فتح مکہ سے قبل مسلمانوں کے ہاں بہت سے لوگ مکہ مکرمہ پر حملہ کرنے کے سلسلے میں تذبذب اور الجھن کا شکارتھے ۔ بعض مسلمانوں کے بیوی بچے اور بہت سے کمزور مسلمان جو ہجرت نہیں کر پائے تھے‘ابھی تک مکہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ اکثر لوگوں کو خدشہ تھاکہ اگر مکہ پر حملہ ہوا تو بہت خون خرابہ ہو گا اور مکہ میں موجود تمام مسلمان اس کی زد میں آ جائیں گے۔ اگرچہ بعد میں بالفعل جنگ کی نوبت نہ آئی مگر مختلف ذہنوں میں ایسے اندیشے بہرحال موجود تھے ۔اس سلسلے میں زیادہ بے چینی منافقین نے پھیلائی ہوئی تھی۔چنانچہ ان آیات میں مسلمانوں کو مکہ پر حملہ کرنے کے لیے آمادہ کیا جا رہا ہے۔
’’کیسے ہو سکتا ہے مشرکین کے لیے کوئی عہد اللہ اور اُس کے رسول کے نزدیک؟‘‘
یہاں پر اُس پس منظر کو ذہن میں تازہ کر نے کی ضرورت ہے جس میں یہ آیات نازل ہوئیں۔ اس سے قبل مسلمانوں اور مشرکینِ مکہ کے درمیان صلح حدیبیہ ہو چکی تھی‘ لیکن اس معاہدے کو خود قریش کے ایک قبیلے نے توڑ دیاتھا۔ بعد میں جب قریش کو اپنی غلطی اور معاملے کی سنجیدگی کا احساس ہواتو انہوں نے اپنے سردار ابو سفیان کو تجدید صلح کی درخواست کے لیے رسول اللہﷺکی خدمت میں بھیجا۔ مدینہ پہنچ کر ابوسفیان سفارش کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور اپنی بیٹی حضرت اُمِ حبیبہ رضی اللہ عنہا (اُمّ المؤ منین) سے ملے۔ اِن دونوں شخصیات کی طرف سے اُن کی سرے سے کوئی حوصلہ افزائی نہ کی گئی۔ بلکہ حضرت اُمّ حبیبہؓ کے ہاں تو ابو سفیان کو عجیب واقعہ پیش آیا۔ وہ جب اپنی بیٹی کے ہاں گئے تو حضورﷺ کا بستر بچھا ہوا تھا‘وہ بستر پر بیٹھنے لگے تو اُمِ حبیبہؓ نے فرمایا کہ ابا جان ذرا ٹھہریے! اس پر وہ کھڑے کے کھڑے رہ گئے۔ بیٹی نے بستر تہ کر دیا اور فرمایا کہ ہاں ابا جان اب آپ بیٹھ جائیے۔ ابوسفیان کے لیے یہ کوئی معمولی بات نہیں تھی‘وہ قریش کے سب سے بڑے سردار اور رئیس تھے اور بستر تہ کرنے والی اُن کی اپنی بیٹی تھی۔ چنانچہ انہوں نے پوچھا :بیٹی! کیا یہ بستر میرے لائق نہیں تھا یا میں اس بستر کے لائق نہیں؟ بیٹی نے جواب دیا : ابا جان! آپ اس بستر کے لائق نہیں۔ یہ اللہ کے نبی ﷺکا بستر ہے اور آپ مشرک ہیں! اس کے بعد ابوسفیان اب کہتے تو کیا کہتے ! وہ تو آئے تھے بیٹی سے سفارش کروانے اوریہاں تو معاملہ بالکل ہی اُلٹ ہو گیا۔ چنانچہ مطلب کی بات کے لیے تو اُن کی زبان بھی نہ کھل سکی ہو گی۔
بہر حال ابو سفیان نے رسول اللہﷺ سے مل کر تجدید صلح کی درخواست کی مگر حضورﷺ نے قبول نہ فرمائی۔ اِن حالات میں ممکن ہے کہ کچھ لوگوں نے چہ می گوئیاں بھی کی ہوں کہ دیکھیں جی قریش کا سردار خود چل کر آیا تھا‘وہ صلح کی بھیک مانگ رہا تھا‘صلح بہتر ہوتی ہے‘حضورﷺکیوں صلح نہیں کر رہے ‘وغیرہ وغیرہ۔ چنانچہ اس پس منظر میں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ کے نزدیک ان مشرکین کے لیے اب کوئی معاہدہ کیسے قائم رہ سکتا ہے؟ یعنی ان کے کسی عہد کی ذمہ داری اللہ اور اُس کے رسولﷺ پر کس طرح باقی رہ سکتی ہے؟
’’تو جب تک وہ تمہارے لیے (اس پر) قائم رہیں تم بھی ان کے لیے (معاہدے پر) قائم رہو۔بے شک اللہ متّقین کو پسند کرتا ہے۔‘‘
یعنی جب تک مشرکین صلح کے اس معاہدے پر قائم رہے‘تم لوگوں نے بھی اس کی پوری پوری پابندی کی‘ مگر اب جب کہ وہ خود ہی اسے توڑ چکے ہیں تو اب تمہارے اوپر اس سلسلے میں کوئی اخلاقی دباؤ نہیں ہے کہ لازماً اس معاہدے کی تجدید کی جائے۔ رسول اللہﷺ کو معلوم تھا کہ اب ان مشرکین میں اتنا دم نہیں ہے کہ وہ مقابلہ کر سکیں۔ ان حالات میں معاہدے کی تجدید کا مطلب تو یہ تھا کہ کفر اور شرک کو اپنی مذموم سرگرمیوں کے لیے پھر سے کھلی چھٹی (fresh lease of existance) مل جائے۔ اس لیے حضورﷺ نے معاہدے کی تجدید قبول نہیں فرمائی۔
’’کیسے (کوئی معاہدہ قائم رہ سکتا ہے ان سے!) جبکہ اگر وہ تم پر غالب آ جائیں تو ہر گز لحاظ نہیں کریں گے تمہارے بارے میں کسی قرابت کا اور نہ عہد کا۔‘‘
ایسے لوگوں سے آخر کوئی معاہد ہ کیوں کر قائم رہ سکتا ہے جن کا کردار یہ ہو کہ اگر وہ تم پر غلبہ حاصل کر لیں تو پھر نہ قرابت داری کا لحاظ کریں اور نہ کسی معاہدے کے تقدس کا پاس۔
یُرۡضُوۡنَکُمۡ بِاَفۡوَاہِہِمۡ
’’راضی کرنا چاہتے ہیں تم لوگوں کو اپنے منہ (کی باتوں) سے‘‘
اب وہ صلح کی تجدید کی خاطر آئے ہیں تو اس کے لیے بظاہر خوشامد اور چاپلوسی کر رہے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ اس طرح آپ لوگوں کو راضی کر لیں۔
’’جبکہ اُن کے دل (اب بھی) انکاری ہیں ‘اور اُن کی اکثریت فاسقین پر مشتمل ہے۔‘‘
جو باتیں وہ زبان سے کر رہے ہیں وہ اُن کے دل کی آواز نہیں ہے۔ دل سے وہ ابھی بھی نیک نیتی کے ساتھ صلح پر آمادہ نہیں ہیں۔
آیت 9
اِشۡتَرَوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ ثَمَنًا قَلِیۡلًا
’’انہوں نے اللہ کی آیات کوفروخت کیا حقیر سی قیمت کے عوض‘‘
انہوں نے اللہ تعالیٰ کی آیات کی قدر نہیں کی اور ان کے بدلے میں حقیر سادُنیوی فائدہ حاصل کر لیا۔ انہوں نے محمدﷺ کو اللہ کا رسول جانتے ہوئے اور حق کو پہچانتے ہوئے صرف اس لیے رد کر دیا کہ اُن کی چودھراہٹیں قائم رہیں‘ لیکن انہیں بہت جلد معلوم ہو جائے گا کہ انہوں نے بہت گھاٹے کا سودا کیا تھا۔
’’پھر بھی اگر وہ توبہ کرلیں‘نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔‘‘
اللہ نے ان کے لیے اب بھی توبہ کا دروازہ کھلا رکھا ہوا ہے۔ اب بھی اگر وہ اسلام قبول کر لیں اور شعارِ دینی کو اپنا لیں تو وہ تمہاری دینی برادری میں شامل ہو سکتے ہیں۔
’’توتم جنگ کرو کفر کے ان اماموں سے‘ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں‘‘
یہ بہت اہم اور قابل توجہ نکتہ ہے۔ جزیرہ نمائے عرب کے اندر کافر اور مشرک تو بہت تھے مگر یہاں خصوصی طور پر کفر اور شرک کے پیشوائوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ یہ ’’ائمّۃ الکُفر‘‘ ( کفر کے امام )قریش تھے۔ وہ کعبہ کے متولی اور تمام قبائل کے بتوں کے مجاور تھے۔ دوسری طرف سیاسی‘معاشرتی اور معاشی لحاظ سے مکہ کو ’’اُمّ القریٰ‘‘ کی حیثیت حاصل تھی اور یہ شہر اُن کے زیرِ تسلط تھا۔ اُس وقت اگرچہ جزیرہ نمائے عرب میں نہ کوئی مرکزی حکومت تھی اور نہ ہی کوئی باقاعدہ مرکزی دارالحکومت تھا‘ مگر پھر بھی اس پورے خطے کا مرکزی شہر اور معنوی صدر مقام مکہ ہی تھا‘ اور اس مرکزی شہر اور اُمّ القریٰ میں واقع اللہ کے گھر کو قریش نے شرک کا اڈا بنایا ہوا تھا۔ اس لیے جب تک ان کو شکست دے کر مکہ کو کفر اور شرک سے پاک نہ کر دیا جاتا ‘جزیرہ نمائے عرب کے اندر دین کے غلبے کا تصور نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس لیے یہاں { فَقَاتِلُوۡۤا اَئِمَّۃَ الۡکُفۡرِ ۙ} کا واضح حکم دیا گیاہے‘ کہ جب تک کفر کے ان سرغنوں کا سر نہیں کچلاجائے گا اور شرک کے اس مرکزی اڈے کو ختم نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک سرزمین عرب میں دین کے کلی غلبے کی راہ ہموار نہیں ہو گی۔
لَعَلَّہُمۡ یَنۡتَہُوۡنَ ﴿۱۲﴾
’’شاید کہ (اس طرح) وہ باز آ جائیں۔‘‘
یعنی ان پر سختی کی جائے گی تو شاید وہ باز آ جائیں ‘نرمی سے یہ کوئی بات ماننے والے نہیں ہیں۔
’’تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم جنگ نہیں کرنا چاہتے ایسی قوم سے جنہوں نے اپنے قول و قرار توڑ دیے اور رسولؐ کو جلاوطن کرنے کا قصد کیا‘‘
اے مسلمانو! مشرکینِ مکہ نے صلح حدیبیہ کو خود توڑا ہے‘جبکہ تمہاری طرف سے اس معاہدے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی تھی‘ اور یہ وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے اللہ کے رسولﷺ کو مکہ سے جلاوطنی پر مجبو ر کیا تھا۔ تو آخر کیا وجہ ہے کہ اب جب ان سے جنگ کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے تو تم میں سے کچھ لوگ تذ بذب کا شکار ہو رہے ہیں۔
وَ ہُمۡ بَدَءُوۡکُمۡ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ؕ
’’اور انہوں نے ہی آغاز کیا تھا تمہارے ساتھ پہلی مرتبہ۔‘‘
یعنی مکہ کے اندر مسلمانوں کو ستانے اور تکلیفیں پہنچانے کی کار ستانیاں ہوں یا غزوئہ بدر میں جنگ چھیڑنے کا معاملہ ہو یا صلح حدیبیہ کے توڑنے کا واقعہ ‘تمہارے ساتھ ہر زیادتی اور ہر بے اصولی کی پہل ہمیشہ ان لوگوں ہی کی طرف سے ہوتی رہی ہے ۔
اَتَخۡشَوۡنَہُمۡ ۚ
’’کیا تم ان سے ڈر رہے ہو؟‘‘
یہ متجسسانہ سوال (searching question) کا انداز ہے کہ ذرا اپنے گریبانوں میں جھانکو‘اپنے دلوں کو ٹٹولو‘کیا واقعی تم ان سے ڈر رہے ہو؟ کیا تم پر کوئی بزدلی طاری ہو گئی ہے؟ آخر تم قریش کے خلاف اقدام سے کیوں گھبرا رہے ہو؟
’’تم ان سے جنگ کرو‘اللہ انہیں عذاب دے گا تمہارے ہاتھوں‘اور ان کو رسوا کرے گا‘اور تمہاری مدد کرے گا ان کے مقابلے میں اور بہت سے اہلِ ایمان کے سینوں کو ٹھنڈک عطافرمائے گا۔‘‘
آیت 15
وَ یُذۡہِبۡ غَیۡظَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ
’’ اور ان کے دلوں کے غصہ کو نکال دے گا۔‘‘
اللہ تعالیٰ اس اقدام کے نتائج کے طور پر مسلمانوں کے سینوں کی جلن کو دور کرے گا اور انہیں ٹھنڈک عطا فرمائے گا۔ مکہ میں ابھی بھی ایسے مسلمان موجود تھے جن کو قریش کی طرف سے تکالیف پہنچائی جا رہی تھیں۔ ابھی بھی مسلمان بچوں‘عورتوں اور ضعیفوں پر مظالم ڈھائے جا رہے تھے۔ چنانچہ جب تمہارے حملے کے نتیجے میں ان ظالموں کی درگت بنے گی تو مظلوم مسلمانوں کے سینوں کی جلن بھی کچھ کم ہو گی۔
’’اور اللہ جس کو چاہے گا توبہ کی توفیق دے گا۔اور اللہ جاننے والا‘ حکمت والا ہے۔‘‘
اب جو آیت ’’اَمْ حَسِبْتُمْ ‘‘ کے الفاظ سے شروع ہو رہی ہے وہ اپنے خاص انداز اور لہجے کے ساتھ قرآن میں تین مرتبہ آئی ہے۔ دو مرتبہ اس سے پہلے اور تیسری مرتبہ یہاں ۔سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱۴ میں فرمایا: {اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَاۡتِکُمۡ مَّثَلُ الَّذِیۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِکُمۡ ؕ} سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۴۲ میں فرمایا: {اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ} اور یہاں (اس سورت کی آیت ۱۶ میں )فرمایا: {اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تُتۡرَکُوۡا وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ}
ایک ہی موضوع کی حامل ان تینوں آیات کے نہ صرف الفاظ آپس میں ملتے ہیں ‘ بلکہ ان میں ایک عجیب و غریب مشابہت یہ بھی ہے کہ ہر آیت کے نمبر کے ہندسوں کا حاصل جمع ۷ آتا ہے۔
’’کیا تم نے گمان کر لیا ہے کہ تم یوں ہی چھوڑ دیے جاؤ گے ‘ حالانکہ ابھی تو اللہ نے یہ دیکھا ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جو جہاد کرنے والے ہیں‘‘
دوسری قوموں کے خلاف برسر پیکار ہونا اور بات ہے‘لیکن اپنی قوم کے خلاف جہاد کرنے کے لیے جانا نسبتاً سخت امتحان ہے۔ چنانچہ اللہ تمہارا یہ امتحان بھی لینا چاہتا ہے۔
’’مشرکوں کا یہ حق نہیں ہے کہ وہ آباد کریں اللہ کی مسجدوں کواپنے اوپر کفر کی گواہی دیتے ہوئے۔‘‘
یہ مساجد تواللہ کے گھر ہیں‘یہ کعبہ اللہ کا گھر اور توحید کا مرکز ہے‘ جبکہ قریش علی الاعلان کفر پر ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ کے گھر کے متولی بھی بنے بیٹھے ہیں۔ ایسا کیونکر ممکن ہے؟ اللہ کے اِن دشمنوں کا اس کی مساجد کے اوپر کوئی حق بھلا کیسے ہو سکتا ہے؟
’’یہ وہ لوگ ہیں جن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے ہیں‘اور آگ ہی میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘
بیت اللہ کی دیکھ بھال اور حاجیوں کی خدمت جیسے وہ اعمال جن پر مشرکینِ مکہ پھولے نہیں سماتے‘ایمان کے بغیر اللہ کے نزدیک اُن کے اِن اعمال کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اُن کے کفر کے سبب اللہ نے ان کے تمام اعمال ضائع کر دیے ہیں۔
’’یقینا اللہ کی مسجدوں کو تو وہ لوگ آباد کرتے ہیں جو ایمان لائیں اللہ پر اور یومِ آخرت پر‘نماز قائم کریں‘ زکوٰۃ ادا کریں‘اور نہ ڈریں کسی سے سوائے اللہ کے‘‘
’’کیا تم نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجدِ حرام کو آباد رکھنے کوبرابر کر دیا ہے اُس شخص (کے اعمال )کے جو ایمان لایا اللہ پر اور یومِ آخرت پر اور اُس نے جہاد کیااللہ کی راہ میں ؟‘‘
مشرکینِ مکہ اس بات پر بہت نازا ں ہیں کہ انہوں نے بیت اللہ کو آباد رکھا ہو اہے اور وہ حاجیوں کو پانی پلانے جیسا کارِ خیر سر انجام دیتے ہیں ‘تو کیا اُن کے یہ امور ایمان باللہ‘ایمان بالآ خرت اور جہاد فی سبیل اللہ کے برابر ہو جائیں گے؟
’’ جن میں وہ رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔ یقینا اللہ ہی کے پاس ہے بہت بڑا اجر۔‘‘
اگلی دو آیات اپنے موضوع اور فلسفۂ دین کے اعتبار سے بہت اہم ہیں۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘مکہ پر چڑھائی کے سلسلے میں بعض مسلمانوں میں تذبذب پایاجاتا تھا۔ اس کی ایک بہت ہی اہم وجہ یہ تھی کہ مشرکینِ مکہ میں سے اکثر کے ساتھ مہاجرین کی بہت قریبی عزیز داریاں تھیں۔ ابھی تک تو کچھ اُمید تھی کہ شاید وہ لوگ ایمان لے آئیں گے‘ مگر اب صاف نظر آ رہا تھا کہ مکہ پر چڑھائی کی صورت میں اپنے قریبی عزیزوں کے خلاف لڑنا ہو گا‘ اپنے بھائیوں‘بیٹوں اور باپوں کے گلے کاٹنا ہوں گے۔ انسانی سطح پر یہ کوئی آسان کام نہیں تھا‘ مگر اللہ تعالیٰ کو ابھی مسلمانوں کا یہ مشکل ترین امتحان لینا بھی مقصو د تھا۔ لہٰذ ا یہ آیات اس ضمن میں اللہ کی مرضی اور دین حق کا اصول بہت واضح اور دو ٹوک الفاظ میں بیان کر رہی ہیں۔
’’اے اہلِ ایمان! اپنے باپوں اور بھائیوں کو دلی دوست اور حمایتی مت بنائواگر انہوں نے ایمان کے مقابلے میں کفر کو پسند کیاہے۔‘‘
اگر تم میں سے کسی کے دل میں اب بھی اپنے کافر اقرباء کے لیے محبت کی کوئی رمق موجود ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی ایمان کے ساتھ اس کا رشتہ مضبوط نہیں ہوا۔اللہ ‘اُس کے دین اور توحید کے لیے اس کے جذبات میں غیرت وحمیت نہیں ہے۔
’’ (اے نبی ﷺ !ان سے)کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘تمہارے بیٹے‘تمہارے بھائی‘تمہاری بیویاں (اور بیویوں کے لیے شوہر)‘تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘( اگر یہ سب چیزیں) تمہیں محبوب تر ہیں اللہ‘اُس کے رسول اور اُس کے رستے میں جہاد سے ‘تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔‘‘
اس آیت میں آٹھ چیزیں گنوا کر دو ٹوک انداز میں بتادیا گیا ہے کہ اگر کسی کے دل میں ان آٹھ محبتوں میں سے کسی ایک یا ان سب محبتوں کا جذبہ اللہ‘اُس کے رسول اور اُس کے رستے میں جہاد کی محبتوں کے جذبے کے مقابلے میں زیادہ ہے تو پھر اللہ کے فیصلے کا انتظار کرے۔ یہ بہت سخت اور رونگٹے کھڑے کر دینے والا لہجہ اور انداز ہے۔ ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے باطن میں ایک ترازو نصب کرے۔ اس کے ایک پلڑے میں یہ آٹھ محبتیں ڈالے اور دوسرے میں اللہ‘اُس کے رسولﷺاور جہاد کی تین محبتیں ڈالے اور پھر اپنا جائزہ لے کہ میں کہاں کھڑا ہوں! چونکہ انسان خود اپنے نفس سے خوب واقف ہے {بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾} (القیامہ) اس لیے اگر وہ غور کرے گا تو اسے اپنے باطن کی صحیح صورتِ حال ضرور معلوم ہو جائے گی۔ بہر حال اس سلسلے میں ہر مسلمان کو معلوم ہونا چاہیے کہ اگر تو اُس کی ساری خواہشیں‘محبتیں اور حقوق (بیوی‘اولاد‘نفس وغیرہ کے حقوق) مذکورہ تین محبتوں کے تابع ہیں تو اُس کے معاملاتِ ایمان درست ہیں‘ لیکن اگر مذکورہ آٹھ چیزوں میں سے کسی ایک بھی چیز کی محبت کا گراف اوپر چلا گیا تو بس یوں سمجھیں کہ وہاں توحید ختم ہوجائے گی اور شرک شروع ہو جائے گا! اسی فلسفہ کو علامہ اقبال ؔنے اپنے اس شعرمیں اس طرح پیش کیا ہے:
یہ مال و دولت دنیا‘یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں‘ لَا اِلٰـہَ اِلاَّ اللّٰہ!
آیت زیر نظر میں جو آٹھ چیزیں گنوائی گئی ہیں ان میں پہلی پانچ ’’رشتہ وپیوند‘‘ کے زُمرے میں آتی ہیں جب کہ آخری تین ’’ مال و دولتِ دنیا‘‘ کی مختلف شکلیں ہیں۔ علامہ اقبال ؔفرماتے ہیں کہ ان چیزوں کی اصل میں کوئی حقیقت نہیں ہے ‘یہ ہمارے وہم و توہم کے بنائے ہوئے بت ہیں۔ جب تک لَا اِلٰــہَ اِلاَّ اللّٰہ کی شمشیر سے اِن بتوں کو توڑا نہیں جائے گا ‘بندۂ مومن کے نہاں خانۂ دل میں توحید کا علم بلند نہیں ہو گا۔
دوسرے اور تیسرے رکوع پر مشتمل وہ خطبہ جو رمضان ۸ ہجری سے قبل نازل ہوا تھا یہا ں ختم ہوا۔ اب چوتھے رکوع کے آغاز سے سلسلۂ کلام پھر سے سورت کی ابتدائی چھ آیات کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