بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الأنفال

آیات ۱ تا ۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الانفال مدنی سورت ہے اور اس کا سورۃ التوبہ (مدنی) کے ساتھ جوڑے کا تعلق ہے ۔ زیرمطالعہ گروپ کی چاروں سورتوں میں پائے جانے والے معنوی ربط کو یوں سمجھنا چاہیے کہ پہلی دو مکی سورتوں (الانعام اور الاعراف) میں مشرکین عرب پررسول اللہﷺ کی مسلسل دعوت کے ذریعے اتمامِ حجت کا بیان ہے اور بعد کی دو مدنی سورتوں (الانفال اور التوبہ) میں اس اتمامِ حجت کے جواب میں ان لوگوںپر عذاب کا تذکرہ ہے۔ موضوع کی اس مناسبت کی بنا پر یہ چاروں سورتیں دو دو کے دو جوڑوں کے ساتھ ایک گروپ بناتی ہیں۔

سورۃ الانفال غزوۂ بدر کے متصلاًبعد اور سورۂ آلِ عمران کے اکثر حصوں کے نزول سے پہلے نازل ہوئی ۔ چنانچہ اس سورت کے مطالعے سے پہلے غزوۂ بدر کے پس منظر اور واقعات کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے‘بلکہ اس پس منظر کے مطالعہ سے بھی پہلے نبی اکرمﷺ کی دعوتی و انقلابی تحریک کے منہج و مراحل کے حوالے سے غزوۂ بدر کی خصوصی اہمیت اور حیثیت کا تعین بھی ضرروی ہے ۔ چنانچہ جب ہم غزوۂ بدر کو قرآن کے فلسفۂ تذکیر بایام اللہ اور سورۃ الانفال کے خصوصی تناظر میں دیکھتے ہیں تو اس غزوہ کے مندرجہ ذیل دو پہلو بہت نمایاں ہو کر ہمارے سامنے آتے ہیں:

(۱) مشرکین مکہ پر عذاب کا پہلا کوڑا: اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق رسولوں کا انکار کرنے والی اقوام پر اجتماعی طور پر عذابِ استیصال نازل ہوتا رہا ہے۔ اسی قانونِ قدرت کا اطلاق ہجرت کے بعد مشرکین مکہ پر بھی ہونے والا تھا۔ نبی اکرم ﷺ نے بارہ تیرہ برس تک مختلف انداز میں دعوت دے کر اپنی قوم پر اتمامِ حجت کر دیا تھا۔ اس کے بعد آپؐ کے لیے ہجرت کا حکم گویا ایک واضح اشارہ تھا کہ مشرکین مکہ اپنے مسلسل انکار کے باعث اب عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں‘ لیکن حکمتِ الٰہی کے پیش نظر قریش کا معاملہ اپنی نوعیت میں اس لحاظ سے منفرد رہا کہ ان پر عذاب یکبارگی ٹوٹ پڑنے کے بجائے بالاقساط نازل ہوا۔ لہٰذا اس عذاب کی قسط اوّل اُن پر بدر کے میدان میں نازل ہوئی۔ انہیں حرمِ مکہ سے نکال کر میدانِ بدر میں بالکل اسی طرح سے لایا گیا جیسے آلِ فرعون کو اُن کے محلات سے نکالا گیا تھا اور سمندر میں غرق کرنے کے لیے لایا گیا تھا۔

میدانِ بدر میں قریش کے ستر سردار مارے گئے‘ ستر افراد قیدی بنے اور متعدد زخمی ہوئے۔ یہ انجام ان جنگجوؤں کا ہوا جو فن حرب کی مہارت اور بہادری میں پورے عرب میں مشہور تھے‘ اپنے دور کے جدید ترین اسلحہ سے لیس اور تعداد میں اپنے حریف لشکرسے تین گنا تھے ۔ ان کے مقابلے میں مسلمانوں کی بے سروسامانی کا عالم یہ تھا کہ تین سو تیرہ میں سے صرف آٹھ افراد کے پاس تلواریں تھیں۔ ان نہتے تین سو تیرہ مجاہدین کے ہاتھوں ایک ہزار جنگجوؤں پر مشتمل مسلح لشکر کی یہ ذلت اور ہزیمت دراصل قریش مکہ کے لیے عذابِ الٰہی کی پہلی قسط تھی ‘جس کا ذکر سورۃ الانفال میں مرکزی مضمون کے طور پر ہوا ہے۔ (اس عذاب کا آخری مرحلہ سن ۹ہجری میں آیا‘ جس کا ذکر سورۃ التوبہ میں آیاہے۔)

(۲) غلبۂ دین کی جدو جہد کا حتمی اور ناگزیر مرحلہ (اقدام): غزوۂ بدر رسول اللہﷺ کی غلبۂ دین کی جدوجہد کے پانچویں اور آخری مرحلے یعنی حق و باطل کے درمیان ’’باقاعدہ تصادم ‘‘کا نقطہ آغاز تھا ۔ اس مرحلے کو کامیابی سے سر کرنے کے بعد یہ تحریک بالآخر تاریخ انسانی کے عظیم ترین اور جامع ترین انقلاب پر منتج ہوئی۔ اس تحریک کے ابتدائی چار مراحل یعنی دعوت‘ تنظیم‘ تربیت اور صبر محض تو مکہ مکرمہ میں طے ہو گئے تھے ۔ اس سلسلے کے چوتھے مرحلے (صبر محض) کا تذکرہ سورۃ النساء کی آیت ۷۷ میں {کُفُّوۡۤا اَیۡدِیَکُمۡ} کے الفاظ میں کیا گیا ہے کہ اپنے ہاتھ باندھ کر رکھو ‘ یعنی تمہارے ٹکڑے بھی کر دیے جائیں تو بھی تمہیں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے‘ حتیٰ کہ مدافعانہ کارروائی کی بھی اجازت نہیں ہے۔

مذکورہ چار مراحل کو کامیابی سے طے کرلینے کے بعد نبی اکرمﷺ کے پاس جاں نثاروں کی ایک مختصر مگر انتہائی مضبوط جماعت تیار ہو گئی تھی ‘ جو سرد و گرم چشیدہ تھے‘ ہر طرح کی سختیاں جھیل چکے تھے‘ ہر قسم کی قربانیاں دے چکے تھے اوران کے اخلاص مع اللہ میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش نہیں تھی۔ اس تربیت یافتہ ‘ منظّم اور مضبوط جماعت کی تیاری کے بعد اب باطل کو للکارنے کا وقت قریب آ چکا تھا۔ لہٰذا مدینہ کی طرف ایک کھڑکی کھول کر دارالہجرت کا انتظام کر دیا گیا‘ تا کہ یہ ساری قوت ایک جگہ مجتمع ہو کر آخری مرحلے ( اقدام) کے لیے تیاری کر سکے اور یہی وجہ تھی کہ یہ ہجرت تمام اہل ایمان پر فرض کر دی گئی تھی۔ اس پس منظر میں اگر دیکھا جائے تو یہ ہجرت فرار (flight) نہیں تھی‘ جیسا کہ مغربی مؤرخین ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں‘ بلکہ ایک باقاعدہ سوچی سمجھی‘ طے شدہ حکمت عملی کا حصہ تھی‘ جس کے تحت اس تحریک کے ہیڈ کوارٹرز کو متبادل base فراہم کرنے کے لیے مکہ سے مدینہ منتقل کیا گیا‘ تا کہ وہاں سے فیصلہ کن انداز میں اقدام کیا جا سکے۔(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو اس موضوع پر میری کتاب ’’منہج انقلابِ نبوی ﷺ‘‘۔)

یہاں پر ایک بہت اہم نکتہ وضاحت طلب ہے اور وہ یہ کہ اٹھارہویں صدی میں مغربی علوم و تہذیب کی شدید یلغار کے سامنے مسلمان ہر میدان میں پسپا ہوتے چلے گئے‘ اس ماحول میں جب مغرب کی طرف سے مسلمانوں پر یہ الزام لگا یا گیا کہ ؏

’’ بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے! ‘‘

یعنی یہ کہ اسلام تلوار کے زورسے پھیلا ہے تواس کے جواب میں ہمارے کچھ بزرگوں کی طرف سے پورے خلوص کے ساتھ معذرت خواہانہ انداز اختیار کیاگیا۔ شاید یہ اس وقت کے حالات کی وجہ سے مجبوری بھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب بر صغیر میں محکومی و غلامی کی حالت میںمسلمان خصوصی طور پر انگریزوں کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے۔ ان حالات میں کچھ مسلمان رہنما ایک طرف اپنی قوم کے تحفظ کے بارے میں فکر مند تھے تو دوسری طرف وہ اسلام اور سیرت النبیﷺ کا دفاع بھی کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ اس الزام کے جواب میں یہ موقف اختیار کیا گیا کہ نبی اکرمﷺنے خود سے کوئی ایسا جارحانہ اقدام نہیں کیا ‘ بلکہ تمام جنگیں آپﷺ پر مسلط کی گئی تھیں اور آپﷺ نے تمام جنگیں اپنے دفاع میں لڑیں۔

ہندوستان میں ان خطوط پر سب سے زیادہ کام علامہ شبلی نعمانی رحمہ اللہ علیہ نے کیا ہے۔ وہ سر سیّد احمد خان کے زیراثر تھے اور یہ سب لوگ مل کر جدید مغربی افکار و خیالات‘ تہذیب و تمدن اور اقدار و نظریات کے طوفان کا خلوصِ نیت سے مقابلہ کر رہے تھے‘ جو بہر حال کوئی آسان کام نہیں تھا۔ لہٰذا اس سلسلے میں انہیں معذرت خواہانہ (apologetic) انداز اختیار کرنا پڑا۔ یہی وجہ ہے کہ علامہ شبلی ؒ نے ’’سیرت النبیﷺ‘‘ تحریر کرتے ہوئے غزوۂ بدر سے پہلے کی آٹھ مہمات (جن میں چار غزوات اور چار سرایہ تھیں) کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے‘تا کہ یہ ثابت نہ ہو کہ پہل کا اقدام (initiative) حضوراکرمﷺ کی طرف سے ہوا تھا۔

