ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ لَمۡ یَکُ مُغَیِّرًا نِّعۡمَۃً اَنۡعَمَہَا عَلٰی قَوۡمٍ حَتّٰی یُغَیِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِہِمۡ ۙ
’’یہ اس لیے کہ اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ کوئی نعمت جو اُس نے کسی قوم کو دی ہو اُس میں تغیر کرے جب تک کہ وہ قوم اپنی اندرونی کیفیت کو خود متغیر نہ کر دے‘‘
اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کی طرف اپنا پیغمبر مبعوث کیا‘ جس نے اللہ کی توحید اور اس کے احکام کے مطابق اس قوم کو دعوت دی۔ پیغمبر کی دعوت پر لبیک کہنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں سے نوازا‘ اُن پر اپنے انعامات و احسانات کی بارشیں کیں۔ پھر اپنے پیغمبر کے بعد ان لوگوں نے آہستہ آہستہ کفرو ضلالت کی روش اختیار کی اور توحید کی شاہراہ کو چھوڑ کر شرک کی پگڈنڈیاں اختیار کر لیں تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں نے بھی اُن سے منہ موڑ لیا‘ انعامات کی جگہ اللہ کے عذاب نے لے لی اور یوں وہ قوم تباہ و برباد کر دی گئی۔
حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی پرسوار ہونے والے مؤمنین کی نسل سے ایک قوم وجود میں آئی۔ جب وہ قوم گمرا ہ ہوئی تو حضرت ہود علیہ السلام کو اُن کی طرف بھیجا گیا۔ پھر حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان لانے والوں کی نسل سے قومِ ثمود نے جنم لیا اور پھر جب وہ لوگ گمراہ ہوئے تو اُن کی طرف حضرت صالح علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ گویا ہر قوم اپنے پیغمبر کے راستے کو چھوڑنے کے سبب برباد ہوئی ‘ مگرا للہ تعالیٰ نے کسی بھی قوم سے اپنی نعمت اُس وقت تک سلب نہیں کی جب تک کہ خود انہوں نے ہدایت کی راہ کو چھوڑ کر گمراہی اختیار نہیں کی۔ یہ مضمون بعد میں سورۃ الرعد (آیت ۱۱) میں بھی آئے گا۔ مولانا ظفر علی خان نے اس مضمون کو ایک خوبصورت شعر میں اس طرح ڈھالا ہے: ؎
خدا نے آج تک اُس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!
اس فلسفے کے مطابق جب کوئی قوم محنت کواپنا شعار بنا لیتی ہے تو اس کے ظاہری حالات میں مثبت تبدیلی آتی ہے اور یوں اس کی تقدیر بدلتی ہے۔ صرف خوش فہمیوں (wishful thinkings) او ر دعاؤں سے قوموں کی تقدیریں نہیں بدلا کرتیں ‘ اور قوم چونکہ افرادکا مجموعہ ہوتی ہے‘ اس لیے تبدیلی کا آغاز افراد سے ہوتا ہے۔ پہلےچند افراد کی قلب ماہیت ہوتی ہے ۔یعنی اُن کی سوچ ‘ اُن کے نظریات‘ اُن کے خیالات‘ اُن کے مقاصد‘ اُن کی دلچسپیاں اور اُن کی امنگیں تبدیل ہوتی ہیں۔ پھر جب ایسے پاک باطن لوگوں کی تعداد رفتہ رفتہ بڑھتی ہے اور وہ لوگ ایک طاقت اور قوت کے طور پر خود کو منظم کر کے باطل کی راہ میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہوجاتے ہیں تو طاغوتی طوفان اپنا رُخ بدلنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ یوں اہل حق کی قربانیوں سے نظام بدلتا ہے‘ انقلاب کی سحر پرنور طلوع ہوتی ہے اورمعاشرہ پھر سے راہِ حق پر گامزن ہوتا ہے ۔لیکن واضح رہے کہ اس انقلاب کی جدوجہد کے لیے ہمیں فکری و عملی راہنمائی صرف اور صرف قرآنی تعلیمات سے حاصل کرنا ہو گی۔ یہی وہ سبق ہے جس کے پڑھنے سے انسان کے اندر کی دنیا میں انقلاب آتا ہے۔ اسی اکسیر سے اُس کی قلب ماہیت ہوتی ہے جس کی وجہ سے مٹی کایہ انبار یکایک شمشیر بے زنہار کا روپ دھار لیتا ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اس لطیف نکتے کی وضاحت اس طرح کی ہے: ؎
چوں بحاں در رفت جاں دِیگر شود
جاں چوں دیگر شد جہاں دیگر شود
یعنی جب یہ قرآن کسی انسان کے دل کے اندر اتر جاتا ہے تو اُس کے دل اور اُس کی روح کو بد ل کر رکھ دیتا ہے۔ اور ایک بندئہ مؤمن کے اندر کا یہی انقلاب بالآخر عالمی انقلاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
وَ اَنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۵۳﴾
’’اور یہ کہ اللہ سب کچھ سننے والا ‘جاننے والا ہے۔‘‘
کَدَاۡبِ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ ۙ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ؕ
’’جیسا کہ معاملہ ہوا آلِ فرعون کا اور جو اُن سے پہلے تھے۔‘‘
کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمۡ فَاَہۡلَکۡنٰہُمۡ بِذُنُوۡبِہِمۡ
’’انہوں نے اپنے رب کی آیات کو جھٹلایا تو ہم نے اُن کو ہلاک کر ڈالااُن کے گناہوں کی پاداش میں‘‘
وَ اَغۡرَقۡنَاۤ اٰلَ فِرۡعَوۡنَ ۚ وَ کُلٌّ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵۴﴾
’’اور آلِ فرعون کو ہم نے غرق کر دیا‘اور یہ سب کے سب ظالم تھے۔‘‘