وَ اِذۡ اَخَذَ رَبُّکَ مِنۡۢ بَنِیۡۤ اٰدَمَ مِنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ ذُرِّیَّتَہُمۡ
’’اور یاد کرو جب نکالا آپؐ کے رب نے تمام بنی آدم کی پیٹھوں سے ان کی نسل کو‘‘
یہ واقعہ عالمِ ارواح میں وقوع پذیر ہو ا تھا جبکہ انسانی جسم ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے۔ اہلِ عرب جو اُس وقت قرآن کے مخاطب تھے ‘اُن کی اُس وقت کی ذہنی استعداد کے مطابق یہ بہت ثقیل مضمون تھا۔ ایک صورت تو ایک صورت تو یہ تھی کہ انہیں پہلے تفصیل سے بتایا جاتا کہ انسانوں کی پہلی تخلیق عالمِ ارواح میں ہوئی تھی اور دنیا میں طبعی اجسام کے ساتھ یہ دوسری تخلیق ہے ‘اور پھر بتایا جاتا کہ یہ میثاق عالمِ ارواح میں لیا گیا تھا۔ لیکن اس کے بجائے اس مضمون کو آسان پیرائے میں بیان کرنے کے لیے عام فہم الفاظ عام فہم انداز میں استعمال کیے گئے کہ جب ہم نے نسلِ آدم کی تمام ذریت کو ان کی پیٹھوں سے نکال لیا۔ یعنی قیامت تک اس دنیا میں جتنے بھی انسان آنے والے تھے‘ ان سب کی ارواح وہاں موجود تھیں۔
وَ اَشۡہَدَہُمۡ عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ ۚ اَلَسۡتُ بِرَبِّکُمۡ ؕ
’’اور اُن کو گواہ بنایا خود اُن کے اوپر‘ (اور سوال کیا:) کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟‘‘
قَالُوۡا بَلٰی ۚۛ شَہِدۡنَا ۚۛ
’’انہوں نے کہا :کیوں نہیں! ہم اس پر گواہ ہیں۔‘‘
یہ اقرار تمام انسانوں کی ارواح نے پوری طرح ہوش و حواس اور خود شعوری (self conciousness) کی حالت میں کیا تھا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے بھی ہو چکی ہے کہ انسان کی خود شعوری (self conciousness) ہی اسے حیوانات سے ممتاز کرتی ہے۔حیوانات میں شعور (conscious) تو ہوتا ہے لیکن خود شعوری نہیں ہوتی ۔ انسان کی اس خود شعوری کا تعلق اس کی روح سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بطورِ خاص انسان میں پھونکی ہے ۔ چنانچہ اس عہد کے وقت تمام انسانوں کی ارواح موجود تھیںاور انہیں اپنی ذات کا پورا شعور تھا۔اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ سوال کیا کہ کیا میں تمہارا رب ‘ تمہارا مالک‘ تمہارا آقا نہیں ہوں؟ تمام ارواح نے یہی جواب دیا کہ بے شک تو ہی ہمارا رب ہے‘ ہم اقرار کرتے ہیں ‘ ہم اس پر گواہ ہیں۔ یہ اقرار دراصل تمام انسانوں پر اللہ کی طرف سے حجت ہے۔ جیسے کہ اس سے پہلے سورۃ المائدۃ کی آیت۱۹میں آ چکا ہے :’’ اے اہلِ کتاب! تمہارے پاس آ چکا ہے ہمارا رسول جو تمہارے لیے (دین کو) واضح کر رہا ہے‘ رسولوں کے ایک وقفے کے بعد‘ مبادا تم یہ کہو کہ ہمارے پاس تو آیا ہی نہیں تھا کوئی بشارت دینے والا اور نہ کوئی خبردار کرنے والا ‘‘۔تو یہ آیت گویا اتمامِ حجت ہے اہلِ کتاب پر۔
اسی طرح سورۃ الانعام کی آیت ۱۵۶میں فرمایا: ’’ مبادا تم یہ کہو کہ کتا بیں تو دی گئی تھیں ہم سے پہلے دو گروہوں کواور ہم تو ان کتابوں کو (غیر زبان ہونے کی وجہ سے) پڑھ بھی نہیں سکتے تھے‘‘۔یہ اتمامِ حجت کیا گیا بنی اسماعیل پر کہ اب تمہارے لیے ہم نے اپنا ایک رسول (ﷺ) تم ہی میں سے بھیج دیا ہے اور وہ تمہارے لیے ایک کتاب لے کر آیا ہے جو تمہاری اپنی ہی زبان میں ہے۔ لہٰذا اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے اپنی کتابیں تو ہم سے پہلے والی اُمتوں پر نازل کی تھیں‘ اور یہ کہ اگر ہم پر بھی کوئی ایسی کتاب نازل ہوتی تو ہم ان سے کہیں بڑھ کر ہدایت یافتہ ہوتے۔ آیت زیرِ نظر میں جس گواہی کا ذکر ہے وہ پوری نوعِ انسانی کے لیے حجت ہے۔ گویا ہر روحِ انسانی اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کر کے دنیا میں آئی ہے اور یوں انسانوں کے اُخروی مواخذے کی اصل بنیاد یہی گواہی فراہم کرتی ہے۔ اس کے بعد نبوت‘ وحی اور الہامی کتب کے ذریعے جو اتمامِ حجت کیا گیا‘ وہ تاکیدمزید‘تکرار اور لوگوں کے امتحان کو مزید آسان کرنے کے لیے تھا ۔ لیکن اگر کوئی ہدایت بذریعہ نبوت ‘ وحی وغیرہ نہ بھی آتی تو بھی روزِ محشر کے عظیم محاسب ہ (accountability) کے لیے عالمِ ارواح میں لیا جانے والا مذکورہ عہد ہی کافی تھا ‘جس کا احساس اور شعور ہر انسان کی فطرت میں سمو دیاگیا ہے۔
اَنۡ تَقُوۡلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ اِنَّا کُنَّا عَنۡ ہٰذَا غٰفِلِیۡنَ ﴿ۙ۱۷۲﴾
’’مبادا تم یہ کہو قیامت کے دن کہ ہم تو اس سے غافل تھے۔‘‘