تحریر

الأنفال

آیات ۶۵ تا ۶۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

65-66

قوت ایمان، قلیل مومنوں کو کثیر کافروں پر غالب کر دیتی ہے

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾ اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنۡکُمۡ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیۡکُمۡ ضَعۡفًا ؕ فَاِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ اَلۡفٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَیۡنِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

آیت 65

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلَی الۡقِتَالِ ؕ

’’اے نبی!(ﷺ) ترغیب دلائیے اہلِ ایمان کو قتال کی۔‘‘

ہجرت کے بعد ۹ سال تک قتال کے لیے ترغیب‘ تشویق اور تحریص کے ذریعے ہی زور دیا گیا۔ یہ تحریص گاڑھی ہو کر ’’تحریض‘‘ بن گئی۔ اُس دور میں مجاہدین کی فضیلت بیان کی گئی‘ اِن سے بلند درجات کا وعدہ کیا گیا (النساء :۹۵)مگر قتال کو ہر ایک کے لیے فرضِ عین قرار نہیں دیا گیا۔ لیکن ۹ ہجری میں غزوۂ تبوک کے موقع پر جہاد کے لیے نکلنا تمام اہل ایمان پر فرض کر دیا گیا۔ اس وقت تمام اہل ایمان کے لیے نفیرِ عام تھی اور کسی کو بلا عذر پیچھے رہنے کی اجازت نہیں تھی۔

اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ عِشۡرُوۡنَ صٰبِرُوۡنَ یَغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ

’’اگر تم میں سے بیس افراد ہوں گے صبرکرنے والے (ثابت قدم) تو وہ دوسو افراد پر غالب آ جائیں گے‘‘

وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفًا مِّنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا

’’اور اگر ہوں گے تم میں سے سو افراد تو وہ غالب آ جائیں گے کفار کے ایک ہزار افراد پر‘‘

بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ ﴿۶۵﴾

’’یہ اس لیے کہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔‘‘

یہاں سمجھ نہ رکھنے سے مراد یہ ہے کہ انہیں اپنے موقف کی سچائی کا یقین نہیں ہے۔ ایک طرف وہ شخص ہے جسے اپنے نظریے اور موقف کی حقانیت پر پختہ یقین ہے‘ اس کا ایمان ہے کہ وہ حق پر ہے اور حق کے لیے لڑ رہا ہے۔ دوسری طرف اس کے مقابلے میں ایک ایسا شخص ہے جو نظریاتی طور پر ڈانواں ڈول ہے‘ وہ یا تو کسی کا تنخواہ یافتہ ہے یاکسی کے حکم پر مجبور ہوکر لڑ رہا ہے۔اب ان دونوں اشخاص کی کارکردگی میں زمین و آسمان کا فرق ہو گا۔ چنانچہ کفار کو جنگ میں ثابت قدمی اور استقلال کی وہ کیفیت حاصل ہو ہی نہیں سکتی جو نظریے کی سچائی پر جان قربان کرنے کے جذبے سے پیدا ہوتی ہے۔ دونوں اطراف کے افراد کی نظریاتی کیفیت کے اسی فرق کی بنیاد پر کفار کے ایک سو افراد کے مقابلے میں دس مسلمانوں کو کامیابی کی نوید سنائی گئی ہے۔ اس کے بعد والی آیت اگرچہ زمانی لحاظ سے کچھ عرصہ بعد نازل ہوئی مگر مضمون کے تسلسل کے باعث یہاں شامل کر دی گئی ہے۔

آیت 66

اَلۡـٰٔنَ خَفَّفَ اللّٰہُ عَنۡکُمۡ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیۡکُمۡ ضَعۡفًا ؕ

’’اب اللہ نے تم پر سے تخفیف کر دی ہے اور اللہ کے علم میں ہے کہ تمہارے اندر کچھ کمزوری آ گئی ہے۔‘‘

یہ کس کمزوری کا ذکر ہے اور یہ کمزوری کیسے آئی؟ اس نکتے کو اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ جہاں تک مہاجرین اور انصارمیں سے ان صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تعلق ہے جو سابقون الاوّلُون میں سے تھے تو ان کے اندر (معاذ اللہ) کسی قسم کی بھی کوئی کمزوری نہیں تھی‘ لیکن جو لوگ نئے مسلمان ہو رہے تھے ان کی تربیت ابھی اس انداز میں نہیں ہوپائی تھی جیسے پرانے لوگوں کی ہوئی تھی۔ ان کے دلوں میں ابھی ایمان پوری طرح راسخ نہیں ہوا تھا۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اپنی جگہ بہت اہم تھی کہ مسلمانوں کی مجموعی تعداد میں ایسے نئے لوگوں کا تناسب روز بروز بڑھ رہا تھا ۔ مثلاً اگر پہلے ہزار لوگوں میں پچاس یاسو نئے لوگ تھے تو اب ان کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی جا رہی تھی۔ لہٰذا اوسط کے اعتبار سے مسلمانوں کی صفوں میں پہلے کی نسبت اب کمزوری آ گئی تھی۔

فَاِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ مِّائَۃٌ صَابِرَۃٌ یَّغۡلِبُوۡا مِائَتَیۡنِ ۚ

’’پس اگر تم میں ایک سو ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ دو سوپر غالب آ جائیں گے۔‘‘

وَ اِنۡ یَّکُنۡ مِّنۡکُمۡ اَلۡفٌ یَّغۡلِبُوۡۤا اَلۡفَیۡنِ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’اور اگرتم میں ایک ہزار ہوں گے تووہ دوہزار پر غالب آ جائیں گے اللہ کے حکم سے۔‘‘

وَ اللّٰہُ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۶۶﴾

’’اور یقینا اللہ صبر کرنے والوں (ثابت قدم رہنے والوں)کے ساتھ ہے۔‘‘

67-69

کافروں کو قیدی بنانے پر اظہارِناراضگی

ویڈیو

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۷﴾ لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾ فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۶۹﴾

آیت 67

مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنۡ یَّکُوۡنَ لَہٗۤ اَسۡرٰی حَتّٰی یُثۡخِنَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ

’’کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں کہ اُس کے قبضے میں قیدی ہوں جب تک کہ وہ (کافروں کو قتل کر کے) زمین میں خوب خونریزی نہ کر دے۔‘‘

یہ آیت غزوۂ بدر میں پکڑے جانے والے قیدیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ غزوۂ بدر میں قریش کے ستر لوگ قیدی بنے۔ ان کے بارے میں رسول اللہﷺ نے صحابہؓ سے مشاورت کی۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی رائے تھی کہ ان لوگوں کے ساتھ نرمی کی جائے اور فدیہ وغیرہ لے کر انہیں چھوڑ دیا جائے۔ خود حضور ﷺ چونکہ رؤف و رحیم اور رقیق القلب تھے اس لیے آپؐ کی بھی یہی رائے تھی۔ مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ اس اعتبار سے بہت سخت گیر تھے حدیث(اَشَدُّ ھُمْ فِی اَمْرِ اللّٰہِ عُمَر) ۔ آپ ؓ کی رائے یہ تھی کہ یہ لوگ آزاد ہو کر پھر کفر کے لیے تقویت کا باعث بنیں گے‘ اس لیے جب تک کفر کی کمر پوری طرح ٹوٹ نہیں جاتی ان کے ساتھ نرمی نہ کی جائے۔ آپؓ کا اصرار تھا کہ تمام قیدیوں کو قتل کر دیا جائے ‘بلکہ مہاجرین اپنے قریب ترین عزیزوں کو خود اپنے ہاتھوں سے قتل کریں۔ بعد میں ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑنے کا فیصلہ ہوا اور اس پر عمل درآمد بھی ہو گیا۔ اس فیصلے پر اس آیت کے ذریعے گرفت ہوئی کہ جب تک باطل کی کمر پوری طرح سے توڑ نہ دی جائے اُس وقت تک حملہ آور کفار کو جنگی قیدی بنانادرست نہیں۔ انہیں قیدی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ زندہ رہیں گے‘ اور آج نہیں تو کل انہیں چھوڑنا ہی پڑے گا۔ لہٰذا وہ پھر سے باطل کی طاقت کا سبب بنیں گے اور پھر سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔

تُرِیۡدُوۡنَ عَرَضَ الدُّنۡیَا ٭ۖ

’’تم دنیا کا سازو سامان چاہتے ہو!‘‘

یہ فدیے کی طرف اشارہ ہے۔ اب نہ تو رسول اللہﷺ کی یہ نیت ہو سکتی تھی (معاذ اللہ!) اور نہ ہی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی‘ لیکن اللہ تعالیٰ کا معاملہ ایساہے کہ اُس کے ہاں جب اپنے مقرب بندوں کی گرفت ہوتی ہے تو الفاظ بظاہر بہت سخت استعمال کیے جاتے ہیں۔چنانچہ ان الفاظ میں بھی ایک طرح کی سختی موجود ہے‘ لیکن ظاہر ہے کہ یہ بات نہ حضورﷺ کے لیے ہے اور نہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے لیے۔

وَ اللّٰہُ یُرِیۡدُ الۡاٰخِرَۃَ ؕ وَ اللّٰہُ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۷﴾

’’اور اللہ کے پیش نظر آخرت ہے۔اور اللہ زبردست ‘ حکمت والا ہے ۔‘‘

آیت 68

لَوۡ لَا کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمۡ فِیۡمَاۤ اَخَذۡتُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ ﴿۶۸﴾

’’اگر اللہ کی طرف سے بات پہلے سے طے نہ ہو چکی ہوتی تو جو کچھ (فدیہ وغیرہ) تم نے لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا سخت عذاب آتا۔‘‘

اس سے مراد سورئہ محمدؐ کا وہ حکم ہے (آیت ۴) جو بہت پہلے نازل ہو چکا تھا۔ اس کی تفصیل ہم ان شا ء اللہ سورئہ محمدؐ کے مطالعے کے دوران پڑھیں گے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حکم کی تعبیر (interpretation) میں کس طرح فدیہ لینے کی گنجائش نکالی تھی۔ یہ دراصل قانون کی تشریح و تعبیر کامعاملہ ہے۔ جیسا کہ سورۃ الزمر کی آیت ۱۸میں ارشا دہے: {الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ} یعنی وہ لوگ جو کسی بات کو سن کر پیروی کرتے ہیں اُس میں سے بہترین کی اور اس کے اعلیٰ ترین درجہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ اس قانون کی تعبیر میں بھی ایسے ہی ہوا۔ چونکہ مذکورہ حکم کے اندر یہ گنجائش یا رعایت موجود تھی اس لیے حضورﷺ نے اپنی طبیعت کی نرمی کے سبب اس کو اختیار فرما لیا۔ آیت زیر نظر کے اندر سے بھی یہی اشارہ ملتا ہے کہ سورئہ محمدؐ میں نازل شدہ حکم میں رعایت کی یہ گنجائش موجود تھی ‘اسی لیے تو اس حکم کا حوالہ دے کر فرمایا گیا کہ اگر وہ حکم پہلے نازل نہ ہو چکا ہوتا تو جو بھی تم نے فدیہ وغیرہ لیا ہے اس کے باعث تم پر بڑا عذاب آتا۔ روایات میں آتا ہے کہ حضورﷺ اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اس آیت کے نزول کے بعد کئی دن تک روتے رہے ۔ بہر حال اس فیصلے میں کسی صریح حکم کی خلاف ورزی نہیں تھی اور جو بھی رائے اختیار کی گئی تھی وہ اجتہادی تھی اور آپﷺ نے اجتہاد کے ذریعے اس حکم میں سے نرمی اور رعایت کا ایک پہلو اختیار فرمایا تھا۔

آیت 69

فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ

’’تو اب کھائو جو کچھ تمہیں ملا ہے غنیمت میں سے (کہ وہ تمہارے لیے )حلال اور طیب (ہے)‘‘

ایک مالِ غنیمت تو وہ تھا جو مسلمانوں کو عین حالت جنگ میں ملا تھا ‘اور دوسرے اس مال کو بھی غنیمت قرار دے کر بلا کراہت حلال اور جائز قرار دے دیا گیا جو قیدیوں سے بطور فدیہ حاصل کیا گیاتھا۔

وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۶۹﴾

’’اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ یقینا اللہ بخشنے والا ‘ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے