تحریر

الأعراف

آیات ۱۸۷ تا ۲۰۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

187-188

نبی اکرم ﷺکا اعتراف عاجزی و بے بسی

ویڈیو

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقۡتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ ثَقُلَتۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾ قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚۖۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۸۸﴾

آیت 187

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ عَنِ السَّاعَۃِ اَیَّانَ مُرۡسٰہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ رَبِّیۡ ۚ

’’(اے نبی ﷺ!) یہ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہو گا؟ آپ کہیے کہ اس کا علم تو میرے ربّ ہی کے پاس ہے۔‘‘

یہ لوگ آپ(ﷺ) سے قیامت کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ یہ کب لنگر انداز ہو گی؟آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اس کے بارے میں سوائے میرے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ کسی کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ’’مُرْسٰی‘‘ جہاز کے لنگر انداز ہونے کو کہا جاتا ہے ۔جیسے: سورۂ ہود ‘آیت۴۱ میں آیا ہے : {بِسۡمِ اللّٰہِ مَ‍‍جۡؔرٖىہَا وَ مُرۡسٰىہَا ؕ} کہ اس کشتی کا چلنا اور لنگر انداز ہونا اللہ کے نام یعنی اُس کے اذن سے ہے۔

لَا یُجَلِّیۡہَا لِوَقۡتِہَاۤ اِلَّا ہُوَ ؕۘؔ

’’وہی ظاہر کرے گا اسے اس کے وقت پر۔‘‘

ثَقُلَتۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ

’’وہ آسمانو ںاور زمین کے اندر بڑا بھاری بوجھ ہے۔‘‘

آسمان و زمین اس سے بوجھل ہیں۔ جیسے ایک مادہ اپنا حمل لیے پھرتی ہے ‘ اسی طرح یہ کائنات بھی قیامت کو یعنی اپنی فنا کو لیے لیے پھرتی ہے۔ ہر شے جو تخلیق کی گئی ہے اس کی ایک ’’اجل مسمیٰ‘‘ اس کے اندر موجود ہے۔ گویاہر مخلوق کی موت اس کے وجود کے اندر سمو دی گئی ہے۔چنانچہ ہر انسان اپنی موت کو اپنے ساتھ لیے پھر رہا ہے اور اسی طرح سے پوری کائنات بھی اپنی فنا کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔

لَا تَاۡتِیۡکُمۡ اِلَّا بَغۡتَۃً ؕ

’’وہ نہیں آئے گی تم پر مگر اچانک۔‘‘

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ کَاَنَّکَ حَفِیٌّ عَنۡہَا ؕ

’’(اے نبیﷺ!) آپ سے تو یہ اس طرح پوچھتے ہیں

گویا آپ اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘

آپ(ﷺ) سے تو یہ سوال وہ ایسے پوچھتے ہیں جیسے سمجھتے ہوں کہ آپ ہروقت قیامت کی تاریخ ہی کی تحقیق و جستجو میں لگے ہوئے ہیں۔ حالانکہ آپ کا اس سے کوئی سروکار نہیں‘ یہ تو ہمارا معاملہ ہے۔

قُلۡ اِنَّمَا عِلۡمُہَا عِنۡدَ اللّٰہِ وَ لٰکِنَّ اَکۡثَرَ النَّاسِ لَا یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۸۷﴾

’’آپ ؐکہہ دیجیے کہ اس کا علم تو بس اللہ ہی کے پاس ہے ‘ لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔‘‘

آیت 188

قُلۡ لَّاۤ اَمۡلِکُ لِنَفۡسِیۡ نَفۡعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰہُ ؕ

’’کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں ہے اپنی جان کے بارے میں بھی کسی نفع کا اور نہ کسی نقصان کا‘ سوائے اس کے جو اللہ چاہے۔‘‘

آپ(ﷺ) انہیں بتائیں کہ میرے پاس علم غیب نہیں ہے۔ جیسا کہ سورۃ الانعام کی آیت ۵۰میں فرمایا گیا کہ اے نبی ﷺ کہہ دیجیے کہ میں نہ تم سے یہ کہتا ہوں کہ اللہ کے خزانے میرے قبضۂ قدرت میں ہیں ‘ نہ میں علم غیب جانتا ہوں اور نہ میں یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔

وَ لَوۡ کُنۡتُ اَعۡلَمُ الۡغَیۡبَ لَاسۡتَکۡثَرۡتُ مِنَ الۡخَیۡرِۚۖۛ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوۡٓءُ ۚۛ

’’ اور اگر مجھے علمِ غیب حاصل ہوتا تو میں بہت سا خیر جمع کر لیتا‘اور مجھے کبھی کوئی تکلیف نہ آتی۔‘‘

اِنۡ اَنَا اِلَّا نَذِیۡرٌ وَّ بَشِیۡرٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿٪۱۸۸﴾

’’ نہیںہوں میں مگر بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا‘ اُن لوگوں کے لیے جو ایمان والے ہوں۔‘‘

189-190

انسانوں کی ناشکری

ویڈیو

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ ۚ فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّہُمَا لَئِنۡ اٰتَیۡتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۸۹﴾ فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا ۚ فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۹۰﴾

آیت 189

ہُوَ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ مِّنۡ نَّفۡسٍ وَّاحِدَۃٍ وَّ جَعَلَ مِنۡہَا زَوۡجَہَا لِیَسۡکُنَ اِلَیۡہَا ۚ

’’وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جا ن سے اور اُسی سے بنایا اُس کا جوڑا ‘ تا کہ وہ اُس کے پاس سکون حاصل کرے ۔‘‘

اس نکتے کی وضاحت سورۃ البقرۃ کی آیت۱۸۷ {وَ ابۡتَغُوۡا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَکُمۡ ۪} کے مطالعے کے دوران کی جا چکی ہے ۔ شوہر اور بیوی کے تعلقات میں جہاں اولاد کا معاملہ ہے وہاں باہمی تسکین اور سکون کا پہلو بھی ہے۔

فَلَمَّا تَغَشّٰہَا حَمَلَتۡ حَمۡلًا خَفِیۡفًا فَمَرَّتۡ بِہٖ ۚ

’’تو جب وہ (شوہر) ڈھانپ لیتا ہے اس (اپنی بیوی) کوتو اسے حمل ہو جاتا ہے ہلکا سا حمل‘ تو وہ اس کے ساتھ چلتی پھرتی رہتی ہے۔‘‘

ابتدا میں حمل اتنا خفیف ہوتا ہے کہ پتا بھی نہیں چلتا کہ کوئی حمل ٹھہر گیا ہے۔

فَلَمَّاۤ اَثۡقَلَتۡ دَّعَوَا اللّٰہَ رَبَّہُمَا لَئِنۡ اٰتَیۡتَنَا صَالِحًا لَّنَکُوۡنَنَّ مِنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۸۹﴾

’’پھر جب وہ بوجھل ہو جاتی ہے تو وہ دونوں اپنے رب کو پکارتے ہیں ‘ کہ اگر تو ہمیں صحیح سالم بچہ عطا کر دے گا توہم تیرے شکر گزاروں میں سے ہوں گے۔‘‘

آیت 190

فَلَمَّاۤ اٰتٰہُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَہٗ شُرَکَآءَ فِیۡمَاۤ اٰتٰہُمَا ۚ

’’پھر جب اللہ نے انہیں عطا کر دیا صحیح سالم بچہ ‘ تو ٹھہرا لیے انہوں نے اُس کے شریک اس میں جو اللہ نے ان کو عطا کیا تھا۔‘‘

کہ ہم فلاں بزرگ کے مزار پر گئے تھے ‘ ان کی نگاہِ کرم ہوئی ہے‘ یا فلا ں دیوی کی کرپا سے ہمیں اولاد مل گئی ہے۔

فَتَعٰلَی اللّٰہُ عَمَّا یُشۡرِکُوۡنَ ﴿۱۹۰﴾

’’اللہ بہت بلند و بالا ہے ان کے اس شرک سے۔‘‘

191-198

معبودان باطل کی لاچارگی

ویڈیو

اَیُشۡرِکُوۡنَ مَا لَا یَخۡلُقُ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿۫ۖ۱۹۱﴾ وَ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ لَہُمۡ نَصۡرًا وَّ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ ﴿۱۹۲﴾ وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَتَّبِعُوۡکُمۡ ؕ سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡہُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴿۱۹۳﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ فَادۡعُوۡہُمۡ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾ اَلَہُمۡ اَرۡجُلٌ یَّمۡشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اَیۡدٍ یَّبۡطِشُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ یُّبۡصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫ اَمۡ لَہُمۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ قُلِ ادۡعُوۡا شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ کِیۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۱۹۵﴾ اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰہُ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ ۫ۖ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ ﴿۱۹۷﴾ وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَسۡمَعُوۡا ؕ وَ تَرٰىہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۹۸﴾

آیت 191

اَیُشۡرِکُوۡنَ مَا لَا یَخۡلُقُ شَیۡئًا وَّ ہُمۡ یُخۡلَقُوۡنَ ﴿۫ۖ۱۹۱﴾

’’کیا وہ ان کو شریک کر رہے ہیں (اللہ کے ساتھ )جو کوئی شے تخلیق کرتے ہی نہیں بلکہ وہ خود مخلوق ہیں۔‘‘

فرشتے‘ جنات‘ انبیاء ؑاور اولیاء اللہ سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں۔

آیت 192

وَ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ لَہُمۡ نَصۡرًا وَّ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ ﴿۱۹۲﴾

’’اورنہ وہ اُن کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ وہ اپنی مدد پر قادر ہیں۔‘‘

وہ تو سب کے سب خود اللہ کے بندے ہیں ۔اب زیر مطالعہ آیات میں بات تدریجاً بتو ں کی طرف لائی جارہی ہے۔ نظریاتی طور پر تو بتوں کے پجاری فلسفی بت پرستی کا جواز یہ بتاتے ہیں کہ وہ ان پتھر کے بتوں کی پوجا نہیں کرتے بلکہ ان مورتیوں کو وہ علامت مانتے ہیں ۔اور یہ کہ اصل دیوتا اور دیویاں چونکہ ان کے سامنے موجود نہیں ہیں اس لیے ان کے بارے میں توجہ کے ارتکاز کے لیے وہ بتوں کو علامت کے طورپر استعمال کرتے ہیں ۔ یہ اس فلسفہ کا خلاصہ ہے جو انڈیا کے ڈاکٹر رادھا کرشنن وغیرہ بیان کرتے رہے ہیں ‘مگر ان کے عوام تو ان بتوں ہی کو معبود مانتے ہیں‘ بتوںہی کی پوجا کرتے ہیں‘ انہی کے آگے جھکتے ہیں‘ انہی کو نذرانے دیتے ہیں اور انہی سے اپنی حاجات مانگتے ہیں۔

آیت 193

وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَتَّبِعُوۡکُمۡ ؕ

’’اور اگر تم انہیں پکارو راہنمائی کے لیے (کہ تمہیں راستہ دکھا دیں) تو وہ تمہاری طرف توجہ ہی نہیں کر سکیں گے۔‘‘

سَوَآءٌ عَلَیۡکُمۡ اَدَعَوۡتُمُوۡہُمۡ اَمۡ اَنۡتُمۡ صَامِتُوۡنَ ﴿۱۹۳﴾

’’ برابر ہے تمہارے لیے کہ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو۔‘‘

آیت 194

اِنَّ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ عِبَادٌ اَمۡثَالُکُمۡ

’’یقینا جنہیں تم پکارتے ہو اللہ کے ماسوا وہ بھی تمہاری طرح کے بندے ہیں‘‘ وہ فرشتے ہوں یا جنات‘ دیوی دیوتا ہوں یا اولیاء اللہ ‘ سب تمہاری طرح اللہ ہی کے بندے ہیں ۔

فَادۡعُوۡہُمۡ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لَکُمۡ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۱۹۴﴾

’’ان کو پکار دیکھو‘ پھر وہ تمہیں جواب دیں اگرتم سچے ہو۔‘‘

اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ وہ لائق پرستش ہیں اور کچھ اختیار بھی رکھتے ہیں تو تمہاری پکار یا دعا پر ان کی طرف سے کچھ نہ کچھ جواب تو ضرور ملنا چاہیے۔ سورۂ یونس میں تو ان لوگوں کے خود ساختہ معبودوں کا یہ مکالمہ بھی نقل کیا گیا ہے : {اِنۡ کُنَّا عَنۡ عِبَادَتِکُمۡ لَغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۹﴾} یعنی قیامت کے دن وہ ان سے صاف کہہ دیں گے کہ ہم تمہارے مشرکانہ عقائد سے غافل تھے‘ ہم نہیں جانتے تھے کہ تم لوگ ہمیں پکارتے رہے ہو‘ ہماری دہائیاں دیتے رہے ہو‘ اور ’’یا شیخ عبدالقادر جیلانی شیئًا لِلّٰہ‘‘ جیسے مشرکانہ کلمات کے ورد کرتے رہے ہو ---- اب اگلی آیت میں خاص طور پر بتوں کا ذکر ہے۔

آیت 195

اَلَہُمۡ اَرۡجُلٌ یَّمۡشُوۡنَ بِہَاۤ ۫

’’کیا ان کے پائوں ہیں جن سے یہ چلتے ہوں؟‘‘

تم نے ان کے پاؤ ں اگر بنا بھی دیے ہیں تو کیاوہ ان کی مدد سے ایک قدم چلنے کی سکت بھی رکھتے ہیں؟

اَمۡ لَہُمۡ اَیۡدٍ یَّبۡطِشُوۡنَ بِہَاۤ ۫

’’یا ان کے ہاتھ ہیں جن سے یہ پکڑتے ہوں؟‘‘

اَمۡ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ یُّبۡصِرُوۡنَ بِہَاۤ ۫

’’یا ان کی آنکھیں ہیں جن سے یہ دیکھتے ہوں؟‘‘

اَمۡ لَہُمۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ

’’یا ان کے کان ہیں جن سے یہ سنتے ہوں؟‘‘

قُلِ ادۡعُوۡا شُرَکَآءَکُمۡ ثُمَّ کِیۡدُوۡنِ فَلَا تُنۡظِرُوۡنِ ﴿۱۹۵﴾

’’(اے نبیﷺ!) آپ کہہ دیجیے کہ پکار لو اپنے سب شریکوں کو ‘پھر میرے خلاف چالیں چلو (جو چل سکتے ہو)اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔‘‘

قولِ فیصل کے طور پر رسول اللہﷺ سے ڈنکے کی چوٹ یہ اعلان کرایا جا رہا ہے کہ میں تم سے کوئی درخواست نہیں کرتا کہ میرے ساتھ نرمی کرو یا مجھے مہلت دو۔ تم اپنے تمام معبودوں کو بلا لو اور میرے خلاف جو بھی اقدام کر سکتے ہو کرگزرو۔اسی طرح کا دو ٹوک اعلان حضرت ابراہیم علیہ السلام سے بھی کرایا گیا تھا: {اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشۡرِکُوۡنَ ﴿۷۸﴾} (الانعام)۔

آیت 196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰہُ الَّذِیۡ نَزَّلَ الۡکِتٰبَ ۫ۖ وَ ہُوَ یَتَوَلَّی الصّٰلِحِیۡنَ ﴿۱۹۶﴾

’’یقینا میرا مدد گار تو وہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ‘ اور صالح بندوں کا وہی پشت پناہ ہے۔‘‘

آیت 197

وَ الَّذِیۡنَ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِہٖ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡفُسَہُمۡ یَنۡصُرُوۡنَ ﴿۱۹۷﴾

’’اور جنہیں تم پکار رہے ہو اُس (اللہ )کو چھوڑ کروہ تمہاری مدد کی استطاعت ہی نہیں رکھتے ‘اور نہ وہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں۔‘‘

آیت 198

وَ اِنۡ تَدۡعُوۡہُمۡ اِلَی الۡہُدٰی لَا یَسۡمَعُوۡا ؕ

’’اور اگر تم انہیں راہنمائی کے لیے پکارو تو وہ سن نہ سکیں گے۔‘‘

وَ تَرٰىہُمۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَیۡکَ وَ ہُمۡ لَا یُبۡصِرُوۡنَ ﴿۱۹۸﴾

’’اور تمہیں ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں جب کہ وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔‘‘

199-202

عفو و درگزر کی تلقین

ویڈیو

خُذِ الۡعَفۡوَ وَ اۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾ وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۰۰﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ ﴿ۚ۲۰۱﴾ وَ اِخۡوَانُہُمۡ یَمُدُّوۡنَہُمۡ فِی الۡغَیِّ ثُمَّ لَا یُقۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۲﴾

آیت 199

خُذِ الۡعَفۡوَ وَ اۡمُرۡ بِالۡعُرۡفِ

’’(اے نبیﷺ!) آپ درگزر کو تھام لیجیے اور بھلی بات کا حکم دیتے رہیے‘‘

مکی سورتوں کے آخر میں اکثر حضورﷺ سے اسی انداز میں خطاب ہوتا ہے کہ آپؐ ان لوگوں سے بہت زیادہ بحث مباحثہ میں نہ پڑیں‘ ان کے رویے سے درگزر کریں اور اپنی دعوت جاری رکھیں۔

وَ اَعۡرِضۡ عَنِ الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۱۹۹﴾

’’اور جاہلوں سے اعراض کریں۔‘‘

یہ جاہل لوگ آپؐ سے الجھنا چاہیں تو آپؐ ان سے کنارہ کشی کر لیں۔جیسا کہ سورۃ الفرقان میں فرمایا :{وَّ اِذَا خَاطَبَہُمُ الۡجٰہِلُوۡنَ قَالُوۡا سَلٰمًا ﴿۶۳﴾} ’’اورجب جاہل لوگ ان (رحمن کے بندوں )سے الجھنا چاہتے ہیں تو وہ ان کو سلام کہتے (ہوئے گزر جاتے) ہیں‘‘ ۔ سورۃ القصص کی اس آیت میں بھی اہل ایمان کایہی طریقہ بیان کیا گیا ہے:{سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۫ لَا نَبۡتَغِی الۡجٰہِلِیۡنَ ﴿۵۵﴾}’’ تمہیں سلام ہو‘ ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگنا چاہتے‘‘ ۔ آیت زیرنظر میں ایک داعی کے لیے تین بڑی اہم باتیں بتائی گئی ہیں: عفوو درگزر سے کام لینا‘ نیکی اور بھلائی کی بات کا حکم دیتے رہنا‘ اور جاہل یعنی جذباتی اور مشتعل مزاج لوگوں سے اعراض کرنا۔

آیت 200

وَ اِمَّا یَنۡزَغَنَّکَ مِنَ الشَّیۡطٰنِ نَزۡغٌ فَاسۡتَعِذۡ بِاللّٰہِ ؕ اِنَّہٗ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۲۰۰﴾

’’اور اگر کبھی آپ کو کوئی چوک لگ ہی جائے شیطان کی طر ف سے تو اللہ کی پناہ طلب کریں‘یقینا وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔‘‘

نزع اور نزغ ملتے جلتے حروف والے دو مادے ہیں‘ ان میں صرف ’’ع‘‘ اور’’غ‘‘ کا فرق ہے۔ نزع کھینچنے کے معنی دیتا ہے جبکہ نزغ کے معنی ہیں کچوکا لگانا‘ اکسانا‘ وسوسہ اندازی کرنا۔ یعنی اگر بر بنائے طبع بشری کبھی جذبات میں اشتعال اور غصہ آہی جائے تو فوراً بھانپ لیں کہ یہ شیطان کی جانب سے ایک چوک ہے‘ چنانچہ ایسی صورت میں فوراً اللہ سے پناہ مانگیں۔ جیسا کہ غزوۂ اُحد میں حضورﷺ کو غصہ آ گیا تھا اور آپؐ کی زبان مبارک سے یہ الفاظ نکل گئے تھے : حدیث((کَیْفَ یُفْلِحُ قَـوْمٌ خَضَبُوْا وَجْہَ نَبِیِّھِمْ بِالدَّمِ وَھُوَ یَدْعُوْھُمْ اِلَی اللّٰہِ))۱۲’’یہ قوم کیسے فلاح پائے گی جس نے اپنے نبی کے چہرے کو خون سے رنگ دیا جبکہ وہ انہیں اللہ کی طرف بلا رہا تھا!‘‘

یہ آیت آگے چل کرسورۂ حٰم السجدۃ میں ایک لفظ (ہُوَ) کے اضافے کے ساتھ دوبارہ آئے گی:{اِنَّہٗ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۳۶﴾} کہ یقینا وہی ہے سب کچھ سننے والا اور سب کچھ جاننے والا۔

(۱۲) سنن ابن ماجہ‘ کتاب الفتن‘ باب الصبر علی البلائ۔ ومسند احمد:۱۲۷۲۵۔یہ حدیث صحیح مسلم اور سنن الترمذی میں بھی قدرے مختلف الفاظ کے ساتھ وارد ہوئی ہے۔

آیت 201

اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمۡ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا

’’جن لوگوں کے اندر تقویٰ ہے ان کو جب کوئی برا خیال چھو جاتا ہے شیطان کے اثر سے تو وہ چوکنے ہو جاتے ہیں‘‘

یعنی متقی لوگ ہر گھڑی اپنے فکر و عمل کا احتساب کرتے رہتے ہیں اور اگر کبھی عارضی طو رپر غفلت یا شیطانی وسوسوں سے کوئی منفی اثرات دل و دماغ میں ظاہر ہوں تو وہ فوراً سنبھل کراللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں ۔ جیسے خود نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حدیث((اِنَّـہٗ لَیُغَانُ عَلٰی قَلْبِیْ وَاِنِّیْ لَاَسْتَغْفِرُ اللّٰہَ فِی الْیَوْمِ مِائَۃَ مَرَّۃٍ))۱۳’’ میرے دل پر بھی کبھی کبھی حجاب سا آ جاتا ہے اور میں روزانہ سو سو مرتبہ اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں‘‘۔ واضح رہے کہ یہاں صرف بات کی وضاحت کے لیے اس حدیث کا ذکر کیا گیا ہے ‘ورنہ جس حجاب کا ذکر حضورﷺ نے فرمایا ہے ہم نہ تو اس کی نوعیت کا اندازہ کر سکتے ہیں اور نہ ہی اس کی مشابہت ہماری کسی بھی قسم کی قلبی کیفیات کے ساتھ ہوسکتی ہے۔ ہم نہ تو حضورﷺ کے تعلق مع اللہ کی کیفیت کا تصور کر سکتے ہیں اور نہ ہی مذکورہ حجاب کی نوعیت کا۔ ظاہر ہے یہ حجاب بھی اُس حضوری کے درجے میں ہو گا جو ہماری لاکھوں حضوریوں سے بڑھ کر ہے۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ تعلق مع اللہ کی شدت (intensity) میں کبھی ذرا سی بھی کمی آ گئی تو حضورﷺ نے اسے حجاب سے تعبیر فرمایا۔

فَاِذَا ہُمۡ مُّبۡصِرُوۡنَ ﴿ۚ۲۰۱﴾

’’اوردفعۃً ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔‘‘

جب وہ چوکنے ہو جاتے ہیں تو ان کی وقتی غفلت دو ر ہو جاتی ہے‘ عارضی منفی اثرات کا بوجھ ختم ہو جاتا ہے اور حقائق پھر سے واضح نظر آنے لگتے ہیں۔

(۱۳) صحیح مسلم‘ کتاب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار‘ باب استحباب الاستغفار والاستکثار منہ۔ وسنن ابی داوٗد‘ کتاب الصلاۃ‘ باب فی الاستغفار۔

آیت 202

وَ اِخۡوَانُہُمۡ یَمُدُّوۡنَہُمۡ فِی الۡغَیِّ ثُمَّ لَا یُقۡصِرُوۡنَ ﴿۲۰۲﴾

’’ اور جو اُن (شیطانوں) کے بھائی ہیں انہیں وہ گھسیٹ کر لے جاتے ہیں دور تک گمراہی میں‘ پھر وہ کچھ کمی نہیں کرتے۔‘‘

ظاہر ہے جو شخص شیطان کا دوست بنے گا اُس پر شیطان اپنا حکم تو چلائے گا ۔ چنانچہ شیاطین اپنے بھائی بندوں کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے دور تک لے جاتے ہیں اور انہیں گمراہی کی آخری حد تک پہنچا کر رہتے ہیں۔ جیسے بلعم بن باعوراء کو شیطان نے اپناشکار بنایااور اسے گمراہی کی آخری حد تک پہنچا کر دم لیا۔لیکن جو اللہ کے مخلص اور متقی بندے ہیں ان پر شیطان کا اختیار نہیں چلتا۔ ان کی کیفیت اس سے پچھلی آیت میں یوں بیان ہوئی ہے کہ جونہی منفی اثرات کا کوئی سایہ ان کو اپنی طرف بڑھتا ہوا محسوس ہوتا ہے وہ یکدم چونک کر اللہ کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔

203

معجزات کی طلبی اور اللہ کا جواب

ویڈیو

وَ اِذَا لَمۡ تَاۡتِہِمۡ بِاٰیَۃٍ قَالُوۡا لَوۡ لَا اجۡتَبَیۡتَہَا ؕ قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ مِنۡ رَّبِّیۡ ۚ ہٰذَا بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾

تمہید

اس آخری رکوع میں ان دونوں سورتو ں کے مضامین کے عمود کا خلاصہ بیان کیا جا رہا ہے ۔ جس زمانے میں یہ دو سورتیں نازل ہوئیں اُس وقت کفارِ مکہ کی طرف سے یہ مطالبہ تکرار کے ساتھ کیا جارہا تھا کہ کوئی نشانی لاؤ‘ کوئی معجزہ دکھاؤ۔ یعنی جس طرح کے حسی معجزات حضرت عیسیٰ اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کو ملے تھے ‘ اسی نوعیت کے معجزات اہل مکہ حضورﷺ کے ہاتھوںبھی دیکھنا چاہتے تھے اور اس کے لیے وہ بار بار مطالبہ کر رہے تھے۔ ان دونوں سورتوں میں ان لوگوں کے اس مطالبے اور اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ذکر متعدد مقامات پر آیا ہے۔اب اس سلسلے میں آخری بات ہو رہی ہے۔

آیت 203

وَ اِذَا لَمۡ تَاۡتِہِمۡ بِاٰیَۃٍ قَالُوۡا لَوۡ لَا اجۡتَبَیۡتَہَا ؕ

’’(اے نبیﷺ!) جب آپ ان کے پاس کوئی معجزہ نہیں لاتے تو یہ کہتے ہیں کہ آپ کیوں نہ اسے چن کر لے آئے؟‘‘

کفارِ مکہ کا کہنا تھا کہ جب آپ(ﷺ )کا دعویٰ ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں‘ تو آپ کے لیے معجزہ دکھانا کون سا مشکل کام ہے؟ آپ ہمارے اطمینان کے لیے کوئی معجزہ چھانٹ کر لے آئیں! اس سلسلے میں تفسیر کبیر میں امام رازیؒ نے ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ نبی اکرمﷺ کا ایک پھوپھی زاد بھائی تھا‘ جو اگرچہ ایمان تو نہیں لایا تھا مگر اکثر آپﷺ کے ساتھ رہتا اورآپﷺ سے تعاون بھی کرتا تھا۔ اس کے اس طرح کےرویے سے امید تھی کہ ایک دن وہ ایمان بھی لے آئے گا۔ایک دفعہ کسی محفل میں سردارانِ قریش نے معجزات کے بارے میں آپﷺ سے بہت بحث و تکرار کی کہ آپ نبی ہیں تو ابھی معجزہ دکھائیں ‘ یہ نہیں تو وہ دکھا دیں‘ ایسے نہیں تو ویسے کر کے دکھا دیں!(اس کی تفصیل سورۂ بنی اسرائیل رکوع۱۰ میں آئی ہے ) مگر آپﷺ نے ان کی ہر بات پر یہی فرمایا کہ معجزہ دکھانا میرے اختیار میں نہیں ہے‘ یہ تو اللہ کا فیصلہ ہے‘ جب اللہ تعالیٰ چاہے گا دکھا دے گا۔ اس پر انہوں نے گویااپنے زعم میں میدان مار لیا اور آپﷺ پر آخری حجت قائم کر دی۔ چنانچہ جب حضورﷺ وہاں سے اٹھے تو ان کی اس محفل میں شور مچ گیا۔ ان لوگوں نے کیا کیا اور کس کس انداز میں باتیں نہیں کی ہوں گی اور اس کے عوام پر کیا اثرات ہوئے ہوں گے۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپﷺ کے اُس پھوپھی زاد بھائی نے کہا کہ آج تو گویا آپ ؐکی قوم نے آپ ؐپر حجت قائم کر دی ہے‘ اب میں آپ ؐکا ساتھ نہیں دے سکتا۔

اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ مشرکین مکہ کے مذکورہ مطالبے پر اصرار کی وجہ سے حضورﷺ کو کس قدر مشکل حالات اور پریشانی کا سامنا تھا۔ اس صورت حال کی سنگینی کی نشاندہی سورۃ الانعام کی آیت۳۵ کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے: {وَ اِنۡ کَانَ کَبُرَ عَلَیۡکَ اِعۡرَاضُہُمۡ فَاِنِ اسۡتَطَعۡتَ اَنۡ تَبۡتَغِیَ نَفَقًا فِی الۡاَرۡضِ اَوۡ سُلَّمًا فِی السَّمَآءِ فَتَاۡتِیَہُمۡ بِاٰیَۃٍ ؕ } ’’اور(اے نبیﷺ!) اگر آپ پر بہت شاق گزر رہا ہے ان کا اعراض تو اگر آپ میں طاقت ہے تو زمین میں کوئی سرنگ بنا لیجیے یا آسمان پر سیڑھی لگا لیجیے اور ان کے لیے کہیں سے کوئی نشانی لے آیئے!‘‘ (ہم تو انہیں اس نوعیت کا کوئی معجزہ نہیں دکھانا چاہتے!) یہ پس منظر ہے ان حالات کا جس میں فرمایا جا رہا ہے کہ معجزات کے مطالبات میں آپﷺ ان کو بتائیں کہ معجزہ دکھانے یا نہ دکھانے کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے ‘مجھے اس کا اختیار نہیں ہے۔

قُلۡ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ مِنۡ رَّبِّیۡ ۚ

’’کہہ دیجیے کہ میں توصرف پیروی کررہا ہوں اُس کی جو میری طرف وحی کی جا رہی ہے میرے ربّ کی طرف سے۔‘‘

ہٰذَا بَصَآئِرُ مِنۡ رَّبِّکُمۡ وَ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۰۳﴾

’’یہ تمہارے ربّ کی طرف سے بصیرت افروز باتیں ہیں‘ اور یہ ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے حق میں جو ایمان لے آئیں۔‘‘

یعنی میں آپ لوگوں کے سامنے جو پیش کر رہا ہوں ‘ یہ وہی کچھ ہے جو اللہ نے مجھ پر وحی کیا ہے اور میں خود بھی اسی کی پیروی کر رہا ہوں۔ اس سے بڑھ کر میں نے کبھی کوئی دعویٰ کیا ہی نہیں۔

204

سماعت قرآن کے آداب

ویڈیو

وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾

آیت 204

وَ اِذَا قُرِیَٔ الۡقُرۡاٰنُ فَاسۡتَمِعُوۡا لَہٗ وَ اَنۡصِتُوۡا لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ ﴿۲۰۴﴾

’’اور جب قرآن پڑھا جار ہا ہو تو اسے پوری توجہ کے ساتھ سنا کرو اور خاموش رہا کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ ‘‘

سَمِعَ ‘ یَسْمَعُ کے معنی ہیں سننا ‘جبکہ اِسْتِمَاع کے معنی ہیں پوری توجہ کے ساتھ کان لگا کر سننا۔ جو حضرات جہری نمازوں میں امام کے پیچھے قراء ت نہ کرنے کے قائل ہیں وہ اسی آیت کو بطور دلیل پیش کر تے ہیں‘ کیونکہ اس آیت کی رو سے تلاوتِ قرآن کو پوری طرح ارتکازِ توجہ کے ساتھ سننا فرض ہے اور ساتھ ہی خاموش

رہنے کا حکم بھی ہے۔ جبکہ نماز کے دوران خود تلاوت کرنے کی صورت میں سننے کی طرف توجہ نہیں رہے گی اور خاموش رہنے کے حکم پر بھی عمل نہیں ہو گا ۔

205-206

اللہ کے ذکر کے آداب

ویڈیو

وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَ لَہٗ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿٪ٛ۲۰۶﴾

آیت 205

وَ اذۡکُرۡ رَّبَّکَ فِیۡ نَفۡسِکَ تَضَرُّعًا وَّ خِیۡفَۃً

’’اور اپنے رب کو یاد کرتے رہا کرو اپنے جی ہی جی میں‘عاجزی اور خوف کے ساتھ‘‘

اس عاجزی کی انتہااور عبدیتِ کاملہ کامظہر تو وہ دعائے ماثور ہے جو میرے کتابچے ’’مسلمانوں پر قرآن مجید کے حقوق‘‘ کے آخر میں درج ہے۔ ان دوآیات کے مضمون (قرآن کی عظمت اور دعا میں عاجزی) کے خصوصی حوالے سے اس دعا کے مندرجہ ذیل الفاظ کو پڑھئے اور ان کے مفہوم کو اپنے قلب کی گہرائیوں میں اتارنے کی کوشش کیجیے:

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ عَبْدُکَ

’’ اے اللہ میں تیرا بندہ ہوں!‘‘

وَابْنُ عَبْدِکَ وَابْنُ اَمَتِکَ

’’ تیرے ایک نا چیز غلام اور ادنیٰ کنیز کا بیٹا ہوں!‘‘

وَفِیْ قَبْضَتِکَ ‘ نَا صِیَتِیْ بِیَدِکَ

’’ اورمجھ پر تیرا ہی کامل اختیار ہے ‘میری پیشانی تیرے ہی ہاتھ ہے۔‘‘

مَاضٍ فِیَّ حُکْمُکَ ‘ عَدْلٌ فِیَّ قَضَائُ کَ

’’نافذ ہے میرے بارے میں تیرا ہر حکم ‘اور عدل ہے میرے بارے میں تیرا ہر فیصلہ۔‘‘

اَسْئَلُکَ بِکُلِّ اسْمٍ ھُوَ لَکَ‘ سَمَّیْتَ بہٖ نَفْسَکَ

’’میں تجھ سے درخواست کرتا ہوںتیرے ہر اُس اسم کے واسطے سے جس سے تو نے اپنی ذاتِ مقدس کو موسوم فرمایا‘‘

اَوْ اَنْزَلْتَہٗ فِیْ کِتَابِکَ

’’ یااپنی کسی کتاب میں نازل فرمایا‘‘

اَوْ عَلَّمْتَہٗ اَحَدً ا مِنْ خَلْقِکَ

’’ یا اپنی مخلوق میں سے کسی کو تلقین فرما یا‘‘

اَوِاسْتَأثَرْتَ بہٖ فِیْ مَکْنُوْنِ الْغَیْبِ عِنْدَکَ

’’یا اسے اپنے مخصوص خزانہ غیب ہی میں محفوظ رکھا‘‘ اَنْ تَجْعَلَ الْقُرْاٰنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ ، وَنُـوْرَ صَدْرِیْ، وَجِلَا ئَ حُزْنِیْ، وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ وَ غَمِّیْ ۱۴ ’’کہ تو بنا دے قرآن مجید کو میرے دل کی بہار اور میرے سینے کا نور اور میرے رنج و حزن کی جلا اور میرے تفکرات اور غموں کے ازالے کا سبب !‘‘

آمِیْن یَا رَبَّ الْعَالَمِیْنَ!

’’ ایسا ہی ہو‘ اے تمام جہانوں کے پروردگار!‘‘

وَّ دُوۡنَ الۡجَہۡرِ مِنَ الۡقَوۡلِ

’’اور بلند آواز سے نہیں (پست آواز سے)‘‘

اس حوالے سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب آدمی دُعا مانگے تو اس طرح مانگے کہ وہ اپنی آواز کو خود سن سکے تاکہ اس کی سماعت بھی اس سے استفادہ کرے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہو تو قراء ت ایسے کرے کہ خود سن سکے‘اگرچہ سری نماز ہی کیوں نہ ہو۔

بِالۡغُدُوِّ وَ الۡاٰصَالِ

’’(اور اس طرح آپ اپنے رب کا ذکر کرتے رہیں )صبح کے وقت بھی اور شام کے اوقات میں بھی‘‘

جیسے سورۃ الانعام کی پہلی آیت کی تشریح کے ضمن میں ذکر آیا تھا کہ لفظ نُور قرآن میں ہمیشہ واحد جبکہ ظُلُمات ہمیشہ جمع آتا ہے‘ اسی طرح لفظ غُدُوّ (صبح) بھی ہمیشہ واحد اور آصال(شام)ہمیشہ جمع آتا ہے۔ یہ اَصِیل کی جمع ہے۔ اس میں اشارہ ہے کہ صبح کی نماز تو ایک ہی ہے ‘یعنی فجر‘ جبکہ سورج ذرا مغرب کی طرف ڈھلناشروع ہوتا ہے تو رات تک پے در پے نمازیں پڑھی جاتی رہتی ہیں‘ یعنی ظہر‘ عصر‘ مغرب اور عشاء۔ سورۂ بنی اسرائیل کی آیت ۷۸کے الفاظ {اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِدُلُوۡکِ الشَّمۡسِ اِلٰی غَسَقِ الَّیۡلِ} بھی اسی مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

وَ لَا تَکُنۡ مِّنَ الۡغٰفِلِیۡنَ ﴿۲۰۵﴾

’’اور غافلوں میں سے نہ ہو جائیے۔‘‘

(۱۴) رواہ احمد ورزین ۔ مشکاۃ المصابیح‘ کتاب الدعوات‘ باب الدعوات فی الاوقات‘ الفصل الثالث ۔ عن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔

آیت 206

اِنَّ الَّذِیۡنَ عِنۡدَ رَبِّکَ

’’بے شک وہ جو آپ کے ربّ کے پاس ہیں‘‘

یعنی ملأ اعلیٰ میں ملائکہ مقربین کی محفل ‘ جس کا نقشہ امیر خسروؒ ؔنے اپنے اس خوبصورت شعر میں اس طرح بیان کیا ہے :

خدا خود میر محفل بود اندر لامکاں خسروؔ

محمدؐ شمعِ محفل بود شب جائے کہ من بودم!

یعنی لامکاں کی وہ محفل جس کا میر محفل خوداللہ تعالیٰ ہے اور جہاںشرکائے محفل ملائکہ مقربین ہیں اور محمدرسول اللہﷺ (روحِ محمدیؐ)کو اس محفل میں گویا چراغ اور شمع کی حیثیت حاصل ہے ۔ امیر خسرو کہتے ہیں کہ کل رات مجھے بھی اس محفل میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔

لَا یَسۡتَکۡبِرُوۡنَ عَنۡ عِبَادَتِہٖ وَ یُسَبِّحُوۡنَہٗ وَ لَہٗ یَسۡجُدُوۡنَ ﴿٪ٛ۲۰۶﴾

’’وہ اُس کی عبادت سے استکبار نہیں کرتے‘ اور اُس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں‘ اور اُس کے لیے سجدے کرتے رہتے ہیں۔‘‘

بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ، ونفعنی وایاکم بالآیات والذکر الحکیمoo

یوٹیوب پر دیکھیے