وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ
’’اور (یاد کرو) جب آپؐ کے ربّ نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ لازماً مسلط کرتا رہے گا ان پر قیامت کے دن تک ایسے لوگوں کو جو انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کرتے رہیں گے۔‘‘
اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۷﴾
’’ یقینا آپؐ کا رب سزا دینے میں بہت جلدی کرتا ہے ‘اور یقینا وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ۔‘‘
اللہ تعالیٰ کی ایک شان تو یہ ہے کہ وہ عَزِیْـزٌ ذُوانْتِقَام اور سَرِیْعُ الْعِقَاب ہے اور اُس کی دوسری شان یہ ہے کہ وہ غَفُوْرٌ رَّحِیْم ہے ۔ اب اس کا دار و مدار انسانوں کے طرزِ عمل پر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس کی کس شان کا مستحق بناتے ہیں۔ اس آیت میں یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے جس قانون اور فیصلے کا ذکر ہو رہا ہے وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کی صورت میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