تحریر

الأنفال

آیات ۵۹ تا ۶۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

59-60

جنگ کے لیے پوری تیاری کرنے کا حکم

ویڈیو

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَبَقُوۡا ؕ اِنَّہُمۡ لَا یُعۡجِزُوۡنَ ﴿۵۹﴾ وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۰﴾

آیت 59

وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَبَقُوۡا ؕ

’’اور نہ سمجھیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہ وہ بچ نکلے ہیں۔‘‘

غزوئہ بدر میں کفار کے ایک ہزار افراد میں سے بہت سے لوگ صحیح سلامت بچ بھی نکلے تھے ۔ یہ اُن کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ واقعی بچ نکلے ہیں۔

اِنَّہُمۡ لَا یُعۡجِزُوۡنَ ﴿۵۹﴾

’’وہ (اللہ کو )عاجز نہیں کر سکیں گے۔‘‘

وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جا سکیں گے۔

آیت 60

وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ

’’اور تیار رکھو اُن کے (مقابلے کے ) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے‘‘

یہاں مسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیا جا رہا ہے کہ اب جبکہ تمہاری تحریک تصادم کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے تو تم لوگ اپنے وسائل کے مطابق ‘ مقدور بھر فن حرب کی صلاحیت و اہلیت ‘ اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ جہاد کے لیے تیار رکھو۔ اگرچہ ایک مؤمن کو تو کل صرف اللہ کی نصرت پر ہی کرنا چاہیے‘ مگر توکل کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور امید رکھے کہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہی ہو جائے گا۔ بلکہ توکل یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے تمام ممکنہ مادی اور تکنیکی وسائل مہیا رکھے جائیں اور پھر اللہ کی نصرت پر توکل کیا جائے۔

اس آیت میں مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف بھر پور دفاعی صلاحیت حاصل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنے کے حوالے سے بہت واضح حکم دیا گیا ہے۔ تیاری کا یہ حکم ہر دورکے لیے ہے ۔ آج اگرا للہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے نوازا ہے تو یہ صلاحیت ملک و قوم کی قوت و طاقت کی علامت بھی ہے اور تمام عالم اسلام کی طرف سے پاکستان کے پاس ایک امانت بھی ۔ اگر اس سلسلے میں کسی دبائو کے تحت ‘ کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ (compromise) کیا گیا تو یہ اللہ ‘اُس کے دین اور تمام عالم اسلام سے ایک طرح کی خیانت ہو گی۔ لہٰذا آج وقت کی یہ اہم ضرورت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دشمنوں سے ہوشیار رہتے ہوئے اس سلسلے میں جرأت مندانہ پالیسی اپنائے‘تا کہ اس کے دشمنوں کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی صورت میں قوتِ مزاحمت کا توازن (deterrence) قائم رہے۔

تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ

’’(تا کہ )تم اس سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرا سکو‘‘

وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ

’’اور کچھ دوسروں کو (بھی)جو ان کے علاوہ ہیں ‘ تم انہیں نہیں جانتے ‘ اللہ انہیں جانتا ہے۔‘‘

یعنی تمہاری آستینوں کے سانپ منافقین جو درپردہ تمہاری تباہی اور بربادی کے درپے رہتے ہیں۔ تمہاری نظروں سے تو وہ چھپے ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔

وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۰﴾

’’اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب پورا پورا تمہیں دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔‘‘

یعنی اگرا سلحہ خریدنا ہے ‘ سازو سامان فراہم کرنا ہے‘ گھوڑے تیار کرنے ہیں تو اس سب کچھ کے لیے اخراجات تو ہوں گے۔لہٰذا جنگی تیاری کے حکم کے ساتھ ہی انفاق فی سبیل اللہ کا حکم بھی آ گیا‘ اس ضمانت کے ساتھ کہ جو کوئی جتنا اس سلسلے میں اللہ کے رستے میں خرچ کرے گا اس کو وعدے کے مطابق پورا پورا اجر دیا جائے گا اور کسی کی ذرّہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہو گی۔ یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں سورۃ البقرۃ کے رکوع ۳۶ اور ۳۷ میں دیے گئے اَحکام کو ذہن میں دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو! اب تمہاری تحریک کا وہ مرحلہ شروع ہو چکا ہے جہاں تمہارا جنگ کے لیے ممکن حد تک بھرپورتیاری کرنا اور بہتر سے بہتر اسلحہ حاصل کرنا نا گزیر ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب آگے بڑھو اور اس عظیم مقصد کے لیے دل کھول کر خرچ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک کے بدلے سات سو تک دینے کا وعدہ کر چکا ہے‘ بلکہ یہ بھی آخری حد نہیں ہے۔ جذبۂ ایثارو خلوص جس قدر زیادہ ہو گا یہ اجر و ثواب اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا۔ لہٰذا اپنا مال سینت سینت کر رکھنے کے بجائے اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالو‘ تا کہ دنیا میں اللہ کے دین کے غلبے کے لیے کام آ جائے اور آخرت میں تمہاری فلاح کا ضامن بن جائے۔

61-62

دشمن کی طرف سے صلح کی پیشکش قبول کر لی جائے

ویڈیو

وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۱﴾ وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡۤا اَنۡ یَّخۡدَعُوۡکَ فَاِنَّ حَسۡبَکَ اللّٰہُ ؕ ہُوَ الَّذِیۡۤ اَیَّدَکَ بِنَصۡرِہٖ وَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۶۲﴾

آیت 61

وَ اِنۡ جَنَحُوۡا لِلسَّلۡمِ فَاجۡنَحۡ لَہَا

’’اور (اے نبیﷺ!) اگر وہ اپنے بازو جھکا دیں امن کے لیے تو آپ بھی جھک جائیں اس کے لیے‘‘ اگر مخالف فریق صلح پر آمادہ نظر آئے تو آپﷺ بھی امن کی خاطر مناسب شرائط پر اُن سے صلح کر لیں۔

وَ تَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۶۱﴾

’’اور اللہ پر توکل کیجیے‘ یقینا وہ سب کچھ سننے والا‘ جاننے والا ہے۔‘‘

یعنی آپؐ اُن کی منفی چالوں سے فکر مند نہ ہوں‘ اللہ پر توکل رکھیں اور صلح کا جواب صلح سے ہی دیں۔

آیت 62

وَ اِنۡ یُّرِیۡدُوۡۤا اَنۡ یَّخۡدَعُوۡکَ فَاِنَّ حَسۡبَکَ اللّٰہُ ؕ

’’اور اگر وہ ارادہ رکھتے ہوں آپؐ کو دھوکہ دینے کا‘ تب بھی (آپؐ گھبرایئے نہیں) آپؐ کے لیے اللہ کافی ہے۔‘‘

گویا ان کی سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے خلاف اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کی ضمانت دی جا رہی ہے۔

ہُوَ الَّذِیۡۤ اَیَّدَکَ بِنَصۡرِہٖ وَ بِالۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿ۙ۶۲﴾

’’ وہی تو ہے (اللہ) جس نے آپؐ کی مدد کی ہے اپنی نصرت سے اور اہل ایمان کے ذریعے سے۔‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے آپؐ کو ایسے مخلص اور جاں نثار صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین عطا کیے کہ جہاں آپؐ کا پسینہ گرا وہاں انہوں نے اپنے خون کی ندیاں بہا دیں۔ اللہ تعالیٰ کی اس خصوصی امداد کی شان اس وقت خصوصی طور پر نکھر کر سامنے آتی ہے جب ہم محمد رسول اللہﷺ کے صحابہؓ کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھیوں کا طرزِ عمل دیکھتے ہیں۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم کے لوگوں سے فرمایاکہ تم اللہ کی راہ میں جنگ کے لیے نکلو‘تو انہوں نے صاف کہہ دیا تھا: {فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴿۲۴﴾} (المائدۃ ) ’’تو جایئے آپؑ اور آپؑ کا رب دونوں جا کر لڑیں ‘ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بیزاری سے یہاں تک کہہ دیا تھا: {رَبِّ اِنِّیۡ لَاۤ اَمۡلِکُ اِلَّا نَفۡسِیۡ وَ اَخِیۡ فَافۡرُقۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَ الۡقَوۡمِ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۲۵﴾} ’’ اے میرے رب! میں تو اپنی جان اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر کوئی اختیار نہیں رکھتا‘ لہٰذا آپ ہمارے اور اس فاسق قوم کے درمیان علیحدگی کر دیں۔‘‘

اس کے مقابلے میں اب نبی اکرم ﷺ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اندازِ اخلاص اور جذبۂ جاں نثاری کی مثال ملاحظہ ہو ۔ غزوۂ بدر سے پہلے جب حضورﷺ نے مقامِ صفراء پر صحابہؓ سے مشاورت کی (اور یہ بڑی کانٹے دار مشاورت تھی) تو کچھ لوگ مسلسل زور دیتے رہے کہ ہمیں قافلے کی طرف چلنا چاہیے ۔ ان لوگوں کے دلائل واقعتا بہت ٹھوس اور مؤثر تھے‘ مگر حضورﷺ ہر بار فرما دیتے کہ کچھ اور لوگ بھی مشورہ دیں ! اس پر مہاجرین میں سے حضرت مقداد رضی اللہ عنہ نے کھڑے ہو کرکہا کہ اے اللہ کے رسولﷺ! جدھر آپؐ کا رب آپؐ کو حکم دے رہا ہے آپؐ اسی طرف چلئے‘ آپؐ ہمیں حضرت موسیٰؑ کے ساتھیوں کی طرح نہ سمجھئے ‘ جنہوں نے کہہ دیا تھا : {فَاذۡہَبۡ اَنۡتَ وَ رَبُّکَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا ہٰہُنَا قٰعِدُوۡنَ ﴿۲۴﴾}۔ ہم آپؐ کے ساتھی ہیں‘ آپؐ جو حکم دیں ہم حاضر ہیں۔ اس موقع پر حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر رضی اللہ عنہمانے بھی اظہارِ خیال فرمایا‘ لیکن حضورﷺ انصار کی رائے معلوم کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے کہ بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر انصار نے یہ وعدہ تو کیا تھا کہ مدینہ پر حملہ ہوا تو وہ لوگ آپؐ کی حفاظت کریں گے‘ لیکن یہاں معاملہ مدینہ سے باہر نکل کر جنگ کرنے کا تھا‘ لہٰذا جنگ کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے آپﷺ کی منشا کو بھانپ لیا‘ لہٰذا وہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ شاید آپؐ کا روئے سخن ہماری (انصار کی) طرف ہے ۔ آپؐ نے فرمایا: ہاں! اس پرانہوں نے کہا : لَقَدْ اٰمَنَّا بِکَ وَصَدَّقْنَاکَ … ہم آپؐ پر ایمان لا چکے ہیں‘ ہم آپؐ کی تصدیق کر چکے ہیں‘ ہم آپؐ کو اللہ کا رسول مان چکے ہیںاور آپؐ سے سمع و طاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں‘ اب ہمارے پاس آپؐ کے حکم کی تعمیل کے علاوہ کوئی راستہ (option) نہیں ہے۔ قسم ہے اُس ذات کی جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ‘ اگر آپ ؐاپنی سواری اس سمندر میں ڈال دیں گے تو ہم بھی آپ کے پیچھے اپنی سواریاں سمندر میں ڈال دیں گے۔ اور خدا کی قسم‘ اگر آپؐ ہمیں کہیں گے تو ہم برک الغما د(یمن کا شہر) تک جا پہنچیں گے‘ چاہے اس میں ہماری اونٹنیاں لاغر ہو جائیں۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپؐ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا ٹکرائیں۔ ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے ‘ مقابلہ میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے‘ اور بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ آپؐ کو ہم سے وہ کچھ دکھوا دے جسے دیکھ کر آپؐ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں۔ پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپؐ ہمیں لے چلیں! حضرت سعدؓ کی اس تقریر کے بعد حضورﷺ کا چہرہ خوشی سے چمک اٹھا اور آپؐ نے بدر کی طرف کوچ کرنے کا حکم دیا۔ یہ ایک جھلک ہے اُس مدد کی جو اللہ کی طرف سے آپﷺ کے انتہائی سچے اور مخلص صحابہؓ کی صورت میں حضورﷺ کے شامل حال تھی۔

63-64

ساتھیوں کے درمیان الفت،اللہ کے فضل ہی سے ممکن ہے

ویڈیو

وَ اَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمۡ ؕ اِنَّہٗ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۳﴾ یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسۡبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾

آیت 63

وَ اَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ ؕ لَوۡ اَنۡفَقۡتَ مَا فِی الۡاَرۡضِ جَمِیۡعًا مَّاۤ اَلَّفۡتَ بَیۡنَ قُلُوۡبِہِمۡ

’’اور اِن (اہل ایمان) کے دلوں میں اُس نے الفت پیدا کر دی۔ اگر آپ ؐ زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر دیتے تو اِن کے دلوں میں یہ اُلفت پیدا نہیں کر سکتے تھے‘‘

وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ اَلَّفَ بَیۡنَہُمۡ ؕ

’’لیکن یہ تو اللہ نے اُن کے مابین (ایسی) الفت پیدا کر دی۔‘‘

سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۰۳ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اس فضل خاص کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے : {وَ اذۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ عَلَیۡکُمۡ اِذۡ کُنۡتُمۡ اَعۡدَآءً فَاَلَّفَ بَیۡنَ قُلُوۡبِکُمۡ فَاَصۡبَحۡتُمۡ بِنِعۡمَتِہٖۤ اِخۡوَانًا ۚ وَ کُنۡتُمۡ عَلٰی شَفَا حُفۡرَۃٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنۡقَذَکُمۡ مِّنۡہَا ؕ} ’’اور اپنے اوپر اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو کہ تم لوگ ایک دوسرے کے دشمن تھے‘ پھر اللہ نے تمہارے دلوں میں باہم الفت پیدا کر دی تو اُس کی نعمت سے تم بھائی بھائی بن گئے‘ اور تم لوگ تو آگ کے گڑھے کے کنارے تک پہنچ چکے تھے جہاں سے اللہ نے تمہیں بچایا ہے۔‘‘

اِنَّہٗ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۶۳﴾

’’یقینا وہ زبر دست ہے ‘حکمت والاہے۔‘‘

آیت 64

یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ حَسۡبُکَ اللّٰہُ وَ مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾

’’ اے نبی!(ﷺ) آپ کے لیے کافی ہے اللہ اور وہ جو پیروی کر رہے ہیں آپ کی اہلِ ایمان میں سے۔‘‘

اگر اس آیت کوپچھلی آیت کے ساتھ تسلسل سے پڑھا جائے تو اس کا ترجمہ یہی ہو گا جو اوپر کیا گیا ہے‘ لیکن اس کا دوسرا ترجمہ یوں ہو گا: ’’اے نبی(ﷺ )اللہ کافی ہے آپ کے لیے بھی اور جو آپ کی پیروی کرنے والے مسلمان ہیں اُن کے لیے بھی‘‘۔عبارت کا انداز ایسا ہے کہ اس میں یہ دونوں مفاہیم آ گئے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے