اس رکوع سے التذکیر بِاَ یَّامِ اللّٰہ کے اس سلسلے کا آغاز ہو رہا ہے جسے تمہیدی کلمات میں اس سورت کے مضامین کا ’’عمود‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ یہاں اس سورت میں اس سلسلے کا بہت بڑا حصہ ’’انباء الرّسل‘‘ پر مشتمل ہے ۔ (’’انبائ‘‘ جمع ہے ’’نبأ‘‘ کی‘ جس کے معنی خبر کے ہیں ‘یعنی رسولوں کی خبریں۔)اس اصطلاح کے حوالے سے یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں نبیوں کا ذکر آتا ہے اس کا مقصد ان کی سیرت کے روشن پہلوؤں مثلاًان کے مقام ومرتبہ‘تقویٰ ‘استقامت وغیرہ کو نمایاں کرناہوتا ہے‘جبکہ رسولوں کا ذکر بالکل مختلف انداز میں آتا ہے ۔ رسولوں کے ذکر کے ساتھ لازماً ان کی قوموں کا ذکر بھی آیا ہے اور کسی رسول کی دعوت کے جواب میں اُس کی قوم کے رویے اور ردّعمل کی تفصیل بھی بیان کی گئی ہے۔ پہلی قسم کے واقعات کوعام طور پر ’’قصص الانبیاء‘‘ کہا جاتا ہے ۔ اس کی مثال سورۂ یوسف ہے‘جس میں حضرت یوسف علیہ السلام کے حالات بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیں‘ مگر کہیں بھی آپؑ کی طرف سے اس نوعیت کے اعلان کا ذکر نہیں ملتا کہ لوگو! مجھ پر ایمان لاؤ‘ میری بات مانو ‘ ورنہ تم پر عذاب آئے گا۔ اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ملتا ہے کہ اُس قوم نے آپؑ کی دعوت کو ردّ کر دیا اور پھر ان پر عذاب آ گیا اور اُنہیں ہلاک کر دیا گیا ۔
دوسری قسم کے واقعات کے لیے ’’انباء الرسل ‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ رسولوں کے بارے میں ان واقعات کے مطالعہ سے اللہ تعالیٰ کے اس قانون کی نشاندہی ہوتی ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف آیا وہ اللہ کی عدالت بن کر آیا۔ جن لوگوں نے اُس کی دعوت کو مان لیا وہ اہل ایمان ٹھہرے اور عافیت میں رہے‘ جبکہ اس کا انکار کرنے والے ہلاک کر دیے گئے۔ ’’انباء الرسل‘‘ کے سلسلے میں عام طور پر چھ رسولوں ؑ (حضرت نوح‘ حضرت ہود‘ حضرت صالح‘ حضرت شعیب‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہم السلام)کے حالات قرآن مجید میں تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اس سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ حضور خاتم النبیین ﷺ سے پہلے صرف یہی چھ رسول مبعوث ہوئے تھے‘بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چھ رسول جزیرہ نمائے عرب کے مختلف علاقوں میں مبعوث ہوئے تھے اور اہل عرب جو قرآن مجید کے مخاطبین اوّل تھے‘ وہ ان رسولوں کے ناموں اور ان کی قوموں کے انجام سے بخوبی آگاہ تھے۔ یہ رسول ؑجن علاقوں میں مبعوث ہوئے اُن کی نشاندہی یہاں جزیرہ نما ئے عرب (Arabian Peninsula) کے نقشے کے ذریعے کی جا رہی ہے ۔ جزیرہ نمائے عرب کی چوڑائی نیچے جنوب میں کافی زیادہ ہے‘ جبکہ یہ چوڑائی اوپر شمال کی طرف بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ اس جزیرہ نما علاقہ کے مشرقی جانب خلیج فارس (Persian Gulf) ہے جب کہ مغربی جانب بحیرۂ احمر (Read Sea) ہے جو شمال میں جاکر دو کھاڑیوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ ان میں سے ایک (شمال مغرب کی طرف )خلیج سویز ہے اور دوسری (شمال مشرق کی جانب) خلیج عقبہ۔ خلیج عقبہ کے اوپر (شمال) والے کونے سے خلیج فارس کے شمالی کنارے کی طرف سیدھی لائن لگائیں تو نقشے پر ایک مثلث (triangle) بن جاتی ہے‘ جس کا قاعدہ (base) نیچے جنوب میں یمن سے سلطنتِ عمان تک ہے اور اوپر والا کونہ شمال میں بحیرئہ مردار (Dead Sea) کے علاقے میں واقع ہے۔
یہ مثلث اس علاقے پر محیط ہے جہاں عرب کی قدیم قومیں آباد تھیں اور یہی وہ قومیں تھیں جن کی طرف وہ چھ رسول مبعوث ہوئے تھے جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے ۔ ان میں سے جو رسول سب سے پہلے آئے وہ حضرت نوح علیہ السلام تھے۔ آپؑ کے زمانے کا تعین یقینی طور پر تو نہیں کیا جا سکتا‘ لیکن زیادہ تر مؤرخین کا خیال ہے کہ آپؑ کی بعثت حضرت آدم علیہ السلام سے کوئی دو ہزار سال بعد کے زمانے میں ہوئی تھی (واللہ اعلم)۔ اُس وقت تک کل نسلِ انسانی بس اسی علاقے میں آباد تھی۔ جب آپؑ کی قوم آپؑ کی دعوت پر ایمان نہ لائی تو پانی کے عذاب سے انہیں تباہ کر دیا گیا۔ یہی وہ علاقہ ہے جہاں وہ تباہ کن سیلاب آیا تھاجو’’طوفانِ نوح‘‘ سے موسوم ہے اور یہیں کوہِ جودی میں اَرارات کی وہ پہاڑی ہے جہاں حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی لنگر انداز ہوئی تھی۔پھر حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں سے دوبارہ نسلِ انسانی چلی۔ آپؑ کا ایک بیٹا جس کانام سا م تھا‘ اس کی نسل سے جو قومیں وجود میں آئیںانہیں سامی قومیں کہا جاتا ہے۔ انہی قوموںمیں ایک قومِ عاد تھی‘ جو جزیرہ نمائے عرب کے بالکل جنوب میں آباد تھی۔ آج کل یہ علاقہ بڑا خطرناک قسم کا ریگستان ہے ‘لیکن اُس زمانے میں قومِ عاد کا مسکن یہ علاقہ بہت سر سبز و شاداب تھا۔ اس قوم کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا گیا۔ آپ ؑ کی دعوت کو اس قوم نے رد کیا تو یہ بھی ہلاک کر دی گئی۔ اس قوم کے بچے کھچے لوگ اور حضرت ہود علیہ السلام وہاں سے نقل مکانی کر کے جزیرہ نمائے عرب کے شمال مشرقی کونے میں خلیج عقبہ سے نیچے مغربی ساحل کے علاقے میں جاآباد ہوئے۔ ان لوگوں کی نسل کو قومِ ثمود کے نام سے جانا جاتا ہے ۔
قومِ ثمود کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ اس قوم نے بھی اپنے رسول ؑ کی دعوت کورد کردیا‘ جس پر انہیں بھی ہلاک کر دیا گیا۔ یہ لوگ پہاڑوں کو تراش کر عالی شان عمارات بنانے میں ماہر تھے۔ پہاڑوں کے اندر کھدے ہوئے ان کے محلات اوربڑے بڑے ہال آج بھی موجود ہیں۔ قومِ ثمود کے اس علاقے سے ذرا اوپر خلیج عقبہ کے داہنی طرف مدین کا علاقہ ہے جہاں وہ قوم آباد تھی جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا گیا ۔ مدین کے علاقے سے تھوڑا آگے بحیرۂ مردار (Dead Sea) ہے‘ جس کے ساحل پرسدوم اور عامورہ کے شہر آباد تھے۔ان شہروں میں حضرت لوط علیہ السلام کو بھیجا گیا۔ بہرحال یہ ساری اقوام جن کا ذکر قرآن مجید میں بار بار آیا ہے‘ مذکورہ مثلث کے علاقے میں ہی آباد تھیں۔ صرف قومِ فرعون اس مثلث سے باہر مصر میں آباد تھی جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام مبعوث ہوئے۔ ان چھ رسولوں کے حالات پڑھتے ہوئے ان کی قوموں کے علاقوں کا یہ نقشہ پیش نظر رہنا چاہیے۔ زمانی اعتبار سے حضرت نوح علیہ السلام سب سے پہلے رسول ہیں ‘ پھر حضرت ہو د علیہ السلام ‘ پھر حضرت صالح علیہ السلام ‘ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام ۔ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ذکر قرآن میں انباء الرسل کے انداز میں نہیں بلکہ قصص الانبیاء کے طور پر آیا ہے۔ آپؑ کے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کو سدوم اور عامورہ کی بستیوں کی طرف بھیجا گیا۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام مدین تھا‘ جن کی اولاد میں حضرت شعیب علیہ السلام کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام ہی کے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام حجاز (مکہ) میں آباد ہوئے اور پھر حجاز میں ہی نبی آخر الزماںﷺ کی بعثت ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق علیہ السلام تھے جن کوآپؑ نے فلسطین میں آباد کیا۔ حضرت اسحاق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جن سے بنی اسرائیل کی نسل چلی ۔ قرآن حکیم میں جب ہم انبیاء و رُسل کے تذکرے پڑھتے ہیں تو یہ ساری تفصیلات ذہن میں ہونی چاہئیں۔
’’ہم نے بھیجا تھا نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف تو اُس نے کہا :اے میری قوم کے لوگو !اللہ کی بندگی کرو ‘ تمہارا کوئی معبود اس کے سوا نہیں ہے‘ مجھے تمہارے بارے میں اندیشہ ہے ایک بڑے دن کے عذاب کا۔‘‘
یعنی مجھے اندیشہ ہے کہ اگر تم لوگ یونہی مشرکانہ افعال اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کا ارتکاب کرتے رہو گے تو بہت بڑے عذاب میں پکڑے جاؤ گے۔
’’میں تو تمہیں پہنچا رہا ہوں اپنے رب کے پیغامات ‘ اور میں تمہاری خیر خواہی کر رہا ہوں‘ اورمیں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تمہیں معلوم نہیں۔‘‘
مجھے تو تمام جہانوں کے پروردگار نے اس خدمت پر مامور کیا ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں‘ تا کہ تم لوگ ایک بڑے عذاب کی لپیٹ میں آنے سے بچ جاؤ۔ اگر تمہارے مشرکانہ اَفعال اسی طرح جاری رہے تو اِن کی پاداش میں تمہارے اوپر کتنی بڑی تباہی آ سکتی ہے تم لوگوں کو اس کا کچھ بھی اندازہ نہیں‘ مگر مجھے اپنے پروردگار کی طرف سے اس کے بارے میں مسلسل آگاہ کیا جا رہاہے۔
’’کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک یاد دہانی تم ہی میں سے ایک فرد کے ذریعے سے آئی ‘تا کہ وہ تمہیں خبردار کر دے اور تم (گناہوں سے)بچ سکو اور تم پر رحم کیا جائے۔‘‘
’’تو انہوں نے اُس ؑ کو جھٹلایا‘ تو بچا لیا ہم نے اُس کو اور جواُس کے ساتھی تھے کشتی میں‘ اور ہم نے غرق کر دیا ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔‘‘
اِنَّہُمۡ کَانُوۡا قَوۡمًا عَمِیۡنَ ﴿٪۶۴﴾
’’ یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔‘‘
یعنی وہ ایسی قوم تھی جس نے آنکھیں ہونے کے باوجود اللہ کی نشانیوں کو دیکھنے اور حق کو پہچاننے سے انکار کر دیا ۔ حضرت نوح علیہ السلام کے ساتھی اہل ایمان بہت ہی کم لوگ تھے ۔ آپؑ نے ساڑھے نو سو برس تک اپنی قوم کو دعوت دی تھی ‘اس کے باوجود بہت تھوڑے لوگ ایمان لائے تھے‘جو آپؑ کے ساتھ کشتی میں سیلاب سے محفوظ رہے۔ آپؑ کے تین بیٹوں میں سے حضرت سام کی اولاد میں سے ’’عاد‘‘ نام کے ایک سردار بڑے مشہور ہوئے اور پھر ان ہی کے نام پر ’’قومِ عاد‘‘ وجود میں آئی۔ اب آگے اسی قوم کا تذکرہ آ رہاہے۔
’’ میں تو اپنے پروردگار کے پیغامات تمہیں پہنچا رہا ہوں اور تمہارا دیانت دار خیر خوا ہ ہوں۔‘‘
میں تو وہی بات ہو بہو تم تک پہنچا رہا ہوں جو اللہ کی طرف سے مجھے بتائی جا رہی ہے‘ اس لیے کہ مجھے تمہاری بھلائی مطلوب ہے۔ میں تمہارا نہایت قابل اعتماد خیر خواہ ہوں۔
’’ اور ذرا یاد کرو جب اللہ نے تمہیں قومِ نوح کے بعد ان کا جانشین بنایااور تمہیں جسمانی اعتبار سے بڑی کشادگی عطا فرمائی۔‘‘
قومِ نوح تباہ و برباد ہوئی تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو عروج عطا فرمایا۔ یہ بڑے قد آور اور جسیم لوگ تھے۔ اس قو م کو اللہ تعالیٰ نے دنیوی طور پر بڑا عروج بخشاتھا۔ شداد اسی قوم کا بادشاہ تھا جس نے بہشتِ ارضی بنائی تھی۔ اب اس کی جنت اور اس شہر کے کھنڈرات کا سرا غ بھی مل چکا ہے۔ یہ کھنڈرات جزیرہ نمائے عرب کے جنوبی صحرامیں دریافت ہوئے ہیں جہاں کی ریت بہت باریک ہے‘ اس وجہ سے وہاں آمد و رفت مشکل ہے۔ اس علاقے میں سیٹلائٹ کے ذریعے زیر زمین شداد کے اس شہر کا سراغ ملا ہے‘جس کی فصیل پر ۳۵ برج تھے۔
’’تو ہم پر لے آؤ (وہ عذاب) جس کی تم ہمیں دھمکی دے رہے ہو ‘ اگرتم سچے ہو۔‘‘
یہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کہ جب بھی کسی قوم پر زوال آیا تو ان کے عقائد بگڑ گئے ۔ اللہ کے رسول کے بتائے ہوئے سیدھے راستے کو چھوڑ کر وہ لوگ بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوگئے ۔ اولیاء اللہ کی عقیدت کی وجہ سے ان کے ناموں کے بت بنا ئے جاتے یا پھر ان کی قبروں کی پرستش شروع کر دی جاتی۔ یہ سامنے کے معبود ان کو اُس اللہ کے مقابلے میں زیادہ اچھے لگتے تھے جو اُن کی نظر وں سے اوجھل تھا۔ ان حالات میں جب بھی کوئی رسول آکر کسی ایسی مشرک قوم کو بت پرستی سے منع کرتا اور انہیں ایک اللہ کی بندگی کی تلقین کرتا ‘ تو اپنے ماحول کے مطابق ان کا پہلا جواب یہی ہوتا کہ ہم اپنے سارے خدائوں کو ٹھکرا کر صرف ایک اللہ کو کیسے اپنا معبود بنا لیں!
’’کیا تم مجھ سے جھگڑ رہے ہو اُن ناموں کے بارے میں جو تم نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے رکھ لیے تھے‘‘
یہ جو تم نے مختلف ناموں کے بت بنا رکھے ہیں اور ان کی پوجا کرتے ہو‘ اُن کی حقیقت کچھ نہیں ‘ محض چند فرضی نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباء و اَجداد نے بغیر کسی سند کے رکھے ہوئے ہیں۔
’’تو ہم نے بچا لیا اُس ؑکو اور جو (اہل ایمان) لوگ اُس ؑکے ساتھ تھے اپنی رحمت سے‘ اور ہم نے جڑ کاٹ دی اُس قوم کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا‘‘
وَ مَا کَانُوۡا مُؤۡمِنِیۡنَ ﴿٪۷۲﴾
’’اور نہیں تھے وہ ایمان لانے والے۔‘‘
سات دن اور آٹھ راتوں تک ایک تیز آندھی مسلسل ان لوگوں پر چلتی رہی اور انہیں پٹخ پٹخ کر گراتی رہی‘ اسی آندھی کی وجہ سے وہ سب لوگ ہلاک ہو گئے۔ واضح رہے کہ جب بھی کسی قوم پر عذابِ استیصال کا فیصلہ ہوجاتا تو اللہ کے رسول ؑ اور اہلِ ایمان کو وہاں سے ہجرت کا حکم آ جاتا ۔ چنانچہ آندھی کے اس عذاب سے پہلے حضرت ہود علیہ السلام اور آپؑ کے ساتھی وہاں سے ہجرت کر کے چلے گئے تھے۔
’’اور قومِ ثمود کی طرف (بھیجا ہم نے )ان کے بھائی صالحؑ کو۔‘‘
حضرت ہود علیہ السلام اور ان کے اہلِ ایمان ساتھی جزیرہ نما ئے عرب کے جنوبی علاقے سے ہجرت کر کے شمال مغربی کونے میں جا آباد ہوئے۔ یہ ’’حجر‘‘ کا علاقہ کہلاتا ہے۔ یہاں ان کی نسل آگے بڑھی اور پھر غالباً ’ثمود‘ نامی کسی بڑی شخصیت کی وجہ سے اس قوم کا یہ نام مشہور ہوا۔
’’اُس ؑ نے کہا:اے میری قوم! عبادت کرو اللہ کی جس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک خاص نشانی آ گئی ہے ۔‘‘
حضرت صالح علیہ السلام نے بھی اپنی قوم کو وہی دعوت دی جو اس سے پہلے حضرت نوح اور حضرت ہود علیہما السلام اپنی اپنی قوموں کو دے چکے تھے۔ یہاں بَـیِّنَۃ سے مراد وہ اونٹنی ہے جو اُن کے مطالبے پر معجزانہ طور پر چٹان سے نکلی تھی۔ یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح اور حضرت ہود علیہما السلام کے بارے میں کسی معجزے کا ذکر قرآن میں نہیں ہے ۔ معجزے کا ذکر سب سے پہلے حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں آتا ہے۔
’’یہ اللہ کی اونٹنی ہے ‘ تمہارے لیے ایک نشانی ‘تو اسے چھوڑے رکھو کہ یہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے ‘ اور اسے نہ چھوناکسی برے ارادے سے ‘ (اگر تم نے ایسا کیا) تو ایک درد ناک عذاب تمہیں آپکڑے گا۔‘‘
یہ اُونٹنی تمہارے مطالبے پر تمہاری نگاہوں کے سامنے ایک چٹان سے برآمد ہوئی ہے۔ اب اسے کوئی نقصان پہنچانے کی کوشش نہ کرنا ‘ ورنہ اللہ کا عذاب تمہیں آ لے گا۔
’’اور یاد کرو جب اُس نے تمہیں جانشین بنایا قومِ عاد(کی تباہی) کے بعد اور تمہیں جگہ دی زمین میں ‘ تم اس کے نرم میدانوں میں محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کوتراش کر (بھی اپنے لیے) گھر بنالیتے ہو۔‘‘
میدانی علاقوں میں وہ لوگ عالی شان محلات تعمیر کرتے تھے اور پہاڑوں کو تراش کر بڑے خوبصورت گھر بناتے تھے ۔ اب ان کے محلات کا تو کوئی نام و نشان نہیں‘ البتہ پہاڑوں سے تراش کر بنائے گئے گھر وں کے کھنڈرات اُس علاقے میں آج بھی موجود ہیں۔ قومِ ثمود حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے گزری ہے اور قوم عاد اس سے بھی پہلے تھی ۔ اس طرح قومِ ثمود کا زمانہ آج سے تقریباً چھ ہزار سال پہلے کا ہے جبکہ قومِ عاد کو گزرے اب تقریباً سات ہزار سا ل ہو چکے ہیں۔
’’آپؑ کی قوم کے متکبر سرداروں نے ان لوگوں سے کہا جو دبا لیے گئے تھے (اور) جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہ (واقعی) کیا تم لوگوں کا خیال ہے کہ یہ صالح اپنے ربّ کی طرف سے بھیجا گیا ہے؟ ‘‘
’’ انہوں نے کہا کہ(ہاں) ہم تو جو کچھ ان کو دے کر بھیجا گیا ہے اس پر ایمان رکھتے ہیں۔‘‘
حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کے غریب ‘ دبے ہوئے اور کمزور اہل ایمان لوگوں سے ان کے سردار بڑے متکبرانہ انداز سے مخاطب ہوکر کہتے تھے کہ کیا تمہیں اس بات کا یقین ہے کہ یہ صالح واقعی اپنے رب کی طرف سے بھیجے گئے ہیں؟ اس پر وہ لوگ بڑے یقین سے جواب دیتے تھے کہ جو کچھ آپؑ کے رب نے آپؑ کو دیا ہے ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں اور اِن سارے احکام کو سچ جانتے ہیں۔
’’تو انہو ں نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ ڈالیں اور اپنے رب کے حکم سے سرتابی کی‘‘
یہ اونٹنی ان کی فرمائش پر چٹان سے برآمد ہوئی تھی ‘ مگر پھر یہ ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن گئی تھی۔ وہ ان کی فصلوں میں جہاں چاہتی پھرتی اور جو چاہتی کھاتی۔ اس کی خوراک غیر معمولی حدتک زیادہ تھی۔ پانی پینے کے لیے بھی اس کی باری مقرر تھی ۔ ایک دن ان کے تمام ڈھور ڈنگر پانی پیتے تھے‘ جبکہ دوسرے دن وہ اکیلی تمام پانی پی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ یہ سب کچھ ان کے لیے نا قابل برداشت ہو گیا اور بالآخر ان سرداروں نے ایک سازش کے ذریعے اسے ہلاک کروا دیا۔
’’اور کہا : اے صالح! لے آئو ہم پر وہ (عذاب) جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر واقعی تم رسول ہو۔‘‘
حضرت صالح علیہ السلام سے انہوں نے چیلنج کے انداز میں کہا کہ ہم نے تمہاری اونٹنی کو تو مار ڈالا ہے‘ اب اگر واقعی تم اللہ کے رسول ہو تو لے آئو ہمارے اوپر وہ عذاب جس کا تم ہر وقت ہمیں ڈراوا دیتے رہتے ہو۔
’’تو (صالح علیہ السلام نے) ان سے پیٹھ موڑ لی اور کہا کہ اے میری قوم کے لوگو! میں نے تو تمہیں اپنے رب کا پیغام پہنچا دیا تھا اور میں نے (امکان بھر) تمہاری خیر خواہی کی‘ لیکن تم تو خیر خواہوں کو پسند نہیں کرتے۔‘‘
اس کے بعد حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے۔ آپؑ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ آپؑ عراق کے رہنے والے تھے اور سامیٔ النسل تھے۔ آپؑ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو رسالت سے سرفراز فرماکر سدوم اور عامورہ کی بستیوں کی طرف مبعوث فرمایا۔ یہ دونوں شہر بحیرۂ مردار (Dead Sea) کے کنارے اُس زمانے کے دو بڑے اہم تجارتی مراکز تھے۔ اُس زمانے میں جو تجارتی قافلے ایران اور عراق کے راستے مشرق سے مغرب کی طرف جاتے تھے وہ فلسطین اور مصر کوجاتے ہوئے سدوم اور عامورہ کے شہروں سے ہو کر گزرتے تھے۔ اُس اہم تجارتی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے ان شہروں میں بڑی خوشحالی تھی۔ مگر ان لوگوں میں مردوں کے آپس میں جنسی اختلاط کی خباثت پیدا ہو گئی تھی جس کی وجہ سے ان پر عذاب آیا۔
حضرت لوط علیہ السلام اس قوم میں سے نہیں تھے۔ سورۃالعنکبوت (آیت ۲۶) میں ہمیں آپؑ کی ہجرت کا ذکر ملتا ہے۔ آپؑ عراق سے ان شہروں کی طرف مبعوث ہو کر آئے تھے ۔ یہاں پر یہ بات خاص طور پر قابل توجہ ہے کہ حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح علیہم السلام کا زمانہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کا ہے ‘جبکہ حضرت لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہم عصر تھے۔ یہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پہلے کے زمانے کے تین رسولوں کا ذکر کیا گیا ہے اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو چھوڑ کر حضرت لوط علیہ السلام کا ذکر شروع کر دیا گیاہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں ایک خاص اسلوب سے انباء الرسل کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ یعنی ان رسولوں کا تذکرہ جو اللہ کی عدالت بن کر قوموں کی طرف آئے اور ان کے انکار کے بعد وہ قومیں تباہ کر دی گئیں۔ چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ضمن میں اس نوعیت کی کوئی تفصیل صراحت کے ساتھ قرآن میں نہیں ملتی اس لیے آپؑ کا ذکر قصص النبیین کے ذیل میں آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کا تذکرہ سورۃ الاعراف کے بجائے سورۃ الانعام میں کیا گیا ہے اور وہاں یہ تذکرہ قصص النبیین ہی کے انداز میں ہوا ہے‘جبکہ سورۃ الاعراف میں تمام انبا ء الرسل کو اکٹھا کر دیا گیاہے۔
’’اور لوطؑ کو (بھی ہم نے بھیجا) جب اُس نے کہا اپنی قوم سے ‘‘
اگرچہ حضرت لوط علیہ السلام اس قوم میں سے نہیں تھے ‘لیکن ان کی طرف مبعوث ہونے اور وہاں جا کر آباد ہوجانے کی وجہ سے ان لوگوں کو آپؑ کی قوم قرار دیا گیاہے۔
’’کیا تم ایسی بے حیائی کا ارتکاب کر رہے ہو جوتم سے پہلے تمام جہان والوں میں سے کسی نے بھی نہیں کی۔‘‘
یعنی اجتماعی طور پر پوری قوم کا ایک شرمناک فعل کو اس انداز سے اپنالینا کہ اسے اپنا شعار بنا لینا‘ کھلم کھلا اس کا ارتکاب کرنااور اس میں شرمانے کی بجائے فخر کرنا‘ اس سب کچھ کی مثال تاریخِ انسانی کے اندر کوئی اور نہیں ملتی۔
’’تو نہیں تھا اس کی قوم کا کوئی جواب سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا نکالو ان کو اپنی بستی سے ‘ یہ لوگ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔‘‘
ان کے پاس کوئی معقول جواب تو تھا نہیں ‘ شرم و حیا کو وہ لوگ پہلے ہی بالائے طاق رکھ چکے تھے۔ کوئی دلیل‘ کوئی عذر‘ کوئی معذرت ‘ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو وہ حضرت لوط علیہ السلام اور آپؑ کے گھر والوں کو شہر بدر کرنے کے درپے ہو گئے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اس مقامی قوم سے تعلق رکھتی تھی‘اس لیے وہ آخر وقت تک اپنی قوم کے ساتھ ملی رہی۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیٹیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئے۔
’’اور ہم نے برسائی ان پر ایک بارش‘ تو دیکھو کیا انجام ہوا مجرموں کا!‘‘
یہ پتھروں کی بارش تھی اور اس کے ساتھ شدید زلزلہ بھی تھا ‘جس سے ان کی بستیاں الٹ کر بحیرۂ مردار کے اندر دفن ہو گئیں۔ قومِ لوطؑ اور حضورﷺ کے مخاطب مشرکین مکہ کے درمیان زمانی اور مکانی لحاظ سے زیادہ بعد نہیں تھا ‘ اس قوم کے قصے اہلِ عرب کی تاریخی روایات کے اندر موجود تھے۔ چنانچہ اہل مکہ اس قوم کے حسرتناک انجام سے خوب واقف تھے۔