فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنۡہُمۡ
’’پس (اے نبیﷺ!) اگراللہ آپ کو لوٹا کر لے جائے ان کے کسی گروہ کے پاس‘‘
مضمون سے ظاہر ہو رہاہے کہ یہ آیت مقامِ تبوک پر نازل ہوئی ہے۔ سورت کے اس دوسرے حصے کے پہلے چار رکوعوں (چھٹے رکوع سے لے کر نویں رکوع تک) کے بارے میں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ غزوۂ تبوک پر روانگی سے قبل نازل ہوئے تھے۔ ان کے بعد کی آیات مختلف مواقع پر نازل ہوئیں‘کچھ جاتے ہوئے راستے میں‘کچھ تبوک میں قیام کے دوران اور کچھ واپس آتے ہوئے راستے میں۔
فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ لِلۡخُرُوۡجِ
’’پھر وہ آپؐ سے اجازت مانگیں (آپؐ کے ساتھ) نکلنے کے لیے ‘‘
یعنی کسی مہم پر ‘کسی اور دشمن کے خلاف آپﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو نا چاہیں:
فَقُلۡ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِیَ اَبَدًا
’’تو کہہ دیجئے گا کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے‘‘ غزوۂ تبوک کی مہم میں تمہارا آخری امتحان ہو چکا ہے اور اس میں تم لوگ ناکام ہو چکے ہو۔
وَّ لَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّکُمۡ رَضِیۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ
’’اور اب میرے ساتھ ہو کر تم کسی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے۔تم پہلی مرتبہ راضی ہو گئے تھے بیٹھ رہنے پر‘‘
جب جہاد کے لیے نفیر عام ہوئی اور سب پر نکلنا فرض قرار پایا تو اُس وقت تم اپنے گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی ہو گئے تھے۔
فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾
’’تو (اب ہمیشہ کے لیے) بیٹھ رہوپیچھے رہنے والوں کے ساتھ ۔‘‘
وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ
’’اور (اے نبیﷺ!) ان میں سے کوئی مرجائے تو اُس کی نمازِ جنازہ کبھی بھی ادا نہ کریں اور اُس کی قبر پر بھی کھڑے نہ ہوں۔‘‘
یہ گویااب اُن کی رسوائی کا سامان ہو رہا ہے۔ اب تک تو منافقت پر پردے پڑے ہوئے تھے مگر اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ جب کسی کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے انکار فرماتے تھے تو سب کو معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ منافق مرا ہے۔
اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۴﴾
’’ یقینا انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اوراس کے رسول ؐکے ساتھ اور وہ مرے ہیں اسی حال میں کہ وہ نافرمان تھے۔‘‘