وَ لَا یَحۡسَبَنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا سَبَقُوۡا ؕ
’’اور نہ سمجھیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے کہ وہ بچ نکلے ہیں۔‘‘
غزوئہ بدر میں کفار کے ایک ہزار افراد میں سے بہت سے لوگ صحیح سلامت بچ بھی نکلے تھے ۔ یہ اُن کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ واقعی بچ نکلے ہیں۔
اِنَّہُمۡ لَا یُعۡجِزُوۡنَ ﴿۵۹﴾
’’وہ (اللہ کو )عاجز نہیں کر سکیں گے۔‘‘
وہ ہمارے قابو سے باہر نہیں جا سکیں گے۔
وَ اَعِدُّوۡا لَہُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّۃٍ وَّ مِنۡ رِّبَاطِ الۡخَیۡلِ
’’اور تیار رکھو اُن کے (مقابلے کے ) لیے اپنی استطاعت کی حد تک طاقت اور بندھے ہوئے گھوڑے‘‘
یہاں مسلمانوں کو واضح طور پر حکم دیا جا رہا ہے کہ اب جبکہ تمہاری تحریک تصادم کے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے تو تم لوگ اپنے وسائل کے مطابق ‘ مقدور بھر فن حرب کی صلاحیت و اہلیت ‘ اسلحہ اور گھوڑے وغیرہ جہاد کے لیے تیار رکھو۔ اگرچہ ایک مؤمن کو تو کل صرف اللہ کی نصرت پر ہی کرنا چاہیے‘ مگر توکل کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا رہے اور امید رکھے کہ سب کچھ اللہ کی مدد سے ہی ہو جائے گا۔ بلکہ توکل یہ ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق اپنے تمام ممکنہ مادی اور تکنیکی وسائل مہیا رکھے جائیں اور پھر اللہ کی نصرت پر توکل کیا جائے۔
اس آیت میں مسلمانوں کو اپنے دشمنوں کے خلاف بھر پور دفاعی صلاحیت حاصل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرنے کے حوالے سے بہت واضح حکم دیا گیا ہے۔ تیاری کا یہ حکم ہر دورکے لیے ہے ۔ آج اگرا للہ تعالیٰ نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے نوازا ہے تو یہ صلاحیت ملک و قوم کی قوت و طاقت کی علامت بھی ہے اور تمام عالم اسلام کی طرف سے پاکستان کے پاس ایک امانت بھی ۔ اگر اس سلسلے میں کسی دبائو کے تحت ‘ کسی بھی قسم کا کوئی سمجھوتہ (compromise) کیا گیا تو یہ اللہ ‘اُس کے دین اور تمام عالم اسلام سے ایک طرح کی خیانت ہو گی۔ لہٰذا آج وقت کی یہ اہم ضرورت ہے کہ پاکستانی قوم اپنے دشمنوں سے ہوشیار رہتے ہوئے اس سلسلے میں جرأت مندانہ پالیسی اپنائے‘تا کہ اس کے دشمنوں کے لیے ایٹمی ہتھیاروں کی صورت میں قوتِ مزاحمت کا توازن (deterrence) قائم رہے۔
تُرۡہِبُوۡنَ بِہٖ عَدُوَّ اللّٰہِ وَ عَدُوَّکُمۡ
’’(تا کہ )تم اس سے اللہ کے دشمنوں اور اپنے دشمنوں کو ڈرا سکو‘‘
وَ اٰخَرِیۡنَ مِنۡ دُوۡنِہِمۡ ۚ لَا تَعۡلَمُوۡنَہُمۡ ۚ اَللّٰہُ یَعۡلَمُہُمۡ ؕ
’’اور کچھ دوسروں کو (بھی)جو ان کے علاوہ ہیں ‘ تم انہیں نہیں جانتے ‘ اللہ انہیں جانتا ہے۔‘‘
یعنی تمہاری آستینوں کے سانپ منافقین جو درپردہ تمہاری تباہی اور بربادی کے درپے رہتے ہیں۔ تمہاری نظروں سے تو وہ چھپے ہوئے ہیں مگر اللہ تعالیٰ ان کو خوب جانتا ہے۔
وَ مَا تُنۡفِقُوۡا مِنۡ شَیۡءٍ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یُوَفَّ اِلَیۡکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۰﴾
’’اور جو کچھ بھی تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے اس کا ثواب پورا پورا تمہیں دیا جائے گا اور تم پر کوئی زیادتی نہیں ہو گی۔‘‘
یعنی اگرا سلحہ خریدنا ہے ‘ سازو سامان فراہم کرنا ہے‘ گھوڑے تیار کرنے ہیں تو اس سب کچھ کے لیے اخراجات تو ہوں گے۔لہٰذا جنگی تیاری کے حکم کے ساتھ ہی انفاق فی سبیل اللہ کا حکم بھی آ گیا‘ اس ضمانت کے ساتھ کہ جو کوئی جتنا اس سلسلے میں اللہ کے رستے میں خرچ کرے گا اس کو وعدے کے مطابق پورا پورا اجر دیا جائے گا اور کسی کی ذرّہ برابر بھی حق تلفی نہیں ہو گی۔ یہاں انفاق فی سبیل اللہ کے بارے میں سورۃ البقرۃ کے رکوع ۳۶ اور ۳۷ میں دیے گئے اَحکام کو ذہن میں دوبارہ تازہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانو! اب تمہاری تحریک کا وہ مرحلہ شروع ہو چکا ہے جہاں تمہارا جنگ کے لیے ممکن حد تک بھرپورتیاری کرنا اور بہتر سے بہتر اسلحہ حاصل کرنا نا گزیر ہو گیا ہے۔ لہٰذا اب آگے بڑھو اور اس عظیم مقصد کے لیے دل کھول کر خرچ کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک کے بدلے سات سو تک دینے کا وعدہ کر چکا ہے‘ بلکہ یہ بھی آخری حد نہیں ہے۔ جذبۂ ایثارو خلوص جس قدر زیادہ ہو گا یہ اجر و ثواب اسی قدر بڑھتا چلا جائے گا۔ لہٰذا اپنا مال سینت سینت کر رکھنے کے بجائے اللہ کی راہ میں خرچ کر ڈالو‘ تا کہ دنیا میں اللہ کے دین کے غلبے کے لیے کام آ جائے اور آخرت میں تمہاری فلاح کا ضامن بن جائے۔