وَ مَا تَکُوۡنُ فِیۡ شَاۡنٍ وَّ مَا تَتۡلُوۡا مِنۡہُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّ لَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ
’’اور (اے نبیﷺ!) نہیں ہوتے آپ کسی بھی کیفیت میں اور نہیں پڑھ رہے ہوتے آپ قرآن میں سے کچھ اور (اے مسلمانو!) تم نہیں کر رہے ہوتے کوئی بھی (اچھا)عمل‘‘
اِلَّا کُنَّا عَلَیۡکُمۡ شُہُوۡدًا اِذۡ تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ
’’مگر یہ کہ ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو۔‘‘
اس اندازِ تخاطب میں ایک خاص کیف ہے۔ پہلے واحد کے صیغے میں حضور اکرمﷺ سے خطاب ہے اور آپﷺ کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ آپ جس کیفیت میں بھی ہوں ‘قرآن پڑھ رہے ہوں یا پڑھ کر سنا رہے ہوں‘ ہم بذاتِ خود آپؐ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں‘آپؐ کی آواز سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر اسی خوشخبری کو جمع کے صیغے میں تمام مسلمانوں کے لیے عام کر دیا گیا ہے کہ تم لوگ جو بھی بھلائی کماتے ہو‘قربانیاں دیتے ہو‘ایثار کرتے ہو‘ہم خود اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم تمہارے ایک ایک عمل کے گواہ اور قدردان ہیں۔ ہمارے ہاں اپنے بندوں کے بارے میں تغافل یا نا قدری نہیں ہے۔
وَ مَا یَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرَ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۱﴾
’’ اور نہیں غائب ہوتی آپؐ کے رب سے زمین میں ایک ذرّہ کے برابر بھی کوئی شے اور نہ آسمانوں میں‘ اور نہ ہی اس سے کم تر کوئی شے اورنہ بڑی ‘مگر یہ کہ وہ ایک روشن کتاب میں درج ہے۔‘‘
کوئی ذرہ برابر چیز یا اس سے چھوٹی یا بڑی آسمانوں اور زمین میں ایسی نہیں ہے جو کبھی ربّ ذوالجلال کی نظر سے پوشیدہ ہو گئی ہو اور وہ ا یک روشن کتاب میں درج نہ ہو۔ یہ روشن کتاب اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے۔