مذکورہ مصلحت آمیز حکمت عملی ایک خاص دور کا تقاضا تھی ‘لیکن اب حالات مختلف ہیں۔ آج اسلام کا یہ فلسفہ پوری وضاحت کے ساتھ دنیا کے سامنے لانے کی ضرورت ہے کہ اسلام ایک مکمل دین ہے جو انسانی معاشرے میں عملی تنفیذ کے لیے اپنا غلبہ چاہتا ہے اور یہ کہ حضورﷺ کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی یہ تھا کہ دین اسلام کو دنیا میں عملی طور پر غالب کر دیا جائے ۔دین کو غالب کرنے کی انقلابی جدوجہد کی آج بھی ضرورت ہے۔ یہ جدو جہد جب بھی اور جہاں بھی شروع کی جائے گی اس کے لیے منظم انداز میں تیاری کی ضرورت ہوگی ۔ تیاری کا یہ کٹھن سفر سیرتِ مطہرہ کی روشنی میں بتدریج مذکورہ چار مراحل (دعوت‘ تنظیم‘ تربیت اور صبر محض) میں اسی طرح طے کرنا ہو گا جس طرح خود نبی اکرمﷺ نے طے فرمایا تھا۔اگر یہ پہلے چار مراحل کامیابی سے طے کر لیے جائیں گے تو اس کے بعد اس جدوجہد کو آخری اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل کرنا ہو گا۔ یعنی باطل کو للکار کر اس سے ٹکر لینا ہو گی۔ اس سب کچھ کی منطقی وجہ یہ ہے کہ حق اور باطل دو ایسی متضاد اور متحارب قوتیں ہیں جو متوازی انداز میں نہیں چل سکتیں۔ دونوں میں بقائے باہمی (co-existence) کے اصول پر کسی قسم کی کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی۔ ان میں سے ایک قوت غالب ہو گی تو دوسری کو لازمی طور پر مغلوب ہونا پڑے گا۔لہٰذا اگر حق اور اہل حق طاقتور ہیں تو وہ کسی قیمت پر باطل سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حالات کی نزاکت کے تحت منکرینِ زکوٰۃ کے ساتھ رعایت کرنے کے مشورے کے جواب میں فرمایا تھا: اَیُبَدَّلُ الدِّیْنُ وَاَنَا حَیٌّ ( کیا دین میں ترمیم کی جائے گی جبکہ میں ابھی زندہ ہوں!)۔لہٰذا سورۃ الانفال کا مطالعہ کرتے ہوئے اس فلسفے کو پوری وضاحت کے ساتھ سمجھنا اور ذہن میں رکھنا بہت ضروری ہے۔

غزوۂ بدر کا پس منظر: مدینہ تشریف لانے کے بعد رسول اللہﷺ نے شہر کے داخلی استحکام پر ترجیحی طور پرتوجہ مرکوز فرمائی ۔ اس سلسلے میں پہلے چھ ماہ میں آپﷺ نے تین انتہائی اہم امور سر انجام دیے۔ اوّلاً آپﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر مکمل کروائی‘ جس کی صورت میں آپﷺ کو ایک ایسا مرکز میسر آگیا جو بیک وقت ایک گورنمنٹ سیکرٹیریٹ بھی تھا اور پارلیمنٹ ہائوس بھی‘ جودار العلوم اور خانقاہ بھی تھا اور ایک عبادت گاہ بھی۔ ثانیاً آپﷺ نے مہاجرین اور انصار میں مواخات کا رشتہ قائم کرادیا‘ جس سے نہ صرف مہاجرین کے معاشی و معاشرتی مسائل حل ہو گئے‘ بلکہ مدینہ میں ان دونوں فریقوں کے اتحاد سے ایک ایسامعاشرہ وجود میں آ گیا جس کے افراد باہمی محبت اور اخلاص کے گہرے رشتہ میں منسلک تھے۔ اس سلسلے کا تیسرا اور اہم ترین کارنامہ میثاقِ مدینہ تھا۔ یعنی یہودی قبائل کے ساتھ مدینہ کے مشترکہ دفاع کا معاہدہ ‘ جس کے تحت حملے کی صورت میں مدینہ کے یہودی قبائل مسلمانوں کے ساتھ مل کر شہر کا دفاع کرنے کے پابند ہو گئے۔

داخلی محاذ پر ان معاملات سے فارغ ہونے کے بعد ہجرت کے ساتویں ماہ سے نبی اکرمﷺ نے مدینہ کے اطراف و جوانب میں چھاپہ مار دستے بھیجنے شروع کر دیے۔ قریش مکہ کی معیشت کا دارومدار تجارت پر تھااور مکہ سے یمن اور شام کی طرف اُن کے تجارتی قافلے سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔ یہ دونوں تجارتی شاہراہیں قریش مکہ کی معیشت کے لیے شہ رگ کی حیثیت رکھتی تھیں ۔ آپﷺ نے اِن دونوں شاہراہوں پر اپنے فوجی دستوں کی نقل و حرکت سے قریش کو یہ باور کرا دیاکہ ان کی یہ معاشی شہ رگ اب ہماری زد میں ہے اورہم جب چاہیں اسے منقطع کرسکتے ہیں۔ اپنی معیشت کے بارے میں ایسے خدشات کاتصور قریش کے لیے بہت ہی بھیانک تھا۔ غزوۂ بدر (۲ہجری) سے پہلے ‘ ڈیڑھ سال کے دوران میں ایسی آٹھ مہمات کا بھیجا جانا تاریخ سے ثابت ہے۔ ان میں سے چار مہمات میں رسول اللہ ﷺ کی بنفس نفیس شرکت بھی ثابت ہے ۔ آپﷺ جن جن علاقوں میں تشریف لے گئے وہاں پر آباد قبائل کے ساتھ آپﷺ نے دوستی کے معاہدے کر لیے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مدینہ کے اطراف و جوانب میں آباد اکثر قبائل جو پہلے قریش کے دوست تھے اب مسلمانوں کے حلیف بن گئے‘ جبکہ کچھ قبائل نے غیر جانبدار رہنے کے معاہدے کر لیے ‘ اور یوں آپﷺ کی کامیاب حکمت عملی سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں سے قریش کا دائرئہ اثر سکڑنے لگا۔ قریش کے لیے مکہ کی معاشی ناکہ بندی کا خدشہ ہی کچھ کم پریشان کن نہیں تھا کہ اب انہیں اس علاقے سے اپنے سیاسی اثر و رسوخ کی بساط بھی لپٹتی ہوئی دکھائی دینے لگی‘ چنانچہ ’’تنگ آ مدبجنگ آمد ‘‘کے مصداق وہ مدینہ پر ایک فیصلہ کن حملہ کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے منصوبہ بندی کرنے لگے۔ اسی دوران میں دو ایسے واقعات ہو ئے جن کی وجہ سے حالات تیزی سے خراب ہو کر غزوۂ بدر پر منتج ہوئے۔

پہلا واقعہ یوں ہوا کہ حضورﷺ نے ایک چھوٹا سا دستہ نخلہ کے مقام پربھیجا تھا جومکہ اور طائف کے درمیان واقع ہے۔ اس دستے میں شامل لوگوں کو یہ مشن سونپا گیا تھاکہ وہ اس علاقے میں موجود رہیں اور قریش کی نقل و حرکت کے بارے میں مطلع کرتے رہیں۔ اتفاق سے اس دستے کی مڈ بھیڑ قریش کے ایک تجارتی قافلے سے ہوگئی۔ مقابلے میں ایک مشرک شخص عبداللہ بن حضرمی مارا گیا جبکہ ایک دوسرے مشرک کو قید کر لیا گیا۔ مالِ غنیمت اور قیدی کے ساتھ یہ لوگ جب مدینہ پہنچے تو نبی اکرمﷺنے سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا ‘کیونکہ ایسا کرنے کا انہیں حکم نہیں دیا گیا تھا‘لیکن جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا۔ یہ گویا مسلمانوں کی طرف سے قریش کے خلاف پہلا باقاعدہ مسلح اقدام تھا جس میں ان کا ایک شخص بھی قتل ہوا ۔ لہٰذااس واقعہ سے ماحول کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

دوسرا واقعہ ابو سفیان کے قافلے سے متعلق ہوا۔ یہ ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ تھا جومکہ سے شام کی طرف جارہا تھا۔ نبی اکرمﷺ نے اس کا تعاقب کیا ‘ مگر وہ لوگ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ جب یہ قافلہ پچاس ہزار دینار کی مالیت کے سازو سامان کے ساتھ شام سے واپس آ رہا تھا تو ممکنہ خطرے کے پیش نظر ابو سفیان نے قافلے کی حفا ظت کے لیے دوہری حکمت عملی اختیار کی۔ انہوں نے ایک طرف تو ایک تیز رفتار سوار کو اپنے تحفظ کی خاطر مدد حاصل کرنے کے لیے مکہ روانہ کر دیا اور دوسری طرف معمول کا راستہ جو بدر کے قریب سے ہو کر گزرتا تھا‘ اس کو چھوڑ کر قافلے کو مدینہ سے دور ساحل سمندر کے راستے پر ڈال دیا۔ راستہ بدلنے سے قافلہ تو ممکنہ خطرے سے بچ گیا مگر مدد حاصل کرنے کے لیے روانہ ہونے والے ایلچی کو واپس بلانا ممکن نہ تھا۔ بہر حال اتفاق سے مکہ میں یہ دونوں اشتعال انگیز خبریں یکے بعد دیگرے پہنچیں۔ ایک طرف نخلہ سے جان بچا کر بھاگنے والے افراد روتے پیٹتے عبداللہ بن حضرمی کے قتل کی خبر لے کر پہنچ گئے اور دوسری طرف ابو سفیان کا ایلچی بھی دہائی دیتے ہوئے آ پہنچا کہ بھاگو! دوڑو! کچھ کر سکتے ہو تو کرو‘ تمہارا قافلہ مسلمانوں کے ہاتھوں لٹنے والاہے۔ ان خبروں سے مکہ میں تو گویا آگ بھڑک اٹھی۔ چنانچہ فوری طور پر ایک ہزار کا لشکر تیار کیا گیاجس کے لیے ایک سو گھوڑوں پر مشتمل رسالہ اور نو سو اونٹ مہیا کیے گئے ‘ وافر مقدار میں سامانِ رسد اور اسلحہ وغیرہ بھی فراہم کیا گیا۔

مشاورت کے بار ے میں غلط فہمی کی وضاحت: غزوۂ بدر سے پہلے رسول اللہﷺکی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ جس مشاورت کا ذکر قرآن حکیم اور تاریخ میں ملتا ہے اس کے بارے میں اکثر لوگ مغالطے کا شکار ہوئے ہیں۔ اس غلط فہمی کی وجہ یہ ہے کہ حضورﷺ نے دو مواقع اور دو مقامات پر الگ الگ مشاورت کا انعقاد فرمایا تھا مگر اسے اکثر وبیشتر لوگوں نے ایک ہی مشاورت سمجھاہے۔

پہلی مجلس مشاورت مدینہ میں ہوئی اور اس کا مقصد یہ فیصلہ کرنا تھا کہ ابو سفیان کے قافلے کو شام سے واپسی پر روکنا چاہیے یا نہیں؟ اور جب مشورہ کے بعد اس سلسلے میں اقدام کرنا طے پایا تو حضورﷺ کچھ صحابہؓ کو لے کر اس مقصد کے لیے مدینہ سے روانہ ہو گئے۔چونکہ اُس وقت تک جنگ کے بارے میں کوئی گمان تک نہیں تھا اس لیے اس مہم کے لیے کوئی خاص تیاری نہیں کی گئی تھی۔ جس کے ہاتھ میں جو آیا وہ لے کر چل پڑا۔ چنانچہ دو گھوڑوں‘ آٹھ تلواروں اورکچھ چھوٹے موٹے ہتھیاروں کے ساتھ چند صحابہؓ کی معیت میں جب آپﷺمقامِ صفراء پر پہنچ گئے تو آپﷺ کواطلاع ملی کہ ابوجہل ایک ہزارکا لشکر لے کر مکہ سے چل پڑا ہے۔ اسی اثنا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی بھی آ گئی کہ جنوب (مکہ) کی طرف سے ایک بڑا لشکر آ رہا ہے جو کیل کانٹے سے لیس ہے جبکہ شمال کی جانب سے قافلہ آ رہا ہے ‘ اور میرا یہ وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے ایک پر آپ(ﷺ) کو ضرور فتح حاصل ہو گی۔ لہٰذا ہل ایمان کواس بارے میں خوشخبری بھی دیں اور ان سے مشورہ بھی کر یں۔ چنانچہ اس وحی کے بعد مقامِ صفرا ء پر آپﷺ نے یہ فیصلہ کرنے کے لیے دوسری مشاورت کا انعقاد فرمایا کہ پہلے لشکر کے مقابلے کے لیے جایا جائے یا قافلے کو روکنے کے لیے اقدام کیا جائے؟ چنانچہ جن محققین اور مفسرین سے اس پس منظر کی تحقیق میں کوتاہی ہوئی ہے ‘انہوں نے مشاورت کے دو واقعات کو ایک ہی واقعہ سمجھا ہے ‘نتیجتاً انہیں اس سورت کی متعلقہ آیات کو سمجھنے اور ان کا ترجمہ و تشریح کرنے میں بہت خلجان رہا ہے۔

سورت کے اسلوب کا ایک خاص انداز: یہ سورت دس رکوعات پر مشتمل ایک مکمل خطبہ ہے ‘لیکن اس میں سے مال غنیمت کی تقسیم کے مسئلے کو درمیان سے نکال کر آغاز میں لایا گیا ہے۔ اس مسئلہ کی تفصیلات سورت کے اندر اپنی جگہ پر ہی بیان ہوئی ہیں ‘ لیکن اس موضوع کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر سورت کا آغاز غیر معمولی انداز میں اس کے ذکر سے کیا گیاہے۔ یہاںمالِ غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ اس لیے زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آیا کہ غزوۂ بدر جزیرہ نمائے عرب میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا ۔اس سے پہلے عرب میں کہیں بھی کسی باقاعدہ فوج اور اس کے ڈسپلن کی کوئی مثال موجود نہیں تھی۔ چنانچہ عسکری نظم و ضبط اور جنگی معاملات کے بارے میں کوئی ضابطہ اور قانون بھی پہلے سے موجود نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس غزوہ میں فتح کے بعد میدانِ جنگ سے جو چیز جس کے ہاتھ لگ گئی‘ اُس نے سمجھا کہ بس اب یہ اُس کی ہے۔ اس صورتِ حال کی وجہ سے بہت سنجیدہ نوعیت کے مسائل پیدا ہو گئے۔ بعض لوگوں نے تو بھاگ دوڑ کر کے بہت زیادہ مال جمع کر لیا ‘ جبکہ مختلف وجوہات کی بنا پر کچھ لوگوں کے ہاتھ کچھ بھی نہ لگا۔ کچھ لوگ اپنی بزرگانہ حیثیت اور وضع داری کی بنا پر بھاگ دوڑ کر مال اکٹھا نہیں کر سکتے تھے۔ کچھ لوگ اہم مقامات پر پہرہ دے رہے تھے‘جبکہ بعض صحابہؓ رسول اللہﷺ کی حفاظت پر مامور تھے۔ مالِ غنیمت میں سے ایسے تمام لوگوں کے ہاتھ کچھ بھی نہ آیا۔ یہی وجہ تھی کہ اس ضمن میں اختلافات بھی پیدا ہوئے۔ چنانچہ سورت کی پہلی آیت میں ہی جتلا دیا گیا کہ اللہ کے ہاں اس معاملے کا خاص نوٹس لیا گیا ہے اور پھر بات بھی اس طرح سے کی گئی کہ مسئلے کی جڑ ہی کاٹ کر رکھ دی گئی۔ بالکل دو ٹوک انداز میں بتا دیا گیا کہ مالِ غنیمت صرف اور صرف اللہ اور اُس کے رسولﷺکا ہے ‘ کسی اورکا اس پر کسی قسم کا کوئی حق نہیں۔ سورۃ الانفال کا یہ اسلوب اگر اچھی طرح سے ذہن نشین کر لیا جائے تو اس سے ہمیں سورۃ التوبہ کے مضامین کی ترتیب کو سمجھنے میں بھی مدد ملے گی۔

1

مالِ غنیمت کے حوالے سے فیصلہ

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾

آیت 1

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ الۡاَنۡفَالِ ؕ قُلِ الۡاَنۡفَالُ لِلّٰہِ وَ الرَّسُوۡلِ ۚ

’’(اے نبی ﷺ!) یہ لوگ آپ سے اموالِ غنیمت کے بارے میں پوچھ رہے ہیں‘آپ کہیے کہ اموالِ غنیمت کل کے کل اللہ اور رسولؐ کے ہیں ۔‘‘

فَاتَّقُوا اللّٰہَ وَ اَصۡلِحُوۡا ذَاتَ بَیۡنِکُمۡ ۪ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱﴾

’’پس تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو‘ اور اپنے آپس کے معاملات درست کرو‘ اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو اگر تم مؤمن ہو۔‘‘

یہاں مالِ غنیمت کے لیے لفظ ’’اَنفال ‘‘استعمال کیا گیا ہے۔ اَنفال جمع ہے نفل کی اور نفل کے معنی ہیں اضافی شے۔ مثلاً نمازِ نفل‘ جسے ادا کر لیںتو باعث ثواب ہے اور اگر ادا نہ کریں تو مواخذہ نہیں۔ اسی طرح جنگ میں اصل مطلوب شے تو فتح ہے جب کہ مالِ غنیمت ایک اضافی انعام ہے ۔

جیسا کہ تمہیدی گفتگو میں بتایا جا چکاہے ‘غزوۂ بدر کے بعد مسلمانوں میں مالِ غنیمت کی تقسیم کا مسئلہ بہت سنجیدہ صورت اختیار کر گیا تھا۔ چنانچہ آیت زیر نظر میں ایک مختصر ‘قطعی اور دو ٹوک حکم کے ذریعے سے اس مسئلہ کی جڑ کاٹ دی گئی ہے اور بہت واضح انداز میں بتا دیا گیا ہے کہ ’’انفال‘‘ کل کے کل اللہ اور اُس کے رسولﷺ کی ملکیت ہیں۔ اس لیے کہ یہ فتح تمہیں اللہ کی خصوصی مدد اور اللہ کے رسولؐ کے ذریعے سے نصیب ہوئی ہے۔ لہٰذاانفال کے حق دار بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ ہی ہیں۔ اس قانون کے تحت یہ تمام غنیمتیں اسلامی ریاست کی ملکیت قرار پائیں اور تمام مجاہدین کو حکم دے دیا گیا کہ انفرادی طور جو چیز جس کسی کے پاس ہے وہ اسے لا کر بیت المال میں جمع کرا دے۔ اس طریقے سے سب لوگوں کو zero level پر کھڑا کر دیا گیا اور یوںیہ مسئلہ احسن طور پر حل ہو گیا۔ اس کے بعد جس کو جو دیا گیا اُس نے وہ بخوشی قبول کر لیا۔

اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں بندۂ مومن کی شخصیت کے کچھ خدوخال بیان ہوئے ہیں۔ مگر ان خدوخال کے بارے میں جاننے سے پہلے یہ نکتہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ’’مؤمن‘‘ اور ’’مسلمان‘‘ دو مترادف الفاظ یا اصطلاحات نہیں ہیں۔ قرآن ان دونوں میں واضح فرق کرتا ہے ۔ یہ فرق سورۃ الحجرات کی آیت ۱۴ میں اس طرح بیان ہوا ہے: {قَالَتِ الۡاَعۡرَابُ اٰمَنَّا ؕ قُلۡ لَّمۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ لٰکِنۡ قُوۡلُوۡۤا اَسۡلَمۡنَا وَ لَمَّا یَدۡخُلِ الۡاِیۡمَانُ فِیۡ قُلُوۡبِکُمۡ ؕ } ’’ (اے نبیﷺ!) یہ بدو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں‘ ان سے کہہ دیجیے کہ تم ایمان نہیں لائے ہو‘ بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں جبکہ ایمان ابھی تک تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے‘‘۔ اسلام اور ایمان کا یہ فرق اچھی طرح سمجھنے کے لیے ’’ارکانِ اسلام‘‘ کی تفصیل ذہن میں تازہ کر لیجئے جو قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا کا مرحلۂ اولیٰ طے کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

حدیث((بُنِیَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ : شَھَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ وَاِقَامِ الصَّلَاۃِ وَاِیْتَائِ الزَّکَاۃِ وَحَجِّ الْبَیْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ)) ۱

’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اُس کے بندے اور رسول ہیں‘ نماز قائم کرنا‘ زکوٰۃ ادا کرنا‘ بیت اللہ کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘

اس حدیث میں پانچ ارکانِ اسلام کا ذکر ہوا ہے ‘ جن سے ہر مسلمان واقف ہے۔ مگر جب ایمان کی بات ہو گی تو ان پانچ ارکان کے ساتھ دو مزید ارکان کا اضافہ کرنا ہوگا۔ اور یہ دو ارکان ہیں ’’دل کا یقین‘‘ اور’’جہاد فی سبیل اللہ‘‘۔ ان میں سے پہلے رکن کا تعلق نظریے سے ہے‘ جبکہ دوسرے کا تعلق عمل سے ۔ چنانچہ ملاحظہ ہوسورۃ الحجرات کی اگلی آیت میں بندۂ مؤمن کی شخصیت کا یہ نقشہ : {اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا وَ جٰہَدُوۡا بِاَمۡوَالِہِمۡ وَ اَنۡفُسِہِمۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوۡنَ ﴿۱۵﴾} ’’ مؤمن تو بس وہ ہیں جو ایمان لائیں اللہ پر اور اُ س کے رسولؐ پر‘ پھر ان کے دلوں میں شک باقی نہ رہے اور وہ جہاد کریں اپنے مالوں اور جانو ں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ صرف وہی لوگ (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہیں‘‘۔ یعنی کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد انسان قانونی طور پر مسلمان ہو جاتا ہے اور تمام ارکانِ اسلام اس کے لیے لازمی قرار پاتے ہیں۔مگر حقیقی مؤمن وہ تب بنے گا جب اُس کے دل کو گہرے یقین {ثُمَّ لَمۡ یَرۡتَابُوۡا } والا ایمان نصیب ہو گا اورعملی طور پر وہ جہاد میں بھی حصہ لے گا۔

بندۂ مؤمن کی اسی تعریف (definition) کی روشنی میں اہل ایمان کی کیفیت یہاں سورۃ الانفال میں دو حصوں میں الگ الگ بیان ہوئی ہے۔ وہ اس طرح کہ حقیقی ایمان والے حصے کی کیفیت کو آیت ۲ اور ۳ میں بیان کیا گیا ہے ‘ جبکہ اس کے دوسرے (جہاد والے )حصے کی کیفیات کا ذکر سورت کی آخری آیت سے پہلے والی آیت میں آیا ہے ۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے ایک پرکار (compass) کو کھول کر اُس کی ایک نوک کو سورت کے آغاز پر (پہلی آیت چھوڑ کر) جبکہ دوسری نوک کوسورت کے آخر پر (آخری آیت چھوڑ کر) رکھ دیا گیا ہو۔ اس وضاحت کے بعد اب ملاحظہ ہو بندۂ مؤمن کی تعریف (definition) کا پہلا حصہ:

(۱) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب بنی الاسلام علی خمس۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب بیان ارکان الاسلام ودعائمہ العظام۔ واللفظ للمسلم۔

2-4

بندہ مومن کی ظاہری و باطنی صفات

ویڈیو

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ﴿ۖ۲﴾ الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ لَہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ مَغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ۚ﴿۴﴾

آیت 2

اِنَّمَا الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الَّذِیۡنَ اِذَا ذُکِرَ اللّٰہُ وَجِلَتۡ قُلُوۡبُہُمۡ وَ اِذَا تُلِیَتۡ عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتُہٗ زَادَتۡہُمۡ اِیۡمَانًا وَّ عَلٰی رَبِّہِمۡ یَتَوَکَّلُوۡنَ ۚ﴿ۖ۲﴾

’’حقیقی مؤمن تو وہی ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ان کے دل لرز جاتے ہیں اورجب انہیں اُس کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں توان کے ایمان میں اضافہ ہو جاتا ہے‘ اور وہ اپنے رب ہی پر توکل کرتے ہیں۔‘‘

آیت 3

الَّذِیۡنَ یُقِیۡمُوۡنَ الصَّلٰوۃَ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ ؕ﴿۳﴾

’’جو نماز کو قائم رکھتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔‘‘

اس سے انفاق فی سبیل اللہ مرا دہے۔یعنی وہ لوگ اللہ کے دین کے لیے خرچ کرتے ہیں۔

آیت 4

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ

’’یہی لوگ ہیں جو حقیقی مؤمن ہیں۔‘‘

یہاں پر ایک مؤمن کی تعریف (definition) کا پہلا حصہ بیان ہوا ہے ‘ جب کہ اس کا دوسرا اور تکمیلی حصہ اس سورت کی آیت ۷۴میں بیان ہو گا‘ یعنی آخری سے پہلی (second last) آیت میں۔ اُس آیت میں یہی الفاظ {اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ حَقًّا ؕ } ایک دفعہ پھر آئیں گے۔ ایمان کے ان حقائق کو تقسیم کر کے سورت کے آغاز اور اختتام پر اس طرح رکھا گیا ہے جیسے ساری سورت اس مضمون کی گود میں آ گئی ہو۔

لَہُمۡ دَرَجٰتٌ عِنۡدَ رَبِّہِمۡ وَ مَغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ۚ﴿۴﴾

’’اُن کے لیے ان کے ربّ کے پاس (اونچے) درجات اور مغفرت اور عزت والا رزق ہے۔‘‘

یہاں سے اب غزوئہ بدر کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔

5-8

بدر سے قبل مشاورت

ویڈیو

کَمَاۤ اَخۡرَجَکَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَیۡتِکَ بِالۡحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾ یُجَادِلُوۡنَکَ فِی الۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَیَّنَ کَاَنَّمَا یُسَاقُوۡنَ اِلَی الۡمَوۡتِ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ؕ﴿۶﴾ وَ اِذۡ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحۡدَی الطَّآئِفَتَیۡنِ اَنَّہَا لَکُمۡ وَ تَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ تَکُوۡنُ لَکُمۡ وَ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّحِقَّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ یَقۡطَعَ دَابِرَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۙ﴿۷﴾ لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾

آیت 5

کَمَاۤ اَخۡرَجَکَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَیۡتِکَ بِالۡحَقِّ ۪ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ لَکٰرِہُوۡنَ ۙ﴿۵﴾

’’جیسے کہ نکالا آپ کو(اے نبیﷺ) آپ کے رب نے آپ کے گھر سے حق کے ساتھ‘ اور یقینا اہلِ ایمان میں سے کچھ لوگ اسے پسند نہیں کر رہے تھے۔‘‘

یہ اُس پہلی مشاورت کا ذکر ہے جو رسول اللہﷺ نے صحابہؓ سے مدینہ ہی میں فرمائی تھی ۔قریش کے ساتھ مسلح تصادم کے کسی امکان کو ناپسند کرنے والے دو قسم کے لوگ تھے۔ ایک تو منافقین تھے جو کسی قسم کی آزمائش میں پڑنے کو تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے منصوبے کے تحت اس طرح کی کسی مہم جوئی کی روایت کو ’’ Nip the evil in the bud‘‘ کے مصداق ابتدا ہی میں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لیے ان کے دلائل بظاہر بڑے بھلے تھے کہ لڑائی جھگڑا اچھی بات نہیں ہے‘ ہمیں تو اچھی باتوں اور اچھے اخلاق سے دین کی تبلیغ کرنی چاہیے‘ اور لڑنے بھڑنے سے بچنا چاہیے‘ وغیرہ وغیرہ۔ دوسری طرف کچھ نیک سرشت سچے مؤمن بھی ایسے تھے جو اپنے خاص مزاج اور سادہ لوحی کے سبب یہ رائے رکھتے تھے کہ ابھی تک قریش کی طرف سے تو کسی قسم کا کوئی اقدام نہیں ہوا‘ لہٰذا ہمیں آگے بڑھ کر پہل نہیں کرنی چاہیے۔ زیر نظر آیت میں دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا گیا ہے کہ حضورﷺکابدرکی طرف روانہ ہونا اللہ تعالیٰ کی تدبیر کا ایک حصہ تھا۔

آیت 6

یُجَادِلُوۡنَکَ فِی الۡحَقِّ بَعۡدَ مَا تَبَیَّنَ

’’ وہ لوگ آپؐ سے جھگڑ رہے تھے حق کے بارے میں‘ اس کے بعد کہ بات( ان پر) بالکل واضح ہو چکی تھی‘‘

یہ آیت میرے نزدیک دوسری مشاورت کے بارے میں ہے جو مقامِ صفراء پر منعقد ہوئی تھی۔نبی اکرمﷺ مدینہ سے قریش کے تجارتی قافلے کا پیچھا کرنے کے ارادے سے نکلے تھے ‘ اور یہ بظاہر اسی طرح کی ایک مہم تھی جس طرح کی آٹھ مہمات اس علاقے میں پہلے بھی بھیجی جا چکی تھیں۔ اُس وقت تک لشکرِ قریش کے بارے میں نہ کوئی اطلاع تھی اور نہ ہی ایسا کوئی گمان تھا۔ لیکن جب آپﷺ مدینہ سے نکل کر صفراء کے مقام پر پہنچے تو آپؐ کو اپنے ذرائع سے بھی لشکرِ قریش کی مکہ سے روانگی کی اطلاع مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے بھی آپﷺ کو اس بارے میں مطلع فرما دیا۔چنانچہ جس طرح حضرت طالوت نے راستے میں اپنے لشکر کی آزمائش کی آزمائش کی تھی کہ دریا کو عبور کرتے ہوئے جو شخص سیر ہو کر پانی پیے گا اُس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں رہے گااور اس طرح مخلص ساتھیوں کا خلوص ظاہر ہو گیا‘ اسی طرح آپﷺ نے بھی اللہ کے حکم سے سارا معاملہ مسلمانوں کے سامنے مشاورت کے لیے رکھ دیا اور ان کو واضح طور پر بتا دیا کہ مکہ سے ابوجہل ایک ہزار جنگجوئوں پر مشتمل ایک لشکرِ جرار لے کر روانہ ہو چکا ہے۔

کَاَنَّمَا یُسَاقُوۡنَ اِلَی الۡمَوۡتِ وَ ہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ ؕ﴿۶﴾

’’(وہ لوگ ایسے محسوس کر رہے تھے)جیسے انہیں موت کی طرف دھکیلا جا رہا ہو اور وہ اسے دیکھ رہے ہوں۔‘‘

ظاہر بات ہے یہ کیفیت تو پکے منافقین ہی کی ہو سکتی تھی۔

آیت 7

وَ اِذۡ یَعِدُکُمُ اللّٰہُ اِحۡدَی الطَّآئِفَتَیۡنِ اَنَّہَا لَکُمۡ

’’اور یاد کرو جبکہ اللہ وعدہ کر رہا تھا تم لوگوں سے کہ ان دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا‘‘

لشکر یا قافلے میں سے کسی ایک پر مسلمانوں کی فتح کی ضمانت اللہ تعالیٰ کی طرف سے دے دی گئی تھی۔

وَ تَوَدُّوۡنَ اَنَّ غَیۡرَ ذَاتِ الشَّوۡکَۃِ تَکُوۡنُ لَکُمۡ

’’اور (اے مسلمانو! )تم یہ چاہتے تھے کہ جو بغیر کانٹے کے ہے وہ تمہارے ہاتھ آئے‘‘

تم لوگوں کی خواہش تھی کہ لشکر اور قافلے میں سے کسی ایک کے مغلوب ہونے کی ضمانت ہے تو پھر غیر مسلح گروہ یعنی قافلے ہی کی طرف جایا جائے‘کیونکہ اس میں کوئی خطرہ اور خدشہ (risk) نہیں تھا۔ قافلے کے ساتھ بمشکل پچاس یا سو آدمی تھے‘ جبکہ اس میں پچاس ہزار دینار کی مالیت کا سازوسامان بھی تھا ۔ لہٰذا اس قافلے پر بڑی آسانی سے قابو پایا جا سکتا تھا ۔اس رائے کے حامل لوگوں کی دلیل یہ تھی کہ ہمارے پاس تو ہتھیار بھی نہیں ہیں اور سامانِ رسد وغیرہ بھی نا کافی ہے‘ ہم مدینے سے پوری تیاری کر کے نہیں آئے ۔لہٰذا یہ بہتر ہو گا کہ پہلے قافلے کی طرف جائیں ‘ اس طرح ہمیں سازو سامان بھی مل جائے گا‘ اہل قافلہ کے ہتھیار بھی ہمارے قبضے میں آ جائیں گے اور اس کے بعد لشکر کا مقابلہ ہم بہتر انداز میں کر سکیں گے۔ تو گویا عقل و منطق کے اعتبار سے بھی یہ رائے بظاہر بہت معقول تھی۔

وَ یُرِیۡدُ اللّٰہُ اَنۡ یُّحِقَّ الۡحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ وَ یَقۡطَعَ دَابِرَ الۡکٰفِرِیۡنَ ۙ﴿۷﴾

’’اور اللہ چاہتا تھا کہ اپنے فیصلے کے ذریعے سے حق کا حق ہونا ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔‘‘

یہ وہی بات ہے جو ہم سورۃ الانعام (آیت ۴۵) میں پڑھ آئے ہیں: {فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ} کہ ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی۔ یعنی اللہ کا ارادہ کچھ اور تھا ۔ دراصل یہ سب کچھ دنیا کے عام قواعد و ضوابط (physical laws) کے مطابق نہیںہونے جا رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس دن کو ’’یوم الفرقان‘‘ بنانا چاہتا تھا۔ وہ تین سو تیرہ نہتے افراد کے ہاتھوں کیل کانٹے سے پوری طرح مسلح ایک ہزار جنگجوئوں کے لشکر کو ذلت آمیز شکست سے دوچار کر کے دکھانا چاہتا تھا کہ اللہ کی تائید و نصرت کس کے ساتھ ہے ۔اس طرح اللہ تعالیٰ چاہتا تھا کہ کافروں کی جڑ کاٹ کر رکھ دے۔

آیت 8

لِیُحِقَّ الۡحَقَّ وَ یُبۡطِلَ الۡبَاطِلَ وَ لَوۡ کَرِہَ الۡمُجۡرِمُوۡنَ ۚ﴿۸﴾

’’تا کہ سچا ثابت کر دے حق کو اور جھوٹاثابت کر دے باطل کو‘ خواہ یہ مجرموں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے