اِنَّ الَّذِیۡنَ لَا یَرۡجُوۡنَ لِقَآءَنَا
’’بے شک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں‘‘
یہاں پر یہ نکتہ نوٹ کریں کہ یہ الفاظ اس سورت میں باربار دہرائے جائیں گے۔ اصل میں یہ ایسی انسانی سوچ اور نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق انسانی زندگی ہی اصل زندگی ہے ۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ انسانی زندگی جو ہم اس دنیا میں گزاررہے ہیں اس کی اصل حقیقت کیا ہے! اسے محاورۃً ’’چار دن کی زندگی‘‘ قرار دیا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر ؔنے بھی کہا ہے ؎
عمرِ دراز مانگ کے لائے تھے چار دن
دو آرزو میں کٹ گئے ‘دو انتظار میں!
اگر انسان اس دُنیا میں طویل طبعی عمر بھی پائے تو اس کا ایک حصہ بچپن کی نا سمجھی اور کھیل کود میں ضائع ہو جاتا ہے۔ شعور اور جوانی کی عمر کا تھوڑا سا وقفہ اس کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی بڑھاپا اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے {لِکَیۡ لَا یَعۡلَمَ بَعۡدَ عِلۡمٍ شَیۡئًا ؕ } (النحل :۷۰) کی جیتی جاگتی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ تو کیا انسانی زندگی کی حقیقت بس یہی ہے؟ اور کیا اتنی سی زندگی کے لیے ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا جاتا ہے؟ انسان غور کرے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ انسانی زندگی محض ہمارے سامنے کے چند ماہ وسال کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نام ہے ۔ علامہ اقبالؔ کے بقول: ؎
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ‘پیہم دواں‘ہر دم جواں ہے زندگی
اور اقبالؔ ہی نے اس سلسلے میں انسانی نا سمجھی اور کم ظرفی کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے: ؎
تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا
ورنہ گلشن میں علاجِ تنگیٔ داماں بھی ہے!
اس لامتناہی سلسلۂ زندگی میں سے ایک انتہائی مختصر اور عارضی وقفہ یہ دُنیوی زندگی ہے جو اللہ نے انسان کو آزمانے اور جانچنے کے لیے عطا کی ہے: {الَّذِیۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَ الۡحَیٰوۃَ لِیَبۡلُوَکُمۡ اَیُّکُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ} (الملک:۲)۔ جبکہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور وہ بہت طویل ہے۔ جیسے سورۃ العنکبوت میں فرمایا: {وَ اِنَّ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ لَہِیَ الۡحَیَوَانُ ۘ لَوۡ کَانُوۡا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۶۴﴾} ’’اور یقینا آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے ‘ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا!‘‘ مگر وہ لوگ جن کا ذہنی اُفق تنگ اور سوچ محدود ہے ‘وہ اسی عارضی اور مختصر وقفۂ زندگی کو اصل زندگی سمجھ کر اس کی رعنائیوں پر فریفتہ اور اس کی رنگینیوں میں گم رہتے ہیں۔ بقولِ علامہ اقبال ؔ:
کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے
مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق!
اصل اور دائمی زندگی کی عظمت اور حقیقت ایسے لوگوں کی نظر وںسے بالکل اوجھل ہو چکی ہے۔
وَ رَضُوۡا بِالۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ اطۡمَاَنُّوۡا بِہَا وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ عَنۡ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوۡنَ ۙ﴿۷﴾
’’اور وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور اسی پر مطمئن ہیں‘اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔‘‘
انسانوں کے اندر اور باہر اللہ کی بے شمار نشانیاں موجود ہیں اور ان کی فطرت انہیں بار بار دعوتِ فکر بھی دیتی ہے: ؎
کھول آنکھ ‘زمیں دیکھ ‘فلک دیکھ‘فضا دیکھ!
مشرق سے اُبھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ!
مگر وہ لوگ شہواتِ نفسانی کے چکروں میں اس حدتک غلطاں و پیچاں ہیں کہ انہیں آنکھ کھول کر انفس و آفاق میں بکھری ہوئی ان لاتعداد آیاتِ الٰہی کو ایک نظر دیکھنے کی فرصت ہے نہ توفیق۔
اُولٰٓئِکَ مَاۡوٰىہُمُ النَّارُ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸﴾
’’یہی وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانہ آگ ہے‘اپنی اس کمائی کے سبب جو وہ کر رہے ہیں۔‘‘
جس شخص نے اپنی پوری دُنیوی زندگی میں نہ اللہ کی طرف رجوع کیا اور نہ آخرت ہی کی کچھ فکر کی ‘ ساری عمر ’بابر بہ عیش کو ش کہ عالم دوبارہ نیست‘ جیسے نعرے کو اپنا ماٹو بنائے رکھا‘حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی قیود سے بے نیاز ہو کر جھوٹی مسرتیں اور عارضی خوشیاں جہاں سے ملیں‘جس قیمت پر ملیں حاصل کر لیں‘تو ایسے شخص کا آخری ٹھکانہ آگ کے سوا بھلا اور کہاں ہو سکتا ہے!
اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ یَہۡدِیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِاِیۡمَانِہِمۡ ۚ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ فِیۡ جَنّٰتِ النَّعِیۡمِ ﴿۹﴾
’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے‘ان کارب ان کے ایمان کے باعث ان کوپہنچا دے گا نعمتوں والے باغات میں ‘جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔‘‘
دَعۡوٰىہُمۡ فِیۡہَا سُبۡحٰنَکَ اللّٰہُمَّ
’’ اس میں ان کا ترانہ ہو گا: اے اللہ تو پاک ہے‘‘
وہ لوگ جنت کے اندر بھی اللہ تعالیٰ کی تسبیح و مناجات کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار‘ تو ہر ضعف سے پاک ہے‘ہر عیب اورہر نقص سے مبرا ہے اور احتیاج کے ہر تصور سے ارفع و اعلیٰ ہے۔
وَ تَحِیَّتُہُمۡ فِیۡہَا سَلٰمٌ ۚ
’’اور اس میں ان کی (آپس کی )دعا ’سلام‘ ہو گی۔‘‘
اہلِ جنت آپس میں ایک دوسرے کو ملتے ہوئے السلام علیکم کے الفاظ کہیں گے‘اس طرح وہاں ہر طرف سے سلام‘سلام کی آوازیں آ رہیں ہو ں گی۔ جیسے سورۃ الواقعہ میں فرمایا: {لَا یَسۡمَعُوۡنَ فِیۡہَا لَغۡوًا وَّ لَا تَاۡثِیۡمًا ﴿ۙ۲۵﴾ اِلَّا قِیۡلًا سَلٰمًا سَلٰمًا ﴿۲۶﴾} ’’وہاں نہ بے ہودہ بات سنیں گے اور نہ گالی گلوچ۔ وہاں ان کا کلام سلام سلام ہو گا۔‘‘
وَ اٰخِرُ دَعۡوٰىہُمۡ اَنِ الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿٪۱۰﴾
’’اور ان کی دعا اور مناجات کا اختتام (ہمیشہ ان کلمات پر ) ہو گاکہ کل حمداور کل تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے ۔‘‘