اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا یَاۡکُلُ النَّاسُ وَ الۡاَنۡعَامُ ؕ
’’اس دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسے ہے جیسے پانی ‘جو ہم برساتے ہیں آسمان سے‘پھر اس کے ساتھ نکل آتا ہے زمین کا سبزہ‘جس میں سے کھاتے ہیں انسان بھی اورچوپائے بھی۔‘‘
پانی کے بغیر زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے‘اس میں گھاس ‘ہریالی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جونہی بارش ہوتی ہے اس میں سے طرح طرح کا سبزہ نکل آتا ہے‘ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں‘باغات ہرے بھرے ہو جاتے ہیں۔
حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَہَا وَ ازَّیَّنَتۡ
’’یہاں تک کہ جب زمین اچھی طرح اپنا سنگھار کر لیتی ہے اور خوب مزین ہو جاتی ہے‘‘
یہاں پر بہت خوبصورت الفاظ میں زمین کی شادابی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ چھوٹے بڑے نباتات کی نمائش ‘سبز پوش خوبصورتی کی بہار اور رنگا رنگ پھولوں کی زیبائش کے ساتھ جب زمین پوری طرح اپنابناؤ سنگھار کرلیتی ہے ‘فصلیں اپنے جوبن پر آ جاتی ہیں اور باغات پھلوں سے لد جاتے ہیں :
وَ ظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ
’’اور اس کے مالک سمجھتے ہیں کہ اب ہم اس پر قادر ہیں‘‘
زمین والے لہلہاتی فصلوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب چند دن کی بات ہے ‘ہم اپنی فصلوں کی کٹائی کر یں گے‘پھلوں کو پیڑوں سے اتار یں گے اور ہماری زمین کی یہ پیدوار ہماری خوشحالی کا ذریعہ بنے گی۔ مگر ہوتا کیاہے:
اَتٰہَاۤ اَمۡرُنَا لَیۡلًا اَوۡ نَہَارًا فَجَعَلۡنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ
’’تواچانک ہمارا ایک حکم آتا ہے اس (کھیت یا باغ) پر رات کے وقت یا دن کے وقت اور ہم اسے کر دیتے ہیں کٹا ہوا جیسے کہ کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔‘‘
اللہ کے حکم سے ایسی آفت آئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری فصل تباہ ہو گئی‘باغ اُجڑ گیا‘ساری محنت اَکارت گئی‘تمام سرمایہ ڈوب گیا۔ دنیا کی بے ثباتی کی اس مثال سے واضح کیا گیا ہے کہ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان اس دنیا میں دن رات محنت و مشقت او ر بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ اگر انسان کی یہ ساری محنت اور تگ و دو اللہ کی مرضی کے دائرے میں نہیں ہے‘ اس سے شریعت کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے ہیں تو یہ سب کچھ اسی دنیا کی حد تک ہی ہے‘ آخرت میں ان میں سے کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ موت کے بعد جب اس کی آنکھ کھلے گی تووہ دیکھے گا کہ اس کی زندگی بھر کی ساری محنت اکارت چلی گئی: ؏
’’جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا!‘‘
کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
’’اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔‘‘