تحریر

يونس

آیات ۶۱ تا ۷۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

61

تلاوتِ قرآن. . . اللہ کا محبوب عمل

ویڈیو

وَ مَا تَکُوۡنُ فِیۡ شَاۡنٍ وَّ مَا تَتۡلُوۡا مِنۡہُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّ لَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ اِلَّا کُنَّا عَلَیۡکُمۡ شُہُوۡدًا اِذۡ تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ وَ مَا یَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرَ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۱﴾

آیت 61

وَ مَا تَکُوۡنُ فِیۡ شَاۡنٍ وَّ مَا تَتۡلُوۡا مِنۡہُ مِنۡ قُرۡاٰنٍ وَّ لَا تَعۡمَلُوۡنَ مِنۡ عَمَلٍ

’’اور (اے نبیﷺ!) نہیں ہوتے آپ کسی بھی کیفیت میں اور نہیں پڑھ رہے ہوتے آپ قرآن میں سے کچھ اور (اے مسلمانو!) تم نہیں کر رہے ہوتے کوئی بھی (اچھا)عمل‘‘

اِلَّا کُنَّا عَلَیۡکُمۡ شُہُوۡدًا اِذۡ تُفِیۡضُوۡنَ فِیۡہِ ؕ

’’مگر یہ کہ ہم تمہارے پاس موجود ہوتے ہیں جب تم اس میں مصروف ہوتے ہو۔‘‘

اس اندازِ تخاطب میں ایک خاص کیف ہے۔ پہلے واحد کے صیغے میں حضور اکرمﷺ سے خطاب ہے اور آپﷺ کو خوشخبری سنائی جا رہی ہے کہ آپ جس کیفیت میں بھی ہوں ‘قرآن پڑھ رہے ہوں یا پڑھ کر سنا رہے ہوں‘ ہم بذاتِ خود آپؐ کو دیکھ رہے ہوتے ہیں‘آپؐ کی آواز سن رہے ہوتے ہیں۔ پھر اسی خوشخبری کو جمع کے صیغے میں تمام مسلمانوں کے لیے عام کر دیا گیا ہے کہ تم لوگ جو بھی بھلائی کماتے ہو‘قربانیاں دیتے ہو‘ایثار کرتے ہو‘ہم خود اسے دیکھ رہے ہوتے ہیں۔ ہم تمہارے ایک ایک عمل کے گواہ اور قدردان ہیں۔ ہمارے ہاں اپنے بندوں کے بارے میں تغافل یا نا قدری نہیں ہے۔

وَ مَا یَعۡزُبُ عَنۡ رَّبِّکَ مِنۡ مِّثۡقَالِ ذَرَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ وَ لَاۤ اَصۡغَرَ مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡبَرَ اِلَّا فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ ﴿۶۱﴾

’’ اور نہیں غائب ہوتی آپؐ کے رب سے زمین میں ایک ذرّہ کے برابر بھی کوئی شے اور نہ آسمانوں میں‘ اور نہ ہی اس سے کم تر کوئی شے اورنہ بڑی ‘مگر یہ کہ وہ ایک روشن کتاب میں درج ہے۔‘‘

کوئی ذرہ برابر چیز یا اس سے چھوٹی یا بڑی آسمانوں اور زمین میں ایسی نہیں ہے جو کبھی ربّ ذوالجلال کی نظر سے پوشیدہ ہو گئی ہو اور وہ ا یک روشن کتاب میں درج نہ ہو۔ یہ روشن کتاب اللہ تعالیٰ کا علم قدیم ہے۔

62-65

اللہ کے دوست کون ہیں؟

ویڈیو

اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾ لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾ وَ لَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ اِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ؕ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۵﴾

آیت 62

اَلَاۤ اِنَّ اَوۡلِیَآءَ اللّٰہِ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿ۚۖ۶۲﴾

’’آگاہ ہو جاؤ! اللہ کے دوستوں پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔‘‘

