وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً
’’اور اپنے رب کو یاد کرتے رہا کرو اپنے جی ہی جی میں‘عاجزی اور خوف کے ساتھ‘‘
اس عاجزی کی انتہااور عبدیتِ کاملہ کامظہر تو وہ دعائے ماثور ہے جو میرے کتابچے ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کے آخر میں درج ہے۔ ان دوآیات کے مضمون (قرآن کی عظمت اور دعا میں عاجزی) کے خصوصی حوالے سے اس دعا کے مندرجہ ذیل الفاظ کو پڑھئے اور ان کے مفہوم کو اپنے قلب کی گہرائیوں میں اتارنے کی کوشش کیجیے:
اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ
’’ اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں!‘‘
وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ اَمَتِکَ
’’ تیرے ایک نا چیز غلام اور ادنیٰ کنیز کا بیٹا ہوں!‘‘
وَفِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَا صِیَتِیْ بِیَدِکَ
’’ اورمجھ پر تیرا ہی کامل اختیار ہے ‘میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ ہے۔‘‘
مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ ‘ عَدْلٌ فِیَّ قَضَائُ کَ
’’نافذ ہے میرے بارے میں تیرا ہر حکم ‘اور عدل ہے میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ۔‘‘
اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ‘ سَمَّیْتَ بہٖ نَفْسَکَ
’’میں تجھ سے درخواست کرتا ہوںتیرے ہر اُس اسم کے واسطے سے جس سے تو نے اپنی ذاتِ مقدس کو موسوم فرمایا‘‘
اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ
’’ یااپنی کسی کتاب میں نازل فرمایا‘‘
اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدً ا مِنْ خَلْقِکَ
’’ یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو تلقین فرما یا‘‘
اَوِاسْتَأثَرْتَ بہٖ فِیْ مَکْنُوْنِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ
’’یا اسے اپنے مخصوص خزانہ غیب ہی میں محفوظ رکھا‘‘ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ ، وَنُـوْرَ صَدْرِیْ، وَجِلَا ئَ حُزْنِیْ، وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ وَ غَمِّیْ ۱۴ ’’کہ تو بنا دے قرآن مجید کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے رنج و حزن کی جلا اور میرے تفکرات اور غموں کے ازالے کا سبب !‘‘
آمِیْن یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ!
’’ ایسا ہی ہو‘ اے تمام جہانوں کے پروردگار!‘‘
وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ
’’اور بلند آواز سے نہیں (پست آواز سے)‘‘
اس حوالے سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی دُعا مانگے تو اس طرح مانگے کہ وہ اپنی آواز کو خود سن سکے تاکہ اس کی سماعت بھی اس سے استفادہ کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو قراء ت ایسے کرے کہ خود سن سکے‘اگرچہ سری نماز ہی کیوں نہ ہو۔
بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ
’’(اور اس طرح آپ اپنے رب کا ذکر کرتے رہیں )صبح کے وقت بھی اور شام کے اوقات میں بھی‘‘
جیسے سورۃ الانعام کی پہلی آیت کی تشریح کے ضمن میں ذکر آیا تھا کہ لفظ نُور قرآن میں ہمیشہ واحد جبکہ ظُلُمات ہمیشہ جمع آتا ہے‘ اسی طرح لفظ غُدُوّ (صبح) بھی ہمیشہ واحد اور آصال(شام)ہمیشہ جمع آتا ہے۔ یہ اَصِیل کی جمع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ صبح کی نماز تو ایک ہی ہے ‘یعنی فجر‘ جبکہ سورج ذرا مغرب کی طرف ڈھلناشروع ہوتا ہے تو رات تک پے در پے نمازیں پڑھی جاتی رہتی ہیں‘ یعنی ظہر‘ عصر‘ مغرب اور عشاء۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۷۸کے الفاظ {اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ} بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾
’’اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیے۔‘‘
(۱۴) رواہ احمد ورزین ۔ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب الدعوات‘ باب الدعوات فی الاوقات‘ الفصل الثالث ۔ عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ
’’بے شک وہ جو آپ کے ربّ کے پاس ہیں‘‘
یعنی ملأ اعلیٰ میں ملائکہ مقربین کی محفل ‘ جس کا نقشہ امیر خسروؒ ؔنے اپنے اس خوبصورت شعر میں اس طرح بیان کیا ہے :
خدا خود میر محفل بود اندر لامکاں خسروؔ
محمدؐ شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم!
یعنی لامکاں کی وہ محفل جس کا میر محفل خوداللہ تعالیٰ ہے اور جہاںشرکائے محفل ملائکہ مقربین ہیں اور محمدرسول اللہﷺ (روحِ محمدیؐ)کو اس محفل میں گویا چراغ اور شمع کی حیثیت حاصل ہے ۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ کل رات مجھے بھی اس محفل میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔
لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَ لَہٗ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿٪ٛ۲۰۶﴾
’’وہ اُس کی عبادت سے استکبار نہیں کرتے‘ اور اُس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں‘ اور اُس کے لیے سجدے کرتے رہتے ہیں۔‘‘
بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ، ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیمoo