لَقَدۡ نَصَرَکُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَوَاطِنَ کَثِیۡرَۃٍ ۙ وَّ یَوۡمَ حُنَیۡنٍ ۙ
’’(اے مسلمانو!) اللہ نے تمہاری مدد کی ہے بہت سے مواقع پر اور (خاص طور پر) حنین کے دن‘‘
جیسا کہ قبل ازیں بیان ہو چکا ہے ‘پہلے ‘چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل یہ خطبہ ذوالقعدہ ۹ ہجری میں نازل ہوا تھا‘ جبکہ اس سے پہلے غزوۂ حنین شوال ۸ ہجری میں وقوع پذیر ہو چکا تھا۔
اِذۡ اَعۡجَبَتۡکُمۡ کَثۡرَتُکُمۡ
’’جب تمہیں اپنی کثرت پر ناز ہو گیا تھا‘‘
ظاہر ہے لشکر میں شامل تمام مسلمانوں کو اپنی کثرت کا زعم نہیں تھا۔ معاملہ دراصل یوں تھا کہ غزوئہ حنین میں مسلمانوں کی تعداد بارہ ہزار تھی۔اس سے پہلے کبھی کسی غزوہ میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان اکٹھے نہیں ہوئے تھے۔ ان میں سے دس ہزار مسلمان تو وہ تھے جو فتح مکہ کے وقت حضورﷺ کے ہمراہ تھے‘ جبکہ دو ہزار لوگ مکہ سے شامل ہوئے تھے۔ مکہ سے شامل ہونے والوں میں اکثر یت اُن نو مسلموں کی تھی جو مکہ فتح ہو جانے کے بعد ایمان لائے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں کچھ مشرک بھی ہوں جو اَب مسلمانوں کی رعایا ہونے کے باعث معاونین اور خاد مین کی حیثیت سے لشکر میں شامل ہوگئے ہوں۔ مسلمانوں کی یہ لشکر کشی ہوازن اور ثقیف کے قبائل کے خلاف تھی جو طائف اور اس کے ارد گرد کی شاداب وادیوں میں آباد تھے۔ مسلمان اس سے قبل بارہا قلیل تعداد اور معمولی اسلحہ سے کفارکی بڑی بڑی فوجوں کو شکست دے چکے تھے۔ چنانچہ بعض مسلمانوں کی زبان سے اپنی کثرت کے زعم میں یہ الفاظ نکل گئے کہ ’’آج مسلمانوں پر کون غالب آ سکتا ہے!‘‘ دوسری طرف ہوازن اور ثقیف کے قبائل نے پہلے سے اپنے تیرانداز دستے پہاڑیوں اور گھاٹیوں پر تعینات کر رکھے تھے اور موزوں مقامات پر صف آرائی کر لی تھی۔ یہ لوگ بڑے ماہر تیر انداز تھے۔ مسلمانوں کالشکر جونہی وادیٔ حنین میں پہنچا تو پہاڑیوں پر پہلے سے موجود تیر اندازوں نے تیروں کی بوچھاڑ کر دی۔ لشکر نشیب میں تھا ‘تیر بلندی سے آ رہے تھے اور دونوں طرف سے آ رہے تھے۔ اس سے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی ۔ جب ہراوّل دستے سے لوگ اضطراری کیفیت میں پلٹ کر بھاگے تو ریلے کی صورت میں بہت سے دوسرے لوگوں کو بھی اپنے ساتھ دھکیلتے چلے گئے۔ بعض روایا ت میں آتا ہے کہ اُس وقت رسول اللہﷺ کے ساتھ صرف ۳۰ یا ۴۰ آدمی رہ گئے تھے۔ علامہ شبلی ؒنے ’’سیرت النبیﷺ ‘‘میں یہی لکھا ہے کہ ۳۰ ‘۴۰ آدمی رہ گئے تھے‘ لیکن سید سلیمان ندویؒ نے بعد میں اپنے استاد کی رائے پر اختلافی نوٹ لکھا کہ تین سو یا چار سو آدمی آپﷺ کے ساتھ رہ گئے تھے ۔ لیکن بارہ ہزار کے لشکر میں سے تین سو یا چار سو آدمیوں کا رہ جانا بھی کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس صورتِ حال میں حضورﷺ اپنی سواری سے نیچے اترآئے ‘آپﷺ نے علم خود اپنے ہاتھ میں لے لیااور بآوازِ بلند رجز پڑھا: اَنَا النَّبِیُّ لا کَذِب اَنَا ابْنُ عَبْدِ المُطَّلِب کہ میں نبی ہوں اس میں کوئی شک نہیں! (یعنی میں یقینا نبی ہوں ‘چاہے یہ بارہ ہزار لوگ میرا ساتھ دیں تب بھی‘ اور اگر کوئی بھی ساتھ نہ دے تب بھی) ۔ اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں‘یعنی میں عبدالمطلب کا پوتا میدانِ جنگ میں بنفسِ نفیس موجود ہوں۔ پھر آپﷺ نے لوگوں کو پکارا : اِلَیَّ یَاعِبَادَ اللّٰہِ! ’’اللہ کے بندو‘ میری طرف آؤ!‘‘ اس کے بعد آپﷺ نے قریب ہی موجود اپنے چچا حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو‘ جن کی آواز کافی بلند تھی‘ حکم دیا کہ وہ انصار و مہاجرین کو پکاریں۔ حضرت عباسؓ نے بلند آواز سے پکارا: اصحابِ بدر کہاں ہو؟ اصحابِ شجرہ (بیعتِ رضوان والو) کہاں ہو؟ اس پر لوگ رسول اللہﷺ کی طرف پلٹنا شروع ہوئے اور دیکھتے ہی دیکھتے لشکر پھر سے اکٹھا ہوگیا ۔ اس کے بعد مسلمانوں نے ایک بھرپور حملہ کیا۔ مخالف لشکر نے سخت مقابلہ کیا لیکن بالآخر مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔
فَلَمۡ تُغۡنِ عَنۡکُمۡ شَیۡئًا وَّ ضَاقَتۡ عَلَیۡکُمُ الۡاَرۡضُ بِمَا رَحُبَتۡ ثُمَّ وَلَّیۡتُمۡ مُّدۡبِرِیۡنَ ﴿ۚ۲۵﴾
’’تو وہ (کثرت) تمہارے کچھ کام نہ آ سکی اور زمین پوری فراخی کے باوجود تم پر تنگ ہو گئی‘پھر تم پیٹھ موڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔‘‘