تحریر

الأنفال

آیات ۹ تا ۱۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

9-14

اللہ کی مدد اور فرشتوں کا نزول

ویڈیو

اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ ﴿۹﴾ وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾ اِذۡ یُغَشِّیۡکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنۡہُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ وَ یُذۡہِبَ عَنۡکُمۡ رِجۡزَ الشَّیۡطٰنِ وَ لِیَرۡبِطَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ وَ یُثَبِّتَ بِہِ الۡاَقۡدَامَ ﴿ؕ۱۱﴾ اِذۡ یُوۡحِیۡ رَبُّکَ اِلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیۡ مَعَکُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ سَاُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَ اضۡرِبُوۡا مِنۡہُمۡ کُلَّ بَنَانٍ ﴿ؕ۱۲﴾ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۳﴾ ذٰلِکُمۡ فَذُوۡقُوۡہُ وَ اَنَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۴﴾

آیت 9

اِذۡ تَسۡتَغِیۡثُوۡنَ رَبَّکُمۡ فَاسۡتَجَابَ لَکُمۡ اَنِّیۡ مُمِدُّکُمۡ بِاَلۡفٍ مِّنَ الۡمَلٰٓئِکَۃِ مُرۡدِفِیۡنَ ﴿۹﴾

’’یاد کرو جبکہ تم لوگ اپنے رب سے فریاد کر رہے تھے‘ تو اُس نے تمہاری دُعا قبول کی تھی ‘کہ میں تمہاری مدد کروں گا ایک ہزار ملائکہ کے ساتھ جو پے درپے آئیں گے۔‘‘

قریش کے ایک ہزار جنگجوئوں پر مشتمل لشکر کے مقابلے میں تمہاری مدد کے لیے ایک ہزار فرشتے آسمانوں سے قطار در قطار اتریں گے۔

آیت 10

وَ مَا جَعَلَہُ اللّٰہُ اِلَّا بُشۡرٰی وَ لِتَطۡمَئِنَّ بِہٖ قُلُوۡبُکُمۡ ۚ

’’اور اللہ نے اس کو نہیں بنایا مگر (تمہارے لیے ) بشارت ‘ اور تا کہ تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں۔‘‘

وَ مَا النَّصۡرُ اِلَّا مِنۡ عِنۡدِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾

’’اور مدد تو اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔ یقینا اللہ تعالیٰ زبردست ‘حکمت والا ہے۔‘‘

اللہ تعالیٰ تو ’’کُنْ فَـیَکُوْن‘‘ کی شان کے ساتھ جو چاہے کر دے۔ وہ فرشتوں کو بھیجے بغیر بھی تمہاری مدد کر سکتا تھا‘ لیکن انسانی ذہن چونکہ سوچنے کا اپنا ایک اندازرکھتا ہے‘اس لیے اُس نے تمہارے دلوں کی تسکین اور تسلی کے لیے نہ صرف ایک ہزار فرشتے بھیجنے کافیصلہ کیا بلکہ تمہیں ان کی آمد کی پیشگی اطلاع بھی دے دی کہ خاطر جمع رکھو ‘ ہم تمہاری مدد کے لیے فرشتے بھیج رہے ہیں۔ واضح رہے کہ اللہ کے وعدے کے مطابق میدانِ بدر میں فرشتے ضرور اترے ہیں، البتہ یہ صراحت نہیں ہے کہ انہوں نے کس طور سے لڑائی میں حصہ لیا۔ بظاہر لڑائی عملی طور پر کفار کے ایک ہزار اور مسلمانوں کے تین سو تیرہ افراد کے درمیان ہی ہوئی اور قوتِ ایمانی سے سرشار مسلمان اس بے جگری اور بے خوفی سے لڑے کہ اپنے سے تین گنا بڑے لشکر پر غالب آ گئے۔

آیت 11

اِذۡ یُغَشِّیۡکُمُ النُّعَاسَ اَمَنَۃً مِّنۡہُ وَ یُنَزِّلُ عَلَیۡکُمۡ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً لِّیُطَہِّرَکُمۡ بِہٖ

’’یاد کرو جبکہ اللہ تمہاری تسکین کے لیے تم پر نیند طاری کر رہا تھا اور تم پر آسمان سے پانی برسا رہا تھا تا کہ اس سے تمہیں پاک کرے ‘‘

بدر کی رات تمام مسلمان بہت پر سکون نیند سوئے اور اسی رات بہت غیر معمولی انداز میں بارش بھی ہوئی۔ مسلمانوں کی یہ پر سکون نیند اور بارش کا نزول گویا دو معجزے تھے‘ جن کا ظہور مسلمانوں کی خاص مدد کے لیے عمل میں آیا۔ یہ معجزات اس انداز میں ظہور پذیر نہیں ہوئے تھے کہ رسول اللہﷺ نے باقاعدہ ان کے بارے میں اعلان فرمایا ہو‘ یا یہ کہ یہ بالکل خرقِ عادت واقعات ہوں ‘ بلکہ یہ معجزات اس انداز میں تھے کہ اس وقت ان دونوں واقعات سے مسلمانوں کو غیر معمولی طور پر مدد ملی ‘ اور اس لیے بھی کہ ایسی چیزیں محض اتفاقات سے ظہو ر پذیر نہیں ہوتیں۔ اگر دُنیوی اعتبار سے دیکھا جائے تو بدر کا معرکہ مسلمانوں کے لیے بہت سخت مرحلہ تھا۔چنانچہ فطری طور پر اس رات مسلمان لشکر میں ہر شخص کے لیے بظاہر فکرمندی ‘تشویش اور اندیشہ ہائے دوردراز کی انتہا ہونی چاہیے تھی‘ کہ کل جو کچھ ہونے جا رہا ہے اس میں میں زندہ بھی بچ پاؤں گا یا نہیں؟ مگر عملی طور پر معاملہ اس کے بالکل برعکس ہوا۔ مسلمان رات کو آرام و سکون کی نیند سوئے اور صبح بالکل تازہ دم اور چاق و چوبند ہو کر اٹھے۔ اسی طرح اس رات جو بارش ہوئی وہ بھی مسلمانوں کے لیے اللہ کی تائید و نصرت ثابت ہوئی۔اس بارش سے دوسرے فوائد کے علاوہ مسلمانوں کو ایک یہ سہو لت بھی میسر آ گئی کہ جن لوگوں کو غسل کی حاجت تھی انہیں غسل کے لیے پانی میسر آ گیا۔

وَ یُذۡہِبَ عَنۡکُمۡ رِجۡزَ الشَّیۡطٰنِ وَ لِیَرۡبِطَ عَلٰی قُلُوۡبِکُمۡ وَ یُثَبِّتَ بِہِ الۡاَقۡدَامَ ﴿ؕ۱۱﴾

’’اور تاکہ دُور کر دے تم سے شیطان کی (ڈالی ہوئی) نجاست کو اور تاکہ تمہارے دلوں کو مضبوط کر دے اور اس سے تمہارے پاؤں جما دے۔‘‘

اس بار ش میں مسلمانوں کے لیے اطمینانِ قلوب کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ انہیں خشک صحرا کے اندر پانی کا وافر ذخیرہ مل گیا۔ واضح رہے کہ اس علاقے میں پانی کا ایک ہی تالاب تھا جس پر لشکر قریش پہلے ہی قبضہ کر چکا تھا۔ بارش ہوئی تو نشیب کی بنا پر سارا پانی مسلمانوں کی طرف جمع ہو گیا‘ جسے انہوں نے بند وغیرہ باندھ کر ذخیرہ کر لیا۔ بارش کی وجہ سے مٹی دب گئی‘ ریت فرش کی طرح سخت ہو گئی اور چلنے پھرنے میں سہولت ہو گئی۔

آیت 12

اِذۡ یُوۡحِیۡ رَبُّکَ اِلَی الۡمَلٰٓئِکَۃِ اَنِّیۡ مَعَکُمۡ فَثَبِّتُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا ؕ

’’یاد کریں جب آپؐ کا ربّ وحی کر رہا تھا فرشتوں کو کہ میں تمہارے ساتھ ہوں‘ توتم(جاؤاور) اہلِ ایمان کو ثابت قدم رکھو !‘‘

قبل ازیں آیت ۹ میں ایک ہزار فرشتوں کا ذکر آ چکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں میدانِ جنگ میں مسلمانوں کے شانہ بشانہ رہنے کا حکم دے رکھا تھا۔

سَاُلۡقِیۡ فِیۡ قُلُوۡبِ الَّذِیۡنَ کَفَرُوا الرُّعۡبَ فَاضۡرِبُوۡا فَوۡقَ الۡاَعۡنَاقِ وَ اضۡرِبُوۡا مِنۡہُمۡ کُلَّ بَنَانٍ ﴿ؕ۱۲﴾

’’میں ابھی ان کافروں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں‘ پس مارو ان کی گردنوں کے اوپر اور مارو ان کی ایک ایک پور پر۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے کفار کو بھر پور مقابلے کے دوران دہشت زدہ کر دیا تھا ۔اورجب کوئی شخص اپنے حریف کے مقابلے میں دہشت زدہ ہو جائے تو اس کے اندر قوتِ مدافعت نہیں رہتی۔ پھر وہ گویا حملہ آور کے رحم وکرم پر ہوتا ہے‘ وہ اس کے ساتھ جیسا چاہے سلوک کرے۔

آیت 13

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ شَآقُّوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ۚ وَ مَنۡ یُّشَاقِقِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ فَاِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ ﴿۱۳﴾

’’اور یہ (سزا ان کی) اس لیے ہے کہ انہوں نے مخالفت کی اللہ اور اس کے رسول ؐ کی‘ اور جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کے ساتھ دشمنی کرے تو اللہ بھی سزا دینے میں بہت سخت ہے۔‘‘

اب اگلی آیت میں قریش سے براہِ راست خطاب ہے۔

آیت 14

ذٰلِکُمۡ فَذُوۡقُوۡہُ

’’ (لو)یہ تو چکھو‘‘

ابھی ہماری طرف سے سزا کی پہلی قسط وصول کرو۔

وَ اَنَّ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابَ النَّارِ ﴿۱۴﴾

’’اور یہ (بھی تمہیں معلوم رہے) کہ کافروں کے لیے جہنم کا عذاب بھی ہے۔‘‘

یعنی یہ مت سمجھنا کہ تمہاری سزا بس یہی تھی۔ نہیں‘ بلکہ تمہاری اصل سزا تو جہنم ہے۔ لہٰذا اس کے لیے بھی تیار رہو ۔

15-16

دوران جنگ مسلمانوں کے لئے ہدایات

ویڈیو

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾ وَ مَنۡ یُّوَلِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ دُبُرَہٗۤ اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوۡ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾

آیت 15

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا لَقِیۡتُمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا زَحۡفًا

’’اے اہلِ ایمان ‘جب تمہارا مقابلہ ہوجائے کافروں سے میدانِ جنگ میں‘‘

’’زحف‘‘میں باقاعدہ دو لشکر وں کے ایک دوسرے کے مدِ مقابل آ کر لڑنے کا مفہوم پایا جاتا ہے ۔ غزوۂ بدر سے پہلے رسول اللہﷺ کی طرف سے علاقے میں آٹھ مہمات (expeditions) بھیجی گئی تھیں‘مگر ان میں سے کوئی مہم بھی باقاعدہ جنگ کی شکل میں نہیں تھی۔ زیادہ سے زیادہ انہیں چھاپہ مار مہمات کہا جا سکتا ہے‘ لیکن بدر میں مسلمانوں کی کفار کے ساتھ پہلی مرتبہ دو بدو جنگ ہوئی ۔ چنانچہ ایسی صورتِ حال کے لیے ہدایات دی جارہی ہیں کہ جب میدان میں باقاعدہ جنگ کے لیے تم لوگ کفا ر کے مقابل آ جاؤ:

فَلَا تُوَلُّوۡہُمُ الۡاَدۡبَارَ ﴿ۚ۱۵﴾

’’تو تم اُن سے پیٹھ مت پھیرنا۔‘‘

مطلب یہ ہے کہ ڈٹے رہو‘ مقابلہ کرو۔ جان چلی جائے لیکن قدم پیچھے نہ ہٹیں۔

آیت 16

وَ مَنۡ یُّوَلِّہِمۡ یَوۡمَئِذٍ دُبُرَہٗۤ

’’اور جو کوئی بھی اُن سے اُس دن اپنی پیٹھ پھیرے گا‘‘

یعنی اگر کوئی مسلمان میدانِ جنگ سے جان بچانے کے لیے بھاگے گا۔

اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ

’’سوائے اس کے کہ وہ کوئی داؤ لگا رہا ہو جنگ کے لیے ‘‘

جیسے دو آدمی دوبدو مقابلہ کر رہے ہوں اور لڑتے لڑتے کوئی دائیں ‘ بائیں یا پیچھے کو ہٹے ‘ بہتر داؤ کے لیے پینترا بدلے تو یہ پیٹھ پھیرنا نہیں ہے‘ بلکہ یہ تو ایک تدبیری چال (tactical move) شمار ہو گی۔ اسی طرح جنگی حکمتِ عملی کے تحت کمانڈر کے حکم سے کوئی دستہ کسی جگہ سے پیچھے ہٹ جائے او ر کوئی دوسرا دستہ اُس کی جگہ لے لے تو یہ بھی پسپائی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔

اَوۡ مُتَحَیِّزًا اِلٰی فِئَۃٍ

’’یا کسی (دوسری )جمعیت سے ملنا ہو‘‘

یعنی لڑائی کے دوران اپنے لشکر کے کسی دوسرے حصے سے ملنے کے لیے منظم طریقے سے پیچھے ہٹنا (orderly retreat) بھی پیٹھ پھیرنے کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ ان دو استثنائی صورتوں کے علاوہ اگر کسی نے بزدلی دکھائی اور بھگدڑ کے اندر جان بچا کر بھاگا:

فَقَدۡ بَآءَ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِ وَ مَاۡوٰىہُ جَہَنَّمُ ؕ وَ بِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۱۶﴾

’’تووہ اللہ کا غضب لے کر لوٹا اور اُس کا ٹھکانہ جہنم ہے ‘اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔‘‘

اب اگلی آیات میں یہ بات واضح تر انداز میں سامنے آ رہی ہے کہ غزوۂ بدر دُنیوی قواعد و ضوابط کے مطابق نہیں ‘ بلکہ اللہ کی خاص مشیت کے تحت وقوع پذیر ہوا تھا۔

17-19

فیصلہ کن شے اللہ کی مدد ہے

ویڈیو

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ ۪ وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷﴾ ذٰلِکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ مُوۡہِنُ کَیۡدِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾ اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا فَقَدۡ جَآءَکُمُ الۡفَتۡحُ ۚ وَ اِنۡ تَنۡتَہُوۡا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعُوۡدُوۡا نَعُدۡ ۚ وَ لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡکُمۡ فِئَتُکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَوۡ کَثُرَتۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۱۹﴾

آیت 17

فَلَمۡ تَقۡتُلُوۡہُمۡ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ قَتَلَہُمۡ ۪

’’پس (اے مسلمانو!) تم نے انہیں قتل نہیں کیا‘ بلکہ انہیں اللہ نے قتل کیا‘‘

ویسے تو ہر کام میں فاعل حقیقی اللہ ہی ہے ‘ ہم جو کام بھی کرتے ہیں وہ اللہ ہی کی مشیت سے ممکن ہوتا ہے‘ اور جس شے کے اندر جو بھی تاثیر یا خصوصیت ہے وہ بھی اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ عام حالات کے لیے بھی اگرچہ یہی قاعدہ ہے: لَا فَاعِلَ فِی الْحَقِیْقَۃِ وَلَا مُؤَثِّرَ اِلاَّ اللّٰہ ‘‘ لیکن غزوئہ بدر کے اندر تو بہت ہی مخصوص حالات تھے جن میں اللہ کی خصوصی مدد آئی تھی۔

وَ مَا رَمَیۡتَ اِذۡ رَمَیۡتَ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی ۚ

’’اور جب آپؐ نے (ان پر کنکریاں) پھینکی تھیں تو وہ آپؐ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں‘‘

میدانِ جنگ میں جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو رسول اللہﷺ نے کچھ کنکریاں اپنی مٹھی میں لیں اور شَاھَتِ الْوجُوْہ (چہرے بگڑ جائیں) فرماتے ہوئے کفار کی طرف پھینکیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ وہ کنکریاں کہاں کہاں تک پہنچیں اور اُن کے کیسے کیسے اثرات کفار پر مرتب ہوئے۔ بہر حال یہاں پر آپﷺ کے اس عمل کو بھی اللہ تعالیٰ اپنی طرف منسوب کر رہا ہے کہ اے نبی(ﷺ )جب وہ کنکریاں آپ نے پھینکی تھیں‘ تو وہ آپﷺ نے نہیں پھینکی تھیں بلکہ اللہ نے پھینکی تھیں۔اسی بات کو اقبال ؔنے ان الفاظ میں بیان کیا ہے : ع

’’ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ!‘‘

وَ لِیُبۡلِیَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ مِنۡہُ بَلَآءً حَسَنًا ؕ

’’تا کہ اللہ اس سے اہلِ ایمان کے جوہر نکھارے خوب اچھی طرح سے۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں پر ایسی آزمائشیں ان کی مخفی صلاحیتوں کو اُجاگر کرنے کے لیے آتی ہیں ۔ بَلَا، یَبْلُو، بَلَائً کے معنی ہیں آزمانا‘ تکلیف اور آزمائش میں ڈال کر کسی کو پرکھنا‘ لیکن اَبْلٰی، یُـبْلِی جب بابِ افعال سے آتا ہے تو یہ کسی کے جوہر نکھارنے کے معنی دیتا ہے ۔

اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۱۷﴾

’’یقینا اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا ‘جاننے والا ہیــ۔‘‘

آیت 18

ذٰلِکُمۡ وَ اَنَّ اللّٰہَ مُوۡہِنُ کَیۡدِ الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿۱۸﴾

’’یہ تو ہو چکا ‘اور (آئندہ کے لیے بھی سمجھ لو کہ) اللہ کفارکی تمام چالوں کو ناکام بنا دینے والا ہے۔‘‘

اس آیت میں گویا اہل ایمان اور کفار دونوں مخاطب ہیں ۔ جبکہ اگلی آیت میں صرف کفار سے خطاب ہے۔ ابو جہل کو بحیثیت سپہ سالار اپنے لشکر کی تعداد‘ اسلحہ اور سازو سامان کی فراوانی کے حوالے سے پورا یقین تھا کہ ہم مسلمانوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے پہلے ہی پراپیگنڈا شروع کر دیا تھا کہ معرکہ کا دن ’’یوم الفرقان‘‘ ثابت ہو گا اور اُس دن یہ واضح ہو جائے گا کہ اللہ کس کے ساتھ ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کو تو وہ لوگ بھی مانتے تھے۔ چنانچہ تاریخ کی کتابوں میں ابو جہل کی اس دعا کے الفاظ بھی منقول ہیں جو بدر کی رات اس نے خصوصی طور پر اللہ تعالیٰ سے مانگی تھی۔ اُس رات جب ایک طرف حضور اکرمﷺ سربسجود ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا مانگ رہے تھے تو دوسری طرف ابو جہل بھی دعا مانگ رہا تھا۔ اُس کی اس دعا کے الفاظ حیرت انگیز حد تک موحدانہ ہیں۔ اس دعا میں لات‘ منات‘ عزیٰ ‘ ہُبل وغیرہ کا کوئی ذکر نہیں‘ بلکہ اس دُعا میں وہ براہِ راست اللہ تعالیٰ سے التجاکر رہا ہے : اللّٰھم أقطعنا لِلرَّحِم وآتانا بِما لا نَعرِفُہ فأحِنْہ الغداۃ … کہ اے اللہ جس شخص نے ہمارے رحمی رشتے کاٹ دیے ہیں اور ہمارے پاس وہ کچھ لے کر آیا ہے جسے ہم پہچانتے نہیں ہیں‘ کل تو اسے کچل کر رکھ دے… اس دُعا سے یہ بھی پتا چلتا ہے کہ ابو جہل کا حضورﷺ پر سب سے بڑا الزام یہ تھا کہ آپﷺ کی وجہ سے قریش کے خون کے رشتے کٹ گئے تھے۔ مثلاً ایک بھائی مسلمان ہو گیااور باقی کافر رہے‘ تونہ صرف یہ کہ ان میں اخوت کا رشتہ باقی نہ رہا‘ بلکہ وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔ اسی طرح اولاد ماں باپ سے اور بیویاں اپنے شوہروں سے کٹ گئیں۔ چونکہ اس عمل سے قریش کی یک جہتی‘ طاقت اور ساکھ بری طرح متاثر ہوئی تھی‘ اس لیے سب سے زیادہ انہیں اسی بات کا قلق تھا۔ بہر حال ابوجہل سمیت تمام قریش کی خواہش تھی اور وہ دعا گو تھے کہ بدر کے میدان میں اس چپقلش کا واضح فیصلہ سامنے آ جائے جوپچھلے کئی برسوں سے مکہ میں اُن کے اور مسلمانوں کے درمیان جاری تھی۔ چنانچہ اگلی آیت میں ان کی اسی خواہش اور دعا کا جواب دیا جا رہا ہے۔

آیت 19

اِنۡ تَسۡتَفۡتِحُوۡا فَقَدۡ جَآءَکُمُ الۡفَتۡحُ ۚ

’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو تمہارے پاس (اللہ کا) فیصلہ آ چکا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے فیصلہ کن فتح کے ذریعے بتا دیا کہ اُس کی تائید و نصرت کس گروہ کے ساتھ ہے۔ اس معرکے کے بعد حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح واضح ہو گیا ۔

وَ اِنۡ تَنۡتَہُوۡا فَہُوَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ ۚ وَ اِنۡ تَعُوۡدُوۡا نَعُدۡ ۚ

’’اور اگر اب بھی تم باز آ جائو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے ‘اور اگر تم پھر یہی کرو گے تو ہم بھی یہی کچھ دوبارہ کریں گے۔‘‘

وَ لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡکُمۡ فِئَتُکُمۡ شَیۡئًا وَّ لَوۡ کَثُرَتۡ ۙ وَ اَنَّ اللّٰہَ مَعَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۱۹﴾

’’اور تمہاری یہ جمعیت تمہارے کسی کام نہیں آ سکے گی خواہ کتنی ہی زیادہ ہو‘ اور یہ کہ اللہ اہل ایمان کے ساتھ ہے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے