اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ
’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں ‘اور وہ لوگ جنہوں نے انہیں پناہ دی اور اُن کی مدد کی ‘ یہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔‘‘
مدینہ میں ہجرت کے بعد کا مسلمان معاشرہ دو علیحدہ علیحدہ گروہوں پر مشتمل تھا‘ ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور دوسرا انصار کا۔ اگرچہ مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا جا چکا تھا‘ لیکن اس طرح کے تعلق سے پورا قبائلی نظام ایک دم تو تبدیل نہیں ہو جاتا۔ اُس وقت تک صورت حال یہ تھی کہ غزوۂ بدر سے پہلے جو آٹھ مہمات حضورﷺ نے مختلف علاقوں میں بھیجیں ان میں آپؐ نے کسی انصاری صحابی ؓکو شریک نہیں فرمایا۔ انصار پہلی دفعہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔اس تاریخی حقیقت کو مدِ نظر رکھاجائے تو یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ آیت کے پہلے حصے میں مہاجرین کا ذکرہجرت کے علاوہ جہاد کی تحضیص کے ساتھ کیوں ہوا ہے؟ یعنی انصارِ مدینہ تو جہاد میں بعد میں شامل ہوئے‘ ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد تک تو جہادی مہمات میں حصہ صرف مہاجرین ہی لیتے رہے تھے۔یہاں انصار کی شان یہ بتائی گئی: {وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا } کہ انہوں نے اپنے دلوں اور اپنے گھروں میں مہاجرین کے لیے جگہ پیدا کی اور ہر طرح سے ان کی مدد کی۔
وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ
’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی‘ تمہارا (اب) اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘
حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ
’’حتیٰ کہ وہ ہجرت کریں۔‘‘
یعنی جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی اُن کے ساتھ تمہارا کوئی رشتۂ ولایت و رفاقت نہیں ہے۔ ایمانِ حقیقی تو ظاہر ہے دل کا معاملہ ہے جس کی کیفیت صرف اللہ جانتا ہے‘ لیکن قانونی تقاضوں کے لیے ان مخصوص حالات میں ایمان کا ظاہری معیار ہجرت کوقرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ النساء میں (جو اس سورت کے بعد نازل ہوئی ہے) ہجرت نہ کرنے والوں کو منافقین اور کفار جیسے سلوک کا مستحق قرار دیا گیاہے کہ انہیں پکڑو اور قتل کرو (آیات ۸۹‘۹۰) اِلا یہ کہ اُن کاتعلق کسی ایسے قبیلے سے ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ چنانچہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد مکہ سے مدینہ ہجرت کی ‘ انہوں نے اپنے ایمان کا عملی ثبوت فراہم کر دیا‘جبکہ جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی مگر ایمان کے دعویدار رہے ‘ انہیں قانونی طور پر مسلمان تسلیم نہیں کیا گیا۔ مثلاً بدر کے قیدیوں میں سے کوئی شخص اگر یہ دعویٰ کرتا کہ میں تو ایمان لا چکا تھا‘ جنگ میں تو مجبوراً شامل ہواتھا‘ تو اس کا جواب اس اصول کے مطابق یہی تھا کہ چونکہ تم نے ہجرت نہیں کی‘ لہٰذا تمہارا شمار ان ہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن کے ساتھ مل کر تم جنگ کرنے آئے تھے ۔ اس لحاظ سے اس آیت میں بھی روئے سخن اسیرانِ بدر ہی کی طرف ہے کہ ان میں سے اگر کوئی شخص اسلام کا دعویدار ہے تو وہ قانو ن کے مطابق فدیہ دے کر آزاد ہو‘ واپس مکہ جائے‘ پھر وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ آئے توتب اسے صاحبِ ایمان تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ تمہارا حمایتی ہو گا اور تم اس کے حمایتی ہو گے۔
وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ
’’اوراگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیںتو اُن کی مدد کرنا تم پر واجب ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن مکہ میں ہی رہے یا اپنے اپنے قبیلے میں رہے اوراُن لوگوں نے ہجرت نہیں کی‘ اگر وہ دین کے معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگیں تو تم اُن کی مددکرو۔
اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ
’’مگر کسی ایسی قوم کے خلاف (نہیں)کہ اُن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو۔‘‘
اگرچہ دارالاسلام والوں پر ان مسلمانوں کی حمایت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے جنہوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے‘ تاہم وہ دینی اخوت کے رشتہ سے خارج نہیں ہیں۔ چنانچہ اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے اس دینی تعلق کی بنا پر مدد کے طالب ہوں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے مقابلے میں نہ مانگی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ معاہدہ کا احترام بہرحال مقدم ہے۔
وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۷۲﴾
’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔‘‘
وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ
’’اوروہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔‘‘
عرب کے قبائلی معاشرے میں باہمی معاہدوں اور ولایت کا معاملہ بہت اہم ہوتا تھا۔ ایسے معاہدوں کی تمام ذمہ داریوں کو بڑی سنجیدگی سے نبھایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کسی شخص پر کسی قسم کا تاوان پڑجاتا تو اس کے ولی اور حلیف اس کے تاوان کی رقم پوری کرنے کے لیے پوری ذمہ داری سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے تھے۔چنانچہ ولایت کی اہمیت کے پیش نظر یہاں دراصل اس کی شرائط اور حدود واضح کی جا رہی ہیں کہ کفار باہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں‘ جب کہ اہل ایمان کا رشتۂ ولایت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ اس لحاظ سے وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی ‘ اُن کا اہلِ ایمان کے ساتھ ولایت کا توکوئی رشتہ نہیں‘ لیکن اگرا یسے مسلمان مدد کے طلب گار ہوں تو اہل ایمان ضرور اُن کی مدد کریں‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے خلاف نہ ہو جن کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے۔
اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾
’’اگرتم یہ (اِن قواعد و ضوابط کی پابندی) نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بہت بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔‘‘
اے مسلمانو!تم لوگوں کا ہر کام قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی عمل زمین میں فتنہ و فساد کا سبب بن جائے ۔مثلاً مکہ میں اپنے قبیلے کے ہاتھوں اذیت کا شکار کوئی مسلمان اگر تم سے مدد مانگتا ہے تو تم اُس کی مدد ضرور کرو ‘لیکن اگر اس قبیلے نے تمہارے ساتھ امن کا معاہدہ کر رکھا ہے تو تم ایسا نہیں کر سکتے کہ اس کی مدد کے لیے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے قبیلے پر چڑھ دوڑو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کی وعدہ خلافی اور نا انصافی کو پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ ایسی صورت میں اس مسلمان کو دوسرے تمام مسلمانوں کی طرح ہجرت کرکے دارالاسلام پہنچنا چاہیے ‘اور اگر وہ ہجرت نہیں کر سکتا تو پھر وہاں جیسے بھی حالات ہوں اسے چاہیے کہ وہ انہیں برداشت کرے ۔ اب وہ آیت آ رہی ہے جس کا ذکر سورۃ کے آغاز میں پرکار (compass) کی تشبیہہ کے حوالے سے ہوا تھا۔