اِذۡ اَنۡتُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الدُّنۡیَا وَ ہُمۡ بِالۡعُدۡوَۃِ الۡقُصۡوٰی
’’جب تم لوگ تھے قریب والے کنارے پر اور وہ لوگ تھے دُور والے کنارے پر‘‘
وادیٔ بدر شمال اور جنوب کی اطراف سے تنگ ہے جبکہ درمیان میں یہ ایک کھلے میدان کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔ اس کے شمالی کنارے سے شام کی طرف راستہ نکلتا تھا اور جنوبی کنارے سے مکہ کی طرف۔ جبکہ وادی کی مشرقی سمت سے نکلنے والا راستہ مدینہ کی طرف جاتا تھا ۔ پرانے زمانے میں حاجیوں کے زیادہ تر فاقلے وادیٔ بدر سے ہی گزرتے تھے۔اب نئی موٹر وے ’’طریق الھجرۃ‘‘ بن جانے کی وجہ سے حجاج کو ان مقامات سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ غزوئہ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا ظہور ہوا کہ دونوں لشکر وادیٔ بدر میں تقریباًایک ساتھ پہنچے۔یہاں اللہ تعالیٰ کی اسی تدبیر کا ذکر ہے کہ جب قریش کا لشکر وادی کے دور والے (جنوبی) کنارے پر آ پہنچا اور مشرق کی جانب سے حضورﷺ اپنا لشکر لے کر اس کنارے پر پہنچ گئے جو مدینہ سے قریب تھا۔
وَ الرَّکۡبُ اَسۡفَلَ مِنۡکُمۡ ؕ
’’اورقافلہ تم سے نیچے تھا۔‘‘
قریش کا تجارتی قافلہ اُس وقت نیچے ساحل سمندر کی طرف سے ہو کر گزر رہا تھا۔ ابوسفیان نے ایک طرف تو قافلے کی مدد کے لیے مکہ والوں کو پیغام بھیج دیا تھا اور دوسری طرف اُس نے یہ تدبیر بھی کی تھی کہ اصل راستے کو چھوڑ کر قافلے کو ساحل سمندر کی طرف لے گیا تھا ۔ روایتی راستہ تو وادیٔ بدر سے ہو کر گزر تاتھا لیکن اس راستہ پر جانے کے بجائے اب یہ قافلہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ بدر کے پہاڑی سلسلے سے آگے تہامہ کا میدان ہے جو ساحل سمندر تک پھیلا ہوا ہے۔ اور قافلہ اس وقت اس میدان کی بھی آخری حدود پر سمندر کی جانب تھا ۔اس لیے فرمایا گیا کہ قافلہ تم سے نچلی سطح پر تھا۔
وَ لَوۡ تَوَاعَدۡتُّمۡ لَاخۡتَلَفۡتُمۡ فِی الۡمِیۡعٰدِ ۙ
’’اوراگر تم لوگ آپس میں میعاد ٹھہرا کر نکلتے تو بھی وقتِ مقررہ (پر پہنچنے) میں تم ضرور مختلف ہو جاتے‘‘
یعنی یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت کے تحت دونوں لشکر ٹھیک ایک ہی وقت پر وادی کے دونوں کناروں پر پہنچے تھے۔ اگرآپ لوگوں نے مقامِ معین پر پہنچنے کے لیے آپس میں کوئی وقت مقرر کیا ہوتا تو اس میں ضرور تقدیم و تاخیر ہو جاتی‘ لیکن ہم نے دونوں لشکروں کو عین وقت پر ایک ساتھ آمنے سامنے لا کھڑا کیا‘ کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ یہ ٹکرائو ہو جائے اور اہلِ مکہ پر یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کس کے ساتھ ہے۔
وَ لٰکِنۡ لِّیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ۬ۙ
’’لیکن (یہ سب کچھ اس لیے ہوا)تا کہ اللہ فیصلہ کردے اس کام کا جو ہونے ہی والا تھا‘‘
لِّیَہۡلِکَ مَنۡ ہَلَکَ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ
’’تا کہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ ہلاک ہو بات واضح ہو جانے کے بعد‘‘
یعنی حق کے واضح ہو جانے میں کوئی ابہام نہ رہ جائے ۔ اہل مکہ میں سے اُن عوام کے لیے بھی حق کو پہچاننے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے جنہیں اب تک سرداروں نے گمراہ کر رکھا تھا ۔ اگر اس کے بعد بھی کسی کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ ہلاکت کے راستے پر ہی گامزن رہنے کو ترجیح دیتا ہے تو یہ اس کی مرضی‘ مگر ہم چاہتے ہیں کہ اگر ایسے لوگوںکو ہلاک ہی ہونا ہے تو ان میں سے ہر فرد حق کے پوری طرح واضح ہونے کے بعد ہلا ک ہو۔
وَّ یَحۡیٰی مَنۡ حَیَّ عَنۡۢ بَیِّنَۃٍ ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿ۙ۴۲﴾
’’ اور جسے زندہ رہنا ہے وہ زندہ رہے واضح دلیل کی بنا پر۔ یقینا اللہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘
جو سیدھے راستے پر آنا چاہتا ہے وہ بھی اس بَیِّنَہ کی بنا پر سیدھے راستے پر آ جائے اور حیاتِ معنوی حاصل کر لے۔
اِذۡ یُرِیۡکَہُمُ اللّٰہُ فِیۡ مَنَامِکَ قَلِیۡلًا ؕ
’’جب اللہ آپ کو دکھا رہا تھا(اے نبیﷺ) انہیں آپ کی نیند میں کم تعداد میں‘‘
رسول اللہﷺ نے خواب میں دیکھا کہ قریش کے لشکر کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے‘ بس تھوڑے سے لوگ ہیں جو جنگ کے لیے بدر کی طرف آ رہے ہیں‘ حالانکہ وہ ایک ہزار افراد پر مشتمل بہت بڑا لشکر تھا۔
وَ لَوۡ اَرٰىکَہُمۡ کَثِیۡرًا
’’اور اگر وہ آپؐ کو دکھاتا کہ وہ کثیر تعداد میں ہیں ‘‘
اور آپ(ﷺ) نے اپنے ساتھیوں کو وہ خبر جوںکی توں بتائی ہوتی:
لَّفَشِلۡتُمۡ وَ لَتَنَازَعۡتُمۡ فِی الۡاَمۡرِ
’’(تو اے مسلمانو! )تم ضرور کمزوری دکھاتے اور معاملے میں اختلاف کرتے‘‘
دشمن کی اصل تعداد اور طاقت کے بارے میں جان کر آپ لوگ پست ہمت ہوجاتے اور اختلاف میں پڑ جاتے کہ ہمیں بدر میں جا کر اس لشکر کا مقابلہ کرنا بھی چاہیے یا نہیں۔ اس طرح آراء میں اختلاف کی بنا پر بھی تمہاری جمعیت میں کمزوری آ جاتی۔
وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَ ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴۳﴾
’’لیکن اللہ نے سلامتی پیدا فرما دی۔ یقینا وہ واقف ہے اس سے جو کچھ سینوں کے اندر ہے ۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے جو خواب دیکھا وہ تو غلط نہیں ہو سکتا تھا ‘کیونکہ انبیاء علیہم السلام کے تمام خواب سچے ہوتے ہیں۔ اس لیے مفسرین نے اس نکتے کی توجیہہ اس طرح کی ہے کہ آپﷺ کو لشکرِ کفار کی معنوی حقیقت دکھائی گئی تھی۔ یعنی کسی چیز کی ایک کمیت (quantitative value) ہوتی ہے اور ایک اس کی اندرونی کیفیت اور اصل حقیقت ہوتی ہے ۔ کمیت کے پہلو سے دیکھا جائے تو لشکر کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور وہ مسلمانوں سے تین گنا تھے‘ مگر اس لشکر کی اندرونی کیفیت یکسر مختلف تھی ۔درحقیقت مکہ کے عوام الناس کی اکثریت حضورﷺ کو اپنے معاشرے کا بہترین انسان سمجھتی تھی۔ ان کی سوچ کے مطابق آپؐ کے تمام ساتھی بھی مکہ کے بہترین لوگ تھے۔ مکہ کا عام آدمی دل سے اس حقیقت کو تسلیم کرتا تھا کہ محمدﷺ اور آپؐ کے ساتھیوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے ‘بلکہ یہ سب کے سب ایک خدا کو ماننے والے اور نیکیوں کا پرچار کرنے والے شریف لوگ ہیں۔چنانچہ مکہ کی خاموش اکثریت کی ہمدردیاں شروع سے مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔ ایسے تمام لوگ اپنے سرداروں اور لیڈروں کے حکم کی تعمیل میں لشکر میں شامل تو ہو گئے تھے ‘ مگر اُن کے دل اپنے لیڈروں کے ساتھ نہیں تھے۔ جنگ میں دراصل جان کی بازی لگانے کا جذبہ ہی انسان کو بہادر اور طاقتور بناتا ہے اور یہ جذبہ نظریے کی سچائی اور نظر یاتی پختگی سے پیدا ہوتا ہے۔ قریش کے اس لشکر میں ایسا کوئی جذبہ سرے سے موجود ہی نہیں تھا ۔ لہٰذا تعداد میں اگرچہ وہ لوگ زیادہ تھے مگر معنوی طور پر اُن کی جو کیفیت اور اصل حقیقت تھی اس لحاظ سے وہ بہت کم تھے اور حضورﷺ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے اُن کی اصل حقیقت دکھائی تھی۔
وَ اِذۡ یُرِیۡکُمُوۡہُمۡ اِذِ الۡتَقَیۡتُمۡ فِیۡۤ اَعۡیُنِکُمۡ قَلِیۡلًا وَّ یُقَلِّلُکُمۡ فِیۡۤ اَعۡیُنِہِمۡ
’’اور جب تم آمنے سامنے ہوئے تو تمہاری نظروں میں انہیں (کفار کو) تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور ان کی نظروں میں تمہیں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا‘‘
جب دونوں لشکر مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی کیفیت پیدا کر دی کہ مسلمانوں کو بھی دیکھنے میں کفار تعداد میں بہت کم لگ رہے تھے اور کفار کو بھی مسلمان بہت تھوڑے نظر آ رہے تھے ۔ ایسی صورتِ حال اللہ تعالیٰ نے اس لیے پیدا فرما دی تا کہ یہ جنگ ڈٹ کر ہو ۔ اس لیے کہ وہ اس دن کو ’’ یوم الفرقان‘‘ بنانا چاہتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ کوئی فریق بھی میدان سے کنی کترائے۔
لِیَقۡضِیَ اللّٰہُ اَمۡرًا کَانَ مَفۡعُوۡلًا ؕ وَ اِلَی اللّٰہِ تُرۡجَعُ الۡاُمُوۡرُ ﴿٪۴۴﴾
’’تا کہ اللہ پورا کر دے اُس معاملے کو جوہو نے والا ہی تھا۔ اور تمام معاملات (بالآخر تو) اللہ ہی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔‘‘