تحریر

الأنفال

آیات ۷۰ تا ۷۵

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

70-71

قیدیوں سے اظہارِشفقت

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِیۡۤ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤی ۙ اِنۡ یَّعۡلَمِ اللّٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ خَیۡرًا یُّؤۡتِکُمۡ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمۡ وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۰﴾ وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ فَاَمۡکَنَ مِنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾

آیت 70

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلۡ لِّمَنۡ فِیۡۤ اَیۡدِیۡکُمۡ مِّنَ الۡاَسۡرٰۤی ۙ

’’اے نبی(ﷺ) کہہ دیجیے اُن لوگوں سے جو آپ کے قبضے میں قیدی ہیں‘‘

اس آیت کا مفہوم سمجھنے کے لیے پس منظر کے طور پر غزوۂ بدر کے قیدیوں کے بارے میں دو باتیں ذہن میں رکھیے۔ ایک تو ان قیدیوں میں بہت سے وہ لوگ بھی شامل تھے جو اپنی مرضی سے جنگ لڑنے نہیں آئے تھے۔ بلکہ وہ اپنے سرداروں کے دباؤ یا بعض دوسری مصلحتوں کے تحت بادلِ نخواستہ جنگ میں شریک ہوئے تھے۔ دوسری اہم بات اُن کے بارے میں یہ تھی کہ ان میں سے بہت سے لوگ بعض مسلمانوں کے بہت قریبی رشتہ دار تھے۔جیسے خود نبی اکرمﷺ کے حقیقی چچا حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب بھی ان قیدیوں میں شامل تھے۔ ان کے بارے میں گمانِ غالب یہی ہے کہ وہ ایمان تو پہلے سے لا چکے تھے مگر اس وقت تک انہوں نے اپنے ایمان کا اعلان نہیں کیا تھا۔ روایات میں آتاہے کہ حضرت عباسؓ جن رسیوں میں بندھے ہوئے تھے اُن کے بند بہت سخت تھے۔ وہ تکلیف کے باعث جب کراہتے تو حضور ﷺ اُن کی آواز سن کر بے چین ہو جاتے تھے ‘مگر آپﷺ نے اُن کے لیے کسی رعایت کی خواہش کا اظہار نہ فرمایا۔ تاہم جب اُن کی تکلیف آپؐ کی طبیعت پر زیادہ گراں گزری تو آپﷺ نے حکم دیا کہ تمام قیدیوں کے بند ڈھیلے کر دیے جائیں۔ اسی طرح آپﷺ کے داماد ابوالعاص بھی قید ہو کر آئے تھے اور جب آپؐ کی بڑی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کو چھڑانے کے لیے اپنا ہار فدیے کے طور پر بھیجا (یہ ہار اُنؓ کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے ان کی شادی کے موقع پر دیا تھا )تو حضورﷺ کے لیے بڑی رقت آمیز صورتِ حال پیدا ہو گئی۔ آپﷺ نے جب وہ ہار دیکھا تو آپﷺ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ حضرت خدیجہؓ کے ساتھ گزاری ہوئی ساری زندگی ‘ آپؓ کی خدمت گزاری اور وفا شعاری کی یاد مجسم ہو کر نگاہوں کے سامنے آ گئی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ آپ لوگ اگر اجازت دیں تو یہ ہار واپس کر دیا جائے تا کہ ماں کی نشانی بیٹی کے پاس ہی رہے۔ چنانچہ سب کی اجازت سے وہ ہار واپس بھجوا دیا گیا ---- قیدیوں کے بارے میں دوسری اہم بات یہ تھی کہ ان کے ساتھ اکثر مہاجرین کے بہت گہرے خونی رشتے تھے‘ اس لیے کہ یہ سب لوگ ایک ہی خاندان اور ایک ہی قبیلے سے تعلق رکھتے تھے۔

تو فرمایا گیا کہ اے نبی (ﷺ) آپؐ کے قبضے میں جو قیدی ہیں آپ ؐان سے کہہ دیجیے:

اِنۡ یَّعۡلَمِ اللّٰہُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ خَیۡرًا یُّؤۡتِکُمۡ خَیۡرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنۡکُمۡ

’’اگراللہ تمہارے دلوں میں کوئی بھلائی پائے گا تو جو کچھ تم سے لے لیا گیا ہے وہ اس سے بہتر تمہیں دے دے گا‘‘

یعنی تمہاری نیتوں کا معاملہ تمہارے اور اللہ کے مابین ہے‘ جبکہ برتائو تمہارے ساتھ خالصتاً قانون کے مطابق ہو گا۔ تم سب لوگ جنگ میں کفار کا ساتھ دینے کے لیے آئے تھے اور اب قانوناً جنگی قیدی ہو۔ جنگ میں کوئی اپنی خوشی سے آیا تھا یا مجبوراً‘ کوئی دل میں ایمان لے کر آیا تھا یا کفر کی حالت میں آیا تھا‘ ان سب باتوں کی حقیقت کو اللہ خوب جانتا ہے ‘ وہ یقینا دلوں کی نیتوں کے مطابق ہی تم سب کے ساتھ معاملہ کرے گا اور جس کے دل میں خیر اور بھلائی پائے گا اُس کو بہت بہتر انداز میں اس بھلائی کا صلہ دے گا۔

وَ یَغۡفِرۡ لَکُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۷۰﴾

’’اور تمہیں بخش دے گا‘ اور اللہ بخشنے والا‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔‘‘

آیت 71

وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡا خِیَانَتَکَ فَقَدۡ خَانُوا اللّٰہَ مِنۡ قَبۡلُ

’’اور اگر یہ لوگ آپ سے خیانت کرنا چاہیں تو اس سے پہلے یہ اللہ سے بھی خیانت کرتے رہے ہیں‘‘

فَاَمۡکَنَ مِنۡہُمۡ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿۷۱﴾

’’تو اللہ نے اُن کو پکڑوا دیا۔ اور اللہ جاننے والا‘ حکمت والا ہے۔‘‘

یعنی ان قیدیوں میں ایسے بھی ہوں گے جو آپﷺ سے جھوٹ بولیں گے ‘ جھوٹے بہانے بنائیں گے‘ بے جا معذرتیں پیش کریں گے۔ تو اس نوعیت کی خیانتیں یہ اللہ سے بھی کرتے رہے ہیںاور ان کے ایسے ہی کرتوتوں کی پاداش میں ان کو یہ سزا دی گئی ہے کہ اب یہ لوگ آپﷺ کے قابو میں ہیں۔

اگلی آیات کی حیثیت اس سورۂ مبارکہ کے ’’حاصل کلام‘‘ remarks) (concluding کی سی ہے۔

72-73

دوستی کا معیار رشتہ ایمان کو بناؤ

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۷۲﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾

آیت 72

اِنَّ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ

’’یقینا وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں ‘اور وہ لوگ جنہوں نے انہیں پناہ دی اور اُن کی مدد کی ‘ یہ سب لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔‘‘

مدینہ میں ہجرت کے بعد کا مسلمان معاشرہ دو علیحدہ علیحدہ گروہوں پر مشتمل تھا‘ ایک گروہ مہاجرین کا تھا اور دوسرا انصار کا۔ اگرچہ مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنایا جا چکا تھا‘ لیکن اس طرح کے تعلق سے پورا قبائلی نظام ایک دم تو تبدیل نہیں ہو جاتا۔ اُس وقت تک صورت حال یہ تھی کہ غزوۂ بدر سے پہلے جو آٹھ مہمات حضورﷺ نے مختلف علاقوں میں بھیجیں ان میں آپؐ نے کسی انصاری صحابی ؓکو شریک نہیں فرمایا۔ انصار پہلی دفعہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے۔اس تاریخی حقیقت کو مدِ نظر رکھاجائے تو یہ نکتہ واضح ہو جاتا ہے کہ آیت کے پہلے حصے میں مہاجرین کا ذکرہجرت کے علاوہ جہاد کی تحضیص کے ساتھ کیوں ہوا ہے؟ یعنی انصارِ مدینہ تو جہاد میں بعد میں شامل ہوئے‘ ہجرت کے ڈیڑھ سال بعد تک تو جہادی مہمات میں حصہ صرف مہاجرین ہی لیتے رہے تھے۔یہاں انصار کی شان یہ بتائی گئی: {وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا } کہ انہوں نے اپنے دلوں اور اپنے گھروں میں مہاجرین کے لیے جگہ پیدا کی اور ہر طرح سے ان کی مدد کی۔

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَمۡ یُہَاجِرُوۡا مَا لَکُمۡ مِّنۡ وَّلَایَتِہِمۡ مِّنۡ شَیۡءٍ

’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن انہوں نے ہجرت نہیں کی‘ تمہارا (اب) اُن کے ساتھ کوئی تعلق نہیں‘‘

حَتّٰی یُہَاجِرُوۡا ۚ

’’حتیٰ کہ وہ ہجرت کریں۔‘‘

یعنی جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی اُن کے ساتھ تمہارا کوئی رشتۂ ولایت و رفاقت نہیں ہے۔ ایمانِ حقیقی تو ظاہر ہے دل کا معاملہ ہے جس کی کیفیت صرف اللہ جانتا ہے‘ لیکن قانونی تقاضوں کے لیے ان مخصوص حالات میں ایمان کا ظاہری معیار ہجرت کوقرار دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ سورۃ النساء میں (جو اس سورت کے بعد نازل ہوئی ہے) ہجرت نہ کرنے والوں کو منافقین اور کفار جیسے سلوک کا مستحق قرار دیا گیاہے کہ انہیں پکڑو اور قتل کرو (آیات ۸۹‘۹۰) اِلا یہ کہ اُن کاتعلق کسی ایسے قبیلے سے ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔ چنانچہ جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد مکہ سے مدینہ ہجرت کی ‘ انہوں نے اپنے ایمان کا عملی ثبوت فراہم کر دیا‘جبکہ جن لوگوں نے ہجرت نہیں کی مگر ایمان کے دعویدار رہے ‘ انہیں قانونی طور پر مسلمان تسلیم نہیں کیا گیا۔ مثلاً بدر کے قیدیوں میں سے کوئی شخص اگر یہ دعویٰ کرتا کہ میں تو ایمان لا چکا تھا‘ جنگ میں تو مجبوراً شامل ہواتھا‘ تو اس کا جواب اس اصول کے مطابق یہی تھا کہ چونکہ تم نے ہجرت نہیں کی‘ لہٰذا تمہارا شمار ان ہی لوگوں کے ساتھ ہو گا جن کے ساتھ مل کر تم جنگ کرنے آئے تھے ۔ اس لحاظ سے اس آیت میں بھی روئے سخن اسیرانِ بدر ہی کی طرف ہے کہ ان میں سے اگر کوئی شخص اسلام کا دعویدار ہے تو وہ قانو ن کے مطابق فدیہ دے کر آزاد ہو‘ واپس مکہ جائے‘ پھر وہاں سے باقاعدہ ہجرت کر کے مدینہ آئے توتب اسے صاحبِ ایمان تسلیم کیا جائے گا۔ اس کے بعد وہ تمہارا حمایتی ہو گا اور تم اس کے حمایتی ہو گے۔

وَ اِنِ اسۡتَنۡصَرُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ فَعَلَیۡکُمُ النَّصۡرُ

’’اوراگر وہ تم سے دین کے معاملے میں مدد مانگیںتو اُن کی مدد کرنا تم پر واجب ہے‘‘ یعنی وہ لوگ جو ایمان لائے لیکن مکہ میں ہی رہے یا اپنے اپنے قبیلے میں رہے اوراُن لوگوں نے ہجرت نہیں کی‘ اگر وہ دین کے معاملے میں تم لوگوں سے مدد مانگیں تو تم اُن کی مددکرو۔

اِلَّا عَلٰی قَوۡمٍۭ بَیۡنَکُمۡ وَ بَیۡنَہُمۡ مِّیۡثَاقٌ ؕ

’’مگر کسی ایسی قوم کے خلاف (نہیں)کہ اُن کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو۔‘‘

اگرچہ دارالاسلام والوں پر ان مسلمانوں کی حمایت و مدافعت کی ذمہ داری نہیں ہے جنہوں نے دارالکفر سے ہجرت نہیں کی ہے‘ تاہم وہ دینی اخوت کے رشتہ سے خارج نہیں ہیں۔ چنانچہ اگر وہ اپنے مسلمان بھائیوں سے اس دینی تعلق کی بنا پر مدد کے طالب ہوں تو ان کی مدد کرنا ضروری ہے‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے مقابلے میں نہ مانگی جا رہی ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ معاہدہ کا احترام بہرحال مقدم ہے۔

وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ بَصِیۡرٌ ﴿۷۲﴾

’’اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اُسے دیکھ رہا ہے۔‘‘

آیت 73

وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بَعۡضُہُمۡ اَوۡلِیَآءُ بَعۡضٍ ؕ

’’اوروہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔‘‘

عرب کے قبائلی معاشرے میں باہمی معاہدوں اور ولایت کا معاملہ بہت اہم ہوتا تھا۔ ایسے معاہدوں کی تمام ذمہ داریوں کو بڑی سنجیدگی سے نبھایا جاتا تھا۔ مثلاً اگر کسی شخص پر کسی قسم کا تاوان پڑجاتا تو اس کے ولی اور حلیف اس کے تاوان کی رقم پوری کرنے کے لیے پوری ذمہ داری سے اپنا اپنا حصہ ڈالتے تھے۔چنانچہ ولایت کی اہمیت کے پیش نظر یہاں دراصل اس کی شرائط اور حدود واضح کی جا رہی ہیں کہ کفار باہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں‘ جب کہ اہل ایمان کا رشتۂ ولایت آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ ہے۔ اس لحاظ سے وہ مسلمان جنہوں نے ہجرت نہیں کی ‘ اُن کا اہلِ ایمان کے ساتھ ولایت کا توکوئی رشتہ نہیں‘ لیکن اگرا یسے مسلمان مدد کے طلب گار ہوں تو اہل ایمان ضرور اُن کی مدد کریں‘ بشرطیکہ یہ مدد کسی ایسے قبیلے کے خلاف نہ ہو جن کا مسلمانوں کے ساتھ معاہدہ ہو چکا ہے۔

اِلَّا تَفۡعَلُوۡہُ تَکُنۡ فِتۡنَۃٌ فِی الۡاَرۡضِ وَ فَسَادٌ کَبِیۡرٌ ﴿ؕ۷۳﴾

’’اگرتم یہ (اِن قواعد و ضوابط کی پابندی) نہیں کرو گے تو زمین میں فتنہ پھیلے گا اور بہت بڑا فساد برپا ہو جائے گا۔‘‘

اے مسلمانو!تم لوگوں کا ہر کام قواعد و ضوابط کے مطابق ہونا چاہیے۔ ایسا نہ ہو کہ تمہارا کوئی عمل زمین میں فتنہ و فساد کا سبب بن جائے ۔مثلاً مکہ میں اپنے قبیلے کے ہاتھوں اذیت کا شکار کوئی مسلمان اگر تم سے مدد مانگتا ہے تو تم اُس کی مدد ضرور کرو ‘لیکن اگر اس قبیلے نے تمہارے ساتھ امن کا معاہدہ کر رکھا ہے تو تم ایسا نہیں کر سکتے کہ اس کی مدد کے لیے اپنے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس کے قبیلے پر چڑھ دوڑو‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی بھی قسم کی وعدہ خلافی اور نا انصافی کو پسند نہیں کرتا۔ چنانچہ ایسی صورت میں اس مسلمان کو دوسرے تمام مسلمانوں کی طرح ہجرت کرکے دارالاسلام پہنچنا چاہیے ‘اور اگر وہ ہجرت نہیں کر سکتا تو پھر وہاں جیسے بھی حالات ہوں اسے چاہیے کہ وہ انہیں برداشت کرے ۔ اب وہ آیت آ رہی ہے جس کا ذکر سورۃ کے آغاز میں پرکار (compass) کی تشبیہہ کے حوالے سے ہوا تھا۔

74-75

بندہ مومن کی ظاہری صفات

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾ وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا مَعَکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ مِنۡکُمۡ ؕ وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۷۵﴾

آیت 74

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ الَّذِیۡنَ اٰوَوۡا وَّ نَصَرُوۡۤا

’’اوروہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور جہاد کیا اللہ کی راہ میں ( یعنی مہاجرین) اور وہ لوگ (انصارِ مدینہ) جنہوں نے انہیں پناہ دی اور ان کی نصرت کی‘‘ >

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۷۴﴾

’’یہی لوگ ہیں سچے مؤمن۔اُن کے لیے ہے مغفرت اور رزقِ کریم۔‘‘

یہاں پرمہاجرین اور انصار کے دونوں گروہوں کا ایک ساتھ ذکر کر کے مؤمنین صادقین کی خصوصیات کے حوالے سے ایک حقیقی مؤمن کی تعریف (definition) کے دوسرے رُخ کی جھلک دکھائی گئی ہے‘ جبکہ اس کے پہلے حصے یا رُخ کے بارے میں ہم اسی سورت کی آیت ۲اور۳ میں پڑھ آئے ہیں۔ لہٰذا آگے بڑھنے سے پہلے سورت کے آغاز کی مذکورہ آیات کے مضمون کوایک دفعہ پھر ذہن میں تازہ کر لیجئے۔

اس مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے (بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ…)‘ یعنی کلمۂ شہادت‘ نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ۔ یہ پانچ ارکان ایک مسلمان کے لیے ضروری ہیں‘ لیکن حقیقی مؤمن ہونے کے لیے ان میں دو چیزوں کا مزید اضافہ کرنا ہو گا‘جن کا ذکر ہمیں سورۃ الحجرات کی آیت ۱۵ میں ملتا ہے‘ یعنی ایمان میں زبان کی شہادت کے ساتھ ’’یقین قلبی‘‘کا اضافہ ہو گا اور اعمال میں نماز‘ روزہ‘ حج اور زکوٰۃ کے ساتھ ’’جہاد فی سبیل اللہ ‘‘کااضافہ۔ گویا یہ سات چیزیں یا سات شرطیں پوری ہوں گی تو تب ایک شخص بندۂ مؤمن کہلانے کامستحق ہوگا۔ ایک بندۂ مؤمن کی شخصیت کا جونقشہ اس سورت کی آیت ۲ اور ۳ میں دیا گیا ہے اس میں یقین والے ایمان کا خصوصی طور پر ذکر ہوا ہے۔ ان آیات کے مطابق ایک بندئہ مؤمن کا دل یقین والے ایمان کا حامل ہوتا ہے ‘ اللہ کی یاد سے اُس کا دل لرز اُٹھتا ہے‘ وہ آیاتِ قرآنی پڑھتا ہے یا سنتا ہے تو اس کا ایمان بڑھ جاتا ہے۔ وہ ہر معاملے میں اللہ کی ذات پر پورا بھروسہ رکھتا ہے‘ نماز قائم کرتا ہے‘ زکوٰۃ ادا کرتا ہے اور اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ اِن خصوصیات کے ساتھ {اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ} (آیت۴) کی مہر لگا کر وہاں پر بندئہ مؤمن کی شخصیت کا ایک رُخ یا ایک صفحہ مکمل کر دیا گیا۔

اب بندۂ مؤمن کی شخصیت کا دوسرا صفحہ یا رُخ آیت زیر نظر میں یوں سامنے آیا ہے کہ یہاں جہاد فی سبیل اللہ کو ایک لازمی شرط کے طور پر بندئہ مؤمن کی خصوصیات میں شامل کر دیا گیا ہے اور پھراس پر بھی وہی مہر ثبت کی گئی ہے : {اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ} چنانچہ یہ دونوں رُخ مل کر مذکورہ سات خصوصیات یا شرائط کے ساتھ بندۂ مؤمن کی سیرت و شخصیت کی تصویر مکمل ہو گئی ہے۔ ایک شخصیت کی تصویر کے یہ دو رخ ایسے ہیں جن کو الگ الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ گویا دو صفحات ہیں جن سے مل کر ایک ورق بنتا ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی شخصیتوں کے اندر یہ دونوں رخ ایک ساتھ پائے جاتے تھے‘ مگر جیسے جیسے اُمت زوال پذیر ہوئی ‘ بندۂ مؤمن کی شخصیت کی خصوصیات کے بھی حصے بخرے ہو گئے اور اب اس حوالے سے بقول علامہ اقبال صورت یہ ہے: ؎

اڑائے کچھ ورق لالے نے‘ کچھ نرگس نے‘ کچھ گل نے

چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری

آج مسلمانوں کی مجموعی حالت یہ ہے کہ اگر کچھ حلقے ذکر کے لیے مخصوص ہیں تو اُن کو جہاد اور فلسفۂ جہاد سے کوئی سروکار نہیں۔ دوسری طرف جہادی تحریکیں ہیں تو اُن کو رُوحانی کیفیات سے شناسائی نہیں۔ لہٰذا آج اُمت کے دکھوں کا مداوا کرنے کے لیے ایسے اہل ایمان افراد کی ضرورت ہے جن کی شخصیات میں یہ دونوں رنگ اکٹھے ایک ساتھ جلوہ گر ہوں۔ جب تک مؤمنین صادقین کی ایسی شخصیات وجود میں نہیں آئیں گی‘ جن میں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی طرح دونوں پہلوؤں میں توازن ہو‘ اس وقت تک اُمت مسلمہ کی بگڑی تقدیر نہیں سنور سکتی۔ اگرچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین جیسی کیفیات کا پیدا ہونا تو آج نا ممکنات میں سے ہے‘ لیکن کسی نہ کسی حد تک اُن ہستیوں کا عکس اپنی شخصیات میں پیدا کرنے اورایک ہی شخصیت کے اندر ان دونوں طرح کی خصوصیات کا کچھ نہ کچھ توازن پیدا کرنے کی کوشش تو کی جاسکتی ہے۔ مثلاً آج اگر ان میں سے ایک نوعیت کی کیفیت ایک شخصیت کے اندر ۲۵فیصد ہو اور دوسری قسم کی کیفیت بھی ۲۵ فیصد کے لگ بھگ ہو تو قابل قبول ہے۔ لیکن اگر کہیں ایسا ہے کہ کہ روحانی کیفیت تو ۷۰ فیصد ہے مگر جہاد فی سبیل اللہ کا جذبہ صفر ہے یا جہاد کا جذبہ تو۸۰ فیصد ہے مگر روحانیت کہیں ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتی تو ایسی شخصیت نظریاتی لحاظ سے غیر متوازن ہو گی۔ بہر حال ایک بندۂ مؤمن کی شخصیت کی تکمیل کے لیے مذکورہ دونوں رُخ ناگزیر ہیں۔ اِن کو اکٹھا کرنے اور ایک شخصیت میں توازن کے ساتھ جمع کرنے کی آج کے دور میں سخت ضرورت ہے۔

آیت 75

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡۢ بَعۡدُ وَ ہَاجَرُوۡا وَ جٰہَدُوۡا مَعَکُمۡ فَاُولٰٓئِکَ مِنۡکُمۡ ؕ

’’اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور تمہارے ساتھ مل کر جہاد کیا‘ تو (اے مسلمانو!) وہ تم میں سے ہی ہیں۔‘‘

وہ تمہاری جماعت ‘ اسی اُمت اور حزب اللہ کا حصہ ہیں۔

وَ اُولُوا الۡاَرۡحَامِ بَعۡضُہُمۡ اَوۡلٰی بِبَعۡضٍ فِیۡ کِتٰبِ اللّٰہِ ؕ

’’اور رحمی رشتے دار اللہ کے قانون میں ایک دوسرے کے زیادہ حق دار ہیں۔‘‘

یعنی شریعت کے قوانین میں خون کے رشتے مقدم رکھے گئے ہیں۔ مثلاً وراثت کا قانون خون کے رشتوں کو بنیاد بنا کر ترتیب دیا گیا ہے۔ اسی طرح شریعت کے تمام قواعد و ضوابط میں رحمی رشتوں کی اپنی ایک ترجیحی حیثیت ہے۔ چنانچہ خونی رشتوں کی ان قانونی ترجیحات کو بھائی چارے اور ولایت کے تعلقات کے ساتھ گڈ مڈ نہ کیاجائے ۔

اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿٪۷۵﴾

’’یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔‘‘

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے