تحریر

الأعراف

آیات ۱۷۲ تا ۱۷۹

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

172-174

عہد الست

ویڈیو

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿ۙ۱۷۲﴾ اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۚ اَفَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾ وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۷۴﴾

آیت 172

وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ

’’اور یاد کرو جب نکالا آپؐ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو‘‘

یہ واقعہ عالمِ ارواح میں وقوع پذیر ہو ا تھا جبکہ انسانی جسم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اہلِ عرب جو اُس وقت قرآن کے مخاطب تھے ‘اُن کی اُس وقت کی ذہنی استعداد کے مطابق یہ بہت ثقیل مضمون تھا۔ ایک صورت تو ایک صورت تو یہ تھی کہ انہیں پہلے تفصیل سے بتایا جاتا کہ انسانوں کی پہلی تخلیق عالمِ ارواح میں ہوئی تھی اور دنیا میں طبعی اجسام کے ساتھ یہ دوسری تخلیق ہے ‘اور پھر بتایا جاتا کہ یہ میثاق عالمِ ارواح میں لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بجائے اس مضمون کو آسان پیرائے میں بیان کرنے کے لیے عام فہم الفاظ عام فہم انداز میں استعمال کیے گئے کہ جب ہم نے نسلِ آدم کی تمام ذریت کو ان کی پیٹھوں سے نکال لیا۔ یعنی قیامت تک اس دنیا میں جتنے بھی انسان آنے والے تھے‘ ان سب کی ارواح وہاں موجود تھیں۔

وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ

’’اور اُن کو گواہ بنایا خود اُن کے اوپر‘ (اور سوال کیا:) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘

قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ

’’انہوں نے کہا :کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔‘‘

یہ اقرار تمام انسانوں کی ارواح نے پوری طرح ہوش و حواس اور خود شعوری (self conciousness) کی حالت میں کیا تھا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے بھی ہو چکی ہے کہ انسان کی خود شعوری (self conciousness) ہی اسے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔حیوانات میں شعور (conscious) تو ہوتا ہے لیکن خود شعوری نہیں ہوتی ۔ انسان کی اس خود شعوری کا تعلق اس کی روح سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بطورِ خاص انسان میں پھونکی ہے ۔ چنانچہ اس عہد کے وقت تمام انسانوں کی ارواح موجود تھیںاور انہیں اپنی ذات کا پورا شعور تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ‘ تمہارا مالک‘ تمہارا آقا نہیں ہوں؟ تمام ارواح نے یہی جواب دیا کہ بے شک تو ہی ہمارا رب ہے‘ ہم اقرار کرتے ہیں ‘ ہم اس پر گواہ ہیں۔ یہ اقرار دراصل تمام انسانوں پر اللہ کی طرف سے حجت ہے۔ جیسے کہ اس سے پہلے سورۃ المائدۃ کی آیت۱۹میں آ چکا ہے :’’ اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس آ چکا ہے ہمارا رسول جو تمہارے لیے (دین کو) واضح کر رہا ہے‘ رسولوں کے ایک وقفے کے بعد‘ مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو آیا ہی نہیں تھا کوئی بشارت دینے والا اور نہ کوئی خبردار کرنے والا ‘‘۔تو یہ آیت گویا اتمامِ حجت ہے اہلِ کتاب پر۔

اسی طرح سورۃ الانعام کی آیت ۱۵۶میں فرمایا: ’’ مبادا تم یہ کہو کہ کتا بیں تو دی گئی تھیں ہم سے پہلے دو گروہوں کواور ہم تو ان کتابوں کو (غیر زبان ہونے کی وجہ سے) پڑھ بھی نہیں سکتے تھے‘‘۔یہ اتمامِ حجت کیا گیا بنی اسماعیل پر کہ اب تمہارے لیے ہم نے اپنا ایک رسول (ﷺ) تم ہی میں سے بھیج دیا ہے اور وہ تمہارے لیے ایک کتاب لے کر آیا ہے جو تمہاری اپنی ہی زبان میں ہے۔ لہٰذا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے اپنی کتابیں تو ہم سے پہلے والی اُمتوں پر نازل کی تھیں‘ اور یہ کہ اگر ہم پر بھی کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے۔ آیت زیرِ نظر میں جس گواہی کا ذکر ہے وہ پوری نوعِ انسانی کے لیے حجت ہے۔ گویا ہر روحِ انسانی اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر کے دنیا میں آئی ہے اور یوں انسانوں کے اُخروی مواخذے کی اصل بنیاد یہی گواہی فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد نبوت‘ وحی اور الہامی کتب کے ذریعے جو اتمامِ حجت کیا گیا‘ وہ تاکیدمزید‘تکرار اور لوگوں کے امتحان کو مزید آسان کرنے کے لیے تھا ۔ لیکن اگر کوئی ہدایت بذریعہ نبوت ‘ وحی وغیرہ نہ بھی آتی تو بھی روزِ محشر کے عظیم محاسب ہ (accountability) کے لیے عالمِ ارواح میں لیا جانے والا مذکورہ عہد ہی کافی تھا ‘جس کا احساس اور شعور ہر انسان کی فطرت میں سمو دیاگیا ہے۔

اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿ۙ۱۷۲﴾

’’مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔‘‘

آیت 173

اَوۡ تَقُوۡلُوۡۤا اِنَّمَاۤ اَشۡرَکَ اٰبَآؤُنَا مِنۡ قَبۡلُ وَ کُنَّا ذُرِّیَّۃً مِّنۡۢ بَعۡدِہِمۡ ۚ

’’یا تم یہ کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے آباء و اَجداد نے کیا تھا‘ اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں سے تھے۔‘ ‘

اَفَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ الۡمُبۡطِلُوۡنَ ﴿۱۷۳﴾

’’ تو(پروردگار!)کیا توہمیں ہلاک کرے گا ان باطل پسند لوگوں کے فعل کے بدلے میں؟‘‘

یہ اتمامِ حجت اس لیے تھا کہ قیامت کے دن تم لوگ کہیں یہ عذر لے کر نہ بیٹھ جائو کہ اے اللہ! ہمارے بڑے جو راستہ ‘جو طور طریقے چھوڑ گئے تھے‘ ہم تو ان پر چلتے رہے ‘ لہٰذا ہمارا کوئی قصور نہیں‘ اصل مجرم تو وہ ہیں جو ہمیں اس دلدل میں پھنسا کر چلے گئے۔یہ با طل طور طریقے انہوں نے ہی ایجاد کیے تھے ‘ ہم تو صرف ان کے مقلد تھے۔

آیت 174

وَ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ وَ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۱۷۴﴾

’’اور ہم اسی طرح اپنی آیات کو تفصیل سے بیان کردیتے ہیں تا کہ وہ رجوع کریں۔‘‘

آئندہ آیات میں ایک شخصیت کا واقعہ تمثیلی انداز میں بیان ہوا ہے‘ مگر یہ محض تشبیہہ نہیں ہے بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ یہ قصہ دراصل ہمارے لیے درسِ عبرت ہے ‘جس کا خلاصہ یہ ہے کہ بہت بدنصیب ہے وہ فرد یا قوم جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بیش بہا انعام و اکرام اور قربِ خاص سے نوازے ‘ مگر وہ اس کی نافرمانی کا ارتکاب کر کے خود کو ان تمام فضیلتوں سے محروم کر لے اور اللہ کی بندگی سے نکل کر شیطان کا چیلا بن جائے۔

175-178

خواہشات کی پیروی کرنے والے کے لیے کتے کی مثال

ویڈیو

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا فَانۡسَلَخَ مِنۡہَا فَاَتۡبَعَہُ الشَّیۡطٰنُ فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾ وَ لَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَ لٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تَتۡرُکۡہُ یَلۡہَثۡ ؕ ذٰلِکَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷۶﴾ سَآءَ مَثَلَاۨ الۡقَوۡمُ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنۡفُسَہُمۡ کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾ مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِیۡ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۷۸﴾

آیت 175

وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ الَّذِیۡۤ اٰتَیۡنٰہُ اٰیٰتِنَا

’’اور سنائیے انھیں خبر اُس شخص کی جس کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں‘‘

یہاں پر اس واقعے کے لیے لفظ ’’نبأ‘‘ استعمال ہوا ہے جس کے لغوی معنی ’’خبر‘‘کے ہیں۔ اس سے وا ضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی تمثیل نہیں بلکہ حقیقی واقعہ ہے۔ دوسرے جو یہ فرمایا گیا کہ اس شخص کو ہم نے اپنی آیات عطا کی تھیں‘ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ شخصصاحبِ کرامت بزرگ تھا۔ اس واقعے کی تفصیل ہمیں تورات میں بھی ملتی ہے جس کے مطابق یہ شخص بنی اسرائیل میں سے تھا ۔ اس کا نام بلعم بن باعور اء تھااور یہ ایک بہت بڑا عابد ‘زاہد اور عالم تھا۔

فَانْسَلَخَ مِنْہَا فَاَتْبَعَہُ الشَّیْطٰنُ

’’تو وہ ان سے نکل بھاگا تو شیطان اس کے پیچھے لگ گیا‘‘

یہاں پر یہ نکتہ خصوصی طور پر لائق توجہ ہے کہ انسان خود غلطی کرتا ہے‘ شیطان اسے کسی برائی پر مجبور نہیں کرسکتا‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق {اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمۡ سُلۡطٰنٌ اِلَّا مَنِ اتَّبَعَکَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۴۲﴾ } (الحجر) شیطان کو کسی بندے پر کوئی اختیار حاصل نہیں‘ لیکن جب بندہ اللہ کی نا فرمانی کی طرف لپکتا ہے اور برائی کر بیٹھتا ہے تو وہ شیطان کا آسان شکار بن جاتا ہے۔ شیطان ایسے شخص کے پیچھے لگ جاتا ہے اور اگر وہ توبہ کر کے رجوع نہ کرے تو اسے تدریجاً دُور سے دُور لے جاتا ہے‘یہاں تک کہ اسے برائی کی آخری منزل تک پہنچا کر دم لیتا ہے‘ جیسا کہ بالآخر اس شخص کے ساتھ ہوا۔

فَکَانَ مِنَ الۡغٰوِیۡنَ ﴿۱۷۵﴾

’’تو وہ ہو گیا گمراہوں میں سے۔‘‘

آیت 176

وَ لَوۡ شِئۡنَا لَرَفَعۡنٰہُ بِہَا وَ لٰکِنَّہٗۤ اَخۡلَدَ اِلَی الۡاَرۡضِ

’’اور اگر ہم چاہتے تو ان (آیات) کے ذریعے سے اُسے اور بلند کرتے مگر وہ تو زمین کی طرف ہی دھنستا چلا گیا‘‘

یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات اور جو بھی علم اس کو عطا ہو اتھا اس کے ذریعے سے اس کو بڑا بلند مقام مل سکتا تھا مگر وہ تو زمین ہی کی طرف دھنستا چلا گیا۔ یہاں پر زمین کی طرف دھنسنے کے استعارے کو بھی اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انسان دراصل حیوانی جسم اور ملکوتی روح سے مرکب ہے۔ جسم کے اجزا ئے ترکیبی کا تعلق زمین سے ہے‘ جیسا کہ سورۂ طٰہٰ کی آیت ۵۵میں فرمایا گیا : {مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡ } یعنی ہم نے تمہیں اس زمین سے پیدا کیا۔ ا س کے برعکس انسانی روح کا تعلق عالم بالا سے ہے اور وہ اللہ سے {اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ} (الاعراف:۱۷۲) والا عہد کر کے آئی ہے ۔ چنانچہ اس بنیادی تضاد کی وجہ سے جسم اور روح میں متواتر کشمکش رہتی ہے ۔ ’’کُلُّ شَیْئٍ یَرْجِعُ اِلٰی اَصْلِہٖ‘‘ (ہر چیز اپنے منبع کی طرف لوٹتی ہے)کے مصداق رُوح اُوپر اٹھنا چاہتی ہے تا کہ اللہ سے قرب حاصل کر سکے‘ جبکہ جسم کی ساری کشش زمین کی طرف ہوتی ہے۔ چونکہ جسم کی تقویت کا سارا سامان ‘ غذا وغیرہ زمین ہی کی مرہونِ منت ہے ‘ اس لیے اسے زمینی اور دُنیوی لذتوں میں ہی سکون ملتا ہے اوروہ انہی لذتوں میں مگن ع ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ کی لوری سے خود کو بہلاتا رہتا ہے ۔ اب اگر کسی شخص نے جسمانی ضرورتوں اور لذتوں کے حصول کے لیے مستقل طور پر زمین کے ساتھ ہی چمٹ کر رہنا شروع کر دیا تو اس نے گویا اپنی روح کی غذا کا راستہ بند کر دیا۔ ایسے شخص کی روح اپنی غذا کے حصول کے لیے احتجاج کرتی ہے‘ تڑپتی ہے‘ سسکتی ہے اور بالآخر مر جاتی ہے۔ اگر کسی انسان کے جیتے جی اُس کی روح کے ساتھ یہ حادثہ ہو جائے ‘ یعنی اس کی روح کی موت واقع ہو جائے تو وہ انسان چلتا پھرتا حیوان بن جاتا ہے‘ جو جسمانی طور پر زندہ رہنے کے لیے اپنے جسمانی تقاضے حیوانی انداز میں پورے کر تا رہتا ہے اور ایک حیوان کی طرح زمینی غذائیں‘ سِفلی آرزوئیں اور مادی امنگیں ہی اس کی زندگی کا مقصد و محور قرار پاتی ہیں۔ نتیجتاً اسے فیضانِ سماوی اور توفیق الٰہی سے مستقل طور پر محروم کر دیا جاتا ہے۔

وَ اتَّبَعَ ہَوٰىہُ ۚ

’’اور اُس نے پیروی کی اپنی خواہشات کی ۔‘‘

فَمَثَلُہٗ کَمَثَلِ الۡکَلۡبِ ۚ اِنۡ تَحۡمِلۡ عَلَیۡہِ یَلۡہَثۡ اَوۡ تَتۡرُکۡہُ یَلۡہَثۡ ؕ

’’ تو اُس کی مثال کتے کی سی ہے‘اگر تم اُس کے اوپر بوجھ رکھو تب بھی ہانپے گا اور اگر چھوڑ بھی دو تب بھی ہانپتا رہے گا۔‘‘

یعنی اُس شخص نے اللہ کی نعمتوں کی قدر کرنے کے بجائے خود کو کتے سے مشابہ کر لیا‘ جو ہر وقت زبان نکالے ہانپتا رہتا ہے اور حرص وطمع کے غلبے کی وجہ سے ہر وقت زمین کو سونگھتے رہنا اس کی فطرت میں شامل ہے ۔

ذٰلِکَ مَثَلُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا ۚ

’’یہی مثال ہے اُس قوم کی (بھی) جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔‘‘

اوپر تفصیل کے ساتھ یہود کی جو سرگزشت بیان ہوئی ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قوم شروع سے ہی ’’بلعم بن باعورائ‘‘ بنی رہی ہے۔ آج اس کردار کی سب سے بڑی مثال پاکستانی قوم ہے۔ پاکستان کا بن جانا اور اس کا قائم رہنا ایک معجزہ تھا۔ انگریزوں اور ہندوؤں کو یقین تھا کہ پاکستان کی بقا بحیثیت ایک آزاد اور خودمختار ملک کے ممکن نہیں ہے‘ اس لیے یہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ لیکن یہ ملک نہ صرف قائم رہا بلکہ ۱۹۶۵ء کی جنگ جیسی بڑی بڑی آزمائشوں سے بھی سر خرو ہو کر نکلا۔ہم نے اس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا تھااور یہ دعویٰ کیا تھا کہ اسے اسلامی نظام کی تجربہ گاہ بنائیں گے‘ تاکہ پوری دنیا اسلامی نظام کے عملی نمونے اور اس کی برکات کا مشاہدہ کر سکے۔ قائد اعظم نے بھی فرمایا تھا کہ ہم پاکستان اس لیے چاہتے ہیں کہ ہم عہد حاضر میں اسلام کے اصولِ حریت و اخوت و مساوات کا ایک نمونہ دنیا کے سامنے پیش کر سکیں‘ لیکن عملی طور پرآج نظریہ پاکستان کے ساتھ ہمارا طرزِ عمل ’’فَانْسَلَخَ مِنْہَا‘‘ کی عبرتناک تصویر بن چکا ہے ۔ ہم اپنے تمام وعدوں سے پیچھا چھڑا کر نکل بھاگے اور شیطان کے پیروکار بن گئے۔ اس کے نتیجے میں ہمارا جو حال ہوا اور جوکچھ ہمارے ساتھ مسلسل ہو رہا ہے اس کا نقشہ ذہن میں رکھیں اور اس پس منظر میں اب اس آیت کو دوبارہ پڑھیں۔

فَاقۡصُصِ الۡقَصَصَ لَعَلَّہُمۡ یَتَفَکَّرُوۡنَ ﴿۱۷۶﴾

’’سو(اے نبیﷺ!)آپ یہ واقعات سنا دیجیے‘ شاید کہ یہ تفکر کریں۔‘‘

آیت 177

سَآءَ مَثَلَاۨ الۡقَوۡمُ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنۡفُسَہُمۡ کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۷۷﴾

’’کیا ہی بری مثال ہے اُس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا‘ اور وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم ڈھاتے رہے۔‘‘

آیت 178

مَنۡ یَّہۡدِ اللّٰہُ فَہُوَ الۡمُہۡتَدِیۡ ۚ وَ مَنۡ یُّضۡلِلۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۷۸﴾

’’جسے اللہ ہدایت دیتا ہے وہی ہدایت یافتہ ہوتا ہے‘ اور جنہیں وہ گمراہ کر دے تو وہی لوگ تباہ ہونے والے ہیں۔‘‘

’’عہدِ الست ‘‘کے حوالے سے قبل ازیں یہ وضاحت ہو چکی ہے کہ انسان کا ایک وجود روحانی ہے اور دوسرا مادی یعنی حیوانی ۔ چنانچہ اگر کسی انسان کی پوری توجہ اور ساری دلچسپیاں حیوانی وجود کی ضروریات پوری کرنے تک محدود رہیں گی تو ایسا انسان بلعم بن باعوراء کی مثال بن جائے گا۔ ایسا انفرادی سطح پر بھی ہو سکتا ہے اور قومی و اجتماعی سطح پر بھی۔ اس ضمن میں اب اگلی آیت میں حکمت قرآنی کا یہ اہم نکتہ بیان ہو رہا ہے کہ انسانوں کی اکثریت ایسے افراد پر مشتمل ہے جو صرف اپنے حیوانی جسم کی پرورش میں مصروف ہیں۔ ایسے لوگ اگرچہ بظاہر تو انسان ہی نظر آتے ہیں مگر حقیقت میں حیوانوں کی سطح پر زندگی بسر کر رہے ہیں۔

179

غافل انسان جانوروں سے بدتر ہے

ویڈیو

وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾

آیت 179

وَ لَقَدۡ ذَرَاۡنَا لِجَہَنَّمَ کَثِیۡرًا مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ ۫ۖ

’’اورہم نے جہنم کے لیے پیدا کیے ہیں بہت سے جن اور انسان۔‘‘

لَہُمۡ قُلُوۡبٌ لَّا یَفۡقَہُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اَعۡیُنٌ لَّا یُبۡصِرُوۡنَ بِہَا ۫ وَ لَہُمۡ اٰذَانٌ لَّا یَسۡمَعُوۡنَ بِہَا ؕ

’’ان کے دل توہیں لیکن وہ ان سے غور نہیں کرتے‘ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ اُن سے دیکھتے نہیں ‘اور ان کے کان ہیں لیکن وہ ان سے سنتے نہیں۔‘‘

اُولٰٓئِکَ کَالۡاَنۡعَامِ بَلۡ ہُمۡ اَضَلُّ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡغٰفِلُوۡنَ ﴿۱۷۹﴾

’’یہ چوپایوں کی مانند ہیں‘بلکہ ان سے بھی گئے گزرے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو غافل ہیں۔‘‘

یعنی جب انسان ہدایت سے منہ موڑلیتاہے اور ہٹ دھرمی پر اتر آتا ہے تو نتیجتاً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں پر مہر کر دیتا ہے۔ اس کے بعد ان کے دل تفقہ سے یکسر خالی ہو جاتے ہیں‘ اُن کی آنکھیں انسانی آنکھیں نہیں رہتیں اور نہ اُن کے کان انسانی کان رہتے ہیں۔ ایسی کیفیت میں وہ لوگ حیوانوں کی طرح دیکھتے ہیں اور حیوانوں کی طرح سنتے ہیں ۔جیسے سامنے سے آتی ہوئی گاڑی کو کتا بھی دیکھ لیتا ہے اور اس سے اپنے بچائو کی ترکیب کرلیتا ہے۔جبکہ انسانی دیکھنا تو یہ ہے کہ انسان کسی چیز کودیکھے ‘ اس کی حقیقت کو سمجھے اور اپنے مشاہدے سے درست نتائج اخذ کرے ۔اسی فلسفے کو علامہ اقبال ؔنے ان الفاظ میں بیان کیا ہے ؎

اے اہل نظر ذوقِ نظر خوب ہے لیکن

جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا!

اس حوالے سے علامہ اقبال مزید فرماتے ہیں ع ’’دیدن دگر آموز‘ شنیدن دگر آموز!‘‘ کہ دوسری طرح کا دیکھنا سیکھو‘ اور دوسری طرح کا سننا سیکھو! یعنی وہ دیکھنا سیکھو جو دل کی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے اور وہ سننا سیکھو جو دل سے سنا جاتا ہے۔ لیکن جب انسان ہدایت کی طرف سے اپنی آنکھیں اور اپنے کان بند کر لیتا ہے تو اس کی حالت ایسی ہوجاتی ہے جس کا نقشہ اس آیت میں دکھایا گیا ہے۔ یعنی ایسے لوگوں کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی جاتی ہے‘ ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیےگئے تو اب ان کا حال یہ ہے کہ یہ چوپایوں کی مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔

ایسے لوگوں کو چوپایوں سے بد تر اس لیے کہا گیا ہے کہ چوپایوں کو تو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہی کم تر سطح پر کیا ہے‘ جبکہ انسان کا تخلیقی مقام بہت اعلیٰ ہے‘ لیکن جب انسان اس اعلیٰ مقام سے گرتا ہے تو پھر وہ نہ صرف شرفِ انسانیت کو کھو دیتا ہے بلکہ جانوروں سے بھی بد تر ہو جاتا ہے ۔ یہی مضمون سورۃ التین میں اس طرح بیان ہوا ہے: {لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ فِیۡۤ اَحۡسَنِ تَقۡوِیۡمٍ ۫﴿۴﴾ثُمَّ رَدَدۡنٰہُ اَسۡفَلَ سٰفِلِیۡنَ ۙ﴿۵﴾} یعنی انسان کو پیدا کیا گیا بہترین اندازے پر‘بلند ترین سطح پر‘ یہاں تک کہ اپنے تخلیقی معیار کے مطابق وہ مسجودِ ملائک ٹھہرا‘ لیکن جب وہ اس مقام سے نیچے گراتو کم تر ین سطح کی مخلوق سے بھی کم ترین ہو گیا۔ پھر اس کی زندگی محض حیوانی زندگی بن کر رہ گئی ‘ حیوانوں کی طرح کھایا پیا‘ دنیا کی لذتیں حاصل کیں اور مر گیا۔ نہ زندگی کے مقصد کا ادراک ‘ نہ اپنے خالق و مالک کی پہچان ‘ نہ اللہ کے سامنے حاضری کا ڈر اور نہ آخرت میں احتساب کی فکر۔ یہ وہ انسانی زندگی ہے جو انسان کے لیے باعث شرم ہے ۔بقولِ سعدی شیرازی ؔ ؎

زندگی آمد برائے بندگی زندگی بے بندگی شر مندگی!

یوٹیوب پر دیکھیے