’’اور ہم نے پکڑا آلِ فرعون کو لگاتار قحط سالی اور فصلوں کی تباہی سے تا کہ وہ نصیحت پکڑیں۔‘‘
یہ وہی قانون ہے جس کا ذکر اسی سورت کی آیت ۹۴ میں ہو چکا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کی طرف کوئی رسول بھیجتا ہے تو انہیں آزمائشوں اور مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے تا کہ وہ خوابِ غفلت سے جاگیں اور دعوتِ حق کی طرف متوجہ ہوں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جب آلِ فرعون کی طرف مبعوث ہوئے اور آپؑ نے اپنی دعوت شروع کی تو اس دوران میں اللہ تعالیٰ نے قومِ فرعون پر چھوٹے چھوٹے عذاب بھیجنے شروع کیے تا کہ وہ ہوش میں آجائیں۔
’’ آگاہ ہو جائو کہ ان کی شومیٔ قسمت اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن ان میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں۔‘‘ جب ان کے حالات قدرے بہتر ہوتے یعنی فصلیں وغیرہ ٹھیک ہوجاتیں ‘خوشحالی آتی اور ان کو آسائش حاصل ہوتی تو وہ کہتے کہ یہ ہماری محنت‘ منصوبہ بندی اور کوشش کا نتیجہ ہے‘یہ ہمارا استحقاق ہے۔ اور جب ان کو فصلوں وغیرہ میں نقصان ہوتا یا کسی اور قسم کی تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا تو وہ اس سب کچھ کی ذمہ داری حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھیوں پر ڈال دیتے کہ ہماری تمام مشکلات ان لوگوں کی نحوست کی وجہ سے ہیں۔
’’اور وہ کہتے کہ (اے موسیٰ!) تم ہمارے اوپر خواہ کوئی بھی نشانی لے آؤ تاکہ اس سے ہم پر جادو کرو ‘ مگر ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں۔‘‘
وہ تحدی کے انداز میں کہتے کہ اے موسیٰ! یہ جو تم اپنے جادو کے زور سے ہم پر مصیبتیں لا رہے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہم تمہارے جادو کے زیراثر اپنے عقائد سے برگشتہ ہو جائیں گے‘ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا! ہم تمہاری بات ماننے والے نہیں ہیں!
’’پھر ہم نے بھیجے ان کے اوپر طوفان اور ٹڈی دَل‘ اور چچڑیاں اور مینڈک اور خون‘‘
ان پر طوفانِ باد وباراں آتے‘ ٹڈی دل ان کی فصلوں کو چٹ کر جاتی ‘ چچڑیاں ‘ جوئیں ‘ کھٹمل اور پسو مسلسل انہیں تنگ کرتے ‘ان کے اناج میں کثرت سے سرسریاں پڑ جاتیں۔ مینڈک ان کے گھروں ‘ بستروں اور برتنوں وغیرہ میں ہر جگہ دندناتے پھرتے۔ وقتاً فوقتاً ان پر خون کی بارش ہوتی اور کھانے پینے کی چیزوں میں بھی خون کی آمیزش ہو جاتی۔
اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ ۟
’’(ہم نے بھیجیںیہ)نشانیاں وقفے وقفے سے‘‘
یہ ساری مصیبتیں اور آزمائشیں یکبارگی ان پر مسلط نہیں ہو گئی تھیں‘بلکہ وقفے وقفے سے یکے بعد دیگرے آتی رہیں‘ کہ شاید کسی وقت عاجز آ کر وہ راہِ راست پر آجائیں اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعوت کو قبول کر لیں۔
’’(اس کے باوجود) وہ تکبر پر اڑے رہے اور وہ تھے ہی مجر م لوگ۔‘‘
اگلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد میں ان کی یہ اکڑ ختم ہو گئی تھی اور مشکلات کے خاتمے کے لیے وہ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی منت سماجت کرنے پر بھی تیار ہو گئے تھے۔
’’ اگر تم نے ہم سے اس عذاب کو ہٹا دیا توہم لازماًتمہاری بات مان لیں گے‘‘ آمَنَ کے ساتھ جب ’’ل‘‘ کا صلہ آتا ہے (ج یسے لَکَ) تو یہ فعل عقیدے والے ’’ایمان‘‘ کے بجائے کسی بات کو سرسری انداز میں ماننے کے معنی دیتا ہے۔لہٰذا ’’لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ‘‘ کا مطلب ہے کہ ہم لازماًتمہاری بات مان لیں گے ۔ لیکن اس فعل کے ساتھ جب ’’ب‘‘ کا صلہ آئے ‘جیسا کہ ’’آمَنْتُ بِاللّٰہِ وَمَلآئِکَتِہٖ وَکُتُبِہٖ ‘‘ میں ہے تو اس کے معنی پورے وثوق ‘ یقین اور گہرے اعتماد کے ساتھ ماننے یعنی ایمان لانے کے ہوتے ہیں۔
’’اور ہم بنی اسرائیل کو بھی لازماً تمہارے ساتھ بھیج دیں گے۔‘‘
اس زمانے میں مصر کے اندر بنی اسرائیل کی حیثیت حکمران خاندان کے غلاموں کی سی تھی۔ فراعنہ ان سے مشکل اور بھاری کام بیگارمیں کرواتے تھے۔ اہرامِ مصر کی تعمیر کے دوران ہزاروں اسرائیلی بے رحم مشقت کے سبب جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ان کی ہڈیاں اہرامِ مصر کی بنیادوں میں دفن ہو گئیں۔ اہراموں کی تعمیر کے لیے سینکڑوں من وزنی چٹانوں کو دھکیلتے اور کھینچتے ہوئے اوپر چڑھایا جاتا تھا ۔ اس دوران اگر کوئی چٹان گر جاتی تو اس کے نیچے سینکڑوں اسرائیلی پس جاتے۔چونکہ وہ لوگ فرعون کے مفت کے کارندے تھے لہٰذا وہ ان کو آسانی سے چھوڑنے والا نہیں تھا۔ لیکن ان آیات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ یکے بعد دیگرے آنے والے عذاب سہہ سہہ کر فرعون اور اُس کے امراء کا غرور و تکبر کچھ کم ہوا تھا ۔ چنانچہ جب وہ لوگ زیادہ عاجز آ جاتے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام سے یہ وعدہ بھی کرتے تھے کہ اگر یہ مصیبت ٹل جائے تو ہم آپؑ کی بات مان لیں گے اور آپ ؑ کی قوم کو آزاد کر کے آپؑ کے ساتھ بھیج دیں گے۔
’’اور جن لوگوں کو دبا لیا گیا تھا (اب) ہم نے انہیں وارث بنا دیا اس زمین کے مشرق و مغرب کا جس کو ہم نے بابرکت بنایا تھا ۔‘‘
یہاں پر مَشَارِقَ الْاَرْضِ وَمَغَارِبَہَا کی ترکیب کی خاص ادبی (literary) اہمیت ہے جو فقرے میں ایک خوبصورت rhythm پیدا کر رہی ہے۔ اس آیت کا سادہ مفہوم یہی ہے کہ بنی اسرائیل جو مصر میں غلامی کی زندگی بسر کر رہے تھے ان کو وہاں سے اٹھا کر پورے فلسطین کا وارث بنا دیا۔ ارضِ فلسطین کی خصوصی برکت کا ذکر سورئہ بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں بھی بٰـرَکْنَا حَوْلَـہٗ کے الفاظ کے ساتھ ہوا ہے۔ یہ سرزمی ن حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بعد سینکڑوں انبیاء کے مسکن و مدفن کی حیثیت سے بھی متبرک ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے اسے ایک امتیازی نوعیت کی زرخیزی سے نوازا ہے۔
’’اور آپ کے رب کا اچھا وعدہ بنی اسرائیل کے حق میں پورا ہوا اس وجہ سے کہ وہ ثابت قدم رہے۔‘‘
ان میں سے جو لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لائے تھے انہوں نے واقعتا سخت ترین آزمائشوں پر صبر کیا اور ثابت قدمی دکھائی اور اس سبب سے اللہ تعالیٰ نے ان پر انعام فرمایا۔
’’اور ہم نے تباہ و برباد کرڈالاوہ سب کچھ جو فرعون اور اُس کی قوم کے لوگ (اونچے محلات ) بناتے تھے اور (باغات میں انگور کی بیلوں وغیرہ کے لیے چھتریاں)چڑھاتے تھے۔‘‘
یعنی فرعون اور اس کی قوم کی ساری تعمیرات اور ان کے سارے باغات وغیرہ ملیا میٹ کر دیے گئے۔
اب اگلی آیات میں بنی اسرائیل کے مصر سے صحرائے سینا تک کے سفر کا تذکرہ ہے۔ ان واقعات کا ذکر مدنی سورتوں میں بھی متعدد بارآیا ہے۔ Old Testament کی کتاب الخروج (Exodus) میں بھی اس سفر کی کچھ تفصیلات ملتی ہیں۔
’’تو ان کا گزر ہوا ایک ایسی قوم پر جو اعتکاف کررہی تھی اپنے بتوں کا۔‘‘
بتوں کا اعتکاف کرنے سے مراد بتوں کے سامنے پوری توجہ اور یکسوئی سے بیٹھنا ہے جو بت پرستوں کا طریقہ ہے۔ بت پرستی کے اس فلسفے پر ڈاکٹر رادھا کرشنن (۱۸۸۸ء تا ۱۹۷۵ء) نے تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر رادھا کرشنن انیس سو ساٹھ کی دہائی میں ہندوستان کے صدر بھی رہے۔ انہوں نے اپنی تصنیفات کے ذریعے ہندوستان کے قدیم فلسفے کو زندہ کیا۔ وہ برٹرینڈرسل (۱۸۷۲ء تا ۱۹۷۰ئ) کے ہم عصر تھے ۔یہ دونوں اپنے زمانے میں چوٹی کے فلسفی مانے جاتے تھے۔ برٹرینڈ رسل ملحد تھا جبکہ ڈاکٹر رادھا کرشنن مذہبی تھے۔ اتفاق سے ان دونوں نے کم و بیش ۹۰سال کی عمر پائی۔ بت پرستی کے بارے میں ڈاکٹر رادھا کرشنن کے فلسفے کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم دیوی دیوتائوں کے بتوں کو اپنے نفع یا نقصان کا مالک نہیں سمجھتے‘ بلکہ ہمارا اصل مقصد ایک مجسم چیز کے ذریعے سے توجہ مرکوز کرنا ہوتا ہے۔ کیونکہ تصوراتی انداز میں ان دیوتائوں کے بارے میں مراقبہ کرنا اور پوری توجہ کے ساتھ ان کی طرف دھیان کرنا بہت مشکل ہے ‘ جبکہ مجسمہ یا تصویر سامنے رکھ کر توجہ مرکوز کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اسی انسانی کمزوری کو علامہ اقبال نے اپنی نظم ’’شکوہ‘‘ میں اس طرح بیان کیا ہے ؎
خوگر پیکر محسوس تھی انساں کی نظر
مانتا پھر کوئی اَن دیکھے خدا کو کیونکر!
بہر حال بنی اسرائیل نے اس بت پرست قوم کو اپنے بتوں کی عبادت میں مشغول پایا تو ان کا جی بھی مصنوعی خداؤں کی پوجا پاٹ کے لیے للچانے لگا۔
’’انہوں نے کہا : اے موسیٰ ؑ!ہمارے لیے بھی کوئی معبود بنا دوجیسے اُن کے معبود ہیں۔‘‘
مذکورہ بت پرست قوم سے ترغیب پا کر بنی اسرائیل کا بھی جی چاہا کہ ان کے لیے بھی کوئی اس طرح کا معبود ہونا چاہیے جس کو سامنے رکھ کر وہ اس کی پوجا کریں۔ چنانچہ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اپنی اس خواہش کا اظہار کر ہی دیا۔ جواب میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں سخت ڈانٹ پلائی: