اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ
’’یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہلِ ایمان سے اُن کی جانیں بھی اور اُن کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔‘‘
یہ دو طرفہ سودا ہے جو ایک صاحبِ ایمان بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہو تا ہے۔ بندہ اپنے جان و مال بیچتا ہے اور اللہ اُس کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیتا ہے۔
یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟
’’وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں‘پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔‘‘
جیسے جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر کافروں کو جہنم رسید کیا ‘اور میدانِ اُحد میں ستر اہل ایمان شہید ہو گئے۔
وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ
’’ یہ وعدہ اللہ کے ذمے ہے سچا‘ تورات‘ انجیل اور قرآن میں۔‘‘
یہاں بین السطور میں دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سودا اگرچہ ادھار کا سودا ہے مگر یہ ایک پختہ عہد ہے جس کو پورا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی وسوسہ تمہارے دلوں میں نہ آنے پائے۔ دراصل یہ اس سوچ کا جوا ب ہے جو طبع بشری کی کمزوری کے سبب انسانی ذہن میں آتی ہے۔ انسان کو طبعی طور پر ’’نو نقد نہ تیرہ ادھار‘‘ والا فلسفہ ہی اچھا لگتا ہے ۔ظاہر ہے انسانی سوچ کے مطابق کامیاب سودا تو وہی ہوتا ہے جو ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو کے اصول کے مطابق ہو۔ مگر یہاں تو دُنیوی زندگی میں سب کچھ قربان کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور اس کے انعام کے لیے وعدۂ فردا کا انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے کہ اس قربانی کا انعام مرنے کے بعد آخرت میں جا کر ملے گا۔ لہٰذا ایک عام انسان تو اس ــ’’جنت موعودہ‘‘ کا ہلکا سا تصور ہی اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں یقین کی پختگی تو صرف خواص کو ہی نصیب ہوتی ہے۔چنانچہ اہل ایمان کو ادھار کے اس سودے پر اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس وعدے کی توثیق تین مرتبہ ہو چکی ہے‘ تورات میں‘انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں بھی۔
وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾
’’اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو وفا کرنے والا کون ہے؟پس خوشیاں مناؤ اپنی اس بیع پر جس کا سودا تم نے اُس کے ساتھ کیا ہے ۔اور یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘
بَایَعْتُمْ بِہٖ یعنی آپس میں جو سودا تم نے کیا ۔ مبایعت بابِ مفاعلہ بَایَعَ یُبَایِعُ (آپس میں سودا کرنا) سے ہے۔ ثلاثی مجرد میں بَاعَ یَبِیْعُ کا معنی بیچناہے ۔ یہیں سے لفظ ’’بیعت‘‘ نکلا ہے۔ چنانچہ لفظ ’’بیعت‘‘ میں بھی خود کو بیچ دینے اور کسی کے سپرد کر دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ لہٰذا حضورﷺ کے ہاتھ پر صحابہؓ نے جو بیعت کی تھی‘اس کا مطلب یہی تھا کہ انہوں نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیاہے۔ اللہ تو چونکہ سامنے موجود نہیں تھا اس لیے بظاہر یہ بیعت حضورﷺ کے دست مبارک پر ہوئی تھی‘ مگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی(ﷺ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں دراصل وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں اور وقت بیعت ان کے ہاتھوں کے اوپر ایک تیسرا غیر مرئی ہاتھ اللہ کا بھی موجود ہوتا ہے۔ ( الفتح: ۱۰)
یہ سودا اور یہ بیع جس کا ذکر آیت زیر نظر میں ہوا ہے دراصل ا یمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ سودا کرنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں اور اپنے اموال بیچ دیں۔تو جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے یہ سودا کرتا ہے تو اس کے اثرات کی وجہ سے اس کی شخصیت سے اعمالِ صالحہ کا ظہور عمل میں آتا ہے۔ لہٰذا اس کیفیت کا نقشہ آئندہ آیت میں دکھایا گیا ہے۔