’’اور قومِ مدین کی طرف(ہم نے بھیجا )ان کے بھائی شعیب ؑکو۔‘‘
حضرت شعیب علیہ السلام کا تعلق اسی قوم سے تھا‘ اس لیے آپؑ کو ان کابھائی قرار دیا گیا۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تیسری بیوی کا نام ’قطورا‘تھا ۔ان سے آپؑ کے کئی بیٹے ہوئے ‘ جن میں سے ایک کا نام مدین تھا جواپنی اولاد کے ساتھ خلیج عقبہ کے مشرقی ساحل پر آباد ہو گئے تھے۔یہ علاقہ ان لوگوں کی وجہ سے بعد میں ’’مدین‘‘ ہی کے نام سے معروف ہوا۔مدین کا علاقہ بھی اس بین الاقوامی تجارتی شاہراہ پر واقع تھا جو اُس زمانے میں فلسطین سے یمن کو جاتی تھی۔ اس لحاظ سے اہلِ مدین بہت خوشحال لوگ تھے ۔ نتیجتاً ان میں بہت سی کاروباری اور تجارتی بد عنوانیاں پیدا ہو گئی تھیں۔اس قوم کی اصلاح کے لیے حضرت شعیب علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا۔
’’تو ماپ اور تول پورا کیا کرواور لوگوں سے ان کی چیزیں کم نہ کیا کرو‘ اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ‘ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مؤمن ہو۔‘‘
اہل مدین چونکہ کاروباری لوگ تھے‘ لہٰذا ان کے ہاں جو خاص خرابی اجتماعی طور پر پیدا ہو گئی تھی وہ ماپ تول میں کمی کی عادت تھی ۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے قبل زمانہ کی جن تین اقوام کا ذکر قرآن میں آیا ہے‘ یعنی قومِ نوح‘ قومِ ہود اور قومِ صالح ان میں سوائے شرک کے اور کسی خرابی کی تفصیل نہیں ملتی۔ یعنی اُس زمانے تک انسانی تمدن اتنا سادہ تھا کہ ابھی اعمال کی خرابیاں اور گندگیاںرائج نہیں ہوئی تھیں۔ تب تک انسان فطرت کے زیادہ قریب تھا ‘اس لیے وہ پیچیدگیاں جو تمدن کے پھیلنے کے ساتھ بڑھتی ہیں اور وہ بدعنوانیاں جو تمدنی پیچیدگیوں کی وجہ سے پھیلتی ہیں وہ ابھی ان اقوام کے افراد میں پیدا نہیں ہوئی تھیں۔اس لحا ظ سے دیکھا جائے تو جنسی برائیاں سب سے پہلے قومِ لوط میں اور مالی بدعنوانیاں سب سے پہلے اہل مدین میں پیدا ہوئیں۔
آیت 86
وَ لَا تَقۡعُدُوۡا بِکُلِّ صِرَاطٍ تُوۡعِدُوۡنَ
’’اور نہ بیٹھا کرو ہر راستے پر ڈرانے دھمکانے کے لیے‘‘
یعنی وہ لوگ راہزنی بھی کرتے تھے اور تجارتی قافلوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے بھتہ بھی وصول کرتے تھے ۔
ن حرکات سے بھی حضرت شعیب علیہ السلام نے انہیں منع کیا ۔
’’ کہا اُس ؑکی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے تکبر کی روش اختیار کی کہ اے شعیب!ہم تمہیں اور جو تمہارے ساتھ ایمان لائے ہیں انہیں اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے‘ یا تم واپس آ جائو ہماری ملت میں۔‘‘
قَالَ اَوَ لَوۡ کُنَّا کٰرِہِیۡنَ ﴿۟۸۸﴾
’’(حضرت شعیب علیہ السلام نے) فرمایا:کیا اگر ہمیں (یہ سب کچھ) نا پسند ہو تب بھی؟‘‘
حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کے متکبر سرداروں نے آپؑ اور آپؑ کے ماننے والوں سے کہا کہ اگر تم لوگ ہمارے ہاں امن اور چین سے رہنا چاہتے ہو تو تمہیں ہمارے ہی طور طریقوں اور رسم و رواج کو اپنانا ہو گا‘ بصورتِ دیگر ہم تم لوگوں کو اپنی بستی سے نکال باہر کریں گے۔حضرت شعیب ؑ نے فرمایا کہ کیا تم لوگ زبردستی ہمیں اپنی ملت میں واپس پھیر لو گے جبکہ ہم تو ان طور طریقوں سے نفرت کرتے ہیں!
’’ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر ہم تمہاری ملت میں لوٹ آئیں ‘اس کے بعد کہ اللہ نے ہمیں اس سے نجات دے دی ہے ۔‘‘
حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔
’’اور ہمارے لیے قطعاً ممکن نہیں ہے کہ ہم اس ملت میں لوٹ آئیں‘ سوائے اس کے کہ اللہ جو ہمارا پروردگار ہے وہ چاہے۔‘‘
یہ الفاظ ایک بندۂ مؤمن کی سوچ اور اس کے طرزِ عمل کی عکاسی کرتے ہیں۔ وہ نہ اپنے فکرو فلسفہ پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ اپنی عقل و استقامت کا سہارا لیتا ہے‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی توفیق اور تیسیرپر توکل کرتاہے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام نے اس طرح فرمایا ‘ حالانکہ ان کے واپس پلٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔
’’تو وہ ان کو چھوڑ کر چل دیا یہ کہتے ہوئے کہ اے میری قوم کے لوگو! میں نے تو تمہیں پہنچا دیے تھے اپنے رب کے پیغامات اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی تھی۔‘‘
فَکَیۡفَ اٰسٰی عَلٰی قَوۡمٍ کٰفِرِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾
’’تو اب میں کیسے افسوس کروں اُس قوم پر جس نے کفر کیاہے!‘‘
یعنی حضرت شعیب علیہ السلام نے امکانی حد تک اپنی قوم کو سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی‘ لیکن اپنی ہٹ دھرمی اور مسلسل انکار کی وجہ سے ان لوگوں نے خود اپنی بربادی کو دعوت دی۔ ظاہر ہے ایسے لوگوں کی ہلاکت پر افسوس کرنے کا کوئی جواز نہ تھا ۔البتہ حضرت شعیب علیہ السلام کے اِن الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ آپؑ کو اپنی قوم کے انجام پر شدید رنج و غم تھا‘ اور یہ کہ اس موقع پر ایسے الفاظ کہنا آپؑ کا اپنے دل کی ڈھارس بندھانے کا ایک انداز تھا ۔ بہرحال حقیقت یہ ہے کہ نبی اپنی قوم اور بنی نوعِ انسان کے لیے بہت شفیق ‘مہربان اور ہمدرد ہوتا ہے اور اپنی قوم پر عذاب آنے پر اسے بہت زیادہ صدمہ ہوتا ہے۔
’’اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کسی بھی نبی کو مگر یہ کہ ہم نے پکڑا اُس کے بسنے والوں کو سختیوں سے اور تکلیفوں سے تا کہ وہ گڑ گڑائیں ( اور ان میں عاجزی پیدا ہو جائے )۔‘‘
یہ اللہ تعالیٰ کے ایک خاص قانون کا تذکرہ ہے‘ جس کے بارے میں ہم سورۃ الانعام (آیات۴۲ تا۴۵)میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت رہی ہے کہ جب بھی کسی قوم کی طرف کسی رسول کو بھیجا جاتا تو اس قوم کو سختیوں اور مصیبتوں میں مبتلا کر کے ان کے لیے رسول کی دعوت کو قبول کرنے کا ماحول پیدا کیا جاتا۔ کیونکہ خوشحالی اور عیش کی زندگی گزارتے ہوئے انسان نصیحت کی کوئی نئی بات سننے کی طرف کم ہی مائل ہوتا ہے ‘ البتہ تکلیف کی حالت میں انسان ضرور اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ لہٰذا ہر رسول کی دعوت کے آغاز کے ساتھ ہی اس قوم پر اجتماعی زندگی کے حالات تنگ کر دیے جاتے تھے ‘ لیکن اگر متعلقہ قوم کے لوگ اس کے باوجود بھی ہوش میں نہ آتے ‘ اپنی ضد پر اَڑے رہتے‘ اور رسول کی دعوت کو بدستور ردّ کرتے چلے جاتے‘ تو ان پر سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دور کر کے ان کو غیرمعمولی آسائشوں اور نعمتوں سے نواز دیا جاتا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا ڈھیل دینے کا ایک انداز تھا کہ اب اس قو م نے برباد تو ہونا ہی ہے مگر آخری انجام کو پہنچنے سے پہلے ان کی نا فرمانیوں کی آخری حدود دیکھ لی جائیں کہ سرکشی کی روش پر وہ کہاں تک جا سکتے ہیں۔ یہ ہے وہ قانون یا اللہ کی سنت‘ جس پر ہر رسول کی بعثت کے بعد عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔سورۃ السجدۃ میں اس قانون کی وضاحت اس طرح کی گئی ہے: {وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی دُوۡنَ الۡعَذَابِ الۡاَکۡبَرِ لَعَلَّہُمۡ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۲۱﴾} ’’اور ہم انہیں ضرور مزا چکھائیں گے چھوٹے عذاب کا بڑے عذاب سے پہلے شاید کہ یہ رجوع کریں‘‘۔ بڑے عذاب سے مراد یہاں عذابِ استیصال ہے جس کے بعد کسی قوم کو تباہ و برباد کر کے نسیاً منسیّا کر دیا جاتا ہے ۔ اس عذاب کی کیفیت مکی سورتوں میں اس طرح بیان کی گئی ہے : {کَاَنۡ لَّمۡ یَغۡنَوۡا فِیۡہَا ۚۛ } (الاعراف :۹۲‘ اور سورئہ ہود :۶۸‘ ۹۵) ’’وہ لوگ ایسے ہو گئے جیسے وہاں بستے ہی نہیں تھے‘‘۔ {فَقُطِعَ دَابِرُ الۡقَوۡمِ الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا ؕ} ( الانعام: ۴۵) ’’پس ظالم قوم کی جڑ کاٹ دی گئی‘‘۔ {لَا یُرٰۤی اِلَّا مَسٰکِنُہُمۡ ؕ} ( الاحقاف :۲۵) ’’ اب صرف ان کے مسکن ہی نظر آ رہے ہیں‘‘۔ یعنی عذابِ استیصال کے بعد ان کے بنائے ہوئے عالیشان محل تو موجود تھے ‘لیکن ان کے مکینوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں بچاتھا --- قانونِ قدرت کے تحت اس نوعیت کے ’’عذاب الاکبر‘‘ سے پہلے چھوٹی چھوٹی تنبیہات آتی ہیں تاکہ لوگ خوابِ غفلت سے جاگ جائیں‘ ہوش میں آ جائیں‘ استکبار کی روش ترک کر کے عاجزی اختیار کریں اور رجوع کر کے عذابِ استیصال سے بچ سکیں۔
’’ پھر ہم نے ان کو اچانک پکڑ لیا اور انہیں اس کا شعور بھی نہیں تھا۔‘‘
جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اَڑے رہے تو ان پر دنیوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دَور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اَسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کاشعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آ جائے گی۔
’’تو کیا ان لوگوں کو سبق نہیں ملا جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے پہلے رہنے والوں کے (ہلاک ہونے کے) بعد‘ کہ ہم چاہیں تو ان کو بھی پکڑ لیں ان کے گناہوں کی پاداش میں!‘‘
کیا بعد میں آنے والے لوگوں نے اپنی پیش رو قوموں کی تباہی و بربادی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا؟قومِ عاد نے کیوں کوئی سبق نہیں سیکھا قومِ نوح کے عذاب سے؟ اور قومِ ثمود نے کیوں عبرت نہیں پکڑی قومِ عاد کی بربادی سے؟ اور قومِ شعیب نے کیوں نصیحت حاصل نہیں کی قومِ لوط کے انجام سے؟
’’یہ وہ بستیاں ہیں جن کی کچھ خبریں ہم آپ(ﷺ) کو سنا رہے ہیں ۔‘‘
انباء الرسل کے سلسلے میں اب تک پانچ رسولوں یعنی حضرت نوح‘ حضرت ہود‘ حضرت صالح ‘حضرت لوط اورحضرت شعیب علیہم السلام کا ذکر ہو چکا ہے۔ آئندہ آیات میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر نسبتاً زیادہ تفصیل سے آ رہا ہے۔
’’اور ان کے پاس ان کے رسول آئے روشن نشانیوں کے ساتھ‘ تو وہ نہیں تھے ایمان لانے والے اس پر جس کا انہوں نے پہلے انکار کر دیا تھا۔‘‘
یعنی جسے ایمان لانا ہوتا ہے وہ جیسے ہی حق منکشف ہوتا ہے اسے قبول کر لیتا ہے۔ جسے قبول نہیں کرنا ہوتا اس کے لیے نصیحتیں‘ دلیلیں‘ نشانیاں اور معجزے سب بے اثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ سورۃ الانعام کی آیت ۱۱۰ میں اس طرح بیان ہوا ہے: {وَ نُقَلِّبُ اَفۡـِٕدَتَہُمۡ وَ اَبۡصَارَہُمۡ کَمَا لَمۡ یُؤۡمِنُوۡا بِہٖۤ اَوَّلَ مَرَّۃٍ } یعنی ہم ان کے دلوں اور ان کی نگاہوں کو الٹ دیتے ہیں ‘ جیسے کہ وہ پہلی مرتبہ ایمان نہیں لائے تھے۔
’’اسی طرح اللہ مہر کر دیا کرتاہے کافروں کے دلوں پر۔‘‘
آیت 102
وَ مَا وَجَدۡنَا لِاَکۡثَرِہِمۡ مِّنۡ عَہۡدٍ ۚ
’’اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی پاسداری نہیں پائی۔‘‘
دُنیا میں جب بھی کوئی قوم اُبھری ‘اپنے رسول کے سہارے اُبھری۔ ہر قوم کے علمی و اخلاقی ورثے کا غالب حصہ اپنے رسول کی تعلیمات اور وصیتوں پر مشتمل رہا۔ اسی طرح ہر رسول نے اپنے پیروکاروں سے کچھ عہد اور میثاق بھی لیے ہوں گے ‘ لیکن لوگوں کی اکثریت نے کبھی کسی عہد کی پاسداری نہیں کی۔
اب انبا ء الرسل کے سلسلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے۔اس سے پہلے پانچ رسولوں کا ذکر چار رکوعوں میں آیا ہے‘ لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر سات آٹھ رکوعوں پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انباء الرسل کی حامل یہ سورتیں ہجرت سے متصلاً قبل نازل ہوئی تھیں اور ہجرت کے فوراً بعد قرآن کی یہ دعوت براہِ راست اہل کتاب (یہودِ مدینہ) تک پہنچنے والی تھی۔ لہٰذا ضروری تھا کہ نبی اکرمﷺ اور آپؐ کے صحابہؓ مدینہ پہنچنے سے پہلے یہود سے مکالمہ کرنے کے لیے ذہنی اور علمی طور پر پوری طرح تیار ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کے واقعات ان سورتوں میں بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔
’’پھر ہم نے بھیجا ان کے بعد موسیٰ ؑکو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف‘‘
اب تک جن پانچ قوموں کا ذکر ہوا ہے وہ جزیرہ نما ئے عرب ہی کے مختلف علاقوں میں بستی تھیں‘ لیکن اب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حوالے سے بنی اسرائیل کا ذکر ہو گا جو مصر کے باسی تھے۔ مصر بر اعظم افریقہ کے شمال مشرقی کونے میں واقع ہے۔اس قصے میں صحرائے سینا کا بھی ذکر آئے گا‘ یہ مثلث شکل کاجزیرہ نما (Sinai Peninsula) علاقہ مصر اورفلسطین کے درمیان واقع ہے۔ مصر میں اُس وقت ’’فراعنہ‘‘ (’’فرعون‘‘ کی جمع) کی حکومت تھی ۔جس طرح عراق کے قدیم بادشاہ ’’نمرود‘‘ کہلاتے تھے اسی طرح مصر میں اُس دور کے بادشاہ کو ’’فرعون‘‘ کہا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو براہِ راست مصر کے مطلق العنان بادشاہ (فرعون) کے پاس بھیجا گیا تھا۔
’’میں اس پر قائم ہوں کہ حق کے سوا کوئی بات اللہ سے منسوب نہ کروں۔‘‘
فرعون کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی اجنبی آدمی نہیں تھے۔ آپؑ اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعون برسر اقتدار تھا وہ اس فرعون کا باپ تھا اور اُسی نے حضرت موسیٰؑ کواپنے بیٹے کی حیثیت سے پالاتھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپؑ کو ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا تھا ۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے پاس ساحل پر آ لگا‘ محل کے ملازمین اسے اٹھا کر محل میں لے گئے ۔ فرعون کو پتا چلا تو وہ اسرائیلی بچہ سمجھ کر آپؑ کے قتل کے درپے ہوا‘ مگراُ س کی بیوی نے اسے یہ کہہ کر باز رکھا کہ ہم اس کو اپنا بیٹا بنالیں گے‘ یہ ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہوگا: {قُرَّتُ عَیْنٍ لِّیْ وَلَکَ} (القصص:۹) کیونکہ اُس وقت تک اُن کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی۔ چنانچہ اس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا بیٹا بنا لیا۔ بعد میں اُس کے ہاں بھی ایک بیٹا پیدا ہوا۔ حضرت موسیٰؑ اور فرعون کا بیٹا تقریباً ہم عمر تھے‘ وہ دونوں اکٹھے محل میں پلے بڑھے تھے اور اُن کے درمیان حقیقی بھائیوں جیسی محبت تھی‘ بلکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی حیثیت بڑے بھائی کی تھی۔ جب بڑا فرعون بوڑھا ہو گیا تو اُس نے اپنی زندگی میں ہی اقتدار اپنے بیٹے کے سپرد کر دیا تھا۔ چنانچہ جس فرعون کے دربار میں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنی نبوت کا دعویٰ کیا یہ وہی شخص تھا جس کے ساتھ آپؑ شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ ابھی کچھ ہی برس پہلے آپؑ شاہی محل چھوڑ کر مصر سے مدین گئے تھے اور پھر جب مدین سے واپس آ رہے تھے تو آپؑ کو نبوت اور رسالت ملی(اس کی پوری تفصیل آگے جا کر سورۂ طٰہٰ اور سورۃ القصص میں آئے گی)۔اس پسِ منظر میں فرعون کے ساتھ آپؑ کا بات کرنے کا انداز ایک عام آدمی جیسا نہیں تھا۔ آپؑ نے بڑے واضح اور بے باک انداز میں فرعون کو مخاطب کر کے فرمایا کہ دیکھو ! میرا یہ منصب نہیں اور یہ بات میرے شایانِ شان نہیں کہ میں تم سے کوئی لایعنی اورجھوٹی بات کروں۔
’’ میں لے کر آیا ہوں تمہارےپاس تمہارے رب کی طرف سے ایک کھلی نشانی‘ تو تم بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دو ۔‘‘
بنی اسرائیل حضرت یوسف علیہ السلام کی وساطت سے فلسطین سے آکر مصر میں اس وقت آباد ہوئے تھے جب یہاں ایک عربی النسل خاندان کی حکومت تھی ۔ اس خاندان کے بادشاہ ’’چرو اہے بادشاہ‘‘ (Hiksos Kings) کہلاتے تھے۔ان کے دورِ حکومت میں حضرت یوسف علیہ السلام کے احترام کی وجہ سے بنی اسرائیل کو معاشرے میں ایک خصوصی مقام حاصل رہا اور وہ صدیوں تک عیش و عشرت کی زندگی گزارتے رہے۔اس کے بعد کسی دور میں مصر کے اندر قوم پرست عناصر کے زیر اثر انقلاب آیا۔ اس انقلاب کے نتیجے میں حکمران خاندان کو ملک بدر کر دیا گیا اوریہاں قبطی قوم کی حکومت قائم ہو گئی۔ یہ لوگ مصر کے اصل باشندے تھے۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ تبدیلی بڑی منحوس ثابت ہوئی۔ سابق شاہی خاندان کے چہیتے ہونے کی وجہ سے وہ قبطی حکومت کے زیر عتاب آ گئے اور ان کی حیثیت اور زندگی بتدریج پست سے پست اور سخت سے سخت ہوتی چلی گئی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بعثت کے زمانے میں یہ لوگ مصر میں غلامانہ زندگی گزار رہے تھے‘بلکہ فرعونوں کی طرف سے آئے روز ان پر طرح طرح کے مظالم ڈھائے جاتے تھے۔یہ وہ حالات تھے جن میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مبعوث کیا گیا تاکہ وہ بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلا کر واپس فلسطین لائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو میرے ساتھ جانے دیا جائے۔
’’یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے ‘ تو اب تمہاری کیا رائے ہے؟‘‘
یہ تو چاہتا ہے کہ جادو کے زور پرتمہیں اس ملک سے نکال کر یہاں خود اپنی حکومت قائم کرلے۔اس نازک صورتحال سے عہدہ بر آہونے کے لیے اب کیا حکمتِ عملی اختیار کی جائے؟
’’(پھر مشورہ دیتے ہوئے) انہوں نے کہا کہ (فی الحال) موسیٰ اور اس کے بھائی کے معاملے کو مؤخر رکھیں اور مختلف شہروں میں ہرکارے بھیج دیں۔‘‘
یعنی ابھی فوری طور پر ان کے خلاف کوئی ردِّعمل ظاہر نہ کیا جائے۔ انہیں مناسب انداز میں ٹالتے ہوئے مؤثر جوابی حکمت عملی اپنانے کے لیے وقت حاصل کیا جائے اور اس دوران ملک کے تمام علاقوں کی طرف اپنے اہلکار روانہ کر دیے جائیں۔
آیت 112
یَاۡتُوۡکَ بِکُلِّ سٰحِرٍ عَلِیۡمٍ ﴿۱۱۲﴾
’’جو آپ کے پاس لے آئیں تمام ماہر جادو گروں کو۔‘‘
ملک کے کونے کونے سے چوٹی کے جادو گروں کو بلا کر ایک عوامی اجتماع کے سامنے مقابلے میں انہیں شکست سے دو چار کیا جائے تا کہ لوگوں کے ذہنوں میں جنم لینے والے خوف کے اثرات زائل ہوجائیں۔
’’اور وہ جادو گر فرعون کے پاس آ پہنچے‘انہوں نے کہا :یقینا ہمیں اجرتو ملے گا ہی ‘ اگرہم غالب آ گئے!‘‘
یہاں پر غیر ضروری تفاصیل کو چھوڑ کر رسالت کے مقام و منصب اور دنیا داروں کے مادہ پرستانہ کردار کے فرق کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اللہ کے رسول حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کے مطالبے کے مطابق انہیں نشانیاں دکھائیں مگر آپؑ کو اس سے کوئی مفاد مطلوب نہیں تھا۔ آپؑ نے فرعون اور اہل دربا ر کو مرعوب کر کے کسی انعام و اکرام کا مطالبہ نہیں کیا ۔ جب کہ دوسری طرف جادوگروں کا کردار خالص مادہ پرستانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے آتے ہی جو مطالبہ کیا وہ مالی منفعت سے متعلق تھا۔
’’اس نے کہا :ہاں اور (انعام کے علاوہ) تم مقربین میں بھی شامل کر لیے جاؤ گے۔‘‘
فرعون نے ان سے وعدہ کیا کہ تمہیں مالی فوائد اور انعام و اکرام سے بھی نوازا جائے گا اور دربار میں بڑے بڑے مراتب و مناصب بھی عطا کیے جائیں گے۔ اس کے بعد ایک کھلے میدان میں بہت بڑے عوامی اجتماع کے سامنے یہ مقابلہ شروع ہوا۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور فرعون کے جادوگر ایک دوسرے کے سامنے آ گئے تو :
’’ (جادوگر)کہنے لگے: اے موسیٰ! اب تم پہلے ڈالو گے یا ہم ہو جائیں پہلے ڈالنے والے ؟‘‘
آیت 116
قَالَ اَلۡقُوۡا ۚ
’’(حضرت موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا :تم ڈالو!‘‘
چنانچہ جادوگروںنے اپنی جادو کی چیزیں زمین پر پھینک دیں ۔ اس سلسلے میں قرآن مجید میں کسی جگہ پر رسیوں کا ذکر آیا ہے اور کہیں چھڑیوں کا۔ یعنی جادوکی وہ چیزیں زمین پر پھینک دیں جوانہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کر رکھیں تھیں۔
فَلَمَّاۤ اَلۡقَوۡا سَحَرُوۡۤا اَعۡیُنَ النَّاسِ
’’تو جب انہوں نے ڈالا تو لوگوں کی آنکھوں پر جادو کر دیا‘‘
انہوں نے جادو کے زور سے حاضرین کی نظر بندی کر دی جس کے نتیجے میں لوگوں کو رسیوں اور چھڑیوں کے بجائے زمین پر سانپ اور اژدھے رینگتے ہوئے نظر آنے لگے۔
’’اور انہوں نے اُن (حاضرین) پر دہشت طاری کر دی اورظاہر کر دیا بہت بڑا جادو ۔‘‘
واقعتا انہوں نے بھی اپنے فن کا بھر پور مظاہرہ کیا ۔ یہاں اس قصے کی کچھ تفصیل چھوڑ دی گئی ہے‘ مگر قرآن حکیم کے بعض دوسرے مقامات کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جادوگروں کے اس مظاہرے کے بعد عارضی طور پر ڈر سے گئے تھے (طٰہٰ:۶۷) کہ جو معجزہ میرے پاس ہے اسی نوعیت کا مظاہرہ انہوں نے بھی کردکھایا ہے ‘تو پھرمیرے اور ان کے درمیان لوگ فرق کیسے محسوس کریں گے! تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے موسیٰ ڈرو نہیں‘بلکہ تمہارے ہاتھ میں جوعصا ہے اسے زمین پر پھینک دو!
’’تو یہ (جادوگر) اُسی وقت مغلوب ہو گئے اور وہ (فرعون اور اس کے سردار)ذلیل ہو کر رہ گئے۔‘‘
یعنی فرعون کے بلائے ہوئے بڑے بڑے جادو گر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سامنے مغلوب ہو گئے اور نتیجتاً فرعون اور اُس کی قوم کے سردار ذلیل ہو کر رہ گئے۔
آیت 120
وَ اُلۡقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیۡنَ ﴿ۚۖ۱۲۰﴾
’’ اور جادو گر سجدے میں گرا دیے گئے۔‘‘
یعنی ایسے لگا جیسے جادوگروں کو کسی نے سجدے میں گرادیا ہو ۔ ان پر یہ کیفیت حق کے منکشف ہو جانے کے بعد طاری ہوئی ۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال تھی کہ جب کسی با ضمیر انسان کے سامنے حق کو مان لینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ (option) رہ ہی نہیں جاتا۔
آیت 121
قَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۲۱﴾
’’وہ (فوراً) پکا ر اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے تمام جہانوں کے رب پر۔‘‘
آیت 122
رَبِّ مُوۡسٰی وَ ہٰرُوۡنَ ﴿۱۲۲﴾
’’موسیٰؑ اور ہارون ؑ کے رب پر۔‘‘
مقام فکر ہے کہ جادوگرمغلوب ہوئے تو فوراً ایمان کیوں لے آئے اور وہ بھی انتہائی پختہ ‘ یقین اور استقامت والا ایمان! کہاں ان کی وہ کیفیت کہ وہ فرعون سے انعام کی بھیک مانگ رہے تھے اور کہاں ان کا یہ جذبہ کہ انہوں نے اسے خاطر میں نہ لاتے ہوئے نتائج سے بے پروا ہو کر ڈنکے کی چوٹ پر اپنے ایمان کا اعلان کر دیا۔ جادوگروں کے کردار اور رویے میں اس تبدیلی کی منطقی توجیہہ یہ ہے کہ جو شخص کسی فن کا ماہر ہو وہ اس فن کی استعداد اور اس استعداد کی حدود (limitations) کے بارے میں بخوبی آگاہ ہوتا ہے۔ ظاہر ہے وہ اپنے فن کے شعبہ تخصیص (field of specialization) سے متعلقہ چیز کی قدر ‘ اہمیت ‘ معیار وغیرہ کو صحیح پہچان سکتا ہے۔ چنانچہ جادو گر جو اپنے فن کے منجھے ہوئے ماہرین تھے وہ فوراً پہچان گئے تھے کہ ان کے جادو کے مقابلے میں جو کچھ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پیش کیا ہے وہ جادو سے ماوراء کوئی چیز ہے۔لہٰذا جس حقیقت کا ادراک فرعون اور اس کے امراء نہ کر سکے وہ بجلی کی ایک کوند (flash) کی مانند آناً فاناً جادوگروں کے دلوں کے تاریک گوشوں کو روشن کر گئی اور اس کے نتیجے میں ان کو ایسا ایمان نصیب ہوا جس کی جرأتِ اظہار اور استقامت نے فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کو پریشان کر دیا۔
’’ یہ تمہاری ایک (سوچی سمجھی) سازش ہے جو تم سب نے مل کر چلی ہے شہر کے اندر‘‘
اب فرعون کی جان پر بن گئی کہ اجتماع میں موجود لوگوں پر جادوگروں کی اس شکست کے اثرات کو کیسے زائل کیا جائے اور عوام کو مطمئن کرنے کے لیے کیا حربہ آزمایا جائے؟ چنانچہ اس نے فوراً پینترا بدلا اور بولا مجھے سب پتا چل گیا ہے ‘ یہ موسیٰ بھی دراصل تمہارا ہی ساتھی ہے‘ بلکہ یہ تمہارا گروگھنٹال ہے۔ اس کے مقابلے میں تم لوگوں کی یہ ظاہری شکست ایک سازش ہے جس کا جال تم سب نے مل کر ہمارے خلاف بنا ہے۔
’’انہوں نے کہا (ٹھیک ہے) ہمیں تو اپنے ربّ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔‘‘
جادو گروں پر انکشافِ حق سے حاصل ہونے والی یقین کی پختگی اور گہرائی کا یہ عالم تھا کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کی اتنی بڑی دھمکی ان کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش پیدا نہ کر سکی۔ ان کے اس جواب کے ایک ایک لفظ سے ان کے دل کا اطمینان جھلکتا بلکہ چھلکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔
’’ا ے ہمارے ربّ! ہم پر صبر انڈیل دے اور ہمیں وفات دیجیو مسلم ہی کی حیثیت سے۔‘‘
