تحریر

يونس

آیات ۳۱ تا ۶۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

31-36

سوچنے پر مجبور کردینے والے سوالات

ویڈیو

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اَمَّنۡ یَّمۡلِکُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ وَ مَنۡ یُّخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَ مَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۳۱﴾ فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَا ذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾ کَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡۤا اَنَّہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۳﴾ قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ قُلِ اللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۴﴾ قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ ؕ قُلِ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ لِلۡحَقِّ ؕ اَفَمَنۡ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ یُّتَّبَعَ اَمَّنۡ لَّا یَہِدِّیۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّہۡدٰی ۚ فَمَا لَکُمۡ ۟ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿۳۵﴾ وَ مَا یَتَّبِعُ اَکۡثَرُہُمۡ اِلَّا ظَنًّا ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾

آیت 31

قُلۡ مَنۡ یَّرۡزُقُکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ اَمَّنۡ یَّمۡلِکُ السَّمۡعَ وَ الۡاَبۡصَارَ

’’(اے نبیﷺ! ان سے) پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق پہنچاتا ہے آسمان اور زمین سے یا کون ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہیں تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں؟‘‘

وَ مَنۡ یُّخۡرِجُ الۡحَیَّ مِنَ الۡمَیِّتِ وَ یُخۡرِجُ الۡمَیِّتَ مِنَ الۡحَیِّ وَ مَنۡ یُّدَبِّرُ الۡاَمۡرَ ؕ

’’اور کون ہے جو نکالتا ہے زندہ کو مردہ سے اور مردہ کو زندہ سے ‘اور کون ہے تدبیرِ اَمر کرنے والا؟ ‘‘

فَسَیَقُوۡلُوۡنَ اللّٰہُ ۚ

’’تو وہ کہیں گے اللہ!‘‘

مشرکین مکہ اللہ کو ان تمام صفات کے ساتھ مانتے تھے اور اس بارے میں ان کے ذہنوں میں کوئی ابہام نہیں تھا۔ وہ اس حقیقت کو تسلیم کرتے تھے کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نہ صرف اس کائنات کا خالق ہے بلکہ اس کا نظام بھی وہی چلا رہا ہے۔

فَقُلۡ اَفَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۳۱﴾

’’ تو آپؐ فرمائیے کہ کیا پھر تم (اُس اللہ سے) ڈرتے نہیں ہو؟‘‘

جب تم لوگ اللہ تعالیٰ کو اپنا خالق ‘مالک اور رازق مانتے ہو‘جب تم مانتے ہو کہ کائنات کا یہ سارا نظام اللہ ہی اپنے حسن تدبیر سے چلا رہا ہے تو پھر اس کے بعد تمہارے ان مشرکانہ نظریات اور دیوی دیوتاؤں کی اس پوجا پاٹ کا کیا جواز ہے؟ کیا تمہیں کچھ بھی خوفِ خدا نہیں ہے؟

آیت 32

فَذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمُ الۡحَقُّ ۚ فَمَا ذَا بَعۡدَ الۡحَقِّ اِلَّا الضَّلٰلُ ۚۖ فَاَنّٰی تُصۡرَفُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’تو وہی ہے اللہ تمہارا ربّ برحق ۔ تو حق کے بعد کیا رہ جاتا ہے سوائے گمراہی کے ؟ تو کہاں سے تم پھیرے جارہے ہو؟‘‘

یہی حق ہے جس کو تم اپنی فطرت کی نظر سے پہچان چکے ہو۔ اب اسی کو مضبوطی سے تھام لو اور پھر سے گمراہی میں مبتلا ہونے سے بچ جاؤ۔ یعنی تمہاری فطرت کے اندر حق کی پہچان موجود ہے۔ اس کی گواہی خود تمہاری اپنی زبانیں دے رہی ہیں۔ تم اللہ کو اپنا اور اس کائنات کا خالق و مالک مانتے ہو‘زبان سے اس کا اقرار کرتے ہو۔ تو یہاںتک پہنچ کر پھر کیوں گمراہی میں اوندھے منہ گر جاتے ہو۔تمہاری عقل کہاں الٹ جاتی ہے؟

آیت 33

کَذٰلِکَ حَقَّتۡ کَلِمَتُ رَبِّکَ عَلَی الَّذِیۡنَ فَسَقُوۡۤا اَنَّہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’اسی طرح تیرے رب کی بات سچ ثابت ہوئی نا فرمان لوگوں پر کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

آیت 34

قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ ؕ

’’ان سے پوچھئے کیا تمہارے شریکوں میں سے کوئی ایسا بھی ہے جو تخلیق کرتا ہو پہلی مرتبہ اور پھر اسے دوبارہ بھی بنائے؟‘‘

قُلِ اللّٰہُ یَبۡدَؤُا الۡخَلۡقَ ثُمَّ یُعِیۡدُہٗ فَاَنّٰی تُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۴﴾

’’آپؐ کہیے صرف اللہ ہی ہے جو پہلی مرتبہ بھی پیدا کرتا ہے ‘پھر وہ اسے دوبارہ بھی بنائے گا‘تو تم کہاں سے پلٹائے جا رہے ہو؟‘‘

پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو؟ تم کہاں اوندھے ہوئے جاتے ہو؟

آیت 35

قُلۡ ہَلۡ مِنۡ شُرَکَآئِکُمۡ مَّنۡ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ ؕ

’’ان سے پوچھئے کہ ہے کوئی تمہارے شریکوں میں سے جو حق کی طرف راہنمائی کر سکے؟‘‘

قُلِ اللّٰہُ یَہۡدِیۡ لِلۡحَقِّ ؕ

’’آپؐ کہیے کہ اللہ ہی ہے جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔‘‘

اَفَمَنۡ یَّہۡدِیۡۤ اِلَی الۡحَقِّ اَحَقُّ اَنۡ یُّتَّبَعَ اَمَّنۡ لَّا یَہِدِّیۡۤ اِلَّاۤ اَنۡ یُّہۡدٰی ۚ

’’تو کیا جو حق کی طرف راہنمائی کرتا ہے وہ زیادہ مستحق ہے اس کا کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود ہدایت نہیں پاسکتا ‘ اِلّا یہ کہ اس کی راہنمائی کی جائے ؟‘‘

تمام مخلوق کو ہدایت دینے والا اللہ ہے۔ چنانچہ ہدایت و راہنمائی کے لیے سب اسی کے سامنے دستِ سوال دراز کرتے ہیں۔ خود نبی مکرمﷺ بھی اللہ ہی سے یہ دعا مانگتے تھے: {اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۵﴾} تو بھلا وہ جو ہدایت دیتا ہے اس کی بات مانی جانی چاہیے یا اُن کی جو خود ہدایت کے محتاج ہوں؟

فَمَا لَکُمۡ ۟ کَیۡفَ تَحۡکُمُوۡنَ ﴿۳۵﴾

’’تو تمہیں کیا ہو گیاہے‘ تم کیسے فیصلے کرتے ہو!‘‘

آیت 36

وَ مَا یَتَّبِعُ اَکۡثَرُہُمۡ اِلَّا ظَنًّا ؕ اِنَّ الظَّنَّ لَا یُغۡنِیۡ مِنَ الۡحَقِّ شَیۡئًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌۢ بِمَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۳۶﴾

’’اور نہیں پیروی کر رہے ان میں سے اکثرمگر گمان کی ‘اور یہ گمان کسی بھی درجے میں (انسان کو) حق سے مستغنی نہیں کر سکتا۔ یقینا اللہ جانتا ہے جو کچھ یہ کر رہے ہیں ۔‘‘

37-41

قرآن جیسی ایک سورت ہی لے آؤ

ویڈیو

وَ مَا کَانَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ یُّفۡتَرٰی مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۟۳۷﴾ اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ قُلۡ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّثۡلِہٖ وَ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾ بَلۡ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمۡ یُحِیۡطُوۡا بِعِلۡمِہٖ وَ لَمَّا یَاۡتِہِمۡ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۹﴾ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾ وَ اِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ لِّیۡ عَمَلِیۡ وَ لَکُمۡ عَمَلُکُمۡ ۚ اَنۡتُمۡ بَرِیۡٓـــُٔوۡنَ مِمَّاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾

آیت 37

وَ مَا کَانَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ اَنۡ یُّفۡتَرٰی مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ

’’اور یہ قرآن ایسی شے نہیں ہے جس کو اللہ کے سوا (کہیں اور) گھڑ لیا گیا ہو‘‘

یہ قرآن کسی انسان کے ہاتھوں تصنیف کی جانے والی کتاب نہیں ہے۔

وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ الۡکِتٰبِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ مِنۡ رَّبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۟۳۷﴾

’’بلکہ یہ تو تصدیق (کرتے ہوئے آیا) ہے اُس کی جو اس کے سامنے ہے اور (ا س میں تمام )شریعت کی تفصیل ہے ‘اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ تمام جہانوں کے رب کی طرف سے ہے۔‘‘

آیت 38

اَمۡ یَقُوۡلُوۡنَ افۡتَرٰىہُ ؕ

’’کیا یہ کہتے ہیں کہ اس کو پیغمبرؐ نے خود گھڑ لیا ہے؟‘‘

یہ لوگ اس قرآن کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ محمد(ﷺ )کی اپنی تصنیف ہے۔ انہوں نے خود یہ کلام موزوں کر لیا ہے۔

قُلۡ فَاۡتُوۡا بِسُوۡرَۃٍ مِّثۡلِہٖ وَ ادۡعُوۡا مَنِ اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾

’’آپ (ان سے) کہیے کہ لے آئو تم بھی ایک سورت اس جیسی اور(اس کے لیے) بلا لو جس کو بلا سکتے ہو اللہ کے سوا‘اگر تم سچے ہو۔‘‘

یہ چیلنج سورۃ البقرۃ میں بھی ہے جو کہ مدنی ہے ‘جبکہ مکی سورتوں میں تو اسے متعدد بار دہرایا گیا ہے ۔ سورۂ ہودمیں اس جیسی دس سورتیں بنا کر لے آنے کا چیلنج دیا گیا ہے اور یہاں اس سورت میں یہ چیلنج گویا برسبیلِ تنزل آخری درجہ میں پیش کیا گیا ہے کہ چلو اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھادو۔

آیت 39

بَلۡ کَذَّبُوۡا بِمَا لَمۡ یُحِیۡطُوۡا بِعِلۡمِہٖ وَ لَمَّا یَاۡتِہِمۡ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ

’’ (نہیں) بلکہ انہوں نے تکذیب کی ہے اس چیز کی جس کے علم کا یہ احاطہ نہیں کر سکے اور ابھی نہیں آئی ان کے پاس اس کی تاویل ۔‘‘

یعنی یہ لوگ قرآن کے علوم کا ادراک اور اس کے پیغام کا شعور حاصل نہیں کر سکے۔ اس کے علاوہ عذاب کے بارے میں ان کو دی گئی دھمکیوں کا مصداقِ خارجی بھی ابھی ان پر ظاہر نہیں ہوا‘اس لیے وہ اس سب کچھ کو محض ڈراوا اور جھوٹ سمجھ رہے ہیں۔ قرآن میں ان لوگوں کو بار بار دھمکیاں دی گئی تھیں کہ اللہ کا انکار کرو گے تو اُس کی پکڑ میں آ جاؤ گے‘اُس کی طرف سے بہت سخت عذاب تم پر آئے گا۔ یہ عذابِ موعود چونکہ ابھی ظاہری طور پر اُن پر نہیں آیا‘اسی لیے وہ قرآن کو بھی جھٹلا رہے ہیں۔

کَذٰلِکَ کَذَّبَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ فَانۡظُرۡ کَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۳۹﴾

’’اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے پہلے تھے ‘تو دیکھو کیسا انجام ہوا ظالموں کا !‘‘

آیت 40

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یُّؤۡمِنُ بِہٖ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ لَّا یُؤۡمِنُ بِہٖ ؕ وَ رَبُّکَ اَعۡلَمُ بِالۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿٪۴۰﴾

’’ان میں وہ بھی ہیں جو اس پر ایمان لے آئیں گے اور وہ بھی ہیں جو ایمان نہیں لائیں گے‘اور آپؐ کا رب ان مفسدوں سے خوب واقف ہے۔‘‘

آیت 41

وَ اِنۡ کَذَّبُوۡکَ فَقُلۡ لِّیۡ عَمَلِیۡ وَ لَکُمۡ عَمَلُکُمۡ ۚ

’’اور اگر یہ لوگ آپؐ کو جھٹلا دیں تو آپؐ کہیے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل۔‘‘

اَنۡتُمۡ بَرِیۡٓـــُٔوۡنَ مِمَّاۤ اَعۡمَلُ وَ اَنَا بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۱﴾

’’تم بری ہو میرے عمل کی ذمہ داری سے اور میں بری ہوں تمہارے اعمال کی ذمہ داری سے۔‘‘

نہ میرے عمل کی کوئی ذمہ داری تم لوگوں پر ہے اور نہ تمہارے کیے کا میں ذمہ دار ہوں۔

42-45

سردارانِ قریش کا مکروفریب

ویڈیو

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۲﴾ وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ النَّاسَ شَیۡئًا وَّ لٰکِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾ وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ کَاَنۡ لَّمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ ؕ قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۴۵﴾

آیت 42

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّسۡتَمِعُوۡنَ اِلَیۡکَ ؕ

’’اور ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بڑ ی توجہ سے سنتے ہیں آپؐ (کی باتوں) کو۔‘ ‘

اَفَاَنۡتَ تُسۡمِعُ الصُّمَّ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’تو کیا آپؐ بہروں کو سنا سکتے ہیں چاہے وہ عقل سے کام نہ لیتے ہوں!‘‘

یہ لوگ توپہلے سے ہی نہ سننے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں‘اس لیے ان کے کان حق کی طرف سے بہرے ہو چکے ہیں۔ان کا آپؐ کی باتوں کو سننا صرف دکھاوے کا سنناہے تا کہ دوسرے لوگوں کو بتا سکیں کہ ہاں جی ہم تو محمد(ﷺ) کی محفل میں بھی جاتے ہیں‘ساری باتیں بھی سنتے ہیں مگر ان میں ایسی کوئی بات ہے ہی نہیں جسے ماناجائے۔

آیت 43

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّنۡظُرُ اِلَیۡکَ ؕ

’’اور ان میں ایسے بھی ہیں جو آپؐ کو دیکھتے ہیں ۔‘‘

اَفَاَنۡتَ تَہۡدِی الۡعُمۡیَ وَ لَوۡ کَانُوۡا لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’تو کیا آپؐ اندھوں کو ہدایت دیں گے خواہ وہ دیکھتے نہ ہوں!‘‘

چنانچہ جب ان لوگوں کی نیت ہی ہدایت حاصل کرنے کی نہیں ہے ‘ جب ان کے دل ہی اندھے ہو چکے ہیں تو آپؐ کی مجلس میں آنا اور آپؐ کی صحبت میں بیٹھنا‘اُن کے لیے ہر گزمفید نہیں ہو سکتا۔

آیت 44

اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظۡلِمُ النَّاسَ شَیۡئًا وَّ لٰکِنَّ النَّاسَ اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۴۴﴾

’’یقینا اللہ انسانوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا‘بلکہ لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھاتے ہیں۔‘‘

آیت 45

وَ یَوۡمَ یَحۡشُرُہُمۡ کَاَنۡ لَّمۡ یَلۡبَثُوۡۤا اِلَّا سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوۡنَ بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’اور جس دن وہ انہیں جمع کرے گا ( تو وہ محسوس کریں گے) جیسے نہیں رہے وہ مگر دن کی ایک گھڑی‘وہ ایک دوسرے کو پہچان رہے ہوں گے۔‘‘

انہیں دنیا اور عالمِ برزخ میں گزرا ہوا وقت ایسے محسوس ہوگا جیسے کہ وہ ایک دن کا کچھ حصہ تھا۔

قَدۡ خَسِرَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِلِقَآءِ اللّٰہِ وَ مَا کَانُوۡا مُہۡتَدِیۡنَ ﴿۴۵﴾

’’ وہ لوگ بڑے خسارے کا شکار ہوئے جنہوں نے جھٹلادیا اللہ کی ملاقات کو اور نہ ہوئے وہ ہدایت پانے والے۔‘‘

آگے عذاب کی اُس دھمکی کا ذکر آ رہا ہے جس کے بارے میں آیت ۳۹ میں فرمایا گیا تھا: {وَ لَمَّا یَاۡتِہِمۡ تَاۡوِیۡلُہٗ ؕ} کہ اس کی تاویل ابھی اُن کے پاس نہیں آئی۔

46-47

رسول کی آمد قوم کے لیے نازک مرحلہ

ویڈیو

وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾ وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

آیت 46

وَ اِمَّا نُرِیَنَّکَ بَعۡضَ الَّذِیۡ نَعِدُہُمۡ اَوۡ نَتَوَفَّیَنَّکَ

’’اور اگر ہم دکھا دیں آپؐ کو اس میں سے کچھ (عذاب)جس کا ہم اُن سے وعدہ کر رہے ہیں یا (اس سے پہلے ہی) ہم آپؐ کو وفات دے دیں‘‘

فَاِلَیۡنَا مَرۡجِعُہُمۡ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیۡدٌ عَلٰی مَا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۴۶﴾

’’پس انہیں ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ‘پھر اللہ گواہ ہے اُ س پرجو وہ کر رہے ہیں۔‘‘

یعنی آخری محاسبہ تو ان کا قیامت کے دن ہونا ہی ہے ‘مگر ہو سکتا ہے کہ یہاں دنیا میں بھی سزا کا کچھ حصہ ان کے لیے مختص کر دیا جائے۔ جیسا کہ بعد میں مشرکینِ مکہ پر عذاب آیا۔ ان پر آنے والے اس عذاب کا انداز پہلی قوموں کے عذاب سے مختلف تھا۔ اس عذاب کی پہلی قسط جنگِ بدر میں ان کے ستر سرداروں کے قتل اور ذلت آمیز شکست کی صورت میں سامنے آئی‘ جبکہ دوسری اور آخری قسط ۹ ہجری میں واردہوئی جب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا: {فَسِیۡحُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ } (التوبۃ: ۲) کہ اب تمہارے لیے صرف چند ماہ کی مہلت ہے ‘اس میں ایمان لے آؤ ورنہ قتل کر دیے جائو گے۔ اہلِ مکہ کے ساتھ عذاب کا معاملہ پہلی قوموں کے مقابلے میں شاید اس لیے بھی مختلف رہا کہ پہلی قوموں کی نسبت ان کے ہاں ایمان لانے والوں کی تعداد کافی بہتر رہی۔ مثلاً اگر حضرت نوح علیہ السلام کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ سے ۸۰لوگ ایمان لائے(میری رائے میں وہ لوگ ۸۰بھی نہیں تھے) تو یہاں مکہ میں حضورﷺ کی بارہ سال کی محنت کے نتیجے میں اہل ایمان کی تعداد اس سے دو گنا تھی اور ان میں حضرت ابو بکر‘حضرت طلحہ‘حضرت زبیر‘حضرت عثمان‘حضرت عبدالرحمٰن بن عوف‘حضرت عمر اور حضرت حمزہ رضی اللہ عنہم جیسے بڑے بڑے لوگ بھی شامل تھے۔

آیت 47

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوۡلٌ ۚ

’’اور ہر اُمت کے لیے ایک رسول ؑ(بھیجا گیا) ہے۔‘‘

فَاِذَا جَآءَ رَسُوۡلُہُمۡ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۴۷﴾

’’پھر جب آیا ان کا رسول ؑتو ان کے مابین عدل کے ساتھ فیصلہ کر دیا گیااور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا گیا۔‘‘

اس کی وضاحت کے لیے حضرت نوح‘حضرت ہود‘حضرت صالح‘حضرت شعیب ‘حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہم السلام کی قوموں کے معاملا ت کو ذہن میں رکھئے۔

48-52

نبی اکرم ﷺ کا اظہارِعاجزی

ویڈیو

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾ قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾ قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوۡ نَہَارًا مَّاذَا یَسۡتَعۡجِلُ مِنۡہُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۰﴾ اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ ؕ آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾ ثُمَّ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ۚ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۲﴾

آیت 48

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۴۸﴾

’’اور وہ کہتے ہیں کہ کب یہ (عذاب کا) وعدہ پورا ہو گااگر تم سچے ہو؟‘‘

آیت 49

قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ ضَرًّا وَّ لَا نَفۡعًا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپؐ

کہہ دیجیے کہ میں تو خود اپنی جان کے لیے بھی کوئی اختیار نہیں رکھتا‘ نہ کسی ضرر کا نہ نفع کا‘سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔‘‘

لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ؕ

’’ہر اُمت کے لیے ایک وقت معین ہے۔‘‘

جیسے ہر اُمت کے لیے ایک رسول ؑہے ‘اسی طرح ہر اُمت کے لیے اس کی اجل (مہلت کی مدت) بھی مقرر کر دی گئی ہے۔ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق ان کے لیے مقرر کردہ وقت بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔

اِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ فَلَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۴۹﴾

’’جب ان کا وقت آ جاتا ہے تو پھر نہ تو وہ اس کوایک گھڑی مؤخر کر سکتے ہیں اور نہ ہی اسے پہلے لا سکتے ہیں۔‘‘

آیت 50

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ اَتٰىکُمۡ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوۡ نَہَارًا مَّاذَا یَسۡتَعۡجِلُ مِنۡہُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۵۰﴾

’’(اے نبیﷺ! ان سے )کہیے کیا تم نے غور کیا کہ اگر تمہارے اوپر اللہ کا عذاب (ناگہاں) آ دھمکے رات کو یا دن کے وقت‘تو وہ کیا شے ہے جس کے بل پر یہ مجرم جلدی مچا رہے ہیں؟‘‘

یعنی یہ جو تم سینہ تان کر کہتے ہو کہ لے آؤ عذاب! اورپھر کہتے ہو کہ آ کیوں نہیں جاتا ہم پر عذاب! اور پھر استہزائیہ انداز میں استفسار کرتے ہو کہ یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہونے جا رہا ہے؟ تو کبھی تم لوگوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ اگر وہ عذاب کسی وقت اچانک تم پر آہی گیا ‘رات کی کسی گھڑی میں یا دن کے کسی لمحے میں‘تو اس سے حفاظت کے لیے تم نے کیا بندوبست کر رکھا ہے؟آخر تم لوگ کس بل بوتے پر عذاب کو للکار رہے ہو؟ کس چیز کے بھروسے پرتم اس طرح جسارتیں کر رہے ہو؟

آیت 51

اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنۡتُمۡ بِہٖ ؕ آٰلۡـٰٔنَ وَ قَدۡ کُنۡتُمۡ بِہٖ تَسۡتَعۡجِلُوۡنَ ﴿۵۱﴾

’’پھرکیا جب وہ (عذاب) واقع ہو جائے گا تب تم لوگ اس پر ایمان لاؤ گے؟ (اُس وقت کہا جائے گا) کیا اب (ایمان لا رہے ہو)؟ اور اسی کی تو تم جلدی مچا رہے تھے۔‘‘

عذاب جب واقعتا ظاہر ہو جائے گا تو اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔

آیت 52

ثُمَّ قِیۡلَ لِلَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡخُلۡدِ ۚ ہَلۡ تُجۡزَوۡنَ اِلَّا بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿۵۲﴾

’’پھر کہا جائے گا ان ظالموں سے کہ اب دائمی عذاب کا مزہ چکھو۔تمہیں بدلہ نہیں دیا جا رہا ہے مگر تمہارے اپنے ہی کرتوتوں کا۔‘‘

53-55

رب کی قسم! قیامت آکر رہے گی

ویڈیو

وَ یَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕؔ قُلۡ اِیۡ وَ رَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚؕؔ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿٪۵۳﴾ وَ لَوۡ اَنَّ لِکُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ مَا فِی الۡاَرۡضِ لَافۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ وَ اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ۚ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۵۴﴾ اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾

آیت 53

وَ یَسۡتَنۡۢبِئُوۡنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ؕؔ

’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا یہ واقعی حق ہے ؟‘‘

جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال (searching questions) کرتا ہے‘ اسی طرح مشرکین بھی حضورﷺ سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے؟

قُلۡ اِیۡ وَ رَبِّیۡۤ اِنَّہٗ لَحَقٌّ ۚؕؔ وَ مَاۤ اَنۡتُمۡ بِمُعۡجِزِیۡنَ ﴿٪۵۳﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ ہاں میرے رب کی قسم! یقینا وہ حق ہے‘ اور تم (اللہ کو)عاجز نہیں کر سکتے۔‘‘

ان الفاظ میں بہت زیادہ تاکیدا ور شدت ہے۔

آیت 54

وَ لَوۡ اَنَّ لِکُلِّ نَفۡسٍ ظَلَمَتۡ مَا فِی الۡاَرۡضِ لَافۡتَدَتۡ بِہٖ ؕ

’’اور اگر کسی گنہگار جان کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو تو وہ اسے اس (عذاب) کے بدلے میں دے ڈالے۔‘‘

وَ اَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ ۚ

’’اور وہ اپنی ندامت کو چھپائیں گے جب وہ دیکھیں گے عذاب کو۔‘‘

وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡقِسۡطِ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۵۴﴾

’’اور ان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا۔‘‘

آیت 55

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’آگاہ ہو جاؤ! جو کچھ بھی ہے آسمانوں اور زمین میں وہ اللہ ہی کی ملکیت ہے۔‘‘

اَلَاۤ اِنَّ وَعۡدَ اللّٰہِ حَقٌّ وَّ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۵۵﴾

’’آگاہ ہو جاؤ !یقینا اللہ کا وعدہ حق ہے لیکن ان کی اکثریت علم نہیں رکھتی۔‘‘

56-58

انسانوں کے لیے سب سے بڑی نعمت: قرآنِ حکیم

ویڈیو

ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۵۶﴾ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾ قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾

آیت 56

ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۵۶﴾

’’ وہی ہے جو زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور اُسی کی طرف تمہیں لوٹ کر جانا ہے۔‘‘

اگلی دو آیات عظمتِ قرآن کے ضمن میں ایک بیش بہا خزانہ اور افادیت کے اعتبار سے نہایت جامع آیات ہیں۔

آیت 57

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ قَدۡ جَآءَتۡکُمۡ مَّوۡعِظَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ شِفَآءٌ لِّمَا فِی الصُّدُوۡرِ ۬ۙ

’’اے لوگو! آ گئی ہے تمہارے پاس نصیحت تمہارے رب کی طرف سے اور تمہارے سینوں (کے اَمراض ) کی شفا ‘‘

وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۵۷﴾

’’اور اہل ایمان کے لیے ہدایت اور (بہت بڑی) رحمت۔‘‘

اس آیت کے الفاظ کی ترتیب (موعظہ‘شفا‘ہدایت اور رحمت) بہت پر حکمت ہے۔ سورۃ البقرۃ کی آیت۷۴ میں انسان کے دل کی سختی کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : {ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُکُمۡ } ۔ دراصل دل کی سختی ہی وہ بنیادی مرض ہے جس کے باعث اعلیٰ سے اعلیٰ کلام بھی کسی انسان پر بے اثر ہو کر رہ جاتا ہے:؏

’’مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر‘‘

چنانچہ قبولِ ہدایت کے لیے سب سے پہلے دلوں کی سختی کو دور کرنا ضروری ہے۔ جیسے بارش سے فائدہ اٹھانے کے لیے زمین کو نرم کرنا پڑتاہے ‘سخت زمین بارش سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتی‘ بارش کا پانی اوپر ہی اوپر سے بہہ جاتا ہے ‘اس کے اندر جذب نہیں ہو تا۔ اسی طرح اگر انسان کا معدہ ہی خراب ہو تو کوئی دوسری دوائی اپنا اثر نہیں دکھاتی ۔ لہٰذا انسان کی کسی بھی بیماری کے علاج کے لیے پہلے اُس کے معدے کو درست کرنا ضروری ہے۔

دلوں کی سختی کو دور کرنے کے لیے مؤثر ترین نسخہ وعظ و نصیحت (موعظہ) ہے۔ جب وعظ اور نصیحت سے دلوں میں گداز پیدا ہو گا تو پھر قرآن ان پر دوائی کی مانند اثر کر کے تکبر‘حسد‘بغض‘حبِ دُنیاوغیرہ تمام امراض کو دور کر دے گا۔ حب دنیا میں دولت‘اولاد‘بیوی‘شہرت وغیرہ کی تمام محبتیں شامل ہیں۔ ملاحظہ ہو سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۴: {زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الۡبَنِیۡنَ وَ الۡقَنَاطِیۡرِ الۡمُقَنۡطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَ الۡفِضَّۃِ وَ الۡخَیۡلِ الۡمُسَوَّمَۃِ وَ الۡاَنۡعَامِ وَ الۡحَرۡثِ ؕ}۔ آیت زیر مطالعہ میں الفاظ کی ترتیب پر غور کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ایک انسان کے حق میں قرآن سب سے پہلے وعظ اور نصیحت ہے‘پھر تمام امراض قلب کے لیے شفا اور پھر ہدایت ۔ کیونکہ جب دل سے بیماری نکل جائے گی‘دل شفایاب ہو گا تب ہی انسان قرآن کی ہدایت اور راہنمائی کو عملاً اختیار کرے گا‘ اور جب انسان یہ سارے مراحل طے کر کے قرآن کی ہدایت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال لے گا تو پھر اس کو انعامِ خاص سے نوازا جائے گا اور و ہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت۔ کیونکہ یہ قرآن ربِّ رحمان کی رحمانیت کا مظہرِ اَتم ہے : {اَلرَّحۡمٰنُ ۙ﴿۱﴾عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ ؕ﴿۲﴾}۔

آیت 58

قُلۡ بِفَضۡلِ اللّٰہِ وَ بِرَحۡمَتِہٖ

’’ (اے نبیﷺ!ان سے )کہہ دیجیے کہ یہ ( قرآن) اللہ کے فضل اور اس کی رحمت سے (نازل ہوا) ہے‘‘ یہ قرآن اللہ کے فضل اور رحمت کا مظہر اور بنی نوع انسان پر اس کا بہت بڑا احسان ہے۔ یہ سب سے بڑی دولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کو عطا کی ہے۔

فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ

’’تو چاہیے کہ لوگ اس پر خوشیاں منائیں!‘‘

’’فرح‘‘ کے معنی ہیں خوشی سے پھولے نہ سمانا‘ یعنی خوشی کے جذبے میں حد سے بڑھ جانا‘اس لحاظ سے یہ جذبہ شریعتِ اسلامی میں قابل مذمت ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ لفظ قرآن میں زیادہ تر منفی مفہوم میں آیا ہے ---

جیسے سورۃ القصص میں قارون کے ذکر میں یہ الفاظ آئے ہیں: {اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡفَرِحِیۡنَ ﴿۷۶﴾} --- لیکن یہاں پر تو اعلانِ عام ہو رہا ہے کہ اگر ’’فرح‘‘ کرنا ہی ہے تو دولتِ قرآن پر کرو! اگر تمہیں اترانا ہی ہے تو نعمتِ قرآن پر اتراؤ! اور اگر جشن ہی منانا ہے تو جشنِ قرآن مناؤ! {فَبِذٰلِکَ فَلۡیَفۡرَحُوۡا ؕ}

ہُوَ خَیۡرٌ مِّمَّا یَجۡمَعُوۡنَ ﴿۵۸﴾

’’ وہ کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جو وہ جمع کرتے ہیں۔‘‘

یہ مال و دولتِ دنیا‘یہ سامانِ آرائش و زیبائش‘یہ اشیائے آسائش ‘یہ رنگا رنگ نعمتیں‘غرض اس دنیا میں انسان اپنے لیے جو کچھ بھی اکٹھا کرتا ہے ‘اس سب کچھ سے کہیں بہتر قرآن کی دولت ہے۔

ان دو آیات میں قرآن کی اہمیت و عظمت کے بیان میں جو تاکید اور جلال ہے اس کی قدر دانی کا تقاضا ہے کہ تمام مسلمان اس تصور کو حرزِ جان بنا لیں‘ان آیات کو زبانی یاد کریں‘الفاظ کی ترتیب کو مد نظر رکھتے ہوئے ان سے استفادہ کی کوشش کریں اور قرآن کی تعلیم و تفہیم کے ذریعے سے دل کو نرم اور گداز کرنے کا سامان کریں‘ تاکہ اس کے اثرات دل کے اندر جذب ہو کر اپنا رنگ جمائیں (عچوں بجاں دررفت جاں دیگر شود)۔ اور اس طرح قرآن کے ذریعے اپنی دنیائے دل و جان میں انقلاب برپا کریں‘تا کہ یہ ا ن کے لیے شفا‘ ہدایت اور رحمت بن جائے۔ آمین!

59-60

حلال و حرام کرنے کا اختیار اللہ ہی کا ہے

ویڈیو

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا ؕ قُلۡ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمۡ اَمۡ عَلَی اللّٰہِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۹﴾ وَ مَا ظَنُّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾

آیت 59

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا ؕ

’’ان سے کہیے کہ تم نے کبھی غور کیا کہ اللہ نے تمہارے لیے جو رزق اتارا ہے تم نے اس میں سے (ازخود) کسی کو حرام قرار دے دیا اور کسی کو حلال!‘‘

قُلۡ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمۡ اَمۡ عَلَی اللّٰہِ تَفۡتَرُوۡنَ ﴿۵۹﴾

’’ان سے پوچھئے کیا اللہ نے تمہیں اس کا حکم دیا ہے یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟‘‘

سورۃ الانعام میں ان چیزوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے جنہیں وہ لوگ ازخود حرام یا حلال قرار دے لیتے تھے۔ سورۃ المائدۃ میں بھی ان کی خود ساختہ شریعت کا ذکر ہے۔

آیت 60

وَ مَا ظَنُّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’اور جو لوگ اللہ سے جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں ‘قیامت کے دن کے بارے میں ان کا کیا گمان ہے؟‘‘

وہ کیا خیال رکھتے ہیں کہ اُس دن اِس جرم کے بدلے میں ان کے ساتھ کیسا سلوک ہو گا؟

اِنَّ اللّٰہَ لَذُوۡ فَضۡلٍ عَلَی النَّاسِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَہُمۡ لَا یَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۶۰﴾

’’یقینا اللہ تو انسانوں کے حق میں بہت فضل والا ہے ‘لیکن ان کی اکثریت شکر گزار نہیں ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے