تحریر

التوبة

آیات ۲۵ تا ۳۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

25-27

فیصلہ کن شے اسباب نہیں اللہ کی مدد ہے

ویڈیو

لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾ ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾ ثُمَّ یَتُوۡبُ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۷﴾

آیت 25

لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ

’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہاری مدد کی ہے بہت سے مواقع پر اور (خاص طور پر) حنین کے دن‘‘

جیسا کہ قبل ازیں بیان ہو چکا ہے ‘پہلے ‘چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ ۹ ہجری میں نازل ہوا تھا‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال ۸ ہجری میں وقوع پذیر ہو چکا تھا۔

اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ

’’جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہو گیا تھا‘‘

ظاہر ہے لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت کا زعم نہیں تھا۔ معاملہ دراصل یوں تھا کہ غزوئہ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضورﷺ کے ہمراہ تھے‘ جبکہ دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثر یت اُن نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہو جانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اَب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خاد مین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہوگئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفارکی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ ’’آج مسلمانوں پر کون غالب آ سکتا ہے!‘‘ دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کر لی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کالشکر جونہی وادیٔ حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر پہلے سے موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ لشکر نشیب میں تھا ‘تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔ جب ہراوّل دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایا ت میں آتا ہے کہ اُس وقت رسول اللہﷺ کے ساتھ صرف ۳۰ یا ۴۰ آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی ؒنے ’’سیرت النبیﷺ ‘‘میں یہی لکھا ہے کہ ۳۰ ‘۴۰ آدمی رہ گئے تھے‘ لیکن سید سلیمان ندویؒ نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین سو یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورتِ حال میں حضورﷺ اپنی سواری سے نیچے اترآئے ‘آپﷺ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لے لیااور بآوازِ بلند رجز پڑھا: اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِب کہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں! (یعنی میں یقینا نبی ہوں ‘چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی) ۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں‘یعنی میں عبدالمطلب کا پوتا میدانِ جنگ میں بنفسِ نفیس موجود ہوں۔ پھر آپﷺ نے لوگوں کو پکارا : اِلَیَّ یَاعِبَادَ اللّٰہِ! ’’اللہ کے بندو‘ میری طرف آؤ!‘‘ اس کے بعد آپﷺ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو‘ جن کی آواز کافی بلند تھی‘ حکم دیا کہ وہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ حضرت عباسؓ نے بلند آواز سے پکارا: اصحابِ بدر کہاں ہو؟ اصحابِ شجرہ (بیعتِ رضوان والو) کہاں ہو؟ اس پر لوگ رسول اللہﷺ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے لشکر پھر سے اکٹھا ہوگیا ۔ اس کے بعد مسلمانوں نے ایک بھرپور حملہ کیا۔ مخالف لشکر نے سخت مقابلہ کیا لیکن بالآخر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔

فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾

’’تو وہ (کثرت) تمہارے کچھ کام نہ آ سکی اور زمین پوری فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی‘پھر تم پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘

آیت 26

ثُمَّ اَنۡزَلَ اللّٰہُ سَکِیۡنَتَہٗ عَلٰی رَسُوۡلِہٖ وَ عَلَی الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ اَنۡزَلَ جُنُوۡدًا لَّمۡ تَرَوۡہَا

’’پھر اللہ نے نازل فرمائی اپنی (طرف سے) تسکین اپنے رسولؐ اور اہلِ ایمان پر اور (اُس وقت بھی ) ایسے لشکر اُتارے جنہیں تم نے نہیں دیکھا‘‘

وَ عَذَّبَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا ؕ وَ ذٰلِکَ جَزَآءُ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۲۶﴾

’’ اور عذاب دیا کافروں کو۔اور یقینا کافروں کا بدلہ یہی ہے۔‘‘

آیت 27

ثُمَّ یَتُوۡبُ اللّٰہُ مِنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِکَ عَلٰی مَنۡ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۲۷﴾

’’پھر اس کے بعد (بھی )اللہ توبہ نصیب فرمائے گا اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے گا۔ اور اللہ بخشنے والا‘رحم کرنے والاہے۔‘‘

28

مشرکین کے مسجدِ حرام میں داخلہ پر پابندی

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا ۚ وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَیۡلَۃً فَسَوۡفَ یُغۡنِیۡکُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۸﴾

آیت 28

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّمَا الۡمُشۡرِکُوۡنَ نَجَسٌ فَلَا یَقۡرَبُوا الۡمَسۡجِدَ الۡحَرَامَ بَعۡدَ عَامِہِمۡ ہٰذَا ۚ

’’اے اہلِ ایمان! یہ مشرکین یقینا ناپاک ہیں ‘لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔‘‘

یعنی اس سال (۹ ہجری) کے حج میں تو مشرکین بھی شامل ہیں ‘مگر آئندہ کبھی کوئی مشرک حج کے لیے نہیں آسکے گا اور نہ کسی مشرک کو بیت اللہ یا مسجدِ حرام کے قریب آنے کی اجازت ہوگی۔

وَ اِنۡ خِفۡتُمۡ عَیۡلَۃً

’’اور اگر تمہیں اندیشہ ہو فقر کا‘‘

فَسَوۡفَ یُغۡنِیۡکُمُ اللّٰہُ مِنۡ فَضۡلِہٖۤ اِنۡ شَآءَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۸﴾

’’تو عنقریب اللہ تمہیں غنی کردے گا اپنے فضل سے اگر وہ چاہے گا۔یقینا اللہ سب کچھ سننے والا‘حکمت والا ہے۔‘‘

اگر کسی کے ذہن میں یہ خیال آئے کہ اس حکم کے بعد حاجیوں کی تعداد کم ہو جائے گی اور ان کے نذرانوں اور قربانیوں سے ہونے والی آمدنی میں بھی کمی آ جائے گی‘ تو اُسے اللہ کی ذات پر پورا پورا بھروسہ رکھنا چاہیے۔ عنقریب اس قدر دُنیوی دولت تم لوگوں کو ملے گی کہ تم سنبھال نہیں سکو گے۔ چنانچہ رسول اللہﷺکے وصال کے بعد چند سالوں کے اندر اندر حالات یکسر تبدیل ہو گئے ۔ سلطنتِ فارس اور سلطنتِ روما کی فتوحات کے بعد مالِ غنیمت کا گویا سیلاب اُمڈ آیا۔ اور بعینہٖ وہی صورت حال پیش آ گئی جس کی نشاندہی حضورﷺ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں فرمائی تھی۔ آپؐ نے فرمایا تھا:

حدیث((فَـوَاللّٰہِ لَا الْفَقْرُ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ‘ وَلٰـکِنْ اَخْشٰی عَلَیْکُمْ اَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلٰی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ‘ فَتَنَافَسُوْھَا کَمَا تَنَافَسُوْھَا‘ وَتُھْلِکَکُمْ کَمَا اَھْلَکَتْھُمْ)) ۱

’’پس اللہ کی قسم (اے مسلمانو!) مجھے تم پر فقر و احتیاج کا کوئی اندیشہ نہیں ہے‘ بلکہ مجھے تم پر اس بات کا اندیشہ ہے کہ تم پر دنیا کشادہ کر دی جائے گی (تمہارے قدموں میںمال و دولت کے انبار لگ جائیں گے) جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پرکشادہ کی گئی‘ پھر تم اس کے لیے ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو گے جیسے کہ وہ لوگ کرتے رہے‘ پھر یہ تمہیں تباہ و برباد کر کے رکھ دے گی جیسے کہ اس نے ان لوگوں کو تباہ و برباد کر دیا۔‘‘

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الجزیۃ وکتاب المغازی وکتاب الرقاق‘ باب ما یحذر من زھرۃ الدنیا والتنافس فیھا۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الزھد والرقائق۔

29

اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کی حیثیت

ویڈیو

قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ لَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿٪۲۹﴾

آیت 29

قَاتِلُوا الَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ لَا بِالۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوۡنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَ رَسُوۡلُہٗ وَ لَا یَدِیۡنُوۡنَ دِیۡنَ الۡحَقِّ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حَتّٰی یُعۡطُوا الۡجِزۡیَۃَ عَنۡ ‌یَّدٍ وَّ ہُمۡ صٰغِرُوۡنَ ﴿٪۲۹﴾

’’جنگ کرو تم اُن لوگوں سے جو نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں ‘نہ یومِ آخرت پراور نہ حرام ٹھہراتے ہیں اللہ اور اُس کے رسول کی حرام کردہ چیزوں کو‘اور نہ قبول کرتے ہیں دین حق کی تابعداری کو‘اُن لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی تھی‘ یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ پیش کریں اور چھوٹے (تابع) بن کر رہیں۔‘‘

اس آیت میں بھی دین کا بہت اہم فلسفہ بیان ہوا ہے ۔اس حکم میں مشرکینِ عرب کے معاملے کو نسل انسانی کے باقی لوگوں کے معاملے سے الگ کر دیا گیا ہے۔ سورۃ التوبہ کی آیت ۵ کی رو سے مشرکین عرب کو جو مہلت یا امان دی گئی تھی اس مدت کے گزرنے کے بعد ان کے لیے تو کوئی اور راستہ (option) اس کے علاوہ نہیں تھا کہ یا وہ ایمان لے آئیں یا انہیں قتل کر دیا جائے گا‘ اور یا وہ جزیرہ نمائے عرب سے چلے جائیں۔ اُن کا معاملہ تو اس لیے خصوصی تھا کہ محمد عربی ﷺ نے اللہ کے رسول کی حیثیت سے اُن پر آخری درجہ میں اتمامِ حجت کر دیا تھا‘ اور آپﷺ کی رسالت کا انکار کر کے وہ لوگ عذابِ استیصال کے حق دار ہو چکے تھے ۔ مگر یہود و نصاریٰ اور باقی پوری نوعِ انسانی کے لیے اس ضمن میں قانون مختلف رہے گا ۔ چنانچہ حضورﷺ کے زمانے میں جزیرہ نمائے عرب سے باہر کے لوگوں کے لیے (جنہوں نے آپؐ کی دعوت کو براہِ راست رد نہیں کیا) اور قیامت تک تمام دنیا کے انسانوں کے لیے وہ چیلنج نہیں کہ ایمان لاؤ ورنہ قتل کر دیے جاؤ گے۔ ظاہر ہے حضورﷺ کی دنیوی حیاتِ مبارکہ کے بعد جب حضورﷺ بحیثیت رسول ؐ معنوی طور پر تو دنیا میں موجود ہیں مگر بنفسِ نفیس موجود نہیں‘تو کسی قوم کے لیے آپﷺ کی دعوت کو براہِ راست رد کر کے عذابِ استیصال کے مستحق ہونے کا امکان نہیں۔چنانچہ باقی تمام نوعِ انسانی کے افراد کا معاملہ یہ ہے کہ ان سے قتال کیا جائے گا‘یہاں تک کہ وہ دین کی بالادستی کو بحیثیت ایک نظام کے قبول کر لیں‘ مگر انفرادی طور پر کسی کوقبولِ اسلام کے لیے مجبور نہیں کیا جائے گا۔ ہر کوئی اپنے مذہب پر کاربند رہتے ہوئے اسلامی ریاست کے ایک شہر ی کے طور پر رہ سکتا ہے ‘مگر ایسی صورتِ حال میں غیر مسلموں کو جزیہ دینا ہو گا۔ اسی فلسفے کے تحت خلافت راشدہ کے دور میں کسی بھی ملک پر لشکر کشی کرنے سے پہلے تین شرائط پیش کی جاتی تھیں۔ پہلی یہ کہ ایمان لے آئو‘ایسی صورت میں تم ہمارے برابر کے شہری ہو گے۔ اگر یہ قبول نہ ہو تو اللہ کے دین کی بالا دستی قبول کر کے اسلامی ریاست کے فرمانبردار شہری بن کر رہنا اور جزیہ دینا قبول کر لو۔ ایسی صورت میں تم لوگوں کو آزادی ہو گی کہ تم یہودی‘ عیسائی‘ مجوسی‘ ہندو وغیرہ جو چاہو بن کر رہو۔ لیکن اگر یہ بھی قابل قبول نہ ہو اور تم لو گ اس زمین پر باطل کا نظام قائم رکھنا چاہو تو اس صورت میں تم سے ہماری جنگ ہو گی۔

30-31

یہودیوں اور عیسائیوں کا شرک

ویڈیو

وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِـُٔوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾ اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۱﴾

آیت 30

وَ قَالَتِ الۡیَہُوۡدُ عُزَیۡرُۨ ابۡنُ اللّٰہِ وَ قَالَتِ النَّصٰرَی الۡمَسِیۡحُ ابۡنُ اللّٰہِ ؕ

’’اور یہود نے کہا (عقیدہ گھڑ لیا) کہ عزیر ؑاللہ کا بیٹا ہے اور نصاریٰ نے کہا (عقیدہ گھڑ لیا ) کہ مسیحؑ اللہ کا بیٹا ہے۔‘‘

ذٰلِکَ قَوۡلُہُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ ۚ یُضَاہِـُٔوۡنَ قَوۡلَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا مِنۡ قَبۡلُ ؕ

’’یہ ان کے منہ کی باتیں ہیں۔یہ نقل کر رہے ہیں ان لوگوں کی باتوں کو جنہوں نے کفر کیا تھا ان سے پہلے۔‘‘

ان کے ایسے من گھڑت عقیدوں کی کوئی حقیقت نہیں ہے‘ بلکہ یہ لوگ محض اپنے سے پہلے والے مشرکین کے عقائد کی نقل کر رہے ہیں۔مثلاً تاریخی شہادت کے مطابق تثلیث کا عقیدہ سب سے پہلے مصر کے قدیم مذہب ’’متھر ا ازم‘‘کے پیروکاروں نے گھڑا تھا۔ اس حوالے سے انہوں نے یہ تین کردار متعارف کرائے تھے : "God the Father, Horus the Son of God and Isis the Mother Goddess." یعنی خدا‘خدا کا بیٹا حورس اور اس کی ماںآئسس دیوی۔ یہ پہلی تثلیث تھی جو مصر میں بنی تھی۔پھر جب سینٹ پال نے عیسائیت کی تبلیغ شروع کی اور اس کا دائرہ غیر اسرائیلیوں (gentiles) تک وسیع ہوگیا تو اہل مصر کی نقالی میں تثلیث جیسے نظریات عیسائیت میں بھی شامل کر لیے گئے تاکہ نئے لوگوں کو عیسائیت اختیار کرنے میں آسانی ہو۔ چنانچہ عیسائیت میں جو پہلی تثلیث شامل کی گئی وہ ’’خدا‘ خدا کا بیٹا یسوع اور مریم مقدس‘‘ کے کرداروں پر مشتمل تھی گویا کہ اس تثلیث کا بنیادی تصور متھراازم سے لیا گیاتھا۔

قٰتَلَہُمُ اللّٰہُ ۚ۫ اَنّٰی یُؤۡفَکُوۡنَ ﴿۳۰﴾

’’اللہ انہیں ہلاک کرے ‘یہ کہاں سے بچلائے گئے ہیں!‘‘

آیت 31

اِتَّخَذُوۡۤا اَحۡبَارَہُمۡ وَ رُہۡبَانَہُمۡ اَرۡبَابًا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ الۡمَسِیۡحَ ابۡنَ مَرۡیَمَ ۚ

’’انہوں نے اپنے احبارورہبان کو ربّ بنا لیا اللہ کے سوا اور مسیحؑ ابن مریم کو بھی۔‘‘

عیسائیوں میں دوسری بڑی گمراہی یہ پیدا ہوئی تھی کہ انہوں نے اپنے علماء و مشائخ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بھی الوہیت میں حصہ دار بنا لیاتھا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو اُن کے ہاں باقاعدہ تین خداؤں میں سے ایک تھے اور اس حیثیت میں وہ آپؑ کی پرستش بھی کرتے تھے ‘مگر احبار و رہبان کو رب ماننے کی کیفیت ذرا مختلف تھی۔ حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ (جنہوں نے عیسائیت سے اسلام قبول کیا تھا) نے حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوکر اس آیت کے بارے میں وضاحت کی درخواست کی توآپﷺ نے فرمایا:

حدیث((اَمَا اِنَّھُمْ لَمْ یَـکُوْنُوْا یَعْبُدُوْنَھُمْ وَلٰـکِنَّھُمْ کَانُوْا اِذَا اَحَلُّوْا شَیْئًا اسْتَحَلُّوْہُ وَاِذَا حَرَّمُوْا عَلَیْھُمْ شَیْئًا حَرَّمُوْہُ)) ۲

’’وہ ان (احبار و رہبان) کی عبادت تو نہیں کرتے تھے‘ لیکن جب وہ کسی شے کو حلال قرار دیتے تو یہ اسے حلال مان لیتے اور جب وہ کسی شے کو حرام قرار دیتے تو یہ اسے حرام مان لیتے۔‘‘

یعنی حلال و حرام کے بارے میں قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے‘ اور اگر کوئی دوسرا اس حق کو استعمال کرتا ہے تو گویا وہ اللہ کی الوہیت میں حصہ دار بننے کی کوشش کرتا ہے‘ او ر جو کوئی اللہ کے علاوہ کسی کا یہ حق تسلیم کرتا ہے وہ گویا اُسے اللہ کے سوا اپنا رب تسلیم کر رہا ہے۔

آج بھی پوپ کو پورا اختیار حاصل ہے کہ وہ مذہبی معاملات کے حوالے سے جو چاہے فیصلہ کرے ۔ جیسا کہ اُس نے ایک فرمان کے ذریعے سے یہودیوں کو دو ہزار سال پرانے اس الزام سے بری کر دیا‘کہ انہوں نے حضرت مسیحؑ کو سولی پر چڑھایا تھا۔ گویا کہ اسے تاریخ تک کو بدل دینے کا اختیار ہے ‘اسی طرح وہ کسی حرام چیز کو حلال اور حلال کو حرام قرار دے سکتا ہے۔ اس طرح کے تصورات ہمارے ہاں اسماعیلیوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنے ’’امامِ حاضر‘‘ کو معصوم مانتے ہیں اور اس کے بارے میں یہ عقیدہ بھی رکھتے ہیں کہ اسے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس طرح انہوں نے شریعت کو ساقط کر دیا ہے۔ تاہم یہ معاملہ بالخصوص گجرات (انڈیا) کے علاقے میں بسنے والے اسماعیلیوں کا ہے‘ جبکہ ہنزہ میں جو اسماعیلی آباد ہیں اُن کے ہاں شریعت موجود ہے‘ کیونکہ یہ پرانے اسماعیلی ہیں جو باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے تھے۔ گجرات (انڈیا) کے علاقہ میں اسماعیلیوں نے جب مقامی آبادی میں اپنے نظریات کی تبلیغ شروع کی تو انہوں نے وہی کیا جو سینٹ پال نے کیا تھا ۔ انہوں نے شریعت کو ساقط کر دیا اور ہندوئوں کے عقیدے کے مطابق اوتار کا عقیدہ اپنا لیا۔ مقامی ہندو آبادی میں اپنے نظریات کی آسان ترویج کے لیے انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو دسویں اوتار کے طور پر پیش کیا (ہندوؤں کے ہاں نو اوتار کا عقیدہ رائج تھا)۔ لہٰذا ’’دشتم اوتار‘‘ کا عقیدہ مستقل طور پر اُن کے ہاں رائج ہو گیا۔ اس کے علاوہ اُن کے حاضر امام کو مکمل اختیار ہے کہ وہ شریعت کے جس حکم کو چاہے منسوخ کر دے‘کسی حلال چیز کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال قرار دے دے۔

وَ مَاۤ اُمِرُوۡۤا اِلَّا لِیَعۡبُدُوۡۤا اِلٰـہًا وَّاحِدًا ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ سُبۡحٰنَہٗ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۱﴾

’’انہیں نہیں حکم دیا گیا تھا مگر اسی بات کا کہ وہ پوجیں صرف ایک الٰہ کو ‘نہیں ہے کوئی معبود اُس کے سوا۔وہ پاک ہے اس سے جو شرک یہ لوگ کر رہے ہیں۔‘‘

(۲) سنن الترمذی‘ کتاب تفسیر القرآن‘ باب ومن سورۃ التوبۃ۔

32

اہلِ کتاب سازشوں کے ذریعہ اسلام کا راستہ روکنا چاہتے ہیں

ویڈیو

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ یَاۡبَی اللّٰہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۳۲﴾

آیت 32

یُرِیۡدُوۡنَ اَنۡ یُّطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ

’’یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ (کی پھونکوں )سے‘‘

وَ یَاۡبَی اللّٰہُ اِلَّاۤ اَنۡ یُّتِمَّ نُوۡرَہٗ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’اور اللہ کو ہر گز منظور نہیں ہے مگر یہ کہ وہ اپنے نور کا اِتمام فرما کر رہے ‘چاہے یہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘

اس اسلوب میں یہودیوں پر ایک طرح کا طنز ہے کہ وہ ہمیشہ خفیہ سازشوں کے ذریعے سے ہی دین اسلام کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور کبھی علی الاعلان میدان میں آکر مقابلہ کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔ اس آیت کی ترجمانی مولانا ظفر علی خان نے اپنے ایک شعر میں اس طرح کی ہے: ؎

نورِ خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن

پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا!

33

نبی اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد غلبہ دین تھا

ویڈیو

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾

آیت 33

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ ۙ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُشۡرِکُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’وہی تو ہے جس نے بھیجا ہے اپنے رسول ؐکو الہدیٰ اور دینِ حق دے کر تا کہ غالب کردے اسے کل کے کل دین (نظامِ زندگی) پر‘خواہ یہ مشرکوں کو کتنا ہی ناگوار گزرے۔‘‘

یہ آیت حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی رسالت کی امتیازی یا تکمیلی شان کا واضح مظہر ہے۔ جیسے کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے‘ حضورﷺ کی رسالت کا بنیادی مقصد تو دوسرے انبیاء ورُسل کی طرح تبشیر‘ انذار‘ تذکیر‘ دعوت اور تبلیغ ہے‘ جس کا تذکرہ سورۃ النساء (آیت ۱۶۵) میں بایں الفاظ ہوا ہے: {رُسُلًا مُّبَشِّرِیۡنَ وَ مُنۡذِرِیۡنَ لِئَلَّا یَکُوۡنَ لِلنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌۢ بَعۡدَ الرُّسُلِ ؕ} لیکن اس کے علاوہ حضورﷺ کی بعثت کا ایک امتیازی اور خصوصی مقصد بھی ہے اور وہ ہے تکمیلِ رسالت‘ یعنی دین کو بالفعل قائم اور غالب کرنا۔اِن دو آیات میں آپﷺ کی رسالت کی اسی تکمیلی شان کا ذکر ہے۔ آیات کا یہ جوڑا بالکل اسی ترتیب سے سورۃ الصف (آیت ۸ اور ۹) میں بھی آیا ہے۔ ان میں سے پہلی آیت سورۃ الصف میں تھوڑے سے فرق کے ساتھ آئی ہے: {یُرِیۡدُوۡنَ لِیُطۡفِـُٔوۡا نُوۡرَ اللّٰہِ بِاَفۡوَاہِہِمۡ وَ اللّٰہُ مُتِمُّ نُوۡرِہٖ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸﴾} جبکہ دوسری آیت جوں کی توں ہے‘ اس میں اور سورۃ التوبہ کی اس آیت میں بالکل کوئی فرق نہیں ہے۔ میں نے اس آیت کی وضاحت میں چو بیس صفحات پر مشتمل ایک مقالہ لکھا ہے جو ’’نبی اکرمﷺ کا مقصدِ بعثت‘‘ کے عنوان سے شائع ہوتا ہے ۔اس مقالہ میں یہ ثابت کیا گیاہے کہ حضورﷺ کی بعثت کے خصوصی یا امتیازی مقصد کی کلی انداز میں تکمیل یعنی دنیا میں دین کو قائم اور غالب کرنے کی جدوجہد ہم سب پر حضورﷺ کے اُمتی ہونے کی حیثیت سے فرض ہے۔ اگرچہ بہت سے لوگوں نے اس فرض سے جان چھڑانے کے لیے بھی دلائل دیے ہیں کہ دین کو ہم انسانوں نے نہیں بلکہ اللہ نے غالب کرنا ہے‘ لیکن اگر آپ اس کتاب کا مطالعہ کریں گے تو یہ حقیقت ‘ان شاء اللہ ‘آپ پر واضح ہو جائے گی۔

34-35

علماء اور صوفیاءکی اکثریت لوگوں کا مال ناحق کھاتی ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَ الرُّہۡبَانِ لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَ الۡفِضَّۃَ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾ یَّوۡمَ یُحۡمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکۡوٰی بِہَا جِبَاہُہُمۡ وَ جُنُوۡبُہُمۡ وَ ظُہُوۡرُہُمۡ ؕ ہٰذَا مَا کَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾

آیت 34

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنَّ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡاَحۡبَارِ وَ الرُّہۡبَانِ لَیَاۡکُلُوۡنَ اَمۡوَالَ النَّاسِ بِالۡبَاطِلِ

’’اے اہلِ ایمان ‘یقینا بہت سے علماء اور درویش ہڑپ کرتے ہیں لوگوں کے مال باطل طریقے سے‘‘

مختلف مسلمان اُمتوں میں مذہبی پیشوائوں کے لیے مختلف نام اور القاب رائج رہے ہیں۔ بنی اسرائیل کے ہاں انہیں اَحبار اور رہبا ن کہا جاتا تھا ۔ آیت زیر نظر کے مطابق اس طبقے کے اکثر لوگ باطل اور ناجائز ذرائع سے مال و دولت جمع کرنے اور جائیدادیں بنانے کے مکروہ دھندے میں ملوث رہے ہیں۔ ایک عام دنیا دار آدمی اگر جائز طریقے سے مال و دولت کماتا ہے یا جائیداد بناتا ہے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ مگر ایک ایسا شخص جو دین کی خدمت میں مصروف ہے اور اسی حیثیت سے جانا پہچانا جاتا ہے ‘اگر وہ بھی مال و دولت جمع کرنے اور جائیدادیں بنانے میں مشغول ہو جائے‘ اپنی دینی حیثیت کو نیلام کرتے ہوئے لوگوں کے مال ہڑپ کرنے لگے اور مال و دولت جمع کرنے ہی کو اپنا مقصدِ زندگی بنا لے‘ تو ایسا انسان آسمان کی چھت کے نیچے بد ترین انسان ہو گا۔ یہاں حضورﷺ کی ایک بہت عبر ت انگیز حدیث بھی سن لیں جس میں آپﷺ نے اپنی امت کے علماءِ سو کا ذکر بھی فرمایا ہے:

حدیثعَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ : ((یُـوْشِکُ اَنْ یَأْتِیَ عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ لَا یَبْقٰی مِنَ الْاِسْلَامِ اِلاَّ اسْمُہٗ‘ وَلَا یَبْقٰی مِنَ الْقُرْآنِ اِلاَّ رَسْمُہٗ‘ مَسَاجِدُھُمْ عَامِرَۃٌ وَھِیَ خَرَابٌ مِنَ الْھُدٰی‘ عُلَمَاؤُھُمْ شَرٌّ مَنْ تَحْتَ اَدِیْمِ السَّمَائِ‘ مِنْ عِنْدِھِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَۃُ وَفِیْھِمْ تَعُوْدُ)) ۳

حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’مجھے اندیشہ ہے کہ لوگوں پر ایک وقت ایسا آئے گا جب اسلام میں سے اس کے نام کے سوا کچھ نہیں بچے گا اورقرآن میں سے اس کے رسم الخط کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا۔ان کی مسجدیں بہت آباد (اور شاندار)ہوں گی مگر وہ ہدایت سے خالی ہوں گی۔ ان کے علماء آسمان کی چھت کے نیچے بد ترین مخلوق ہوں گے‘فتنہ انہی میں سے برآمد ہو گا اور ان ہی میں لوٹ جائے گا۔‘‘

وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ

’’اور روکتے ہیں لوگوں کو اللہ کے راستے سے۔‘‘

جب کوئی دینی تحریک اٹھتی ہے ‘کوئی اللہ کا مخلص بندہ لوگوں کو دین کی طرف بلاتا ہے ‘تو ان مذہبی پیشوائوں کو اپنی مسندیں خطرے میں نظر آتی ہیں ۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے عقیدت مند انہیں چھوڑ کر کسی دوسری دعوت کی طرف متوجہ ہوں‘کیونکہ انہی عقیدت مندوں کے نذرانوں ہی سے تو ان کے دولت کے انباروں میں اضافہ ہورہاہوتا ہے اور ان کی جائیدادیں بن رہی ہوتی ہیں۔ وہ آخر کیونکر چاہیں گے کہ اُن کے نام لیوا کسی دوسری دعوت پر لبیک کہیں۔

وَ الَّذِیۡنَ یَکۡنِزُوۡنَ الذَّہَبَ وَ الۡفِضَّۃَ وَ لَا یُنۡفِقُوۡنَہَا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ۙ فَبَشِّرۡہُمۡ بِعَذَابٍ اَلِیۡمٍ ﴿ۙ۳۴﴾

’’اور وہ لوگ جو جمع کرتے ہیں اپنے پاس سونا اور چاندی اور خر چ نہیں کرتے اس کو اللہ کی راہ میں‘تو اُن کو بشارت دے دیجیے درد ناک عذاب کی۔‘‘

اس آیت کے حوالے سے حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی ذاتی رائے یہ تھی کہ کسی مسلمان کے لیے سونا اور چاندی اپنے پاس رکھنا مطلقاً حرام ہے۔ مگر دوسرے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین‘حضرت ابو ذر غفاریؓ کی اس رائے سے متفق نہیں تھے۔ چنانچہ دین کا عام قانون اس بارے میں یہی ہے کہ اگر کسی نے کوئی مال جائز طریقے سے کمایا ہو اور وہ اس میں سے زکوٰۃ بھی ادا کرتا ہو تو اس مال کو وہ اپنے پاس رکھا سکتا ہے ‘چاہے وہ کتنی ہی زیادہ مقدار میں ہواور چاہے وہ سونے اور چاندی ہی کی شکل میں ہو۔ ایسا مال ایک شخص کی موت کے بعد اس کے ورثاء کو جائز مال کے طور پر قانونِ وراثت کے مطابق منتقل بھی ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ قانونِ وراثت خود اس بات پر دلیل ہے کہ مال و دولت کو اپنی ملکیت میں رکھنا ناجائز نہیں ہے ‘کیونکہ اگر مال جمع نہیں ہو گا تو وراثت کس چیز کی ہو گی اور قانونِ وراثت کا عملاً کیا مقصد رہ جائے گا؟ اس لحاظ سے قرآن کے وہ احکام روحانی اور اخلاقی تعلیم کے زمرے میں آتے ہیں جن میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ جیسے اس حوالے سے {قُلِ الۡعَفۡوَؕ } ( البقرۃ: ۲۱۹) کے الفاظ بھی آئے ہیں۔ یعنی جو بھی زائد از ضرورت مال ہو اسے اللہ کی راہ میں خرچ کر دیا جائے۔ چنانچہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دورِخلافت میں حضرت ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ کی مخالفت کے باوجود قانونی نقطہ نظر سے یہی فیصلہ ہوا تھا کہ کسی مسلمان کے لیے سونا‘چاندی اپنے پاس رکھنا مطلقاً حرام نہیں ہے‘ مگر اس کے باوجود حضرت ابوذر غفاریؓ اپنی رائے میں کسی قسم کی لچک پیدا کرنے پر آمادہ نہ ہوئے۔ چونکہ آپؓ کے اختلاف کی شدت کے باعث مدینہ کے ماحول میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہو رہی تھی ‘اس لیے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے آپؓ کو حکم دیا کہ وہ مدینہ سے باہر چلے جائیں۔ اس پر آپؓ مدینہ سے نکل گئے اور صحرا میں ایک چھونپڑی بنا کر اس میں رہنے لگے۔

میرے نزدیک اس آیت کا حکم اَحبار اوررہبان یعنی مذہبی پیشواؤں کے ساتھ مخصوص ہے ۔ اس حکم میں خصوصی طور پر سب لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنا وقت اور اپنی صلاحیتیں دین کی خدمت کے لیے وقف کر رکھی ہیں اور اُن کا اپنا کوئی ذریعہ آمدنی نہیں ہے۔ ایسے مذہبی پیشواؤں کو لوگ ہدیے دیتے ہیں اور اُن کی مالی معاونت کرتے ہیں تاکہ وہ اپنی ضروریاتِ زندگی کو باعزت طریقے سے پورا کر سکیں۔ جیسے حضورﷺ خود بیت المال سے اپنی ضروریات پوری کرتے تھے ‘ ازواجِ مطہرات ؓکو نان نفقہ بھی دیتے تھے اور اپنے عزیز و اقارب کے ساتھ حسن سلوک بھی کرتے تھے۔(اور بیت المال سے کچھ میسر نہ ہونے کی صورت میں آپؐ فاقے بھی کرتے تھے)۔ اسی طرح خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی مثال بھی ہے ۔ چنانچہ ایسے تمام مذہبی پیشواؤں پر لازم ہے کہ وہ دوسروں کے ہدیے اور وظائف صرف معروف انداز میں اپنی اور اپنے زیرِ کفالت افراد کی ضروریاتِ زندگی پوری کرنے کے لیے استعمال میں لائیں۔ لیکن اگر یہ لوگ اپنی مذکورہ حیثیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دولت اکٹھی کرنا اورجائیدادیں بنانا شروع کر دیں ‘اور پھر یہ دولت اور جائیدادیں قانونِ وراثت کے تحت اُن کے ورثا ء کو بھی منتقل ہوں تو ایسی صورت میں اِن لوگوںپر اس آیت کے احکام کا حرف بہ حرف انطباق ہو گا۔ چنانچہ آج بھی اگر آپ علما؍ءِ حق اور علماءِ سو کے بارے میں معلوم کرنا چاہیں تو میرے نزدیک یہ آیت اس کے لیے ایک طرح کا لٹمس ٹیسٹ (litmus test) ہے۔ اگر کوئی مذہبی پیشوا یا عالم اپنے دینی کیرئیر کے نتیجے میں جائیدادبنا کر اور اپنے پیچھے دولت چھوڑ کرمرا ہو تو وہ بلاشک و شبہ علماءِ سوء میں سے ہے۔

(۳) رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ مشکاۃ المصابیح ‘ کتاب العلم‘ الفصل الثالث۔

آیت 35

یَّوۡمَ یُحۡمٰی عَلَیۡہَا فِیۡ نَارِ جَہَنَّمَ فَتُکۡوٰی بِہَا جِبَاہُہُمۡ وَ جُنُوۡبُہُمۡ وَ ظُہُوۡرُہُمۡ ؕ

’’جس دن ان (سونے اور چاندی) کو تپایا جائے گا جہنم کی آگ میں اور پھر داغا جائے گا ان سے اُن کی پیشانیوں ‘اُن کے پہلوؤں اور اُن کی پیٹھوں کو۔‘‘

ہٰذَا مَا کَنَزۡتُمۡ لِاَنۡفُسِکُمۡ فَذُوۡقُوۡا مَا کُنۡتُمۡ تَکۡنِزُوۡنَ ﴿۳۵﴾

’’(اور ساتھ کہا جائے گا) یہ ہے جو تم نے اپنے لیے اکٹھا کیا تھا ‘تو اب چکھو مزا اس کا جو کچھ تم جمع کرتے تھے۔‘‘

36

سال میں بارہ مہینے اللہ کے طے کردہ ہیں

ویڈیو

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۶﴾

آیت 36

اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوۡرِ عِنۡدَ اللّٰہِ اثۡنَا عَشَرَ شَہۡرًا فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ یَوۡمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ

’’بے شک اللہ کے ہاں مہینوں کی تعداد بارہ ہے ‘اللہ کے قانون میں‘جس دن سے اُس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو‘‘

اللہ کے قائم کردہ تکوینی نظام اور تشریعی قانون کے تحت مہینوں کی تعداد بارہ مقرر کی گئی ہے۔

مِنۡہَاۤ اَرۡبَعَۃٌ حُرُمٌ ؕ

’’ان میں سے چار مہینے محترم ہیں ۔‘‘

ان چار مہینوں (ذو القعدہ‘ذو الحجہ‘محرم اور رجب) کو ’’اشہر حرم‘‘ کہتے ہیں اور ان میں جنگ وغیرہ جائز نہیں۔

ذٰلِکَ الدِّیۡنُ الۡقَیِّمُ ۬ۙ فَلَا تَظۡلِمُوۡا فِیۡہِنَّ اَنۡفُسَکُمۡ

’’یہی ہے سیدھا دین‘تو ان کے معاملے میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو‘‘

قانونِ خداوندی کے مطابق یہ چار مہینے شروع سے محترم ہیں‘ لہٰذا تم لوگ ان مہینوں کی حرمت کو پامال کر کے اپنے اوپر ظلم نہ کرو۔ اس میں قریش کے اس رواج کی طرف اشارہ ہے جس کے تحت وہ محترم مہینوں کو اپنی مرضی سے بدلتے رہتے تھے۔ کسی مہم یا لڑائی کے دوران میں اگر کوئی ماہِ حرام آ جاتا تو اس مہینے کے احترام میں جنگ و جدال بند کرنے کے بجائے وہ اعلان کر دیتے کہ اس سال اس مہینے کے بجائے فلاں مہینہ ماہِ حرام کے طور پر منایا جائے گا۔ اس طرح انہوں نے پورا کیلنڈر گڈ مڈ کر رکھاتھا۔ لیکن مہینوں کے اَد ل بدل اور الٹ پھیرسے گزرتے ہوئے قدرتِ خداوندی سے سن ۱۰ہجری میں کیلنڈر واپس اپنی اصلی حالت پر پہنچ گیاتھا۔ اسی لیے رسول اللہﷺ نے اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں فرمایا تھا : حدیث((اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ کَھَیْئَتِہٖ یَوْمَ خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ …))۴ یعنی زمانے کی یہ تقویم (کیلنڈر) پورا چکر لگا کر ساری غلطیوں اور ترامیم میں سے گزرتے ہوئے اب ٹھیک اسی جگہ پر پہنچ گئی ہے جس پر اللہ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا تھا ۔

وَ قَاتِلُوا الۡمُشۡرِکِیۡنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ کَآفَّۃً ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۳۶﴾

’’اور مشرکین سے سب مل کر جنگ کرو جیسے وہ سب اکٹھے ہو کر تم سے جنگ کرتے ہیں ‘اور جان لو کہ اللہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔‘‘

(۴) صحیح البخاری‘ کتاب بدء الخلق وکتاب المغازی وکتاب تفسیر القرآن‘ باب قولہ ان عدۃ الشھور عند اللّٰہ اثنا عشر شھرا فی کتاب اللّٰہ … وصحیح مسلم‘ کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات‘ باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض والاموال۔

37

نسی کا قاعدہ حرام ہے

ویڈیو

اِنَّمَا النَّسِیۡٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الۡکُفۡرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِـُٔوۡا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ فَیُحِلُّوۡا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ؕ زُیِّنَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ اَعۡمَالِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿٪۳۷﴾

آیت 37

اِنَّمَا النَّسِیۡٓءُ زِیَادَۃٌ فِی الۡکُفۡرِ یُضَلُّ بِہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’یہ مہینوں کو ہٹا کر آگے پیچھے کر لینا تو کفر میں ایک اضافہ ہے‘ جس کے ذریعے سے گمراہی میں مبتلا کیے جاتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا‘‘

یعنی امن کے مہینوں کو اپنی جگہ سے ہٹا کر آگے پیچھے کر دینا کفر میں ایک اور کافرانہ حرکت کا اضافہ ہے ۔

یُحِلُّوۡنَہٗ عَامًا وَّ یُحَرِّمُوۡنَہٗ عَامًا لِّیُوَاطِـُٔوۡا عِدَّۃَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ

’’ایک سال یہ لوگ حلا ل کر لیتے ہیں اس (مہینے) کو اور ایک سال اسے حرام قرار دے دیتے ہیں‘تا کہ تعداد پوری کر لیں اس کی جو اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں‘‘

فَیُحِلُّوۡا مَا حَرَّمَ اللّٰہُ ؕ

’’اور (اس طرح) حلال کر لیتے ہیں وہ (مہینہ )جو اللہ نے حرام کیا ہے۔‘‘

یعنی اس طرح اُلٹ پھیر کر کے وہ ان مہینوں کو حلال کر لیتے جو اصل میں اللہ نے حرام ٹھہرائے ہیں۔مشرکین عرب بارہ مہینوں میں سے چار مہینوں کو محترم ضرور مانتے تھے مگر اپنی مرضی سے ان مہینوں کو آگے پیچھے کرتے رہتے تھے اور سال کے آخر تک محترم مہینوں کی تعداد پوری کر دیتے تھے۔

زُیِّنَ لَہُمۡ سُوۡٓءُ اَعۡمَالِہِمۡ ؕ وَ اللّٰہُ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿٪۳۷﴾

’’(اسی طرح) ان کے لیے مزین کر دیے گئے اُن کے برے اعمال ۔اور اللہ کافروں کو ہدایت نہیں دیتا۔‘‘

یہاں وہ پانچ رکوع ختم ہوئے جن کا تعلق نبی اکرمﷺ کی بعثتِ خصوصی سے ہے۔ اِن آیات میں اس سلسلے میں تکمیلی اور آخری احکام دے دیے گئے ہیں۔ اب چھٹے رکوع سے غزوۂ تبوک کے موضوع کا آغاز ہو رہا ہے۔ اس کے پس منظر کے ضمن میں چند باتیں پھر سے ذہن میں تازہ کر لیجیے ۔

سن ۶ ہجری میں صلح حدیبیہ کے فوراً بعد رسول اللہﷺ نے عرب سے باہر مختلف فرمانرواؤں کی طرف اپنے خطوط اور ایلچی بھیجنے شروع کیے۔ اس سلسلے میں آپﷺ کا نامۂ مبارک بصریٰ (شام) کے رئیس شرحبیل بن عمرو کی طرف بھی بھیجا گیا۔ یہ شخص رومن ایمپائر کا باج گزار تھا۔ اس کے پاس حضورﷺ کا نامۂ مبارک حضرت حارث بن عمیر ازدی رضی اللہ عنہ لے کر گئے تھے۔ شرحبیل نے تمام اخلاقی و سفارتی آداب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حضرت حارث رضی اللہ عنہ کو شہید کرادیا۔لہٰذا سفیر کے قتل کو اعلانِ جنگ سمجھتے ہوئے حضورﷺنے تین ہزار صحابہؓ پر مشتمل ایک لشکر تیار کر کے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت شام کی طرف روانہ فرمایا ۔ موتہ پہنچنے پر ان لوگوں نے ایک لاکھ رومیوں کے لشکر کو اپنے خلاف صف آرا پایا۔ مخالف لشکر کی تعداد کا اندازہ کرنے کے بعد مسلمانوں نے مقابلہ کرنے یا نہ کرنے کے بارے میں تفصیلی مشاورت کی اور حالات کی تمام تر سنگینی کے باوجود انہوں نے لشکر کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ظاہر ہے مسلمانوں کا یہ فیصلہ صرف اور صرف شوقِ شہادت کی بنیاد پر کیا گیا تھا : ؎

شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مؤمن

نہ مالِ غنیمت‘ نہ کشور کشائی!

(اقبالؔ)

جمادی الاولیٰ ۸ ہجری میں ان دونوں لشکروں کے درمیان موتہ کے مقام پر جنگ ہوئی۔ مسلمان لشکر کے لیے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زیدؓ بن حارثہ کے علاوہ خصوصی طور پر دو مزید کمانڈر بھی مقررفرمائے تھے۔ آپﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر زیدؓ شہید ہو جائیں تو جعفرؓبن ابی طالب(جعفر طیارؓ) کمان سنبھالیں گے‘ اوراگر وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ انصاریؓ لشکر کے امیر ہوں گے۔ چنانچہ آپﷺ کے مقرر کردہ تینوں کمانڈر اسی ترتیب سے یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت خالدبن ولید رضی اللہ عنہ نے از خود لشکر کی کمان سنبھالی‘اور کامیاب حکمتِ عملی کے تحت اپنے لشکر کو رومیوں کے نرغے سے نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔

جنگ موتہ سے پیدا ہونے والی صورت حال میں حضورﷺ نے اعلانِ عام فرمایا کہ رومیوں کے مقابلے کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتے ہوئے ایک بڑا لشکر تبوک کے لیے روانہ کیا جائے۔ اس مرتبہ آپﷺ نے خود لشکر کی قیادت کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ تبوک مدینہ سے شمال کی جانب تقریباً ساڑھے تین سو میل کی مسافت پر حجاز کا آخری شہر ہے۔ یہ وہ علاقہ تھا جہاں سے آگے اس زمانے میں رومن ایمپائر کی سرحد شروع ہوتی تھی۔غزوئہ تبوک میں شرکت کے لیے آپﷺ نے اعلانِ عام فرمایا تھا ۔ یعنی جنگ کے قابل ہر صاحبِ ایمان شخص کے لیے فرض تھا کہ وہ اس مہم میں شریک ہو۔ یہ اہل ایمان کے لیے سخت امتحان اور آزمائش کا وقت تھا۔ قحط کا زمانہ‘شدید گرمی کا موسم‘طویل صحرائی سفر ‘وقت کی سپر پاور سے مقابلہ اور سب پر مستزاد یہ کہ فصل سنبھالنے کا موسم سر پر کھڑا تھا۔ گویا ایک سے بڑھ کر ایک مسئلہ تھااور ایک سے بڑھ کر ایک امتحان!مدینہ کے بیشتر لوگوں کی سال بھر کی معیشت کا دارومدار کھجور کی فصل پر تھا‘جو اس وقت پک کر تیار کھڑی تھی۔ مہم پر نکلنے کا مطلب یہ تھا کہ پکی ہوئی کھجوروں کو درختوں پر ہی چھوڑکر جانا ہو گا۔ عورتیں چونکہ کھجوروں کو درختوں سے اتارنے کا مشکل کام نہیں کرسکتی تھیں‘ اس لیے پکی پکائی فصل ضائع جاتی صاف نظر آ رہی تھی۔

دوسری طرف اس مہم کا اعلان منافقین پر بہت بھاری ثابت ہوا اور اس کی وجہ سے ان کی ساری خباثتیں طشت ازبام ہو گئیں۔ چنانچہ آئندہ گیارہ رکوعوں کی آیات اگرچہ اپنے اندر اس سلسلے کے چھوٹے بڑے بہت سے موضوعات سمیٹے ہوئے ہیں ‘مگر دوسرے مضامین کے درمیان میں ایک مضمون جو مسلسل چل رہا ہے وہ منافقین کا تذکرہ ہے۔ گویا یہ مضمون ایک دھاگہ ہے جس میں دوسرے مضامین چھوٹے بڑے موتیوں کی طرح پروئے ہوئے ہیں۔ اگرچہ اس سے پہلے سورۃ النساء میں منافقین کا ذکر بڑی تفصیل سے آ چکا ہے ‘لیکن آئندہ گیارہ رکوع اس موضوع پر قرآن کے ذروۂ سنام کا درجہ رکھتے ہیں۔

بہرحال رسول اللہﷺ تیس ہزار کا لشکر لے کر تبوک تشریف لے گئے۔ مقابل میں اگرچہ ہرقل (قیصرروم) بنفس نفیس موجود تھا ‘لیکن شایدوہ پہچان چکا تھا کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں ‘چنانچہ وہ مقابلے میں آنے کی جرأت نہ کر سکا۔ حضورﷺنے کچھ عرصہ تبوک میں قیام فرمایا۔ اس دوران میں ارد گرد کے بہت سے قبائل نے آکر آپؐ سے معاہدے کیے۔ اس مہم میں اگرچہ جنگ کی نوبت نہ آئی مگر مسلمان لشکر کا مدینہ سے تبوک جا کر رومن ایمپائر کی سرحدوں پر دستک دینا اور ہرقل کا مقابلہ کرنے کی بجائے کنی کترا جانا‘کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ چنانچہ اس مہم کی وجہ سے نہ صرف اس علاقے میں مسلمانوں کی دھاک بیٹھ گئی بلکہ اسلامی ریاست کی سرحدیں عملی طور پر تبوک تک وسیع ہو گئیں۔ دوسری طرف جنگ موتہ کی وجہ سے مسلمانوں کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا تھا اس کی بھر پور انداز میں تلافی ہو گئی۔ سلطنتِ روم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا یہ سلسلہ جو غزوۂ تبوک کی صورت میں شروع ہوا‘ اس میں مزید پیش رفت دورِصدیقی ؓمیں ہوئی۔ حضورﷺ کے وصال کے فوراً بعد مدینہ سے لشکرِ اسامہؓ کی روانگی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔

یوٹیوب پر دیکھیے