’’اور آئے آپؐ کے پاس بہانے بنانے والے بدو بھی کہ ان کو رخصت دے دی جائے‘‘
’اَعْرَاب‘ جمع ہے ’اَعْرابی‘ کی‘ یعنی بدو ‘دیہاتی‘بادیہ نشین لوگ۔ظاہر ہے جہاد کے لیے اس نفیر عام کا اطلاق مدینہ کے اطراف و جوانب کی آبادیوں میں بسنے والے مسلمانوں پر بھی ہوتا تھا۔ اب اُن کا ذکر ہو رہا ہے کہ اُن میں سے بھی لوگ آ آ کر بہانے بنانے لگے کہ انہیں اس مہم پر جانے سے معاف رکھا جائے۔
’’کچھ گناہ ( اور الزام ) نہیں ضعیفوں پر ‘نہ بیماروں پر‘اور نہ ہی اُن لوگوں پر جن کے پاس خرچ کرنے کے لیے کچھ نہیں‘‘
آخر اتنا طویل سفر کرنے کے لیے ضروری تھا کہ آدمی تندرست و توانا ہو‘ اس کے پاس سواری کا انتظام ہو‘راستے میں کھانے پینے اور دوسری ضروریات کے لیے سامان مہیا ہو‘لیکن اگر کوئی شخص ضعیف ہے‘بیمار ہے‘ یااس قدر نادار ہے کہ سفر کے اخراجات کے لیے اس کے پاس کچھ بھی نہیں تو اللہ کی نظر میں وہ واقعتا مجبور و معذور ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں سے کوئی مؤاخذہ نہیں۔ان کو اس بات کا کوئی الزام نہیں دیا جا سکتا۔
اِذَا نَصَحُوۡا لِلّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ
’’جبکہ وہ اللہ اور اُس کے رسولؐ کے ساتھ مخلص ہوں۔‘‘
’’ ایسے محسنین پر کوئی الزام نہیں‘اور اللہ غفور اور رحیم ہے۔‘‘
یعنی مندرجہ بالا و جوہات میں سے کسی وجہ سے کوئی شخص اگر واقعی معذور ہے مگر سچا اور پکا مومن ہے‘خلوصِ دل سے اللہ اور اُس کے رسول کا وفادار ہے‘ اس کا دین درجۂ احسان تک پہنچا ہوا ہے‘ تو ایسے صاحبِ ایمان اور محسن لوگوں پر کوئی ملامت نہیں۔
’’اور نہ ہی اُن پر (کوئی الزام ہے) جو آئے آپؐ کے پاس کہ آپؐ ان کے لیے سواری کا انتظام کر دیں تو آپؐ نے فرمایا کہ میرے پاس بھی کوئی چیز نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کر سکوں‘‘
’’(تو مجبوراً) وہ لوٹ گئے اور اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ‘اس رنج سے کہ ان کے پاس کچھ نہیں جسے وہ خرچ کر سکیں۔‘‘
یہ اُن لوگوں کی کیفیت کا ذکر ہے جو دل و جان سے چاہتے تھے کہ اس مہم میں شریک ہوں ‘مگر وسائل کی کمی کی وجہ سے شرکت نہیں کر پا رہے تھے۔ اپنی اس محرومی پر وہ لوگ واقعتا صدمے اور رنج و غم سے ہلکان ہو رہے تھے ۔ ایک طرف ایسے مؤمنین صادقین تھے اور دوسری طرف وہ صاحبِ حیثیت (اُولُوا الطَّوْلِ ) لوگ تھے جن کے پاس سب کچھ موجود تھا‘وسائل و ذرائع کی کمی نہیں تھی‘تندرست و توانا تھے‘ لیکن اس سب کچھ کے باوجود وہ اللہ کی راہ میں نکلنے کو تیار نہیں تھے۔
’’بہانے بنائیں گے وہ تمہارے پاس آ کر جب تم لوگ اُن کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔‘‘
یَعْتَذِرُوْنَ چونکہ فعل مضارع ہے اس لیے اس کا ترجمہ حا ل میں بھی ہو سکتا ہے ا ور مستقبل میں بھی۔ اگر تو یہ آیات تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران نازل ہوئی ہیں تو ترجمہ وہ ہو گا جو اوپر کیا گیا ہے ‘ لیکن اگر اِن کا نزول رسول اللہ ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد ہوا ہے تو ترجمہ یوں ہو گا :’’بہانے بنا رہے ہیں وہ تمہارے پاس آکر جب تم لوگ اُن کے پاس لوٹ کر آ گئے ہو۔‘‘
’’آپؐ کہہ دیجیے (یا کہہ دیجیے گا) کہ بہانے مت بناؤ‘ہم تمہاری بات نہیں مانیں گے‘اللہ نے ہمیں پوری طرح مطلع کر دیا ہے تمہاری خبروں سے۔ ‘‘
مہم پر جانے سے قبل تو حضورﷺ اپنی طبعی شرافت اور مروّت کے باعث منافقین کے جھوٹے بہانوں پر بھی سکوت فرماتے رہے تھے‘لیکن اب چونکہ بذریعہ وحی ان کے جھوٹ کے سارے پردے چاک کر دیے گئے تھے اس لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبیﷺ !اب آپ ڈنکے کی چوٹ اُن سے کہہ دیجیے کہ اب ہم تمہاری کسی بات پر یقین نہیں کریں گے‘کیونکہ اب اللہ تعالیٰ نے تمہاری باطنی کیفیات سے ہمیں مطلع کر دیا ہے ۔
وَ سَیَرَی اللّٰہُ عَمَلَکُمۡ وَ رَسُوۡلُہٗ
’’اب اللہ اور اُس کا رسول تمہارے عمل کو دیکھیں گے‘‘
یعنی آئندہ تمہارے طرزعمل اور رویے (attitude) کا جائزہ لیا جائے گا۔
’’تو (ٹھیک ہے )آپؐ اُن سے اعراض برتیں۔یہ ناپاک لوگ ہیں اور ان کا ٹھکانہ آ گ ہے‘بدلہ اس کا جو کمائی یہ کرتے رہے ہیں۔‘‘
آیت 96
یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ لِتَرۡضَوۡا عَنۡہُمۡ
’’یہ قسمیں کھائیں گے (یاکھا رہے ہیں‘اے مسلمانو!) تمہارے سامنے تا کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ۔‘‘
یہ ان منافقین کی معاشرتی مجبوری تھی۔ ایک معاشرے کے اندرسب کا اکٹھے رہنا سہنا تھا۔ اوس اور خزرج کے اندر ان کی رشتہ داریاں تھیں۔ ایسے ماحول میں وہ سمجھتے تھے کہ اگر مسلمانوں کے دل ان کی طرف سے صاف نہ ہوئے تو وہ اس معاشرے کے اندر ایک طرح سے اچھوت بن کر رہ جائیں گے۔ اس لیے وہ مسلمانوں کے اندر اپنا اعتماد پھر سے بحال کرنے کے لیے ہر طرح سے دوڑ دھوپ کر رہے تھے‘مسلمانوں سے ملاقاتیں کر تے تھے‘ ان کو اپنی مجبوریاں بتاتے تھے اور ان کے سامنے قسمیں کھا کھا کر اپنے اخلاص کا یقین دلانے کی کوشش کر تے تھے۔
’’یہ بدو لوگ کفر و نفاق میں زیادہ سخت ہیں اور زیادہ اس لائق ہیں کہ نا واقف ہوں اُس چیز کی حدود سے جو اللہ نے اپنے رسولؐ پر نازل فرمائی ہے۔ اور اللہ سب کچھ جاننے والا‘ کمال حکمت والا ہے۔‘‘
یعنی اہلِ مدینہ تو مسلسل رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے فیض یاب ہو رہے تھے‘ آپﷺ سے جمعہ کے خطبات سنتے تھے اور آپ ﷺ کی نصیحت کا ایک سلسلہ شب و روز ان کے درمیان چلتا رہتا تھا۔ مگر بادیہ نشین لوگوں کو تعلیم و تعلّم کے ایسے مواقع میسر نہیں تھے۔ لہٰذا فطری اور منطقی وجوہات کی بنا پر کفر و شرک اور نفاق کی شدت ان لوگوں میں نسبتاًزیادہ تھی۔
’’اور ان بدوؤں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ جو کچھ انہیں خرچ کرنا پڑتا ہے اسے وہ تاوان سمجھتے ہیں‘‘
یعنی زکوٰۃ ‘عشر وغیرہ کی ادائیگی جو اسلامی نظامِ حکومت کے تحت اُن پر عائد ہوئی ہے یہ لوگ اس کو تاوان سمجھتے ہوئے بڑی ناگواری سے ادا کرتے ہیں‘اس لیے کہ اس سے پہلے اس علاقے میں نہ تو کوئی ایسا نظام تھا اور نہ ہی یہ لوگ محصولات وغیرہ ادا کرنے کے عادی تھے۔
وَّ یَتَرَبَّصُ بِکُمُ الدَّوَآئِرَ ؕ
’’اور وہ منتظر ہیں تم لوگوں پر کسی گردشِ زمانہ کے۔‘‘
یہ لوگ بڑ ی بے صبری سے انتظار کر رہے ہیں کہ گردشِ زمانہ کے باعث مسلمانوں کے خلاف کچھ ایسے حالات پیدا ہوجائیں جن سے مدینہ کی یہ اسلامی حکومت ختم ہو جائے اور وہ ان پابندیوں سے آزاد ہو جائیں۔
’’اور ان بدوؤں میں وہ لوگ بھی ہیں جو ایمان رکھتے ہیں اللہ پر اور یومِ آخرت پر‘ اور جو وہ خرچ کرتے ہیں (اللہ کی راہ میں) اُس کو سمجھتے ہیں اللہ کے قرب اور رسولؐ کی دعاؤں کا ذریعہ۔‘‘
یعنی یہ بادیہ نشین لوگ سب کے سب ہی کفر و نفاق پرکار بند اور انفاق فی سبیل اللہ کو تاوان سمجھنے والے نہیں ہیں‘ بلکہ ان میں سچے مؤمن بھی ہیں ‘جو نہ صرف اللہ کے راستے میں شوق سے خرچ کرتے ہیں بلکہ اِس انفاق کو وہ تقرب الی ا للہ کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ انہیں یقین ہے کہ دین کے لیے مال خرچ کرنے سے اللہ کے رسولﷺ کی دعائیں بھی اُن کے شامل حال ہو جائیں گی۔
’’آگاہ ہو جاؤ‘ یہ (اُن کاا نفاق) واقعتا ان کے لیے باعثِ تقرب ہے۔عنقریب اللہ انہیں اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یقینا اللہ معاف فرمانے والا ‘رحم فرمانے والا ہے۔‘‘