)میں باقی تمام رسولوں کا نام لیے بغیر صرف حوالہ دے دیا گیا ہے اور اس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر قدرے تفصیل سے ہوا ہے۔

آیت 75

ثُمَّ بَعَثۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ مُّوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ اِلٰی فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہٖ بِاٰیٰتِنَا

’’پھر بھیجا ہم نے ان کے بعد موسیٰ اور ہارون ( علیہما السلام)کو فرعون اور اس کے سرداروں کی جانب اپنی نشانیوں کے ساتھ‘‘

فَاسۡتَکۡبَرُوۡا وَ کَانُوۡا قَوۡمًا مُّجۡرِمِیۡنَ ﴿۷۵﴾

’’تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ تھے مجرم لوگ۔‘‘

آیت 76

فَلَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ مِنۡ عِنۡدِنَا قَالُوۡۤا اِنَّ ہٰذَا لَسِحۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿۷۶﴾

’’تو جب ا ن کے پاس حق آیا ہماری طرف سے توانہوں نے کہا یہ تو کھلا جادو ہے۔‘‘

آیت 77

قَالَ مُوۡسٰۤی اَتَقُوۡلُوۡنَ لِلۡحَقِّ لَمَّا جَآءَکُمۡ ؕ

’’موسیٰؑ نے کہا کہ کیا تم لوگ حق کے بارے میں یہ کہہ رہے ہوجبکہ وہ تمہارے پاس آ پہنچا ہے ۔‘‘

اَسِحۡرٌ ہٰذَا ؕ وَ لَا یُفۡلِحُ السّٰحِرُوۡنَ ﴿۷۷﴾

’’کیا یہ جادو ہے؟اور جادو گر تو کبھی فلاح نہیں پایاکرتے۔‘‘

آیت 78

قَالُوۡۤا اَجِئۡتَنَا لِتَلۡفِتَنَا عَمَّا وَجَدۡنَا عَلَیۡہِ اٰبَآءَنَا

’’انہوں نے کہا کہ کیا تم ہمارے پاس اس لیے آئے ہو کہ ہمیں پھیر دو اُن طریقوں سے جن پر پایا ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو‘‘

وَ تَکُوۡنَ لَکُمَا الۡکِبۡرِیَآءُ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا نَحۡنُ لَکُمَا بِمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۷۸﴾

’’اور تم دونوں کی بڑائی قائم ہوجائے زمین میں؟اور ہم ہرگز تم دونوں کی بات ماننے والے نہیں ہیں۔‘‘

یعنی تم دونوں (حضرت موسیٰ اور ہارون علیہما السلام) یہاں اپنی بادشاہی قائم کرنا چاہتے ہو۔ اس اندیشے کی وجہ یہ تھی کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اہل مصر کو بندگیٔ رب کی جو دعوت دے رہے تھے اس سے وہ مشرکانہ نظام خطرے میں تھا جس پر فرعون کی بادشاہی‘ اس کے سرداروں کی سرداری اور مذہبی پیشوائوں کی پیشوائی قائم تھی۔

آیت 79

وَ قَالَ فِرۡعَوۡنُ ائۡتُوۡنِیۡ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۷۹﴾

’’اور فرعون نے کہا کہ لے آؤ میرے پاس تمام ماہر جادو گروں کو۔‘‘

آیت 80

فَلَمَّا جَآءَ السَّحَرَۃُ قَالَ لَہُمۡ مُّوۡسٰۤی اَلۡقُوۡا مَاۤ اَنۡتُمۡ مُّلۡقُوۡنَ ﴿۸۰﴾

’’اور جب وہ جادوگر آگئے تو موسیٰؑ نے ان سے فرمایاکہ ڈالو جو تم ڈالنے والے ہو۔‘‘

آیت 81

فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا قَالَ مُوۡسٰی مَا جِئۡتُمۡ بِہِ ۙ السِّحۡرُ ؕ

’’اورجب انہوں نے ڈال دیاتو موسیٰؑ نے فرمایا کہ تم لوگ جو کچھ لائے ہو یہ جادو ہے۔‘‘

یعنی جادو وہ نہ تھاجو میں نے دکھایا تھا‘ بلکہ جادو یہ ہے جو تم دکھا رہے ہو۔

اِنَّ اللّٰہَ سَیُبۡطِلُہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُصۡلِحُ عَمَلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۸۱﴾

’’یقینا اللہ اسے ابھی باطل کر دے گا۔بے شک اللہ مفسدوں کے عمل کو کامیاب نہیں کرتا۔‘‘

اللہ تعالیٰ ابھی تمہاری شعبدہ بازی کا باطل ہونا ثابت کردے گا‘ اسے نیست و نابود کر دے گا‘ ہَبَائً مَنْثُوْرًا کر دے گا۔ اللہ تعالیٰ فساد برپا کرنے والوں کے عمل کو نتیجہ خیز نہیں ہونے دیتا۔

آیت 82

وَ یُحِقُّ اللّٰہُ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿٪۸۲﴾

’’ اور اللہ تو حق کو حق ثابت کرتا ہے اپنے کلمات سے ‘خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

83-86

حق قبول کرنے میں سبقت نوجوان کرتے ہیں

ویڈیو

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ عَلٰی خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہِمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾ وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰقَوۡمِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِیۡنَ ﴿۸۴﴾ فَقَالُوۡا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾ وَ نَجِّنَا بِرَحۡمَتِکَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۶﴾

آیت 83

فَمَاۤ اٰمَنَ لِمُوۡسٰۤی اِلَّا ذُرِّیَّۃٌ مِّنۡ قَوۡمِہٖ

’’تو کوئی ایمان نہیں لایا موسیٰؑ پر مگر چند نوجوان اُس کی قوم میں سے‘‘

عَلٰی خَوۡفٍ مِّنۡ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَا۠ئِہِمۡ اَنۡ یَّفۡتِنَہُمۡ ؕ

’’ڈرتے ہوئے فرعون اور اپنے سرداروں سے کہ وہ اُن کو مصیبت میں مبتلا نہ کر دیں۔‘‘

اُس وقت مصر پر قبطی قوم حکمران تھی‘ جسے قرآن نے ’’آلِ فرعون‘‘ کہا ہے اور اسرائیلی ان کے محکوم تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم بنی اسرائیل کی آزادی کے علمبردار تھے‘ لیکن اس کے باوجود بنی اسرائیل میں سے بھی صرف چند نوجوان لڑکوں نے ہی آپؑ کی دعوت پر لبیک کہا تھا۔ دراصل غلام ہونے کی وجہ سے وہ لوگ فرعون اور اس کے سرداروں کے مظالم سے خوف زدہ تھے۔ عام طور پرہر محکوم قوم کے ساتھ اسی طرح ہوتا ہے کہ اس کے کچھ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے حکمرانوں سے مل جاتے ہیں اور حکمران انہیں مراعات اور خطابات سے نواز کر ان کی وفاداریاں خرید لیتے ہیں۔ چنانچہ بنی اسرائیل میں سے بھی کچھ لوگ فرعون کے ایجنٹ بن چکے تھے ۔ اس کی سب سے بڑی مثال قارون کی ہے۔ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم میں سے تھا‘مگر فرعون کا درباری اور اس کا ایجنٹ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف سازشیں کرتا رہتا تھا (اس کا تفصیلی ذکر سور ۃ القصص میں ہے)۔بہر حال بنی اسرائیل کے عام لوگ ایسے مخبروں کے ڈر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قریب ہونے سے گریز کرتے تھے۔ نوجوان چونکہ با ہمت اور پر جوش ہوتے ہیں‘ اس لیے وہ اس طرح کی انقلابی آواز پر لبیک کہنے کا خطرہ مول لے لیتے ہیں‘ جبکہ اسی قوم کے ادھیڑ عمر لوگ کم ہمتی اور مصلحتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ پورا فلسفہ اس آیت میں موجود ہے۔ان آیات کے نزول کے وقت اہل مکہ میں سے بھی محمد رسول اللہﷺ کا ساتھ دینے کے لیے جو لوگ آگے بڑھ رہے تھے وہ چند باہمت نوجوان ہی تھے‘ نہ کہ مصلحت کوش بوڑھے۔

وَ اِنَّ فِرۡعَوۡنَ لَعَالٍ فِی الۡاَرۡضِ ۚ وَ اِنَّہٗ لَمِنَ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾

’’ اور یقینا فرعون زمین میں بہت سرکشی کر رہا تھا ‘اور وہ یقینا حد سے بڑھ جانے والوں میں سے تھا۔‘‘

آیت 84

وَ قَالَ مُوۡسٰی یٰقَوۡمِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اٰمَنۡتُمۡ بِاللّٰہِ فَعَلَیۡہِ تَوَکَّلُوۡۤا اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّسۡلِمِیۡنَ ﴿۸۴﴾

’’اورموسیٰؑ نے کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! اگر تم اللہ پر ایمان لے آئے ہو تو اب اُسی پر توکل بھی کرواگر تم واقعتافرمانبردار بن گئے ہو۔‘‘

آیت 85

فَقَالُوۡا عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلۡنَا ۚ رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا فِتۡنَۃً لِّلۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۸۵﴾

’’تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اللہ پر توکل کیا۔ اے ہمارے رب! تو ہمیں ان ظالموں کے لیے تختۂ مشق نہ بنا دے۔‘‘

اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہم ا پنا معاملہ اسی کے حوالے کرتے ہیں۔ پروردگار! اب ایسا نہ ہو کہ ہمارے ذریعے سے تو ان کو آزمائے۔ جیسے ابو جہل اگر آلِ یاسر پر ظلم ڈھاتا تھا تو اللہ کے ہاں یہ اس کی بھی آزمائش ہو رہی تھی ‘لیکن اس آزمائش میں تختۂ مشق حضرت یاسر اور حضرت سمیہ رضی اللہ عنہمابن رہے تھے۔

آیت 86

وَ نَجِّنَا بِرَحۡمَتِکَ مِنَ الۡقَوۡمِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۸۶﴾

’’اور ہمیں اپنی رحمت سے اس کافر قوم سے نجات عطا فرما۔‘‘

87

حضرت موسیٰ ؑ کا قبلہ بھی خانہ کعبہ تھا

ویڈیو

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰی وَ اَخِیۡہِ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِکُمَا بِمِصۡرَ بُیُوۡتًا وَّ اجۡعَلُوۡا بُیُوۡتَکُمۡ قِبۡلَۃً وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۷﴾

آیت 87

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰی وَ اَخِیۡہِ اَنۡ تَبَوَّاٰ لِقَوۡمِکُمَا بِمِصۡرَ بُیُوۡتًا

’’اور ہم نے وحی کی موسیٰؑ اور اس کے بھائی (ہارونؑ) کو کہ تم اپنی قوم کے لیے مصر میں کچھ گھر معین کر لو‘‘

ان گھروں میں جمع ہو کر تم لوگ اللہ کی عباد ت کیا کرو۔ اسی طرح کا انتظام حضورﷺ نے بھی اپنی دعوت کے ابتدائی زمانہ میں کیا تھاجب آپﷺ نے دارِ ارقم کو دعوتی اور تنظیمی سرگرمیوں کے لیے مختص فرمایا تھا۔

وَّ اجۡعَلُوۡا بُیُوۡتَکُمۡ قِبۡلَۃً

’’اور بناؤ اپنے گھروں کو قبلہ رخ‘‘

فرعون کے ڈر سے وہ لوگ مسجد تو بنا نہیں سکتے تھے‘ اس لیے انہیں حکم دیا گیا کہ اپنے گھروں کو تعمیر ہی قبلہرخ کرو‘تا کہ وہاں تم نمازیں پڑھا کرو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں بھی قبلہ معین تھا جبکہ بیت المقدس تو ابھی بنا ہی نہیں تھا۔ بیت المقدس تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے سے ایک ہزار سال بعد حضرت سلیمان علیہ السلام نے تعمیر فرمایا تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپؑ کی قوم کا قبلہ یہی بیت اللہ تھا۔ تورات میں ان کی قربان گاہوں کے خیموں کے بارے میں تفصیل ملتی ہے کہ یہ خیمے اس طرح نصب کیے جاتے تھے کہ جب کوئی شخص قربانی پیش کرتا تھا تو اس کا رخ سیدھا قبلہ کی طرف ہوتا تھا۔

وَّ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۸۷﴾

’’اور نماز قائم رکھو ‘اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دو۔‘‘

88-89

حضرت موسیٰ ؑ کی آلِ فرعون کے خلاف بددعا

ویڈیو

وَ قَالَ مُوۡسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَاَہٗ زِیۡنَۃً وَّ اَمۡوَالًا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ رَبَّنَا لِیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِکَ ۚ رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤی اَمۡوَالِہِمۡ وَ اشۡدُدۡ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَلَا یُؤۡمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۸۸﴾ قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۹﴾

آیت 88

وَ قَالَ مُوۡسٰی رَبَّنَاۤ اِنَّکَ اٰتَیۡتَ فِرۡعَوۡنَ وَ مَلَاَہٗ زِیۡنَۃً وَّ اَمۡوَالًا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۙ

’’اور موسیٰؑ نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار! تو نے فرعون اور اس کے سرداروں کو سامانِ زیب و زینت اور اموال عطا کر دیے ہیں دنیا کی زندگی میں‘‘

رَبَّنَا لِیُضِلُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِکَ ۚ

’’پروردگار! اس لیے کہ وہ لوگوں کو گمراہ کریں تیرے راستے سے!‘‘

ان کے پاس طاقت ہے‘اقتدار ہے ‘اختیار ہے‘دولت ہے ‘جاہ وحشم ہے۔ لوگ ان کے رعب و دبدبے کے خوف اور مال و دولت کے لالچ سے گمراہ ہو رہے ہیں۔ پروردگار !کیا تو نے انہیں یہ سب کچھ اس لیے دے رکھا ہے کہ وہ تیرے بندوں کو تیرے سیدھے راستے سے گمراہ کریں؟

رَبَّنَا اطۡمِسۡ عَلٰۤی اَمۡوَالِہِمۡ وَ اشۡدُدۡ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ

’’اے ہمارے رب! اب ان کے اموال کو برباد کر دے اور ان کے دلوں میں سختی پیدا کر دے‘‘

فَلَا یُؤۡمِنُوۡا حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۸۸﴾

’’کہ یہ ایمان نہ لائیں جب تک کہ یہ کھلم کھلا دیکھ نہ لیں عذابِ الیم کو۔‘‘

اور جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے تو پھر ان کا ایمان انہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا ‘کیونکہ اُس وقت کا ایمان اللہ کے ہاں معتبر نہیں ہے۔

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی آلِ فرعون سے بیزاری کی آخری حد ہے۔ اگرچہ نبی ایک ایک فرد کے لیے ایمان کا خواہش مند ہوتا ہے ‘ مگر فرعون اور اس کے سرداراہل ایمان کو ستانے اور اذیتیں دینے میں اس حد تک آگے جا چکے تھے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام خود اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ اے اللہ! اب ان لوگوں کے دلوں کو سخت کر دے‘ان کے دلوں پر مہریں لگا دے‘ تا کہ تیرا عذاب آنے تک انہیں ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ اس لیے کہ جو کچھ انہوں نے اللہ اور اہل ایمان کی دشمنی میں کیا ہے اس کی سزا انہیں مل جائے۔

آیت 89

قَالَ قَدۡ اُجِیۡبَتۡ دَّعۡوَتُکُمَا فَاسۡتَقِیۡمَا

’’اللہ نے فرمایا کہ (ٹھیک ہے ) تم دونوں کی دُعا قبول کر لی گئی ‘اب تم دونوں بھی قائم رہو‘‘

ایسا نہ ہو کہ وقت آنے پر تمہارا دل پسیج جائے اور پھر دعا کرنے لگو کہ اے اللہ اب ان کو معاف فرما دے!

وَ لَا تَتَّبِعٰٓنِّ سَبِیۡلَ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۸۹﴾

’’اور ان لوگوں کے راستے کی پیروی مت کرنا جو علم نہیں رکھتے‘‘

90-92

فرعون کا عبرتناک انجام

ویڈیو

وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَ جُنُوۡدُہٗ بَغۡیًا وَّ عَدۡوًا ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۹۰﴾ آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾ فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪۹۲﴾

آیت 90

وَ جٰوَزۡنَا بِبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡبَحۡرَ

’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو پار اتار دیا سمندر ( یا دریا) کے‘‘

فَاَتۡبَعَہُمۡ فِرۡعَوۡنُ وَ جُنُوۡدُہٗ بَغۡیًا وَّ عَدۡوًا ؕ

’’پھر ان کا پیچھا کیا فرعون اور اس کے لشکر وں نے سرکشی اور زیادتی کی غرض سے۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَدۡرَکَہُ الۡغَرَقُ ۙ

’’یہاں تک کہ جب پا لیا اُسے غرق نے‘‘

یعنی جب فرعون غرق ہونے لگا تو:

قَالَ اٰمَنۡتُ اَنَّہٗ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا الَّذِیۡۤ اٰمَنَتۡ بِہٖ بَنُوۡۤا اِسۡرَآءِیۡلَ وَ اَنَا مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ ﴿۹۰﴾

’’کہنے لگا کہ میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں سوائے اُس کے جس پر بنی اسرائیل ایمان لائے ہیں‘اور میں (اُس کے) فرماں برداروں میں سے ہوں۔‘‘

آیت 91

آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ عَصَیۡتَ قَبۡلُ وَ کُنۡتَ مِنَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۹۱﴾

’’کیا اب (توایمان لا رہا ہے )؟ حالانکہ اس سے پہلے تو نا فرمانی کرتا رہا ہے اور تو فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔‘‘

آیت 92

فَالۡیَوۡمَ نُنَجِّیۡکَ بِبَدَنِکَ لِتَکُوۡنَ لِمَنۡ خَلۡفَکَ اٰیَۃً ؕ

’’تو آج ہم تمہارے بدن کو بچائیں گے تاکہ تو اپنے بعد والوں کے لیے ایک نشانی بنا رہے ۔‘‘

یعنی تمہارے جسم کو محفوظ رکھا جائے گا‘اس کو گلنے سڑنے نہیں دیا جائے گا تا کہ بعد میں آنے والے اسے دیکھ کر عبرت حاصل کر سکیں۔ چنانچہ غرق ہونے کے کچھ عرصہ بعد فرعون کی لاش کنارے پر پائی گئی تھی‘ صرف اس کے ناک کو کسی مچھلی وغیرہ نے کاٹا تھا‘باقی لاش صحیح سلامت تھی اور آج تک قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔

وَ اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ النَّاسِ عَنۡ اٰیٰتِنَا لَغٰفِلُوۡنَ ﴿٪۹۲﴾

’’اور یقینا بہت سے لوگ ہماری آیات سے غفلت ہی برتتے رہتے ہیں۔‘‘

93

بنی اسرائیل کی ناشکری

ویڈیو

وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾

آیت 93

وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ

’’اور ہم نے بنی اسرائیل کو بہت ہی عمدہ جگہ فراہم کر دی اور ہم نے انہیں پاکیزہ روزی دی۔‘‘

فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ

’’پھر انہوں نے اختلاف نہیں کیایہاں تک کہ ان کے پاس علم آگیا۔‘‘

یعنی انہوں نے اُس وقت اختلاف کیا اور تفرقے برپا کیے جبکہ ان کے پاس علم آ چکا تھا۔ انہوں نے ایسا ناواقفیت کی بنیاد پر مجبوراً نہیں کیا تھا‘ بلکہ یہ سب کچھ ان کے اپنے نفس کی شرارتوں کا نتیجہ تھا۔

اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۹۳﴾

’’یقینا آپؐ کا رب فیصلہ کرے گا ان کے مابین قیامت کے دن‘جن چیزوں میں وہ اختلاف کرتے رہے تھے۔‘‘

94-97

بنی اسرائیل کی راہ پر مت چلو

ویڈیو

فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ فَسۡـَٔلِ الَّذِیۡنَ یَقۡرَءُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ لَقَدۡ جَآءَکَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾ وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۹۵﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ حَقَّتۡ عَلَیۡہِمۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾ وَ لَوۡ جَآءَتۡہُمۡ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۹۷﴾

آیت 94

فَاِنۡ کُنۡتَ فِیۡ شَکٍّ مِّمَّاۤ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکَ

’’پھر اگر آپؐ کو کوئی شک ہے اُس چیز کے بارے میں جو ہم نے آپؐ پر نازل کی ہے ‘‘

یہاں خطاب بظاہر محمد رسول اللہﷺ سے ہے‘ لیکن اس بات کا تو قطعاً کوئی امکان نہیں کہ آپﷺ کو اس میں کوئی شک ہوتا‘لہٰذا اصل میں روئے سخن اہل مکہ کی طرف ہے۔ بعض اوقات جس سے بات کرنا مقصود ہوتا ہے اس کے رویے کی وجہ سے اس سے اس قدر نفرت ہو جاتی ہے کہ اسے براہِ راست مخاطب کرنا مناسب نہیں سمجھا جاتا۔ ایسی صورت میں کسی دوسرے شخص سے بات کی جاتی ہے تاکہ اصل مخاطب بالواسطہ طور پر اسے سن لے۔ چنانچہ اس کا مطلب یہی ہے کہ اے مشرکینِ مکہ !اگر تم لوگوں کو اس کتاب کے بارے میں کوئی شک ہے جو ہم نے اپنے رسولﷺ پر ناز ل کی ہے:

فَسۡـَٔلِ الَّذِیۡنَ یَقۡرَءُوۡنَ الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۚ

’’تو پوچھ لیجیے ان لوگوں سے جن کو کتاب دی گئی تھی آپؐ سے پہلے۔‘‘

لَقَدۡ جَآءَکَ الۡحَقُّ مِنۡ رَّبِّکَ فَلَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡمُمۡتَرِیۡنَ ﴿ۙ۹۴﴾

’’(اے نبیﷺ! )آپ کے پاس حق آیا ہے آپ کے رب کی طرف سے ‘تو ہر گز نہ ہو جائیں آپ شک کرنے والوں میں سے۔‘‘

یہ اُسی اندازِ تخاطب کا تسلسل ہے کہ حضورﷺ کو مخاطب کر کے مشرکین مکہ کو سنایا جا رہا ہے۔

آیت 95

وَ لَا تَکُوۡنَنَّ مِنَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَتَکُوۡنَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۹۵﴾

’’اور مت ہوجاناان لوگوں میں سے جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا‘ورنہ تم ہو جاؤ گے خسارہ پانے والوں میں سے۔‘‘

آیت 96

اِنَّ الَّذِیۡنَ حَقَّتۡ عَلَیۡہِمۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۙ۹۶﴾

’’یقینا جن لوگوں پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

جو لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے قانونِ خداوندی کی زد میں آ چکے ہیں ااوران کے دلوں پر آخری مہر لگ چکی ہے ‘اب ایسے لوگوں کو ایمان نصیب نہیں ہو گا۔

آیت 97

وَ لَوۡ جَآءَتۡہُمۡ کُلُّ اٰیَۃٍ حَتّٰی یَرَوُا الۡعَذَابَ الۡاَلِیۡمَ ﴿۹۷﴾

’’اور چاہے ان کے پاس ساری ہی نشانیاں آ جائیں (اب وہ ایمان نہیں لائیں گے) جب تک کہ عذابِ الیم کو دیکھ نہ لیں۔‘‘

جیسا کہ فرعون کا معاملہ ہوا کہ جب غرق ہونے لگا تب ایمان لایا۔

98

توبہ سے عذاب ٹل جاتا ہے ٠ ٠ ٠ قومِ یونس کی مثال

ویڈیو

فَلَوۡ لَا کَانَتۡ قَرۡیَۃٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمَانُہَاۤ اِلَّا قَوۡمَ یُوۡنُسَ ؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفۡنَا عَنۡہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ مَتَّعۡنٰہُمۡ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸﴾

آیت 98

فَلَوۡ لَا کَانَتۡ قَرۡیَۃٌ اٰمَنَتۡ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمَانُہَاۤ اِلَّا قَوۡمَ یُوۡنُسَ ؕ

’’تو کیوں نہ ہوئی کوئی بستی ایسی جو ایمان لاتی اور اُسے اُس کا ایمان نفع پہنچاتا سوائے قومِ یونس ؑکے؟‘‘

حضرت یونس علیہ السلام نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ آپؑ کی دعوت کے مقابلے میں آپؑ کی قوم انکار پر اڑی رہی۔ جب آخری حجت کے بعد ان لوگوں پر عذاب کا فیصلہ ہو گیا تو حضرت یونس علیہ السلام حمیت دینی کے جوش میں انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے جاتے انہیں یہ خبر دے گئے کہ اب تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آ جائے گا‘ جبکہ اللہ کی طر ف سے آپؑ کو اپنی قوم کو چھوڑ کر جانے کی ابھی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ایسے مواقع پر رسول ؑاپنی مرضی سے اپنی بستی کو نہیں چھوڑ سکتاجب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ ہجرت کا حکم نہ آ جائے(نبی کا معاملہ اس طرح سے نہیں ہوتا) ۔ محمد رسول اللہﷺ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپﷺ نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا تھا مگر آپﷺ نے خود اس وقت تک ہجرت نہیں فرمائی جب تک آپؐ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے با ضابطہ طور پر اس کی اجازت نہیں مل گئی تھی۔ سیرت کی کتابوں میں یہاں تک تفصیل ملتی ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے دو اونٹنیاں اس مقصد کے لیے تیار کر رکھی تھیں اور روزانہ آپؐ سے استفسار کرتے تھے کہ حضور! اجازت ملی یا نہیں؟

بہر حال حضرت یونس علیہ السلام کے جانے کے بعد جب عذاب کے آثار پیدا ہوئے تو پوری بستی کے لوگ اپنے بچوں‘ عورتوں اور مال مویشی کو لے کر باہر نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر توبہ کی۔ اللہ کے قانون کے مطابق تو عذاب کے آثارظاہر ہو جانے کے بعد نہ ایمان فائدہ مند ہوتا ہے اور نہ توبہ قبول کی جاتی ہے‘ مگر حضرت یونس علیہ السلام کے وقت سے پہلے ہجرت کر جانے کی وجہ سے اس قوم کے معاملے میں نرمی اختیار کی گئی اور ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے ان پر سے عذاب کو ٹال دیا گیا۔ یوں انسانی تاریخ میں ایک استثناء (exception) قائم ہو۱ کہ اس قوم کے لیے قانونِ خداوندی میں رعایت دی گئی ۔

لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفۡنَا عَنۡہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ مَتَّعۡنٰہُمۡ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸﴾

’’جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ہٹا دیا اُن سے دنیا کی زندگی میں وہ رسوا کن عذاب اور ایک وقت معین کے لیے ہم نے انہیں (فوائدِ دنیوی سے) بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے