’’اے اہلِ ایمان! اگر تم اللہ کے تقویٰ پر برقرار رہو گے تو وہ تمہارے لیے فرقان پیدا کر دے گا‘‘
اگر تم تقویٰ کی روش اختیار کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یکے بعد دیگرے تمہارے لیے ’’فرقان‘‘ آتا رہے گا۔ جیسے پہلا فرقان غزوۂ بدر میں تمہاری فتح کی صورت میں آ گیا۔
’’کہ آپؐ کو قید کر دیں یا قتل کر دیں یا (مکہ سے) نکال دیں۔‘‘
یہ ان سازشوں کا ذکر ہے جو قریشِ مکہ ہجرت سے پہلے کے زمانے میں رسول اللہﷺ کے خلاف کر رہے تھے۔ آپﷺ کی مخالفت میں اُن کے باقی تمام حربے ناکام ہو گئے تو وہ (نعوذ باللہ) آپﷺ کے قتل کے درپے ہو گئے اور اس بارے میں سنجیدگی سے صلاح مشورے کرنے لگے۔
’’اور جب انہیں ہماری آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو وہ کہتے ہیں بہت سن لیا ہم نے (یہ کلام )‘ اگر ہم چاہیں تو ایسا کلام ہم بھی کہہ دیں‘ یہ کچھ نہیں سوائے پچھلے لوگوں کی کہانیوں کے۔‘‘
تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں یہ قول نضر بن حارث سے منسوب ہے ۔ لیکن ان لوگوں کی ایسی باتیں صرف کہنے کی حد تک تھیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان لوگوں کو بار بار یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر تم لوگ اس قرآن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل شدہ نہیں سمجھتے تو تم بھی اسی طرح کا کلام بنا کر لے آئو اور کسی ثالث سے فیصلہ کرا لو‘ مگر وہ لوگ اس چیلنج کو قبول کرنے کی کبھی جرأت نہ کر سکے۔ اسی طرح پچھلی صدی تک عام مستشرقین بھی یہ الزام لگاتے رہے ہیں کہ محمد(ﷺ) نے تورات اور انجیل سے معلومات لے کر قرآن بنایا ہے‘ مگر آج کل چونکہ تحقیق کا دور ہے‘ اس لیے اُن کے ایسے بے تکے الزامات خود بخود ہی کم ہو گئے ہیں۔
’’اور جب انہوں نے کہا کہ اے اللہ! اگر یہ (قرآن) تیری ہی طرف سے برحق ہے تو برسا دے ہم پر پتھر آسمان سے یابھیج دے ہم پر کوئی دردناک عذاب۔‘‘
جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے‘ سردارانِ قریش کے لیے سب سے بڑا مسئلہ یہ پیدا ہو گیا تھا کہ مکہ کے عام لوگوں کومحمد رسول اللہﷺ کی دعوت کے اثرات سے کیسے محفوظ رکھا جائے۔ اس کے لیے وہ مختلف قسم کی تدبیریں کرتے رہتے تھے۔اس آیت میں ان کی ایسی ہی ایک تدبیر کا ذکر ہے ۔ اُن کے بڑے بڑے سردار عوام کے اجتماعات میں علی الاعلان اس طرح کی باتیں کرتے تھے کہ اگر یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے اور ہم اس کا انکار کر رہے ہیں تو ہم پر اللہ کی طرف سے عذاب کیوں نہیں آ جاتا؟بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے دعائیہ انداز میں بھی پکارتے تھے کہ اے اللہ! اگر یہ قرآن تیرا ہی کلام ہے تو پھر اس کا انکار کرنے کے سبب ہمارے اوپر آسمان سے پتھر برسا دے‘ یا کسی بھی شکل میں ہم پر اپنا عذاب نازل فرما دے۔ اور اس کے بعد وہ اپنی اس تدبیرکی خوب تشہیر کرتے کہ دیکھا ہماری اس دعا کا کچھ بھی ردّ عمل نہیںہوا‘ اگر یہ واقعی اللہ کا کلام ہوتا تو ہم پر اب تک عذاب آ چکا ہوتا۔ چنانچہ ایسے حربوں سے وہ اپنے عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
’’ اور اللہ ایسا نہ تھا کہ اُن کو عذاب دیتا جبکہ (ابھی) آپؐ اُن کے درمیان موجود تھے۔‘‘
اگرچہ وہ لوگ پوری طرح عذاب کے مستحق ہو چکے تھے ‘لیکن جس طرح کے عذاب کے لیے وہ لوگ دعائیں کر رہے تھے ویسا عذاب سنتِ الٰہی کے مطابق اُن پر اُس وقت تک نہیں آ سکتا تھا جب تک اللہ کے رسولﷺ مکہ میں ان کے درمیان موجود تھے‘ کیونکہ ایسے عذاب کے نزول سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے رسول ؑاور اہل ایمان کو ہجرت کاحکم دے دیتا ہے اور ان کے نکل جانے کے بعد ہی کسی آبادی پر اجتماعی عذاب آیا کرتا ہے۔
’’اور اللہ اُن کو عذاب دینے والا نہیں تھا جب کہ وہ استغفار بھی کر رہے تھے۔‘‘
نظریات اور اعمال کے لحاظ سے مکہ کی آبادی کا معاملہ بہت گڈ مڈ تھا۔ مکہ کے عوام الناس میں ایسے سادہ لوح لوگ بھی تھے جو اپنے طور پر اللہ کا ذکر کرتے تھے ‘تلبیہ پڑھتے تھے اور اللہ سے استغفار بھی کرتے تھے۔ چنانچہ ایسی صورت حال میں اللہ تعالیٰ مکہ کے معاشرے پر اجتماعی عذاب نازل نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ آگے اسی سورت کی آیت ۳۷ کے مضمون سے بھی واضح ہوتا ہے کہ جب تک اللہ تعالیٰ پاک اور ناپاک کو چھانٹ کر الگ نہیں کر دیتا {لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ} اُس وقت تک اس نوعیت کا عذاب کسی قوم پر نہیں آتا۔
’’اور نہیں ہے ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سوائے سیٹیاں بجانا اور تالیاں پیٹنا۔‘‘
قریشِ مکہ نے اپنی عبادات کا حلیہ اس حد تک بگاڑ دیا تھا کہ ان کی نمازمیں سیٹیوں اور تالیوں جیسی خرافات بھی شامل ہو چکی تھیں۔اسی طرح خانہ کعبہ کا سب سے اعلیٰ طواف اُن کے نزدیک وہ تھا جو بالکل برہنہ ہوکرکیاجاتا۔
یہاں واضح کر دیا گیا کہ اللہ کا عذاب صرف آسمان سے پتھروں کی صورت ہی میں نہیں آیا کرتا بلکہ غزوئہ بدر میں ان کی فیصلہ کن شکست ان کے حق میں اللہ کا عذاب ہے۔
’’یقینا کافر لوگ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں تا کہ (لوگوں کو) روکیں اللہ کے رستے سے۔‘‘
ایسے اخراجات انفاق ’’فی سبیل الشیطان‘‘ اور ’’ فی سبیل الشرک‘‘ کے زمرے میں آتے ہیں۔
قریش کی طرف سے لشکر کی تیاری‘ سازو سامان کی فراہمی‘ اسلحہ کی خریداری‘ اونٹوں‘ گھوڑوں‘ راشن وغیرہ کے بندوبست کے حوالے سے اخراجات انفاق فی سبیل الشیطان اور فی سبیل الشرک ہی کی مثالیں ہیں۔ وہ لوگ گویا شیطان کے راستے کے مجاہدین تھے اور اللہ کی مخلوق کو اُس کے راستے سے روکنا اُن کا مشن تھا۔
’’تو وہ (اور بھی)خرچ کریں گے‘ پھر یہ ان کے لیے ایک حسرت بن جائے گا‘ پھر وہ مغلوب ہو کر رہ جائیں گے۔‘‘
یہ خرچ کرنا ان کے لیے موجبِ حسرت ہو گا اور یہ پچھتاوا ن کی جانوں کا روگ بن جائے گاکہ اپنا مال بھی کھپا دیا‘ جانیں بھی ضائع کر دیں‘ لیکن اس پوری کوشش کے باوجود محمد ﷺ کا بال بھی بیکا نہ کر سکے۔ ان کی یہ حسرتیں اُس وقت اور بھی بڑھ جائیں گی جب {وَ قُلۡ جَآءَ الۡحَقُّ وَ زَہَقَ الۡبَاطِلُ ؕ اِنَّ الۡبَاطِلَ کَانَ زَہُوۡقًا ﴿۸۱﴾} ( بنی اسرائیل )کی تفسیر عملی طور پر اُن کے سامنے آ جائے گی اور وہ مغلوب ہو کر اہل حق کے سامنے اُن کے رحم و کرم کی بھیک مانگ رہے ہوں گے۔
’’اور جو کفر پر رہیں گے وہ جہنم کی طرف گھیر کر لے جائے جائیں گے۔‘‘
یعنی ان میں سے جو لوگ ایمان لے آئیں گے انہیں اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا‘ اور جو کفر پر اَڑے رہیں گے اور کفر پر ہی انہیں موت آئے گی تو ایسے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