تحریر

التوبة

آیات ۱۱۱ تا ۱۱۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

111

کلمہ پڑھنے والا اللہ سے ایک عہد کر چکا ہے

ویڈیو

اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟ وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾

آیت 111

اِنَّ اللّٰہَ اشۡتَرٰی مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اَنۡفُسَہُمۡ وَ اَمۡوَالَہُمۡ بِاَنَّ لَہُمُ الۡجَنَّۃَ ؕ

’’یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہلِ ایمان سے اُن کی جانیں بھی اور اُن کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے۔‘‘

یہ دو طرفہ سودا ہے جو ایک صاحبِ ایمان بندے کا اپنے رب کے ساتھ ہو تا ہے۔ بندہ اپنے جان و مال بیچتا ہے اور اللہ اُس کے جان و مال کو جنت کے عوض خرید لیتا ہے۔

یُقَاتِلُوۡنَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَیَقۡتُلُوۡنَ وَ یُقۡتَلُوۡنَ ۟

’’وہ جنگ کرتے ہیں اللہ کی راہ میں‘پھر قتل کرتے بھی ہیں اور قتل ہوتے بھی ہیں۔‘‘

جیسے جنگ بدر میں مسلمانوں نے ستر کافروں کو جہنم رسید کیا ‘اور میدانِ اُحد میں ستر اہل ایمان شہید ہو گئے۔

وَعۡدًا عَلَیۡہِ حَقًّا فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ وَ الۡقُرۡاٰنِ ؕ

’’ یہ وعدہ اللہ کے ذمے ہے سچا‘ تورات‘ انجیل اور قرآن میں۔‘‘

یہاں بین السطور میں دراصل یہ یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ یہ سودا اگرچہ ادھار کا سودا ہے مگر یہ ایک پختہ عہد ہے جس کو پورا کرنا اللہ کے ذمہ ہے۔ اس لیے اس کے بارے میں کوئی وسوسہ تمہارے دلوں میں نہ آنے پائے۔ دراصل یہ اس سوچ کا جوا ب ہے جو طبع بشری کی کمزوری کے سبب انسانی ذہن میں آتی ہے۔ انسان کو طبعی طور پر ’’نو نقد نہ تیرہ ادھار‘‘ والا فلسفہ ہی اچھا لگتا ہے ۔ظاہر ہے انسانی سوچ کے مطابق کامیاب سودا تو وہی ہوتا ہے جو ایک ہاتھ دو اور دوسرے ہاتھ لو کے اصول کے مطابق ہو۔ مگر یہاں تو دُنیوی زندگی میں سب کچھ قربان کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے اور اس کے انعام کے لیے وعدۂ فردا کا انتظار کرنے کو کہا جا رہا ہے کہ اس قربانی کا انعام مرنے کے بعد آخرت میں جا کر ملے گا۔ لہٰذا ایک عام انسان تو اس ــ’’جنت موعودہ‘‘ کا ہلکا سا تصور ہی اپنے ذہن میں لا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں یقین کی پختگی تو صرف خواص کو ہی نصیب ہوتی ہے۔چنانچہ اہل ایمان کو ادھار کے اس سودے پر اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ اللہ کی طرف سے اس وعدے کی توثیق تین مرتبہ ہو چکی ہے‘ تورات میں‘انجیل میں اور پھر قرآن مجید میں بھی۔

وَ مَنۡ اَوۡفٰی بِعَہۡدِہٖ مِنَ اللّٰہِ فَاسۡتَبۡشِرُوۡا بِبَیۡعِکُمُ الَّذِیۡ بَایَعۡتُمۡ بِہٖ ؕ وَ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۱۱﴾

’’اور اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کو وفا کرنے والا کون ہے؟پس خوشیاں مناؤ اپنی اس بیع پر جس کا سودا تم نے اُس کے ساتھ کیا ہے ۔اور یہی ہے بڑی کامیابی۔‘‘

