تحریر

التوبة

آیات ۶۱ تا ۸۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

61-66

منافقین کی گستاخیاں

ویڈیو

وَ مِنۡہُمُ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ اُذُنٌ ؕ قُلۡ اُذُنُ خَیۡرٍ لَّکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ یُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَکُمۡ لِیُرۡضُوۡکُمۡ ۚ وَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرۡضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾ اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡخِزۡیُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾ یَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ سُوۡرَۃٌ تُنَبِّئُہُمۡ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ قُلِ اسۡتَہۡزِءُوۡا ۚ اِنَّ اللّٰہَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴿۶۴﴾ وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمۡ تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾ لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ ؕ اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآئِفَۃٍ مِّنۡکُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَۃًۢ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۶۶﴾

آیت 61

وَ مِنۡہُمُ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوۡلُوۡنَ ہُوَ اُذُنٌ ؕ

’’اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی(ﷺ)کو ایذا پہنچاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تونرے کان ہیں۔‘‘

یہ تو نرے کان ہی کان ہیں۔ مراد یہ ہے کہ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں اور ہم جو بھی جھوٹا سچا بہانہ بناتے ہیں اسے مان لیتے ہیں‘ گویا بالکل ہی بے بصیرت ہیں (معاذ اللہ!) منافقین ایسی باتیں کر کے (نعوذ باللہ) رسول اللہﷺ کی توہین کرتے تھے اور آپؐ کو اذیت پہنچاتے تھے۔

قُلۡ اُذُنُ خَیۡرٍ لَّکُمۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ یُؤۡمِنُ لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ

’’ آپؐ کہیے کہ یہ کان تمہاری بہتر ی کے لیے ہیں‘وہ یقین رکھتے ہیں اللہ پر اور بات مان لیتے ہیں اہلِ ایمان کی۔‘‘

یہاں پر ’’یُؤْمِنُ‘‘ کے ساتھ ’’بِ‘‘ اور ’’لِ‘‘ کے استعمال سے معنی کا واضح فرق ملاحظہ ہو۔ آمَنَ‘ یُؤْمِنُ ’ب‘ کے ساتھ ایمان لانے اور ’ل‘ کے ساتھ بات ماننے اور یقین کر لینے کے معنی میں آتا ہے ۔ یعنی ہمارے رسولﷺ جانتے ہیں کہ تم جھوٹ بول رہے ہو ‘مگر یہ آپﷺ کی شرافت‘نجابت اور مروّت ہے کہ تمہاری جھوٹی باتیں سن کر بھی تمہیں یہ نہیں کہتے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو‘اور سب کچھ جانتے ہوئے بھی تمہارا پول نہیں کھولتے۔ یہ تمہاری حماقت کی انتہا ہے کہ تم اپنے زعم میں رسول اللہﷺ کو دھوکہ دے رہے ہو۔ تم لوگوں کو اللہ کے رسولﷺ کی بصیرت کا کچھ بھی اندازہ نہیں ہے۔ آپﷺ تو اللہ کے رسولؐ ہیں‘جبکہ ایک بندۂ مؤمن کی بصیرت کی بھی کیفیت یہ ہے کہ وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث(( اِتَّقُوْ ا فِرَاسَۃَ الْـمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ))۶ ’’مؤمن کی فراست سے بچو‘ بے شک وہ اللہ کے نور سے دیکھتا ہے۔‘‘

وَ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ؕ

’’اور جو تم میں سے واقعی مؤمن ہیں ان کے حق میں رحمت ہیں۔‘‘

وَ الَّذِیۡنَ یُؤۡذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾

’’اور جو ایذا پہنچاتے ہیں اللہ کے رسول (ﷺ) کو اُن کے لیے بڑا درد ناک عذاب ہے۔‘‘

(۶) سنن الترمذی‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب ومن سورۃ الحجر۔

آیت 62

یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ لَکُمۡ لِیُرۡضُوۡکُمۡ ۚ

’’(اے مسلمانو!) یہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تا کہ تمہیں راضی کریں۔‘‘

اس مہم کی تیاری کے دوران منافقین کا طریقہ کار یہ تھا کہ وہ جھوٹے بہانے بنا کر رسول اللہ ﷺ سے رخصت لے لیتے ‘اور پھر قسمیں کھا کھا کر عام مسلمانوں کو یقین دلانے کی کوشش کرتے کہ ہم آپ کے مخلص ساتھی ہیں ‘آپ لوگ ہم پر شک نہ کریں۔

وَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗۤ اَحَقُّ اَنۡ یُّرۡضُوۡہُ اِنۡ کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۶۲﴾

’’ اللہ اور اُس کا رسولؐ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ وہ انہیں راضی کریں اگر وہ واقعتا مؤمن ہیں۔‘‘

آیت 63

اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّہٗ مَنۡ یُّحَادِدِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاَنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خَالِدًا فِیۡہَا ؕ ذٰلِکَ الۡخِزۡیُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۶۳﴾

’’کیا وہ جانتے نہیں کہ جو کوئی بھی اللہ اور اُس کے رسولؐ کا مقابلہ کرے گا تو اُس کے لیے جہنم کی آ گ ہے ‘جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا ۔یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔‘‘

آیت 64

یَحۡذَرُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ اَنۡ تُنَزَّلَ عَلَیۡہِمۡ سُوۡرَۃٌ تُنَبِّئُہُمۡ بِمَا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ

’’یہ منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہو جائے جو ان کو ہمارے دلوںکی حالت بتا دے۔‘‘

ان کے دلوں میں چونکہ چور ہے اس لیے انہیں ہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں وحی کے ذریعے ان کے جھوٹ کاپردہ چاک نہ کر دیا جائے۔

قُلِ اسۡتَہۡزِءُوۡا ۚ اِنَّ اللّٰہَ مُخۡرِجٌ مَّا تَحۡذَرُوۡنَ ﴿۶۴﴾

’’آپؐ کہیے کہ ابھی تم استہزاء کر تے رہو‘یقینا (ایک وقت آئے گاکہ) اللہ ظاہر کر کے رہے گا جس سے تم ڈر رہے ہو۔‘‘

آیت 65

وَ لَئِنۡ سَاَلۡتَہُمۡ لَیَقُوۡلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوۡضُ وَ نَلۡعَبُ ؕ

’’ اور اگر آپؐ ان سے پوچھیں گے تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کر رہے تھے ۔‘‘

رسول اللہﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ منافقین جو آئے دن آپؐ اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں‘ اگر آپؐ اس کے بارے میں اِن سے باز پرس کریں تو فوراً کہیں گے کہ ہماری گفتگو سنجیدہ نوعیت کی نہیں تھی‘ ہم توویسے ہی ہنسی مذاق اور دل لگی کر رہے تھے۔

قُلۡ اَ بِاللّٰہِ وَ اٰیٰتِہٖ وَ رَسُوۡلِہٖ کُنۡتُمۡ تَسۡتَہۡزِءُوۡنَ ﴿۶۵﴾

’’آپؐ کہیے کیا تم اللہ ‘اُس کی آیات اور اُس کے رسول ؐکے ساتھ استہزاء کر رہے تھے؟‘‘

تو کیا اب ؏ ’’بازی بازی با ریشِ با با ہم بازی!‘‘ کے مصداق اللہ‘اُس کی آیات اور اُس کا رسولﷺ بھی تمہارے استہزاء اور تمسخر کا تختۂ مشق بنیں گے؟

آیت 66

لَا تَعۡتَذِرُوۡا قَدۡ کَفَرۡتُمۡ بَعۡدَ اِیۡمَانِکُمۡ ؕ

’’اب بہانے مت بنائو‘تم کفر کرچکے ہو اپنے ایمان کے بعد۔‘‘

اِنۡ نَّعۡفُ عَنۡ طَآئِفَۃٍ مِّنۡکُمۡ نُعَذِّبۡ طَآئِفَۃًۢ بِاَنَّہُمۡ کَانُوۡا مُجۡرِمِیۡنَ ﴿٪۶۶﴾

’’ اگرہم تمہاری ایک جماعت سے درگزر بھی کرلیں گے تو کسی دوسری جماعت کو عذاب بھی دیں گے‘اس لیے کہ وہ مجرم ہیں۔‘‘

یعنی اب وہ وقت آرہا ہے کہ تمہیں تمہارے ان کرتوتوں کے سبب سزائیں بھی ملیں گی۔

67-68

منافقین مرد اورعورتیں، نیکی سے روکتے اور برائی پھیلاتے ہیں

ویڈیو

اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡکَرِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَقۡبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمۡ ؕ نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ ؕ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۶۷﴾ وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡکُفَّارَ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ ہِیَ حَسۡبُہُمۡ ۚ وَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۶۸﴾

آیت 67

اَلۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتُ بَعۡضُہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡضٍ ۘ

’’ منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے میں سے ہیں۔‘‘

ان سب منافقین کا آپس میں گٹھ جوڑ ہے‘اندر سے یہ سب ایک ہیں۔

یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمُنۡکَرِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمَعۡرُوۡفِ

’’ یہ بدی کا حکم دیتے ہیں اور نیکی سے روکتے ہیں‘‘

یعنی اللہ کے احکام کے خلاف یہ لوگ ’’امر با لمنکر اور نہی عن المعروف ‘‘کی پالیسی پر عمل کر رہے ہیں۔ دوسرو ں سے ہمدردی جتا کر انہیں نیکی سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں کہ دیکھو اپنے خون پسینے کی کمائی کواِدھر اُدھر مت ضائع کرو‘بلکہ اسے اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے سنبھال کر رکھو۔

وَ یَقۡبِضُوۡنَ اَیۡدِیَہُمۡ ؕ

’’ اور اپنے ہاتھوں کو بند رکھتے ہیں۔‘‘

یعنی اللہ کے راستے میں خرچ نہیں کرتے۔

نَسُوا اللّٰہَ فَنَسِیَہُمۡ ؕ اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ ﴿۶۷﴾

’’ انہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے (بھی)انہیں نظر انداز کر دیا۔ یقینا یہ منافق ہی نافرمان ہیں۔‘‘

آیت 68

وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ الۡمُنٰفِقٰتِ وَ الۡکُفَّارَ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ

’’ اللہ نے وعدہ کیا ہے ان منافق مردوں ‘ منافق عورتوں اور تمام کفار سے جہنم کی آ گ کا‘جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔‘‘

ہِیَ حَسۡبُہُمۡ ۚ وَ لَعَنَہُمُ اللّٰہُ ۚ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ مُّقِیۡمٌ ﴿ۙ۶۸﴾

’’ بس وہی ان کے لیے کفایت کرے گی۔ اوراللہ نے ان پر لعنت فرما دی ہے ‘اور ان کے لیے عذاب ہے قائم رہنے والا۔‘‘

ایسا عذاب جو اُن کو مسلسل دیا جائے گااور اس کی شدت کبھی کم نہ ہو گی۔

69-70

تاریخ سے عبرت

ویڈیو

کَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡکُمۡ قُوَّۃً وَّ اَکۡثَرَ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ؕ فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِہِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِکُمۡ کَمَا اسۡتَمۡتَعَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ بِخَلَاقِہِمۡ وَ خُضۡتُمۡ کَالَّذِیۡ خَاضُوۡا ؕ اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۶۹﴾ اَلَمۡ یَاۡتِہِمۡ نَبَاُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ۬ۙ وَ قَوۡمِ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اَصۡحٰبِ مَدۡیَنَ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتِ ؕ اَتَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۷۰﴾

آیت 69

کَالَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ

’’ (تم منافق لوگ) ان لوگوں کی مانند ہوجو تم سے پہلے تھے ‘‘

کَانُوۡۤا اَشَدَّ مِنۡکُمۡ قُوَّۃً وَّ اَکۡثَرَ اَمۡوَالًا وَّ اَوۡلَادًا ؕ

’’ وہ تم سے کہیں بڑھ کر تھے طاقت میں اور کہیں زیادہ تھے مال اور اولاد میں۔‘‘

تم سے پہلے جو کافر قومیں گزری ہیں‘مثلا قومِ عاد ‘قومِ ثمودوغیرہ وہ طاقت‘مال و دولت اور تعداد کے لحاظ سے تم سے بہت بڑھ کر تھیں۔

فَاسۡتَمۡتَعُوۡا بِخَلَاقِہِمۡ فَاسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِخَلَاقِکُمۡ

’’تو انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا اوراب تم نے بھی اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا ہے‘‘

یعنی تمہاری مدتِ مہلت اب ختم ہونے کو ہے‘اب تم لوگ بہت جلد اپنے انجام کو پہنچنے والے ہو۔

کَمَا اسۡتَمۡتَعَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ بِخَلَاقِہِمۡ

’’ جیسے کہ اُن لوگوں نے اپنے حصے کا فائدہ اٹھایا تھا جوتم سے پہلے تھے‘‘

وَ خُضۡتُمۡ کَالَّذِیۡ خَاضُوۡا ؕ

’’اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے۔‘‘

تم نے بھی اسی طرح کی روش اختیار کی جیسی انہوں نے اختیار کی تھی۔

اُولٰٓئِکَ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۶۹﴾

’’ یہ وہ لوگ ہیں جن کے تمام اعمال دنیا اور آخرت میں ضائع ہو گئے۔ اور یہی لوگ ہیں خسارے میں رہنے والے۔‘‘

آیت 70

اَلَمۡ یَاۡتِہِمۡ نَبَاُ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ قَوۡمِ نُوۡحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوۡدَ ۬ۙ وَ قَوۡمِ اِبۡرٰہِیۡمَ

’’کیا ان کے پاس ان لوگوں کی خبریں نہیں آچکی ہیں جو ان سے پہلے تھے؟قومِ نوحؑ‘عاد ‘ثمود اور قومِ ابراہیم ؑ‘‘

قرآن مجید میں اس مقام کے علاوہ سورۃ الحج(آیات۴۳‘۴۴) میں بھی قومِ ابراہیمؑ کا تذکرہ اس انداز میں آیا ہے کہ شاید آپؑ کی قوم پربھی عذاب آیاہو‘لیکن آپؑ کی قوم کے حوالے سے واضح طور پر ایسے کسی عذاب کا ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے۔

وَ اَصۡحٰبِ مَدۡیَنَ وَ الۡمُؤۡتَفِکٰتِ ؕ

’’ اور مدین کے لوگوں اور ان بستیوں کی (خبریں) جو اُلٹ دی گئیں۔‘‘

اَتَتۡہُمۡ رُسُلُہُمۡ بِالۡبَیِّنٰتِ ۚ فَمَا کَانَ اللّٰہُ لِیَظۡلِمَہُمۡ وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۷۰﴾

’’اُن کے پاس آئے اُن کے رسول واضح نشانیاں (یا احکام) لے کر۔ پس اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہیں تھا‘بلکہ وہ اپنے اوپر خود ہی ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘

71-72

مومن مرد اور خواتین نیکی پھیلاتے اور برائی سے روکتے ہیں

ویڈیو

وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾ وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۷۲﴾

آیت 71

وَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتُ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ۘ

’’اور ایمان والے مرد اور ایمان والی عورتیں‘یہ سب ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔‘‘

یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ یُطِیۡعُوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ

’’وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں‘بدی سے روکتے ہیں ‘نماز قائم کرتے ہیں ‘زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ اور اُس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔‘‘

اُولٰٓئِکَ سَیَرۡحَمُہُمُ اللّٰہُ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾

’’یہی وہ لوگ ہیں جن پر اللہ رحمت فرمائے گا۔یقینا اللہ زبردست ‘حکمت والا ہے۔‘‘

آیت 72

وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ

’’اللہ نے وعدہ کیا ہے مؤمن مرد وں اور مؤمن عورتوں سے اُن باغات کاجن کے نیچے ندیاں بہتی ہوں گی ‘وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے‘اور بہت عمدہ مکانات (کا وعدہ) ہمیشہ رہنے والے باغات میں۔‘‘

وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿٪۷۲﴾

’’ اور اللہ کی رضا تو سب سے بڑی نعمت ہے۔ یہی تو ہے بہت بڑی کامیابی۔‘‘

جنت کی ساری نعمتیں اپنی جگہ‘مگر اہلِ جنت کے لیے سب سے بڑی نعمت یہ ہو گی کہ اللہ اُن سے راضی ہوجائے گا۔

73-74

منافقین و کفار کے خلاف جہاد کا حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوۡا ؕ وَ لَقَدۡ قَالُوۡا کَلِمَۃَ الۡکُفۡرِ وَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِہِمۡ وَ ہَمُّوۡا بِمَا لَمۡ یَنَالُوۡا ۚ وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ فَاِنۡ یَّتُوۡبُوۡا یَکُ خَیۡرًا لَّہُمۡ ۚ وَ اِنۡ یَّتَوَلَّوۡا یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ وَ مَا لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۷۴﴾

آیت 73

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’اے نبی(ﷺ)! جہاد کیجئے کفار اور منافقین سے ‘اور ان پر سختی کیجیے۔‘‘

یہ آیت بالکل انہی الفاظ کے ساتھ سورۃ التحریم میں بھی آئی ہے جو اٹھائیسویں پارے کی آخری سورت ہے۔یہاں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں جہاد بمعنی قتال استعمال نہیں ہوا۔ اس لیے کہ منافقین کے ساتھ آپؐ نے کبھی جنگ نہیں کی۔ لہٰذا یہاں جہاد سے مراد قتال سے نچلے درجے کی جدوجہد (دُوْنَ الْقِتَالِ) ہے۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبیﷺ! آپ منافقین کی ریشہ دوانیوں کا توڑ کرنے اور ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوئہ تبوک سے واپس آرہے تھے تو اسی حوالے سے آپﷺ نے فرمایا تھا : حدیث((رَجَعْنَا مِنَ الْجِہَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِہَادِ الْاَکْبَرِ))۷ یعنی ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اُس زمانے کی سپر پاور سلطنتِ روما کے خلاف جہاد کو آپﷺ نے ’’جہادِ اصغر‘‘ فرمایا اور پھر فرمایا کہ اب ’’جہادِ اکبر‘‘ تمہارے سامنے ہے۔ عام طور پر اس حدیث کی توجیہہ اس طرح کی گئی ہے کہ انسان کا اپنے نفس کے خلاف جہاد سب سے بڑا جہاد ہے۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے ۔ ایک دفعہ جب آپﷺ سے پوچھا گیا : اَیُّ الْجِہَادِ اَفْضَلُ؟ یعنی سب سے افضل جہاد کون ساہے؟ تو جواب میں آپﷺ نے فرمایا: حدیث((اَنْ تُجَاہِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ))۸’’یہ کہ تم جہاد کرو اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں‘‘۔لہٰذا اسی حدیث کی بنیاد پر جہاد اکبر والی مذکورہ حدیث کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ جہاد با لنفس دشمن کے خلاف قتال سے بھی بڑا جہاد ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس حدیث کا اصل مفہوم سمجھنے کے لیے اس کے موقع محل اور پس منظر کے حالات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مدینہ کے اندر منافقین دراصل مسلمانوں کے حق میں مارِ آستین تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں ان کے خلاف رسول اللہﷺ کو جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ مگر ان کے خلاف جہاد کا معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں تھا۔ ان منافقین کے اوس اور خزرج کے لوگوں کے ساتھ تعلقات تھے اور اُن کے خلاف اقدام کرنے سے اندرونی طور پر کئی طرح کے مسائل جنم لے سکتے تھے۔ مگر ان مشکلات کے باوجود اس آیت کے نزول کے بعد تبوک سے واپس آ کر حضورﷺ نے منافقین کے خلاف کئی سخت اقدامات کیے تھے ۔ مثلاً آپﷺ نے مسجد ضرار کو گرانے اور جلانے کا حکم دیا ‘اور پھر اس پر عمل بھی کرایا۔ یہ بہت بڑا اقدام تھا۔ منافقین مسجد کے تقدس کے نام پر لوگوں کو مشتعل بھی کر سکتے تھے۔ چنانچہ میرے نزدیک یہی وہ ’’جہادِ اکبر‘‘ تھا جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ ملتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو اپنی صفوں کے اندر چھپے ہوئے دشمنوں کے وار سے بچتے ہوئے ان کے خلاف مسلسل نبرد آزما رہنا تھا جو کہ واقعی ایک بہت بڑا جہاد تھا۔

وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾

’’اوران کا ٹھکانہ جہنم ہے ‘اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘

(۷) تخریج الکشاف للزیلعی ۲/۳۹۵۔ (غریب جدا)

(۸) حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ۲/۲۸۲۔

آیت 74

یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوۡا ؕ

’’وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی۔‘‘

یہ جس بات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اٹھائیسویں پارے کی سورۃ المنافقون میں آئے گی۔ بہر حال یہاں صرف اتنا جان لینا ضروری ہے کہ تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران عبداللہ بن ابی کے منہ سے کسی نوجوان مسلمان نے غلط بات سنی تو اُس نے آ کررسول اللہﷺ سے اس کا ذکرکر دیا۔ آپﷺ نے طلب فرما کر باز پرس کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس نوجوان نے خواہ مخواہ فتنہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔

وَ لَقَدۡ قَالُوۡا کَلِمَۃَ الۡکُفۡرِ

’’حالانکہ انہوں نے کہا ہے کفر کا کلمہ‘‘

عبداللہ بن ابی کے مکر جانے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو سچا قرار دیااور اس منافق کے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔

وَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِہِمۡ وَ ہَمُّوۡا بِمَا لَمۡ یَنَالُوۡا ۚ

’’ اور وہ کفر کر چکے اپنے اسلام کے بعد‘ اور انہوں نے ارادہ کیاتھااُس شے کا جو وہ حاصل نہ کر سکے۔‘‘

یہ جس واقعے کی طرف اشارہ ہے وہ بھی غزوئہ تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران پیش آیا تھا۔ پہاڑی راستہ میں ایک موقع پر رسول اللہﷺ کا گزر ایک ایسی تنگ گھاٹی سے ہوا جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک اونٹ گزر سکتا تھا۔ اس موقع پر آپﷺ قافلے سے علیحدہ تھے اور آپﷺ کے ساتھ صرف دو صحابہ حضرت حذیفہ ؓبن یمان اور عمارؓ بن یاسر ؓتھے۔ اس تنگ جگہ پر کچھ منافقین نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپﷺ پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے پہچانے جانے کے ڈر سے ڈھاٹے باندھ رکھے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضورﷺ کو (نعوذ باللہ) شہید کر دیں۔ بہر حال آپﷺ کے جاں نثار صحابہؓ نے حملہ آوروں کو مار بھگایا اور وہ اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان دو صحابہ( رضی اللہ عنہما) کو حملہ آوروں میں سے ہر ایک کے نام بتادیے اور ان کے علاوہ بھی تمام منافقین کے نام بتا دیے ۔ مگر ساتھ ہی آپﷺ نے ان دونوں حضرات کو تاکید فرما دی کہ وہ یہ نام کسی کو نہ بتائیں اور آپﷺ کے اس راز کو اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں۔ اسی وجہ سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ صحابہؓ میں ’’صاحبُ سِرِّ النَّبِیﷺ‘‘ (نبی ﷺکے رازدان) کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے۔

وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ

’’اور یہ لوگ اپنے عناد کا مظاہرہ نہیں کررہے مگر اسی لیے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے انہیں غنی کر دیاہے اپنے فضل سے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رسولﷺ کی مہربانی سے یہ لوگ مالِ غنیمت اور زکوٰۃ و صدقات میں سے با فراغت حصہ پا رہے ہیں۔

فَاِنۡ یَّتُوۡبُوۡا یَکُ خَیۡرًا لَّہُمۡ ۚ

’’اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔‘‘

وَ اِنۡ یَّتَوَلَّوۡا یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ

’’اور اگر وہ پیٹھ موڑیں گے تو اللہ انہیں بہت درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘

وَ مَا لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۷۴﴾

’’اور پوری زمین میں ان کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔‘‘

اب وہ تین آیات آ رہی ہیں جن کا حوالہ میری تقاریر میں اکثر آتا رہتا ہے۔ ان میں مدینہ کے منافقین کی ایک خاص قسم کا تذکرہ ہے ‘مگر مسلمانانِ پاکستان کے لیے ان آیات کا مطالعہ بطورِ خاص مقامِ عبرت بھی ہے اور لمحۂ فکریہ بھی۔

75-77

اللہ سے وعدہ خلافی کی سزا . . . منافقت

ویڈیو

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ عٰہَدَ اللّٰہَ لَئِنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾ فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَ تَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾ فَاَعۡقَبَہُمۡ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ یَلۡقَوۡنَہٗ بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾

آیت 75

وَ مِنۡہُمۡ مَّنۡ عٰہَدَ اللّٰہَ لَئِنۡ اٰتٰىنَا مِنۡ فَضۡلِہٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۷۵﴾

’’اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہمیں اپنے فضل سے نواز دے گاتو ہم خوب صدقہ وخیرات کریں گے اور نیک بن جائیں گے۔‘‘

آیت 76

فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمۡ مِّنۡ فَضۡلِہٖ بَخِلُوۡا بِہٖ وَ تَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۷۶﴾

’’پھر جب اللہ نے انہیں نواز دیا اپنے فضل سے (غنی کر دیا)تو انہوں نے اس دولت کے ساتھ بخل کیا اور پیٹھ موڑ لی اور اعراض کیا۔‘‘

آیت 77

فَاَعۡقَبَہُمۡ نِفَاقًا فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ

’’تو اللہ نے سزا کے طور پر ڈال دیا ان کے دلوں میں نفاق‘‘

اللہ تعالیٰ سے وعدہ کر کے اس سے پھر جانے کی دنیا میں یہ نقدسزا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں میں نفاق پیدا فرما دیتے ہیں‘اور بدقسمتی سے یہی روگ آج مسلمانانِ پاکستان کے دلوں میں پیدا ہو چکاہے۔گویا پاکستانی قوم بحیثیت مجموعی اس سزا کی مستحق ہو چکی ہے۔ مسلمانانِ برصغیر نے تحریک پاکستان کے دوران اللہ تعالیٰ سے ایک وعدہ کیاتھا اور یہ وعدہ ایک نعرہ بن کر بچے بچے کی زبان پر آ گیاتھا: ’’پاکستان کا مطلب کیا؟ لَا اِلٰــہَ اِلَّا اللّٰہ! ‘‘گویا دنیا کے نقشے پر یہ نیا ملک اسلام کے نام پر اور اسلام کے لیے بناتھا۔ اس ضمن میں ہندوستان کے مسلمانوں نے تو ووٹ دے کر اپنا فرضِ کفایہ ادا کر دیا کہ تم جا کر پاکستان میں اسلام کا نظام قائم کرو‘ ہم پر جو گزرے گی سو گزرے گی۔ مگر مسلمانانِ پاکستان نے اس سلسلے میں اب تک کیا کیا ہے؟ کہاں ہے پاکستان میں اسلام اور کہاں ہے لَا اِلٰــہَ اِلَّا اللّٰہ؟ یہ پاکستانی قوم کی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اجتماعی بے وفائی اور بد عہدی کی بدترین مثال ہے ۔ اس بد عہدی کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے نفاق اس قوم پر مسلط کر دیے۔ ایک باہمی نفاق‘جس کے باعث یہ قوم اب قوم نہیں رہی فرقوں میں بٹ چکی ہے اور اس میں مختلف عصبیتیں پیدا ہو چکی ہیں۔صوبائیت ‘مذہبی فرقہ واریت وغیرہ نے باہمی اتحاد پارہ پارہ کر دیا ہے۔ دوسرے جب یہ نفاق ہمارے دلوں کا روگ بنا تو اس سے شخصی کردار اور پھر قومی کردار کا بیڑا غرق ہو گیا۔ اس حوالے سے ایک متفق علیہ حدیث ملاحظہ کیجیے اور اس کے آئینے میں پاکستانی قوم کے اصلی چہرے کی جھلک دیکھئے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((آیَۃُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ [وَفِیْ رِوَایَۃٍ لِمُسْلِمٍ : وَاِنْ صَامَ وَصَلّٰی وَزَعَمَ اَنَّہٗ مُسْلِمٌ] اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ‘ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ ‘ وَاِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ))

’’منافق کی تین نشانیاں ہیں [اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ’’اگرچہ روزہ رکھتا ہو‘ نماز پڑھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔‘‘](i) جب بولے جھوٹ بولے(ii)جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے (iii)جب امین بنایا جائے تو خیانت کرے۔‘‘

اس حدیث کو کسوٹی سمجھ کر اپنی قوم کے کردار کو پرکھ لیجیے ۔ اس وقت پاکستان میں جو جتنا بڑا ہے اتنا ہی بڑا جھوٹا ہے‘اتنا ہی بڑا وعدہ خلاف ہے اور اتنا ہی بڑا خائن ہے (الا ما شا ء اللہ!)

تیسرا نفاق جو اس قوم کے حصے میں آیا وہ بہت ہی بڑا ہے اور وہ ہے آئین کا نفاق۔ کسی ملک کا آئین اس ملک کی اہم ترین دستاویز ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے اس ملک کی اس اہم ترین دستاویز کو بھی منافقت کا پلندہ بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ پاکستانی آئین میں ایک ہاتھ سے اسلام داخل کیا جاتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے نکال لیا جاتا ہے۔ الفاظ دیکھو تو ہر سمت اسلام ہی اسلام ہے‘تعمیل دیکھو تو اسلام کا سایہ تک کہیں نظر نہیں آتا۔ اگر آئین پاکستان کی عبارت میں منافقت کی مثال دیکھنی ہو تو عبرت کے لیے اس جملے کو پڑھ لیجیے :

No legislation will be done repugnant to the Quran and the Sunnah.

اندازہ کیجیے کہ آئین کے اندر یہ کتنی بڑی بات لکھ دی گئی ہے۔ یعنی اس ملک میں قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔ ان الفاظ پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ سورۃ الحجرات کی پہلی آیت کا ترجمہ کر کے دستور میں لکھ دیا گیا ہے ‘ لیکن ملک اور معاشرے کے اندر اس کے عملی پہلو پر نظر ڈالیں تو یوں لگتا ہے جیسے یہ الفاظ صرف آئینی اور قانونی تقاضا پورا کرنے کے لیے رسماً لکھے گئے ہیں‘ان پرعمل کرنے کا کسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ بس ایک اسلامی نظریاتی کونسل بنا دی گئی ہے جو اپنی سفارشات مرتب کرتی رہتی ہے۔ یہ سفارشات کونسل کی طرف سے سالانہ رپورٹس کے طور پر حکومت کو باقاعدگی سے پیش ہوتی ہیں‘مگر ان کی کوئی تعمیل نہیں ہوتی ۔ اسی طرح فیڈرل شریعت کورٹ بھی دکھاوے کا ایک ادارہ ہے۔ بڑے بڑے علماء اس کے تحت بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعات لے رہے ہیں‘مگر عملی پہلو دیکھو تو دستورِپاکستان اُن کے دائرئہ عمل سے ہی خارج ہے۔ اسی طرح عدالتی قوانین ‘عائلی قوانین ‘مالی قوانین وغیرہ سب فیڈرل شریعت کورٹ کے دائرۂ اختیار سے باہر ہیں۔ دستور کی سطح پر اتنی بڑی منافقت شاید پوری دنیا میں اور کہیں نہ ہو۔ بہر حال یہ ہے ایک ہلکی سی جھلک پاکستانی قوم کی اُس سزا کی جو انہیں وعدہ خلافی کے جرم کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے دی گئی ہے۔

اِلٰی یَوۡمِ یَلۡقَوۡنَہٗ

’’(اور یہ نفاق اب رہے گا) اُس دن تک جس دن یہ لوگ ملاقات کریں گے اُس سے‘‘

اس نفاق سے اب ان کی جان روزِ قیامت تک نہیں چھوٹے گی ۔ اب یہ کانٹا ان کے دلوں سے کبھی نکلے گانہیں۔

بِمَاۤ اَخۡلَفُوا اللّٰہَ مَا وَعَدُوۡہُ وَ بِمَا کَانُوۡا یَکۡذِبُوۡنَ ﴿۷۷﴾

’’ بسبب اُس وعدہ خلافی کے جو انہوں نے اللہ سے کی اور بسبب اُس جھوٹ کے جو وہ بولتے رہے۔‘‘

78-80

منافقین کے لیے آپ ﷺ کی دعائے استغفار قبول نہ ہوگی

ویڈیو

اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿ۚ۷۸﴾ اَلَّذِیۡنَ یَلۡمِزُوۡنَ الۡمُطَّوِّعِیۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمۡ فَیَسۡخَرُوۡنَ مِنۡہُمۡ ؕ سَخِرَ اللّٰہُ مِنۡہُمۡ ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۹﴾ اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۸۰﴾

آیت 78

اَلَمۡ یَعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ سِرَّہُمۡ وَ نَجۡوٰىہُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ عَلَّامُ الۡغُیُوۡبِ ﴿ۚ۷۸﴾

’’کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جانتا ہے ان کے بھیدوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو‘اور یہ کہ اللہ تمام غیب کا جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 79

اَلَّذِیۡنَ یَلۡمِزُوۡنَ الۡمُطَّوِّعِیۡنَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ فِی الصَّدَقٰتِ

’’جودل کی خوشی سے نیکی کرنے والے اہلِ ایمان پرطعن کرتے ہیں (اُن کے )صدقات کے بارے میں ‘‘

جب رسول اللہ ﷺ نے تبوک کی مہم کے لیے انفاق فی سبیل اللہ کی ترغیب دی تو مسلمانوں کی طرف سے ایثار اور اخلاص کے عجیب و غریب مظاہردیکھنے میں آئے۔ ابو عقیل رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے ‘ان کے پاس دینے کو کچھ نہیں تھا۔ انہوں نے رات بھر ایک یہودی کے ہاں مزدوری کی اور ساری رات کنویں سے پانی نکال نکال کر اس کے باغ کو سیراب کرتے رہے۔ صبح انہیں مزدوری کے طور پر کچھ کھجوریں ملیں۔ انہوں نے اُن میں سے آدھی کھجوریں تو گھر میں بچوں کے لیے چھوڑدیں اور باقی آدھی حضورﷺکی خدمت میں لا کر پیش کر دیں۔ آپﷺ ان کے خلوص و اخلاص اور حسن عمل سے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ یہ کھجوریں سب مال و اسباب پر بھاری ہیں۔ لہٰذاآپ ﷺ کی ہدایت کے مطابق ان کھجوروں کو ساز و سامان کے پورے ڈھیر کے اوپر پھیلا دیاگیا۔ لیکن وہاں جو منافقین تھے انہوں نے حضرت ابو عقیلؓ کا مذاق اڑایا اور فقرے کسے کہ جی ہاں ‘کیا کہنے! واقعی بہت بڑی قربانی دی ہے !ان کھجوروں کے بغیر تو گویا یہ مہم کامیاب ہو ہی نہیں سکتی تھی ‘ وغیرہ وغیرہ۔

وَ الَّذِیۡنَ لَا یَجِدُوۡنَ اِلَّا جُہۡدَہُمۡ فَیَسۡخَرُوۡنَ مِنۡہُمۡ ؕ سَخِرَ اللّٰہُ مِنۡہُمۡ ۫ وَ لَہُمۡ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۷۹﴾

’’اور جن کے پاس اپنی محنت ومشقت کے سوا کچھ ہے ہی نہیں (اور وہ اس میں سے بھی خرچ کرتے ہیں) تو وہ (منافقین) ان کا مذاق اڑاتے ہیں۔اللہ ان کا مذاق اڑاتا ہے‘ اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔‘‘

آیت 80

اِسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ اَوۡ لَا تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ ؕ اِنۡ تَسۡتَغۡفِرۡ لَہُمۡ سَبۡعِیۡنَ مَرَّۃً فَلَنۡ یَّغۡفِرَ اللّٰہُ لَہُمۡ ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپ ان کے لیے استغفار کریں یا ان کے لیے استغفار نہ کریں۔اگر آپ ستر مرتبہ بھی ان کے لیے استغفار کریں گے تب بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں فرمائے گا۔‘‘

یہ آیت سورۃ النساء کی آیت ۱۴۵ {اِنَّ الۡمُنٰفِقِیۡنَ فِی الدَّرۡکِ الۡاَسۡفَلِ مِنَ النَّارِ ۚ} کے بعد منافقین کے حق میں سخت ترین آیت ہے۔

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَفَرُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿٪۸۰﴾

’’یہ اس لیے کہ یہ لوگ اللہ اور اُس کے رسول ؐکے ساتھ کفر کر چکے ہیں ‘اور اللہ ایسے فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے