تحریر

يونس

آیات ۱۱ تا ۳۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-14

بشری کمزوریاں

ویڈیو

وَ لَوۡ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَہُمۡ بِالۡخَیۡرِ لَقُضِیَ اِلَیۡہِمۡ اَجَلُہُمۡ ؕ فَنَذَرُ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱﴾ وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ؕ کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾ وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا الۡقُرُوۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ۙ وَ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ مَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۳﴾ ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

آیت 11

وَ لَوۡ یُعَجِّلُ اللّٰہُ لِلنَّاسِ الشَّرَّ اسۡتِعۡجَالَہُمۡ بِالۡخَیۡرِ

’’اور اگر اللہ جلدی کر دیتا لوگوں کے لیے شر‘جیسے کہ وہ جلدی چاہتے ہیں خیر‘‘

انسان جلد باز ہے ‘وہ چاہتا ہے کہ اس کی کوششوں کے نتائج جلد از جلد اس کے سامنے آ جائیں۔ مگر اللہ تو بڑا حکیم ہے‘اس نے ہر کام اور ہر واقعہ کے لیے اپنی مشیت اور حکمت کے مطابق وقت مقرر کر رکھاہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ کس کام میںخیر ہے اور کس میں خیر نہیں ہے۔ اگر اللہ انسان کی غلطیوں اور برائیوں کے بدلے اورنتائج بھی فوراً ہی ان کے سامنے رکھ دیا کرتا اور ان کے جرائم کی سزائیں بھی فوراً ہی ان کو دے دیا کرتا تو:

لَقُضِیَ اِلَیۡہِمۡ اَجَلُہُمۡ ؕ

’’ان کی اجل پوری ہو چکی ہوتی‘‘

فَنَذَرُ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۱﴾

’’پھر ہم ان لوگوں کو چھوڑ دیں گے جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ‘کہ وہ اپنی سرکشی میں اندھے ہو کر بڑھتے چلے جائیں۔‘‘

پھر وہی بات دہرائی گئی ہے ۔ اس انداز میں ایک شانِ استغناء ہے کہ اگر وہ ہمیں ملنے کے امیدوار نہیں تو ہماری نظر التفات کو بھی اُن سے کوئی دلچسپی نہیں۔

آیت 12

وَ اِذَا مَسَّ الۡاِنۡسَانَ الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۡۢبِہٖۤ اَوۡ قَاعِدًا اَوۡ قَآئِمًا ۚ

’’اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پہلو کے بل (لیٹے ہوئے) یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہو ئے۔‘‘

فَلَمَّا کَشَفۡنَا عَنۡہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنۡ لَّمۡ یَدۡعُنَاۤ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ؕ

’’پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کر دیتے ہیں تو وہ ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا کوئی تکلیف پہنچنے پر۔‘‘

کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلۡمُسۡرِفِیۡنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲﴾

’’ ایسے ہی مزین کر دیا گیا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کو۔‘‘

ان کے اندر اتنی ڈھٹائی پیدا ہوگئی ہے کہ ذرا تکلیف آ جائے تو گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں گے ‘ ہرحال میں ہمیں پکاریں گے اور گریہ و زاری میں راتیں گزار دیں گے۔ لیکن جب وہ تکلیف رفع ہو جائے گی تو ایسے بھول جائیں گے گویا ہمیں جانتے ہی نہیں۔

آیت 13

وَ لَقَدۡ اَہۡلَکۡنَا الۡقُرُوۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا ۙ

’’اور ہم تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سی نسلوں اور قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں‘جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی‘‘

وَ جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ وَ مَا کَانُوۡا لِیُؤۡمِنُوۡا ؕ

’’اور ان کے پاس (بھی )آئے تھے ان کے رسول واضح تعلیمات لے کر‘لیکن وہ نہیں تھے ایمان لانے والے۔‘‘

کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡقَوۡمَ الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۱۳﴾

’’اسی طرح ہم بدلہ دیا کرتے ہیں مجرم لوگوں کو۔‘‘

آیت 14

ثُمَّ جَعَلۡنٰکُمۡ خَلٰٓئِفَ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ لِنَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’پھر ان کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں جانشین بنا دیا ‘تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیا کرتے ہو!‘‘

یہاں ہر شخص انفرادی طور پر بھی اپنی محدود عمر میں امتحان دے رہا ہے اور قومیں اور اُمتیں بھی اپنے اپنے وقفۂ مہلت میں اس امتحان گاہ سے گزر رہی ہیں۔ علامہ اقبالؔ کے بقول: ؎

قلزمِ ہستی سے تو اُبھرا ہے مانندِ حباب

اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی!

15-17

قرآن کو بدلنے کا مطالبہ

ویڈیو

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾ قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَدۡرٰىکُمۡ بِہٖ ۫ۖ فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶﴾ فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۷﴾

آیت 15

وَ اِذَا تُتۡلٰی عَلَیۡہِمۡ اٰیَاتُنَا بَیِّنٰتٍ ۙ قَالَ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا ائۡتِ بِقُرۡاٰنٍ غَیۡرِ ہٰذَاۤ اَوۡ بَدِّلۡہُ ؕ

’’اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں ہیں ہماری روشن آیات توکہتے ہیں وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں کہ (اے محمدﷺ) اس کے علاوہ آپؐ کوئی اور قرآن پیش کریں یا اس میں کوئی ترمیم کریں۔‘‘

یہاں وہی الفاظ پھر دہرائے جا رہے ہیں ‘یعنی جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے وہ ہمارے کلام کو سنجیدگی سے سنتے ہی نہیں اور کبھی سن بھی لیتے ہیں تو استہزائیہ انداز میں جواب دیتے ہیں کہ یہ قرآن بہت سخت (rigid) ہے ‘ا س کے احکام ہمارے لیے قابل قبول نہیں۔ اس میں کچھ مداہنت (compromise) کا انداز ہونا چاہیے‘ کچھ دو اور کچھ لو (give and take) کے اصول پر بات ہونی چاہیے۔ چنانچہ آپ(ﷺ) اس کتاب میں کچھ کمی بیشی کریں تو پھر اس کی کچھ باتیں ہم بھی مان لیں گے۔

قُلۡ مَا یَکُوۡنُ لِیۡۤ اَنۡ اُبَدِّلَہٗ مِنۡ تِلۡقَآیِٔ نَفۡسِیۡ ۚ اِنۡ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ ۚ

’’(اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ میرے لیے ہر گز یہ ممکن نہیں کہ میں اس میں اپنی طرف سے کوئی تبدیلی کر لوں‘میں تو پیروی کرتا ہوں اُسی کی جو میری طرف وحی کیا جا رہا ہے۔‘‘

میں تو خود وحی الٰہی کا پابند ہوں ۔ میں اپنی طرف سے اس میں کوئی کمی بیشی‘کوئی ترمیم وتنسیخ کرنے کا مجاز نہیں ہوں۔

اِنِّیۡۤ اَخَافُ اِنۡ عَصَیۡتُ رَبِّیۡ عَذَابَ یَوۡمٍ عَظِیۡمٍ ﴿۱۵﴾

’’میں ڈرتا ہوں بڑے دن کے عذاب سے ‘اگر میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں۔‘‘

آیت 16

قُلۡ لَّوۡ شَآءَ اللّٰہُ مَا تَلَوۡتُہٗ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَدۡرٰىکُمۡ بِہٖ ۫ۖ

’’آپؐ (ان سے) کہیے کہ اگر اللہ چاہتا تو نہ میں یہ قرآن تمہیں پڑھ کر سناتا اور نہ وہ تمہیں اس سے واقف کرتا‘‘

فَقَدۡ لَبِثۡتُ فِیۡکُمۡ عُمُرًا مِّنۡ قَبۡلِہٖ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶﴾

’’میں تمہارے درمیان ایک عمر گزار چکا ہوں اس سے پہلے۔تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے!‘‘

میں پچھلے چالیس برس سے تمہارے درمیان زندگی بسر کر رہا ہوں۔ تم مجھے اچھی طرح سے جانتے ہو۔ تم جانتے ہو کہ میں شاعر نہیں ہوں‘تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ میں کاہن یا جادو گر بھی نہیں ہوں‘تمہیں یہ بھی علم ہے کہ مجھے ان چیزوں سے کبھی کوئی دلچسپی نہیں رہی اور میں نے ان چیزوں کو سیکھنے کے لیے کبھی مشق یا ریاضت بھی نہیں کی۔تم اس حقیقت کو بھی خوب سمجھتے ہو کہ کوئی شخص ایک دن میں کبھی شاعر یا کاہن نہیں بن جاتا۔ ان تمام حقائق کا علم رکھنے کے باوجود بھی تم مجھے ایسے الزامات دیتے ہو ‘تو کیا تم لوگ تعصب کی بنا پر عقل سے بالکل ہی عاری ہو گئے ہو؟

آیت 17

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ

’’تو اُس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو گاجس نے اللہ کی طرف جھوٹ بات منسوب کی یا جھٹلایا اُس کی آیات کو!‘‘

یعنی یہ قرآن جو میں تم لوگوں کو سنا رہا ہوں‘ اگر یہ اللہ کی طرف سے نہیں ہے اور میں اسے اپنی طرف سے گھڑ کر پیش کر رہا ہوں تو مجھ سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں‘ اور اگر یہ واقعتا اللہ کی آیات ہیں تو تم لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ جو شخص اللہ کی آیات کو جھٹلا دے‘اُس سے بڑھ کر ظالم اور گنہگار کوئی دوسرا نہیں ہو سکتا۔ اب اس معیارِ حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے تم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنی سوچ اور اپنے عمل کا جائزہ لے اور دیکھے کہ وہ کون سی روش اختیار کر رہا ہے۔

اِنَّہٗ لَا یُفۡلِحُ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ﴿۱۷﴾

’’یقینا مجرم لوگ فلاح نہیں پایا کرتے۔‘‘

18-19

شفاعتِ باطلہ کا من گھڑت عقیدہ

ویڈیو

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾ وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخۡتَلَفُوۡا ؕ وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ فِیۡمَا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾

آیت 18

وَ یَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَضُرُّہُمۡ وَ لَا یَنۡفَعُہُمۡ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنۡدَ اللّٰہِ ؕ

’’اور یہ لوگ پرستش کرتے ہیں اللہ کے سوا یسی چیزوں کی جو نہ انہیں کوئی نقصان پہنچا سکتی ہیں اور نہ نفع دے سکتی ہیں‘اور کہتے ہیں کہ یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے ہاں۔‘‘

اس سے مشرکین مکہ کا بنیادی عقیدہ ظاہر ہو رہا ہے۔ وہ لوگ مانتے تھے کہ اس کائنات کا خالق اور مالک اللہ ہے۔ وہ اپنے بتوں کو کائنات کا خالق و مالک نہیں بلکہ اللہ کے قرب کا وسیلہ سمجھتے تھے۔ ان کا ایمان تھا کہ جن ہستیوں کے نام پر یہ بت بنائے گئے ہیں وہ ہستیاں اللہ کے ہاں بہت مقرب اور محبوب ہونے کے باعث اس کے ہاں ہماری سفارش کریں گی۔

قُلۡ اَتُنَبِّـُٔوۡنَ اللّٰہَ بِمَا لَا یَعۡلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’آپؐ کہیے کہ کیا تم اللہ کو بتانا چاہتے ہو وہ شے جو وہ نہیں جانتا ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں؟‘‘

کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دینا چاہتے ہو جس کا اُس کو خود پتا نہیں؟یہ وہی با ت ہے جو آیۃ الکرسی کی تشریح کے ضمن میں بیان ہو چکی ہے کہ ایسی کسی شفاعت کا آخر جواز کیا ہو گا؟ اللہ تو غائب اور حاضر سب کچھ جاننے والا ہے: {یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ ۚ وَ لَا یُحِیۡطُوۡنَ بِشَیۡءٍ مِّنۡ عِلۡمِہٖۤ اِلَّا بِمَا شَآءَ ۚ}۔ تو پھر آخر کوئی سفارشی اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر کیا کہے گا؟ کس بنیاد پر وہ کسی کی سفارش کرے گا؟ کیا وہ یہ کہے گا کہ اے اللہ ! تو اس آدمی کو ٹھیک سے نہیں جانتا‘میں اسے بہت اچھی طرح جانتا ہوں‘یہ بہت اچھا اور نیک آدمی ہے!توکیاوہ اللہ کو وہ کچھ بتانا چاہے گا (معاذ اللہ) جس کو وہ خود نہیں جانتا؟

سُبۡحٰنَہٗ وَ تَعٰلٰی عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۸﴾

’’وہ بہت پاک اور بلند ہے ان چیزوں سے جن کو وہ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔‘‘

آیت 19

وَ مَا کَانَ النَّاسُ اِلَّاۤ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً فَاخۡتَلَفُوۡا ؕ

’’اور نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی اُمت ‘پھر (بعد میں) انہوں نے اختلاف کیا۔‘‘

یہ مضمون سورۃ البقرۃ میں بھی گزر چکا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام سے انسانوں کی نسل چلی ہے ‘ چنانچہ جس طرح تمام انسان نسلاً ایک تھے اسی طرح نظریاتی طور پر بھی وہ سب ایک ہی اُمت تھے۔ بنی نوعِ انسان کے مابین تمام نظریاتی اختلافات بعد کی پیداوار ہیں۔

وَ لَوۡ لَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتۡ مِنۡ رَّبِّکَ

’’اور اگر ایک بات تیرے رب کی طرف سے پہلے سے طے نہ پا چکی ہوتی‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہر فرد اور ہر قوم کے لیے ایک اجل مقرر فر ما دی ہے۔ اسی طرح پوری کائنات کی اجل بھی طے شدہ ہے۔ اگر یہ سب کچھ طے نہ ہو چکا ہوتا:

لَقُضِیَ بَیۡنَہُمۡ فِیۡمَا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ ﴿۱۹﴾

’’تو فیصلہ کر دیا جاتاان کے مابین ان تمام چیزوں میں جن میں یہ اختلاف کر رہے ہیں۔‘‘

20

فرمائشی معجزہ دکھانے کا مطالبہ

ویڈیو

وَ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ۚ فَقُلۡ اِنَّمَا الۡغَیۡبُ لِلّٰہِ فَانۡتَظِرُوۡا ۚ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾

آیت 20

وَ یَقُوۡلُوۡنَ لَوۡ لَاۤ اُنۡزِلَ عَلَیۡہِ اٰیَۃٌ مِّنۡ رَّبِّہٖ ۚ

’’اور وہ کہتے ہیں کیوں نہ اتاری گئی کوئی نشانی (معجزہ) اس (رسولؐ) پر اس کے رب کی طرف سے؟‘‘

فَقُلۡ اِنَّمَا الۡغَیۡبُ لِلّٰہِ فَانۡتَظِرُوۡا ۚ اِنِّیۡ مَعَکُمۡ مِّنَ الۡمُنۡتَظِرِیۡنَ ﴿٪۲۰﴾

’’آپؐ کہہ دیجیے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے‘ پس انتظارکرو‘میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کر رہا ہوں۔‘‘

اپنی اس ضد اور ہٹ دھرمی کے بعد انتظار کرو کہ مشیت ایزدی سے کب‘کیا شے ظہور میں آتی ہے۔

21-23

انسان کی احسان فراموشی

ویڈیو

وَ اِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً مِّنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُمۡ اِذَا لَہُمۡ مَّکۡرٌ فِیۡۤ اٰیَاتِنَا ؕ قُلِ اللّٰہُ اَسۡرَعُ مَکۡرًا ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَکۡتُبُوۡنَ مَا تَمۡکُرُوۡنَ ﴿۲۱﴾ ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾ فَلَمَّاۤ اَنۡجٰہُمۡ اِذَا ہُمۡ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡیُکُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ ۙ مَّتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُکُمۡ فَنُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾

آیت 21

وَ اِذَاۤ اَذَقۡنَا النَّاسَ رَحۡمَۃً مِّنۡۢ بَعۡدِ ضَرَّآءَ مَسَّتۡہُمۡ اِذَا لَہُمۡ مَّکۡرٌ فِیۡۤ اٰیَاتِنَا ؕ

’’اور جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیںاُس تکلیف کے بعد جو ان پر آ گئی تھی تو فوراً ہی وہ ہماری آیات کے بارے میں سازشیں کرنے لگتے ہیں۔‘‘

پہلی اُمتوں میں بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور حضورﷺ کی بعثت کے بعد اہل مکہ پر بھی چھوٹی چھوٹی تکالیف آتی رہی ہیں جیسے روایات میں ہے کہ آپﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں شدید نوعیت کا قحط پڑ گیا تھا۔ ایسے حالات میں مشرکینِ مکہ کچھ نرم پڑ جاتے تھے۔ حضورﷺکے پاس آ کر بیٹھتے بھی تھے اور آپﷺ کی باتیں بھی سنتے تھے۔ مگر جونہی تکلیف رفع ہو جاتی تووہ پھر سے اللہ اور اس کے رسولﷺ کے خلاف سازشیں شروع کر دیتے۔

قُلِ اللّٰہُ اَسۡرَعُ مَکۡرًا ؕ اِنَّ رُسُلَنَا یَکۡتُبُوۡنَ مَا تَمۡکُرُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’آپؐ کہیے کہ اللہ اپنی تدبیروں میں کہیں زیادہ تیز ہے۔یقینا ہمارے فرشتے لکھ رہے ہیں جو کچھ بھی سازشیں تم لوگ کر رہے ہو۔‘‘

آیت 22

ہُوَ الَّذِیۡ یُسَیِّرُکُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ ؕ

’’وہی ہے جو تمہیں سیر کراتا ہے خشکی اور سمندرمیں۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ نے مختلف قوانین طبعی کے تحت مختلف چیزوں کو سواریوں کے طور پر انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔

حَتّٰۤی اِذَا کُنۡتُمۡ فِی الۡفُلۡکِ ۚ وَ جَرَیۡنَ بِہِمۡ بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ وَّ فَرِحُوۡا بِہَا

’’یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو‘ اور وہ چل رہی ہوتی ہیں انہیں(سواروں کو) لے کر خوشگوار (موافق) ہوا کے ساتھ اوروہ بہت خوش ہوتے ہیں‘‘

جَآءَتۡہَا رِیۡحٌ عَاصِفٌ وَّ جَآءَہُمُ الۡمَوۡجُ مِنۡ کُلِّ مَکَانٍ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہُمۡ اُحِیۡطَ بِہِمۡ ۙ

’’کہ اچانک تیز ہوا کا جھکڑ چل پڑتا ہے اور ہر طرف سے موجیں اُ ن کی طرف بڑھنے لگتی ہیں اور وہ گمان کرنے لگتے ہیں کہ وہ ان (لہروں)میں گھیر لیے گئے ہیں‘‘

ہر طرف سے پہاڑ جیسی لہروں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر انہیں یقین ہو جاتا ہے کہ بس اب وہ لہروں میں گھر گئے ہیں اور اُن کا آخری وقت آن پہنچا ہے۔

دَعَوُا اللّٰہَ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ۚ لَئِنۡ اَنۡجَیۡتَنَا مِنۡ ہٰذِہٖ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۲۲﴾

’’(اُس وقت )وہ پکارتے ہیں اللہ کو ‘اس کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے کہ( اے اللہ !)اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دے دی تو ہم لازماًہو جائیں گے بہت شکر کرنے والوں میں سے ۔‘‘

ایسے مشکل وقت میں انہیں صرف اللہ ہی یاد آتا ہے‘کسی دیوی یا دیوتا کا خیال نہیں آتا۔ اس سلسلے میں ابوجہل کے بیٹے عکرمہ کے بارے میں بہت اہم واقعہ تاریخ میں ملتا ہے کہ فتح مکہ کے بعد وہ حجاز سے فرار ہو کر حبشہ جانے کے لیے بعض دوسرے لوگوں کے ساتھ کشتی میں سوار تھے کہ کشتی اچانک طوفان میں گھر گئی۔ کشتی میں تمام لوگ مشرکین تھے‘لیکن اس مصیبت کی گھڑی میں کسی کو بھی لات‘ منات‘ عزیٰ اور ہبل یاد نہ آئے اور انہوں نے مدد کے لیے پکارا تو اللہ کو پکارا۔ اسی لمحے عکرمہ کو اس حقیقت کے انکشاف نے چونکا دیا کہ یہی تو وہ پیغام ہے جو محمد(ﷺ) ہمیں دے رہے ہیں۔ چنانچہ وہ واپس لوٹ آئے اور رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر حلقہ بگوشِ اسلام ہو گئے اور شرفِ صحابیت سے مشرف ہوئے۔ اس کے بعد یہی عکرمہ رضی اللہ عنہ اسلام کے زبردست مجاہد ثابت ہوئے‘ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں منکرینِ زکوٰۃ اور مرتدین کے خلاف جہاد میں انہوں نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔

دراصل اللہ کی معرفت انسان کی فطرت کے اندر سمو دی گئی ہے۔ بعض اوقات باطل خیالات و نظریات کا ملمع اس معرفت کی قبولیت میں آڑے آ جاتا ہے‘ لیکن جب یہ ملمع اترنے کا کوئی سبب پیدا ہو تا ہے تو اندر سے انسانی فطرت اپنی اصلی حالت میں نمایاں ہو جاتی ہے جو حق کو پہچاننے میں لمحہ بھر کو دیر نہیں کرتی۔

آیت 23

فَلَمَّاۤ اَنۡجٰہُمۡ اِذَا ہُمۡ یَبۡغُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ

’’پھرجب وہ انہیں نجات دے دیتا ہے تو فوراً ہی بغاوت کرنے لگتے ہیں زمین میں نا حق۔‘‘

جونہی خطرے کی گھڑی ٹل جاتی ہے تو پھر انہیں دیویاں‘دیوتا یاد آ جاتے ہیں اور پھر سے اللہ سے سرکشی شروع ہو جاتی ہے۔

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَا بَغۡیُکُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِکُمۡ ۙ مَّتَاعَ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ۫ ثُمَّ اِلَیۡنَا مَرۡجِعُکُمۡ فَنُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۳﴾

’’اے لوگو! تمہاری اس بغاوت کا وبال تمہاری اپنی ہی جانوں پر آئے گا‘یہ دنیا کی زندگی کا سازوسامان ہے (اسے برت لو) ‘پھر ہماری ہی طرف تم سب کو لوٹنا ہے‘پھر ہم تم کو بتلا دیں گے جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘

24

دنیا کی زندگی کھیتی کی طرح ہے

ویڈیو

اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا یَاۡکُلُ النَّاسُ وَ الۡاَنۡعَامُ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَہَا وَ ازَّیَّنَتۡ وَ ظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ اَتٰہَاۤ اَمۡرُنَا لَیۡلًا اَوۡ نَہَارًا فَجَعَلۡنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

آیت 24

اِنَّمَا مَثَلُ الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا کَمَآءٍ اَنۡزَلۡنٰہُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخۡتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الۡاَرۡضِ مِمَّا یَاۡکُلُ النَّاسُ وَ الۡاَنۡعَامُ ؕ

’’اس دنیا کی زندگی کی مثال تو ایسے ہے جیسے پانی ‘جو ہم برساتے ہیں آسمان سے‘پھر اس کے ساتھ نکل آتا ہے زمین کا سبزہ‘جس میں سے کھاتے ہیں انسان بھی اورچوپائے بھی۔‘‘

پانی کے بغیر زمین بنجر اور مردہ ہوتی ہے‘اس میں گھاس ‘ہریالی وغیرہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جونہی بارش ہوتی ہے اس میں سے طرح طرح کا سبزہ نکل آتا ہے‘ فصلیں لہلہانے لگتی ہیں‘باغات ہرے بھرے ہو جاتے ہیں۔

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَخَذَتِ الۡاَرۡضُ زُخۡرُفَہَا وَ ازَّیَّنَتۡ

’’یہاں تک کہ جب زمین اچھی طرح اپنا سنگھار کر لیتی ہے اور خوب مزین ہو جاتی ہے‘‘

یہاں پر بہت خوبصورت الفاظ میں زمین کی شادابی کی تصویر کشی کی گئی ہے۔ چھوٹے بڑے نباتات کی نمائش ‘سبز پوش خوبصورتی کی بہار اور رنگا رنگ پھولوں کی زیبائش کے ساتھ جب زمین پوری طرح اپنابناؤ سنگھار کرلیتی ہے ‘فصلیں اپنے جوبن پر آ جاتی ہیں اور باغات پھلوں سے لد جاتے ہیں :

وَ ظَنَّ اَہۡلُہَاۤ اَنَّہُمۡ قٰدِرُوۡنَ عَلَیۡہَاۤ ۙ

’’اور اس کے مالک سمجھتے ہیں کہ اب ہم اس پر قادر ہیں‘‘

زمین والے لہلہاتی فصلوں کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب چند دن کی بات ہے ‘ہم اپنی فصلوں کی کٹائی کر یں گے‘پھلوں کو پیڑوں سے اتار یں گے اور ہماری زمین کی یہ پیدوار ہماری خوشحالی کا ذریعہ بنے گی۔ مگر ہوتا کیاہے:

اَتٰہَاۤ اَمۡرُنَا لَیۡلًا اَوۡ نَہَارًا فَجَعَلۡنٰہَا حَصِیۡدًا کَاَنۡ لَّمۡ تَغۡنَ بِالۡاَمۡسِ ؕ

’’تواچانک ہمارا ایک حکم آتا ہے اس (کھیت یا باغ) پر رات کے وقت یا دن کے وقت اور ہم اسے کر دیتے ہیں کٹا ہوا جیسے کہ کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔‘‘

اللہ کے حکم سے ایسی آفت آئی کہ دیکھتے ہی دیکھتے ساری فصل تباہ ہو گئی‘باغ اُجڑ گیا‘ساری محنت اَکارت گئی‘تمام سرمایہ ڈوب گیا۔ دنیا کی بے ثباتی کی اس مثال سے واضح کیا گیا ہے کہ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان اس دنیا میں دن رات محنت و مشقت او ر بھاگ دوڑ کرتا ہے۔ اگر انسان کی یہ ساری محنت اور تگ و دو اللہ کی مرضی کے دائرے میں نہیں ہے‘ اس سے شریعت کے تقاضے پورے نہیں ہو رہے ہیں تو یہ سب کچھ اسی دنیا کی حد تک ہی ہے‘ آخرت میں ان میں سے کچھ بھی اس کے ہاتھ نہیں آئے گا۔ موت کے بعد جب اس کی آنکھ کھلے گی تووہ دیکھے گا کہ اس کی زندگی بھر کی ساری محنت اکارت چلی گئی: ؏

’’جب آنکھ کھلی گل کی تو موسم تھا خزاں کا!‘‘

کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’اسی طرح ہم اپنی آیات کی تفصیل کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔‘‘

