’’اور کون ہے جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے ‘اور کون ہے تدبیرِ اَمر کرنے والا؟ ‘‘
فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ
’’تو وہ کہیں گے اللہ!‘‘
مشرکین مکہ اللہ کو ان تمام صفات کے ساتھ مانتے تھے اور اس بارے میں ان کے ذہنوں میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نہ صرف اس کائنات کا خالق ہے بلکہ اس کا نظام بھی وہی چلا رہا ہے۔
فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۳۱﴾
’’ تو آپؐ فرمائیے کہ کیا پھر تم (اُس اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو؟‘‘
جب تم لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ‘مالک اور رازق مانتے ہو‘جب تم مانتے ہو کہ کائنات کا یہ سارا نظام اللہ ہی اپنے حسن تدبیر سے چلا رہا ہے تو پھر اس کے بعد تمہارے ان مشرکانہ نظریات اور دیوی دیوتاؤں کی اس پوجا پاٹ کا کیا جواز ہے؟ کیا تمہیں کچھ بھی خوفِ خدا نہیں ہے؟
’’تو وہی ہے اللہ تمہارا ربّ برحق ۔ تو حق کے بعد کیا رہ جاتا ہے سوائے گمراہی کے ؟ تو کہاں سے تم پھیرے جارہے ہو؟‘‘
یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق و مالک مانتے ہو‘زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاںتک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گر جاتے ہو۔تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے؟
’’تو کیا جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے اس کا کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہدایت نہیں پاسکتا ‘ اِلّا یہ کہ اس کی راہنمائی کی جائے ؟‘‘
تمام مخلوق کو ہدایت دینے والا اللہ ہے۔ چنانچہ ہدایت و راہنمائی کے لیے سب اسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے ہیں۔ خود نبی مکرمﷺ بھی اللہ ہی سے یہ دعا مانگتے تھے: {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} تو بھلا وہ جو ہدایت دیتا ہے اس کی بات مانی جانی چاہیے یا اُن کی جو خود ہدایت کے محتاج ہوں؟
’’اور نہیں پیروی کر رہے ان میں سے اکثرمگر گمان کی ‘اور یہ گمان کسی بھی درجے میں (انسان کو) حق سے مستغنی نہیں کر سکتا۔ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں ۔‘‘
’’بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اُس کی جو اس کے سامنے ہے اور (ا س میں تمام )شریعت کی تفصیل ہے ‘اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘
آیت 38
اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ
’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبرؐ نے خود گھڑ لیا ہے؟‘‘
یہ لوگ اس قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ محمد(ﷺ )کی اپنی تصنیف ہے۔ انہوں نے خود یہ کلام موزوں کر لیا ہے۔
’’آپ (ان سے) کہیے کہ لے آئو تم بھی ایک سورت اس جیسی اور(اس کے لیے) بلا لو جس کو بلا سکتے ہو اللہ کے سوا‘اگر تم سچے ہو۔‘‘
یہ چیلنج سورۃ البقرۃ میں بھی ہے جو کہ مدنی ہے ‘جبکہ مکی سورتوں میں تو اسے متعدد بار دہرایا گیا ہے ۔ سورۂ ہودمیں اس جیسی دس سورتیں بنا کر لے آنے کا چیلنج دیا گیا ہے اور یہاں اس سورت میں یہ چیلنج گویا برسبیلِ تنزل آخری درجہ میں پیش کیا گیا ہے کہ چلو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھادو۔
’’ (نہیں) بلکہ انہوں نے تکذیب کی ہے اس چیز کی جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کر سکے اور ابھی نہیں آئی ان کے پاس اس کی تاویل ۔‘‘
یعنی یہ لوگ قرآن کے علوم کا ادراک اور اس کے پیغام کا شعور حاصل نہیں کر سکے۔ اس کے علاوہ عذاب کے بارے میں ان کو دی گئی دھمکیوں کا مصداقِ خارجی بھی ابھی ان پر ظاہر نہیں ہوا‘اس لیے وہ اس سب کچھ کو محض ڈراوا اور جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ قرآن میں ان لوگوں کو بار بار دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اللہ کا انکار کرو گے تو اُس کی پکڑ میں آ جاؤ گے‘اُس کی طرف سے بہت سخت عذاب تم پر آئے گا۔ یہ عذابِ موعود چونکہ ابھی ظاہری طور پر اُن پر نہیں آیا‘اسی لیے وہ قرآن کو بھی جھٹلا رہے ہیں۔
’’تو کیا آپؐ بہروں کو سنا سکتے ہیں چاہے وہ عقل سے کام نہ لیتے ہوں!‘‘
یہ لوگ توپہلے سے ہی نہ سننے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں‘اس لیے ان کے کان حق کی طرف سے بہرے ہو چکے ہیں۔ان کا آپؐ کی باتوں کو سننا صرف دکھاوے کا سنناہے تا کہ دوسرے لوگوں کو بتا سکیں کہ ہاں جی ہم تو محمد(ﷺ) کی محفل میں بھی جاتے ہیں‘ساری باتیں بھی سنتے ہیں مگر ان میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جسے ماناجائے۔
آیت 43
وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ
’’اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپؐ کو دیکھتے ہیں ۔‘‘
’’تو کیا آپؐ اندھوں کو ہدایت دیں گے خواہ وہ دیکھتے نہ ہوں!‘‘
چنانچہ جب ان لوگوں کی نیت ہی ہدایت حاصل کرنے کی نہیں ہے ‘ جب ان کے دل ہی اندھے ہو چکے ہیں تو آپؐ کی مجلس میں آنا اور آپؐ کی صحبت میں بیٹھنا‘اُن کے لیے ہر گزمفید نہیں ہو سکتا۔
’’ وہ لوگ بڑے خسارے کا شکار ہوئے جنہوں نے جھٹلادیا اللہ کی ملاقات کو اور نہ ہوئے وہ ہدایت پانے والے۔‘‘
آگے عذاب کی اُس دھمکی کا ذکر آ رہا ہے جس کے بارے میں آیت ۳۹ میں فرمایا گیا تھا: {وَ لَمَّا یَاۡتِہِمۡ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ} کہ اس کی تاویل ابھی اُن کے پاس نہیں آئی۔
’’پس انہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ‘پھر اللہ گواہ ہے اُ س پرجو وہ کر رہے ہیں۔‘‘
یعنی آخری محاسبہ تو ان کا قیامت کے دن ہونا ہی ہے ‘مگر ہو سکتا ہے کہ یہاں دنیا میں بھی سزا کا کچھ حصہ ان کے لیے مختص کر دیا جائے۔ جیسا کہ بعد میں مشرکینِ مکہ پر عذاب آیا۔ ان پر آنے والے اس عذاب کا انداز پہلی قوموں کے عذاب سے مختلف تھا۔ اس عذاب کی پہلی قسط جنگِ بدر میں ان کے ستر سرداروں کے قتل اور ذلت آمیز شکست کی صورت میں سامنے آئی‘ جبکہ دوسری اور آخری قسط ۹ ہجری میں واردہوئی جب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا: {فَسِیۡحُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ } (التوبۃ: ۲) کہ اب تمہارے لیے صرف چند ماہ کی مہلت ہے ‘اس میں ایمان لے آؤ ورنہ قتل کر دیے جائو گے۔ اہلِ مکہ کے ساتھ عذاب کا معاملہ پہلی قوموں کے مقابلے میں شاید اس لیے بھی مختلف رہا کہ پہلی قوموں کی نسبت ان کے ہاں ایمان لانے والوں کی تعداد کافی بہتر رہی۔ مثلاً اگر حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ سے ۸۰لوگ ایمان لائے(میری رائے میں وہ لوگ ۸۰بھی نہیں تھے) تو یہاں مکہ میں حضورﷺ کی بارہ سال کی محنت کے نتیجے میں اہل ایمان کی تعداد اس سے دو گنا تھی اور ان میں حضرت ابو بکر‘حضرت طلحہ‘حضرت زبیر‘حضرت عثمان‘حضرت عبدالرحمٰن بن عوف‘حضرت عمر اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہم جیسے بڑے بڑے لوگ بھی شامل تھے۔
کہہ دیجیے کہ میں تو خود اپنی جان کے لیے بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا‘ نہ کسی ضرر کا نہ نفع کا‘سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔‘‘
لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ
’’ہر اُمت کے لیے ایک وقت معین ہے۔‘‘
جیسے ہر اُمت کے لیے ایک رسول ؑہے ‘اسی طرح ہر اُمت کے لیے اس کی اجل (مہلت کی مدت) بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق ان کے لیے مقرر کردہ وقت بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔
’’(اے نبیﷺ! ان سے )کہیے کیا تم نے غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر اللہ کا عذاب (ناگہاں) آ دھمکے رات کو یا دن کے وقت‘تو وہ کیا شے ہے جس کے بل پر یہ مجرم جلدی مچا رہے ہیں؟‘‘
یعنی یہ جو تم سینہ تان کر کہتے ہو کہ لے آؤ عذاب! اورپھر کہتے ہو کہ آ کیوں نہیں جاتا ہم پر عذاب! اور پھر استہزائیہ انداز میں استفسار کرتے ہو کہ یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہونے جا رہا ہے؟ تو کبھی تم لوگوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ اگر وہ عذاب کسی وقت اچانک تم پر آہی گیا ‘رات کی کسی گھڑی میں یا دن کے کسی لمحے میں‘تو اس سے حفاظت کے لیے تم نے کیا بندوبست کر رکھا ہے؟آخر تم لوگ کس بل بوتے پر عذاب کو للکار رہے ہو؟ کس چیز کے بھروسے پرتم اس طرح جسارتیں کر رہے ہو؟
’’پھرکیا جب وہ (عذاب) واقع ہو جائے گا تب تم لوگ اس پر ایمان لاؤ گے؟ (اُس وقت کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لا رہے ہو)؟ اور اسی کی تو تم جلدی مچا رہے تھے۔‘‘
عذاب جب واقعتا ظاہر ہو جائے گا تو اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ واقعی حق ہے ؟‘‘
جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال (searching questions) کرتا ہے‘ اسی طرح مشرکین بھی حضورﷺ سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے؟
’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے اَمراض ) کی شفا ‘‘
وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾
’’اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔‘‘
اس آیت کے الفاظ کی ترتیب (موعظہ‘شفا‘ہدایت اور رحمت) بہت پر حکمت ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت۷۴ میں انسان کے دل کی سختی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : {ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ } ۔ دراصل دل کی سختی ہی وہ بنیادی مرض ہے جس کے باعث اعلیٰ سے اعلیٰ کلام بھی کسی انسان پر بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے:؏
’’مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر‘‘
چنانچہ قبولِ ہدایت کے لیے سب سے پہلے دلوں کی سختی کو دور کرنا ضروری ہے۔ جیسے بارش سے فائدہ اٹھانے کے لیے زمین کو نرم کرنا پڑتاہے ‘سخت زمین بارش سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتی‘ بارش کا پانی اوپر ہی اوپر سے بہہ جاتا ہے ‘اس کے اندر جذب نہیں ہو تا۔ اسی طرح اگر انسان کا معدہ ہی خراب ہو تو کوئی دوسری دوائی اپنا اثر نہیں دکھاتی ۔ لہٰذا انسان کی کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے پہلے اُس کے معدے کو درست کرنا ضروری ہے۔
دلوں کی سختی کو دور کرنے کے لیے مؤثر ترین نسخہ وعظ و نصیحت (موعظہ) ہے۔ جب وعظ اور نصیحت سے دلوں میں گداز پیدا ہو گا تو پھر قرآن ان پر دوائی کی مانند اثر کر کے تکبر‘حسد‘بغض‘حبِ دُنیاوغیرہ تمام امراض کو دور کر دے گا۔ حب دنیا میں دولت‘اولاد‘بیوی‘شہرت وغیرہ کی تمام محبتیں شامل ہیں۔ ملاحظہ ہو سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۴: {زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ}۔ آیت زیر مطالعہ میں الفاظ کی ترتیب پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک انسان کے حق میں قرآن سب سے پہلے وعظ اور نصیحت ہے‘پھر تمام امراض قلب کے لیے شفا اور پھر ہدایت ۔ کیونکہ جب دل سے بیماری نکل جائے گی‘دل شفایاب ہو گا تب ہی انسان قرآن کی ہدایت اور راہنمائی کو عملاً اختیار کرے گا‘ اور جب انسان یہ سارے مراحل طے کر کے قرآن کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے گا تو پھر اس کو انعامِ خاص سے نوازا جائے گا اور و ہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت۔ کیونکہ یہ قرآن ربِّ رحمان کی رحمانیت کا مظہرِ اَتم ہے : {اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾}۔
آیت 58
قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ
’’ (اے نبیﷺ!ان سے )کہہ دیجیے کہ یہ ( قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے‘‘ یہ قرآن اللہ کے فضل اور رحمت کا مظہر اور بنی نوع انسان پر اس کا بہت بڑا احسان ہے۔ یہ سب سے بڑی دولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کو عطا کی ہے۔
فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ
’’تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں!‘‘
’’فرح‘‘ کے معنی ہیں خوشی سے پھولے نہ سمانا‘ یعنی خوشی کے جذبے میں حد سے بڑھ جانا‘اس لحاظ سے یہ جذبہ شریعتِ اسلامی میں قابل مذمت ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ قرآن میں زیادہ تر منفی مفہوم میں آیا ہے ---
جیسے سورۃ القصص میں قارون کے ذکر میں یہ الفاظ آئے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡفَرِحِیۡنَ ﴿۷۶﴾} --- لیکن یہاں پر تو اعلانِ عام ہو رہا ہے کہ اگر ’’فرح‘‘ کرنا ہی ہے تو دولتِ قرآن پر کرو! اگر تمہیں اترانا ہی ہے تو نعمتِ قرآن پر اتراؤ! اور اگر جشن ہی منانا ہے تو جشنِ قرآن مناؤ! {فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ}
ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
’’ وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘
یہ مال و دولتِ دنیا‘یہ سامانِ آرائش و زیبائش‘یہ اشیائے آسائش ‘یہ رنگا رنگ نعمتیں‘غرض اس دنیا میں انسان اپنے لیے جو کچھ بھی اکٹھا کرتا ہے ‘اس سب کچھ سے کہیں بہتر قرآن کی دولت ہے۔
ان دو آیات میں قرآن کی اہمیت و عظمت کے بیان میں جو تاکید اور جلال ہے اس کی قدر دانی کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اس تصور کو حرزِ جان بنا لیں‘ان آیات کو زبانی یاد کریں‘الفاظ کی ترتیب کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے استفادہ کی کوشش کریں اور قرآن کی تعلیم و تفہیم کے ذریعے سے دل کو نرم اور گداز کرنے کا سامان کریں‘ تاکہ اس کے اثرات دل کے اندر جذب ہو کر اپنا رنگ جمائیں (عچوں بجاں دررفت جاں دیگر شود)۔ اور اس طرح قرآن کے ذریعے اپنی دنیائے دل و جان میں انقلاب برپا کریں‘تا کہ یہ ا ن کے لیے شفا‘ ہدایت اور رحمت بن جائے۔ آمین!
’’ان سے پوچھئے کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟‘‘
سورۃ الانعام میں ان چیزوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جنہیں وہ لوگ ازخود حرام یا حلال قرار دے لیتے تھے۔ سورۃ المائدۃ میں بھی ان کی خود ساختہ شریعت کا ذکر ہے۔