وَ وٰعَدۡنَا مُوۡسٰی ثَلٰثِیۡنَ لَیۡلَۃً
’’اور ہم نے بلایا موسیٰؑ کو تیس راتوں کے لیے‘‘ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تیس راتوں کے لیے کوہِ سینا (طور) پر طلب کیا۔ عام طور پر اس طرح کہنے سے دن رات ہی مراد ہوتے ہیں‘ لیکن عربی محاورہ میں رات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔
وَّ اَتۡمَمۡنٰہَا بِعَشۡرٍ فَتَمَّ مِیۡقَاتُ رَبِّہٖۤ اَرۡبَعِیۡنَ لَیۡلَۃً ۚ
’’اور مکمل کر دیا ہم نے اس مدت کو دس (مزید راتوں) سے‘ تو مدت پوری ہو گئی اُس کے ربّ کی چالیس راتوں کی۔‘‘
اس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کوہِ طور پر ’’چلہ‘‘ مکمل کیا‘ جس کے دوران آپ نے لگاتار روزے بھی رکھے۔ ہمارے ہاں صوفیاء نے چلہ کاٹنے کا تصور غالباً یہیں سے لیا ہے۔
وَ قَالَ مُوۡسٰی لِاَخِیۡہِ ہٰرُوۡنَ اخۡلُفۡنِیۡ فِیۡ قَوۡمِیۡ وَ اَصۡلِحۡ وَ لَا تَتَّبِعۡ سَبِیۡلَ الۡمُفۡسِدِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾
’’اور (جاتے ہوئے )کہا موسیٰؑ نے اپنے بھائی ہارون ؑسے کہ میری قوم کے اندر میری نیابت کے فرائض ادا کرنا‘ اصلاح کرتے رہنا اور فسادکرنے والوں کے راستے کی پیروی نہ کرنا۔‘‘
وَ لَمَّا جَآءَ مُوۡسٰی لِمِیۡقَاتِنَا وَ کَلَّمَہٗ رَبُّہٗ ۙ
’’اور جب موسیٰؑ پہنچے ہمارے وقتِ مقررہ پر اور ان سے کلام کیا ان کے رب نے‘‘
قَالَ رَبِّ اَرِنِیۡۤ اَنۡظُرۡ اِلَیۡکَ ؕ قَالَ لَنۡ تَرٰىنِیۡ
’’انہوں نے درخواست کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھو ں۔ اللہ نے فرمایا کہ تم مجھے ہر گز نہیں دیکھ سکتے‘‘
وَ لٰکِنِ انۡظُرۡ اِلَی الۡجَبَلِ فَاِنِ اسۡتَقَرَّ مَکَانَہٗ فَسَوۡفَ تَرٰىنِیۡ ۚ
’’لیکن ذرا اس پہاڑ کو دیکھو‘ اگر وہ اپنی جگہ پر کھڑا رہ جائے تو تم بھی مجھے دیکھ سکو گے۔‘‘
فَلَمَّا تَجَلّٰی رَبُّہٗ لِلۡجَبَلِ جَعَلَہٗ دَکًّا
’’تو جب اُس ؑ کے ربّ نے اپنی تجلی ڈالی پہاڑ پر توکر دیا اس کو ریزہ ریزہ‘‘ جَلَا یَجْلُو جَلَائً کے معنی ہیں ظاہر کرنا‘ روشن کرنا۔ اس سے ’’تجلّی‘‘باب تفعل ہے‘ یعنی کسی چیز کا خود روشن ہو جانا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تجلی تھی جو پہاڑ پر ڈالی گئی جس سے پہاڑ ریزہ ریزہ ہو گیا۔
وَّ خَرَّ مُوۡسٰی صَعِقًا ۚ
’’ اورموسیٰؑ گر پڑے بے ہوش ہو کر ‘‘
تجلیٔ باری تعالیٰ کے اس بالواسطہ مشاہدے کو بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہ کر سکے ۔ پہاڑ پر تجلی کا پڑنا تھا کہ آپؑ بے ہوش ہو کر گر پڑے۔
فَلَمَّاۤ اَفَاقَ قَالَ سُبۡحٰنَکَ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَ اَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۱۴۳﴾
’’ پھر جب آپؑ کو افاقہ ہوا تو کہا کہ (اے اللہ !)تو پاک ہے‘ میں تیری جناب میں توبہ کرتا ہوں اور میں ہوں پہلا ایمان لانے والا!‘‘
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہوش آیا تو آپؑ نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے سوال کی جسارت پر توبہ کی اور عرض کیا کہ اے اللہ! میں تجھے دیکھے بغیر سب سے پہلے تجھ پر ایمان لانے والا ہوں۔