تحریر

الأنفال

آیات ۴۹ تا ۵۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

49

منافقانہ طرزِفکر

ویڈیو

اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ غَرَّہٰۤؤُ لَآءِ دِیۡنُہُمۡ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۹﴾

آیت 49

اِذۡ یَقُوۡلُ الۡمُنٰفِقُوۡنَ وَ الَّذِیۡنَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمۡ مَّرَضٌ

’’جب کہہ رہے تھے منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا‘‘

ابھی تک ایک طرف کے حالات کا نقشہ پیش کیا جا رہا تھا ۔ یعنی لشکرِ قریش کی مکہ سے روانگی ‘ اس لشکر کی کیفیت ‘ ان کے سرداروں کے متکبرانہ خیالات ‘ شیطان کا ان کی پیٹھ ٹھونکنا اور پھر عین وقت پر بھاگ کھڑے ہونا۔ اب اس آیت میں مدینہ کے حالات پر تبصرہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ سے لشکر لے کر نکلے تو پیچھے رہ جانے والے منافقین کیا کیا باتیں بنا رہے تھے ۔ وہ کہہ رہے تھے:

غَرَّہٰۤؤُ لَآءِ دِیۡنُہُمۡ ؕ

’’اِن (مسلمانوں) کو تو ان کے دین نے بالکل دھوکے میں ڈال دیا ہے۔‘‘

یعنی ان لوگوں کا دماغ خراب ہو گیا ہے جو قریش کے اتنے بڑے لشکر سے مقابلہ کرنے چل پڑے ہیں۔ ہم تو پہلے ہی ان کو سُفھَاء (احمق) سمجھتے تھے‘ مگرا ب تو عملی طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ یہ لوگ اپنے دین کے پیچھے بالکل ہی پاگل ہو گئے ہیں۔

وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ فَاِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۴۹﴾

’’اور(انہیں کیا پتا کہ) جو کوئی توکل کرتا ہے اللہ پر تو اللہ زبردست ہے‘ حکمت والا ہے۔‘‘

50-52

اذّیت ناک موت

ویڈیو

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۵۰﴾ ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿ۙ۵۱﴾ کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۵۲﴾

آیت 50

وَ لَوۡ تَرٰۤی اِذۡ یَتَوَفَّی الَّذِیۡنَ کَفَرُوا ۙ الۡمَلٰٓئِکَۃُ

’’اور کاش تم دیکھ سکتے جب قبض کرتے ہیں فرشتے ان کافروں کی جانوں کو‘‘

یَضۡرِبُوۡنَ وُجُوۡہَہُمۡ وَ اَدۡبَارَہُمۡ ۚ وَ ذُوۡقُوۡا عَذَابَ الۡحَرِیۡقِ ﴿۵۰﴾

’’ضربیں لگاتے ہوئے اُن کے چہروںاور اُن کی پیٹھوں پر ‘اور( کہتے ہیں کہ اب) چکھو جلنے کا عذاب۔‘‘

آیت 51

ذٰلِکَ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ لَیۡسَ بِظَلَّامٍ لِّلۡعَبِیۡدِ ﴿ۙ۵۱﴾

’’یہ وہ کچھ ہے جو تمہارے اپنے ہاتھوں نے آگے بھیجا ہے اور اللہ تو ہر گز اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔ ‘‘

آیت 52

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’(ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوا) جیسے کہ معاملہ ہوا آلِ فرعون کا اور اُن لوگوں کا جو اُن سے پہلے تھے۔‘‘

آلِ فرعون سے پہلے قومِ شعیب ؑتھی‘ قومِ شعیب ؑسے پہلے قومِ لوطؑ‘ اُن سے پہلے قومِ ثمود‘ اُن سے پہلے قومِ عاد اور اُن سے پہلے قومِ نوحؑ۔ ان ساری قوموں کے انجام کے بارے میں ہم سورۃ الاعراف میں پڑھ چکے ہیں۔

کَفَرُوۡا بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَاَخَذَہُمُ اللّٰہُ بِذُنُوۡبِہِمۡ ؕ

’’انہوں نے اللہ کی آیات کا کفر کیا‘ تو اللہ نے انہیں پکڑ لیا اُن کے گناہوں کی پاداش میں۔‘‘

اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۵۲﴾

’’یقینا اللہ قوی ہے اور سزا دینے میں سخت ہے۔‘‘

53-54

ناشکری سے نعمت چھن جاتی ہے

ویڈیو

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾ کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ کُلٌّ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵۴﴾

آیت 53

ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۙ

’’یہ اس لیے کہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کوئی نعمت جو اُس نے کسی قوم کو دی ہو اُس میں تغیر کرے جب تک کہ وہ قوم اپنی اندرونی کیفیت کو خود متغیر نہ کر دے‘‘

اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف اپنا پیغمبر مبعوث کیا‘ جس نے اللہ کی توحید اور اس کے احکام کے مطابق اس قوم کو دعوت دی۔ پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا‘ اُن پر اپنے انعامات و احسانات کی بارشیں کیں۔ پھر اپنے پیغمبر کے بعد ان لوگوں نے آہستہ آہستہ کفرو ضلالت کی روش اختیار کی اور توحید کی شاہراہ کو چھوڑ کر شرک کی پگڈنڈیاں اختیار کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں نے بھی اُن سے منہ موڑ لیا‘ انعامات کی جگہ اللہ کے عذاب نے لے لی اور یوں وہ قوم تباہ و برباد کر دی گئی۔

حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پرسوار ہونے والے مؤمنین کی نسل سے ایک قوم وجود میں آئی۔ جب وہ قوم گمرا ہ ہوئی تو حضرت ہود علیہ السلام کو اُن کی طرف بھیجا گیا۔ پھر حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی نسل سے قومِ ثمود نے جنم لیا اور پھر جب وہ لوگ گمراہ ہوئے تو اُن کی طرف حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ گویا ہر قوم اپنے پیغمبر کے راستے کو چھوڑنے کے سبب برباد ہوئی ‘ مگرا للہ تعالیٰ نے کسی بھی قوم سے اپنی نعمت اُس وقت تک سلب نہیں کی جب تک کہ خود انہوں نے ہدایت کی راہ کو چھوڑ کر گمراہی اختیار نہیں کی۔ یہ مضمون بعد میں سورۃ الرعد (آیت ۱۱) میں بھی آئے گا۔ مولانا ظفر علی خان نے اس مضمون کو ایک خوبصورت شعر میں اس طرح ڈھالا ہے: ؎

خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!

اس فلسفے کے مطابق جب کوئی قوم محنت کواپنا شعار بنا لیتی ہے تو اس کے ظاہری حالات میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور یوں اس کی تقدیر بدلتی ہے۔ صرف خوش فہمیوں (wishful thinkings) او ر دعاؤں سے قوموں کی تقدیریں نہیں بدلا کرتیں ‘ اور قوم چونکہ افرادکا مجموعہ ہوتی ہے‘ اس لیے تبدیلی کا آغاز افراد سے ہوتا ہے۔ پہلےچند افراد کی قلب ماہیت ہوتی ہے ۔یعنی اُن کی سوچ ‘ اُن کے نظریات‘ اُن کے خیالات‘ اُن کے مقاصد‘ اُن کی دلچسپیاں اور اُن کی امنگیں تبدیل ہوتی ہیں۔ پھر جب ایسے پاک باطن لوگوں کی تعداد رفتہ رفتہ بڑھتی ہے اور وہ لوگ ایک طاقت اور قوت کے طور پر خود کو منظم کر کے باطل کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں تو طاغوتی طوفان اپنا رُخ بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں اہل حق کی قربانیوں سے نظام بدلتا ہے‘ انقلاب کی سحر پرنور طلوع ہوتی ہے اورمعاشرہ پھر سے راہِ حق پر گامزن ہوتا ہے ۔لیکن واضح رہے کہ اس انقلاب کی جدوجہد کے لیے ہمیں فکری و عملی راہنمائی صرف اور صرف قرآنی تعلیمات سے حاصل کرنا ہو گی۔ یہی وہ سبق ہے جس کے پڑھنے سے انسان کے اندر کی دنیا میں انقلاب آتا ہے۔ اسی اکسیر سے اُس کی قلب ماہیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے مٹی کایہ انبار یکایک شمشیر بے زنہار کا روپ دھار لیتا ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اس لطیف نکتے کی وضاحت اس طرح کی ہے: ؎

چوں بحاں در رفت جاں دِیگر شود

جاں چوں دیگر شد جہاں دیگر شود

یعنی جب یہ قرآن کسی انسان کے دل کے اندر اتر جاتا ہے تو اُس کے دل اور اُس کی روح کو بد ل کر رکھ دیتا ہے۔ اور ایک بندئہ مؤمن کے اندر کا یہی انقلاب بالآخر عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔

وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾

’’اور یہ کہ اللہ سب کچھ سننے والا ‘جاننے والا ہے۔‘‘

آیت 54

کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ

’’جیسا کہ معاملہ ہوا آلِ فرعون کا اور جو اُن سے پہلے تھے۔‘‘

کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ

’’انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے اُن کو ہلاک کر ڈالااُن کے گناہوں کی پاداش میں‘‘

وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ کُلٌّ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵۴﴾

’’اور آلِ فرعون کو ہم نے غرق کر دیا‘اور یہ سب کے سب ظالم تھے۔‘‘

55-57

یہود کی عہد شکنی

ویڈیو

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۖۚ۵۵﴾ اَلَّذِیۡنَ عٰہَدۡتَّ مِنۡہُمۡ ثُمَّ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَہُمۡ فِیۡ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۶﴾ فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّہُمۡ فِی الۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِہِمۡ مَّنۡ خَلۡفَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾

آیت 55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَہُمۡ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۖۚ۵۵﴾

’’یقینا بدترین چوپائے اللہ کے نزدیک یہی لوگ ہیں جو کفر کرتے ہیں اور ایمان نہیں لاتے۔‘‘

یہی بات اس سے پہلے ہم سورۃ الاعراف کی آیت ۱۷۹میں بھی پڑھ چکے ہیں کہ ایسے لوگ بظاہر انسان نظر آتے ہیں‘لیکن حقیقت میں وہ انسان نہیں ہیں: {لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ} یعنی حقیقت میں وہ لوگ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے ہیں۔ ان ہی لوگوں کو یہاں ’’شَرَّ الدَّوَآبِّ‘‘ کہا گیا ہے‘کہ یہی وہ حیوان نماانسان ہیں جو تمام جانوروں سے بدتر ہیں ‘جو ایمان کی نعمت کے مقابلے میں کفر کی روش اختیار کر کے دنیا کی لذتوں پر ریجھ گئے ہیں۔

آیت 56

اَلَّذِیۡنَ عٰہَدۡتَّ مِنۡہُمۡ ثُمَّ یَنۡقُضُوۡنَ عَہۡدَہُمۡ فِیۡ کُلِّ مَرَّۃٍ وَّ ہُمۡ لَا یَتَّقُوۡنَ ﴿۵۶﴾

’’وہ لوگ جن سے (اے نبیﷺ) آپ نے معاہدہ کیا تھا ‘پھر وہ ہر مرتبہ اپنا عہد توڑ دیتے ہیں اور وہ (اس بارے میں) ڈرتے نہیں ہیں۔‘‘

یہ اشارہ یہودِ مدینہ کی طرف ہے۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپؐ نے آتے ہی یہودیوں سے مذاکرات شروع کیے اور نتیجتاً مدینہ کے تینوں یہودی قبائل سے شہر کے مشترکہ دفاع کا معاہدہ کر لیا۔ پروفیسر منٹگمری واٹ (۱۹۰۹ء تا ۲۰۰۶ء)نے اس معاہدے کو آنحضورﷺ کا ایک بہت بڑا مدبرانہ کارنامہ قرار دیاہے ۔ اُس نے اس سلسلے میں آپﷺ کی معاملہ فہمی اور سیاسی بصیرت کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ ظاہری طور پر اگرچہ یہودی اس معاہدے کے پابند رہے مگر خفیہ طور پر وہ مسلمانوں کے خلاف سازشوں سے بھی باز نہیں آتے تھے۔ انہوں نے ہر مشکل مرحلے پر اس معاہدے کا پاس نہ کرتے ہوئے آپﷺ کے دشمنوں کے ساتھ ساز باز کی‘ حتیٰ کہ غزوۂ احزاب کے انتہائی نازک موقع پر قریش کو خفیہ طور پر پیغامات بھجوائے کہ آپ لوگ باہر سے شہر پر حملہ کر دیں ‘ ہم اندر سے تمہاری مدد کریں گے۔

آیت 57

فَاِمَّا تَثۡقَفَنَّہُمۡ فِی الۡحَرۡبِ فَشَرِّدۡ بِہِمۡ مَّنۡ خَلۡفَہُمۡ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾

’’تو اگر آپؐ انہیں جنگ میں پا جائیں تو ان کو ایسی سزا دیں کہ جو ان کے پیچھے ہیں ان کو بھی خوف زدہ کر دیں‘ تاکہ وہ عبرت حاصل کریں۔‘‘

یہ یہودی آپ لوگوں کے خلاف کفارِ مکہ کے ساتھ مل کر خفیہ طور پر سازشیں تو ہر وقت ہی کرتے رہتے ہیں‘ لیکن اگر ان میں سے کچھ لوگ قریش کی طرف سے لڑتے ہوئے کبھی میدانِ جنگ میں پکڑے جائیں توان کو ایسی عبرت ناک سزا دو کہ قریشِ مکہ جو پیچھے بیٹھ کر ان کی ڈوریںہلا رہے ہیں اور اِن سازشوں کی منصوبہ بندیاں کر رہے ہیں اُن کے ہوش بھی ٹھکانے آ جائیں۔

58

جنگ کے لیے بھرپور تیاری کرنے کا حکم

ویڈیو

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوۡمٍ خِیَانَۃً فَانۡۢبِذۡ اِلَیۡہِمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿٪۵۸﴾

آیت 58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنۡ قَوۡمٍ خِیَانَۃً فَانۡۢبِذۡ اِلَیۡہِمۡ عَلٰی سَوَآءٍ ؕ

’’اور اگر آپؐ کو اندیشہ ہو جائے کسی قوم کی طرف سے بدعہدی کا تو پھینک دیجیے (ان کا معاہدہ) ان کی طرف کھلم کھلا۔‘‘

پچھلی آیات میں انفرادی فعل کے طور پر معاہدے کی خلاف ورزی کا ذکر تھا۔ مثلاً کسی قبیلے کا کوئی فرد اس طرح کی کسی سازش میں ملوث پایا جائے توممکن ہے ایسی صورت میں اس کے قبیلے کے لوگ یا سردار اس سے بریٔ الذمہ ہو جائیں کہ یہ اس شخص کا ذاتی اور انفرادی فعل ہے اور اجتماعی طور پر ہمارا قبیلہ بدستور معاہدے کا پابند ہے۔ لیکن اس آیت میں قومی سطح پر اس مسئلے کا حل بتایا گیا ہے کہ اے نبیﷺ! اگر آپ کو کسی قوم یا قبیلے کی طرف سے معاہدے کی خلاف ورزی کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں آپ ان کے معاہدے کو علی الاعلان منسوخ (abrogate) کر دیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کو اخلاق کے جس معیار پر دیکھنا چاہتا ہے اس میں یہ ممکن نہیں کہ بظاہر معاہدہ بھی قائم رہے اور اندرونی طور پر متعلقہ فریق کے خلاف اقدام کی منصوبہ بندی بھی ہوتی رہے۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ کو حکم دیا گیا کہ ایسی صورت میں آپ(ﷺ)کھلم کھلا یہ اعلان کر دیں کہ آج سے میرے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ نہیں۔

مولانا مودودیؒ نے ۱۹۴۸ء میں جہادِ کشمیر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار اسی قرآنی حکم کی روشنی میں کیا تھا‘ کہ ہندوستان کے ساتھ ہمارے سفارتی تعلقات کے ہوتے ہوئے یہ اقدام قرآن اور شریعت کی رو سے غلط ہے اور اسلام کے نام پر بننے والی مملکت کی حکومت کو ایسی پالیسی زیب نہیں دیتی۔ پاکستان کو اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنی پالیسی کا کھلم کھلا اعلان کرنا چاہیے۔ میز کے اوپر باہمی تعاون کے معاہدے کرنا‘ دوستی کے ہاتھ بڑھانا اور میز کے نیچے سے ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنا دنیا داروں کا وطیرہ تو ہو سکتا ہے اہل ایمان کا طریقہ نہیں۔ مولانا مودودیؒ کی یہ رائے اگرچہ اس آیت کی روح کے عین مطابق تھی مگر اُس وقت اُن کی اس رائے کے خلاف عوام میں خاصا اشتعال پیدا ہو گیا تھا۔

اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡخَآئِنِیۡنَ ﴿٪۵۸﴾

’’یقینا اللہ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے