یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ
’’اے اہل ایمان ! لبیک کہا کرو اللہ اور رسول(ﷺ) کی پکار پرجب وہ تمہیں پکاریں اُس شے کے لیے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔‘‘
تم جنگ کے لیے جاتے ہوئے سمجھ رہے ہو کہ یہ موت کا گھاٹ ہے‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ تواصل اور ابدی زندگی کا دروازہ ہے۔جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں شہداء کے بارے میں فرمایا گیا: {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔ (وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے‘‘۔ چنانچہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ جس چیز کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں‘ حقیقی زندگی تو وہی ہے ۔ اس کے مقابلے میں اس دعوت
سے اعراض کر کے زندگی بسر کرنا گویا حیوانوں کی سی زندگی ہے۔ سورۃ الاعراف میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے : {اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ} (الاعراف:۱۷۹) کہ وہ انسان نہیں جانور ہیں‘ بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ
’’اورجان رکھو کہ اللہ بندے اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہو جایا کرتا ہے‘‘
یعنی اگر اللہ اور اُ س کے رسولﷺ کی پکار سُنی اَن سنی کر دی جائے اور اُن کے احکامات سے بے نیازی کو وطیرہ بنا لیا جائے تو اللہ تعالیٰ خود ایسے بندے اور ہدایت کے درمیان آڑ بن جاتا ہے‘ جس کی وجہ سے آئندہ وہ ہدایت کی ہر بات سننے اور سمجھنے سے معذور ہو جاتا ہے۔ اسی مضمون کو سورۃ البقرۃ کی آیت ۷ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ} کہ ان کے دلوں اور ان کی سماعت پر اللہ نے مہر کر دی ہے۔ جبکہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۰میں اس اصول کو سخت ترالفاظ میں اس طرح واضح کیا گیا ہے: {وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ} یعنی حق کے پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ جانے پر بھی جو لوگ فوری طور پر اسے نہیں مانتے اور اس سے پہلوتہی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے دل الٹ دیے جاتے ہیں اوران کی بصارت پلٹ دی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بہت حساس اور خوف کھانے والا معاملہ ہے۔ دین کا کوئی مطالبہ کسی کے سامنے آئے‘ اللہ کا کوئی حکم اس تک پہنچ جائے اور اس کا دل اس پر گواہی بھی دے دے کہ ہاں یہ بات درست ہے‘ پھر اگر وہ اس سے اعراض کر ے گا ‘ کنی کترائے گا‘ تو اس کی سزا اسے اس دنیا میں یوں بھی مل سکتی ہے کہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت ہی اس سے سلب کر لی جاتی ہے‘ اس کے دل اور کانوں پر مہر لگ جاتی ہے‘ آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں‘ ہدایت اور اس کے درمیان آڑ کر دی جاتی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے۔
وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾
’’اور یہ کہ (بالآخر ) تم سب کو یقینا اُسی کی طرف جمع کیا جانا ہے۔‘‘
وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ
’’اور ڈرو اُس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔‘‘
یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے ۔اس سے پہلے اس آیت کا حوالہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۶۶ کے مطالعے کے دوران بھی آ چکا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کسی جرم کا براہِ راست ارتکاب کرنا ہی صرف جرم نہیں ہے ‘بلکہ کسی فرض کی عدم ادائیگی کا فعل بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مثلاً ایک مسلمان ذاتی طور پر گناہوں سے بہت بچ کر رہتا ہے ‘ نیکی کے کاموں میں بھی حتی الوسع حصہ لیتا ہے ‘ وہ صدقہ و خیرات بھی دیتا ہے اور نماز ‘روزہ کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف اللہ اور اُس کے دین کی نصرت سے ‘ اقامتِ دین کی جدوجہد سے اور اس جدوجہد میں اپنے مال اور اپنے وقت کی قربانی جیسے فرائض سے پہلو تہی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا شخص بھی گویا مجرم ہے اور اجتماعی عذاب کی صورت میں وہ اس کی لپیٹ سے بچ نہیں پائے گا۔ اس لحاظ سے یہ دل دہلا دینے والی آیت ہے۔
وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۵﴾
’’اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘
اب اگلی آیت کو خصوصی طورپر پاکستان کے مسلمانوں کے حوالے سے پڑھیں۔