تحریر

الأعراف

آیات ۱۶۷ تا ۱۷۱

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

167-168

بنی اسرائیل پر قیامت تک عذاب کے کوڑے برستے رہیں گے

ویڈیو

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۷﴾ وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫ وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾

آیت 167

وَ اِذۡ تَاَذَّنَ رَبُّکَ لَیَبۡعَثَنَّ عَلَیۡہِمۡ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ

’’اور (یاد کرو) جب آپؐ کے ربّ نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ لازماً مسلط کرتا رہے گا ان پر قیامت کے دن تک ایسے لوگوں کو جو انہیں بدترین عذاب میں مبتلا کرتے رہیں گے۔‘‘

اِنَّ رَبَّکَ لَسَرِیۡعُ الۡعِقَابِ ۚۖ وَ اِنَّہٗ لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۶۷﴾

’’ یقینا آپؐ کا رب سزا دینے میں بہت جلدی کرتا ہے ‘اور یقینا وہ غفور بھی ہے اور رحیم بھی ۔‘‘

اللہ تعالیٰ کی ایک شان تو یہ ہے کہ وہ عَزِیْـزٌ ذُوانْتِقَام اور سَرِیْعُ الْعِقَاب ہے اور اُس کی دوسری شان یہ ہے کہ وہ غَفُوْرٌ رَّحِیْم ہے ۔ اب اس کا دار و مدار انسانوں کے طرزِ عمل پر ہے کہ وہ اپنے آپ کو اُس کی کس شان کا مستحق بناتے ہیں۔ اس آیت میں یہود کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے جس قانون اور فیصلے کا ذکر ہو رہا ہے وہ بنی اسرائیل کی پوری تاریخ کی صورت میں ہماری نگاہوں کے سامنے ہے۔

آیت 168

وَ قَطَّعۡنٰہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ اُمَمًا ۚ

’’اور ہم نے انہیں زمین کے اندر منتشر کر دیا فرقوں کی صورت میں۔‘‘

بنی اسرائیل کایہ دورِ انتشار (Diaspora) ۷۰ عیسوی میں اُس وقت شروع ہوا جب رومن جنرل ٹائٹس نے یروشلم پر حملہ کر کے ان کے معبد ثانی (Second Temple) کو شہید کر دیا (یہ معبد حضرت عزیر علیہ السلام کے زمانے میں دوبارہ تعمیر ہوا تھا) ۔اس دوران ٹائٹس کے حکم سے یروشلم میں ایک لاکھ تینتیس ہزار یہودیوں کو ایک دن میں قتل کیا گیااور بچ جانے والوں کو فلسطین سے نکال باہر کیاگیا۔ یہاں سے ملک بدر ہونے کے بعد یہ لوگ مصر ‘ ہندوستان‘ روس اور یورپ کے مختلف علاقوں میں جا بسے۔ پھر جب امریکہ دریافت ہوا تو بہت سے یہودی خاندان وہاں جا کر آباد ہو گئے۔اس آیت میں ان کے اسی ’’انتشار ‘‘کی طرف اشارہ ہے کہ پوری دنیا میں انہیں منتشر کر دیا گیا اور اس طرح ان کی اجتماعیت ختم ہو کر رہ گئی۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ جہاں کہیں بھی گئے وہاں ان سے شدید نفرت کی جاتی رہی‘ جس کے باعث ان پر یورپ میں بہت ظلم ہوئے۔ عیسائیوں کی ان سے نفرت اور شدید دشمنی کا ذکر قرآن میں بھی ہے: {فَاَغۡرَیۡنَا بَیۡنَہُمُ الۡعَدَاوَۃَ وَ الۡبَغۡضَآءَ اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ؕ } ( المائدۃ :۱۴) ’’پس ہم نے ان کے درمیان عداوت اور بغض قیامت تک کے لیے ڈال دیا‘‘۔یہ دشمنی یہودیوں کے اُن گستاخانہ عقائد کی وجہ سے تھی جو وہ حضرت مسیح اور حضرت مریم علیہما السلام کے بارے میں رکھتے تھے۔

اس کے بعد جنگ عظیم دوم میں ہٹلر کے ہاتھوں تو یہودیوں پر ظلم کی انتہاہو گئی۔ اس کے حکم پر پورے مشرقی یورپ سے یہودیوں کو اکٹھا کر کے concentration camps میں جمع کیا گیا اور اِن کے اجتماعی قتل کی باقاعدہ منصوبہ بندی کی گئی ‘ جس کے تحت لاکھوں لاشوں کو ٹھکانے لگانے کے لیے جدید آٹو میٹک پلانٹ نصب کیے گئے۔ چنانچہ مردوں‘عورتوں اوربچوں کو اجتماعی طور پر ایک بڑے ہال میں جمع کیا جاتا‘ وہاں ا ن کے کپڑے اتروائے جاتے اور بال مونڈدیے جاتے (بعد میں ان بالوں سے قالین تیار کیے گئے جو نازی عہدیدار بڑے فخر سے اپنے دفتروں میں بچھاتے تھے ) ‘ اور پھر وہاں سے انہیں بڑے بڑے گیس چیمبر زمیں داخل کر دیا جاتا۔ مشینوں کے ذریعے سے لاشوں کا چورا کیا جاتا اور ایک خاص قسم کے کیمیکلزکی مدد سے انسانی گوشت کو سیاہ رنگ کے سیال مادے میں تبدیل کر کے کھیتوں میں بطورِ کھاد استعمال کرنے کے لیے سپلائی کیا جاتا۔ یہ سب کچھ بیسویں صدی میں آج کے اس مہذب دور میں ہوا۔اس طریقے سے ہٹلر کے ہاتھوں ساٹھ لاکھ یہودی قتل ہوئے۔ یہودیوں کے اس قتل عام کو ’’Holocaust‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ساٹھ لاکھ کی تعداد مبالغے پر مبنی ہے‘ اصل تعداد چالیس لاکھ تھی۔ تو اندازہ کریں چالیس لاکھ کی تعداد میں ایک نسل کے انسانوں کا قتل عام اس قوم کے لیے کتنا دردناک عذاب ہے! ان کی تاریخ کے اب تک کے یہ حالات و واقعات گزشتہ آیت کے الفاظ {مَنۡ یَّسُوۡمُہُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ ؕ} کی گویا عملی تفسیر ہیں۔ اس سلسلے میں قیامت تک مزید کیا کچھ ہونے والا ہے اس کی خبر ابھی پردۂ غیب میں ہے۔

بہر حال یہودیوں کا آخری وقت بہت جلد آنے والا ہے‘ مگر جیسے چراغ کا شعلہ بجھنے سے پہلے بھڑکتا ہے ‘ بالکل اسی انداز سے آج کل ہمیں ان کی حکومت اور طاقت نظر آ رہی ہے ۔اور شاید یہ سب کچھ اس لیے بھی ہو رہا ہے کہ عربوں (جو حضور اکرمﷺ کے مخاطب اول اور وارثِ اوّل ہونے کے باوجود دین سے پیٹھ پھیرنے کے جرم کے مرتکب ہوئے ہیں) کو ایک ــ ’’مغضوب علیہم‘‘ قوم کے ہاتھوں ہزیمت سے دو چار کر کے سزا دینااور ’’to add insult to injury ‘‘کے مصداق اس ذلیل قوم کے ہاتھوں ذلیل کرنا مقصود ہے۔ اندریں حالات ایسا نظر آتا ہے کہ وہ دن اب زیادہ دور نہیں جب مسجدِ اقصیٰ شہید کر دی جائے گی اور اس کے نتیجے میں مشرقِ وسطیٰ میں جو طوفان اٹھے گا وہ یہودیوں کا سب کچھ بہا کر لے جائے گا‘ لیکن ان کے اس سلسلۂ عذاب کی آخری شکل حضرت مسیح علیہ السلام کے ظہور کے بعد سامنے آئے گی۔ جیسے پہلے تمام رسولوں کے منکرین ان کی موجودگی میں ختم کر دیے گئے تھے(چھ رسولوں اور ان کی قوموں کے واقعات تکرار کے ساتھ قرآن میں آئے ہیں) اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے منکرین کو بھی ان کی موجود گی میں ختم کیا جائے گا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کی طرف اللہ کے رسول تھے: {وَ رَسُوۡلًا اِلٰی بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ ۬ۙ } (آلِ عمران : ۴۹) ۔ یہودی نہ صرف آپؑ کے منکر ہوئے بلکہ (بزعم خویش) انہوں نے آپؑ کو قتل بھی کر دیا۔ لہٰذا بحیثیت قوم ان کا اجتماعی استیصال بھی حضرت مسیح علیہ السلام ہی کے ہاتھوں ہو گا۔

مِنۡہُمُ الصّٰلِحُوۡنَ وَ مِنۡہُمۡ دُوۡنَ ذٰلِکَ ۫

’’ان میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اورکچھ وہ بھی ہیں جو دوسری طرح کے ہیں۔‘‘

وَ بَلَوۡنٰہُمۡ بِالۡحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۶۸﴾

’’ہم انہیں بھلائی اور برائی سے آزماتے رہے ہیں کہ شاید یہ لوگ لوٹ آئیں۔‘‘

169

کتاب کے نااہل وارث

ویڈیو

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدۡنٰی وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَیُغۡفَرُ لَنَا ۚ وَ اِنۡ یَّاۡتِہِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُہٗ یَاۡخُذُوۡہُ ؕ اَلَمۡ یُؤۡخَذۡ عَلَیۡہِمۡ مِّیۡثَاقُ الۡکِتٰبِ اَنۡ لَّا یَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ وَ دَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ ؕ وَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾

آیت 169

فَخَلَفَ مِنۡۢ بَعۡدِہِمۡ خَلۡفٌ وَّرِثُوا الۡکِتٰبَ یَاۡخُذُوۡنَ عَرَضَ ہٰذَا الۡاَدۡنٰی

’’لیکن ان کے بعد ایسے (نا خلف) جانشین کتاب (تورات) کے وارث ہو گئے جو اس حقیر دنیا کے سازو سامان ہی کو حاصل کرتے ہیں‘‘

وہ ایسے لوگ ہیں جو حلال اور حرام سے بے نیاز ہو کر دُنیاوی مفادات کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کو آخرت کے بارے میں کسی قسم کا خوف اور ڈر نہیں ہے۔

وَ یَقُوۡلُوۡنَ سَیُغۡفَرُ لَنَا ۚ

’’اور کہتے یہ ہیں کہ ہمیں تو بخش ہی دیا جائے گا۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ ہم حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں‘ پیغمبروں کی اولاد ہیں‘ اللہ کے چہیتے ہیں ‘ ہماری بخشش تو یقینی ہے۔ہمارے لیے سب معاف کر دیا جائے گا۔

وَ اِنۡ یَّاۡتِہِمۡ عَرَضٌ مِّثۡلُہٗ یَاۡخُذُوۡہُ ؕ

’’اگرایسا ہی اور سامان بھی ان کو دے دیا جائے تو (وہ بھی) لے لیں گے۔‘‘

اَلَمۡ یُؤۡخَذۡ عَلَیۡہِمۡ مِّیۡثَاقُ الۡکِتٰبِ اَنۡ لَّا یَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ اِلَّا الۡحَقَّ وَ دَرَسُوۡا مَا فِیۡہِ ؕ

’’کیا ان

سے عہد نہیں لیا گیا تھا کتاب (تورات ) کی نسبت ‘ کہ نہیں منسوب کریں گے اللہ سے کوئی بات مگر حق‘ اور انہوں نے پڑھ بھی لیا جو کچھ اس میں تھا۔‘‘

وَ الدَّارُ الۡاٰخِرَۃُ خَیۡرٌ لِّلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۱۶۹﴾

’’اور یقینا آخرت کا گھر تو بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے تقویٰ کی روش اختیار کی‘ تو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟‘‘

170

اللہ کے محبوب بندوں کی تین صفات

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾

آیت 170

وَ الَّذِیۡنَ یُمَسِّکُوۡنَ بِالۡکِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ؕ اِنَّا لَا نُضِیۡعُ اَجۡرَ الۡمُصۡلِحِیۡنَ ﴿۱۷۰﴾

’’اورجن لوگوں نے کتاب کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھا اور نماز قائم کی‘ تویقیناایسے مصلحین کا اجرہم ضائع نہیں کریں گے۔‘‘

بنی اسرائیل میں نیک لوگ آخری وقت تک ضرور موجود رہے ہوں گے۔ ان کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان کا اجر ہم کسی صورت میں ضائع نہیں کریں گے۔

171

طور پہاڑ کے نیچے عہد

ویڈیو

وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ۚ خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿٪۱۷۱﴾

آیت 171

وَ اِذۡ نَتَقۡنَا الۡجَبَلَ فَوۡقَہُمۡ کَاَنَّہٗ ظُلَّۃٌ وَّ ظَنُّوۡۤا اَنَّہٗ وَاقِعٌۢ بِہِمۡ ۚ

’’اور یاد کرو جبکہ ہم نے پہاڑ کو ان کے اوپر ایسے اٹھا دیا تھا جیسے سائبان ہو‘ اور انہیں لگتا تھا کہ اب یہ ان پر گرنے ہی والا ہے۔‘‘

خُذُوۡا مَاۤ اٰتَیۡنٰکُمۡ بِقُوَّۃٍ وَّ اذۡکُرُوۡا مَا فِیۡہِ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿٪۱۷۱﴾

’’(ہم نے اُس وقت ان سے کہا تھا کہ) تھام لو اس کو مضبوطی سے جو ہم نے تمہیں دیا ہے اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تا کہ تم (غلط روی سے) بچتے رہو۔‘‘

اب آخری تین رکوعوں میں فلسفۂ دین کے اعتبار سے بہت اہم مضامین آ رہے ہیں۔

یوٹیوب پر دیکھیے