بَایَعْتُمْ بِہٖ یعنی آپس میں جو سودا تم نے کیا ۔ مبایعت بابِ مفاعلہ بَایَعَ یُبَایِعُ (آپس میں سودا کرنا) سے ہے۔ ثلاثی مجرد میں بَاعَ یَبِیْعُ کا معنی بیچناہے ۔ یہیں سے لفظ ’’بیعت‘‘ نکلا ہے۔ چنانچہ لفظ ’’بیعت‘‘ میں بھی خود کو بیچ دینے اور کسی کے سپرد کر دینے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ لہٰذا حضورﷺ کے ہاتھ پر صحابہؓ نے جو بیعت کی تھی‘اس کا مطلب یہی تھا کہ انہوں نے خود کو اللہ کے سپرد کر دیاہے۔ اللہ تو چونکہ سامنے موجود نہیں تھا اس لیے بظاہر یہ بیعت حضورﷺ کے دست مبارک پر ہوئی تھی‘ مگر اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی طرف منسوب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی(ﷺ) جو لوگ آپ سے بیعت کرتے ہیں دراصل وہ اللہ سے ہی بیعت کرتے ہیں اور وقت بیعت ان کے ہاتھوں کے اوپر ایک تیسرا غیر مرئی ہاتھ اللہ کا بھی موجود ہوتا ہے۔ ( الفتح: ۱۰)

یہ سودا اور یہ بیع جس کا ذکر آیت زیر نظر میں ہوا ہے دراصل ا یمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو یہ سودا کرنے کی توفیق عطافرمائے کہ ہم اللہ کے ہاتھ اپنی جانیں اور اپنے اموال بیچ دیں۔تو جب کوئی بندہ اللہ تعالیٰ سے یہ سودا کرتا ہے تو اس کے اثرات کی وجہ سے اس کی شخصیت سے اعمالِ صالحہ کا ظہور عمل میں آتا ہے۔ لہٰذا اس کیفیت کا نقشہ آئندہ آیت میں دکھایا گیا ہے۔

112

اللہ کے محبوب بندوں کے اوصاف

ویڈیو

اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ النَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾

آیت 112

اَلتَّآئِبُوۡنَ الۡعٰبِدُوۡنَ الۡحٰمِدُوۡنَ السَّآئِحُوۡنَ الرّٰکِعُوۡنَ السّٰجِدُوۡنَ

’’توبہ کرنے والے‘ (اللہ کی) بندگی کرنے والے ‘(اللہ کی) حمد کرنے والے‘دُنیوی آسائشوں سے لاتعلق رہنے والے‘ رکوع کرنے والے‘سجدہ کرنے والے‘‘

’سَائِحُوْنَ‘ کا معنی ہے ’’سیاحت کرنے والے‘‘۔ لیکن اس سے مرادمحض سیر و سیاحت نہیں بلکہ عبادت و ریاضت کے لیے گھربار چھوڑ کر نکل کھڑے ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ پچھلی اُمتوں میں روحانی ترقی کے لیے لوگ لذاتِ دنیوی کو ترک کر کے اور انسانی آبادیوں سے لا تعلق ہو کر جنگلوں میں چلے جاتے تھے یعنی رہبانیت اختیار کر لیتے تھے‘مگر ہمارے دین میں ایسی سیاحت اور رہبانیت کی اجازت نہیں۔چنانچہ حضور ﷺ نے فرمایا: حدیث((لاَ رَہْبَانِیَّۃَ فِی الْاِسْلَامِ وَلَا سِیَاحَۃَ))۱۰’’اسلام میں نہ رہبانیت ہے نہ سیاحت‘‘۔ سابقہ ادیان کے برعکس اسلام نے سیاحت اور رہبانیت کا جو تصور متعارف کرایا ہے اس کی وضاحت درج ذیل احادیث سے ہوتی ہے ۔ ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث ((اِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ سِیَاحَۃٌ وَاِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ‘ وَاِنَّ لِکُلِّ اُمَّۃٍ رَہْبَانِیَّۃٌ وَرَھْبَانِیَّۃُ اُمَّتِی الرِّبَاطُ فِیْ نُحُوْرِ الْعَدُوِّ)) ۱۱

’’ہر اُمت کے لیے سیاحت کا ایک طریقہ تھا اور میری اُمت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے‘ اور ہر اُمت کی ایک رہبانیت تھی‘ جبکہ میری اُمت کی رہبانیت دشمن کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہونا ہے۔‘‘

ایک موقع پر ایک صحابیؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ‘ مجھے سیاحت کی اجازت دیجیے تو آپﷺ نے فرمایا: حدیث((اِنَّ سِیَاحَۃَ اُمَّتِی الْجِھَادُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ))۱۲

’’بے شک میری امت کی سیاحت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔‘‘

گویا اُمت مسلمہ کے لیے ’سیاحت ‘کا اطلاق جہاد وقتال کے لیے گھر سے نکلنے اور اس راستے میں صعوبتیں اٹھانے پر ہو گا۔

یہ چھ اوصاف جو اوپر گنوائے گئے ہیں ان کا تعلق انسانی شخصیت کے نظریاتی پہلو سے ہے ۔ اب اس کے بعد تین ایسی خصوصیات کا ذکر ہونے جا رہا ہے جوانسان کی عملی جدوجہد سے متعلق ہیں اور دعوت و تحریک کی صورت میں معاشرے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔

الۡاٰمِرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ النَّاہُوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾

’’نیکی کا حکم دینے والے‘بدی سے روکنے والے‘اللہ کی حدود کی حفاظت کرنے والے۔ اور (اے نبیﷺ!) آپ ان اہل ایمان کو بشارت دے دیجیے ۔‘‘

امر بالمعروف گویا دین کے لیے عملی جدوجہد کا نقطہ آغاز ہے۔ یہ جدوجہد جب آگے بڑھ کر نہی عن المنکر بالید کے مرحلے تک پہنچتی ہے تو پھر اِن خدائی فوجداروں کی ضرورت پڑتی ہے جن کو یہاں {وَ الۡحٰفِظُوۡنَ لِحُدُوۡدِ اللّٰہِ ؕ } کا لقب دیا گیا ہے ۔یہ لوگ اگر پوری طرح منظم ہوں تو اپنی تنظیمی طاقت کے بل پر کھڑے ہو کر اعلان کریں کہ ہم اپنے معاشرے میں منکرات کا سکہ نہیں چلنے دیں گے اور کسی کو اللہ کی حدود توڑنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ اللّٰھم رَبَّنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ! منہج انقلابِ نبویﷺمیں اس مرحلے کے ضمن میں آج باقاعدہ اجتہاد کی ضرورت ہے کہ موجود ہ حالات میں نہی عن المنکر بالید کے لیے اجتماعی اور منظم جدوجہد کی صورت کیا ہو گی۔

(۱۰) فتح الباری لابن رجب : ۱/۱۰۲۔ ومراسیل ابی داوٗد : ۲۸۷۔

(۱۱) مجمع الزوائد للھیثمی : ۵/۲۸۱۔ والجامع الصغیر للسیوطی‘ ح :۲۴۰۸۔

(۱۲) سنن ابی داوٗد‘ کتاب الجھاد‘ باب فی النھی عن السیاحۃ۔ وصحیح الجامع للالبانی‘ ح:۲۰۹۳۔

113-114

مشرکین کے لیے بخشش کی دعا مانگنا جائز نہیں

ویڈیو

مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرۡبٰی مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾ وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾

آیت 113

مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسۡتَغۡفِرُوۡا لِلۡمُشۡرِکِیۡنَ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرۡبٰی

’’نبیؐ اور اہل ایمان کے لیے یہ روا نہیں کہ وہ استغفار کریں مشرکین کے لیے خواہ وہ اُ ن کے قرابت دارہی ہوں‘‘

مِنۡۢ بَعۡدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمۡ اَنَّہُمۡ اَصۡحٰبُ الۡجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾

’’اس کے بعد جبکہ اُن پر واضح ہو چکا کہ وہ لوگ جہنمی ہیں۔‘‘

آیت 114

وَ مَا کَانَ اسۡتِغۡفَارُ اِبۡرٰہِیۡمَ لِاَبِیۡہِ اِلَّا عَنۡ مَّوۡعِدَۃٍ وَّعَدَہَاۤ اِیَّاہُ ۚ

’’اور نہیں تھا استغفار کرنا ابراہیم ؑکا اپنے باپ کے حق میں مگر ایک وعدے کی بنیاد پر جو انہوں نے اُس سے کیا تھا۔‘‘

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نے آپؑ کو گھر سے نکالا تھا تو جاتے ہوئے آپؑ نے اُس کے لیے دعا کرنے کا وعدہ کیا تھا ‘اس وعدے کا ذکر سورۂ مریم میں اس طرح آیا ہے: {سَاَسۡتَغۡفِرُ لَکَ رَبِّیۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ بِیۡ حَفِیًّا ﴿۴۷﴾} ’’میں اپنے رب سے آ پ کے لیے بخشش کی درخواست کروں گا‘بے شک وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔‘‘

فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗۤ اَنَّہٗ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنۡہُ ؕ اِنَّ اِبۡرٰہِیۡمَ لَاَوَّاہٌ حَلِیۡمٌ ﴿۱۱۴﴾

’’اور جب آپؑ پر واضح ہوگیا کہ وہ اللہ کا دشمن ہے تو آپؑ نے اُس سے اعلانِ بیزاری کر دیا۔یقینا ابراہیم ؑبہت دردِ دل رکھنے والے اور حلیم الطبع تھے۔‘‘

حضرت ابراہیم علیہ السلام وعدے کے مطابق اپنے والد کی زندگی میں اُس کے لیے دعا کرتے رہے کہ جب تک وہ زندہ تھا تو امید تھی کہ شایدا للہ تعالیٰ اسے ہدایت کی توفیق دے دے‘ لیکن جب اُس کی موت واقع ہو گئی تو آپؑ نے اس کے لیے استغفار بند کر دیا کہ زندگی میں جب وہ کفر پر ہی اَڑا رہا اور اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوگئی تو ثابت ہو گیا کہ اب اُس کے لیے توبہ کا دروازہ بند ہو گیا ہے۔

115-116

اللہ کسی کو زبردستی گمراہ نہیں کرتا

ویڈیو

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىہُمۡ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمۡ مَّا یَتَّقُوۡنَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾ اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۱۶﴾

آیت 115

وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُضِلَّ قَوۡمًۢا بَعۡدَ اِذۡ ہَدٰىہُمۡ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمۡ مَّا یَتَّقُوۡنَ ؕ

’’اور اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ کسی قوم کو گمراہ کر دے اس کے بعد کہ انہیں ہدایت دی ہو جب تک اُن پر واضح نہ کر دے کہ انہیں کس چیز سے بچنا ہے ۔‘‘

یہ گویا معافی کا اعلان ہے اُن لوگوں کے لیے جو اس حکم کے نازل ہونے سے پہلے اپنے مشرک والدین یا رشتہ داروں کے لیے دعا کرتے رہے تھے ۔

اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۱۱۵﴾

’’یقینا اللہ ہر شے کا جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 116

اِنَّ اللّٰہَ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ؕ وَ مَا لَکُمۡ مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۱۱۶﴾

’’یقینا اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔ وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔اور تمہارے لیے اللہ کے سوانہیں ہے کوئی حمایتی اور نہ کوئی مددگار ۔‘‘

117

نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم پر اللہ کی نظرِ کرم

ویڈیو

لَقَدۡ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ فِیۡ سَاعَۃِ الۡعُسۡرَۃِ مِنۡۢ بَعۡدِ مَا کَادَ یَزِیۡغُ قُلُوۡبُ فَرِیۡقٍ مِّنۡہُمۡ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّہٗ بِہِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۙ۱۱۷﴾

آیت 117

لَقَدۡ تَّابَ اللّٰہُ عَلَی النَّبِیِّ وَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُ فِیۡ سَاعَۃِ الۡعُسۡرَۃِ

’’اللہ مہربان ہوا نبی(ﷺ) پر‘اور مہاجرین و انصار پر بھی‘جنہوں نے آپ کا اتباع کیا (ساتھ دیا) مشکل وقت میں‘‘

یہ تبوک کی مہم کی طرف اشارہ ہے۔ تاریخ میں یہ مہم ’’جَیشُ العُسْرَۃ‘‘ کے نام سے مشہور ہے ۔ یہ وہ زمانہ تھا جب خشک سالی کے باعث مدینہ میں قحط کا سماں تھا۔ ان حالات میں اتنے بڑے لشکر کا اتنی لمبی مسافت پر وقت کی سپر پاور سے نبرد آزما ہونے کے لیے جانا واقعی بہت بڑی آزمائش تھی۔ جو لوگ اس آزمائش میں ثابت قدم رہے‘ یہ ان کے لیے رحمت و شفقت کا ایک اعلانِ عام ہے۔

مِنۡۢ بَعۡدِ مَا کَادَ یَزِیۡغُ قُلُوۡبُ فَرِیۡقٍ مِّنۡہُمۡ

’’اس کے بعد کہ اُن میں سے ایک گروہ کے دل میں کچھ کجی آنے لگی تھی‘‘

بر بنائے طبع بشری کہیں نہ کہیں ‘کبھی نہ کبھی انسان میں کچھ کمزوری آ ہی جاتی ہے۔ جیسے غزوۂ اُحد میں بھی دو مسلمان قبائل بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے لوگوں کے دلوں میں عارضی طور پر تھوڑی سے کمزوری آ گئی تھی۔

ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّہٗ بِہِمۡ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿ۙ۱۱۷﴾

’’پھرا للہ نے ان پر نظرِ رحمت فرمائی ۔یقینا وہ ان کے حق میں بہت مہربان ‘رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

118

غزوہ تبوک میں عدم شرکت پرنادم ہونے والوں کی بخشش کا اعلان

ویڈیو

وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَ ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمۡ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّاۤ اِلَیۡہِ ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ لِیَتُوۡبُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۱۱۸﴾

آیت 118

وَّ عَلَی الثَّلٰثَۃِ الَّذِیۡنَ خُلِّفُوۡا ؕ

’’اور ان تین پر بھی (اللہ نے رحمت کی نگاہ کی) جن کا معاملہ مؤخر کر دیا گیا تھا ۔‘‘

یہ تین صحابہ کعب بن مالک‘ہلال بن امیہ اور مرارہ بن ربیع رضوان اللہ علیہم اجمعین کے لیے اعلانِ معافی ہے ۔ ان تین اصحابؓ کا ذکر قبل ازیں آیت۱۰۶ میں آیا ہے ۔وہاں ان کے معاملے کو مؤخر کر دیا گیا تھا۔ پچاس دن کے معاشرتی مقاطعہ کی سزا کے بعد ان کی معافی کا بھی اعلان کر دیا گیا اور انہیں اس حکم کی صورت میں قبولیتِ توبہ کی سند عطا ہوئی۔

حَتّٰۤی اِذَا ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ وَ ضَاقَتۡ عَلَیۡہِمۡ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ظَنُّوۡۤا اَنۡ لَّا مَلۡجَاَ مِنَ اللّٰہِ اِلَّاۤ اِلَیۡہِ ؕ

’’یہاں تک کہ زمین اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود اُن پر تنگ پڑ گئی اور اُن پر اپنی جانیں بھی بوجھ بن گئیں اور انہیں یقین ہو گیا کہ اللہ کے سوا کوئی اور جائے پناہ ہے ہی نہیں۔‘‘

انسان کی اس کیفیت کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی بچہ ماں سے پٹنے کے بعد اُسی سے لپٹتا ہے۔ اللہ کے بندوں پر بھی اگر اللہ کی طرف سے سختی آتی ہے ‘کوئی سزا ملتی ہے تو نہ صرف وہ اس سختی کو خوش دلی اور صبر سے برداشت کرتے ہیں‘بلکہ پناہ کے لیے رجوع بھی اُسی کی طرف کرتے ہیں‘ کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ انہیں پناہ ملے گی تو اسی کے حضور ملے گی‘اور اگر ان کے دکھوں کا مداوا ہو گا تو اُسی کی جناب سے ہو گا۔ علامہ اقبال ؔ نے اس حقیقت کو اپنے الفاظ میں یوں بیان کیا ہے: ؎

نہ کہیں جہاں میں اماں ملی ‘جو اماں ملی تو کہاں ملی

مرے جرمِ خانہ خراب کو ‘ترے عفوِ بندہ نواز میں

ثُمَّ تَابَ عَلَیۡہِمۡ لِیَتُوۡبُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿٪۱۱۸﴾

’’تو اُس نے اُن کی توبہ قبول فرمائی تا کہ وہ بھی پھر متوجہ ہو جائیں ۔ یقینا اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا ‘ بہت زیادہ رحم کرنے والا ہے۔‘‘

تا کہ وہ اللہ سے اپنے تعلق کو مضبوط کر لیں اور اپنی کمزوریوں اور کوتاہیوں کو دور کر لیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے