’’اے ایمان کے دعوے دارو !تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ جب تم سے کہا جاتا ہے کہ نکلو اللہ کی راہ میں تو تم دھنسے جاتے ہو زمین کی طرف!‘‘
اگرچہ یہ وضاحت سورۃ النسا ء میں بھی ہو چکی ہے مگر اس نکتے کو یہاں دوبارہ ذہن میں تازہ کرنے کی ضرورت ہے کہ قرآن حکیم میں منافقین سے خطاب بھی ’’یٰٓــاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا‘‘ کے صیغے میں ہی ہوتا ہے‘کیونکہ ایمان کا دعویٰ تووہ بھی کرتے تھے ‘جبکہ قانونی اور ظاہری طور پر بھی وہ مسلمان ہی تھے۔
’’(سوچو!) کیا تم نے آخرت کی بجائے دُنیا کی زندگی کو قبول کر لیا ہے؟‘‘
یہ ایک متجسسانہ سوال (searching question) ہے۔ یعنی تم دعویدار تو ہو ایمان بالآخرت کے‘ لیکن اس کے باوجود اگر تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلنے کو تیار نہیں ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم آخرت ہاتھ سے دے کر دنیا کے خریدار بننے جا رہے ہو۔
’’اگر تم نہیں نکلو گے (اللہ کی راہ میں ) تو وہ تمہیں عذاب دے گا دردناک عذاب اور تمہیں ہٹا کر کسی اور قوم کو لے آئے گا ‘اور تم اُس کا کچھ بھی نقصان نہیں کر سکو گے۔‘‘
اگر تم لوگ اللہ کے دین کا جھنڈا نہیں اٹھائو گے تو وہ تمہیں ہٹا کر اس مقصد کے لیے کسی اور قوم کو آگے لے آئے گا۔
وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ قَدِیۡرٌ ﴿۳۹﴾
’’اوراللہ ہر چیز پر قادر ہے۔‘‘
آیت 40
اِلَّا تَنۡصُرُوۡہُ فَقَدۡ نَصَرَہُ اللّٰہُ
’’اگر تم ان (رسول اللہﷺ)کی مدد نہیں کرو گے تو (کچھ پروا نہیں)اللہ نے تو اُس وقت انؐ کی مدد کی تھی‘‘
’’جبکہ وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہے تھے کہ غم نہ کرو‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے ۔‘‘
جب حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے تلاش میں آنے والے مشرکین کو دیکھ کر کہا تھا کہ حضورؐ یہ لوگ تو غار کے دہانے تک پہنچ گئے ہیں ‘ اگر کسی نے ذرا بھی نیچے جھانک کر دیکھ لیا تو ہم نظر آ جائیں گے‘ تو حضورﷺ نے فرمایاتھا کہ آپ فکر مت کریں‘ اللہ ہمارے ساتھ ہے!
’’اور اللہ ہی کا کلمہ سب سے اونچا ہے‘ اور اللہ زبردست ہے ‘حکمت والا ہے۔‘‘
آیت 41
اِنۡفِرُوۡا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا
’’نکلو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل‘‘
ہلکے اور بوجھل کے الفاظ یہاں لوگوں کی ظاہری اور باطنی کیفیت کے حوالے سے آئے ہیں۔ چنانچہ اس جملے کا ایک مفہوم تو یوں ہوگا کہ تم بوجھل دل کے ساتھ نکلو یا آمادگی کے ساتھ‘اب نکلنا تو پڑے گا‘ کیونکہ جہاد کا معاملہ اب محض تحریض و ترغیب تک نہیں رہا‘ بلکہ اب تو اس کے لیے نفیر عام کی نوبت آ گئی ہے اور اللہ کے رستے میں نکلنا اب فرضِ عین ہو چکا ہے۔ اس کا دوسرا مفہوم یوں ہوگا کہ چاہے تمہارے پاس سازو سامان اور اسلحہ وغیرہ کافی ہے تب بھی نکلو اور اگر سازو سامان کم ہے تب بھی نکلو۔
’’اگر مالِ غنیمت قریب ہوتااور سفر بھی چھوٹا ہوتا تو (اے نبیﷺ) یہ آپ کی پیروی کرتے‘لیکن ان کو تو بڑی بھاری پڑ رہی ہے دُور کی مسافت۔‘‘
اگر ان منافقین کو توقع ہوتی کہ مالِ غنیمت آسانی سے مل جائے گا اور ہدف بھی کہیں قریب ہوتا تو یہ لوگ ضرور آپؐ کا ساتھ دیتے‘مگر اب تو صورتِ حال یہ ہے کہ تبوک کی مسافت کا سن کر ان کے دل بیٹھے جا رہے ہیں۔
رسول اللہﷺ کی عادتِ مبارکہ تھی کہ آپؐ کسی بھی مہم کے ہدف وغیرہ کو ہمیشہ صیغہ راز میں رکھتے تھے۔ جنگ یا مہم کے لیے نکلنا ہوتا تو تیاری کا حکم دے دیا جاتا ‘مگر یہ نہ بتایا جاتا کہ کہاں جانا ہے اور منصوبہ کیا ہے ۔ اسی طرح فتح مکہ کے منصوبہ کو بھی آخر وقت تک خفیہ رکھا گیا تھا۔ مگر غزوۂ تبوک کی تیاری کے حکم کے ساتھ ہی آپؐ نے تمام تفصیلات بھی علی الاعلان سب کو بتا دی تھیں کہ لشکر کی منزلِ مقصود تبوک ہے اور مقابلہ سلطنتِ روما سے ہے‘ تاکہ ہر شخص ہر لحاظ سے اپنا جائزہ لے لے اور ظاہری و باطنی دونوں اعتبار سے تیاری کر لے۔ سازو سامان بھی مہیا کرلے اور اپنے حوصلے کی بھی جانچ پرکھ کر لے۔
’’(اے نبیﷺ!) اللہ آپ کومعاف فرمائے (یا اللہ نے آپ کو معاف فرمادیا) آپ نے انہیں کیوں اجازت دے دی؟‘‘
یعنی آپﷺ کے پاس کوئی منافق آیا اور اپنی کسی مجبوری کا بہانہ بنا کر جہاد سے رخصت چاہی توآپﷺ نے اپنی نرم مزاجی کی وجہ سے اُسے اجازت دے دی۔ اب اس شخص کو تو گویا سند مل گئی کہ میں نے حضورﷺ سے رخصت لے لی ہے۔ جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ تو اُس کا تھا ہی نہیں ‘مگر اجازت مل جانے سے اُس کی منافقت کا پردہ چاک نہیں ہوا۔ اجازت نہ ملتی تو واضح طور پرمعلوم ہو جاتا کہ اُس کا حضورﷺ کے ساتھ جانے کا ارادہ تھا بھی یا نہیں۔ اس طرح کئی منافقین آئے اور اپنی مجبوریوں کا بہانہ بنا کر آپﷺ سے رخصت لے گئے۔
’’وہ لوگ جو اللہ پر اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ آپؐ سے اجازت کے طالب ہو ہی نہیں سکتے کہ وہ جہاد نہ کریں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ۔‘‘
سچے مؤمن ایسی صورتِ حال میں ایسا کبھی نہیں کر سکتے کہ وہ جہاد سے معافی کے لیے درخواست کریں‘ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ جہاد فی سبیل اللہ ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ واضح رہے کہ سورۃ الحجرات کی آیت ۱۵ میں ایمان کی جوتعریف (definition) کی گئی ہے اس میں تصدیق قلبی اور جہاد فی سبیل اللہ کو واضح طور پر ایمان کے ارکان قرار دیا گیا ہے۔ یہ مضمون قبل ازیں سورۃ الانفال کی آیت ۲ اور آیت ۷۴ کے مطالعہ کے دوران بھی زیر بحث آ چکا ہے۔ اس میں جہاد فی سبیل اللہ کو واضح طور پر ایمان کی لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔
’’آپؐ سے رخصت تو وہی مانگ رہے ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ‘اور ان کے دل شکوک میں پڑ گئے ہیں‘‘
یہاں سورۃ الحجرات کی آیت ۱۵ کے الفاظ ’’ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا‘‘ ذہن میں دوبارہ تازہ کر لیجئے کہ مؤمن تو وہی ہیں جو ایمان لانے کے بعد شک میں نہ پڑیں۔ جبکہ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ ’’وَارْتَابَتْ قُلُوْبُہُمْ‘‘ سے واضح ہوتا ہے کہ ان منافقین کے دلوں کے اندر شکوک و شبہات مستقل طور پر ڈیرے ڈال چکے ہیں۔
فَہُمۡ فِیۡ رَیۡبِہِمۡ یَتَرَدَّدُوۡنَ ﴿۴۵﴾
’’اور وہ اپنے اسی شک و شبہ کے اندر متردد ہیں۔‘‘
اپنے ایمان کے اندر پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کی وجہ سے وہ تذبذب میں پڑے ہوئے ہیں اورجہاد کے لیے نکلنے کے بارے میں فیصلہ نہیں کر پا رہے۔ کبھی اُن کو مسلمانوں کے ساتھ چلنے میں مصلحت نظر آتی ہے کہ نہ جانے سے ایمان کا ظاہری بھرم بھی جاتا رہے گا‘ مگر پھر فوراً ہی مسافت کی مشقت کے تصور سے دل بیٹھ جاتاہے‘ دُنیوی مفادات کا تصور پاؤں کی بیڑی بن جاتا ہے اور وہ پھر سے جھوٹے بہانے بنانے شروع کر دیتے ہیں۔
’’اور اگر انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا ہوتا تو اس کے لیے سازو سامان فراہم کرتے‘‘
ایسے طویل اور کٹھن سفر کے لیے بھر پور تیاری کی ضرورت تھی‘ بہت سا سازوسامان درکار تھا‘ سواری کا بندوبست کرنا تھا‘ مگر اس کی تیاری کے لیے ان کا کچھ بھی نہ کرنا اور ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہنا خود ہی ثابت کرتا ہے کہ انہوں نے جانے کا ارادہ تک نہیں کیاتھا۔
’’لیکن (حقیقت یہ ہے کہ ) اللہ نے پسند ہی نہیں کیا اُن کا اٹھنا(اور نکلنا)تو ان کو روک دیااور کہہ دیا گیا کہ بیٹھے رہو تم بھی بیٹھے رہنے والوں کے ساتھ۔‘‘
اس فرمان میں جو حکمت تھی اس کی تفصیل اگلی آیت میں بیان فرمائی گئی ہے :
’’اگر یہ نکلتے (اے مسلمانو!) تمہارے ساتھ تو ہر گز اضافہ نہ کرتے تمہارے لیے مگر خرابی ہی کا‘‘ اُن کے دلوں میں چونکہ روگ تھا ‘اس لیے لشکر کے ساتھ جا کر بھی یہ لوگ فتنے ہی اٹھاتے‘طرح طرح کی سازشیں کرتے اور مسلمانوں کو باہم لڑانے کی کوشش کرتے۔ لہٰذا ان کے بیٹھے رہنے اور سفر میں آپ لوگوں کے ساتھ نہ جا نے میں ہی بہتری تھی۔ گویا بندۂ مؤمن کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر طرح خیر ہی خیر ہے‘ جبکہ منافق کے لیے ہر حالت میں نقصان ہی نقصان ہے۔
’’اور تمہارے اندر ان کے جاسوس بھی ہیں۔اور اللہ ظالموں سے خوب واقف ہے۔‘‘
اس کا دوسرا ترجمہ یہ ہے کہ ’’ تمہارے درمیان ان کی باتیں سننے والے بھی ہیں‘‘۔ یعنی تمہارے درمیان ایسے نیک دل اور سادہ لوح مسلمان بھی ہیں جو ان منافقین کے بارے میں حسنِ ظن رکھتے ہیں۔ ایسے مسلمانوں کے اِن منافقین کے ساتھ دوستانہ مراسم بھی ہیں اور وہ ان کی باتوں کو بڑی توجہ سے سنتے ہیں۔ چنانچہ اگر یہ منافقین تمہارے ساتھ لشکر میں موجود ہوتے اور کوئی فتنہ اٹھاتے تو عین ممکن تھا کہ تمہارے وہ ساتھی اپنی سادہ لوحی کے باعث اُن کے اٹھائے ہوئے فتنے کا شکار ہو جاتے۔
آیت 48
لَقَدِ ابۡتَغَوُا الۡفِتۡنَۃَ مِنۡ قَبۡلُ
’’یہ پہلے بھی فتنہ اٹھاتے رہے ہیں‘‘
یاد رہے کہ یہی لفظ ’’فتنہ‘‘ اس حدیث میں بھی آیا ہے جس کا ذکر علماءِ سو ء کے کردار کے سلسلے میں قبل ازیں آیت ۳۴ کے ضمن میں ہو چکا ہے : حدیث((عُلَمَائُ ھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَائِ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَہُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ)) یعنی ان کے علماء آسمان کے نیچے بدترین لوگ ہوں گے ‘ فتنہ ان ہی میں سے برآمد ہوگا اور ان ہی میں پلٹ جائے گا‘‘۔ یعنی وہ آپس میں لڑائی جھگڑوں ‘فتویٰ پردازیوں اور تفرقہ بازیوں میں مشغول رہا کریں گے۔ تو اے نبی (ﷺ) ان منافقین نے آپؐ کے خلاف سازشیں کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔
وَ قَلَّبُوۡا لَکَ الۡاُمُوۡرَ
’’اور (اے نبیﷺ!) یہ لوگ آپ کے لیے معاملات کو الٹ پلٹ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں‘‘
یہ لوگ اپنی امکانی حدتک کوشش کرتے رہے ہیں کہ آپﷺ کے معاملات کو تلپٹ کر دیں۔
’’اور ان میں سے وہ بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے رخصت دے دیجیے اور مجھے فتنے میں نہ ڈالیے۔‘‘
یہ منافق اور مردود شخص جُد بن قیس تھا(لعنۃ اللہ علیہ) ۔ جب رسول اللہ ﷺ نے غزوۂ تبوک کے لیے تیاری کا اعلان فرمایا تو یہ شخص آپﷺ کے پاس حاضر ہوا اور عجیب استہزائیہ انداز میں آپﷺ سے رخصت چاہی کہ حضور مجھے تو رہنے ہی دیں‘کیونکہ میں حسن پرست قسم کا انسان ہوں اور لشکر جا رہا ہے شام کے علاقے کی طرف ‘جہاں کی عورتیں بہت حسین ہوتی ہیں۔ میں وہاں کی خوبصورت عورتو ں کو دیکھ کر خود پر قابو نہیں رکھ سکوں گا اور فتنہ میں مبتلا ہو جائوں گا‘لہٰذا آپ مجھے اس فتنے میں مت ڈالیں اور مجھے پیچھے ہی رہنے دیں۔
اَلَا فِی الۡفِتۡنَۃِ سَقَطُوۡا ؕ
’’آگاہ ہو جاؤ فتنے میں تو یہ لوگ پڑ چکے۔‘‘
یعنی یہ شخص اور اس کے دوسرے ساتھی تو پہلے ہی بد ترین فتنے کا شکار ہو چکے ہیں جو اس طرح کے بہانے تراشنے کی جسارت کررہے ہیں۔ ان کا یہ رویہ جس سوچ کی غمازی کر رہا ہے اس سے مزید بڑا فتنہ اور کون سا ہو گا!
’’ اور اگر آپؐ کو کوئی تکلیف آ جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے تو اپنا معاملہ پہلے ہی درست کر لیا تھا‘‘
کہ ہم کوئی ان لوگوں کی طرح بے وقوف تھوڑے ہیں‘ ہم نے تو حالات پر نظر رکھی ہوئی تھی اور ممکنہ خطرے سے پہلے ہی ان برے حالات سے اپنی حفاظت کا بندوبست ہم نے قبل از وقت ہی کر لیا تھا۔
وَ یَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ فَرِحُوۡنَ ﴿۵۰﴾
’’اور وہ لوٹ جاتے ہیں خوشیاں مناتے ہوئے ۔‘‘
وہ اس صورتِ حال میں بڑے شاداں و فرحاں پھرتے ہیں کہ مسلمانوں پر مصیبت آگئی اور ہم بچ گئے ۔
اگلی دو آیات معرکہ حق و باطل کی صورت میں ایک بندۂ مؤمن کے لیے بہت بڑا ہتھیار ہیں۔ اس لیے ہر مسلمان کو یہ دونوں آیات زبانی یاد کر لینی چاہئیں۔
’’آپؐ کہہ دیجیے کہ ہم پر کوئی مصیبت نہیں آ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا مولا ہے۔‘‘
ہم تو اللہ کے بندے ہیں ۔ہم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اللہ ہی کی مرضی اور اجازت سے آتی ہے۔ اُس کے اذن کے بغیر کائنات میں ایک پتابھی نہیں ہل سکتا۔ وہ ہمارا کارساز اور پروردگار ہے۔ اگر اس کی مشیت ہو کہ ہمیں کوئی تکلیف آئے تو سر آنکھوں پر ؏
’’سر تسلیم خم ہے جو مزاجِ یار میں آئے‘‘
۔جو اُس کی رضا ہو ہم بھی اسی پر راضی ہیں۔ اگر اُس کی طرف سے کوئی تکلیف آ جائے تو اس میں بھی ہمارے لیے خیر ہی ہے ؏
’’ ہرچہ ساقیٔ ما ریخت عین الطاف است‘‘
(ہمارا ساقی ہمارے پیالے میں جو بھی ڈال دے اُس کا لطف وکرم ہی ہے)۔ محبوب کی شمشیر سے تو ذبح ہونا بھی بہت بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ اعزاز کسی غیر کے نصیب میں کیوں ہو ‘جبکہ ہماری گردنیں ہر وقت اس سعادت کے لیے حاضر ہیں: ؎
’’(ان سے) کہیے کہ تم ہمارے بارے میں کس شے کا انتظار کر سکتے ہو سوائے دو نہایت عمدہ چیزوں میں سے کسی ایک کے!‘‘
الْحُسْنَـیَیْنِ ‘ الحُسْنٰی کی تثنیہ ہے ‘جو اَحْسَن کی مؤنث ہے۔ یہ افعل التفضیل کا صیغہ ہے ۔ چنانچہ الْحُسْنَـیَیْنِ کے معنی ہیں دو نہایت احسن صورتیں۔ جب کوئی بندۂ مؤمن اللہ کے راستے میں کسی مہم پر نکلتا ہے تو اس کے لیے دونوں امکانی صورتیں ہی احسن ہیں‘اللہ کی راہ میں شہیدہو جائیں تو وہ بھی احسن : ؎
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن
نہ مالِ غنیمت‘ نہ کشور کشائی!
(اقبالؔ)
اور اگر فتح یاب ہو کر لوٹیں تو بھی احسن۔ دونوں صورتوں میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ تیسری کوئی صورت تو ہے ہی نہیں۔ لہٰذا ایک بندۂ مؤمن کو خوف کاہے کا؟ ؎
’’اور (اے منافقو!) ہم منتظر ہیں تمہارے بارے میں کہ اللہ تمہیں پہنچائے کوئی عذاب اپنے پاس سے یا ہمارے ہاتھوں‘‘
ہمیں بھی تمہارے بارے میں انتظار ہے کہ تمہارے کرتوتوں کے سبب اللہ تعالیٰ تم پر خود کوئی عذاب نازل کر دے یا عین ممکن ہے کہ کبھی ہمیں اجازت دے دی جائے اور ہم تمہاری گردنیں اڑائیں۔
’’کہہ دیجئے کہ چاہے خوشی سے خرچ کرو یا مجبوری سے‘تم سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ تم نافرمان لوگ ہو۔‘‘
یہ منافقین کے اس حربے کا ذکرہے کہ کچھ مال اسباب چندے کے طور پر لے آئے اور بہانہ بنایا کہ مجھے فلاں فلاں مجبوری ہے ‘میں خود تو جانے سے معذور ہوں ‘مجھے رخصت دے دیں اور یہ سازو سامان قبول کر لیں۔ ایسی صورتِ حال کے جواب میں فرمایا جا رہا ہے کہ اب جبکہ جہاد کے لیے بنفسِ نفیس نکلنا فرضِ عین ہے‘ تو اس صورتِ حال میں روپیہ پیسہ اور سازو سامان اس کا بدل نہیں ہو سکتا۔
’’تو (اے نبیﷺ!) آپ کو ان کے اموال اور ان کی اولاد سے تعجب نہ ہو۔‘‘
ان کو دیکھ کر آپ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ مال و دولت اور اولاد کی کثرت ان کے لیے اللہ کی بڑی نعمتیں ہیں۔ ایسا ہر گز نہیں ہے ‘بلکہ ایسے لوگوں کو تو اللہ تعالیٰ ایسی نعمتیں اس لیے دیتا ہے کہ ان کا حساب اسی دنیا میں بے باق ہو جائے اور آخرت میں ان کے لیے کچھ نہ بچے۔ اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ بعض اوقات دنیا کی انہی نعمتوں کو اللہ تعالیٰ انسان کے لیے باعث عذاب بنا دیتا ہے۔
’’اللہ تو چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعے سے انہیں دُنیوی زندگی میں عذاب دے‘‘
اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے حالات بھی پیدا ہو سکتے ہیں کہ یہی اولاد جس کو انسان بڑے لاڈ پیار اور ارمانوں سے پال پوس کر بڑا کرتا ہے اس کے لیے سوہانِ روح بن جائے اور یہی مال و دولت جسے وہ جان جوکھوں میں ڈال کر جمع کرتا ہے اس کی جان کا وبال ثابت ہو۔
وَ تَزۡہَقَ اَنۡفُسُہُمۡ وَ ہُمۡ کٰفِرُوۡنَ ﴿۵۵﴾
’’اور ان کی جانیں نکلیں اسی کفر کی حالت میں۔‘‘
اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اپنی دولت ہی سے لپٹے رہیں اور اپنی اولادکی محبت میں اس قدر مگن رہیں کہ جیتے جی انہیں آنکھ کھول کر حق کو دیکھنے اور پہچاننے کی فرصت ہی نصیب نہ ہو ‘اور اسی حالت میں یہ لوگ آخری عذاب کے مستحق بن جائیں۔
آیت 56
وَ یَحۡلِفُوۡنَ بِاللّٰہِ اِنَّہُمۡ لَمِنۡکُمۡ ؕ
’’اور وہ اللہ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم بھی آپ لوگوں کے ساتھ ہیں۔‘‘
کہ ہم بھی مسلمان ہیں‘آپ لوگوں کے ساتھی ہیں‘ہماری بات کا اعتبار کیجیے ‘وغیرہ‘وغیرہ۔
’’اگر یہ پالیں کہیں کوئی پناہ گاہ یا کوئی غار یا کوئی سر چھپانے کی جگہ‘تو یہ اس کی طرف بھاگ جائیں اپنی رسیاں تڑاتے ہوئے۔‘‘
جیسے کوئی جانور خوف کے مارے اپنی رسی تڑا کربھاگتا ہے ‘اسی طرح کی کیفیت ان پر بھی طاری ہے ۔ اس اضطراری کیفیت میں اگر جزیرہ نمائے عرب میں انہیں کہیں بھی کوئی پناہ گاہ مل جاتی یا کسی بھی طرح کا کوئی ٹھکانہ جان بچانے کے لیے نظر آ جاتا تو وہ خوف کے مارے یہاں سے بھاگ گئے ہوتے۔
’’اور (اے نبیﷺ!) ان میں سے وہ بھی ہیں جو آپ پر الزام لگاتے ہیں صدقات کے بارے میں۔‘‘
زکوٰۃ و صدقات کا مال رسول اللہﷺ خود تقسیم فرماتے تھے۔ ایک دفعہ یوں ہوا کہ مال کی تقسیم کے دوران ایک منافق نے آپﷺ کو ٹوک دیا: یَا مُحَمَّدُ اعْدِل ’’اے محمدؐ انصاف (کے ساتھ تقسیم) کیجیے! ‘‘اس کی مراد یہ تھی کہ آپ ناانصافی کر رہے ہیں۔ اس پر حضورﷺ کو غصہ آیا اور آپﷺ نے فرمایا: حدیث((وَیْلَکَ وَمَنْ یَعْدِلُ اِذَا لَمْ اَکُنْ اَعْدِلُ… ))۵ ’’ تم برباد ہو جاؤ‘ اگر میں عدل نہیں کروں گا تو اورکون کرے گا؟‘‘
’’تواگر اس میں سے انہیں (خاطر خواہ) دے دیا جائے تو یہ راضی رہتے ہیں اور اگر اس میں سے انہیں (اس قدر) نہ دیا جائے توفوراً ناراض ہو جاتے ہیں۔‘‘
(۵)صحیح البخاری‘ کتاب الادب‘ باب ما جاء فی قول الرجل ویلک۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الزکاۃ‘ باب ذکر الخوارج وصفاتھم۔ واللفظ للمسلم۔ راوی : جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ۔
’’ اور اگر وہ راضی رہتے اس پر جو کچھ دیا انہیں اللہ نے اور اس کے رسولؐ نے ‘اور وہ کہتے کہ اللہ ہمارے لیے کافی ہے‘عنقریب اللہ اور اس کے رسولؐ ہمیں (پھر بھی) اپنے فضل سے نوازتے رہیں گے‘یقینا ہم اللہ کی طرف رغبت کرنے والے ہیں(تو ان کے حق میں بہتر ہوتا)!‘‘
اگر ان لوگوں کی سوچ مثبت ہوتی اور وہ اللہ اور اس کے رسولﷺکے بارے میں اچھا گمان رکھتے تو ان کے لیے بہترہوتا۔ اب وہ مشہور آیت آ رہی ہے جس میں زکوٰۃ کے مصارف بیان ہوئے ہیں۔
’’ صدقات تو بس مفلسوں اور محتاجوں اور عاملینِ صدقات کے لیے ہیں‘‘
صدقات سے مراد یہاں زکوٰۃ ہے ۔ وَالْعٰمِلِیْنَ عَلَیْہَا میں محکمہ زکوٰۃ کے چھوٹے بڑے تمام ملازمین شامل ہیں جو زکوٰۃ اکٹھی کرنے ‘اس کا حساب رکھنے اور اسے مستحقین میں تقسیم کرنے یا اس محکمہ میں کسی بھی حیثیت میں مامور ہیں ‘ان سب ملازمین کی تنخواہیں اسی زکوٰۃ میں سے دی جائیں گی۔
وَ الۡمُؤَلَّفَۃِ قُلُوۡبُہُمۡ
’’اور ان کے لیے جن کی تالیفِ قلوب مطلوب ہو‘‘ جب دین کی تحریک اور دعوت چل رہی ہو تو معاشرے کے بعض صاحبِ حیثیت افراد کی تالیفِ قلوب کے لیے زکوٰۃ کی رقم استعمال کی جا سکتی ہے ‘تا کہ ایسے لوگوں کو کچھ دے دلا کر اُن کی مخالفت کا زور کم کیا جا سکے۔ فقہا ء کے نزدیک دین کے غالب ہو جانے کی صورت میں اس مد کی ضرورت نہیں رہتی ‘لیکن جب اس قسم کی صورتحال درپیش ہو تواس مد میں زکوٰۃ کی رقم خرچ کی جا سکتی ہے۔
وَ فِی الرِّقَابِ وَ الۡغٰرِمِیۡنَ
’’ اور گردنوں کے چھڑانے میں‘اور جن پر تاوان پڑا ہو(ان کے لیے )‘‘
ایسا مقروض جو قرض کے بوجھ سے نکلنے کی مقدرت نہ رکھتا ہو یا ایسا شخص جس پر کوئی تاوان پڑ گیا ہو‘ ایسے لوگوں کی گلو خلاصی کے لیے زکوٰۃ کی رقم سے مدد کی جا سکتی ہے۔
وَ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ
’’ اور اللہ کی راہ میں‘‘
یعنی جہاد اور دعوت و اقامت دین کی جدوجہد میں بھی یہ رقم خرچ ہو سکتی ہے۔ لیکن زکوٰۃ اور صدقات کے سلسلے میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ پہلی ترجیح کے طور پر اولین مستحقین وہ غرباء‘ یتامیٰ‘ مساکین اور بیوائیں ہیں جو واقعی محتاج ہوں۔ البتہ اگر زکوٰۃ کی کچھ رقم ایسے لوگوں کی مدد کے بعد بچ جائے تو وہ دین کے دوسرے کاموں میں صرف کی جا سکتی ہے۔