25-27

اللہ کی راہ ہی سلامتی کی راہ ہے

ویڈیو

وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾ لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ وَ لَا یَرۡہَقُ وُجُوۡہَہُمۡ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّۃٌ ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَۃٍۭ بِمِثۡلِہَا ۙ وَ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ کَاَنَّمَاۤ اُغۡشِیَتۡ وُجُوۡہُہُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّیۡلِ مُظۡلِمًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷﴾

آیت 25

وَ اللّٰہُ یَدۡعُوۡۤا اِلٰی دَارِ السَّلٰمِ ؕ وَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسۡتَقِیۡمٍ ﴿۲۵﴾

’’اور اللہ بلا رہا ہے تمہیں سلامتی کے گھر کی طرف ‘اور وہ ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی طرف۔‘‘

آیت 26

لِلَّذِیۡنَ اَحۡسَنُوا الۡحُسۡنٰی وَ زِیَادَۃٌ ؕ

’’جو لوگ احسان کی روش اختیار کریں گے‘ان کے لیے حسنیٰ (بھلائی) ہے اور مزید بھی۔‘‘

انہیں نیکی کا بدلہ بھی بہت اچھا ملے گا اور مزید برآں انہیں انعامات سے بھی نوازاجائے گا۔

وَ لَا یَرۡہَقُ وُجُوۡہَہُمۡ قَتَرٌ وَّ لَا ذِلَّۃٌ ؕ

’’اور نہیں مسلط ہو گی ان کے چہروں پر سیاہی اور نہ ذلت۔ ‘‘

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’ یہی ہوں گے جنت والے ‘اور رہیں گے اس میں ہمیشہ ہمیش ۔‘‘

آیت 27

وَ الَّذِیۡنَ کَسَبُوا السَّیِّاٰتِ جَزَآءُ سَیِّئَۃٍۭ بِمِثۡلِہَا ۙ

’’اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں تو (ان کے لیے) بدلہ ہو گا برائی کاویساہی ‘‘

یعنی جیسی ان کی برائی ہوگی ویسا ہی اس کا بدلہ ہوگا‘اس میں کچھ اضافہ نہیں کیا جائے گا۔

وَ تَرۡہَقُہُمۡ ذِلَّۃٌ ؕ مَا لَہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ مِنۡ عَاصِمٍ ۚ

’’اور ان پرذلت چھا جائے گی۔نہیں ہو گا انہیں اللہ (کی پکڑ )سے کوئی بھی بچانے والا۔‘‘

کَاَنَّمَاۤ اُغۡشِیَتۡ وُجُوۡہُہُمۡ قِطَعًا مِّنَ الَّیۡلِ مُظۡلِمًا ؕ

’’گویا ان کے چہروں پر تاریک رات کے ٹکڑے اُڑھا دیے گئے ہوں۔‘‘

اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’یہی لوگ ہوں گے جہنمی ‘ یہ رہیں گے اسی میں ہمیشہ ہمیش۔‘‘

28-30

مشرکین کے لیے اولیاءاللہ کا کورا جواب

ویڈیو

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا مَکَانَکُمۡ اَنۡتُمۡ وَ شُرَکَآؤُکُمۡ ۚ فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ قَالَ شُرَکَآؤُہُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ اِیَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۲۸﴾ فَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اِنۡ کُنَّا عَنۡ عِبَادَتِکُمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾ ہُنَالِکَ تَبۡلُوۡا کُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ وَ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

آیت 28

وَ یَوۡمَ نَحۡشُرُہُمۡ جَمِیۡعًا ثُمَّ نَقُوۡلُ لِلَّذِیۡنَ اَشۡرَکُوۡا مَکَانَکُمۡ اَنۡتُمۡ وَ شُرَکَآؤُکُمۡ ۚ

’’اور جس دن ہم ان سب کو جمع کریں گے‘پھر ہم کہیں گے ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا تھاکہ کھڑے رہو اپنی جگہ پر تم بھی اور تمہارے شریک بھی۔‘‘

یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ لات‘منات‘ عزیٰ وغیرہ کی بات نہیں ہو رہی جن کے بارے میں کسی کو پتا نہیں کہ ان کی اصل کیا تھی‘ بلکہ یہ اولیاء اللہ ‘نیک ا ور برگزیدہ بندوں کی بات ہو رہی ہے جن کے ناموں پرمورتیاں او ر بت بنا کر ان کی پوجا کی گئی ہو گی۔ جیسے قومِ نوحؑ نے ودّ ‘ سواع اور یغوث وغیرہ اولیاء اللہ کی پوجا کے لیے ان کے بت بنا رکھے تھے ( اس بارے میں تفصیل سورۃ نوح میں آئے گی)۔ ہمارے ہاں صرف یہ فرق ہے کہ بت نہیں بنائے جاتے‘قبریں پوجی جاتی ہیں۔

اس سلسلے میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ کے خطاب کی ایک جھلک ہم سورۃ المائدۃ کے آخری رکوع میں دیکھ آئے ہیں۔ اس لیے یہاں یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ ایسے بلند مرتبہ لوگوں کو اس طرح کا حکم کیونکر دیا جائے گا کہ ٹھہرے رہو اپنی جگہ پرتم بھی اور تمہارے شریک بھی! بہر حال اللہ تعالیٰ کی شان بہت بلند ہے‘ جبکہ ایک بندہ تو بندہ ہی ہے ‘چاہے جتنی بھی ترقی کر لے: اَلرَّبُّ رَبٌّ وَاِنْ تَنَزَّلَ ۔ وَالْعَبْدُ عَبْدٌ وَاِنْ تَرَقّٰی!

فَزَیَّلۡنَا بَیۡنَہُمۡ وَ قَالَ شُرَکَآؤُہُمۡ مَّا کُنۡتُمۡ اِیَّانَا تَعۡبُدُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’ توہم ان کے درمیان رشتے منقطع کر دیں گے اور کہیں گے ان کے شریک (ان سے ) کہ تم ہم کو تونہیں پوجا کرتے تھے۔‘‘

وہ نیک لوگ جنہیں اللہ کا شریک بنایا گیاوہ اس شرک سے بری ہیں‘کیونکہ انہوں نے تو اپنی زندگیاں اللہ کی اطاعت میں گزار ی تھیں ۔ جیسے البقرۃ :۱۳۴ میں بہت واضح انداز میں فرمایا گیا ہے: {تِلۡکَ اُمَّۃٌ قَدۡ خَلَتۡ ۚ لَہَا مَا کَسَبَتۡ وَ لَکُمۡ مَّا کَسَبۡتُمۡ ۚ } ’’ وہ ایک جماعت تھی جو گزر گئی‘ان کے لیے ہے جو انہوں نے کمایا اور تمہارے لیے ہے جو تم نے کمایا‘‘۔ اگر کوئی شیخ عبدالقادر جیلانی رحمہ اللہ علیہ کو پکارتا ہے یا کسی مزار پر جا کر مشرکانہ حرکتیں کرتا ہے تو اس کا وبال صاحبِ مزار پر قطعاً نہیں ہو گا۔ ان پر تو اُلٹا ظلم ہو رہا ہے کہ انہیں اللہ کے ساتھ شرک میں ملوث کیا جا رہا ہے۔ چنانچہ اللہ کے وہ نیک بندے اللہ کے ہاں ان شرک کرنے والوں کے خلاف استغاثہ کریں گے ‘کہ وہ لوگ اللہ کو چھوڑکر انہیں پکارتے تھے اور ان کے ناموں کی دہائیاں دیتے تھے۔وہ ان شرک کرنے والوںسے کہیں گے :

آیت 29

فَکَفٰی بِاللّٰہِ شَہِیۡدًۢا بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکُمۡ اِنۡ کُنَّا عَنۡ عِبَادَتِکُمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾

’’پس اللہ کافی ہے (بطور) گواہ ہمارے اور تمہارے مابین‘ ہم توتمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔‘‘

یعنی اگر تم ہماری پوجا کرتے بھی رہے ہو تو ہمیں بالکل اس کی خبر نہیں‘ہم پر اس کا کچھ الزام نہیں۔ ہم تمہارے اس گھناؤنے فعل سے بالکل بری ہیں۔

آیت 30

ہُنَالِکَ تَبۡلُوۡا کُلُّ نَفۡسٍ مَّاۤ اَسۡلَفَتۡ وَ رُدُّوۡۤا اِلَی اللّٰہِ مَوۡلٰىہُمُ الۡحَقِّ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۳۰﴾

’’اُس وقت ہر جان کو پتا چل جائے گا کہ اُس نے کیا آگے بھیجا تھا‘ اور وہ لوٹا دیے جائیں گے اللہ کی طرف جو ان کا برحق مولیٰ ہے ‘اور گم ہو جائے گا ان سے وہ سب کچھ جو وہ افترا کرتے تھے۔‘‘

یعنی اس دن جب شفاعت کی امیدوں کے سارے سہارے ہوا ہو جائیں گے تو ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ جائیں گے۔ تب انہیں معلوم ہو گا کہ ؏ ’’خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا ‘جو سنا افسانہ تھا!‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے