سورۃ التوبہ کئی خطبات پر مشتمل ہے اور ان میں سے ہر خطبہ الگ پس منظر میں نازل ہوا ہے۔ جب تک ان مختلف خطبات کے پس منظر اور زمانۂ نزول کا الگ الگ تعین درست اندازمیں نہ ہو جائے‘متعلقہ آیات کی درست توضیح و تشریح کرنا ممکن نہیں۔ چنانچہ جن لوگوں نے اس سورت کی تفسیر کرتے ہوئے پوری احتیاط سے تحقیق نہیں کی ‘وہ خود بھی مغالطوں کا شکار ہوئے ہیں اور دوسروںکو بھی شکوک و شبہات میں مبتلا کرنے کا باعث بنے ہیں۔اس لحاظ سے یہ سورت قرآن حکیم کی مشکل ترین سورت ہے اور اس کی تفہیم کے لیے انتہائی محتاط تحقیق اور گہرے تدبر کی ضرورت ہے۔
سورۃ التوبہ اور حضورﷺ کی بعثت کے دو پہلو: حضرت محمد رسول اللہ ﷺسے قبل ہر پیغمبر کو ایک خاص علاقے اور خاص قوم کی طرف مبعوث کیا گیا‘ مگر آپؐ اپنی قوم (بنواسماعیل) کی طرف بھی رسول بن کرآئے اور قیامت تک کے لیے پوری دنیا کے تمام انسانوں کی طرف بھی۔ یہ فضیلت تمام انبیاء و رُسل علیہم السلام میں صرف آپﷺ کے لیے مخصوص ہے کہ آپؐ کو دو بعثتوں کے ساتھ مبعوث فرمایا گیا‘ایک بعثتِ خصوصی اور دوسری بعثتِ عمومی۔ آپؐ کی بعثت کے ان دونوں پہلوئوں کے حوالے سے سورۃ التوبہ کی آیات میں بھی ایک بڑی خوبصورت تقسیم ملتی ہے ۔ وہ اس طرح کہ اس سورت کے بھی بنیادی طور پر دو حصے ہیں۔ ان میں سے ایک حصہ آپﷺ کی بعثت کے خصوصی پہلو سے متعلق ہے‘جبکہ دوسرے حصے کا تعلق آپؐ کی بعثت کے عمومی پہلو سے ہے۔ چنانچہ سورت کے ان دونوں حصوں کے موضوعات و مضامین کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے حضورﷺ کی بعثت کے ان دونوں پہلوئوں کے فلسفے کو اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیا جائے۔
حضورﷺ کی بعثت خصوصی : محمد عربی ﷺ کی خصوصی بعثت مشرکین عرب یا بنو اسماعیل کی طرف تھی۔ آپؐ کا تعلق بھی اسی قوم سے تھا اور آپﷺ نے ان لوگوں کے اندر رہ کر ‘خود ان کی زبان میں ‘اللہ کا پیغام اُن تک پہنچا دیااور ان پر آخری حد تک اتمامِ حجت بھی کر دیا۔ بعد میں اسی حوالے سے مشرکینِ عرب پر اللہ کے اس قدیم قانون کا نفاذ بھی عمل میں آیا کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجا جائے اور وہ رسول اپنی دعوت کے سلسلے میں اس قوم پر اتمامِ حجت کر دے‘ اس اتمامِ حجت کے بعد اگر وہ قوم اپنے رسول کی دعوت کو رد کر دے تو اس پر عذابِ استیصال مسلط کر دیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں مشرکین عرب پر عذابِ استیصال کی نوعیت معروضی حالات کے پیش نظر پہلی قوموں کے مقابلے میں مختلف نظر آتی ہے۔ اس عذاب کی پہلی قسط غزوۂ بدر میں مٹھی بھر نہتے مسلمانوں کے ہاتھوں مشرکینِ مکہ کی ہزیمت و شکست کی صورت میں سامنے آئی جبکہ اس عذاب کی دوسری اور آخری قسط ۹ہجری میں ظہور پذیر ہوئی ‘جس کا ذکر اس سورت کے آغاز میں کیا گیا ہے۔ بہر حال اپنی بعثتِ خصوصی کے حوالے سے حضورﷺ نے جزیرہ نمائے عرب میں دین کو غالب کر دیا‘اور اس خطہ زمین میں آپﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہی اقامت دین کا عملی نقشہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو گیا۔
حضورﷺ کی بعثتِ عمومی : نبی اکرمﷺ کی بعثتِ عمومی پوری انسانیت کی طرف قیامت تک کے لیے ہے۔ اس سلسلے میں دعوت کا آغاز آپﷺ نے صلح حدیبیہ (۶ہجری) کے بعد فرمایا۔ اس سے پہلے آپﷺ نے کوئی مبلغ یا داعی عرب سے باہر نہیں بھیجا‘ بلکہ تب تک آپؐ نے اپنی پوری توجہ جزیرہ نمائے عرب کے علاقے پر ہی مرکوز رکھی اور اپنے تمام وسائل اسی خطہ میں دین کو غالب کرنے کے لیے صرف کیے۔ لیکن جونہی آپﷺ کو اس سلسلے میں ٹھوس کامیابی ملی‘یعنی قریش نے آپﷺ کو بطورِ فریق ثانی کے تسلیم کر کے آپﷺ سے صلح کر لی‘ (قرآن نے سورۃ الفتح کی پہلی آیت میں اس صلح کو ’’فتح مبین‘‘ قرار دیا ہے) تو آپﷺ نے اپنی بعثت عمومی کے تحت دعوت کا آغاز کرتے ہوئے عرب سے باہر مختلف سلاطین و امراء کی طرف خطوط بھیجنے شروع کر دیے ۔ اس سلسلے میں آپﷺ نے جن فرمانروائوں کو خطوط لکھے‘اُن میں قیصر روم‘ایران کے بادشاہ کسریٰ‘مصر کے بادشاہ مقوقس اور حبشہ کے فرمانروا نجاشی (یہ عیسائی حکمران اس نجاشی کا جانشین تھا جنہوں نے مسلمانوں کی ہجرتِ حبشہ کے زمانے میں اسلام قبول کر لیا تھا‘اور جن کی غائبانہ نمازِ جنازہ حضورﷺ نے خود پڑھائی تھی) کے نام شامل ہیں۔ [نوٹ: ماضی قریب میں یہ چاروں خطوط اصل متن کے ساتھ اصل شکل میں دریافت ہوچکے ہیں۔]آپؐ کے انہی خطوط کے ردِّ عمل کے طور پر سلطنتِ روما کے ساتھ مسلمانوں کے ٹکرائو کا آغاز ہوا‘ جس کا نتیجہ نبی اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ ہی میں جنگِ موتہ اور غزوۂ تبوک کی صورت میں نکلا۔ بہر حال ان تمام حالات وواقعات کا تعلق آپﷺ کی بعثتِ عمومی سے ہے‘جس کی دعوت کا آغاز آپﷺ کی زندگی مبارک ہی میں ہو گیا تھا‘ اور پھر خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر آپﷺ نے واضح طور پر یہ فریضہ اُمت کے ہر فردکی طرف منتقل فرما دیا۔ اس لحاظ سے اب تا قیامِ قیامت آپﷺ پر ایمان رکھنے والا ہر مسلمان اسلام کی دعوت و تبلیغ اور اقامتِ دین کے لیے محنت و کوشش کرنے کا مکلف ہے۔
موضوعات:
مضامین و موضوعات کے حوالے سے یہ سورت دو حصوں پر مشتمل ہے ‘جن کی تفصیل درج ذیل ہے :
حصّہ اوّل: یہ حصہ سور ت کے پہلے پانچ رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس کا تعلق رسول اللہﷺ کی بعثتِ خصوصی کے تکمیلی مرحلے سے ہے۔ آیات کی ترتیب کے مطابق اگر چہ یہ پانچ رکوع بھی مزید تین حصوں میں بٹے ہوئے ہیں‘ مگر موضوع کے اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ حصہ ہمیں دو خطبات پر مشتمل نظر آتا ہے‘ جن کا الگ الگ تعارف ذیل کی سطور میں دیا جا رہا ہے۔
پہلا خطبہ: پہلا خطبہ دوسرے اور تیسرے رکوع پر مشتمل ہے اور یہ فتح مکہ (۸ ہجری) سے پہلے نازل ہوا۔ اس خطبہ میں مسلمانوں کو فتح مکہ کے لیے نکلنے پر آمادہ کیا گیاہے۔مکہ پر چڑھائی کا معاملہ دراصل بہت نازک اور حساس تھا۔ مسلمان مہاجرین کی مشرکینِ مکہ کے ساتھ براہِ راست قریبی رشتہ داریاں تھیں‘ان کے خاندان اور قبیلے مشترک تھے‘حتیٰ کہ بہت سے مسلمانوں کے اہل وعیال بھی مکہ میں تھے۔ کچھ غریب‘بے سہارا مسلمان بھی‘جو مختلف وجوہات کی بناپر ہجرت نہیں کر سکے تھے ‘ابھی تک مکہ میں پھنسے ہوئے تھے۔ اب سوال یہ تھا کہ اگر جنگ ہوگی ‘مکہ پر حملہ ہو گا تو ان سب کا کیا بنے گا؟ کیا گندم کے ساتھ گھن بھی پس جائے گا؟ دوسری طرف قریش مکہ کایہ ظاہری اعزاز بھی بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ایک سوالیہ نشان بنا ہوا تھاکہ وہ بیت اللہ کے متولی ہیں اور حجاج کی خدمت کرتے ہیں۔ اس حوالے سے کہیں سادہ دل مسلمان اپنے خدشات کا اظہار کر رہے تھے تو کہیں منافقین اس موضوع کو ہوا دے کر لگائی بجھائی میں مصروف تھے۔ چنانچہ متعلقہ آیات کا مطالعہ کرتے ہوئے ان تمام حقائق کو مدنظر رکھنا ضروری ہے ۔
دوسرا خطبہ : دوسرا خطبہ پہلے ‘چوتھے اور پانچویں رکوع پر مشتمل ہے اور یہ ذوالقعدہ ۹ہجری کے بعد نازل ہوا۔ موضوع کی خصوصی اہمیت کے پیشِ نظر اس میں سے چھ آیات کو مقدم کر کے سورت کے آغاز میں لایا گیا ہے۔ یہ وہی آیات ہیں جن کے ساتھ حضورﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قافلۂ حج کے پیچھے بھیجا تھا۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ ۹ ہجری میں حضورﷺ خود حج پر تشریف نہیں لے گئے تھے ‘اس سال آپﷺ نے حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو امیرحج بنا کر بھیجاتھا۔ حج کا یہ قافلہ ذوالقعدہ ۹ ہجری میں روانہ ہوا‘جبکہ یہ آیات اس قافلہ کے روانہ ہونے کے بعد نازل ہوئیں ۔چنانچہ نبی اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قافلے کے پیچھے مکہ بھیجا کہ حج کے موقع پر علی الاعلان یہ آیات سب کو سنا دی جائیں۔ سن ۹ ہجری کے اس حج میں مشرکینِ مکہ بھی شامل تھے۔ چنانچہ وہاں حج کے اجتماع میں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ آیات خصوصی اعلان کے طور پر پڑھ کر سنائیں۔ ان آیات کے تحت مشرکین کے ساتھ ہر قسم کے معاہدے سے اعلانِ براء ت کر دیا گیا اور یہ واضح کر دیا گیا کہ آئندہ کوئی مشرک حج کے لیے نہ آئے۔ مشرکینِ عرب کے لیے چار ماہ کی مہلت کا اعلان کیا گیا کہ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ایمان لانا چاہیں تو لے آئیں‘ورنہ اُن سب کو قتل کردیا جائے گا۔
یہ آیات چونکہ قرآن کریم کی سخت ترین آیات ہیں‘اس لیے ضروری ہے کہ ان کے پس منظر کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔ ان آیات میں دیے گئے احکامات دراصل اُس عذابِ استیصال کے قائم مقام ہیں جو قومِ نوحؑ ‘ قومِ ہودؑ‘قومِ صالحؑ ‘قومِ شعیب‘ؑقومِ لوطؑ اور آلِ فرعون پر آیا تھا۔ ان تمام قوموں پر عذابِ استیصال اللہ تعالیٰ کے اس اٹل قانون کے تحت آیاتھاجس کا ذکر ان تمہیدی کلمات کے آغاز میں ’’حضورﷺ کی بعثت خصوصی‘‘ کے عنوان کے تحت ہو چکا ہے۔ اس قانون کے تحت مشرکین مکہ اب عذابِ استیصال کے مستحق ہو چکے تھے‘ اس لیے کہ حضورﷺ نے انہی کی زبان میں اللہ کے احکامات ان تک پہنچا کر اُن پر حجت تمام کر دی تھی۔ اس سلسلے میں اللہ کی مشیت کے مطابق ان کو جو مہلت دی گئی تھی وہ بھی ختم ہو چکی تھی۔ چنانچہ ان پر عذاب استیصال کی پہلی قسط میدانِ بدر میں نازل کی گئی اور دوسری اور آخری قسط کے طورپر اب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا کہ تمہارے پاس سوچنے اور فیصلہ کرنے کے لیے صرف چار ماہ ہیں۔ اس مدت میں ایمان لانا چاہو تو لے آؤ ‘ورنہ قتل کردیے جاؤ گے۔ اس حکم کے اندر اُن کے لیے یہ آپشن خود بخود موجود تھا کہ وہ چاہیں تو جزیرہ نمائے عرب سے باہر بھی جاسکتے ہیں ‘مگر اس خطہ کے اندر اب وہ مشرکین کی حیثیت سے نہیں رہ سکتے‘ کیونکہ اب جزیرہ نمائے عرب کو شرک سے بالکل پاک کر دینے اور محمد رسول اللہﷺ کی بعثت خصوصی کی تکمیلی شان کے ظہور کا وقت آن پہنچا تھا۔
ایک اشکال کی وضاحت: یہاں ایک اشکال اس وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ آیات کی موجودہ ترتیب خطبات کی زمانی ترتیب کے بالکل برعکس ہے۔ جو خطبہ پہلے (۸ ہجری میں) نازل ہوا ہے وہ سورت میں دوسرے رکوع سے شروع ہو رہا ہے‘ جبکہ بعد (۹ ہجری) میں نازل ہونے والی آیات کو مقدم کر کے سورت کے آغاز میں درج کیا گیا ہے۔ پھر یہ دوسرا خطبہ بھی آیات کی ترتیب کے لحاظ سے دو حصوں میں تقسیم ہوگیا ہے ۔ اس کی ابتدائی چھ آیات پہلے رکوع میں آ گئی ہیں‘ جبکہ بقیہ آیات چوتھے اور پانچویں رکوع میں ہیں۔ دراصل ترتیب آیات میں اس پیچیدگی کی وجہ قرآن کا وہ خاص اسلوب ہے جس کے تحت کسی انتہائی اہم بات کو موضوع کی منطقی اور روایتی ترتیب میں سے نکال کر شہ سرخی (head line) کے طور پر پہلے بیان کر دیا جاتا ہے ۔ اس اسلوب کو سمجھنے کے لیے سورۃ الانفا ل کے آغاز کی مثال بھی مدنظر رہنی چاہیے ۔ سورۃ الانفال کے موضوعات میں سے ایک موضوع مال غنیمت سے متعلق ہے۔ اس معاملے پر تفصیلی بحث تو بعد میں ہونا مقصود تھی‘ لیکن چونکہ یہ معاملہ انتہائی اہم اور حساس تھااس لیے اس ضمن میں بنیادی اصول سورت کی پہلی آیت میں بیان کر دیا گیا اور مسئلے کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر اس موضوع سے سورت کا آغاز فرمایا گیا۔ بالکل اسی انداز میں اس سورت کا آغاز بھی ایک انتہائی اہم مسئلے کے بیان سے کیا گیا‘البتہ اس مسئلے کی بقیہ تفصیل بعد میں چوتھے اور پانچویں رکوع میں بیان ہوئی۔
حصہ دوم: اس سورت کا دوسرا حصہ چھٹے رکوع سے لے کر آخر تک گیارہ رکوعوں پر مشتمل ہے اور اس کا تعلق حضورﷺ کی بعثتِ عمومی سے ہے۔ اس لیے کہ اس حصے کا مرکزی موضوع غزوۂ تبوک ہے ‘اور غزوۂ تبوک تمہید تھی اقامت دین کے حوالے سے کی جانے والی اُس جدوجہد کی جس کا آغاز مستقبل قریب میں جزیرہ نمائے عرب سے باہر بین الاقوامی سطح پر ہونے والا تھا۔ اِ ن گیارہ رکوعوں میں سے ابتدائی چار رکوع تو وہ ہیں جو غزوۂ تبوک کے لیے مسلمانوں کو ذہنی طور پر تیار کرنے سے متعلق ہیں‘چند آیات وہ ہیں جو تبوک جاتے ہوئے دورانِ سفر نازل ہوئیں ‘چند آیات تبوک میں قیام کے دوران اور کچھ تبوک سے واپسی پر راستے میں نازل ہوئیں‘ جبکہ ان میں کچھ آیات ایسی بھی ہیں جو تبوک سے واپسی کے بعد مدینہ میں نازل ہوئیں۔
’’اعلانِ برا ء ت ہے اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف سے اُن لوگوں کی جانب جن سے (اے مسلمانو!) تم نے معاہدے کیے تھے مشرکین میں سے ۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسے تمام معاہدے ختم کرنے کا دو ٹوک الفاظ میں اعلان ہے جو مسلمانوں نے مشرکین کے ساتھ کر رکھے تھے۔ یہ اعلان چونکہ انتہائی اہم اور حساس نوعیت کا تھااورقطعی (categorical) انداز میں کیا گیا تھا ‘اس لیے اس کے ساتھ کچھ شرائط یا استثنائی شقوں کا ذکر بھی کیا گیاجن کی تفصیل آئندہ آیات میں آئے گی۔ واضح رہے کہ سورۃ التوبہ قرآن کی واحد سورت ہے جس کے آغاز میں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم‘‘ نہیں لکھی جاتی۔ اس کا سبب حضرت علی رضی اللہ عنہ نے یہ بیان فرمایاہے کہ یہ سورت تو ننگی تلوار لے کر یعنی مشرکین کے لیے قتلِ عام کا اعلان لے کر نازل ہوئی ہے ‘لہٰذا اللہ تعالیٰ کی رحمانیت اور رحیمیت کی صفات کے ساتھ اس کے مضامین کی مناسبت نہیں ہے۔
آیت 2
فَسِیۡحُوۡا فِی الۡاَرۡضِ اَرۡبَعَۃَ اَشۡہُرٍ
’’تو گھوم پھر لو اس زمین میں چار ماہ تک‘‘
یعنی اس جزیرہ نمائے عرب میں تمہیں رہنے اور گھومنے پھرنے کے لیے صرف چار مہینے کی مہلت دی جارہی ہے۔
’’اور جان لو کہ تم اللہ کو عاجز نہیں کر سکتے اور یہ بھی کہ اللہ کافروں کو رسوا کر کے رہے گا۔‘‘
اب ان مشرکین کے لیے اللہ کے عذاب کی آخری قسط آ کر رہے گی۔ یہ قطعی اعلان تو ایسے معاہدوں کے ضمن میں تھا جن میں کوئی میعاد معین نہیں تھی‘ جیسے عام دوستی کے معاہدے‘جنگ نہ کرنے کے معاہدے وغیرہ۔ ایسے تمام معاہدوں کو چارہ ماہ کی پیشگی وارننگ کے ساتھ ختم کر دیاگیا۔یہ ایک معقول طریقہ تھا جو سورۃ الانفال کی آیت ۵۸ میں بیان کردہ اصول {فَانۡۢبِذۡ اِلَیۡہِمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ} کے مطابق اختیار کیا گیا۔ یعنی معاہدے کو علی الاعلان دوسرے فریق کی طرف پھینک دیا گیا‘اور پھر فوراً اقدام بھی نہیں کیا گیا‘بلکہ چار ماہ کی مہلت بھی دے دی گئی۔
’’ اور اعلانِ عام ہے اللہ اور اُس کے رسولؐ کی طرف سے لوگوں کے لیے حجِ اکبر کے دن‘‘ عمرے کو چونکہ ’’حج اصغر‘‘ کہا جاتا ہے اس لیے یہاں عمرے کے مقابلے میں حج کو ’’حج اکبر‘‘کہا گیاہے۔ ہمارے ہا ں عوام کی طرف سے مشہور کی گئی یہ بات بالکل بے بنیاد ہے کہ حج اگر جمعہ کے دن ہو تو وہ حج اکبرہوتا ہے۔
’’کہ اللہ بری ہے مشرکین سے اور اُس کا رسولؐ بھی۔‘‘
یہ اعلان چونکہ حج کے اجتماع میں کیا گیا تھا اور حج کے لیے جزیرہ نمائے عرب کے تمام اطراف و اکناف سے لوگ آئے ہوئے تھے ‘لہٰذااس موقع پر اعلان کرنے سے یہ گویا عرب کے تمام لوگوں کے لیے اعلانِ عام ہو گیا کہ اب اللہ اور اُس کا رسولؐ مشرکین سے بریٔ الذمہ ہیں اور ان کے ساتھ ان کا کسی بھی قسم کا کوئی معاہدہ نہیں رہا۔
’’پھر انہوں نے کچھ کمی نہیں کی تمہارے ساتھ‘اور نہ تمہارے خلاف مدد کی کسی کی بھی‘‘‘
یہاں میعادی معاہدوں کے سلسلے میں استثناء کا اعلان کیا جا رہا ہے۔ یعنی مشرکین کے ساتھ مسلمانوں کے ایسے معاہدے جو کسی خاص مدت تک ہوئے تھے ‘ان کے بارے میں ارشاد ہو رہا ہے کہ اگر یہ مشرکین تمہارے ساتھ کیے گئے کسی معاہدے کو بخوبی نبھارہے ہیں اور تمام شرائط کی پابندی کر رہے ہیں:
’’تو مکمل کرو اُن کے ساتھ اُن کا معاہدہ مقررہ مدت تک۔‘‘
یعنی اگر مشرکین کے ساتھ کسی خاص مدت تک تمہارا کوئی معاہدہ ہوا تھا اور ان کی طرف سے ابھی تک اس میں کسی قسم کی خلاف ورزی بھی نہیں ہوئی ‘تو اس معاہدے کی جو بھی مدت ہے وہ پوری کرو۔ لیکن اس کے بعد اس معاہدے کی تجدید نہیں ہو گی۔
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُتَّقِیۡنَ ﴿۴﴾
’’یقینا اللہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔‘‘
آیت 5
فَاِذَا انۡسَلَخَ الۡاَشۡہُرُ الۡحُرُمُ
’’پھر جب یہ محترم مہینے گزر جائیں‘‘
یہاں محترم مہینوںسے مراد وہ چار مہینے ہیں جن کی مشرکین کو مہلت دی گئی تھی۔ چار مہینے کی یہ مہلت یا امان غیر میعادی معاہدوں کے لیے تھی‘ جبکہ میعادی معاہدوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ اُن کی طے شدہ مدت تک پابندی کی جائے ۔ لہٰذا جیسے جیسے کسی گروہ کی مدتِ امان ختم ہوتی جائے گی اس لحاظ سے اس کے خلاف اقدام کیا جائے گا ۔ بہر حال جب یہ مہلت اور امان کی مدت گزر جائے :
’’ تو قتل کرو ان مشرکین کو جہاں پاؤ‘اور پکڑو ان کو‘اور گھیراؤ کرو ان کا‘اور ان کے لیے ہر جگہ گھات لگا کر بیٹھو ۔‘‘
ان الفاظ میں موجود سختی کو محسوس کرتے ہوئے اُس منظر اور ماحول کو ذہن میں لائیے جب یہ آیات بطور اعلانِ عام پڑھ کر سنائی جا رہی تھیں اور اندازہ کیجیے کہ ان میں سے ایک ایک لفظ اس ماحول میں کس قدر اہم اور پر تاثیر ہو گا۔ اس اجتماع میں مشرکین بھی موجود تھے اور ان کے لیے یہ اعلان اور الٹی میٹم یقینا بہت بڑی ذلت و رسوائی کا باعث تھا ۔
جب یہ چھ آیات نازل ہوئیں تو رسول اللہﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قافلۂ حج کے پیچھے روانہ کیا اور انہیں تاکید کی کہ حج کے اجتماع میں میرے نمائندے کی حیثیت سے یہ آیات بطورِ اعلانِ عام پڑھ کر سنادیں۔ حضورﷺ نے حضرت علیؓ کی یہ نامزدگی عرب کے عام رواج کے مطابق فرمائی تھی ۔ عرب کے رواج کے مطابق کسی بڑی شخصیت کی طرف سے اگر کوئی اہم اعلان کرنا مقصود ہوتا تو اس شخصیت کا کوئی قریبی عزیز ہی ایسا اعلان کرتا تھا۔ جب حضرت علی رضی اللہ عنہ قافلۂ حج سے جا کر ملے تو قافلہ پڑاؤ پر تھا۔ امیرِ قافلہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تھے۔ جونہی حضرت علیؓ آپؓ سے ملے تو آپؓ نے پہلا سوال یہ کیا: اَمِیرٌ اَوْ مَاْمُورٌ ؟ یعنی آپؓ امیر بنا کر بھیجے گئے ہیں یا مامور؟ مراد یہ تھی کہ سب سے پہلے میری اور آپؓ کی حیثیت کا تعین کر لیا جائے ۔ اگر آپؓ کو امیر بنا کر بھیجا گیا ہے تو میں آپؓ کے لیے اپنی جگہ خالی کر دوں اور خود آپؓ کے سامنے مامور کی حیثیت سے بیٹھوں۔ اس پر حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ میں مامور ہوں‘امیر حج آپؓ ہی ہیں‘ البتہ حج کے اجتماع میں آیاتِ الٰہی پر مشتمل اہم اعلان رسول اللہﷺ کی طرف سے میں کروں گا۔ اس واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حضورﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی تربیت بہت خوبصورت انداز میں فرمائی تھی اور آپﷺ کی اسی تربیت کے باعث اُنؓ کی جماعتی زندگی انتہائی منظم تھی۔ جبکہ آج مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ یہ دنیا کی انتہائی غیر منظم قوم بن کر رہ گئے ہیں۔
’’اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص آپؐ سے پناہ طلب کر ے ‘تو اُسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے‘‘ جزیرہ نمائے عرب میں بہت سے لو گ ایسے بھی ہوں گے جنہوں نے اُس وقت تک رسول اللہﷺ کی دعوت کو سنجیدگی سے سنا ہی نہیں ہو گا۔ اتنے بڑے الٹی میٹم کے بعد ممکن ہے اُن میں سے کچھ لوگ سوچنے پر مجبور ہوئے ہوں کہ اس دعوت کو سمجھنا چاہیے۔ چنانچہ اسی حوالے سے حکم دیا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص تم لوگوں سے پناہ طلب کرے تو نہ صرف اسے پناہ دے دی جائے ‘بلکہ اسے موقع بھی فراہم کیا جائے کہ وہ قرآن کے پیغام کو اچھی طرح سن لے ۔ یہاں پر ’’کلام اللہ‘‘ کے الفاظِ قرآنی گویا شہادت دے رہے ہیں کہ یہ قرآن اللہ کا کلام ہے۔
ثُمَّ اَبۡلِغۡہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ
’’پھر اُسے اُس کی امن کی جگہ پر پہنچا دو۔‘‘
یعنی ایسے شخص کو فوری طور پر فیصلہ کرنے پر مجبو ر نہ کیا جائے کہ اسلام قبول کرتے ہو یا نہیں؟ اور یہ کہ اگر قبول نہیں کرتے تو ابھی تمہاری گردن اڑادی جائے گی‘بلکہ کلامُ اللہ سننے کا موقع فراہم کرنے کے بعداسے سمجھنے اور سوچنے کے لیے مہلت دی جائے اوراُسے بحفاظت اس کے گھر تک پہنچانے کا انتظام کیا جائے ۔
ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡلَمُوۡنَ ٪﴿۶﴾
’’یہ اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو علم نہیں رکھتے۔‘‘
یعنی یہ لوگ ابھی تک بھی غفلت کا شکار ہیں۔ انہوں نے ابھی تک سنجیدگی سے سوچا ہی نہیں کہ یہ دعوت ہے کیا!
جس مضمون سے سورت کی ابتدا ہوئی تھی وہ یہاں عارضی طور پر ختم ہورہا ہے ‘اب دوبارہ اس مضمون کاسلسلہ چوتھے رکوع کے ساتھ جا کر ملے گا۔ اس کے بعد اب دو رکوع (دوسرا اور تیسرا) وہ آئیں گے جو فتح مکہ سے قبل نازل ہوئے ۔ان آیات کے ذریعے مسلمانوں کو قریشِ مکہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے آمادہ کرنا مقصود تھا۔