یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمۡ فِئَۃً فَاثۡبُتُوۡا
’’ اے اہلِ ایمان! جب بھی تمہارا مقابلہ ہو کسی گروہ سے تو ثابت قدم رہو‘‘
یہ وہ دور تھا جب حق و باطل کے درمیان گھمسان کا تصادم شروع ہو چکا تھا اور یوں دین کے غلبے کی جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھی۔ غزوۂ بدر اس سلسلے کی پہلی جنگ تھی اور ابھی بہت سی مزید جنگیں لڑی جانی تھیں۔چنانچہ ان حالات سے عہدہ برآ ہونے کے لیے زیر مطالعہ آیات میں مسلمانوں کو میدانِ جنگ اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں ۔اس سلسلے کی پہلی ہدایت یہ ہے کہ جب بھی کسی فوج سے میدانِ جنگ میں تمہارا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو‘ اور کبھی بھی ‘ کسی بھی حالت میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ۔
وَ اذۡکُرُوا اللّٰہَ کَثِیۡرًا لَّعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ ﴿ۚ۴۵﴾
’’اور اللہ کا ذکر کرتے رہوکثرت کے ساتھ تاکہ تم فلاح پاؤ۔‘‘
دوسری ہدایت یہ کہ حالتِ جنگ میں بھی اللہ کو کثر ت سے یاد کرتے رہو‘ کیونکہ تمہاری اصل طاقت کا انحصار اللہ تعالیٰ کی مدد پر ہے۔ اور اللہ کی مدد صبر کرنے (ثابت قدم رہنے) والوں کے ساتھ ہے : {وَ اصۡبِرۡ وَ مَا صَبۡرُکَ اِلَّا بِاللّٰہِ } ( النحل: ۱۲۷)‘ اور یاد رکھو! ایک بندئہ مؤمن کا صبر اللہ کے بھروسے پر ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ اگر تمہارے دل اللہ کی یاد سے منور ہوں گے ‘ اُس کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق استوار ہو گا ‘ تو تمہیں ثابت قدم رہنے کے لیے سہارا ملے گا ‘ اور اگرا للہ کے ساتھ تمہارا تعلق کمزور پڑ گیا تو پھر تمہاری ہمت بھی جواب دے دے گی۔