تحریر

الأنفال

آیات ۲۰ تا ۲۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

20-23

اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حکم

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴿ۚۖ۲۰﴾ وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ ہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾ اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾ وَ لَوۡ عَلِمَ اللّٰہُ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا لَّاَسۡمَعَہُمۡ ؕ وَ لَوۡ اَسۡمَعَہُمۡ لَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾

آیت 20

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَا تَوَلَّوۡا عَنۡہُ وَ اَنۡتُمۡ تَسۡمَعُوۡنَ ﴿ۚۖ۲۰﴾

’’اے اہلِ ایمان! اللہ اور اُس کے رسول(ﷺ) کی اطاعت کرو اور اس سے منہ نہ موڑو جبکہ تم سن رہے ہو۔‘‘

یعنی جب اللہ کے رسولﷺنے بدر کی طرف چلنے کا ارادہ کر لیا تو پھر تمہاری طرف سے ردّو قدح اور بحث و استدلال کیوں ہو رہا تھا؟ تمہیں تو چاہیے تھا کہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی مرضی پرفوراً سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا کہتے اور آپؐ کے حکم پر سر تسلیم خم کر دیتے ۔ واضح رہے کہ یہاں خاص طور پر ان لوگوں کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے اس موقع پر کمزوری دکھائی تھی ۔

آیت 21

وَ لَا تَکُوۡنُوۡا کَالَّذِیۡنَ قَالُوۡا سَمِعۡنَا وَ ہُمۡ لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۲۱﴾

’’اوراُن لوگوں کی مانند مت ہو جاؤ جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیااور حقیقت میں وہ سنتے نہیں ہیں۔‘‘

یعنی صرف زبان سے سَمِعْنَا کہہ دیتے ہیں مگر اُن کے دل اپنے خیالات اور مفادات پر ہی ڈیرے جمائے رہتے ہیں ۔ اطاعت پر اُن کی طبیعت میں یکسوئی پیدا ہی نہیں ہوتی ۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اس طرح کے سننے کی کوئی اہمیت نہیں ۔

آیت 22

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنۡدَ اللّٰہِ الصُّمُّ الۡبُکۡمُ الَّذِیۡنَ لَا یَعۡقِلُوۡنَ ﴿۲۲﴾

’’یقینا تمام چوپایوں میں اللہ کے نزدیک بد ترین وہ بہرے گونگے (انسان) ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔‘‘

یہاں خصوصی طو ر پر منافقین کو بد ترین جانور قرار دیا گیا ہے ۔

آیت 23

وَ لَوۡ عَلِمَ اللّٰہُ فِیۡہِمۡ خَیۡرًا لَّاَسۡمَعَہُمۡ ؕ

’’اور اگرا للہ کے علم میں ہوتا کہ ان میں کوئی خیر ہے تو وہ انہیں سنوا دیتا۔‘‘

وَ لَوۡ اَسۡمَعَہُمۡ لَتَوَلَّوۡا وَّ ہُمۡ مُّعۡرِضُوۡنَ ﴿۲۳﴾

’’ اور اگروہ انہیں (بھلائی کے بغیر) سنوا بھی دیتا تو وہ اعراض کرتے ہوئے پیٹھ پھیر جا تے ۔‘‘

اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے اندر کوئی صلاحیت پاتا تو ان کو سننے اور سمجھنے کی توفیق دے دیتا‘ لیکن اگر انہیں بغیر صلاحیت کے تعمیل حکم میں جنگ کے لیے نکل آنے کی توفیق دے بھی دی جاتی تو یہ خطرے کا موقع دیکھتے ہی پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوتے۔ یہ خاص طور پر ان لوگوں کے لیے تنبیہہ ہے جو کفار کے لشکر کا سامنا کرنے میں پس و پیش کر رہے تھے۔

24-25

اللہ اور اس کے رسولﷺ کی پکار پر لبّیک کہو

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾ وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۵﴾

آیت 24

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اسۡتَجِیۡبُوۡا لِلّٰہِ وَ لِلرَّسُوۡلِ اِذَا دَعَاکُمۡ لِمَا یُحۡیِیۡکُمۡ ۚ

’’اے اہل ایمان ! لبیک کہا کرو اللہ اور رسول(ﷺ) کی پکار پرجب وہ تمہیں پکاریں اُس شے کے لیے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے۔‘‘

تم جنگ کے لیے جاتے ہوئے سمجھ رہے ہو کہ یہ موت کا گھاٹ ہے‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ تواصل اور ابدی زندگی کا دروازہ ہے۔جیسا کہ سورۃ البقرۃ میں شہداء کے بارے میں فرمایا گیا: {وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾} ’’اور مت کہو اُن کو جو اللہ کی راہ میں قتل ہو جائیں کہ وہ مردہ ہیں۔ (وہ مردہ نہیں ہیں) بلکہ زندہ ہیں‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے‘‘۔ چنانچہ اللہ اور اُس کے رسولﷺ جس چیز کی طرف تمہیں بلا رہے ہیں‘ حقیقی زندگی تو وہی ہے ۔ اس کے مقابلے میں اس دعوت

سے اعراض کر کے زندگی بسر کرنا گویا حیوانوں کی سی زندگی ہے۔ سورۃ الاعراف میں ایسے ہی لوگوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے : {اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ} (الاعراف:۱۷۹) کہ وہ انسان نہیں جانور ہیں‘ بلکہ جانوروں سے بھی بدتر ہیں۔

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوۡلُ بَیۡنَ الۡمَرۡءِ وَ قَلۡبِہٖ

’’اورجان رکھو کہ اللہ بندے اور اُس کے دل کے درمیان حائل ہو جایا کرتا ہے‘‘

یعنی اگر اللہ اور اُ س کے رسولﷺ کی پکار سُنی اَن سنی کر دی جائے اور اُن کے احکامات سے بے نیازی کو وطیرہ بنا لیا جائے تو اللہ تعالیٰ خود ایسے بندے اور ہدایت کے درمیان آڑ بن جاتا ہے‘ جس کی وجہ سے آئندہ وہ ہدایت کی ہر بات سننے اور سمجھنے سے معذور ہو جاتا ہے۔ اسی مضمون کو سورۃ البقرۃ کی آیت ۷ میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: {خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ} کہ ان کے دلوں اور ان کی سماعت پر اللہ نے مہر کر دی ہے۔ جبکہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۰میں اس اصول کو سخت ترالفاظ میں اس طرح واضح کیا گیا ہے: {وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ} یعنی حق کے پوری طرح واضح ہو کر سامنے آ جانے پر بھی جو لوگ فوری طور پر اسے نہیں مانتے اور اس سے پہلوتہی کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کے دل الٹ دیے جاتے ہیں اوران کی بصارت پلٹ دی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ بہت حساس اور خوف کھانے والا معاملہ ہے۔ دین کا کوئی مطالبہ کسی کے سامنے آئے‘ اللہ کا کوئی حکم اس تک پہنچ جائے اور اس کا دل اس پر گواہی بھی دے دے کہ ہاں یہ بات درست ہے‘ پھر اگر وہ اس سے اعراض کر ے گا ‘ کنی کترائے گا‘ تو اس کی سزا اسے اس دنیا میں یوں بھی مل سکتی ہے کہ حق کو پہچاننے کی صلاحیت ہی اس سے سلب کر لی جاتی ہے‘ اس کے دل اور کانوں پر مہر لگ جاتی ہے‘ آنکھوں پر پردے پڑ جاتے ہیں‘ ہدایت اور اس کے درمیان آڑ کر دی جاتی ہے ۔یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور اس کا اٹل قانون ہے۔

وَ اَنَّہٗۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۲۴﴾

’’اور یہ کہ (بالآخر ) تم سب کو یقینا اُسی کی طرف جمع کیا جانا ہے۔‘‘

آیت 25

وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ

’’اور ڈرو اُس فتنے سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا۔‘‘

یہ بھی اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے ۔اس سے پہلے اس آیت کا حوالہ سورۃ الاعراف کی آیت ۱۶۶ کے مطالعے کے دوران بھی آ چکا ہے۔ اس ضمن میں یہ نکتہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ کسی جرم کا براہِ راست ارتکاب کرنا ہی صرف جرم نہیں ہے ‘بلکہ کسی فرض کی عدم ادائیگی کا فعل بھی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ مثلاً ایک مسلمان ذاتی طور پر گناہوں سے بہت بچ کر رہتا ہے ‘ نیکی کے کاموں میں بھی حتی الوسع حصہ لیتا ہے ‘ وہ صدقہ و خیرات بھی دیتا ہے اور نماز ‘روزہ کا اہتمام بھی کرتا ہے۔ مگر دوسری طرف اللہ اور اُس کے دین کی نصرت سے ‘ اقامتِ دین کی جدوجہد سے اور اس جدوجہد میں اپنے مال اور اپنے وقت کی قربانی جیسے فرائض سے پہلو تہی کا رویہ اپنائے ہوئے ہے تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ایسا شخص بھی گویا مجرم ہے اور اجتماعی عذاب کی صورت میں وہ اس کی لپیٹ سے بچ نہیں پائے گا۔ اس لحاظ سے یہ دل دہلا دینے والی آیت ہے۔

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۲۵﴾

’’اور جان لو کہ اللہ سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

اب اگلی آیت کو خصوصی طورپر پاکستان کے مسلمانوں کے حوالے سے پڑھیں۔

26-28

اہلِ پاکستان کا ذکر

ویڈیو

وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾ یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿٪۲۸﴾

آیت 26

وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ

’’اور یاد کرو جبکہ تم تھوڑی تعداد میں تھے اور زمین میں دبا لیے گئے تھے‘‘

تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ

’’تمہیں اندیشہ تھا کہ لوگ تمہیں اُچک لے جائیں گے‘‘

تحریک پاکستان کے پس منظر میں اس جملے کا مفہوم یوں سمجھیں کہ برصغیر میں مسلمان اقلیت میں تھے ‘ ہندوؤں کی اکثریت کے مقابلے میں انہیں خوف تھا کہ وہ اپنے حقوق کا تحفظ کرنے میں کمزور ہیں۔اپنے جان و مال کو درپیش خطرات کے علاوہ انہیں یہ اندیشہ بھی تھا کہ اکثریت کے ہاتھوں ان کا معاشی ‘ سماجی ‘ سیاسی‘ لسانی‘ مذہبی وغیرہ ہر اعتبار سے استحصال ہو گا۔

فَاٰوٰىکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’تو اللہ نے تمہیں پناہ کی جگہ دے دی اور تمہاری مدد کی اپنی خاص نصرت سے اور تمہیں بہترین پاکیزہ رزق عطا کیا‘ تاکہ تم شکر ادا کرو۔‘‘

آیت 27

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَخُوۡنُوا اللّٰہَ وَ الرَّسُوۡلَ

’’اے اہلِ ایمان! مت خیانت کرو اللہ سے اور رسول(ﷺ) سے‘‘

اللہ کی امانت میں خیانت یقینا بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اُس کی وہ روح ہے جو اُس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورۃ الاحزاب میں فرمایا گیا : {اِنَّا عَرَضۡنَا الۡاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ الۡجِبَالِ فَاَبَیۡنَ اَنۡ یَّحۡمِلۡنَہَا وَ اَشۡفَقۡنَ مِنۡہَا وَ حَمَلَہَا الۡاِنۡسَانُ ؕ اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوۡمًا جَہُوۡلًا ﴿ۙ۷۲﴾} ’’ہم نے (اپنی) امانت کو آسمانوں‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کر دیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘مگر انسان نے اسے اٹھا لیا‘ یقینا وہ ظالم اور جاہل تھا‘‘ ۔ اس کے علاوہ دین ‘ قرآن اور شریعت اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی بڑی بڑی امانتیں ہیں جو ہمیں سونپی گئی ہیں۔ چنانچہ اگر ہم ایمان کا دم بھرتے ہیں ‘ اللہ کی اطاعت اور اُس کے رسولﷺ کی محبت کا دعویٰ بھی کرتے ہیں ‘ لیکن پھر اللہ کے دین کو مغلوب دیکھ کر بھی اپنے کاروبار ‘ اپنی جائیداد‘ اپنی ملازمت اور اپنے کیرئیر کی فکر میں لگے رہتے ہیں تواللہ اور رسولﷺ کے ساتھ اس سے بڑی بے وفائی ‘ غداری اور خیانت بھلا اور کیا ہو گی!

وَ تَخُوۡنُوۡۤا اَمٰنٰتِکُمۡ وَ اَنۡتُمۡ تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’اور نہ ہی اپنی (آپس کی) امانتوں میں خیانت کروجانتے بوجھتے ۔‘‘

آیت 28

وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّمَاۤ اَمۡوَالُکُمۡ وَ اَوۡلَادُکُمۡ فِتۡنَۃٌ ۙ

’’اور جان لو کہ تمہارے اموال اور تمہاری اولاد فتنہ ہیں‘‘

فتنہ کے معنی آزمائش اور اس کسوٹی کے ہیں جس پر کسی کو پرکھا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے مال اور اولاد انسان کے لیے بہت بڑی آزمائشیں ہیں۔ یقینا مال اور اولاد ہی انسان کے پائوں کی سب سے بڑی بیڑیاں ہیں جو اُسے نصرتِ دین کی جدوجہد سے روک کر اُس کی عاقبت خراب کرتی ہیں۔ چنانچہ وہ اپنی شعوری اور فعال زندگی کے شب و روز مال کمانے‘ اُسے سینت سینت کر رکھنے اور اولاد کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں اس انداز سے کھپا دیتا ہے کہ اس میں اور کولہو کے بیل میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔ اس تگ و دو میں اس کے جسم میں زندگی کی کوئی رمق باقی بچتی ہی نہیں جسے وہ دین کی جدو جہد کے لیے پیش کر کے اللہ تعالیٰ کے حضور خود کو سرخرو کر سکے۔

وَّ اَنَّ اللّٰہَ عِنۡدَہٗۤ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ ﴿٪۲۸﴾

’’اور یہ کہ اللہ ہی کے پاس ہے بڑا اجر۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے