تحریر

التوبة

آیات ۱۱۹ تا ۱۲۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

119

تقوٰی اختیار کرنے کے لئے جماعت سے جڑنا ضروری ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

آیت 119

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿۱۱۹﴾

’’اے اہلِ ایمان! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور سچے لوگوں کی معیت اختیار کرو۔‘‘

یہ گویا اہلِ ایمان کے لیے جماعتی زندگی اختیار کرنے کا حکم ہے۔ نیک لوگوں کی صحبت اختیار کرنے اور جماعتی زندگی سے منسلک رہنے کے بہت سے فوائد اور بہت سی برکتیں ہیں ‘جیسا کہ اس سے پہلے ہم سورۃ الانعام کی آیت ۷۱ میں پڑھ آئے ہیں: {لَہٗۤ اَصۡحٰبٌ یَّدۡعُوۡنَہٗۤ اِلَی الۡہُدَی ائۡتِنَا ؕ} ’’اُس کے ساتھی اس کو سیدھے راستے کی طرف پکار رہے ہوں کہ آؤ ہماری طرف !‘‘ جماعتی زندگی دراصل ایک قافلے کی مانند ہے۔ قافلے میں دورانِ سفر اگر کسی ساتھی کی ہمت جواب دے رہی ہو یا کوئی معذوری آڑے آ رہی ہو تو دوسرے ساتھی اسے سہارا دینے ‘ہاتھ پکڑنے اور ہمت بندھانے کے لیے موجود ہوتے ہیں۔

120-121

نبی اکرم ﷺ سے محبت اپنی جان سے بھی بڑھ کر ہونی چاہیے

ویڈیو

مَا کَانَ لِاَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ وَ مَنۡ حَوۡلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمۡ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ لَا یُصِیۡبُہُمۡ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخۡمَصَۃٌ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا یَّغِیۡظُ الۡکُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّیۡلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۲۰﴾ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَۃً صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً وَّ لَا یَقۡطَعُوۡنَ وَادِیًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾

آیت 120

مَا کَانَ لِاَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ وَ مَنۡ حَوۡلَہُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ یَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِہِمۡ عَنۡ نَّفۡسِہٖ ؕ

’’اہلِ مدینہ اور ان کے اردگرد کے بدو لوگوں کے لیے روا نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (ﷺ) کو چھوڑ کر پیچھے بیٹھ رہتے اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو آپؐ کی جان سے بڑھ کر عزیز رکھتے۔‘‘

غزوۂ تبوک کے لیے نکلتے ہوئے مدینہ کے ماحول میں ’’تپتی راہیں مجھ کو پکاریں‘دامن پکڑے چھاؤں گھنیری‘‘ والا معاملہ تھا۔ لہٰذا جب اللہ کے رسولﷺ ان تپتی راہوں کی طرف کوچ فرمارہے تھے تو کسی ایمان کے دعویدار کو یہ زیب نہیں دیتا تھا کہ وہ آپؐ کا ساتھ چھوڑ کر پیچھے رہ جائے‘ آپؐ کی جان سے بڑھ کر اپنی جان کی عافیت کی فکر کرے اور آپؐ کے سفر کی صعوبتوں پر اپنی آسائشوں کو ترجیح دے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ لَا یُصِیۡبُہُمۡ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخۡمَصَۃٌ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ لَا یَطَـُٔوۡنَ مَوۡطِئًا یَّغِیۡظُ الۡکُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّیۡلًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ بِہٖ عَمَلٌ صَالِحٌ ؕ

’’یہ اس لیے کہ انہیں پیاس‘مشقت اور فاقے کی (صورت میں) جو بھی تکلیف پہنچتی ہے اللہ کی راہ میں‘اور جہاں کہیں بھی وہ قدم رکھتے ہیں کفار (کے دلوں) کو جلاتے ہوئے اور دشمن کے مقابلے میں کوئی بھی کامیابی حاصل کرتے ہیں ‘تو اُن کے لیے اس (سب کچھ) کے عوض نیکیوں کا اندارج ہوتا رہتا ہے۔‘‘

اہل ایمان جب اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو ان کی ہر مشقت اور ہر تکلیف کے عوض اللہ تعالیٰ ان کے نیکیوں کے ذخیرہ میں مسلسل اضافہ فرماتے رہتے ہیں۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿ۙ۱۲۰﴾

’’یقینا اللہ نیک لوگوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔‘‘

آیت 121

وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَۃً صَغِیۡرَۃً وَّ لَا کَبِیۡرَۃً وَّ لَا یَقۡطَعُوۡنَ وَادِیًا اِلَّا کُتِبَ لَہُمۡ

’’اور جو بھی وہ خرچ کرتے ہیں کوئی نفقہ ‘چھوٹا ہو یا بڑا اور طے کرتے ہیں کوئی وادی تو (اُن کا ایک ایک عمل) اُ ن کے لیے لکھ لیا جاتا ہے‘‘

لِیَجۡزِیَہُمُ اللّٰہُ اَحۡسَنَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۲۱﴾

’’تا کہ اللہ بدلہ دے انہیں بہت ہی عمدہ اس کا جو عمل وہ کرتے رہے۔‘‘

122

علمِ دین سیکھنے کی اہمیت

ویڈیو

وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ ﴿٪۱۲۲﴾

آیت 122

وَ مَا کَانَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ لِیَنۡفِرُوۡا کَآفَّۃً ؕ

’’اور اہلِ ایمان کے لیے یہ تو ممکن نہیں ہے کہ وہ سب کے سب نکل آئیں۔‘‘

مدینہ کے مضافات میں بسنے والے بدو قبائل کا تذکرہ پچھلی آیات میں ہوچکا ہے: {اَلۡاَعۡرَابُ اَشَدُّ کُفۡرًا وَّ نِفَاقًا …﴿۹۷﴾ } کہ یہ بدو لوگ کفر اور نفاق میں بہت زیادہ سخت تھے اور اس کا سبب علم دین سے ان کی ناواقفیت تھی۔ اس لیے کہ انہیں حضورﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع نہیں مل رہا تھا۔ اب اس کے لیے یہ توممکن نہیں تھا کہ سارے بادیہ نشین لوگ اپنی اپنی آبادیاں چھوڑتے اور مدینہ میں آ کر آباد ہو جاتے۔ چنانچہ یہاں اس مسئلے کا حل بتایا جا رہا ہے۔

فَلَوۡ لَا نَفَرَ مِنۡ کُلِّ فِرۡقَۃٍ مِّنۡہُمۡ طَآئِفَۃٌ لِّیَتَفَقَّہُوۡا فِی الدِّیۡنِ

’’ تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ نکلتا اُن کی ہر جماعت میں سے ایک گروہ تا کہ وہ دین کا فہم حاصل کر تے‘‘

چنانچہ مذکورہ مشکل کا حل یہ بتایا گیا کہ ہر علاقے اور ہر قبیلے سے چند لوگ آئیں اور صحبت نبویﷺ سے فیض یاب ہوں۔

وَ لِیُنۡذِرُوۡا قَوۡمَہُمۡ اِذَا رَجَعُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ لَعَلَّہُمۡ یَحۡذَرُوۡنَ ﴿٪۱۲۲﴾

’’اوروہ اپنے لوگوں کو خبردار کرتے جب ان کی طرف واپس لوٹتے تاکہ وہ بھی نافرمانی سے بچتے۔‘‘

یہاں اس سلسلے میں باقاعدہ ایک نظام و ضع کرنے کی ہدایت کر دی گئی کہ مختلف علاقوں سے قبائل کے نمائندے آئیں ‘مدینہ میں قیام کریں‘رسول اللہﷺ کی صحبت میں رہیں‘ اکابر صحابہj کی تربیت سے استفادہ کریں‘ احکامِ دین کو سمجھیں اور پھر اپنے اپنے علاقوں میں واپس جا کر اس تعلیم کو عام کریں۔

123

اسلامی انقلاب کی توسیع

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾

آیت 123

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ یَلُوۡنَکُمۡ مِّنَ الۡکُفَّارِ وَ لۡیَجِدُوۡا فِیۡکُمۡ غِلۡظَۃً ؕ

’’اے اہلِ ایمان! جنگ کرو ان کافرو ں سے جو تم سے قریب ہیں اور وہ تمہارے اندر سختی پائیں۔‘‘

اس حکم میں رسول اللہﷺ کی دعوت کے بین الاقوامی اور آفاقی دور کے آغاز کی طرف اشارہ ہے کہ اے مسلمانو! اب اس دعوت کو چہار سو پھیلنا ہے اور دارالاسلام کی سرحدوں کو وسیع ہونا ہے ۔ چنانچہ تم لوگ آگے بڑھو اور اسلامی حکومت کی سرحدوں پر جوکفار بستے ہیں ان سے قتال کرو‘پھر جیسے جیسے یہ سرحدیں آگے بڑھتی جائیں تمہارے قتال کا سلسلہ بھی اُن کے ساتھ ساتھ آگے بڑھتا چلا جائے‘ حتیٰ کہ اللہ کا دین پوری دنیا پر غالب آجائے۔واضح رہے کہ سورۃ الانفال کی اس آیت میں جزیرہ نمائے عرب کی حد تک قتال جاری رکھنے کا حکم ہوا تھا: {وَ قَاتِلُوۡہُمۡ حَتّٰی لَا تَکُوۡنَ فِتۡنَۃٌ وَّ یَکُوۡنَ الدِّیۡنُ کُلُّہٗ لِلّٰہِ ۚ} (آیت ۳۹) یعنی جب تک جزیرہ نمائے عرب سے کفر و شرک کا خاتمہ نہیں ہو جاتا اور اللہ کا دین اس پورے علاقے میں غالب نہیں ہو جاتا یہ جنگ جاری رہے گی۔ بہر حال آیت زیر نظر میں غلبۂ دین کے لیے بین الاقوامی سطح پر جدوجہد کے لیے اللہ تعالیٰ کا واضح حکم اور اسلام کا چارٹر موجود ہے ۔ اسی چارٹر پر عمل کرتے ہوئے جزیرہ نمائے عرب سے اسلامی افواج جہاد کے لیے نکلی تھیں اور پھر اسلامی سرحدوں کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا تھا۔

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۱۲۳﴾

’’اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔‘‘

124-125

قرآن کی تاثیر . . . مومنوں پر . . . منافقین پر

ویڈیو

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ اَیُّکُمۡ زَادَتۡہُ ہٰذِہٖۤ اِیۡمَانًا ۚ فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾ وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡہُمۡ رِجۡسًا اِلٰی رِجۡسِہِمۡ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾

آیت 124

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ فَمِنۡہُمۡ مَّنۡ یَّقُوۡلُ اَیُّکُمۡ زَادَتۡہُ ہٰذِہٖۤ اِیۡمَانًا ۚ

’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض (منافقین آپس میں)کہتے ہیں کہ اس نے تم میں سے کس کے ایمان میں اضافہ کیا؟‘‘

سورۃ الانفال کی آیت۲ میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا کہ جب ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو ان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ منافقین اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر طنز و استہزاء کرتے تھے اور حضورﷺ کی طرف سے جب بھی کوئی تازہ وحی سنائی جاتی تو اس کا تمسخر اڑاتے ہوئے ایک دوسرے سے پوچھتے کہ ہاں بھئی اس سورت کو سن کر آج کس کس کے ایمان میں اضافہ ہوا ہے؟

فَاَمَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فَزَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ ہُمۡ یَسۡتَبۡشِرُوۡنَ ﴿۱۲۴﴾

’’تو جو لوگ واقعی ایمان والے ہیں وہ ان کے ایمان میں تویقینا اضافہ کرتی ہے اور وہ خوشیاں مناتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ کا کلام سن کر حقیقی مؤمنین کے ایمان میں یقینا اضافہ بھی ہوتا ہے اور وہ ہر وحی کے نازل ہونے پر خوشیاں بھی مناتے ہیں کہ اللہ نے اپنے کلام سے مزید انہیں نوازا ہے اور ان کے ایمان کو جلا بخشی ہے۔

آیت 125

وَ اَمَّا الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ فَزَادَتۡہُمۡ رِجۡسًا اِلٰی رِجۡسِہِمۡ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۱۲۵﴾

’’رہے وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ ہے تو وہ ان (کے اندر) کی گندگی پر مزید گندگی کا اضافہ کر دیتی ہے اور وہ مرتے ہیں اسی حال میں کہ وہ کافر ہوتے ہیں۔‘‘

126-127

منافقین کے لئے بار بارذّلت

ویڈیو

اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾ وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾

آیت 126

اَوَ لَا یَرَوۡنَ اَنَّہُمۡ یُفۡتَنُوۡنَ فِیۡ کُلِّ عَامٍ مَّرَّۃً اَوۡ مَرَّتَیۡنِ

’’ کیا یہ (منافقین) دیکھتے نہیں ہیں کہ ہر سال انہیں آزمایا جا تا ہے ایک بار یا دو بار‘‘ قتال کا مرحلہ ہو یا کسی اور آزمائش کا موقع ‘وقفے وقفے سے سال میں ایک دو مرتبہ منافقین کے امتحان کا سامان ہو ہی جاتاہے ‘جس سے ان کی منافقت کا پردہ چاک ہو تا رہتا ہے ۔

ثُمَّ لَا یَتُوۡبُوۡنَ وَ لَا ہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۱۲۶﴾

’’پھر بھی نہ تو یہ لوگ توبہ کرتے ہیں اور نہ ہی نصیحت اخذکرتے ہیں۔‘‘

آیت 127

وَ اِذَا مَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ نَّظَرَ بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍ ؕ

’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں‘‘

جب قتال کے بارے میں احکام نازل ہوتے ہیں تو رسول اللہﷺ کی محفل میں موجود منافقین کنکھیوں سے ایک دوسرے کو اشارے کرتے ہیں۔

ہَلۡ یَرٰىکُمۡ مِّنۡ اَحَدٍ ثُمَّ انۡصَرَفُوۡا ؕ

’’کہ تمہیں کوئی دیکھ تو نہیں رہا ‘پھر وہ وہاں سے کھسک جاتے ہیں۔‘‘

صَرَفَ اللّٰہُ قُلُوۡبَہُمۡ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾

’’(دراصل) اللہ نے ا ن کے دلوں کو پھیر دیا ہے‘ اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔‘‘

اس سورت کی آخری دو آیات اپنے مضمون کے اعتبار سے قرآن مجید کی عظیم ترین آیات میں سے ہیں۔

128-129

نبی اکرم ﷺ کی اپنی امّت سے محبت

ویڈیو

لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾ فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۱۲۹﴾

آیت 128

لَقَدۡ جَآءَکُمۡ رَسُوۡلٌ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَا عَنِتُّمۡ

’’ (اے لوگو دیکھو!)آ چکا ہے تمہار ے پاس تم ہی میں سے ایک رسول ‘بہت بھاری گزرتی ہے آپؐ پر تمہاری تکلیف‘‘

حقیقت یہ ہے کہ ہر وہ شے جو تمہیں مصیبت اور ہلاکت سے دوچار کرنے والی ہو ہمارے رسول (ﷺ) کے دل پر نہایت گراں گزرتی ہے۔ آپﷺ تم لوگوں کو دنیا اور آخرت دونوں کی ہلاکتوں اور مصیبتوں سے محفوظ اور دونوں کی سعادتوں سے بہرہ مند دیکھنا چاہتے ہیں۔

حَرِیۡصٌ عَلَیۡکُمۡ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲۸﴾

’’تمہارے حق میں آپؐ(بھلائی کے) بہت حریص ہیں ‘اہل ایمان کے لیے شفیق بھی ہیں ‘ رحیم بھی۔‘‘

آپﷺ کی شدید خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی خیر‘ ساری خوبیاں اور تمام بھلائیاں تم لوگوں کو عطا فرمادے۔

آیت 129

فَاِنۡ تَوَلَّوۡا فَقُلۡ حَسۡبِیَ اللّٰہُ ۫٭ۖ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ

’’پھر بھی اگر یہ لوگ روگردانی کریں تو (اے نبیﷺ!) کہہ دیجیے کہ میرے لیے اللہ کافی ہے‘ اُس کے سوا کوئی معبود نہیں۔‘‘

عَلَیۡہِ تَوَکَّلۡتُ وَ ہُوَ رَبُّ الۡعَرۡشِ الۡعَظِیۡمِ ﴿٪۱۲۹﴾

’’اُسی پر میں نے توکل کیا اور وہ بہت بڑے عرش کا مالک ہے۔‘‘

ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے عرش کی کیفیت اور عظمت ہمارے تصور سے بہت بالا ہے۔

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے