تحریر

التوبة

آیات ۸۱ تا ۸۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

81-82

جہنم کی آگ دنیا کی گرمی سے زیادہ شدید ہے

ویڈیو

فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ بِمَقۡعَدِہِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ وَ کَرِہُوۡۤا اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ قَالُوۡا لَا تَنۡفِرُوۡا فِی الۡحَرِّ ؕ قُلۡ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۸۱﴾ فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّ لۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾

آیت 81

فَرِحَ الۡمُخَلَّفُوۡنَ بِمَقۡعَدِہِمۡ خِلٰفَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ وَ کَرِہُوۡۤا اَنۡ یُّجَاہِدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ

’’بہت خوش ہو گئے پیچھے رہ جانے والے اپنے بیٹھ رہنے پر اللہ کے رسولؐ کے (جانے کے)بعد‘اور انہوں نے نا پسند کیا کہ وہ جہاد کرتے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں‘‘

وَ قَالُوۡا لَا تَنۡفِرُوۡا فِی الۡحَرِّ ؕ

’’اور (دوسروں سے بھی) کہنے لگے کہ اس گرمی میں مت نکلو۔‘‘

یہ لوگ خود بھی اللہ کے رستے میں نہ نکلے اور دوسروں کو بھی روکنے کی کوشش میں رہے کہ ہم تو رخصت لے آئے ہیں‘تم بھی ہوش کے ناخن لو‘کوئی بہانہ بنالو اور اس قدر شدید گرمی میں سفر کے لیے مت نکلو۔

قُلۡ نَارُ جَہَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا ؕ لَوۡ کَانُوۡا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۸۱﴾

’’(اے نبیﷺ !ان سے) کہہ دیجئے: جہنم کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے ‘کاش ان لوگوں کو فہم حاصل ہوتا۔‘‘

آیت 82

فَلۡیَضۡحَکُوۡا قَلِیۡلًا وَّ لۡیَبۡکُوۡا کَثِیۡرًا ۚ جَزَآءًۢ بِمَا کَانُوۡا یَکۡسِبُوۡنَ ﴿۸۲﴾

’’ تو انہیں چاہیے کہ ہنسیں کم اور روئیں زیادہ‘بدلہ اُس کا جو کمائی انہوں نے کی ہے۔‘‘

83-84

منافقین کی محرومیاں

ویڈیو

فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنۡہُمۡ فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ لِلۡخُرُوۡجِ فَقُلۡ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّکُمۡ رَضِیۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾ وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۴﴾

آیت 83

فَاِنۡ رَّجَعَکَ اللّٰہُ اِلٰی طَآئِفَۃٍ مِّنۡہُمۡ

’’پس (اے نبیﷺ!) اگراللہ آپ کو لوٹا کر لے جائے ان کے کسی گروہ کے پاس‘‘

مضمون سے ظاہر ہو رہاہے کہ یہ آیت مقامِ تبوک پر نازل ہوئی ہے۔ سورت کے اس دوسرے حصے کے پہلے چار رکوعوں (چھٹے رکوع سے لے کر نویں رکوع تک) کے بارے میں تو یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ غزوۂ تبوک پر روانگی سے قبل نازل ہوئے تھے۔ ان کے بعد کی آیات مختلف مواقع پر نازل ہوئیں‘کچھ جاتے ہوئے راستے میں‘کچھ تبوک میں قیام کے دوران اور کچھ واپس آتے ہوئے راستے میں۔

فَاسۡتَاۡذَنُوۡکَ لِلۡخُرُوۡجِ

’’پھر وہ آپؐ سے اجازت مانگیں (آپؐ کے ساتھ) نکلنے کے لیے ‘‘

یعنی کسی مہم پر ‘کسی اور دشمن کے خلاف آپﷺ کے ساتھ جہاد میں شریک ہو نا چاہیں:

فَقُلۡ لَّنۡ تَخۡرُجُوۡا مَعِیَ اَبَدًا

’’تو کہہ دیجئے گا کہ اب تم میرے ساتھ کبھی نہیں نکلو گے‘‘ غزوۂ تبوک کی مہم میں تمہارا آخری امتحان ہو چکا ہے اور اس میں تم لوگ ناکام ہو چکے ہو۔

وَّ لَنۡ تُقَاتِلُوۡا مَعِیَ عَدُوًّا ؕ اِنَّکُمۡ رَضِیۡتُمۡ بِالۡقُعُوۡدِ اَوَّلَ مَرَّۃٍ

’’اور اب میرے ساتھ ہو کر تم کسی دشمن کے ساتھ جنگ نہیں کرو گے۔تم پہلی مرتبہ راضی ہو گئے تھے بیٹھ رہنے پر‘‘

جب جہاد کے لیے نفیر عام ہوئی اور سب پر نکلنا فرض قرار پایا تو اُس وقت تم اپنے گھروں میں بیٹھ رہنے پر راضی ہو گئے تھے۔

فَاقۡعُدُوۡا مَعَ الۡخٰلِفِیۡنَ ﴿۸۳﴾

’’تو (اب ہمیشہ کے لیے) بیٹھ رہوپیچھے رہنے والوں کے ساتھ ۔‘‘

آیت 84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤی اَحَدٍ مِّنۡہُمۡ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمۡ عَلٰی قَبۡرِہٖ ؕ

’’اور (اے نبیﷺ!) ان میں سے کوئی مرجائے تو اُس کی نمازِ جنازہ کبھی بھی ادا نہ کریں اور اُس کی قبر پر بھی کھڑے نہ ہوں۔‘‘

یہ گویااب اُن کی رسوائی کا سامان ہو رہا ہے۔ اب تک تو منافقت پر پردے پڑے ہوئے تھے مگر اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ جب کسی کی نمازِ جنازہ پڑھنے سے انکار فرماتے تھے تو سب کو معلوم ہو جاتا تھا کہ وہ منافق مرا ہے۔

اِنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ وَ مَا تُوۡا وَ ہُمۡ فٰسِقُوۡنَ ﴿۸۴﴾

’’ یقینا انہوں نے کفر کیا ہے اللہ اوراس کے رسول ؐکے ساتھ اور وہ مرے ہیں اسی حال میں کہ وہ نافرمان تھے۔‘‘

85

منافقین کے لیے ان کے مال اور اولاد باعث اذیت ہوں گے

ویڈیو

وَ لَا تُعۡجِبۡکَ اَمۡوَالُہُمۡ وَ اَوۡلَادُہُمۡ ؕ اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنۡیَا وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾

آیت 85

وَ لَا تُعۡجِبۡکَ اَمۡوَالُہُمۡ وَ اَوۡلَادُہُمۡ ؕ

’’اور آپؐ کو پسند نہ آئیں اُن کے اموال اور اُن کی اولاد۔‘‘

یعنی آپؐ ان کے مال اور اولاد کو اہمیت مت دیجیے۔ یہ آیت اسی سورت میں ۵۵ نمبر پر معمولی فرق کے ساتھ پہلے بھی آ چکی ہے۔

اِنَّمَا یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّعَذِّبَہُمۡ بِہَا فِی الدُّنۡیَا وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۸۵﴾

’’اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ انہیں عذاب دے انہی چیزوں کے ذریعے سے دنیا میں اور ان کی جانیں نکلیں اسی حالتِ کفر میں۔‘‘

86-87

منافقانہ طرزِ عمل

ویڈیو

وَ اِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ جَاہِدُوۡا مَعَ رَسُوۡلِہِ اسۡتَاۡذَنَکَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡہُمۡ وَ قَالُوۡا ذَرۡنَا نَکُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾ رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۸۷﴾

آیت 86

وَ اِذَاۤ اُنۡزِلَتۡ سُوۡرَۃٌ اَنۡ اٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ جَاہِدُوۡا مَعَ رَسُوۡلِہِ اسۡتَاۡذَنَکَ اُولُوا الطَّوۡلِ مِنۡہُمۡ

’’اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ ایمان لائو اللہ پر اور جہاد کرو اُس کے رسولؐ کے ساتھ مل کرتو آپ سے رخصت مانگتے ہیں ان میں سے مقدرت والے بھی‘‘

وَ قَالُوۡا ذَرۡنَا نَکُنۡ مَّعَ الۡقٰعِدِیۡنَ ﴿۸۶﴾

’’اورکہتے ہیں ہمیں چھوڑدیجیے کہ ہم بیٹھ رہنے والوں میں شامل ہو جائیں۔‘‘

آیت 87

رَضُوۡا بِاَنۡ یَّکُوۡنُوۡا مَعَ الۡخَوَالِفِ

’’وہ اس پر راضی ہو گئے کہ پیچھے رہنے والی عورتوں میں شامل ہو جائیں‘‘

اس اندازِ بیان میں اُن پر گہرا طنز ہے۔یعنی جنگ کرنا مردوں کا کام ہے جبکہ خواتین او ر بچے ایسے مواقع پر پیچھے گھروں میں رہ جاتے ہیں۔ چنانچہ اب جب تمام مردوں پر لازم ہے کہ وہ غزوۂ تبوک کے لیے نکلیں ‘تو یہ منافقین طرح طرح کے بہانوں سے رخصت چاہتے ہیں۔ گویا انہوں نے پیچھے گھروں میں رہ جانے والی عورتوں کا کردار اپنے لیے پسند کر لیا ہے۔

وَ طُبِعَ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ فَہُمۡ لَا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۸۷﴾

’’اور ان کے دلوں پر مہر کر دی گئی ہے ‘پس اب وہ سمجھ نہیں سکتے۔‘‘

88-89

مومنانہ طرزِ عمل

ویڈیو

لٰکِنِ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡخَیۡرٰتُ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸۸﴾ اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۸۹﴾

آیت 88

لٰکِنِ الرَّسُوۡلُ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ ؕ

’’لیکن (اس کے برعکس) رسولؐ اور وہ لوگ جو آپؐ کے ساتھ ایمان لائے ‘انہوں نے جہاد کیااللہ کی راہ میں اپنے اموال سے بھی اور اپنی جانوں سے بھی۔‘‘

وَ اُولٰٓئِکَ لَہُمُ الۡخَیۡرٰتُ ۫ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸۸﴾

’’اوریہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے بھلائیاں ہیں ‘اور یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔‘‘

فلاح محض ایک لفظ ہی نہیں بلکہ قرآن کی ایک جامع اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح پر تفصیلی گفتگو ‘ان شاء اللہ‘ سورۃ المؤمنون کی پہلی آیت کے مطالعے کے دوران ہو گی۔

آیت 89

اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۸۹﴾

’’ اللہ نے اُن کے لیے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے دامن میں (یا جن کے نیچے) ندیاں بہتی ہوں گی‘جن میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی ۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے