تحریر

الأنفال

آیات ۴۵ تا ۴۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

45-47

دوران جنگ مسلمانوں کے لیے ہدایات

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَ تَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ وَ اصۡبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۴۷﴾

آیت 45

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا

’’ اے اہلِ ایمان! جب بھی تمہارا مقابلہ ہو کسی گروہ سے تو ثابت قدم رہو‘‘

یہ وہ دور تھا جب حق و باطل کے درمیان گھمسان کا تصادم شروع ہو چکا تھا اور یوں دین کے غلبے کی جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ غزوۂ بدر اس سلسلے کی پہلی جنگ تھی اور ابھی بہت سی مزید جنگیں لڑی جانی تھیں۔چنانچہ ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے زیر مطالعہ آیات میں مسلمانوں کو میدانِ جنگ اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں ۔اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے کہ جب بھی کسی فوج سے میدانِ جنگ میں تمہارا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو‘ اور کبھی بھی ‘ کسی بھی حالت میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ۔

وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾

’’اور اللہ کا ذکر کرتے رہوکثرت کے ساتھ تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘

دوسری ہدایت یہ کہ حالتِ جنگ میں بھی اللہ کو کثر ت سے یاد کرتے رہو‘ کیونکہ تمہاری اصل طاقت کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مدد پر ہے۔ اور اللہ کی مدد صبر کرنے (ثابت قدم رہنے) والوں کے ساتھ ہے : {وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ } ( النحل: ۱۲۷)‘ اور یاد رکھو! ایک بندئہ مؤمن کا صبر اللہ کے بھروسے پر ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر تمہارے دل اللہ کی یاد سے منور ہوں گے ‘ اُس کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق استوار ہو گا ‘ تو تمہیں ثابت قدم رہنے کے لیے سہارا ملے گا ‘ اور اگرا للہ کے ساتھ تمہارا تعلق کمزور پڑ گیا تو پھر تمہاری ہمت بھی جواب دے دے گی۔

آیت 46

وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ

’’اور حکم مانو اللہ کااور اُس کے رسول(ﷺ) کا‘‘

یہ تیسرا حکم ڈسپلن کے بارے میں ہے کہ جو حکم تمہیں اللہ کے رسول ﷺ کی طرف سے ملے اس کی دل و جان سے پابندی کرو۔ اگرچہ یہاں اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی بات ہوئی ہے ‘لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو عملی طور پر یہ اطاعتِ رسولﷺہی کی ہدایت ہے ‘کیونکہ جو حکم بھی آتا تھا وہ آپﷺ ہی کی طرف سے آتا تھا۔ قرآن بھی حضورﷺ کی زبانِ مبارک سے ادا ہوتا تھا اور اگر آپؐ اپنی کسی تدبیر سے اجتہاد کے تحت کوئی فیصلہ فرماتے تو وہ بھی آپﷺ ہی کی زبانِ مبارک سے ادا ہوتا تھا۔ لہٰذا عملاً اللہ کی اطاعت آپﷺ ہی کی اطاعت میں مضمر ہے۔ اقبالؔ نے اس نکتے کو بہت خوبصورتی سے اس ایک مصرعے میں سمو دیا ہے: ؏ ’’بمصطفٰیؐ بر ساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست!‘‘

وَ لَا تَنَازَعُوۡا فَتَفۡشَلُوۡا وَ تَذۡہَبَ رِیۡحُکُمۡ وَ اصۡبِرُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿ۚ۴۶﴾

’’اور آپس میں جھگڑا نہ کرو ورنہ تم ڈھیلے پڑ جائو گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی ‘ اور ثابت قدم رہو۔ یقینا اللہ ثابت قدم رہنے والوں کے ساتھ ہے۔‘‘

اس آیت کو پڑھتے ہوئے سورۂ آلِ عمران کی آیت ۱۵۲ کا مضمون ضرور مدنظر رہنا چاہیے ۔ وہاں غزوۂ اُحد کے واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا:{وَ لَقَدۡ صَدَقَکُمُ اللّٰہُ وَعۡدَہٗۤ اِذۡ تَحُسُّوۡنَہُمۡ بِاِذۡنِہٖ ۚ حَتّٰۤی اِذَا فَشِلۡتُمۡ وَ تَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ وَ عَصَیۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَاۤ اَرٰىکُمۡ مَّا تُحِبُّوۡنَ ؕ }’’اور اللہ نے تو تم سے (تائید و نصرت کا) جو وعدہ کیا تھا وہ پورا کر دیا جبکہ تم ان کو تہ تیغ کر رہے تھے اللہ کے حکم سے۔یہاں تک کہ جب تم ڈھیلے پڑ گئے اور تم نے امر میں جھگڑا کیااور تم نے نافرمانی کی اس کے بعد کہ تم نے وہ چیز دیکھ لی جو تمہیں محبوب ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ کو تو علم تھا کہ ایک سال بعد (غزوۂ اُحد میں) کیا صورتِ حال پیش آنے والی ہے۔چنانچہ آیت زیرمطالعہ میں ایک سال پہلے ہی مسلمانوں کو جنگی حکمت عملی کے ضمن میں بہت واضح ہدایات دے دی گئیں کہ خبردار! ڈسپلن کی پابندی اور اطاعت رسولﷺ کے حوالے سے کبھی کوتاہی نہ کرنا ورنہ بہت نقصان اٹھائو گے۔

آیت 47

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ خَرَجُوۡا مِنۡ دِیَارِہِمۡ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ

’’اوران لوگوں کی مانند نہ ہو جانا جو نکلے تھے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے‘ لوگوں کو دکھانے کے لیے‘‘

یہ قریش کے لشکر کی طرف اشارہ ہے ۔ جب یہ لشکر مکہ سے روانہ ہوا تو اُس کی شان و شوکت واقعی مرعوب کن تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ابو جہل اور دیگر سردارانِ قریش اپنے غرور اور تکبر کے باعث اس زعم میں تھے کہ مٹھی بھر مسلمان ہمارے اس طاقتور لشکر کے سامنے خس و خاشاک ثابت ہوں گے اور اہممرعوب کن تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ابو جہل اور دیگر سردارانِ قریش اپنے غرور اور تکبر کے باعث اس زعم میں تھے کہ مٹھی بھر مسلمان ہمارے اس طاقتور لشکر کے سامنے خس و خاشاک ثابت ہوں گے اور اہم انہیں کچل کر رکھ دیں گے۔

وَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا یَعۡمَلُوۡنَ مُحِیۡطٌ ﴿۴۷﴾

’’اور وہ اللہ کے راستے سے روک رہے تھے ۔اور جو کچھ وہ لوگ کر رہے تھے اللہ اس کا احاطہ کیے ہوئے تھا۔‘‘

وہ اپنی ساری کوششیں اور تمام توانائیاں مخلوقِ خدا کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کر رہے تھے‘مگر اُن کی کوئی تدبیر اللہ کے قابو سے باہر جانے والی تو نہیں تھی۔

48

شیطان کی دھوکہ دہی

ویڈیو

وَ اِذۡ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الۡیَوۡمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیۡ جَارٌ لَّکُمۡ ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الۡفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیۡہِ وَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکُمۡ اِنِّیۡۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوۡنَ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿٪۴۸﴾

آیت 48

وَ اِذۡ زَیَّنَ لَہُمُ الشَّیۡطٰنُ اَعۡمَالَہُمۡ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَکُمُ الۡیَوۡمَ مِنَ النَّاسِ

’’اور جب شیطان نے اُن کے لیے اُن کے اعمال کو مزین کر دیا تھا اور اُس نے (ان سے) کہا تھا کہ آج تم پر انسانوں میں سے کوئی غالب نہیں آ سکتا‘‘

یعنی اُن کے دلوں میں شیطان نے متکبرانہ خیالات پیدا کر دیے تھے اور انہیں خوش فہمی میں مبتلا کر دیاتھا کہ تمہارا یہ سازوسامان ‘ یہ اسلحہ‘ یہ اتنا بڑا لشکر ‘ یہ سب کچھ غیر معمولی اور انہونی صورتِ حال ہے ۔ عرب کی تاریخ میں اس جیسے لشکر کی کوئی مثال نہیں ملتی۔کس میں ہمت ہے کہ آج اس لشکر کے سامنے ٹھہر سکے اور کس کے پاس اتنی طاقت ہے کہ آج تمہارے اوپر غلبہ پا سکے؟

وَ اِنِّیۡ جَارٌ لَّکُمۡ ۚ

’’اور میں بھی تمہارے ساتھ ہی ہوں۔‘‘

فَلَمَّا تَرَآءَتِ الۡفِئَتٰنِ نَکَصَ عَلٰی عَقِبَیۡہِ

’’پھر جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو وہ اپنی ایڑیوں کے بل پیچھے پھر گیا‘‘

وَ قَالَ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّنۡکُمۡ اِنِّیۡۤ اَرٰی مَا لَا تَرَوۡنَ

’’اور کہنے لگا کہ میں تم سے لا تعلق ہوں ‘ میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھ رہے ہو‘‘

چونکہ ابلیس (عزازیل) کی تخلیق آگ سے ہوئی ہے‘ لہٰذا ناری مخلوق ہونے کی وجہ سے اُس نے فرشتوں کو نازل ہوتے دیکھ لیا اور یہ کہتے ہوئے اُلٹے پائوں بھاگ کھڑا ہوا کہ میں تو یہاں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تم لوگوں کو نظر نہیں آ رہا ہے۔

اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ ؕ وَ اللّٰہُ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿٪۴۸﴾

’’مجھے اللہ کا خوف ہے۔ اور اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے