تحریر

الأعراف

آیات ۱۴۸ تا ۱۶۶

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

148-154

بنی اسرائیل کا بچھڑے کی مورت کو معبود بنا لینا

ویڈیو

وَ اتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰی مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ حُلِیِّہِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ؕ اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُہُمۡ وَ لَا یَہۡدِیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ۘ اِتَّخَذُوۡہُ وَ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾ وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾ وَ لَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّکُمۡ ۚ وَ اَلۡقَی الۡاَلۡوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِیۡہِ یَجُرُّہٗۤ اِلَیۡہِ ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫ۖ فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾ قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِاَخِیۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِیۡ رَحۡمَتِکَ ۫ۖ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿٪۱۵۱﴾ اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَیَنَالُہُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ ذِلَّۃٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُفۡتَرِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾ وَ الَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہَا وَ اٰمَنُوۡۤا ۫ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۵۳﴾ وَ لَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ۚۖ وَ فِیۡ نُسۡخَتِہَا ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمۡ لِرَبِّہِمۡ یَرۡہَبُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾

آیت 148

وَ اتَّخَذَ قَوۡمُ مُوۡسٰی مِنۡۢ بَعۡدِہٖ مِنۡ حُلِیِّہِمۡ عِجۡلًا جَسَدًا لَّہٗ خُوَارٌ ؕ

’’اور بنا لیا موسیٰؑ کی قوم نے آپؑ کے بعد اپنے زیورات سے بچھڑے کا سا ایک جسم جس سے گائے کی سی آواز آتی تھی۔‘‘

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر چلے گئے تو آپؑ کی قو م کے ایک فرد نے یہ فتنہ اٹھایا۔ اس شخص کا نام سامری تھا۔ اس نے سونے کا ایک مجسمہ بنانے کا منصوبہ بنایا اور اس غرض سے اس نے سب لوگوں سے زیورات اکٹھے کر لیے۔ روایات کے مطابق یہ زیورات زیادہ تر مصر کے مقامی لوگوں (قبطیوں) کے تھے جو انہوں نے

بنی اسرائیل کے لوگوں کے پاس امانتاًرکھوائے ہوئے تھے۔ فرعونیوں کے ہاتھوں اپنی تمام تر ذلت و خواری کے باوجود معاشرے میں بنی اسرائیل کی اخلاقی ساکھ ابھی تک کسی نہ کسی سطح پر اس وجہ سے قائم تھی کہ یہ لوگ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولاد میں سے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ بہت سے مقامی لوگ اپنی قیمتی چیزیں ان کے ہاں بطور امانت رکھ دیا کرتے تھے۔ جب یہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ مصرسے نکلے تو اُس وقت بھی ان کی اکثریت کے پاس قبطیوں کے بہت سے زیورات امانتوں کے طور پر موجود تھے‘ جو وہ ان کے مالکوں کو واپس کرنے کی بجائے اپنے ساتھ لے آئے تھے۔سامری نے ایک منصوبے کے تحت سارے قافلے سے وہ زیورات اکٹھے کیے۔ باقاعدہ ایک بھٹی بناکر ان زیورات کو گلایا اور ایک ماہر کاریگر کی طرح بچھڑے کی شکل اور جسامت کا ایک مجسمہ تیار کر دیا۔ اس نے اس مجسمے میں کچھ ایسے سوراخ رکھے جن میں سے ہوا گزرتی تو گائے کے ڈکارنے جیسی آواز سنائی دیتی ۔یہ سب کچھ کرنے کے بعد سامری نے اعلان کر دیا کہ یہ بچھڑا تم لوگوں کا خدا ہے اور موسیٰؑ کو دراصل مغالطہ ہو گیا ہے جو وہ خدا سے ملنے کوہِ طور پر چلے گئے ہیں۔

اس معاملے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام محبت اور جذبہ اشتیاق میں وقتِ مقررہ سے پہلے ہی کوہِ طور پر چلے گئے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپؑ کی جواب طلبی بھی ہوئی ‘جیسا کہ سورۂ طٰہٰ کی اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے : {وَ مَاۤ اَعۡجَلَکَ عَنۡ قَوۡمِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿۸۳﴾} ’’ اے موسیٰ! تم اپنی قوم کو چھوڑ کر قبل ازوقت کیوں آ گئے ہو؟‘‘ اس پر آپؑ نے جواب دیا : {وَ عَجِلۡتُ اِلَیۡکَ رَبِّ لِتَرۡضٰی ﴿۸۴﴾} کہ پروردگار! میں توتیری محبت اور تجھ سے گفتگو کرنے کے شوق میں اس لیے جلدی آیا تھا کہ تو اس سے خوش ہو گا۔ گویا آپؑ تو فرطِ اشتیاق میں شاباش کی توقع رکھتے تھے ۔لیکن وہاں ڈانٹ پڑ گئی: {قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾} ’’(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا :تو(آپؑ کی اس عجلت کی وجہ سے) آپؑ کے بعد ہم نے آپؑ کی قوم کو فتنے میں ڈال دیا ہے اور سامری نے انہیں گمراہ کر دیا ہے‘‘۔ گویا خیر اور بھلائی کے معاملے میں بھی جلد بازی نہیں کرنی چاہیے اور ہر کام قاعدے ‘ کلیے کے مطابق ہی کرنا چاہیے۔ اسی لیے مثل مشہور ہے :’’سہج پکے سو میٹھا ہو!‘‘

اَلَمۡ یَرَوۡا اَنَّہٗ لَا یُکَلِّمُہُمۡ وَ لَا یَہۡدِیۡہِمۡ سَبِیۡلًا ۘ

’’کیا انہوں نے غور نہ کیا کہ نہ وہ ان سے کوئی بات کر سکتا ہے اور نہ انہیں راستہ بتا سکتا ہے!‘‘

اگرچہ اس مجسمے سے گائے کی سی آواز نکلتی تھی لیکن انہوں نے یہ نہ سوچا کہ وہ کوئی بامعنی بات کرنے کے قابل نہیں ہے اور نہ ہی کسی انداز میں وہ ان کی راہنمائی کر سکتا ہے۔ مگر اس کے باوجود:

اِتَّخَذُوۡہُ وَ کَانُوۡا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۸﴾

’’اسی کو وہ (معبود) بنا بیٹھے اوروہ تھے بہت ظالم!‘‘

بنی اسرائیل نے اسی بچھڑے کو اپنا معبود مان کر اس کی پرستش شروع کر دی اور اس طرح شرک جیسے ظلم عظیم کے مرتکب ہوئے۔ یعنی وہ خود اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے تھے۔

آیت 149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیۡۤ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ رَاَوۡا اَنَّہُمۡ قَدۡ ضَلُّوۡا ۙ

’’اور جب ان کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے (ان کو پچھتاوا ہوا) اور انہیں احساس ہواکہ وہ توگمراہ ہو گئے ہیں‘‘

قَالُوۡا لَئِنۡ لَّمۡ یَرۡحَمۡنَا رَبُّنَا وَ یَغۡفِرۡ لَنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۱۴۹﴾

’’تو انہوں نے کہا کہ اگرہمارے ربّ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہمیں بخش نہ دیا تو ہم ہوجائیں گے بہت خسارہ پانے والوں میں سے۔‘‘

اس معاملے میں وہ لوگ تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے ۔ قوم کا ایک بڑا حصہ وہ تھا جو اس گناہ میں بالکل شریک نہیں ہوا۔ دوسرے گروہ میں وہ لوگ تھے جو کچھ دیر کے لیے اس گناہ میں شریک ہوئے ‘لیکن فوراً انہیں احساس ہو گیا کہ اُن سے غلطی ہو گئی ہے ۔ تیسراگروہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی واپسی تک اس شرک پر اَڑا رہا۔ یہاں درمیانی گروہ کے لوگوں کا ذکر ہے کہ غلطی کے بعد وہ نادم ہوئے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ گمراہی کا ارتکاب کر بیٹھے ہیں ۔

آیت 150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ

’’اور جب موسیٰ ؑ لوٹے اپنی قوم کی طرف سخت غضبناک ہو کر افسوس میں‘‘

غَضْبَان‘ رَحْمٰن کی طرح فَعلان کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے۔یعنی آپؑ اپنی قوم کی اس حرکت پر نہایت غضبناک تھے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزاج بھی جلالی تھا اور قوم کے جرم اور گمراہی کی نوعیت بھی بہت شدید تھی۔ پھرا للہ تعالیٰ نے آپؑ کو کوہِ طور پر ہی بتا دیا تھا کہ آپؑ کی قوم فتنہ میں پڑ چکی ہے ۔ لہٰذا آپؑ کا غم و غصہ اور رنج و افسوس بالکل بجا تھا۔

قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ

’’آپؑ نے فرمایا :بہت بری ہے میری نیابت جو تم نے کی ہے میرے بعد۔‘‘

یہ خطاب حضرت ہارون علیہ السلام سے بھی ہو سکتا ہے اور اپنی پوری قوم سے بھی۔

اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّکُمۡ ۚ

’’کیا تم نے اپنے رب کے معاملے میں جلدی کی؟‘‘

یعنی اگر سامری نے فتنہ کھڑا کر ہی دیا تھا تو تم لوگ بغیر سوچے سمجھے اس قدر جلدی اس کے کہنے میں آ گئے ؟ کم از کم تم میرے واپس آنے کا ہی انتظار کر لیتے!

وَ اَلۡقَی الۡاَلۡوَاحَ

’’اور آپؑ نے وہ تختیاں (ایک طرف)ڈال دیں‘‘

آپؑ کوہِ طور سے جو تورات کی تختیاں لے کر آئے تھے وہ ابھی تک آپؑ کے ہاتھ میں ہی تھیں‘ تو آپؑ نے ان تخیتوں کو ایک طرف رکھ دیا۔

وَ اَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِیۡہِ یَجُرُّہٗۤ اِلَیۡہِ ؕ

’’اور (غصے میں) اپنے بھائی کے سر کے بال پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے غصے میں حضرت ہارون علیہ السلام کو سر کے بالوں سے پکڑکر اپنی طرف کھینچا اور کہا کہ میں تمہیں اپنا خلیفہ بنا کر گیا تھا ‘ میرے پیچھے تم نے یہ کیا کیا؟ تم نے قوم کے لوگوں کو اس بچھڑے کی پوجا کرنے سے روکا کیوں نہیں؟

قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫ۖ

’’(ہارون علیہ السلام نے) کہا : اے میرے ماں جائے! حقیقت میں قو م نے مجھے دبا لیا تھااور وہ میرے قتل پر آمادہ ہو گئے تھے‘‘

میں نے توان لوگوں کو ایسا کرنے سے منع کیا تھا ‘لیکن انہوں نے مجھے بالکل بے بس کر دیا تھا۔ اس معاملے میں ان لوگوں نے اس حد تک جسارت کی تھی کہ وہ میری جان کے درپے ہو گئے تھے۔

فَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ

’’تو (دیکھیں اب) آپؑ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں‘‘

’’شماتتِ اَعداء‘‘ کا محاورہ ہمارے ہاں اردو میں بھی استعمال ہوتا ہے ‘ یعنی کسی کی توہین اور بے عزتی پر اس کے دشمنوں کا خوش ہونااور ہنسنا۔ حضرت ہارون نے حضرت موسیٰ علیہما السلام سے درخواست کی کہ اب اس طرح میرے بال کھینچ کر آپ دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دیں۔

وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾

’’اور مجھے ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کیجیے۔‘‘

آپ مجھے ان ظالموں کے ساتھ شمار نہ کیجیے ۔ میں اس معاملے میں ہر گز ان کے ساتھ نہیں ہوں۔ میں تو انہیں اس حرکت سے منع کرتا رہا تھا ۔

آیت 151

قَالَ رَبِّ اغۡفِرۡ لِیۡ وَ لِاَخِیۡ وَ اَدۡخِلۡنَا فِیۡ رَحۡمَتِکَ ۫ۖ وَ اَنۡتَ اَرۡحَمُ الرّٰحِمِیۡنَ ﴿٪۱۵۱﴾

’’(تب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دُعا کرتے ہوئے) کہا : اے میرے پروردگار! تو بخش دے مجھے بھی اور میرے بھائی کو بھی اور ہمیں داخل فرما اپنی رحمت میں ‘اور تو تمام رحم کرنے والوں میں سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

اس دُعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ارشاد ہوا:

آیت 152

اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوا الۡعِجۡلَ سَیَنَالُہُمۡ غَضَبٌ مِّنۡ رَّبِّہِمۡ وَ ذِلَّۃٌ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ

’’یقینا جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا ‘ عنقریب ان کو پہنچے گاغضب اُن کے رب کی طرف سے اور ذِلت دنیا کی زندگی میں۔‘‘

’’غضب‘‘ سے یہاں آخرت کا غضب بھی مراد ہے اور قتل مرتدکی وہ سزا بھی جس کا ذکر ہم سورۃ البقرۃ کی آیت ۵۴میں پڑھ آئے ہیں۔

وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُفۡتَرِیۡنَ ﴿۱۵۲﴾

’’ اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں بہتان باندھنے والوں کو۔‘‘

آیت 153

وَ الَّذِیۡنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوۡا مِنۡۢ بَعۡدِہَا وَ اٰمَنُوۡۤا ۫ اِنَّ رَبَّکَ مِنۡۢ بَعۡدِہَا لَغَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۵۳﴾

’’البتہ جن لوگوں نے (کچھ دیر کے لیے ) برے کام کیے پھر توبہ کر لی اس کے بعد اور ایمان لے آئے‘ تو یقینا اس کے بعد آپؑ کا رب بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

وہ لوگ جن سے اس غلطی کا ارتکاب تو ہوا مگر انہوں نے اس سے توبہ کر کے اپنے ایمان کی تجدید کر لی ‘ ایسے تمام لوگوں کا معاملہ اُس اللہ کے سپرد ہے جو بخشنے والا اور انسانوں پر رحم کرنے والا ہے ۔ البتہ جو لوگ اُس جرم پر اَڑے رہے ان پر آخرت سے پہلے دنیا کی زندگی میں بھی اللہ کا غضب مسلط ہوا۔ اس کی تفصیل سورۃ البقرۃ کی آیت ۵۴ کے تحت گزر چکی ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ہرقبیلہ کے مؤمنین مخلصین کو حکم دیا کہ وہ اپنے اپنے قبیلہ کے ان مجرمین کو قتل کر دیں جنہو ں نے گوسالہ پرستی کا ارتکاب کیا۔ ان میں سے صرف وہ لوگ قتل سے بچے جنہوں نے توبہ کر لی تھی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سورۃ المائدۃ میں آیاتِ محاربہ (آیات ۳۳ اور ۳۴) میں ہم نے پڑھا کہ اگر ڈاکو‘ راہزن وغیرہ ملک میں فساد مچا رہے ہوں ‘ لیکن متعلقہ حکام کے قابو میں آنے سے پہلے وہ توبہ کر لیں تو ایسی صورت میں ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ ہو سکتا ہے بلکہ انہیں معاف بھی کیا جا سکتا ہے ‘ لیکن اگر انہیں اسی بغاوت کی کیفیت میں گرفتار کر لیا جائے تو پھر ان کی سزا بہت سخت ہے۔

آیت 154

وَ لَمَّا سَکَتَ عَنۡ مُّوۡسَی الۡغَضَبُ اَخَذَ الۡاَلۡوَاحَ ۚۖ وَ فِیۡ نُسۡخَتِہَا ہُدًی وَّ رَحۡمَۃٌ لِّلَّذِیۡنَ ہُمۡ لِرَبِّہِمۡ یَرۡہَبُوۡنَ ﴿۱۵۴﴾

’’اور جب موسیٰ علیہ السلام کا غصہ کچھ ٹھنڈا پڑا تو انہوں نے وہ تختیاں اٹھا لیں‘ اور اس کی تحریر میں تھی رحمت اور ہدایت ان لوگوں کے لیے جو اپنے ربّ سے ڈرتے ہیں۔‘‘

155-156

حضرت موسی کی ایمان افروز دعا

ویڈیو

وَ اخۡتَارَ مُوۡسٰی قَوۡمَہٗ سَبۡعِیۡنَ رَجُلًا لِّمِیۡقَاتِنَا ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَہۡلَکۡتَہُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَ اِیَّایَ ؕ اَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ۚ اِنۡ ہِیَ اِلَّا فِتۡنَتُکَ ؕ تُضِلُّ بِہَا مَنۡ تَشَآءُ وَ تَہۡدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ ؕ اَنۡتَ وَلِیُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَ ارۡحَمۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡغٰفِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾ وَ اکۡتُبۡ لَنَا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدۡنَاۤ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۚ۱۵۶﴾

آیت 155

وَ اخۡتَارَ مُوۡسٰی قَوۡمَہٗ سَبۡعِیۡنَ رَجُلًا لِّمِیۡقَاتِنَا ۚ

’’اور انتخاب کیا موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے ستر افراد کا ہمارے وقت مقررہ کے لیے۔‘‘

بنی اسرائیل کے وہ لوگ جو آخری وقت تک اس مشرکانہ فعل پر قائم رہے انہیں قتل کر دیا گیا ۔ اب اس تطہیر (purge) کے بعد اجتماعی توبہ کا مرحلہ تھا ‘ جس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ کے حکم کے مطابق اپنی قوم کے ستر(۷۰)سرکردہ افراد کو ساتھ لے کر کوہِ طور پر حاضری کے لیے روانہ ہو گئے۔

فَلَمَّاۤ اَخَذَتۡہُمُ الرَّجۡفَۃُ

’’پھر جب انہیں آپکڑازلزلے نے‘‘

کوہِ طور پر یا اس کے مضافات میں ان لوگوں کے لیے جسمانی کپکپی یا زمینی زلزلے جیسی خوفناک کیفیت پیدا کر دی گئی۔

قَالَ رَبِّ لَوۡ شِئۡتَ اَہۡلَکۡتَہُمۡ مِّنۡ قَبۡلُ وَ اِیَّایَ ؕ

’’(موسیٰ علیہ السلام نے) نے عرض کیا: اے پروردگار! اگر تو چاہتا تو ہلاک کر دیتا پہلے ہی ان سب کو بھی اور مجھے بھی۔‘‘

اَتُہۡلِکُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَہَآءُ مِنَّا ۚ

’’تو کیا تو ہمیں ہلاک کر دے گا ہم میں سے کچھ بے وقوف لوگوں کی حرکت کی وجہ سے؟‘‘

قوم کے کچھ جاہل لوگوں نے جو حرکت کی تھی انہیں اس کی سزا بھی مل چکی ہے۔ ہم نے انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کر کے کفارہ بھی ادا کر دیا ہے ۔ تو کیا ان کی وجہ سے تو پوری قوم کو ہلاک کر دے گا؟

اِنۡ ہِیَ اِلَّا فِتۡنَتُکَ ؕ تُضِلُّ بِہَا مَنۡ تَشَآءُ وَ تَہۡدِیۡ مَنۡ تَشَآءُ ؕ

’’مگر یہ تیری طرف سے ایک آزمائش ہے‘ تو گمراہ کرتا ہے اس کے ذریعے سے جس کو چاہتا ہے اور ہدایت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔‘‘

اَنۡتَ وَلِیُّنَا فَاغۡفِرۡ لَنَا وَ ارۡحَمۡنَا وَ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡغٰفِرِیۡنَ ﴿۱۵۵﴾

’’ تو ہمارا پشت پناہ ہے‘ پس ہمیں بخش دے اور ہم پر رحم فرما ‘اور یقینا تمام بخشنے والوں میں تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔‘‘

آیت 156

وَ اکۡتُبۡ لَنَا فِیۡ ہٰذِہِ الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ

’’اور توہمارے لیے اس دُنیا (کی زندگی) میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی‘‘

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے یہی الفاظ سورۃ البقرۃ میں مسلمانوں کو سکھائے گئے ہیں: {رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنۡیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ﴿۲۰۱﴾} ’’اے ہمارے رب! توہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔‘‘

اِنَّا ہُدۡنَاۤ اِلَیۡکَ ؕ

’’ہم تیری جناب میں رجوع کرتے ہیں۔‘‘

یعنی ہم سے جو خطا ہو گئی ہے اس کا اعتراف کرتے ہوئے ہم معافی چاہتے ہیں۔

قَالَ عَذَابِیۡۤ اُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ اَشَآءُ ۚ وَ رَحۡمَتِیۡ وَسِعَتۡ کُلَّ شَیۡءٍ ؕ

’’(اللہ نے) فرمایا کہ میں عذاب میں مبتلا کروں گا جس کو چاہوں گا ‘اور میری رحمت ہر شے پر چھائی ہوئی ہے۔‘‘

یعنی میری ایک رحمت تو وہ ہے جو ہر شے کے شاملِ حال ہے‘ ہر شے پر محیط ہے۔ ہر شے کا وجود اور بقا میری رحمت ہی سے ممکن ہے ۔ یہ پوری کائنات اور اس کا تسلسل میری رحمت ہی کا مرہونِ منت ہے ۔ میری

اس رحمتِ عامہ سے میری تمام مخلوقات حصہ پا رہی ہیں‘ لیکن جہاں تک میری رحمتِ خاصہ کا تعلق ہے جس کے لیے تم لوگ ابھی سوال کر رہے ہو :

فَسَاَکۡتُبُہَا لِلَّذِیۡنَ یَتَّقُوۡنَ وَ یُؤۡتُوۡنَ الزَّکٰوۃَ وَ الَّذِیۡنَ ہُمۡ بِاٰیٰتِنَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿ۚ۱۵۶﴾

’’تو اسے میں لکھ دوں گا ان لوگوں کے لیے جو تقویٰ کی روش اختیار کریں گے ‘ زکوٰۃ دیتے رہیں گے اور جو لوگ ہماری آیات پر پختہ ایمان رکھیں گے ۔‘‘

157

اتباع رسول کا میدان اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق کی بنیادیں

ویڈیو

اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۱۵۷﴾

آیت 157

اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ

’’جو اتباع کریں گے رسولِ نبی اُمی (ﷺ)کا‘‘

یعنی محمد عربیﷺ کا اتباع کریں گے جن کو آخری رسول بنا کر بھیجا جائے گا ۔ حضورﷺ نے دُنیوی اعتبار سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی آپؐ دُنیوی معیار کے مطابق پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اس لحاظ سے آپﷺ بھی اُمی تھے اور جن لوگوں میں آپﷺ کو مبعوث کیا گیا وہ بھی اُمی تھے‘ کیونکہ اُن لوگوں کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب تھی نہ کوئی شریعت۔

الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫

’’جسے پائیں گے وہ لکھا ہوااپنے پاس تورات اور انجیل میں‘‘

یعنی آخری نبی ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ‘ آپﷺ کے حالات ‘ اور آپﷺ کے بارے میں واضح علامات اُن کو تورات اور انجیل دونوں میں ملیں گی۔

یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ

’’وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے ‘تمام برائیوں سے روکیں گے اور اُن کے لیے تمام پاک چیزیں حلال کر دیں گے‘‘

بنی اسرائیل پر کچھ چیزیں اُن کی شرارتوں کی وجہ سے بھی حرام کر دی گئی تھیں‘ جیسا کہ سورۃ النساء (آیت ۱۶۰) میں ہم پڑھ آئے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ نبی اُمی ﷺ اُن پر سے ایسی تمام بندشیں اٹھا دیں گے اور تمام پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کردیں گے۔

وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ

’’اور حرام کر دیں گے اُن پر نا پاک چیزوں کو ‘ اور اُن سے اتارد یں گے اُن کے بوجھ اور طوق جو اُن (کی گردنوں) پر پڑے ہوں گے۔‘‘

خودساختہ معاشرتی پابندیاں اور رسومات بھی ایک طرح سے متعلقہ لوگوں کے لیے بوجھ اور طوق ہیں جو معاشرے کے اندر کسی خاص طبقہ کے مفادات یا نمود و نمائش کی خواہش کی وجہ سے رواج پاتی ہیں ‘ بعد میں غریب لوگوں کو انہیں نبھانا پڑتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ان کی وجہ سے ایک عام آدمی کی زندگی انتہائی مشکل

ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کی بلند ترین سطح پر بھی بڑی بڑی قباحتیں اور لعنتیں جنم لیتی ہیں جن کے بوجھ تلے عوام الناس بری طرح پس جاتے ہیں۔ مثلاً بادشاہت کا جبر‘ جاگیرداری کا استحصالی نظام‘ سیاسی و معاشی غلامی‘ رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت میں تفریق وغیرہ۔ تو اس آیت میں بشارت دی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ آئیں گے اور انسانیت کو غلط رسومات ‘ خود ساختہ عقائد اور نظام ہائے باطلہ کے بوجھوں سے نجات دلاکر عدل اور قسط کا نظام قائم کریں گے۔

اس کے بعد حضورﷺکے ساتھ تعلق کی شرائط مذکور ہیں جن میں سے ہر شرط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے میرے کتابچے بعنوان: ’’نبی اکرمﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ

’’تو جو لوگ آپ (ﷺ )پر ایمان لائیں گے‘‘

یہ پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ آپﷺ پر ایمان لانے کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔ پہلا تقاضا ہے آپﷺ کی اطاعت اور دوسرا تقاضا ہے آپﷺ کی محبت۔ ان دونوں تقاضوں کے بارے میں دو احادیث ملاحظہ کیجیے۔ پہلی حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((لَا یُـؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَـکُوْنَ ھَوَاہُ تَـبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ))۶’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہے جب تک کہ اُس کی خواہشِ نفس تابع نہ ہوجائے اس چیز کے جو میں (ﷺ) لے کر آیا ہوں‘‘۔یعنی جو احکام اور شریعت حضورﷺ لے کر تشریف لائے ہیں‘ اگر کوئی شخص ایمان رکھتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اسے اس سب کچھ کو تسلیم کر کے اس پر عمل کرنا ہو گا۔ دوسری حدیث متفق علیہ ہے اور اس کے راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((لَا یُـؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَـیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ))۷ ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ میں اسے محبوب ترنہ ہوجاؤں اس کے باپ‘ بیٹے اور تمام انسانوں سے‘‘۔ چنانچہ یہ دونوں تقاضے پورے ہوں گے تو آپﷺ پر ایمان کا دعویٰ حقیقت بنے گا۔ یعنی غایت درجہ میں آپﷺ کا اتباع اور غایت درجے میں آپﷺ کی محبت۔

وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ

’’اور آپ (ﷺ) کی تعظیم کریں گے اور آپ (ﷺ)کی مدد کریں گے‘‘

جب مذکورہ بالا دو تقاضے (حضورﷺ کی محبت اور اطاعت) پورے ہوں گے تو ان کے لازمی نتیجے کے طور پر دلوں میں رسول اللہﷺ کی تعظیم پیدا ہو گی‘ اور آپﷺ کی عظمت دلوں پر راج کرے گی۔ پھرجب اور جہاں آپﷺ کا نام مبارک سنائی دے گا بے ساختہ زبان پر درود و سلام آ جائے گا۔

آپﷺ کا فرمان سامنے آنے پر منطق و دلائل کا سہارا چھوڑ کر سرتسلیم خم کر دیا جائے گا۔

حضورﷺ کے ادب و احترام کے سلسلے میں ایک مسلمان کویہ اصول ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ کسی معاملے میں حضورﷺ کا فرمان سن لینے کے بعد اس معاملے میں رائے زنی کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ مثلاً اگر کہیں کسی مسئلے پر بحث ہو رہی ہو ‘ دونوں طرف دلائل کو دلائل کاٹ رہے ہوں اور ایسے میں اگر کوئی کہہ دے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس ضمن میں یوں فرمایا ہے تو حدیث کے سنتے ہی فوراً بحث ختم اور زبانیں بند ہوجانی چاہئیں۔ بعد میں تحقیق کی جا سکتی ہے کہ آپﷺ سے منسوب کر کے جو فرمان سنایا گیا ہے درحقیقت وہ حدیث ہے بھی یا نہیں اوراگر حدیث ہے تو روایت و درایت کے اعتبار سے اس کا کیا مقام ہے۔ حدیث صحیح ہے یا ضعیف…! حدیث سن کر وقتی طور پر فوراًچپ ہو جانا اور سر تسلیم خم کر دینا آپﷺ کے ادب کے تقاضوں میں سے ایک اہم اور بنیادی تقاضا ہے۔

جہاں تک حضورﷺ کی مدد کرنے کے حکم ( وَنَصَرُوْہُ) کا تعلق ہے اس ضمن میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ نبی مکرمﷺ کو کس کام میں مدددرکار ہے؟کیا آپﷺ کو اپنے کسی ذاتی کام کے لیے مدد چاہیے؟ آپﷺ نے اپنی کوئی ذاتی سلطنت اور حکومت تو قائم نہیں کی‘ جس کے قیام و استحکام کے لیے آپﷺ کو مدد کی ضرورت ہوتی۔آپﷺ کی کوئی ذاتی جاگیر یا جائیداد بھی نہیں تھی‘ جس کو سنبھالنے کے لیے آپﷺ کو کسی کی مدد درکار ہوتی۔ دراصل آپﷺ کو اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے مدد چاہیے تھی جس کے لیے آپﷺ مبعوث ہوئے تھے اور وہ تھا غلبۂ حق اور اقامتِ دین کا مشن: {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ} (الصف:۹)۔ دین حق کے غلبے کے لیے کی جانے والی جاں گسل جدوجہد میں آپﷺ کو مددگاروں کی ضرورت تھی اور اس کے لیے آپﷺ کی طرف سے ’’مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ؟‘‘ کی صلائے عام تھی‘کہ مجھے اللہ کا دین غالب کرنا ہے‘ یہ میرا فرضِ منصبی ہے ‘کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے اور میرا مدد گار بنے؟چنانچہ آپﷺ نے اپنی محنت ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں اور اللہ کی نصرت سے جزیرہ نما ئے عرب میں دین کو غالب کر کے اپنے اس مشن کی تکمیل کر دی ۔ آپﷺ کے بعد کچھ عرصہ دین غالب رہا ‘پھر مغلوب ہوگیا اور آج تک مغلوب ہے۔ آج دنیا میں کہیں بھی دین غالب نہیں ہے۔ لہٰذااب دین کو ساری دنیا میں غالب کرنا حضورﷺ کی اُمت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کے حوالے سے آپﷺ کا مشن آج بھی زندہ ہے ‘ گویا نَصَرُوْہُ کا میدان اب بھی کھلا ہے ۔ آج بھی حضورﷺ کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ} ( الصف: ۱۴) کے قرآنی حکم میں حضورﷺ کے اسی مشن کی مدد کی طرف اشارہ ہے اور یہ حکم آج بھی ہمیں پکار رہا ہے ۔

وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ

’’ اور پیروی کریں گے اُس نور کی جو آپ(ﷺ )کے ساتھ نازل کیا جائے گا‘‘

اس جملے میں گویا اس کٹھن مشن کی تکمیل کا راستہ بتایا گیا ہے ۔ یعنی دین کے غلبے کی تکمیل قرآن کے ذریعے سے ہو گی۔اس حوالے سے تذکیر بالقرآن‘ تبشیر بالقرآن‘ تبلیغ بالقرآن ‘ انذار بالقرآن ‘ تعلیم بالقرآن وغیرہ اصطلاحات معروف ہیں۔ جیسے محمد عربی ﷺ نے قرآن کے ذریعے سے لوگوں کا تزکیہ کیا: {یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ } (الجمعہ: ۲) اسی طرح آج بھی ضرورت ہے کہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو ترغیب دی جائے‘ قرآن کی تلاوت سے ان کے دلوں کی صفائی کی جائے ‘ قرآن کا پیغام سنا کر انہیں جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے اُجالے کی طرف لایا جائے‘ قرآن کے نور سے تاریک دلو ں کے اندر ایمان کی شمعیں روشن کی جائیں۔ پھرجو لوگ قرآن کے پیغام پر لبیک کہیںانہیں منظم کیا جائے‘ ان میں منزل کی تڑپ پیدا کر کے اس افرادی قوت کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے قالب میں ڈھالا جائے اور پھر باطل سے ٹکر لے کر اسے پاش پاش کر دیا جائے۔ یہ ہے آپﷺ کی مدد کرنے کا صحیح طریقہ‘ اور یہ ہے اس نور (قرآن)کی پیروی کرنے کا معروف راستہ۔ اور جولوگ اس راستے پر چلیں گے ان کے بارے میں فرمایا:

اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۱۵۷﴾

’’وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘

(۶) الاربعون النوویۃ‘ ح:۴۱۔ قال النووی: حدیث حسن صحیح رویناہ فی کتاب الحجۃ باسناد صحیح۔ ومشکاۃ المصابیح‘ کتاب الایمان‘ باب الاعتصام بالکتاب والسُّنۃ‘ الفصل الثانی۔

(۷) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب حب الرسول من الایمان۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہﷺ اکثر من الاھل والولد والوالد والناس اجمعین…

158

نبی اکرم کی رسالت تمام انسانوں کے لیے ہے

ویڈیو

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

تمہید

اب اگلی آیت کا مطالعہ کرنے سے پہلے دو باتیں اچھی طرح سمجھ لیجیے۔ ایک یہ کہ گزشتہ آیات کے مضمون کا اس آیت کے ساتھ گہرا ربط ہے۔ اس ربط کو یوں سمجھنا چاہیے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد انباء الرسل کے اس سلسلے کو نبی آخر الزماںﷺ کی بعثت تک لانے میں بہت تفصیل درکار تھی۔ اس تفصیل کو چھوڑ کر اب براہِ راست آپﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ آپؐ لوگوں کو بتا دیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں تمام بنی نوعِ انسان کی طرف۔ چنانچہ پچھلی آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر اور تورات و انجیل میں نبی آخرالزماںﷺ کے بارے میں بشارتوں کے حوالے سے اس آیت کا سیاق و سباق گویا یوں ہو گا کہ اے محمد ﷺ! اب آپ علی الاعلان کہہ دیجیے کہ میں ہی وہ رسول ہوں جس کاذکر تھا تورات اور انجیل میں ‘ مجھ پر ہی ایما ن لانے کی تاکید ہوئی تھی موسیٰؑ کے پیروکاروں کو‘ میری ہی دعوت پر لبیک کہنے والوں کے لیے وعدہ ہے اللہ کی خصوصی رحمت کا‘ اور اب میری ہی نصرت اور اطاعت کا حق ادا کرنے والوں کو ضمانت ملے گی ابدی و اُخروی فلاح کی!

دوسری اہم بات یہاں یہ نوٹ کرنے کی ہے کہ اس سورۃ میں ہم نے اب تک جتنے رسولوں کا تذکرہ پڑھا ہے ‘ ان کا خطاب ’’یَا قَوْمِ‘‘ (اے میری قوم کے لوگو!)کے الفاظ سے شروع ہوتا تھا ‘ مگر محمد عربی ﷺ کی یہ امتیازی شان ہے کہ آپؐ کسی مخصوص قوم کی طرف مبعوث نہیں ہوئے بلکہ آپؐ کی رسالت آفاقی اور عالمی سطح کی رسالت ہے اور آپؐ پوری بنی نوعِ انسانی کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کی آیت ۲۱ میں ’’عبادتِ رب‘‘ کا حکم جس آفاقی انداز میں دیا گیا ہے اس میں بھی اسی حقیقت کی جھلک نظر آتی ہے : {یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّکُمُ الَّذِیۡ خَلَقَکُمۡ وَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ لَعَلَّکُمۡ تَتَّقُوۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾} ’’اے لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ(مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو‘‘۔اس پس منظر کو سمجھ لینے کے بعد اب ہم اس آیت کا مطالعہ کرتے ہیں۔

آیت 158

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنِّیۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ اِلَیۡکُمۡ جَمِیۡعَۨا

’’ (اے نبی ﷺ!)کہہ دیجیے اے لوگو! میں اللہ کا رسول ہوں تم سب کی طرف‘‘

یہ بات مختلف الفاظ اور مختلف انداز میں قرآن حکیم کے پانچ مقامات پر دہرائی گئی ہے کہ محمد عربی ﷺ کی بعثت پوری نوعِ انسانی کے لیے ہے۔ ان میں سے سورۃ سبا کی آیت ۲۸ سب سے نمایاں ہے: {وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیۡرًا وَّ نَذِیۡرًا } ’’ہم نے نہیں بھیجا ہے (اے محمدﷺ) آپ کو مگر پوری نوعِ انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر۔‘‘

الَّذِیۡ لَہٗ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ۚ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ یُحۡیٖ وَ یُمِیۡتُ ۪

’’(اُس اللہ کا) جس کے لیے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے ‘اُس کے سوا کوئی معبود نہیں‘ وہی زندہ رکھتا ہے اور وہی موت وارد کرتا ہے۔‘‘

فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہِ النَّبِیِّ الۡاُمِّیِّ الَّذِیۡ یُؤۡمِنُ بِاللّٰہِ وَ کَلِمٰتِہٖ وَ اتَّبِعُوۡہُ لَعَلَّکُمۡ تَہۡتَدُوۡنَ ﴿۱۵۸﴾

’’تو ایمان لائو اللہ پر اور اُس کے رسول پر جو نبی اُمی ہے ‘جو ایمان رکھتا ہے اللہ پر اور اُس کے سب کلاموں پر‘ اور اُس کی پیروی کرو تا کہ تم ہدایت پاؤ۔‘‘

یہ گویا اعلانِ عام ہے محمد رسول اللہﷺکی طرف سے کہ میری بعثت اُس وعدے کے مطابق ہوئی ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے کیاتھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذکر کے بعد زیر مطالعہ آیات کا مضمون دراصل اس خطاب کی تمہید ہے جو ہجرت کے بعد یہودِ مدینہ سے ہونے والا تھا۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ یہ سورت مکی دور کے اواخر میں نازل ہو ئی تھی اور اس کے نزول کے فوراً بعد ہجرت کا حکم آنے کو تھا‘ جس کے بعد دعوت کے سلسلے میں حضورﷺ کا مدینہ کے یہودی قبائل سے براہِ راست سابقہ پیش آنے والا تھا ۔ مکی قرآن میں ابھی تک یہود سے براہِ راست خطاب نہیں ہوا تھا ‘ ابھی تک یا تو اہل مکہ مخاطب تھے یا حضورﷺ ‘ یا پھر آپﷺ کی وساطت سے اہل ایمان۔ لیکن اب اندازِ بیان میں جو تبدیلی آ رہی ہے اس کا اصل محل ہجرت کے بعد کا ماحول تھا۔

159-162

بنی اسرائیل پر اللہ کے احسانات اور بنی اسرائیل کی ناشکری

ویڈیو

وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤی اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾ وَ قَطَّعۡنٰہُمُ اثۡنَتَیۡ عَشۡرَۃَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا ؕ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اِذِ اسۡتَسۡقٰىہُ قَوۡمُہٗۤ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ۚ فَانۡۢبَجَسَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾ وَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمُ اسۡکُنُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ وَ کُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ وَ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطِیۡٓـٰٔتِکُمۡ ؕ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾ فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿٪۱۶۲﴾

آیت 159

وَ مِنۡ قَوۡمِ مُوۡسٰۤی اُمَّۃٌ یَّہۡدُوۡنَ بِالۡحَقِّ وَ بِہٖ یَعۡدِلُوۡنَ ﴿۱۵۹﴾

’’اور موسیٰؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسے لوگوں کی بھی تھی جو حق کی ہدایت دیتے تھے اور حق ہی کے ساتھ عدل و انصاف بھی کرتے تھے۔‘‘

اگرچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی اکثریت نا فرمانوں پر مشتمل تھی ‘مگر آپؑ کے پیروکاروں میں حق پرست اور انصاف پسند افراد بھی موجود تھے ‘جو لوگوں کو حق بات کی تلقین کرتے تھے اور ان کے فیصلے بھی عدل و انصاف پر مبنی ہوتے تھے۔

آیت 160

وَ قَطَّعۡنٰہُمُ اثۡنَتَیۡ عَشۡرَۃَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا ؕ

’’ اور ہم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کر دیا بارہ قبیلوں کی جماعتو ں میں۔‘‘

ان کی نسل حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹو ں سے چلی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اسی لحاظ سے ان میں ایک مضبوط قبائلی نظام کو قائم رکھا۔ ہر بیٹے کی اولاد سے ایک قبیلہ وجود میں آیا اور یہ الگ الگ بارہ جماعتیں بن گئیں۔

وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اِذِ اسۡتَسۡقٰىہُ قَوۡمُہٗۤ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ۚ

’’اور ہم نے وحی کی موسیٰؑ کی طرف ‘ جب پانی طلب کیا آپؑ سے آپؑ کی قوم نے‘ کہ اپنی لاٹھی سے چٹان پر ضرب لگائیے۔‘‘

فَانۡۢبَجَسَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ

’’پس اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے ‘ تو ہر قبیلے نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو۔‘‘

مَشْرَب اسمِ ظرف ہے ‘یعنی پانی پینے کی جگہ۔ مطلب یہ کہ ہر قبیلے نے اپنا گھاٹ معین کر لیا تا کہ پانی کی تقسیم میں کسی قسم کاکوئی تنازعہ جنم نہ لے۔

وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ

’’اور ہم نے ان کے اوپر بادل کا سائبان بنائے رکھا ‘ اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ۔‘‘

کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ

’’(اور ان سے کہاکہ)کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں۔‘‘

وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۱۶۰﴾

’’اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا‘ بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔‘‘

ظاہر ہے سب انسان اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں ‘وہ اللہ کا کیا بگاڑ سکتے ہیں؟ ایک حدیث قدسی کا مفہوم اس طرح سے ہے :

’’اے میرے بندو‘ اگر تمہارے اوّلین بھی اور آخرین بھی‘ انسان بھی اور جن بھی‘ سب کے سب اتنے متقی ہو جائیں جتنا کہ تم میں کوئی بڑے سے بڑا متقی ہو سکتا ہے‘ تب بھی میری سلطنت اور میرے کارخانۂ قدرت میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا---- اور اگر تمہارے اوّلین و آخرین اور انس و جن سب کے سب ایسے ہو جائیں جیسے کہ تم میں کوئی زیادہ سے زیادہ سرکش و نافرمان ہو سکتا ہے‘ تب بھی میری سلطنت میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔‘‘ ۸

(۸) صحیح مسلم‘ کتاب البر والصلۃ والآداب‘ باب تحریم الظلم۔ راوی: ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ۔

آیت 161

وَ اِذۡ قِیۡلَ لَہُمُ اسۡکُنُوۡا ہٰذِہِ الۡقَرۡیَۃَ وَ کُلُوۡا مِنۡہَا حَیۡثُ شِئۡتُمۡ

’’اور یاد کرو جب ان سے کہا گیا تھا کہ آباد ہو جائو اس بستی میں اور اس میں سے کھائو (پیو)جہاں سے بھی چاہو‘‘

اس شہر کا نام ’’اریحا‘‘ تھا‘ جو آج بھی جریکو (Jericho) کے نام سے موجود ہے۔ یہ فلسطین کا پہلا شہرتھاجو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلیفہ حضرت یوشع بن نون کی سرکردگی میں باقاعدہ جنگ کر کے فتح کیاتھا۔

وَ قُوۡلُوۡا حِطَّۃٌ وَّ ادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا

’’اور استغفار کرتے رہو‘ اور شہر کے دروازے میں سر جھکا کر داخل ہونا‘‘

انہیں حکم دیا گیا تھا کہ جب شہر میں داخل ہوں تو ’حِطَّۃٌ ‘ کا وِرد کرتے ہوئے داخل ہوں۔ اس لفظ کے معنی استغفار کرنے کے ہیں۔ یعنی انہیں اللہ تعالیٰ سے اپنی لغزشوں اور کوتاہیوں کی معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس ضمن میں ان کے لیے دوسرا حکم یہ تھا کہ جب تم فاتح کی حیثیت سے شہر کے دروازے سے داخل ہو تو اُس وقت اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزی اختیار کرتے ہوئے سجدئہ شکر اداکرنا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اُس وقت تکبر سے تمہاری گردنیں اکڑی ہوئی ہوں۔

نَّغۡفِرۡ لَکُمۡ خَطِیۡٓـٰٔتِکُمۡ ؕ سَنَزِیۡدُ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۱۶۱﴾

’’ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے‘ اور ہم محسنین کو اور بھی زیادہ عطا کریں گے۔‘‘

اس طرح سے ہم نہ صرف یہ کہ تمہاری خطائیں ‘لغزشیں اور فروگزاشتیں معاف کر دیں گے ‘ بلکہ تم میں سے مخلص اور نیک لوگوں کو مزید نوازیں گے‘ ان کے درجات بلند کریں گے اور ان کو اونچے اونچے مراتب عطا کریں گے۔

آیت 162

فَبَدَّلَ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡہُمۡ قَوۡلًا غَیۡرَ الَّذِیۡ قِیۡلَ لَہُمۡ

’’تو بدل دی اُن لوگوں نے جو اُن میں سے ظالم تھے اس بات کے بجائے جو اُن سے کہی گئی تھی ایک (دوسری) بات‘‘

یعنی ان کو حِطَّۃٌ ‘حِطَّۃٌ کا ورد کرتے ہوئے شہر میں داخل ہو نے کا حکم دیا گیا تھا‘ جبکہ انہوں نے اس کے بجائے حِنْطَـۃٌ ‘حِنْطَـۃٌ کہنا شروع کر دیا ‘جس کا مطلب تھا کہ ہمیں گیہوں چاہیے‘ ہمیں گیہوں چاہیے!

فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿٪۱۶۲﴾

’’تو ہم نے بھیج دیا اُن پر ایک عذاب آسمان سے بسبب اس ظلم کے جو وہ اپنے اوپر کرتے تھے۔‘‘

جن لوگوں نے وہ لفظ بدلنے کی حرکت کی تھی ان میں طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی ‘جس کی وجہ سے وہ سب کے سب ہلاک ہو گئے۔

163-166

عذاب سے بچنے کے لیے برائیوں سے روکنا ضروری ہے

ویڈیو

وَ سۡـَٔلۡہُمۡ عَنِ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ حَاضِرَۃَ الۡبَحۡرِ ۘ اِذۡ یَعۡدُوۡنَ فِی السَّبۡتِ اِذۡ تَاۡتِیۡہِمۡ حِیۡتَانُہُمۡ یَوۡمَ سَبۡتِہِمۡ شُرَّعًا وَّ یَوۡمَ لَا یَسۡبِتُوۡنَ ۙ لَا تَاۡتِیۡہِمۡ ۚۛ کَذٰلِکَ ۚۛ نَبۡلُوۡہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾ وَ اِذۡ قَالَتۡ اُمَّۃٌ مِّنۡہُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَۨا ۙ اللّٰہُ مُہۡلِکُہُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ قَالُوۡا مَعۡذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمۡ وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾ فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۵﴾ فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾

آیت 163

وَ سۡـَٔلۡہُمۡ عَنِ الۡقَرۡیَۃِ الَّتِیۡ کَانَتۡ حَاضِرَۃَ الۡبَحۡرِ ۘ

’’اور ان سے ذراپوچھئے اُس بستی کے بارے میں جو ساحل سمندر پر تھی۔‘‘

اب اصحابِ سبت کے واقعہ کا ذکر ہونے جا رہا ہے ۔ اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ یہ بستی اس مقام پر واقع تھی جہاں آج کل ’’ایلات‘‘ کی بندر گاہ ہے۔ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر نے اسی بندرگاہ کا گھیراؤ کیا تھا‘ جس کے خلاف اسرائیل نے شدید ردّ عمل کا اظہار کرتے ہوئے مصر ‘شام اور اردن پر حملہ کر کے مصر سے جزیرہ نمائے سینا‘ شام سے جولان کی پہاڑیاں اور اردن سے پورا مغربی کنارہ‘ جو فلسطین کا زرخیز ترین علاقہ ہے‘ ہتھیا لیا تھا۔ بہر حال مچھیروں کی وہ بستی ایلات کی اس بندرگاہ کے علاقے میں آباد تھی جہاں یہ واقعہ پیش آیا۔

اِذۡ یَعۡدُوۡنَ فِی السَّبۡتِ

’’جب کہ وہ سبت کے قانون میں حد سے تجاوز کرنے لگے‘‘

اِذۡ تَاۡتِیۡہِمۡ حِیۡتَانُہُمۡ یَوۡمَ سَبۡتِہِمۡ شُرَّعًا

’’جب کہ آتی تھیں اُن کی مچھلیاں اُن کے پاس ہفتے کے دن چھلانگیں لگاتی ہوئی‘‘

شُرَّع کے معنی ہیں سیدھے اٹھائے ہوئے نیزے۔ یہاں یہ لفظ مچھلیوں کے لیے آیا ہے تو اس سے مراد ایسی مچھلیاں ہیں جو منہ اٹھائے ہوئے تیزی سے کسی سمت بڑھ رہی ہوں۔ اگر کسی جگہ مچھلیوں کی بہتا ت ہو تو وہ بے خوف ہو کر بہت زیادہ تعداد میں پانی کی سطح پر آجاتی ہیں اور چھلانگیں لگاتی ہیں ۔ ایسے منظر کی عکاسی کے لیے یہاں شُرَّعًا کا لفظ آیا ہے۔یعنی مچھلیوں کی اس بے خوف اچھل کود کا منظر ایسے ہوتا تھا جیسے کہ نیزے چل رہے ہوں۔ دراصل تمام حیوانات کو اللہ تعالیٰ نے چھٹی حس سے نواز رکھا ہے۔ چنانچہ اس علاقے کی مچھلیوں کو اندازہ ہو گیا تھا کہ ایک خاص وقفے کے بعد ایک دن ایسا آتا ہے جس دن انہیں کوئی ہاتھ نہیں لگاتا۔ اس لیے اس دن وہ بے خوف ہو کر ہجوم کی صورت میں ساحل پر اٹھکیلیاں کرتی تھیں‘ جبکہ وہ لوگ جن کا پیشہ ہی مچھلیاں پکڑنا تھا وہ ان مچھلیوں کو بے بسی سے دیکھتے تھے‘ ان کے ہاتھ بندھے ہوئے تھے‘ کیونکہ یہود کی شریعت کے مطابق ہفتے کے دن ان کے لیے کاروبارِ دنیوی کی ممانعت تھی۔

وَّ یَوۡمَ لَا یَسۡبِتُوۡنَ ۙ لَا تَاۡتِیۡہِمۡ ۚۛ

’’اور جس دن سبت نہیں ہوتا تھا وہ ان کے قریب نہیں آتی تھیں‘‘

ہفتے کے باقی چھ دن مچھلیاں ساحل سے دور گہرے پانی میں رہتی تھیں‘ جہاں سے وہ انہیں پکڑ نہیں سکتے تھے‘ کیونکہ اُس زمانے میں ابھی ایسے جہاز اور آلات وغیرہ ایجاد نہیں ہوئے تھے کہ وہ لوگ گہرے پانی میں جا کر مچھلی کا شکار کر سکتے۔

کَذٰلِکَ ۚۛ نَبۡلُوۡہُمۡ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۳﴾

’’اس طرح ہم انہیں آزماتے تھے بوجہ اس کے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔‘‘

آئے دن کی نا فرمانیوں کی وجہ سے ان کو اس آزمائش میں ڈالا گیا کہ شریعت کے حکم پر قائم رہتے ہوئے وہ لوگ فاقے برداشت کرتے ہیں یا پھر نافرمانی کرتے ہوئے شریعت کے ساتھ تمسخر کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے دوسرا راستہ اختیار کیااور ان میں سے کچھ لوگوں نے اس قانون میں چور دروازہ نکال لیا۔ وہ ہفتے کے روز ساحل پر جا کر گڑھے کھودتے اور نالیوں کے ذریعے سے انہیں سمندر سے ملادیتے۔ اس طرح جب وہ سمندر کا پانی ان گڑھوں میں لے کر آتے تو پانی کے ساتھ مچھلیاں بھی گڑھوں میں آ جاتیں۔ بعد میں وہ ان کی واپسی کا راستہ بند کر دیتے اور اگلے روز اتوار کو جا کر قید کی ہوئی ان مچھلیوں کو آسانی سے پکڑ لیتے۔ یعنی عملی طور پر وہ ہفتے کے روز ہی مچھلیوں کو قابو کر لیتے لیکن موقف یہ اختیار کرتے کہ ہم ہفتے کے روز مچھلیوں کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ اس طرح انہوں نے شریعت کے اس حکم کومذاق بنا لیا اور اس حکم کی اصل روح کو مسنح کردیا۔ حکم کی اصل روح تو یہ تھی کہ چھ دن دنیا کے کام کرو اور ساتواں دن اللہ کی عبادت کے لیے وقف رکھو ‘ جبکہ انہوں نے یہ دن بھی گڑھے کھودنے‘ پانی کھولنے اور بند کرنے میں صرف کرنا شروع کر دیا۔

اس آبادی کے لوگ اس معاملے میں تین گروہوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک گروہ تو براہِ راست اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث تھا۔جب کہ دوسرے گروہ میں وہ لوگ شامل تھے جو اس گناہ میں ملوث تو نہیں تھے مگر گناہ کرنے والوں کو منع بھی نہیں کرتے تھے‘ بلکہ اس معاملے میں یہ لوگ خاموش اور غیر جانبدار رہے۔ تیسرا گروہ ان لوگوں پر مشتمل تھا جوگناہ سے بچے بھی رہے اور پہلے گروہ کے لوگوں کو ان حرکتوں سے منع کرکے باقاعدہ نہی عن المنکر کا فریضہ بھی ادا کرتے رہے۔ اب اگلی آیت میں دوسرے اور تیسرے گروہ کے افراد کے درمیان مکالمہ نقل ہوا ہے۔ غیر جانبدار رہنے والے لوگ نہی عن المنکر کا فریضہ اداکرنے والے لوگوں سے کہتے تھے کہ یہ اللہ کے نافرمان لوگ تو تباہی سے دو چار ہونے والے ہیں ‘انہیں سمجھانے اور نصیحتیں کرنے کا کیا فائدہ؟

آیت 164

وَ اِذۡ قَالَتۡ اُمَّۃٌ مِّنۡہُمۡ لِمَ تَعِظُوۡنَ قَوۡمَۨا ۙ اللّٰہُ مُہۡلِکُہُمۡ اَوۡ مُعَذِّبُہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ

’’اور جب کہا ایک گروہ نے ان میں سے کہ کیوں نصیحت کر رہے ہو ان لوگوں کو جنہیں یا تو اللہ ہلاک کرنے والا ہے یا پھر انہیں عذاب دینے والا ہے بہت سخت عذاب!‘‘

دوسرے گروہ کے لوگ تیسرے گروہ کے لوگوں سے کہتے کہ تم خواہ مخواہ اپنے آپ کو ان مجرموں کے لیے ہلکان کر رہے ہو۔ اب یہ لوگ ماننے والے نہیں۔ اللہ کے عذاب کے ذریعے تباہی ان کا مقدر بن چکی ہے۔

قَالُوۡا مَعۡذِرَۃً اِلٰی رَبِّکُمۡ

’’انہوں نے کہا کہ تمہارے رب کے ہاں معذرت پیش کرنے کے لیے‘‘

تیسرے گرو ہ کے لوگ جواب دیتے کہ اس طرح ہم اللہ کے سامنے عذر پیش کر سکیں گے کہ اے پروردگار! ہم آخری وقت تک نا فرمان لوگوں کو ان کی غلط حرکتوں سے باز رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے‘ نہی عن المنکر کا فرض اداکرتے رہے۔ ہم نہ صرف خود اس گناہ سے بچے رہے بلکہ ان ظالموں کو خبردار بھی کرتے رہے کہ وہ اللہ کے قانون کے سلسلے میں حد سے تجاوز نہ کریں۔

وَ لَعَلَّہُمۡ یَتَّقُوۡنَ ﴿۱۶۴﴾

’’اورشاید کہ وہ تقویٰ اختیار کر ہی لیں۔‘‘

یعنی اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ ہمارے سمجھانے بجھانے سے ان میں سے کسی کے دل میں کبھی خداخوفی کا جذبہ پیدا ہو ہی جائے۔ ایسی وعظ و نصیحت کی قدرو قیمت کا اندازہ حضورﷺ کے اس فرمان سے لگایا جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ حضور اکرمﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا:

حدیث((لَاَنْ یَھْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلاً وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ اَنْ یَـکُوْنَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ)) ۹

’’(اے علیؓ) اگر اللہ تمہارے ذریعے سے ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے تو یہ دولت تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بڑھ کرہے۔‘‘

(۹) صحیح البخاری‘ کتاب الجھاد والسیر‘ باب فضل من اسلم علی یدیہ رجل ‘ وکتاب المناقب‘ باب مناقب علی بن ابی طالب … وکتاب المغازی‘ باب غزوۃ خیبر۔ وصحیح مسلم‘ کتاب فضائل الصحابۃ‘ باب من فضائل علی بن ابی طالب۔

آیت 165

فَلَمَّا نَسُوۡا مَا ذُکِّرُوۡا بِہٖۤ اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ

’’پھر جب انہوں نے نظرانداز کر دیا اُس نصیحت کو جو انہیں کی جار ہی تھی‘ تو ہم نے بچا لیا ان کو جو برائی سے روکتے تھے ‘‘

وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ ﴿۱۶۵﴾

’’اور پکڑلیا ہم نے اُن کو جو ظلم کے مرتکب ہوئے تھے بہت ہی برے عذاب میں‘ ان کی نافرمانی کے سبب۔‘‘

آیت 166

فَلَمَّا عَتَوۡا عَنۡ مَّا نُہُوۡا عَنۡہُ قُلۡنَا لَہُمۡ کُوۡنُوۡا قِرَدَۃً خٰسِئِیۡنَ ﴿۱۶۶﴾

’’توجب وہ بہت بڑھ گئے اس میں جس سے ان کو روکا گیا تھا ‘ تو ہم نے ان سے کہہ دیا کہ جاؤ ذلیل بندر بن جاؤ!‘‘

آخر کار ان پر عذاب اس صورت میں آیا کہ ان کی انسانی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندر بنا دیا گیااور پھر انہیں ہلاک کر دیا گیا۔ یہ اس واقعہ کی تفصیل ہے جس کا اجمالی ذکر سورۃ البقرۃ اور سورۃ المائدۃ میں بھی آ چکا ہے۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ عذا ب اُن گروہوں میں سے صرف اُس گروہ پر آیا تھا جو گناہ میں براہِ راست ملوث تھا۔ اپنے موقف کے حق میں اُن کی دلیل یہ ہے کہ نہی عن المنکر کرنے والے لوگوں کے بارے میں یہاں واضح طور پر بتا دیا گیا: {اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ } کہ ہم نے اُن کو بچا لیا جو بدی سے روک رہے تھے‘ اور جو گناہگار تھے ان کے بارے میں بھی صراحت سے بتا دیا گیا : {وَ اَخَذۡنَا الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا بِعَذَابٍۭ بَئِیۡسٍۭ} کہ ہم نے پکڑ لیا اُن لوگوں کو جو گناہ میں ملوث تھے ایک بہت ہی برے عذاب میں۔ جب کہ تیسرے گروہ کے بارے میں یہاں سکوت اختیار کیا گیا ہے۔ اس طرح ان لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ اگر کوئی شخص براہِ راست کسی گناہ کا ارتکاب کرنے سے بچا رہتا ہے توفریضہ نہی عن المنکر میں کوتاہی ہونے کی صورت میں بھی وہ دنیا میں اس گناہ کی پاداش میں آنے والے عذاب سے بچ جائے گا۔ یہ نظریہ در اصل بہت بڑی غلط فہمی پر مبنی ہے اور اس کے پیچھے وہ انسانی نفسیات کار فرما ہے جس کے تحت انسان ذمہ داری سے فرار چاہتا ہے اور پھر اس کے لیے دلیلیں ڈھونڈتا اور بہانے تراشتا ہے۔ اسی طرح کی بات کا تذکرہ سورۃ المائدۃ کی آیت۱۰۵ کی تشریح کے ضمن میں بھی ہوچکا ہے۔ سورۃ المائدۃ کی اس آیت کے حوالے سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خصوصی خطبہ ارشاد فرمانا پڑا تھا کہ لوگو! تم {عَلَیۡکُمۡ اَنۡفُسَکُمۡ ۚ لَا یَضُرُّکُمۡ مَّنۡ ضَلَّ اِذَا اہۡتَدَیۡتُمۡ ؕ} کا بالکل غلط مفہوم سمجھ رہے ہو۔ اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ دعوت و تبلیغ ‘ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر تمہاری ذمہ داری نہیں ہے‘ بلکہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ تم اس سلسلے میں اپنی پوری کوشش کرو‘ اپنا فرض ادا کرو‘ لیکن اس کے باوجود بھی اگر لوگ کفر یا گناہ پر اڑے رہیں تو پھر ان کا وبال تم پر نہیں ہوگا۔

اس حوالے سے یہاں اس نکتے کو اچھی طرح سمجھ لیجیے کہ نہی عن المنکر نصِ قرآنی کے مطابق فرض کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی ماحول میں اللہ تعالیٰ کے کسی واضح حکم کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہو رہی ہو تو وہاں گناہ کا ارتکاب کرنے والوں کو نہ روکنا اور نہی عن المنکر کا فرض ادانہ کرنا‘ بذاتِ خود ایک بہت بڑا جرم ہے۔ لہٰذا آیت زیر مطالعہ کے الفاظ ’’اَلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا‘‘ کے زمرے میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اگرچہ براہِ راست تو گناہ میں ملوث نہیں تھے‘ لیکن مجرموں کو گناہ کرتے ہوئے دیکھ کر خاموش تھے۔ اس طرح یہ لوگ اللہ کی نافرمانی سے لوگوں کو نہ روکنے کے جرم کے مرتکب ہو رہے تھے۔ اس ضمن میں نص قطعی کے طور پر ایک حدیث قدسی بھی موجود ہے اور ایک بہت

واضح قرآنی حکم بھی ۔ پہلے حدیث ملاحظہ فرمائیں‘ یہ حدیث مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ علیہ نے اپنے مرتب کردہ خطباتِ جمعہ میں شامل کی ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:

حدیث((اَوْحَی اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ اِلٰی جِبْرِیْلَ عَلَیْہِ السَّلاَمُ اَنِ اقْلِبْ مَدِیْنَۃَ کَذَا وَکَذَا بِاَھْلِھَا۔قَالَ: ’’یَا رَبِّ اِنَّ فِیْھِمْ عَبْدَکَ فُلاَناً لَمْ یَعْصِکَ طَرْفَۃَ عَیْنٍ)) قَالَ : حدیث((فَقَالَ: اِقْلِبْھَا عَلَیْہِ وَ عَلَیْہِمْ‘ فَاِنَّ وَجْھَہٗ لَمْ یَتََمَعَّرْ فِیَّ سَاعَۃً قَطُّ))۱۰

’’اللہ تعالیٰ نے جبرائیل علیہ السلام کو وحی کی کہ فلاں فلاں شہر کو اس کے باسیوں پر اُلٹ دو۔ جبرائیل ؑنے عرض کیا کہ پروردگار ‘ اس میں تو تیرا فلاں بندہ بھی ہے جس نے کبھی پلک جھپکنے کی دیر بھی تیری معصیت میں نہیں گزاری‘‘۔ حضورﷺ نے فرمایا :’’ (اس پر) اللہ تعالیٰ نے فرمایاکہ اُلٹو اس بستی کو پہلے اس پر اور پھر دوسروں پر ‘اس لیے کہ اس کے چہرے کا رنگ کبھی ایک لمحے کے لیے بھی میری غیرت کی وجہ سے متغیر نہیں ہوا۔‘‘

یعنی اس کے سامنے میرے احکام پامال ہوتے رہے‘ شریعت کی دھجیاں بکھرتی رہیں اور یہ اپنی ذاتی پرہیز گاری کو سنبھال کر ذکر اذکار ‘نوافل اور مراقبوں میں مصروف رہا۔ یہ دوسروں سے بڑھ کر مجرم ہے!

اب اس سلسلے میں نص قرآنی کے طور پر سورۃ الانفال کی آیت ۲۵ کا یہ واضح حکم بھی ملاحظہ کر لیجئے: {وَ اتَّقُوۡا فِتۡنَۃً لَّا تُصِیۡبَنَّ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا مِنۡکُمۡ خَآصَّۃً ۚ} ’’اور ڈرواُس فتنہ (عذاب) سے جو خصوصیت کے ساتھ انہی لوگوں پر واقع نہیں ہو گا جو تم میں سے گنہگار ہیں‘‘۔ یعنی جب کسی قوم میں بحیثیت مجموعی منکرات پھیل جائیں اور اس وجہ سے ان کے لیے اس دنیا میں کسی اجتماعی سزا کا فیصلہ ہو جائے تو پھرایسی سزا کی لپیٹ میں صرف گنہگار لوگ ہی نہیں آئیں گے ۔ یہ خبر یقینا بہت تشویش ناک ہے۔ مگر آیت زیر مطالعہ کے الفاظ {اَنۡجَیۡنَا الَّذِیۡنَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ السُّوۡٓءِ } میں یہ امید بھی دلائی گئی ہے کہ جو لوگ اپنی استطاعت کے مطابق ‘ آخری وقت تک امربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کرتے رہیں گے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے انہیں بچا لے گا۔

(۱۰) رواہ البیھقی فی شعب الایمان۔ مشکاۃ المصابیح ‘ کتاب الآداب‘ باب الامر بالمعروف‘ الفصل الثالث۔

یوٹیوب پر دیکھیے