یعنی ایمان کے راستے میں جو آزمائش آنے والی ہے اس کی سختیوں کو جھیلتے ہوئے کہیں دامن صبر ہمارے ہاتھوں سے چھوٹ نہ جائے اور ایسا نہ ہو کہ ہم پھر سے کفر کی طرف لوٹ جائیں۔ اے اللہ! ہمیں صبر اور استقامت عطا فرما‘ اور اگر ہمیں موت آئے تو تیری اطاعت اور فرمانبرداری کی حالت میں آئے۔
اس واقعے کے بعد فرعون نے جادوگروں کے خلاف تو ضرور انتقامی کارروائی کی ہو گی لیکن وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خلاف کوئی ٹھوس اقدام نہ کر سکا۔ چنانچہ اس کے بعد بھی حضرت موسیٰ علیہ السلام شہر میں لوگوں تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا نے اور بنی اسرائیل کو منظم کرنے میں مصروف رہے اور قوم کے بہت سے نوجوان آپؑ کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے آپؑ کے گرد جمع ہونا شروع ہو گئے۔آپؑ کی اس طرح کی سرگرمیوں سے حکومتی عہدیداروں کے اندربجا طور پر تشویش پیدا ہوئی اور بالآخر انہوں نے فرعون سے اس بارے میں شکایت کی۔
7127-129
بنی اسرائیل پر فرعون کا ظلم اورحضرت موسیٰ کی ایمان افروز نصیحت
’’اور کہا قومِ فرعون کے سرداروں نے (فرعون سے) کیا آپ موسیٰ اور اس کی قوم کو اسی طرح چھوڑے رکھیں گے کہ وہ زمین کے اندر فساد مچائیں‘‘
وَ یَذَرَکَ وَ اٰلِہَتَکَ ؕ
’’اور آپ کو اور آپ کے معبودوں کو چھوڑ دیں!‘‘
یعنی یہ لوگ جس نئے نظریے کا پرچار کر رہے ہیں اگر وہ عوام میں مقبول ہوتا گیا اور اس نظریے کی بنیاد پر لوگ منظم ہوتے گئے تو ہمارے خلاف بغاوت پھوٹنے اورملک میں فساد پھیلنے کا سخت اندیشہ ہے۔
یہاں پر یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ قومِ فرعون کے بہت سے معبود تھے۔ تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کا سب سے بڑا الٰہ سورج تھا۔ اسی طرح وہ لوگ فرعون کو بھی اپنا خدا مانتے تھے۔ فرعون کی خدائی دراصل سیاسی تھی‘ اُس کا دعویٰ تھا کہ حکومت اور اقتدار و اختیار (sovereignty) کا میں بلا شرکت غیرے مالک ہوں۔ نمرود کی خدائی کا دعویٰ بھی اِسی نوعیت کا تھا۔ اس کے علاوہ بھی قومِ فرعون نے پوجا پاٹ کے لیے بہت سے معبود بنا رکھے تھے جن کے چھوٹ جانے کا انہیں اندیشہ تھا۔
’’اُس نے کہا: ہم عنقریب قتل کریں گے ان کے بیٹوں کو اور زندہ رہنے دیں گے ان کی بیٹیوں کو۔‘‘
یہ آزمائش بنی اسرائیل پر ایک دفعہ اس سے پہلے بھی آ چکی تھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے قبل جو فرعون برسر اقتدار تھا اُس نے ایک خواب دیکھاتھا جس کی تعبیر میں اس کے نجومیوں نے اسے بتایا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک بچے کی پیدائش ہونے والی ہے جو بڑا ہو کر آپ کی حکومت کو ختم کر دے گا۔ چنانچہ اس خدشے کے پیشِ نظر فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل کے ہاں پیدا ہونے والے ہر لڑکے کو پیدا ہوتے ہی قتل کر دیا جائے اور صرف لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے۔ اب تقریباً چالیس ‘ پینتالیس سال بعد اس کے جانشین فرعون کو اس خوفناک قانون کو دوبارہ نافذ کرنے کا خیال آ گیا جب اس کے سرداروں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ ہم جسے محض ایک مشتِ غبار سمجھ رہے ہیں وہ بڑھتے بڑھتے کہیں طوفان ہی نہ بن جائے اور یہ کہ اگر اس شخص (حضرت موسیٰ علیہ السلام ) نے واقعی اپنی قوم کو ہمارے خلاف ایک تحریک کی شکل میں منظم کر لیا تو پھر ان کو دبانا ہمارے لیے مشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا وہ چاہتے تھے کہ ’’ nip the evil in the bud ‘‘ کے اصول کے تحت حضرت موسیٰ ؑکو قتل کر دیا جائے‘ لیکن فرعون کے دل میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لیے محبت ڈال رکھی تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی وضاحت کی جا چکی ہے ‘اس کاحضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ بھائیوں کا سا رشتہ تھا‘ جس کی وجہ سے اس کے دل میں ابھی تک آپؑ کے لیے طبعی محبت موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ آپؑ کو قتل کرنے کے بجائے اس نے بنی اسرائیل کو دبانے کے لیے اپنے باپ کے زمانے کا پرانا حکم پھر سے نافذ کرانے کا عندیہ دے دیا کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کرتے رہیں گے تاکہ موسیٰ ؑ کو اپنی قوم سے افرادی قوت مہیا نہ ہو سکے۔
وَ اِنَّا فَوۡقَہُمۡ قٰہِرُوۡنَ ﴿۱۲۷﴾
’’اور یقینا ہم ان پر پوری طرح غالب ہیں۔‘‘
گویا اب درباریوں اور امراء کا حوصلہ بڑھانے کے انداز میں کہا جا رہا ہے کہ تم کیوں گھبراتے ہو‘ہم پوری طرح ان پر چھائے ہوئے ہیں ‘ یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
’’یقینا یہ زمین اللہ کی ہے ‘ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے ‘ لیکن عاقبت (آخرت) تو تقویٰ والوں کے لیے ہی ہے۔‘‘
یعنی اتنی بڑی آزمائش میں ثابت قدم رہنے کے لیے اللہ سے مدد کی دعا کرتے رہو اور صبر کا دامن تھامے رکھو۔ انجام کار کی کامیابی اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے والوں کا مقدر ہے۔
’’وہ کہنے لگے :(اے موسیٰ!ؑ) ہمیں تو ایذا پہنچی آپؑ کے آنے سے قبل بھی اور آپؑ کے آنے کے بعد بھی۔‘‘
ان الفاظ سے اس مظلوم قوم کی بے بسی اور بے چارگی ٹپک رہی ہے‘ کہ پہلے بھی ہمارا یہی حال تھا کہ ہم بدترین ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے تھے ‘اوراب آپؑ کے آنے کے بعد بھی ہمارے حالات میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکی۔
’’(موسیٰ علیہ السلام نے) فرمایا :(گھبرائو نہیں!) ہو سکتا ہے عنقریب اللہ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تمہیں خلافت عطا کر دے زمین میں‘ پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو!‘‘
یہ آیت مسلمانانِ پاکستان کے لیے بھی لمحۂ فکریہ ہے۔ برعظیم پاک و ہند کے مسلمان بھی غلامانہ زندگی بسر کررہے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ متحدہ ہندوستان اگر ایک وحدت کی حیثیت سے آزاد ہوا تو کثرتِ آبادی کی وجہ سے ہندو ہمیشہ ہم پر غالب رہیں گے‘ کیونکہ جدید دنیا کا سیاسی نظام ’’one man one vote‘‘ کے جمہوری اصول کے تحت چلتا ہے۔ اس طرح ہندو ہمارے دین و مذہب ‘ تہذیب و تمدن‘ سیاست و معیشت اور زبان و معاشرت سمیت ہر چیز کو برباد کر دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے ایک الگ آزاد وطن حاصل کرنے کے لیے تحریک چلائی۔ اس تحریک کا نعرہ یہی تھا کہ مسلمان قوم کو اپنے دین و مذہب‘ ثقافت ‘ معاشرت وغیرہ کے مطابق زندگی بسرکرنے کے لیے ایک الگ وطن کی ضرورت ہے۔ اس تحریک میں اللہ تعالیٰ نے انہیں کامیابی دی اور انہیں ایک آزاد خود مختار ملک کا مالک بنا دیا۔ ابھی اس حوالے سے اس آیت کا دوبارہ مطالعہ کیجییے اور اس کے بین السطور میں مسلمانانِ پاکستان کے لیے جو پیغام ہے اسے سمجھنے کی کوشش کیجیے: {وَ یَسۡتَخۡلِفَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ فَیَنۡظُرَ کَیۡفَ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۲۹﴾} کہ وہ تمہیں زمین میں طاقت اور اقتدار عطاکرے گا اور پھر دیکھے گا کہ تم لوگ کیسا طرزِ عمل اختیار کرتے ہو! اس ملک میں اللہ کی حکومت قائم کر کے دین کو غالب کرتے ہو یا اپنی مرضی کی حکومت قائم کر کے اپنی خواہشات کے مطابق نظام چلاتے ہو۔