تحریر

التوبة

آیات ۱۰۰ تا ۱۱۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

100

صحابہ کرامؓ کی پیروی . . . اللہ کی جنّت کے حصول کا ذریعہ

ویڈیو

وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾

تمہید

اب اہل ایمان کے مابین حفظِ مراتب کا مضمون آ رہا ہے۔ظاہر ہے کسی بھی معاشرے میں تمام انسان برابر نہیں ہوتے: ؎

خدا پنج انگشت یکساں نہ کرد

نہ ہر زن زن است و نہ ہر مرد مرد!

چنانچہ مدینہ کے اُس معاشرے میں بھی سب لو گ نظریات و عقائد کی پختگی کے اعتبار سے برابر نہیں تھے‘ حتیٰ کہ جو منافقین تھے وہ بھی سب ایک جیسے منافق نہیں تھے ۔ چونکہ انسانی فطرت تو تبدیل نہیں ہوتی اس لیے آئندہ بھی جب کبھی کسی مسلمان معاشرے میں کوئی دینی تحریک اٹھے گی تو اُس وقت بھی اسی طرح کی صورتِ حال پیش آئے گی۔ گویا کسی بھی تنظیم یا تحریک کے ارکان کے درمیان درجہ بندی کے حوالے سے ایک واضح اور غیر مبہم ادراک کا پایا جانا انتہائی ضروری ہے۔ لہٰذا اہلِ ایمان کے مابین یہ درجہ بندی حکمتِ قرآنی کا ایک بہت اہم موضوع ہے اور اس اعتبار سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔

آیت 100

وَ السّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُہٰجِرِیۡنَ وَ الۡاَنۡصَارِ وَ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡہُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ

’’اور پہلے پہل سبقت کرنے والے مہاجرین اور انصار میں سے ‘اور وہ جنہوں نے اُن کی پیروی کی نیکوکاری کے ساتھ‘‘

رَّضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ وَ اَعَدَّ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ تَحۡتَہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ

’’اللہ اُن سے راضی ہو گیا اور وہ اللہ سے راضی ہو گئے‘اور اُس نے ان کے لیے وہ باغات تیار کیے ہیں جن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی‘ان میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾

’’یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔‘‘

اس آیت میں اہل ایمان کے دو بلند ترین مراتب کا ذکر ہوا ہے۔ یعنی سب سے اوپر السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ اور اس کے بعد ان کے پیروکار۔ (اس سے پہلے یہ مضمون ہم سورۃ النساء کی آیت ۶۹ میں انبیاء‘ صدیقین‘شہداء اور صالحین کے مراتب کے حوالے سے بھی پڑھ چکے ہیں ۔ مگر وہاں مراتب کی درجہ بندی کسی اور اعتبار سے ہے‘ جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں)۔ بنیادی طور پر مذکورہ دونوں ہی گروہوں کے لوگ فطرتِ سلیمہ اور عقل سلیم سے نوازے گئے ہیں۔ البتہ ان کی آپس کی درجہ بندی میں جو فرق ہے وہ ان کی طبیعت اور ہمت کے فرق کے باعث ہے۔ ان میں سے درجہ اول (السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ) پر فائز دراصل وہ لوگ ہیں جو حق کو سامنے آتے ہی فوراً قبول کر لیتے ہیں۔ حق ان کے لیے اس قدر قیمتی متاع ہے کہ اس کی قبولیت میں ذرا سی تاخیر بھی انہیں گوارا نہیں ہوتی۔ وہ اتنے باہمت لوگ ہوتے ہیں کہ قبولِ حق کا فیصلہ کرتے ہوئے وہ اس کے نتائج و عواقب کے بارے میں سوچ بچار میں نہیں پڑتے۔ وہ اس خیال کو خاطر میں نہیں لاتے کہ اس کے بعد انہیں کیا کچھ چھوڑنا ہوگا اور کیا کچھ بھگتنا پڑے گا۔ نہ وہ لوگ یہ دیکھتے ہیں کہ اُن کے آگے اس راستے پر پہلے سے کوئی چل بھی رہا ہے یا نہیں ‘اور اگر نہیں چل رہا تو کسی اور کے آنے کا انتظار کر لیں‘سب سے پہلے ‘اکیلے وہ کیونکر اس پر خطر وادی میں کود پڑیں! وہ ان سب پہلوؤں پر سوچنے میں وقت ضائع نہیں کرتے‘حق کو قبول کرنے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے‘کسی مصلحت کو خاطر میں نہیں لاتے‘عقل کے دلائل کی منطق میں نہیں پڑتے اور ؏ ’’ہرچہ باداباد ‘ما کشتی در آب اندا ختیم‘‘کے مصداق آتشِ ابتلا میں کود جاتے ہیں۔ بقولِ اقبالؔ: ؎

بے خطر کو د پڑاآتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے کہ محوِ تماشائے لبِ بام ابھی!

دوسرے درجہ میں وہ لوگ ہیں جو ان السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ کے اتباع میں داعیٔ حق کی پکار پر لبیک کہتے ہیں۔ یہ بھی سلیم الفطرت لوگ ہوتے ہیں‘ حق کو پہلی نظر میں پہچاننے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کی قبولیت کے لیے آمادہ بھی ہوتے ہیں ‘مگران میں ہمت قدرے کم ہوتی ہے۔ یہ ’’ہرچہ بادا باد ‘‘والا نعرہ بلند نہیں کر سکتے اور چاہتے ہیں کہ یہ نئی پگڈنڈی ذرا راستے کی شکل اختیار کر لے‘ہمارے آگے کوئی دو چار لوگ چلتے ہوئے نظر آئیں تو ہم بھی اُن کے پیچھے چل پڑیں گے۔ یعنی اس میں معاملہ نیت کے کسی خلل کا نہیں ‘صرف ہمت کی کمی کا ہے۔ اور وہ بھی اس لیے کہ ان کی طبائع ہی اس نہج پر بنائی گئی ہیں۔جیسے حضورﷺ نے فرمایا : حدیث((اَلنَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الْفِضَّۃِ وَالذَّھَبِ))۹ ’’انسان (معدنیات کی) کانوں کی طرح ہیں‘ جیسے چاندی اور سونے کی کانیں ہوتی ہیں‘‘۔یعنی جس طر ح معدنیات کی قسمیں ہوتی ہیں اسی طرح انسانوں کی بھی مختلف اقسام ہیں۔ ظاہر ہے سونا آپ کو سونے کی کچ دھات (ore) سے ہی حاصل ہو گا۔ چاندی کی ore کو خواہ کتنا ہی صاف کر لیں وہ سونا نہیں بن سکتی۔ اسی طرح انسانوں کے طبائع میں جو بنیادی فرق ہوتا ہے اس کے سبب سب انسان برابر نہیں ہو سکتے۔

بہر حال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ’’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘‘ اور اُن کے اتباع میں حق کو قبول کرنے والے خوش نصیب لوگوں کا ذکر ایک ساتھ کیا ہے‘ کیونکہ ان متبعین نے بھی حق کو پوری نیک نیتی سے قبول کیا ہے اور صرف اللہ کی رضا کے لیے قبول کیا ہے ۔ اس سلسلے میں کوئی اور غرض‘کوئی اور عامل‘کوئی اور مفاد ان کے پیش نظر نہیں تھا۔ بس تھوڑی سی ہمت کی کمی تھی جس کی وجہ سے وہ سبقت نہ لے سکے‘مگر اپنے اخلاص کی بنا پر دوسرے درجے پر فائز ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

اب یہاں ایک اہم بات یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ ’’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘‘ مہاجرین میں سے بھی ہیں اور انصار میں سے بھی ‘ اور پھر ان میں ان کے اپنے اپنے متبعین ہیں۔ انصار چونکہ کہیں دس سال بعد ایمان لائے تھے‘ اس لیے اگر زمانی اعتبار سے دیکھا جائے توگروہِ مہاجرین میں سے جو اصحاب متبعین قرار پائے وہ انصار کے ’’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘‘ سے بہت پہلے ایمان لائے تھے ‘ مگر اس درجہ بندی اور مراتب میں وہ ان سے پیچھے ہی رہے۔ اس لیے کہ یہاں پہلے یا بعد میں آنے کا اعتبار زمانی لحاظ سے نہیں‘بلکہ یہ مزاج کا معاملہ ہے اور اس پہلے ردِ عمل کا معاملہ ہے جو کسی کے مزاج سے اس وقت ظہور پذیر ہوا جب اس نے پہلی دفعہ حق کو پہچانا۔ لہٰذا اگرچہ اہل مدینہ (جو بعد میں انصار کہلائے) بہت بعد میں ایمان لائے تھے مگر ان میں بھی وہ لوگ ’’السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘‘ ہی قرار پائے تھے جنہوں نے حق کو پہچان کر فوراً لبیک کہا‘پھر نہ انہوں نے نتائج کی پروا کی اور نہ کوئی مصلحت ان کے آڑے آئی۔

(۹) صحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب الارواح جنود مجندۃ۔

101

منافقین کے لیے دہرا عذاب

ویڈیو

وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕۛ وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ۛؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟ لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿ۚ۱۰۱﴾

آیت 101

وَ مِمَّنۡ حَوۡلَکُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ مُنٰفِقُوۡنَ ؕۛ

’’اور جو تمہارے آس پاس کے بادیہ نشین ہیں ان میں منافق بھی ہیں۔‘‘

اعلیٰ ترین مراتب والے اصحاب کے ذکر کے بعد اب بالکل نچلی سطح کے لوگوں کا تذکرہ ہو رہا ہے۔

وَ مِنۡ اَہۡلِ الۡمَدِیۡنَۃِ ۟ۛؔ مَرَدُوۡا عَلَی النِّفَاقِ ۟

’’اور اہلِ مدینہ میں بھی ‘جو نفاق پر اَڑ چکے ہیں‘‘

یہ وہ لوگ ہیں جن کے نفاق کا مرض اب آخری مرحلے میں پہنچ کر لا علاج ہو چکا ہے اور اب اس مرض سے ان کے شفایاب ہونے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ منافقت کے مرض کی بھی ٹی بی کی طرح تین stages ہوتی ہیں۔ جھوٹے بہانے بنانااس مرض کی ابتدا ہے ‘جبکہ بات بات پر جھوٹی قسمیں کھانا دوسری سٹیج کی علامت ہے ‘ اور جب یہ مرض تیسری اور آخری سٹیج میں پہنچتا ہے تو اس کی واضح علامت منافقین کی اہل ایمان کے ساتھ ضداور دشمنی کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔اس لیے کہ اہل ایمان تو دین کے تمام مطالبات خوشی خوشی پورے کرتے ہیں ‘جس مہم سے بچنے کے لیے منافقین بہانے تراشنے میں مصروف ہوتے ہیں اہل ایمان بلا حیل و حجت اس کے لیے دل و جان سے حاضر ہو جاتے ہیں۔ مؤمنین صادقین کا یہ رویہ منافقین کے لیے ایک عذاب سے کم نہیں ہوتا‘ جس کے باعث آئے دن ان کی سبکی ہوتی ہے اور آئے دن ان کی منافقت کا پول کھلتا رہتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ منافقین کو مسلمانوں سے نفرت اور عداوت ہو جاتی ہے اور یہی اس مرض کی آخری سٹیج ہے۔

لَا تَعۡلَمُہُمۡ ؕ نَحۡنُ نَعۡلَمُہُمۡ ؕ سَنُعَذِّبُہُمۡ مَّرَّتَیۡنِ

’’آپؐ انہیں نہیں جانتے‘ ہم انہیں جانتے ہیں۔ہم انہیں دوہرا عذا ب دیں گے‘‘

جیسے منافقینِ مدینہ ہر روز نئے عذاب سے گزرتے تھے۔ ہر روز کہیں نہ کہیں اللہ کی راہ میں نکلنے کا مطالبہ ہوتا تھا اور ہر روز انہیں جھوٹی قسمیں کھا کھا کر ‘جھوٹے بہانے بنا بنا کر جان چھڑانا پڑتی تھی۔اس لحاظ سے ان کی زندگی مسلسل عذاب میں تھی۔

ثُمَّ یُرَدُّوۡنَ اِلٰی عَذَابٍ عَظِیۡمٍ ﴿ۚ۱۰۱﴾

’’پھر وہ لوٹا دیے جائیں گے ایک بہت بڑے عذاب کی طرف۔‘‘

دنیا کا عذاب جتنا بھی ہو آخرت کے عذاب کے مقابلے میں تو وہ کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا دنیا کے عذاب جھیلتے جھیلتے ایک دن انہیں بہت بڑے عذاب کا سامنا کرنے کے لیے بھی پیش ہونا پڑے گا۔

السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ‘ ان کے متبعین اور پھر منافقین کے ذکر کے بعد اب کچھ ایسے لوگوں کا ذکر ہونے جا رہا ہے جو ان دونوں انتہائوں کے درمیان ہیں۔ ان لوگوں کا ذکر بھی دو الگ الگ درجوں میں ہوا ہے۔ ان میں پہلے جس گروہ کا ذکر آ رہا ہے وہ اگرچہ مخلص مسلمان تھے مگر اِن میں ہمت کی کمی تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ چلنا بھی چاہتے تھے مگر چل نہیں پاتے تھے۔ کسی قدر چلتے بھی تھے مگر کبھی کوتاہی بھی ہو جاتی تھی۔ ہمت کر کے آگے بڑھتے تھے لیکن کبھی کسل مندی اور سستی کا غلبہ بھی ہو جاتا تھا۔

102-106

غزوہ تبوک میں عدم شرکت پر اظہارِ ندامت کرنے والے دو گروہ

ویڈیو

وَ اٰخَرُوۡنَ اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمۡ خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا ؕ عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۰۲﴾ خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَ تُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۳﴾ اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾ وَ قُلِ اعۡمَلُوۡا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ وَ سَتُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۚ۱۰۵﴾ وَ اٰخَرُوۡنَ مُرۡجَوۡنَ لِاَمۡرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمۡ وَ اِمَّا یَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾

آیت 102

وَ اٰخَرُوۡنَ اعۡتَرَفُوۡا بِذُنُوۡبِہِمۡ

’’اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں‘‘

وہ اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کے لیے جھوٹ نہیں بولتے‘جھوٹی قسمیں نہیں کھاتے‘جھوٹے بہانے نہیں بناتے‘ بلکہ کھلے عام اعتراف کر لیتے ہیں کہ ہم سے غلطی ہو گئی‘ معمولاتِ زندگی کی مصروفیات اور اہل و عیال کی مشغولیات نے ہمیں اس قدر اُلجھایا کہ ہم دینی فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کا ارتکاب کر بیٹھے۔ جب غلطی کا ایسا کھلا اعتراف ہو گیا تو نفاق کا احتمال جاتا رہا۔ لہٰذا ایسے لوگوں کو توبہ کی توفیق مل گئی۔

خَلَطُوۡا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا ؕ

’’انہوں نے اچھے اور برے اَعمال کو گڈ مڈ کر دیا ہے۔‘‘

وہ نیک اعمال بھی کرتے ہیں مگر کبھی کوئی غلطی بھی کر بیٹھتے ہیں۔ ایثار وا نفاق بھی کرتے ہیں مگر دنیاداری کے جھمیلوں میں الجھ کر کہیں کوئی تقصیر بھی ان سے ہو جاتی ہے۔

عَسَی اللّٰہُ اَنۡ یَّتُوۡبَ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۰۲﴾

’’ امید ہے کہ اللہ ان کی توبہ کو قبول فرمائے گا۔ یقینا اللہ بخشنے والا‘نہایت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

ایک روایت کے مطابق یہ آیت حضرت ابو لبابہ رضی اللہ عنہ اور ان کے چند ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ ان لوگوں سے سستی اور دنیاداری کی مصروفیات کے باعث یہ کوتاہی ہوئی کہ وہ غزوۂ تبوک پر نہ جا سکے‘ مگر جلد ہی انہیں احساس ہو گیا کہ ان سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے شدید احساسِ ندامت کے باعث رسول اللہ ﷺ کے واپس مدینہ تشریف لانے سے پہلے اپنے آپ کو مسجد نبوی کے ستونوں سے باندھ لیا کہ اب یا تو حضورﷺ تشریف لا کر ہماری توبہ کی قبولیت کا اعلان فرمائیں گے اور ہمیں اپنے دستِ مبارک سے کھولیں گے یا پھر ہم یہیں بندھے بندھے اپنی جانیں دے دیں گے۔ حضورﷺ کی واپسی پر یہ آیات نازل ہوئیں تو آپؐ نے تشریف لے جا کر انہیں کھولا اور خوشخبری سنائی کہ ان کی توبہ قبول ہو گئی ہے۔توبہ کرنے اور توبہ کی قبولیت کا یہ وہی اصول تھا جو ہم سورۃ النساء کی اس آیت میں پڑھ آئے ہیں : {اِنَّمَا التَّوۡبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیۡنَ یَعۡمَلُوۡنَ السُّوۡٓءَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوۡبُوۡنَ مِنۡ قَرِیۡبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوۡبُ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا ﴿۱۷﴾} یعنی کوئی غلطی یا کوتاہی سرزد ہونے کے فوراً بعد انسان کے اندر ایمانی جذبات لوٹ آئیں‘اسے احساسِ ندامت ہواور وہ توبہ کر لے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی توبہ کو قبول کرنے کا ذمہ لیا ہے۔ مگر اِن اصحابؓ کو یہ اعزاز نصیب ہوا کہ ان کی توبہ کی قبولیت کے بارے میں خصوصی حکم نازل ہوا۔

آیت 103

خُذۡ مِنۡ اَمۡوَالِہِمۡ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمۡ وَ تُزَکِّیۡہِمۡ بِہَا

’’ان کے اموال میں سے صدقات قبول فرما لیجیے‘اس (صدقے) کے ذریعے سے آپؐ انہیں پاک کریں گے اور ان کا تزکیہ کریں گے‘‘

روایت میں آتا ہے کہ یہ اصحابؓ اپنے اموال کے ساتھ خود حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کہ توبہ کی قبولیت کے شکرانے کے طور پر ہم اللہ کی راہ میں یہ اموال پیش کرتے ہیں ۔ چونکہ یہ لوگ مخلص مؤمن تھے‘صرف سستی اور کمزوری کے باعث کوتاہی ہوئی تھی‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے کمال مہربانی سے آپﷺ کو یہ صدقات قبول کرنے کی اجازت فرمائی۔ جبکہ منافقین کے صدقات قبول کرنے سے آپﷺ کو منع فرما دیا گیا تھا۔

وَ صَلِّ عَلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ صَلٰوتَکَ سَکَنٌ لَّہُمۡ ؕ

’’اور ان کے لیے دعا کیجئے‘یقینا آپؐ کی دعا ان کے حق میں سکون بخش ہے۔‘‘

آپﷺ کی دعا ان کے لیے باعثِ اطمینان ہو گی۔اس سے انہیں تسلی ہو جائے گی کہ اُن کی خطا معاف ہو گئی ہے اور اُن کی توبہ قبول کی جا چکی ہے۔

وَ اللّٰہُ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۰۳﴾

’’اور اللہ سب کچھ سننے والا ‘جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 104

اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ یَقۡبَلُ التَّوۡبَۃَ عَنۡ عِبَادِہٖ وَ یَاۡخُذُ الصَّدَقٰتِ

’’کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور اُن کے صدقات کو قبولیت عطا فرماتا ہے‘‘

یعنی اللہ کے بندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ التوّاب بھی ہے اور اپنے بندوں کے صدقات کو شرفِ قبولیت بھی بخشتا ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ و خیرات وغیرہ کے مال کو اپنے اور اپنی اولاد کے لیے حرام قرار دیا ہے۔ مگر اللہ کا اپنے بندوں پر یہ خاص احسان ہے کہ وہ ’’الغنی‘‘ ہے‘بے نیاز ہے ‘اُسے کسی چیز کی ضرورت نہیں‘مگر پھر بھی وہ اپنے بندوں سے اُن کے نفقات وصدقات کو قبول فرماتا ہے۔

وَ اَنَّ اللّٰہَ ہُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۴﴾

’’اور یہ کہ وہ بہت ہی توبہ قبول فرمانے والا ‘بہت رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

آیت 105

وَ قُلِ اعۡمَلُوۡا فَسَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ؕ

’’اور آپؐ ان سے کہہ دیجیے کہ تم عمل کرو‘ اب اللہ اور اس کا رسولؐ اور اہل ایمان تمہارے عمل کو دیکھیں گے۔‘‘

اب پھر سے محنت کرو‘ سرفروشی اور جاںفشانی کا مظاہرہ کرو‘آئندہ تمہارے اعمال کا جائزہ لیا جائے گا کہ مطالباتِ دین کے بارے میں تمہارا کیا رویہ ہے اور یہ کہ پھر سے کہیں کوئی کوتاہی ‘لغزش وغیرہ تو نہیں ہورہی۔

وَ سَتُرَدُّوۡنَ اِلٰی عٰلِمِ الۡغَیۡبِ وَ الشَّہَادَۃِ فَیُنَبِّئُکُمۡ بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿ۚ۱۰۵﴾

’’اور عنقریب تمہیں لوٹا دیا جائے گا اُس کی طرف جو ہر غائب اور حاضر کا جاننے والا ہے‘پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے تھے۔‘‘

قیامت کے دن تمہیں اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے‘ وہاں تمہارے سارے اعمال تمہارے سامنے پیش کر دیے جائیں گے ۔ جیسا کہ سورۃ الزلزال میں فرمایاگیاہے: {فَمَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ خَیۡرًا یَّرَہٗ ؕ﴿۷﴾وَ مَنۡ یَّعۡمَلۡ مِثۡقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ ٪﴿۸﴾} ’’تو جس نے ذرّہ بھر نیکی کی ہو گی وہ اسے (بچشم خود) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہو گی وہ اسے (بچشم خود) دیکھ لے گا‘‘۔ اس کے بعد وہاں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

آیت 106

وَ اٰخَرُوۡنَ مُرۡجَوۡنَ لِاَمۡرِ اللّٰہِ اِمَّا یُعَذِّبُہُمۡ وَ اِمَّا یَتُوۡبُ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۱۰۶﴾

’’اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کے معاملے کو اللہ کے فیصلے تک مؤخر کر دیا گیا ہے‘چاہے انہیں عذاب دے اور چاہے تواُن کی توبہ قبول فرما لے ۔اور اللہ سب کچھ جاننے والا‘حکمت والا ہے۔‘‘

یہ ضعفاء میں سے دوسری قسم کے لوگوں کا ذکر ہے ‘جن کا معاملہ مؤخر کر دیا گیا تھا۔ یہ تین اصحابؓ تھے: کعب بن مالک‘ ہلال بن اُمیہ اور مرارہ بن ربیع رضوان اللہ علیہم اجمعین‘ان میں سے ایک صحابی حضرت کعب بن مالک نصاری رضی اللہ عنہ نے اپنا واقعہ بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے جو کتب احادیث اور تفاسیر میں منقول ہے۔ مولانا مودودیؒ نے بھی تفہیم القرآن میں بخاری شریف کے حوالے سے یہ طویل حدیث نقل کی ہے ۔ یہ بہت سبق آموز اور عبرت انگیز واقعہ ہے۔ اسے پڑھنے کے بعد مدینہ کے اُس معاشرے ‘حضورﷺ کے زیر تربیت افراد کے اندازِ فکر اور جماعتی زندگی کے نظم و ضبط کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے وہ حیران کن بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔

یہ تینوں حضرات سچے مسلمان تھے‘مہم پر جانا بھی چاہتے تھے مگر سستی کی وجہ سے تاخیر کر بیٹھے اور اس طرح وہ جانے سے رہ گئے۔ حضرت کعب ؓبن مالک خود فرماتے ہیں کہ میں اُس زمانے میں بہت صحت مند اور خوشحال تھا‘میری اونٹنی بھی بہت توانااور تیز رفتار تھی۔ جب سستی کی وجہ سے میں لشکر کے ساتھ روانہ نہ ہو سکا تو بھی میرا خیال تھا کہ میں آج کل میں روانہ ہو جاؤں گا اور راستے میں لشکر سے جاملوں گا۔ میں اسی طرح سوچتا رہا اور روانہ نہ ہو سکا۔ حتیٰ کہ وقت نکل گیا اور پھر ایک دن اچانک مجھے یہ احساس ہوا کہ اب خواہ میں کتنی ہی کوشش کر لوں ‘لشکر کے ساتھ نہیں مل سکتا۔

جب رسول اللہ ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپﷺ نے پیچھے رہ جانے والوں کو بلا کر باز پرس شروع کی۔ منافقین آپﷺ کے سامنے قسمیں کھا کھا کر بہانے بناتے رہے اور آپ ﷺ ان کی باتوں کو مانتے رہے۔ جب کعبؓبن مالک کی باری آئی تو حضورﷺ نے اُن کو دیکھ کر تبسم فرمایا۔ ظاہر بات ہے کہ حضورﷺ جانتے تھے کہ کعبؓ سچے مؤمن ہیں ۔ آپﷺ نے اُن سے دریافت فرمایا کہ تمہیں کس چیز نے روکا تھا؟ انہوں نے صاف کہہ دیا کہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کھا کر چھوٹ گئے ہیں ‘اللہ نے مجھے بھی زبان دی ہے ‘میں بھی بہت سی باتیں بنا سکتا ہوں‘ مگر حقیقت یہ ہے کہ مجھے کوئی عذر مانع نہیں تھا۔ میں اُن دِنوں جتنا صحت مند تھا اتنا پہلے کبھی نہ تھا‘ جتنا غنی اور خوشحال تھا ویسا پہلے کبھی نہ تھا۔ مجھے کوئی عذر مانع نہیں تھا سوائے اس کے کہ شیطان نے مجھے ورغلایا اور میں تاخیر کر بیٹھا ۔ ان کے باقی دو ساتھیوں نے بھی اسی طرح سچ بولا اور کوئی بہانہ نہ بنایا۔

ان تینوں حضرات کے بارے میں نبی اکرمﷺ نے حکم دیا کہ کوئی شخص ان تینوں سے بات نہ کرے اور یوں ان کا مکمل طور پر معاشرتی مقاطعہ (social boycott) ہو گیا ‘جو پورے پچاس دن تک جاری رہا۔ حضرت کعبؓ فرماتے ہیں اس دوران ایک دن انہوں نے اپنے چچا زاد بھائی اور بچپن کے دوست سے بات کرنا چاہی تو اُس نے بھی جواب نہ دیا۔ جب انہوں نے اُس سے کہا کہ اللہ کے بندے تمہیں تو معلوم ہے کہ میں منافق نہیں ہوں تو اُس نے جواب میں صرف اتنا کہا کہ اللہ اور اُس کا رسول ؐہی بہتر جانتے ہیں۔ چالیس دن بعد حضورﷺ کے حکم پر انہوں نے اپنی بیوی کو بھی علیحدہ کر دیا۔ اسی دوران والیٔ غسان کی طرف سے انہیں ایک خط بھی ملا‘جس میں لکھا تھا کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ کے ساتھی آپ پر ظلم ڈھا رہے ہیں‘ آپ باعزت آدمی ہیں‘آپ ایسے نہیں ہیں کہ آپ کو ذلیل کیا جائے‘لہٰذا آپ ہمارے پاس آ جائیں ‘ہم آپ کی قدر کریں گے اور اپنے ہاں آپ کو اعلیٰ مراتب سے نوازیں گے۔ یہ بھی ایک بہت بڑی آزمائش تھی ‘مگر انہوں نے وہ خط تنور میں جھونک کر شیطان کا یہ وار بھی ناکام بنا دیا۔ اُن کی اس سزا کے پچاسویں دن اُن کی معافی اور توبہ کی قبولیت کا حکم (آیت ۱۱۸ کی صورت میں) نازل ہوا‘ اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے انہیں اس آزمائش اور ابتلا میں سرخروفرمایا۔ بائیکاٹ کے اختتام پر ہر فرد کی طرف سے ان حضرات کے لیے خلوص و محبت کے جذبات کا جس طرح سے اظہار ہوا ‘اور پھر ان تینوں اصحابؓ نے اپنی آزمائش اور ابتلا کے دوران اخلاص و استقامت کی داستان جس خوبصورتی سے رقم کی‘یہ ایک دینی جماعتی زندگی کی مثالی تصویر ہے۔

107-108

مسجدِ قبا کی عظمت اور نام نہاد مسجدِ ضرار کی مذّمت

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفۡرًا وَّ تَفۡرِیۡقًۢا بَیۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبۡلُ ؕ وَ لَیَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّا الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾ لَا تَقُمۡ فِیۡہِ اَبَدًا ؕ لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾

آیت 107

وَ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا مَسۡجِدًا ضِرَارًا وَّ کُفۡرًا وَّ تَفۡرِیۡقًۢا بَیۡنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اِرۡصَادًا لِّمَنۡ حَارَبَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ مِنۡ قَبۡلُ ؕ

’’اور وہ لوگ جنہوں نے ایک مسجد بنائی ہے ضرر(نقصان) اور کفر کے لیے اور اہلِ ایمان میں تفریق پیدا کرنے کے لیے اور ان لوگوں کو گھات فراہم کرنے کے لیے جو پہلے سے اللہ اور اُس کے رسولؐ سے جنگ کر رہے ہیں۔‘‘

ضِرَارًا بابِ مفاعلہ ہے ‘یعنی انہوں نے مسجد بنائی ہے ضدم ضدا‘مقابلے میں اوردعوتِ حق کو نقصان پہنچانے کے لیے۔ یہ مسجد منافقین نے مسجد قبا کے قریبی علاقے میں بنائی تھی۔ اس کی تعمیر کے پیچھے ابو عامر راہب کا ہا تھ تھا۔ اس شخص کا تعلق قبیلہ خزرج سے تھا۔ وہ زمانۂ جاہلیت میں عیسائیت قبول کر کے راہب بن گیا تھا اور عرب میں اہل کتاب کے ایک بہت بڑے عالم کے طور پر جانا جاتا تھا۔ ابوعامر راہب کے تقابل کے طور پر یہاں ورقہ بن نوفل راہب کا ذکر خالی از دلچسپی نہیں ہو گا۔ ورقہ بن نوفل بنیادی طو رپر قرشی تھے۔ انہوں نے بھی بت پرستی چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر لی تھی۔ وہ اپنے زمانے کے اتنے بڑے عالم تھے کہ تورات عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ وہ بہت نیک اور سلیم الفطرت انسان تھے۔ جب حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا حضورﷺکو لے کر اُن کے پاس گئیں تو انہوں نے آپﷺ کی رسالت کی تصدیق کی اور بتایا کہ آپﷺ کے پاس وہی ناموس آیا ہے جو حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ ( علیہما السلام)کے پاس آتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جب آپ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی۔ حضورﷺ نے جب حیرت سے پوچھا کہ کیا یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ہاں !معاملہ ایسا ہی ہے‘آپ کی دعوت کے نتیجے میں آپ کی قوم آپ کی دشمن بن جائے گی۔

مگر ابو عامر راہب کا رویہ اس کے برعکس تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کا شدید ترین دشمن بن گیا۔ قریش مکہ کی بدر میں شکست کے بعد یہ شخص مکہ میں جا کر آباد ہو گیا ور اہل مکہ کو حضورﷺ اورمسلمانوں کے خلاف اُکساتا رہا۔ چنانچہ غزوۂ اُحد کے پیچھے بھی اسی شخص کی سازشیں کار فرما تھیں ‘بلکہ میدانِ اُحد میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو اس نے لشکر سے باہر نکل کر انصارِ مدینہ کو خطاب کر کے انہیں ورغلانے کی کوشش بھی کی تھی۔ اس کے بعد بھی تمام جنگوںمیں یہ مسلمانوں کے خلاف کسی نہ کسی انداز میں حصہ لیتا رہا ‘مگر حنین کی جنگ کے بعد جب اسے محسوس ہوا کہ اب جزیرہ نمائے عرب میں اس کے لیے کوئی جگہ نہیں رہی تووہ مایوس ہو کر شام چلا گیا‘ لیکن وہاں جا کر بھی وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں میں مصروف رہا۔ اس کے لیے اس نے منافقین مدینہ کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا اور اسی کے کہنے پر منافقین نے مسجدِ ضرار تعمیر کی جو نام کو تو مسجد تھی مگر حقیقت میں سازشی عناصر کی کمین گاہ اور فتنے کا ایک مرکز تھی۔

وَ لَیَحۡلِفُنَّ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّا الۡحُسۡنٰی ؕ وَ اللّٰہُ یَشۡہَدُ اِنَّہُمۡ لَکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾

’’اور وہ قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم نے تو نیکی ہی کا ارادہ کیا تھا‘مگرا للہ گواہی دیتا ہے کہ یہ بالکل جھوٹے ہیں۔‘‘

اب جواب طلبی پر یہ منافقین قسمیں کھا کھا کر اپنی صفائی پیش کرنے کی کوشش کریں گے کہ ہماری کوئی بری نیت نہیں تھی‘ ہمارا ارادہ تو نیکی اور بھلائی ہی کا تھا‘ اصل میں دوسری مسجد ذرا دور پڑتی تھی جس کی وجہ سے ہم تمام نمازیں جماعت کے ساتھ ادا نہیں کر سکتے تھے ‘اس لیے ہم نے سوچا کہ اپنے محلے میں ایک مسجد بنا لیں تا کہ تمام نمازیں آسانی سے باجماعت ادا کر سکیں ‘وغیرہ وغیرہ۔

آیت 108

لَا تَقُمۡ فِیۡہِ اَبَدًا ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپ اس میں کبھی کھڑے نہ ہوں۔‘‘

مسجد بنانے کے بعد یہ منافقین حضورﷺ کے پاس یہ درخواست لے کر آئے تھے کہ آپؐ مسجد میں تشریف لے آئیں تو بڑی برکت ہو گی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو بروقت روک دیاکہ آپؐ وہاں تشریف نہ لے جائیں۔

لَمَسۡجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقۡوٰی مِنۡ اَوَّلِ یَوۡمٍ اَحَقُّ اَنۡ تَقُوۡمَ فِیۡہِ ؕ

’’یقینا وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی تھی ‘وہ زیادہ مستحق ہے کہ آپؐ اس میں کھڑے ہوں (نماز پڑھیں)۔‘‘

اس سے مراد مسجد قبا ہے جو قریب ہی تھی اور جس کی بنیاد رسول اللہﷺ نے خود اپنے دستِ مبارک سے رکھی تھی ۔ یہ مقام اُس وقت کے مدینہ کی آبادی سے تین میل کے فاصلے پر تھا۔ جب آپﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو اس مقام کو مدینہ میں آپؐ کے پہلے پڑائو کی سعادت نصیب ہوئی ۔آپﷺ نے اس مقام پر قیام فرمایا تھا اور یہاں اس مسجد کی بنیاد رکھی تھی۔

فِیۡہِ رِجَالٌ یُّحِبُّوۡنَ اَنۡ یَّتَطَہَّرُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُطَّہِّرِیۡنَ ﴿۱۰۸﴾

’’اس میں وہ لوگ ہیں جو پسند کرتے ہیں کہ وہ بہت پاک رہیں ۔اور اللہ ایسے لوگوں کو پسند کرتا ہے جو بہت زیادہ پاک رہتے ہیں۔‘‘

اصحابِ قبا سے جب پوچھا گیا کہ آپ لوگوں کے کس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے آپ کی طہارت کی تعریف فرمائی ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم لوگ قضائے حاجت کے بعد ڈھیلے بھی استعمال کرتے ہیں اور پھر پانی سے بھی طہارت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ عام طور پریہی سمجھا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں طہارت کے اس معیار کی تعریف فرمائی ہے۔

109-110

کردار کی پختہ تعمیر تقوی سے ہوتی ہے

ویڈیو

اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی تَقۡوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٍ خَیۡرٌ اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانۡہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾ لَا یَزَالُ بُنۡیَانُہُمُ الَّذِیۡ بَنَوۡا رِیۡبَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۱۰﴾

آیت 109

اَفَمَنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی تَقۡوٰی مِنَ اللّٰہِ وَ رِضۡوَانٍ خَیۡرٌ

’’تو کیا بھلا جس نے اپنی عمارت کی بنیاد رکھی ہو اللہ کے تقویٰ اور اُس کی رضا پر‘ وہ بہتر ہے‘‘

اَمۡ مَّنۡ اَسَّسَ بُنۡیَانَہٗ عَلٰی شَفَا جُرُفٍ ہَارٍ فَانۡہَارَ بِہٖ فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ ؕ

’’یا وہ کہ جس نے اپنی تعمیر کی بنیاد رکھی ایک ایسی کھائی کے کنارے پر جو گرا چاہتی ہے‘تو وہ اُس کو لے کر گر گئی جہنم میں؟‘‘

یعنی جب انسان کوئی عمارت تعمیر کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے کسی مضبوط اور ٹھوس جگہ کا انتخاب کرتا ہے ۔ اگر وہ کسی کھوکھلی جگہ پر یا کسی کھائی وغیرہ کے کنارے پر عمارت تعمیر کرے گا تو جلد یا بدیر وہ عمارت گر کر ہی رہے گی۔دراصل یہ منافقین کی تدبیروں اور سازشوںکی مثال ہے کہ ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے وہ جہنم کی گہری کھائی کے کنارے پر اپنی عمارتیں تعمیر کر رہے ہوں‘چنانچہ وہ کنارہ خود بھی گر کر رہے گا اور اُن کو اور اُن کی تعمیرات کو بھی جہنم میں گرائے گا۔

وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۹﴾

’’اور اللہ ایسے ظالم لوگوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔‘‘

آیت 110

لَا یَزَالُ بُنۡیَانُہُمُ الَّذِیۡ بَنَوۡا رِیۡبَۃً فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ اِلَّاۤ اَنۡ تَقَطَّعَ قُلُوۡبُہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۱۰﴾

’’یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ان کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کیے رکھے گی‘اِلایہ کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے کر دیے جائیں۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا ‘حکمت والا ہے۔‘‘

ان لوگوں کے دلوں کے اندر منافقت کی جڑیں اتنی گہری جا چکی ہیں کہ اس کے اثرات کا زائل ہونا اب ممکن نہیں رہا۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ اگر کسی شخص کے پورے جسم میں کینسر پھیل چکا ہو تو کسی معمولی آپریشن سے وہ ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ایسی صورت میں اگر اس کے سارے جسم کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے تو تب شاید اس مرض کی جڑوں کو نکالنا ممکن ہو۔ لہٰذا ان منافقین کے دل ہمیشہ شکوک و شبہات کے اندھیروں میں ہی ڈوبے رہیں گے‘انہیں ایمان ویقین کی روشنی کبھی نصیب نہیں ہو گی‘ اِلا یہ کہ ان کے دلوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے جائیں۔ اگلی دو آیات اپنے مضمون کے اعتبار سے خصوصی اہمیت کی حامل ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے