اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ
’’جو اتباع کریں گے رسولِ نبی اُمی (ﷺ)کا‘‘
یعنی محمد عربیﷺ کا اتباع کریں گے جن کو آخری رسول بنا کر بھیجا جائے گا ۔ حضورﷺ نے دُنیوی اعتبار سے کوئی تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور نہ ہی آپؐ دُنیوی معیار کے مطابق پڑھنا لکھنا جانتے تھے۔ اس لحاظ سے آپﷺ بھی اُمی تھے اور جن لوگوں میں آپﷺ کو مبعوث کیا گیا وہ بھی اُمی تھے‘ کیونکہ اُن لوگوں کے پاس اس سے پہلے کوئی کتاب تھی نہ کوئی شریعت۔
الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰىۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫
’’جسے پائیں گے وہ لکھا ہوااپنے پاس تورات اور انجیل میں‘‘
یعنی آخری نبی ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ‘ آپﷺ کے حالات ‘ اور آپﷺ کے بارے میں واضح علامات اُن کو تورات اور انجیل دونوں میں ملیں گی۔
یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ
’’وہ انہیں نیکی کا حکم دیں گے ‘تمام برائیوں سے روکیں گے اور اُن کے لیے تمام پاک چیزیں حلال کر دیں گے‘‘
بنی اسرائیل پر کچھ چیزیں اُن کی شرارتوں کی وجہ سے بھی حرام کر دی گئی تھیں‘ جیسا کہ سورۃ النساء (آیت ۱۶۰) میں ہم پڑھ آئے ہیں۔ اس لیے فرمایا کہ نبی اُمی ﷺ اُن پر سے ایسی تمام بندشیں اٹھا دیں گے اور تمام پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال کردیں گے۔
وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ
’’اور حرام کر دیں گے اُن پر نا پاک چیزوں کو ‘ اور اُن سے اتارد یں گے اُن کے بوجھ اور طوق جو اُن (کی گردنوں) پر پڑے ہوں گے۔‘‘
خودساختہ معاشرتی پابندیاں اور رسومات بھی ایک طرح سے متعلقہ لوگوں کے لیے بوجھ اور طوق ہیں جو معاشرے کے اندر کسی خاص طبقہ کے مفادات یا نمود و نمائش کی خواہش کی وجہ سے رواج پاتی ہیں ‘ بعد میں غریب لوگوں کو انہیں نبھانا پڑتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب ان کی وجہ سے ایک عام آدمی کی زندگی انتہائی مشکل
ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ معاشرے کی بلند ترین سطح پر بھی بڑی بڑی قباحتیں اور لعنتیں جنم لیتی ہیں جن کے بوجھ تلے عوام الناس بری طرح پس جاتے ہیں۔ مثلاً بادشاہت کا جبر‘ جاگیرداری کا استحصالی نظام‘ سیاسی و معاشی غلامی‘ رنگ و نسل کی بنیاد پر انسانیت میں تفریق وغیرہ۔ تو اس آیت میں بشارت دی جا رہی ہے کہ نبی آخر الزماں ﷺ آئیں گے اور انسانیت کو غلط رسومات ‘ خود ساختہ عقائد اور نظام ہائے باطلہ کے بوجھوں سے نجات دلاکر عدل اور قسط کا نظام قائم کریں گے۔
اس کے بعد حضورﷺکے ساتھ تعلق کی شرائط مذکور ہیں جن میں سے ہر شرط پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اس موضوع کو تفصیلی طور پر سمجھنے کے لیے میرے کتابچے بعنوان: ’’نبی اکرمﷺ سے ہمارے تعلق کی بنیادیں‘‘ کا مطالعہ مفید رہے گا۔
فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ
’’تو جو لوگ آپ (ﷺ )پر ایمان لائیں گے‘‘
یہ پہلی اور بنیادی شرط ہے۔ آپﷺ پر ایمان لانے کے دو بنیادی تقاضے ہیں۔ پہلا تقاضا ہے آپﷺ کی اطاعت اور دوسرا تقاضا ہے آپﷺ کی محبت۔ ان دونوں تقاضوں کے بارے میں دو احادیث ملاحظہ کیجیے۔ پہلی حدیث کے راوی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہماہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: حدیث((لَا یُـؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی یَـکُوْنَ ھَوَاہُ تَـبَعًا لِمَا جِئْتُ بِہٖ))۶’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہے جب تک کہ اُس کی خواہشِ نفس تابع نہ ہوجائے اس چیز کے جو میں (ﷺ) لے کر آیا ہوں‘‘۔یعنی جو احکام اور شریعت حضورﷺ لے کر تشریف لائے ہیں‘ اگر کوئی شخص ایمان رکھتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تو اسے اس سب کچھ کو تسلیم کر کے اس پر عمل کرنا ہو گا۔ دوسری حدیث متفق علیہ ہے اور اس کے راوی حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ ہیں۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((لَا یُـؤْمِنُ اَحَدُکُمْ حَتّٰی اَکُوْنَ اَحَبَّ اِلَـیْہِ مِنْ وَّالِدِہٖ وَوَلَدِہٖ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ))۷ ’’تم میں سے کوئی شخص مؤمن نہیں ہوسکتاجب تک کہ میں اسے محبوب ترنہ ہوجاؤں اس کے باپ‘ بیٹے اور تمام انسانوں سے‘‘۔ چنانچہ یہ دونوں تقاضے پورے ہوں گے تو آپﷺ پر ایمان کا دعویٰ حقیقت بنے گا۔ یعنی غایت درجہ میں آپﷺ کا اتباع اور غایت درجے میں آپﷺ کی محبت۔
وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ
’’اور آپ (ﷺ) کی تعظیم کریں گے اور آپ (ﷺ)کی مدد کریں گے‘‘
جب مذکورہ بالا دو تقاضے (حضورﷺ کی محبت اور اطاعت) پورے ہوں گے تو ان کے لازمی نتیجے کے طور پر دلوں میں رسول اللہﷺ کی تعظیم پیدا ہو گی‘ اور آپﷺ کی عظمت دلوں پر راج کرے گی۔ پھرجب اور جہاں آپﷺ کا نام مبارک سنائی دے گا بے ساختہ زبان پر درود و سلام آ جائے گا۔
آپﷺ کا فرمان سامنے آنے پر منطق و دلائل کا سہارا چھوڑ کر سرتسلیم خم کر دیا جائے گا۔
حضورﷺ کے ادب و احترام کے سلسلے میں ایک مسلمان کویہ اصول ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہیے کہ کسی معاملے میں حضورﷺ کا فرمان سن لینے کے بعد اس معاملے میں رائے زنی کرنا ایک مسلمان کو زیب نہیں دیتا۔ مثلاً اگر کہیں کسی مسئلے پر بحث ہو رہی ہو ‘ دونوں طرف دلائل کو دلائل کاٹ رہے ہوں اور ایسے میں اگر کوئی کہہ دے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس ضمن میں یوں فرمایا ہے تو حدیث کے سنتے ہی فوراً بحث ختم اور زبانیں بند ہوجانی چاہئیں۔ بعد میں تحقیق کی جا سکتی ہے کہ آپﷺ سے منسوب کر کے جو فرمان سنایا گیا ہے درحقیقت وہ حدیث ہے بھی یا نہیں اوراگر حدیث ہے تو روایت و درایت کے اعتبار سے اس کا کیا مقام ہے۔ حدیث صحیح ہے یا ضعیف…! حدیث سن کر وقتی طور پر فوراًچپ ہو جانا اور سر تسلیم خم کر دینا آپﷺ کے ادب کے تقاضوں میں سے ایک اہم اور بنیادی تقاضا ہے۔
جہاں تک حضورﷺ کی مدد کرنے کے حکم ( وَنَصَرُوْہُ) کا تعلق ہے اس ضمن میں یہ نکتہ بہت اہم ہے کہ نبی مکرمﷺ کو کس کام میں مدددرکار ہے؟کیا آپﷺ کو اپنے کسی ذاتی کام کے لیے مدد چاہیے؟ آپﷺ نے اپنی کوئی ذاتی سلطنت اور حکومت تو قائم نہیں کی‘ جس کے قیام و استحکام کے لیے آپﷺ کو مدد کی ضرورت ہوتی۔آپﷺ کی کوئی ذاتی جاگیر یا جائیداد بھی نہیں تھی‘ جس کو سنبھالنے کے لیے آپﷺ کو کسی کی مدد درکار ہوتی۔ دراصل آپﷺ کو اپنے اس مشن کی تکمیل کے لیے مدد چاہیے تھی جس کے لیے آپﷺ مبعوث ہوئے تھے اور وہ تھا غلبۂ حق اور اقامتِ دین کا مشن: {ہُوَ الَّذِیۡۤ اَرۡسَلَ رَسُوۡلَہٗ بِالۡہُدٰی وَ دِیۡنِ الۡحَقِّ لِیُظۡہِرَہٗ عَلَی الدِّیۡنِ کُلِّہٖ} (الصف:۹)۔ دین حق کے غلبے کے لیے کی جانے والی جاں گسل جدوجہد میں آپﷺ کو مددگاروں کی ضرورت تھی اور اس کے لیے آپﷺ کی طرف سے ’’مَنْ اَنْصَارِیْ اِلَی اللّٰہِ؟‘‘ کی صلائے عام تھی‘کہ مجھے اللہ کا دین غالب کرنا ہے‘ یہ میرا فرضِ منصبی ہے ‘کون ہے جو اس کام میں میرا ہاتھ بٹائے اور میرا مدد گار بنے؟چنانچہ آپﷺ نے اپنی محنت ‘ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قربانیوں اور اللہ کی نصرت سے جزیرہ نما ئے عرب میں دین کو غالب کر کے اپنے اس مشن کی تکمیل کر دی ۔ آپﷺ کے بعد کچھ عرصہ دین غالب رہا ‘پھر مغلوب ہوگیا اور آج تک مغلوب ہے۔ آج دنیا میں کہیں بھی دین غالب نہیں ہے۔ لہٰذااب دین کو ساری دنیا میں غالب کرنا حضورﷺ کی اُمت کی ذمہ داری ہے۔ اس ذمہ داری کے حوالے سے آپﷺ کا مشن آج بھی زندہ ہے ‘ گویا نَصَرُوْہُ کا میدان اب بھی کھلا ہے ۔ آج بھی حضورﷺ کو ہماری مدد کی ضرورت ہے۔ {یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُوۡنُوۡۤا اَنۡصَارَ اللّٰہِ} ( الصف: ۱۴) کے قرآنی حکم میں حضورﷺ کے اسی مشن کی مدد کی طرف اشارہ ہے اور یہ حکم آج بھی ہمیں پکار رہا ہے ۔
وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ
’’ اور پیروی کریں گے اُس نور کی جو آپ(ﷺ )کے ساتھ نازل کیا جائے گا‘‘
اس جملے میں گویا اس کٹھن مشن کی تکمیل کا راستہ بتایا گیا ہے ۔ یعنی دین کے غلبے کی تکمیل قرآن کے ذریعے سے ہو گی۔اس حوالے سے تذکیر بالقرآن‘ تبشیر بالقرآن‘ تبلیغ بالقرآن ‘ انذار بالقرآن ‘ تعلیم بالقرآن وغیرہ اصطلاحات معروف ہیں۔ جیسے محمد عربی ﷺ نے قرآن کے ذریعے سے لوگوں کا تزکیہ کیا: {یَتۡلُوۡا عَلَیۡہِمۡ اٰیٰتِہٖ وَ یُزَکِّیۡہِمۡ وَ یُعَلِّمُہُمُ الۡکِتٰبَ وَ الۡحِکۡمَۃَ ٭ } (الجمعہ: ۲) اسی طرح آج بھی ضرورت ہے کہ قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو ترغیب دی جائے‘ قرآن کی تلاوت سے ان کے دلوں کی صفائی کی جائے ‘ قرآن کا پیغام سنا کر انہیں جہالت کے اندھیروں سے ہدایت کے اُجالے کی طرف لایا جائے‘ قرآن کے نور سے تاریک دلو ں کے اندر ایمان کی شمعیں روشن کی جائیں۔ پھرجو لوگ قرآن کے پیغام پر لبیک کہیںانہیں منظم کیا جائے‘ ان میں منزل کی تڑپ پیدا کر کے اس افرادی قوت کو سیسہ پلائی ہوئی دیوار کے قالب میں ڈھالا جائے اور پھر باطل سے ٹکر لے کر اسے پاش پاش کر دیا جائے۔ یہ ہے آپﷺ کی مدد کرنے کا صحیح طریقہ‘ اور یہ ہے اس نور (قرآن)کی پیروی کرنے کا معروف راستہ۔ اور جولوگ اس راستے پر چلیں گے ان کے بارے میں فرمایا:
اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۱۵۷﴾
’’وہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘
(۶) الاربعون النوویۃ‘ ح:۴۱۔ قال النووی: حدیث حسن صحیح رویناہ فی کتاب الحجۃ باسناد صحیح۔ ومشکاۃ المصابیح‘ کتاب الایمان‘ باب الاعتصام بالکتاب والسُّنۃ‘ الفصل الثانی۔
(۷) صحیح البخاری‘ کتاب الایمان‘ باب حب الرسول من الایمان۔ وصحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب وجوب محبۃ رسول اللّٰہﷺ اکثر من الاھل والولد والوالد والناس اجمعین…