یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ جَاہِدِ الۡکُفَّارَ وَ الۡمُنٰفِقِیۡنَ وَ اغۡلُظۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ
’’اے نبی(ﷺ)! جہاد کیجئے کفار اور منافقین سے ‘اور ان پر سختی کیجیے۔‘‘
یہ آیت بالکل انہی الفاظ کے ساتھ سورۃ التحریم میں بھی آئی ہے جو اٹھائیسویں پارے کی آخری سورت ہے۔یہاں توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ اس آیت میں جہاد بمعنی قتال استعمال نہیں ہوا۔ اس لیے کہ منافقین کے ساتھ آپؐ نے کبھی جنگ نہیں کی۔ لہٰذا یہاں جہاد سے مراد قتال سے نچلے درجے کی جدوجہد (دُوْنَ الْقِتَالِ) ہے۔ چنانچہ اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اے نبیﷺ! آپ منافقین کی ریشہ دوانیوں کا توڑ کرنے اور ان کی سازشوں کو ناکام بنانے کے لیے جدوجہد کریں۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ غزوئہ تبوک سے واپس آرہے تھے تو اسی حوالے سے آپﷺ نے فرمایا تھا : حدیث((رَجَعْنَا مِنَ الْجِہَادِ الْاَصْغَرِ اِلَی الْجِہَادِ الْاَکْبَرِ))۷ یعنی ہم چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف لوٹ آئے ہیں۔ اُس زمانے کی سپر پاور سلطنتِ روما کے خلاف جہاد کو آپﷺ نے ’’جہادِ اصغر‘‘ فرمایا اور پھر فرمایا کہ اب ’’جہادِ اکبر‘‘ تمہارے سامنے ہے۔ عام طور پر اس حدیث کی توجیہہ اس طرح کی گئی ہے کہ انسان کا اپنے نفس کے خلاف جہاد سب سے بڑا جہاد ہے۔ جیسا کہ ایک دوسری حدیث سے بھی ثابت ہوتا ہے ۔ ایک دفعہ جب آپﷺ سے پوچھا گیا : اَیُّ الْجِہَادِ اَفْضَلُ؟ یعنی سب سے افضل جہاد کون ساہے؟ تو جواب میں آپﷺ نے فرمایا: حدیث((اَنْ تُجَاہِدَ نَفْسَکَ وَھَوَاکَ فِیْ ذَاتِ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ))۸’’یہ کہ تم جہاد کرو اپنے نفس اور اپنی خواہشات کے خلاف اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں‘‘۔لہٰذا اسی حدیث کی بنیاد پر جہاد اکبر والی مذکورہ حدیث کی تشریح اس طرح کی گئی ہے کہ جہاد با لنفس دشمن کے خلاف قتال سے بھی بڑا جہاد ہے۔ لیکن میرے نزدیک اس حدیث کا اصل مفہوم سمجھنے کے لیے اس کے موقع محل اور پس منظر کے حالات کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔ مدینہ کے اندر منافقین دراصل مسلمانوں کے حق میں مارِ آستین تھے۔ آیت زیر مطالعہ میں ان کے خلاف رسول اللہﷺ کو جہاد کا حکم دیا جا رہا ہے ‘ مگر ان کے خلاف جہاد کا معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں تھا۔ ان منافقین کے اوس اور خزرج کے لوگوں کے ساتھ تعلقات تھے اور اُن کے خلاف اقدام کرنے سے اندرونی طور پر کئی طرح کے مسائل جنم لے سکتے تھے۔ مگر ان مشکلات کے باوجود اس آیت کے نزول کے بعد تبوک سے واپس آ کر حضورﷺ نے منافقین کے خلاف کئی سخت اقدامات کیے تھے ۔ مثلاً آپﷺ نے مسجد ضرار کو گرانے اور جلانے کا حکم دیا ‘اور پھر اس پر عمل بھی کرایا۔ یہ بہت بڑا اقدام تھا۔ منافقین مسجد کے تقدس کے نام پر لوگوں کو مشتعل بھی کر سکتے تھے۔ چنانچہ میرے نزدیک یہی وہ ’’جہادِ اکبر‘‘ تھا جس کی طرف مذکورہ حدیث میں اشارہ ملتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کو اپنی صفوں کے اندر چھپے ہوئے دشمنوں کے وار سے بچتے ہوئے ان کے خلاف مسلسل نبرد آزما رہنا تھا جو کہ واقعی ایک بہت بڑا جہاد تھا۔
وَ مَاۡوٰىہُمۡ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۷۳﴾
’’اوران کا ٹھکانہ جہنم ہے ‘اور وہ بہت بری جگہ ہے۔‘‘
(۷) تخریج الکشاف للزیلعی ۲/۳۹۵۔ (غریب جدا)
(۸) حلیۃ الاولیاء لابی نعیم ۲/۲۸۲۔
یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ مَا قَالُوۡا ؕ
’’وہ اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے یہ بات نہیں کی۔‘‘
یہ جس بات کا ذکر ہے اس کی تفصیل اٹھائیسویں پارے کی سورۃ المنافقون میں آئے گی۔ بہر حال یہاں صرف اتنا جان لینا ضروری ہے کہ تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران عبداللہ بن ابی کے منہ سے کسی نوجوان مسلمان نے غلط بات سنی تو اُس نے آ کررسول اللہﷺ سے اس کا ذکرکر دیا۔ آپﷺ نے طلب فرما کر باز پرس کی تو وہ صاف مکر گیا کہ اس نوجوان نے خواہ مخواہ فتنہ اٹھانے کی کوشش کی ہے۔
وَ لَقَدۡ قَالُوۡا کَلِمَۃَ الۡکُفۡرِ
’’حالانکہ انہوں نے کہا ہے کفر کا کلمہ‘‘
عبداللہ بن ابی کے مکر جانے پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس نوجوان کو سچا قرار دیااور اس منافق کے جھوٹ کا پردہ چاک کر دیا۔
وَ کَفَرُوۡا بَعۡدَ اِسۡلَامِہِمۡ وَ ہَمُّوۡا بِمَا لَمۡ یَنَالُوۡا ۚ
’’ اور وہ کفر کر چکے اپنے اسلام کے بعد‘ اور انہوں نے ارادہ کیاتھااُس شے کا جو وہ حاصل نہ کر سکے۔‘‘
یہ جس واقعے کی طرف اشارہ ہے وہ بھی غزوئہ تبوک سے واپسی کے سفر کے دوران پیش آیا تھا۔ پہاڑی راستہ میں ایک موقع پر رسول اللہﷺ کا گزر ایک ایسی تنگ گھاٹی سے ہوا جہاں سے ایک وقت میں صرف ایک اونٹ گزر سکتا تھا۔ اس موقع پر آپﷺ قافلے سے علیحدہ تھے اور آپﷺ کے ساتھ صرف دو صحابہ حضرت حذیفہ ؓبن یمان اور عمارؓ بن یاسر ؓتھے۔ اس تنگ جگہ پر کچھ منافقین نے رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپﷺ پر حملہ کر دیا۔ انہوں نے پہچانے جانے کے ڈر سے ڈھاٹے باندھ رکھے تھے اور وہ چاہتے تھے کہ حضورﷺ کو (نعوذ باللہ) شہید کر دیں۔ بہر حال آپﷺ کے جاں نثار صحابہؓ نے حملہ آوروں کو مار بھگایا اور وہ اپنے ناپاک منصوبے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ان دو صحابہ( رضی اللہ عنہما) کو حملہ آوروں میں سے ہر ایک کے نام بتادیے اور ان کے علاوہ بھی تمام منافقین کے نام بتا دیے ۔ مگر ساتھ ہی آپﷺ نے ان دونوں حضرات کو تاکید فرما دی کہ وہ یہ نام کسی کو نہ بتائیں اور آپﷺ کے اس راز کو اپنے پاس ہی محفوظ رکھیں۔ اسی وجہ سے حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ صحابہؓ میں ’’صاحبُ سِرِّ النَّبِیﷺ‘‘ (نبی ﷺکے رازدان) کے لقب سے مشہور ہو گئے تھے۔
وَ مَا نَقَمُوۡۤا اِلَّاۤ اَنۡ اَغۡنٰہُمُ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ مِنۡ فَضۡلِہٖ ۚ
’’اور یہ لوگ اپنے عناد کا مظاہرہ نہیں کررہے مگر اسی لیے کہ اللہ اور اُس کے رسول نے انہیں غنی کر دیاہے اپنے فضل سے۔‘‘
یعنی اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کے رسولﷺ کی مہربانی سے یہ لوگ مالِ غنیمت اور زکوٰۃ و صدقات میں سے با فراغت حصہ پا رہے ہیں۔
فَاِنۡ یَّتُوۡبُوۡا یَکُ خَیۡرًا لَّہُمۡ ۚ
’’اب بھی اگر یہ توبہ کر لیں تو ان کے لیے بہتر ہے۔‘‘
وَ اِنۡ یَّتَوَلَّوۡا یُعَذِّبۡہُمُ اللّٰہُ عَذَابًا اَلِیۡمًا ۙ فِی الدُّنۡیَا وَ الۡاٰخِرَۃِ ۚ
’’اور اگر وہ پیٹھ موڑیں گے تو اللہ انہیں بہت درد ناک عذاب دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔‘‘
وَ مَا لَہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ ﴿۷۴﴾
’’اور پوری زمین میں ان کا نہ کوئی دوست ہو گا اور نہ کوئی مددگار۔‘‘
اب وہ تین آیات آ رہی ہیں جن کا حوالہ میری تقاریر میں اکثر آتا رہتا ہے۔ ان میں مدینہ کے منافقین کی ایک خاص قسم کا تذکرہ ہے ‘مگر مسلمانانِ پاکستان کے لیے ان آیات کا مطالعہ بطورِ خاص مقامِ عبرت بھی ہے اور لمحۂ فکریہ بھی۔