تحریر

الأعراف

آیات ۱۴۲ تا ۱۴۷

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

142-143

اللہ کے دیدار کی خواہش

ویڈیو

وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾ وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾

آیت 142

وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً

’’اور ہم نے بلایا موسیٰؑ کو تیس راتوں کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تیس راتوں کے لیے کوہِ سینا (طور) پر طلب کیا۔ عام طور پر اس طرح کہنے سے دن رات ہی مراد ہوتے ہیں‘ لیکن عربی محاورہ میں رات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ

’’اور مکمل کر دیا ہم نے اس مدت کو دس (مزید راتوں) سے‘ تو مدت پوری ہو گئی اُس کے ربّ کی چالیس راتوں کی۔‘‘

اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر ’’چلہ‘‘ مکمل کیا‘ جس کے دوران آپ نے لگاتار روزے بھی رکھے۔ ہمارے ہاں صوفیاء نے چلہ کاٹنے کا تصور غالباً یہیں سے لیا ہے۔

وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾

’’اور (جاتے ہوئے )کہا موسیٰؑ نے اپنے بھائی ہارون ؑسے کہ میری قوم کے اندر میری نیابت کے فرائض ادا کرنا‘ اصلاح کرتے رہنا اور فسادکرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔‘‘

آیت 143

وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ

’’اور جب موسیٰؑ پہنچے ہمارے وقتِ مقررہ پر اور ان سے کلام کیا ان کے رب نے‘‘

قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ

’’انہوں نے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھو ں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے‘‘

وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ

’’لیکن ذرا اس پہاڑ کو دیکھو‘ اگر وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔‘‘

فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا

’’تو جب اُس ؑ کے ربّ نے اپنی تجلی ڈالی پہاڑ پر توکر دیا اس کو ریزہ ریزہ‘‘ جَلَا یَجْلُو جَلَائً کے معنی ہیں ظاہر کرنا‘ روشن کرنا۔ اس سے ’’تجلّی‘‘باب تفعل ہے‘ یعنی کسی چیز کا خود روشن ہو جانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی تھی جو پہاڑ پر ڈالی گئی جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔

وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ

’’ اورموسیٰؑ گر پڑے بے ہوش ہو کر ‘‘

تجلیٔ باری تعالیٰ کے اس بالواسطہ مشاہدے کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کر سکے ۔ پہاڑ پر تجلی کا پڑنا تھا کہ آپؑ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔

فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾

’’ پھر جب آپؑ کو افاقہ ہوا تو کہا کہ (اے اللہ !)تو پاک ہے‘ میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ہوں پہلا ایمان لانے والا!‘‘

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سوال کی جسارت پر توبہ کی اور عرض کیا کہ اے اللہ! میں تجھے دیکھے بغیر سب سے پہلے تجھ پر ایمان لانے والا ہوں۔

144-145

تورات کا نزول اور اس کی افادیت

ویڈیو

قَالَ یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصۡطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلَامِیۡ ۫ۖ فَخُذۡ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾ وَ کَتَبۡنَا لَہٗ فِی الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوۡعِظَۃً وَّ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ فَخُذۡہَا بِقُوَّۃٍ وَّ اۡمُرۡ قَوۡمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِہَا ؕ سَاُورِیۡکُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾

آیت 144

قَالَ یٰمُوۡسٰۤی اِنِّی اصۡطَفَیۡتُکَ عَلَی النَّاسِ بِرِسٰلٰتِیۡ وَ بِکَلَامِیۡ ۫ۖ

’’(اللہ نے) فرمایا: اے موسیٰؑ میں نے تمہیں منتخب کیا ہے لوگوں پر (ترجیح دے کر) اپنی پیغمبری اور اپنی ہم کلامی کے لیے۔‘‘

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا امتیازی مقام تھا ‘جیسے سورۃ النساء میں فرمایا: {وَ کَلَّمَ اللّٰہُ مُوۡسٰی تَکۡلِیۡمًا ﴿ۚ۱۶۴﴾}۔

فَخُذۡ مَاۤ اٰتَیۡتُکَ وَ کُنۡ مِّنَ الشّٰکِرِیۡنَ ﴿۱۴۴﴾

’’تو لے لو جو میں تمہیں دے رہا ہوں اور ہو جائو شکر کرنے والوں میں۔‘‘

یعنی یہ الواح جو ہم آپ ؑ کو دے رہے ہیں انہیں لے لو اور ان میں جو احکام لکھے ہوئے ہیں ان کا حق ادا کرو۔

آیت 145

وَ کَتَبۡنَا لَہٗ فِی الۡاَلۡوَاحِ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ مَّوۡعِظَۃً وَّ تَفۡصِیۡلًا لِّکُلِّ شَیۡءٍ ۚ

’’اور ہم نے لکھ دی اُس ؑکے لیے تختیوں پر ہر طرح کی نصیحت اور ہر طرح (کے احکام) کی تفصیل۔‘‘

یعنی شریعت کے تمام بنیادی احکام ان الواح میں درج کر دیے گئے تھے۔ اللہ کی اتاری ہوئی شریعت کے بنیادی احکام شاہراہِ حیات پر انسان کے لیے گویا خطرے سے بچنے کے اشارات (danger signals) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جیسے کسی پر پیچ پہاڑی سڑک پر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے جگہ جگہ danger cautions نصب کیے جاتے ہیںاسی طرح انسانی تمدن کے پیچیدہ راستوں پر آسمانی شریعت اپنے احکامات کے cautions نصب کر کے انسانی تگ و دو کے لیے ایک محفوظ دائرہ فراہم کردیتی ہے تاکہ انسان اس دائرے کے اندر رہتے ہوئے ‘ اپنی عقل کو بروئے کار لاکر اپنی مرضی اور پسند نا پسند کے مطابق زندگی گزارے۔ اس دائرے کے باہر ’’محرمات ‘‘ ہوتے ہیں جن کے بارے میں اللہ کا حکم ہے کہ ان کے قریب بھی مت جانا: {تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ فَلَا تَقۡرَبُوۡہَا ؕ} (البقرۃ:۱۸۷) ۔

فَخُذۡہَا بِقُوَّۃٍ وَّ اۡمُرۡ قَوۡمَکَ یَاۡخُذُوۡا بِاَحۡسَنِہَا ؕ

’’تو (اے موسیٰ علیہ السلام ) اس کو تھام لو مضبوطی کے ساتھ اور اپنی قوم کو بھی حکم دو کہ وہ اس کو پکڑیں اس کی بہترین صورت پر۔‘‘

کسی بھی حکم پر عمل درآمد کے لیے مختلف درجے ہوتے ہیں ۔ یہ عمل درآمد ادنیٰ درجے میں بھی ہو سکتا ہے ‘ اوسط درجے میں بھی اور اعلیٰ درجے میں بھی۔ لہٰذا اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ آپؑ اپنی قوم کو ترغیب دیں کہ وہ احکامِ شریعت پر عمل کرتے ہوئے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ یہی نکتہ قرآن مجید میں ہم مسلمانوں کو بھی بتایا گیا: {الَّذِیۡنَ یَسۡتَمِعُوۡنَ الۡقَوۡلَ فَیَتَّبِعُوۡنَ اَحۡسَنَہٗ ؕ} ( الزمر :۱۸) یعنی وہ لوگ کلام اللہ کو سنتے ہیں پھر جو اس کی بہترین بات ہوتی ہے اس کو اختیار کرتے ہیں۔ اس مضمون کو یوں سمجھیں کہ بعض اوقات انسان کسی وجہ سے اپنی ذمہ داریوں کے بارے میں ڈھیل اور رعایت حاصل کرنا چاہتا ہے ۔ اپنے ایسے رویے کے تحت وہ اپنے کسی دائرہ عمل کے اندر کوئی امتیازی پوزیشن حاصل کرنے کی خواہش رکھنے کے بجائے محض ادنیٰ درجے کی کامیابی پر ہی قناعت کرنا چاہتا ہے۔ لیکن دینی امور کے معاملے میں انسان کا ایسا طرزِعمل درست نہیں۔دینی امور میں عمل کا اچھے سے اچھا اور اعلیٰ سے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ جیسا کہ ہم سورۃ المائدۃ میں بھی پڑھ آئے ہیں: {اِذَا مَا اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اٰمَنُوۡا ثُمَّ اتَّقَوۡا وَّ اَحۡسَنُوۡا ؕ وَ اللّٰہُ یُحِبُّ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾} ’’ جب تک وہ تقویٰ کی روش اختیار کیے رکھیں اور ایمان لائیں اور نیک عمل کریں ‘پھر مزید تقویٰ اختیار کریں اور ایمان لائیں‘ پھر اور تقویٰ میں بڑھیں اوردرجۂ احسان پر فائز ہو جائیں ۔ اور اللہ تعالیٰ محسنوں سے محبت کرتا ہے‘‘۔ دُنیوی اُمور میں تو ہر شخص ع ’’ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں!‘‘ کے نظریے کا حامل نظر آتا ہی ہے ‘لیکن دین کے سلسلے میں بھی ہر مسلمان کی کوشش ہونی چاہیے کہ اس کا آج اس کے کل سے بہتر ہو۔ یعنی دینی امور میں انسان ترقی کے لیے حتی الامکان ہر گھڑی کوشاں رہے۔

سَاُورِیۡکُمۡ دَارَ الۡفٰسِقِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾

’’عنقریب میں تمہیں گھر دکھائوں گا (جس پر اس وقت قبضہ ہے) فاسقوں کا۔‘‘

اس سے مراد فلسطین کا علاقہ ہے جس پر حملہ آور ہونے کا حکم حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملنے والا تھا۔ بنی اسرائیل کا قافلہ مصر سے نکلنے کے بعد خلیج سویز کو عبور کر کے صحرائے سینا میں داخل ہوا تو خلیج سویز کے ساتھ ساتھ سفر کرتا رہا‘ یہاں تک کہ جزیرہ نمائے سیناکے جنوبی کونے میں اس مقام پر پہنچ گیا جہاں کوہِ طور واقع ہے ۔ یہاں پر اس قافلے کا طویل عرصے تک قیام رہا۔ یہیں پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو کوہِ طور پر طلب کیا گیا اور جب آپؑ تورات لے کر واپس آئے تو آپؑ کو فلسطین پر حملہ آور ہونے کا حکم ملا۔ چنانچہ یہاں سے یہ قافلہ خلیج عقبہ کے ساتھ ساتھ شمال کی طرف عازمِ سفر ہوا۔بنی اسرائیل سات آٹھ سو سال قبل حضرت یوسف علیہ السلام کی دعوت پر فلسطین چھوڑ کر مصر میں آبسے تھے۔ اب فلسطین میں وہ مشرک اور فاسق قوم قابض تھی جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ بہت زور آور لوگ ہیں۔ چنانچہ جب ان کو حکم ملا کہ جا کر اس قوم سے جہاد کروتو انہوں نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کر دی

کہ ایسے طاقتور لوگوں سے جنگ کرنا ان کے بس کی بات نہیں: {قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِنَّ فِیۡہَا قَوۡمًا جَبَّارِیۡنَ ٭ۖ } (المائدۃ: ۲۲) اس واقعے کی تفصیل سورۃ المائدۃ میں گزر چکی ہے۔ یہاں اسی مہم کا ذکر ہو رہا ہے کہ میں عنقریب تم لوگوں کو اس سر زمین کی طر ف لے جائو ں گا جو تمہارا اصل وطن ہے لیکن ابھی اس پر فاسقوں کا قبضہ ہے ۔ ان نافرمان لوگوں کے ساتھ جنگ کر کے تم نے اپنے وطن کو آزاد کرانا ہے۔

146-147

تکبر کرنے والے کو ہدایت نہیں ملتی

ویڈیو

سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ۚ وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الرُّشۡدِ لَا یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ۚ وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الۡغَیِّ یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ؕ ہَلۡ یُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۴۷﴾

آیت 146

سَاَصۡرِفُ عَنۡ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ ؕ

’’میں پھیر دوں گا اپنی آیات سے ان لوگوں (کے رُخ) کو جو زمین میں نا حق تکبر کرتے ہیں۔‘‘

یہاں ایک اصول بیان فرما دیا گیاکہ جن لوگوں کے اندر تکبر ہوتا ہے اللہ تعالیٰ خود ان کا رخ اپنی آیات کی طرف سے پھیر دیتا ہے۔ چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھ ہی نہیں سکتے‘ان پر غور کر ہی نہیں سکتے ۔ اس لیے کہ تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔ ایک حدیثِ قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : حدیث((اَلْـکِبْرِیَائُ رِدَائِیْ))۴ یعنی تکبرمیری چادر ہے‘ اگر کوئی انسان تکبر کرتا ہے تو وہ گویا میری چادر میرے شانے سے گھسیٹ رہا ہے‘ لہٰذا ایسے ہرانسان کے خلاف میرا اعلانِ جنگ ہے۔ ایک اور حدیث میں رسول اللہﷺ نے فرمایا: حدیث((لَا یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ مَنْ کَانَ فِیْ قَلْبِہٖ مِثْقَالُ حَبَّۃٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ))۵’’وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہے‘‘۔ چنانچہ آیت زیر نظر کا مفہوم یہ ہے کہ جن لوگوں کے اندر تکبر ہے ہم خود انہیں اپنی آیات سے برگشتہ کر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ہم اس لائق ہی نہیں سمجھتے کہ وہ ہماری آیات کو دیکھیں اور سمجھیں۔ ایسے مغرور لوگوں کو ہم سیدھی راہ کی طرف توجہ مرکوز کرنے ہی نہیں دیتے۔

وَ اِنۡ یَّرَوۡا کُلَّ اٰیَۃٍ لَّا یُؤۡمِنُوۡا بِہَا ۚ

’’اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ساری نشانیاں تب بھی وہ ان پر ایمان نہیں لائیں گے۔‘‘

وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الرُّشۡدِ لَا یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ۚ

’’اور اگر وہ دیکھ بھی لیں ہدایت کا راستہ تب بھی اس راستے کو اختیار نہیں کریں گے۔‘‘

وَ اِنۡ یَّرَوۡا سَبِیۡلَ الۡغَیِّ یَتَّخِذُوۡہُ سَبِیۡلًا ؕ

’’اور اگر وہ دیکھیں برائی کا راستہ تواسے وہ (فوراً) اختیار کر لیں گے۔‘‘

ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ کَانُوۡا عَنۡہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿۱۴۶﴾

’’یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایااور ان سے تغافل برتتے رہے۔‘‘

(۴) سنن ابی داوٗد‘ کتاب اللباس‘ باب ما جاء فی الکبر ۔

(۵) صحیح مسلم‘ کتاب الایمان‘ باب تحریم الکبر وبیانہ۔ وسنن الترمذی‘ ابواب البر والصلۃ‘ باب ماجاء فی الکبر‘ واللفظ لہ۔

آیت 147

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الۡاٰخِرَۃِ حَبِطَتۡ اَعۡمَالُہُمۡ ؕ

’’اور جو لوگ بھی جھٹلائیں گے

ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو ‘ ان کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔‘‘

ایسے لوگ اپنے تئیں بڑی بڑی نیکیاں کمار ہے ہوں گے ‘ مگر اللہ کے ہاں ان کی اِن نیکیوں کا کوئی صلہ نہیں ہو گا۔ جیسا کہ قریشِ مکہ خود کو ’’خادمینِ کعبہ‘‘ سمجھتے تھے‘ وہ کعبہ کی صفائی اور ستھرائی کا خصوصی اہتمام کرتے ‘ حاجیوں کی خدمت کرتے ‘ ان کے لیے دودھ اور پانی کی سبیلیں لگاتے ‘مگرحضرت محمد رسول اللہﷺ کی دعوت پر ایمان لائے بغیر ان کے ان سارے اعمال کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں تھی ۔

ہَلۡ یُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۴۷﴾

’’اور ان کو نہیں دیا جائے گا بدلے میں مگر وہی کچھ جو وہ کرتے رہے تھے۔‘‘

یوٹیوب پر دیکھیے