یہ اولیاء اللہ کون لوگ ہیں؟ یہ کوئی علیحدہ نوع (Species) نہیں ہے ‘ اور نہ ہی اس کے لیے کوئی خاص لباس زیب تن کرنے یا کوئی مخصوص حلیہ بنانے کی ضرورت ہے ‘بلکہ اولیا ء اللہ وہ لوگ ہیں جو ایمانِ حقیقی سے بہرہ مند ہوں ‘ ان کے دلوں میں یقین پیدا ہو چکا ہو اور وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے درجہ’’احسان‘‘ پرفائز ہو چکے ہوں ‘جس کا ذکر ’’حدیث جبریل ‘‘میں ہوا ہے: حدیث((اَنْ تَـعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَـکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ))۱ اللہ تعالیٰ اپنے ان خاص بندوں کی جس طرح پذیرائی فرماتاہے اس کاایک انداز سورۃ البقرۃ‘ آیت ۲۵۷ میں اس طرح بیان ہوا ہے: {اَللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ۙ یُخۡرِجُہُمۡ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوۡرِ۬ؕ } ’’ اللہ ولی ہے اہل ایمان کا‘ انہیں نکالتا ہے اندھیروں سے روشنی کی جانب‘‘ ۔ آیت زیر نظر میں بھی انہیں خوشخبری سنائی گئی ہے کہ ایسے لوگ خوف اور حزن سے بالکل بے نیاز ہوں گے۔ بہر حال اس سلسلے میں ایک بہت اہم نکتہ لائق توجہ ہے کہ جو اللہ کا دوست ہو گا اس کے اندر اللہ کی غیرت و حمیت بھی ہو گی۔ وہ اللہ کے دین کو پامال ہوتے دیکھ کر تڑپ اٹھے گا۔ وہ اللہ کے شعائر کی بے حرمتی کو کبھی برداشت نہیں کر سکے گا۔ وہ اللہ کے دین کو غالب کرنے کے لیے اپنا تن من دھن قربان کر دے گا۔ گویا دُنیوی زندگی میں یہ معیار اور طرزِ عمل اولیاء اللہ کی پہچان ہے ۔ اگلی آیت میں مزید وضاحت فرما دی گئی کہ یہ اولیاء اللہ کون لوگ ہیں:

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان الایمان والاسلام والاحسان۔

آیت 63

الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ کَانُوۡا یَتَّقُوۡنَ ﴿ؕ۶۳﴾

’’وہ لوگ جو صاحب ایمان ہوں اور تقویٰ کی روش اختیار کریں۔‘‘

اور یہ تقویٰ کس طرح اہل ایمان کو درجہ بدرجہ بلند سے بلند کرتا چلا جاتا ہے اس کی تفصیل ہم سورۃ المائدۃ کی اس آیت کے ضمن میں پڑھ چکے ہیں : { اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾}

آیت 64

لَہُمُ الۡبُشۡرٰی فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ فِی الۡاٰخِرَۃِ ؕ

’’اُن کے لیے دنیا کی زندگی میں بھی بشارتیں ہیں اور آخرت میں بھی۔‘‘

ان بشارتوں کے بار ے میں ہم سورۃ التوبہ کی آیت ۵۲ میں پڑھ چکے ہیں: {قُلۡ ہَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَی الۡحُسۡنَیَیۡنِ ؕ} یعنی ہمارے لیے تو دو اچھائیوں کے سوا کسی تیسری چیز کا تصور ہی نہیں ہے‘ ہمارے لیے تو بشارت ہی بشارت ہے۔ اور اگر بالفرض دنیا میں کوئی تکلیف آ بھی جائے تو بھی کوئی غم نہیں‘ کیونکہ ہمارے اوپر جو بھی تکلیف آتی ہے وہ ہمارے رب ہی کی طرف سے آتی ہے۔ جیسے سورۃ التوبہ آیت ۵۱ میں فرمایاگیا: {قُلۡ لَّنۡ یُّصِیۡبَنَاۤ اِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ۚ ہُوَ مَوۡلٰىنَا ۚ } چنانچہ اس میں گھبرانے کی کیا بات ہے؟ وہ ہمارا دوست ہے ‘اور دوست کی طرف سے اگر کوئی تکلیف بھی آ جائے تو سر آنکھوں پر۔ ہمیں معلوم ہے کہ اس تکلیف میں بھی ہمارے لیے خیر اور بھلائی ہی ہو گی۔

لَا تَبۡدِیۡلَ لِکَلِمٰتِ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿ؕ۶۴﴾

’’ اللہ کی باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی۔یہی تو ہے بہت بڑی کامیابی۔‘‘

آیت 65

وَ لَا یَحۡزُنۡکَ قَوۡلُہُمۡ ۘ

’’ اور (اے نبیﷺ!) ان کی باتیں آپؐ کو رنجیدہ نہ کریں۔‘‘

اِنَّ الۡعِزَّۃَ لِلّٰہِ جَمِیۡعًا ؕ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۵﴾

’’ عزت کل کی کل اللہ کے اختیار میں ہے‘ وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

66-67

شرک کی بنیاد یقین نہیں گمان ہے

ویڈیو

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۶۶﴾ ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۶۷﴾

آیت 66

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’آگاہ ہو جاؤ !اللہ ہی کے (مملوک) ہیں جو کوئی بھی آسمانوں میں ہیں اور زمین میں ہیں۔‘‘

وَ مَا یَتَّبِعُ الَّذِیۡنَ یَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ شُرَکَآءَ ؕ

’’اور یہ لوگ جو اللہ کے علاوہ (اُس کے)شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ کسی چیز کا اتباع نہیں کر رہے۔‘‘

اِنۡ یَّـتَّبِعُوۡنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿۶۶﴾

’’وہ تو ظن و تخمین ہی کے پیچھے پڑے ہیں اور صرف اٹکل سے کام لیتے ہیں۔‘‘

آیت 67

ہُوَ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الَّیۡلَ لِتَسۡکُنُوۡا فِیۡہِ وَ النَّہَارَ مُبۡصِرًا ؕ

’’وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تا کہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو بنا دیا روشن۔‘‘

رات کو پرسکون بنایا تا کہ رات کے وقت آرام کرو ‘اور دن کو روشن بنایا تاکہ اس میں اپنی معاشی ذمہ داریاں نبھاؤ اور دوسرے کام کاج نپٹاؤ۔

اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوۡمٍ یَّسۡمَعُوۡنَ ﴿۶۷﴾

’’یقینا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سنتے ہوں۔‘‘

68-70

اللہ کو اولاد کی کوئی ضرورت نہیں

ویڈیو

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الۡغَنِیُّ ؕ لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍۭ بِہٰذَا ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۸﴾ قُلۡ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾ مَتَاعٌ فِی الدُّنۡیَا ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ نُذِیۡقُہُمُ الۡعَذَابَ الشَّدِیۡدَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾

آیت 68

قَالُوا اتَّخَذَ اللّٰہُ وَلَدًا سُبۡحٰنَہٗ ؕ ہُوَ الۡغَنِیُّ ؕ

’’انہوں نے کہا کہ اللہ نے اولاد اختیارکی ہے‘وہ (ایسی باتوں سے ) پاک ہے۔ وہ بے نیاز ہے۔‘‘

اللہ کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ اسے اولاد کی حاجت ہو۔ یہاں ’’غنی‘‘ کا لفظ اس لحاظ سے بہت اہم ہے۔ اولاد کی تمنا آدمی اس لیے کرتا ہے کہ اس کا سہارا بنے اور مرنے کے بعد اس کے ذریعے دنیا میں اس کا نام باقی رہ جائے۔ اللہ تعالیٰ ایسی حاجتوں سے پاک ہے۔ وہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے‘ وہ ہر حاجت سے غنی اور بے نیاز ہے‘اسے اولاد سمیت کسی چیز کی ضرورت اور حاجت نہیں ہے۔

لَہٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’اُسی کا ہے جو کچھ ہے آسمانوں میں اور جو کچھ ہے زمین میں۔‘‘

اِنۡ عِنۡدَکُمۡ مِّنۡ سُلۡطٰنٍۭ بِہٰذَا ؕ

’’نہیں ہے تمہارے پاس کوئی سند (دلیل) اس کے لیے۔‘‘

اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۸﴾

’’کیا تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو وہ چیز جس کے متعلق تمہیں علم ہی نہیں!‘‘

تمہارے پاس کوئی علمی سند یا عقلی دلیل اس بات کے حق میں نہیں ہے جو تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو۔

آیت 69

قُلۡ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ ﴿ؕ۶۹﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجئے کہ جو لوگ اللہ کی طرف جھوٹ باتیں منسوب کرتے ہیں وہ کبھی فلاح نہیں پائیں گے۔‘‘

آیت 70

مَتَاعٌ فِی الدُّنۡیَا ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ

’’دنیا میں (ان کے لیے) برتنے کی کچھ چیزیں ہیں‘ پھر ہماری ہی طرف ا ن کا لوٹنا ہے‘‘

دنیا کی چند روزہ زندگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے انہیں کچھ ساز و سامان دے دیا گیا ہے‘ پھر ہماری ہی طرف ان کی واپسی ہو گی۔

ثُمَّ نُذِیۡقُہُمُ الۡعَذَابَ الشَّدِیۡدَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡفُرُوۡنَ ﴿٪۷۰﴾

’’ پھر ہم انہیں مزہ چکھائیں گے بہت سخت عذاب کا ‘اس کفر کی وجہ سے جو وہ کرتے رہے ہیں۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے