تحریر

الأعراف

آیات ۳۵ تا ۵۸

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

35-36

وحی کی پیروی ہی میں بھلائی ہے

ویڈیو

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾ وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۶﴾

آیت 35

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ رُسُلٌ مِّنۡکُمۡ یَقُصُّوۡنَ عَلَیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ ۙ فَمَنِ اتَّقٰی وَ اَصۡلَحَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۵﴾

’’اے بنی آدم! جب بھی تمہارے پاس آئیں رسول تم ہی میں سے جو تمہیں میری آیات سنائیں ‘ تو جو کوئی بھی (ان کی دعوت کے جواب میں ) تقویٰ کی روش اختیار کرے گا اور اصلاح کر لے گا تو ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ کسی غم سے دو چار ہوں گے۔‘‘

آیت 36

وَ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۳۶﴾

’’اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور تکبر کی بناپر انہیں رد کر دیں گے وہی جہنمی ہوں گے‘ اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔‘‘

37-39

دنیا و آخرت کا برا انجام

ویڈیو

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ اُولٰٓئِکَ یَنَالُہُمۡ نَصِیۡبُہُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ ؕ حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾ قَالَ ادۡخُلُوۡا فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ فِی النَّارِ ؕ کُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّۃٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَہَا ؕ حَتّٰۤی اِذَا ادَّارَکُوۡا فِیۡہَا جَمِیۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰىہُمۡ لِاُوۡلٰىہُمۡ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا فَاٰتِہِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ۬ؕ قَالَ لِکُلٍّ ضِعۡفٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۸﴾ وَ قَالَتۡ اُوۡلٰىہُمۡ لِاُخۡرٰىہُمۡ فَمَا کَانَ لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿٪۳۹﴾

آیت 37

فَمَنۡ اَظۡلَمُ مِمَّنِ افۡتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوۡ کَذَّبَ بِاٰیٰتِہٖ ؕ

’’پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہو گا جو اللہ کی طرف کوئی غلط بات منسوب کرے یا اُس کی آیات کو جھٹلائے!‘‘

اُولٰٓئِکَ یَنَالُہُمۡ نَصِیۡبُہُمۡ مِّنَ الۡکِتٰبِ ؕ

’’ (لیکن دنیا میں) ان کو ملتا رہے گا اُن کا حصہ ‘ اس میں سے جو(ان کے لیے) لکھا گیا ہے۔‘‘

دنیا میں ان کے رزق وغیر ہ کا سلسلہ ا ن کے کفر کی وجہ سے منقطع نہیں ہو گا‘بلکہ دُنیوی زندگی میں وہ انہیں معمول کے مطابق ملتا رہے گا۔ یہ مضمون سورئہ بنی اسرائیل کے دوسرے رکوع میں واضح تر انداز میں آئے گا۔

حَتّٰۤی اِذَا جَآءَتۡہُمۡ رُسُلُنَا یَتَوَفَّوۡنَہُمۡ ۙ قَالُوۡۤا اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ تَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ

’’یہاں تک کہ جب ان کے پاس ہمارے بھیجے ہوئے (فرشتے ) آ جائیں گے ان (کی روحوں)کو قبض کرنے کے لیے تووہ کہیں گے کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم پکارا کرتے تھے اللہ کے سوا؟‘‘

اب کہاں ہیں وہ تمہارے خود ساختہ معبود جن کے سامنے تم ماتھے رگڑتے تھے اور جن کے آگے گڑ گڑاتے ہوئے دعائیں کیا کرتے تھے؟

قَالُوۡا ضَلُّوۡا عَنَّا وَ شَہِدُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ اَنَّہُمۡ کَانُوۡا کٰفِرِیۡنَ ﴿۳۷﴾

’’وہ کہیں گے کہ وہ سب تو ہم سے گم ہو گئے ‘اوروہ خود اپنے خلاف یہ گواہی دیں گے کہ واقعتا وہ کافر تھے۔‘‘

آیت 38

قَالَ ادۡخُلُوۡا فِیۡۤ اُمَمٍ قَدۡ خَلَتۡ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ مِّنَ الۡجِنِّ وَ الۡاِنۡسِ فِی النَّارِ ؕ

’’اللہ فرمائے گا : اچھا شامل ہو جاؤ جنوں اور انسانوں کی اُن اُمتوں میں جوتم سے پہلے گزر چکی ہیں آگ میں (داخل ہونے کے لیے)۔‘‘

یعنی ایک ایک قوم کا حساب ہوتا چلا جائے گااور مجرمین جہنم کے اندر جھونکے جاتے رہیں گے۔ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل‘ پھر تیسری نسل و علیٰ ہذا القیاس۔ اس کے بعد وہاں وہ آپس میں جھگڑیں گے۔ بعد میں آنے والی ہر نسل کے مقابلے میں پہلی نسل کے لوگ بڑے مجرم ہوں گے‘ کیونکہ جو لوگ بدعات اور غلط عقائد کے موجد ہوتے ہیں اصل اور بڑے مجرم تو وہی ہوتے ہیں‘ان ہی کی وجہ سے بعد میں آنے والی نسلیں بھی گمراہ ہوتی ہیں ۔ لہٰذا قرآن مجید میں اہل جہنم کے جو مکالمات مذکور ہیں ان کے مطابق بعد میں آنے والے لو گ اپنے پہلے والوں پر لعنت کریں گے اور کہیں گے کہ تمہاری وجہ سے ہی ہم گمراہ ہوئے ‘ لہٰذا تم لوگوں کو تو دوگنا عذاب ملنا چاہیے۔ اس طریقے سے وہ آپس میں ایک دوسرے پر لعن طعن کریں گے اور جھگڑیں گے۔

کُلَّمَا دَخَلَتۡ اُمَّۃٌ لَّعَنَتۡ اُخۡتَہَا ؕ

’’جب بھی کوئی امت (جہنم میں) داخل ہو گی تو وہ اپنے جیسی دوسری اُمت پر لعنت کرے گی۔‘‘

حَتّٰۤی اِذَا ادَّارَکُوۡا فِیۡہَا جَمِیۡعًا ۙ قَالَتۡ اُخۡرٰىہُمۡ لِاُوۡلٰىہُمۡ رَبَّنَا ہٰۤؤُلَآءِ اَضَلُّوۡنَا

’’ یہاں تک کہ جب اس میں گر چکیں گے سب کے سب تو ان کے پچھلے کہیں گے اپنے اَگلوں کے بارے میںکہ اے ہمارے ربّ! یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ‘‘

دنیا میں تو یہ لوگ اپنی پہلی نسلوں کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ہمارے آباء و اَجداد تھے ‘ ہمارے قابلِ احترام اَسلاف تھے ۔ یہ طور طریقے انہی کی ریتیں اور روایتیں ہیں۔ ان کی ان روایتوں کو ہم کیسے چھوڑ سکتے ہیں ؟ لیکن وہاں جہنم میں اپنے انہی آباء واَجداد کے بارے میں وہ علی الاعلان کہہ دیں گے کہ اے اللہ! یہی ہیں وہ بدبخت جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔

فَاٰتِہِمۡ عَذَابًا ضِعۡفًا مِّنَ النَّارِ ۬ؕ

’’تو ان کو تو دوگنا عذاب دے آگ میں سے۔ ‘‘

قَالَ لِکُلٍّ ضِعۡفٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۸﴾

’’اللہ فرمائے گا: (تم) سب کے لیے ہی دوگنا (عذاب) ہے ‘ لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں ہے۔‘‘

جیسے یہ لوگ تمہیں گمراہ کر کے آئے تھے ویسے ہی تم بھی اپنے بعد والوں کو گمراہ کر کے آئے ہواور یہ سلسلہ دُنیا میں اسی طرح چلتا رہا۔ یہ تو تمہیں اُس وقت چاہیے تھا کہ اپنی عقل سے کام لیتے ۔ میں نے تم سب کو عقل دی تھی ‘ دیکھنے اور سننے کی صلاحیتیں دی تھیں‘ نیکی اور بدی کا شعور دیا تھا ۔ تمہیں چاہیے تھا کہ ان صلاحیتوں سے کام لے کر برے بھلے کا خود تجزیہ کرتے اور اپنے آباء و اَجداد اور لیڈروں کی اندھی تقلید نہ کرتے۔ لہٰذا تم میں سے ہر شخص اپنی تباہی و بربادی کا خود ذمہ دار ہے۔

آیت 39

وَ قَالَتۡ اُوۡلٰىہُمۡ لِاُخۡرٰىہُمۡ فَمَا کَانَ لَکُمۡ عَلَیۡنَا مِنۡ فَضۡلٍ فَذُوۡقُوا الۡعَذَابَ بِمَا کُنۡتُمۡ تَکۡسِبُوۡنَ ﴿٪۳۹﴾

’’اور ان کے اگلے اپنے پچھلوں سے کہیں گے کہ تمہیں بھی تو ہم پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہو سکی‘لہٰذا اب چکھو مزہ عذاب کا اپنے کرتوتوں کے بدلے میں۔‘‘

40-41

اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے کبھی جنت میں داخل نہ ہوں گے

ویڈیو

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾ لَہُمۡ مِّنۡ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ غَوَاشٍ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾

آیت 40

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَ اسۡتَکۡبَرُوۡا عَنۡہَا لَا تُفَتَّحُ لَہُمۡ اَبۡوَابُ السَّمَآءِ

’’یقیناجن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور تکبر کی بنا پر ان کو رد کیا‘ ان کے لیے آسمان کے دروازے کبھی نہیں کھولے جائیں گے‘‘

اگرچہ یہ بات قطعی طور پر تو نہیں کہی جا سکتی‘ تاہم قرآن مجید میں کچھ اس طرح کے اشارات ملتے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم اِسی زمین پر برپاہو گی اور ابتدائی نُزُل (مہمانی )والی جنت بھی یہیں پر بسائی جائے گی۔ قرآن کے فرمان {وَ اِذَا الۡاَرۡضُ مُدَّتۡ ۙ﴿۳﴾} (الانشقاق ) کی عملی کیفیت کو ذہن میں لانے سے یہ نقشہ تصور میں یوں آتا ہے کہ زمین کو جب کھینچا جائے گا تو یہ پچک جائے گی‘ جیسے ربڑ کی گیند کو کھینچا جائے تو وہ اندر کو پچک جاتی ہے۔ زمین کے پچکنے سے اس کے اندر کا سارا لاوا باہر نکل آئے گا جو جہنم کی شکل اختیار کر لے گا (واللہ اعلم)۔ احادیث میں مذکور ہے کہ روزِ محشر میدانِ عرفات کو کھول کر وسیع کر دیا جائے گا اور یہیں پر حشر ہو گا۔ {وَّ جَآءَ رَبُّکَ وَ الۡمَلَکُ صَفًّا صَفًّا ﴿ۚ۲۲﴾} (الفجر) کے الفاظ سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ پروردگار شانِ اجلال کے ساتھ نزول فرمائیں گے ‘ فرشتے بھی فوج در فوج آئیں گے اور یہیں پر حساب کتاب ہو گا۔ گویا ’’قصۂ زمین برسرزمین‘‘ والا معاملہ ہو گا۔اہل بہشت کی ابتدائی مہمان نوازی بھی یہیں ہوگی‘ لیکن پھر اہل جنت اپنے مراتب کے اعتبار سے درجہ بدرجہ اوپر کی جنتوں میں چڑھتے چلے جائیں گے‘ جبکہ اہلِ جہنم یہیں کہیں رہ جائیں گے‘ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھولے ہی نہیں جائیں گے۔

وَ لَا یَدۡخُلُوۡنَ الۡجَنَّۃَ حَتّٰی یَلِجَ الۡجَمَلُ فِیۡ سَمِّ الۡخِیَاطِ ؕ

’’اور وہ جنت میں داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکہ میں سے گزر جائے۔‘‘

اس اسلوب کو اصطلاح میں ’’تعلیق بالمحال‘‘ کہا جاتا ہے۔ نہ یہ ممکن ہو گا کہ سوئی کے ناکہ میں سے اونٹ گزر جائے اور نہ ہی کفار کے لیے جنت میں داخل ہونے کی کوئی صورت پیدا ہو گی۔ بالکل یہی محاورہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی ایک جگہ استعمال کیا ہے۔ آپؑ کے پاس ایک دولت مند شخص آیا اور آپؑ کی تعلیمات کے بارے میں سوال کیا۔ آپؑ نے اسے چند اوامر و نواہی بتائے کہ خون نہ کر‘ زنا نہ کر‘ چوری نہ کر‘ جھوٹی گواہی نہ دے۔ اپنے ماں باپ کی عزت کر اور اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔ اُس شخص نے کہا کہ میں نے ان سب پر عمل کیا ہے‘ اب مجھ میں کس بات کی کمی ہے؟ یسوع نے اُس سے کہا : اگر تو کامل ہونا چاہتا ہے تو جا اپنا مال و اسباب بیچ کر غریبوں کو دے۔ تجھے آسمان پر خزانہ ملے گا اور آ کر میرے پیچھے ہو لے۔ مگر وہ جوان یہ بات سن کر غمگین ہو کر چلا گیا کیونکہ بڑا مال دار تھا۔ اس پر آپؑ نے اپنے شاگردوں سے کہا :میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ دولت مند کا آسمان کی بادشاہی میں داخل ہونا مشکل ہے۔ اور پھر تم سے کہتا ہوں کہ اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے نکل جانا اس سے آسان ہے کہ دولت مند خدا کی بادشاہی میں داخل ہو۔ (متی۱۹:۱۸۔۲۴) ------یہاں یہ واقعہ قرآن میں مذکور محاورے کے حوالے سے بر سبیل تذکرہ آ گیا ہے ‘ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس فرمان کو کسی معاملے میں بطورِ دلیل پیش کرنا مقصود نہیں۔

وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الۡمُجۡرِمِیۡنَ ﴿۴۰﴾

’’اور اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں مجرموں کو۔‘‘

آیت 41

لَہُمۡ مِّنۡ جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَّ مِنۡ فَوۡقِہِمۡ غَوَاشٍ ؕ وَ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۴۱﴾

’’اُن کے لیے جہنم ہی کا بچھونا ہو گا اور ان کے اوپر (اسی کا) اوڑھنا ہو گا۔اور اسی طرح ہم ظالموں کو بدلہ دیں گے۔‘‘

اہل جہنم کے لیے آگ کے گدے ہوں گے بچھانے کواور اسی کے لحاف ہوں گے اوڑھنے کو۔ اور اسی آگ کے اندر ان کا گزر بسر ہوگا۔

42-43

جنت عمل کی وجہ سے عطا کی جائے گی

ویڈیو

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾ وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ ۚ وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ؕ وَ نُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡکُمُ الۡجَنَّۃُ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

آیت 42

وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُکَلِّفُ نَفۡسًا اِلَّا وُسۡعَہَاۤ ۫ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۴۲﴾

’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ---- ہم کسی جان کو ذمہ دار نہیں ٹھہرائیں گے مگر اُس کی وسعت کے مطابق ---- وہی ہوں گے جنت والے ‘اس میں رہیں گے ہمیشہ ہمیش۔‘‘

یہ مضمون سورۃ البقرۃ کی آخری آیت میں بھی آ چکا ہے۔ اب یہاں پھر دہرایا گیا ہے کہ آخرت کا محاسبہ انفرادی طور پر ہوگا اور ہر فرد کی صلاحیتوں اور اُس کو ودیعت کی گئی نعمتوں کے عین مطابق ہو گا۔ کسی کی استطاعت سے زیادہ کی ذمہ داری اس پر نہیں ڈالی جائے گی۔

آیت 43

وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ

’’اور ہم نکال دیں گے جو کچھ ان کے سینوں میں ہو گا (ایک دوسرے کی طرف سے )کوئی میل‘‘

اہلِ ایمان بھی آخر انسان ہیں۔ باہمی معاملات میں ان کو بھی ایک دوسرے سے گلے اور شکوے ہو سکتے ہیں اور شکوک و شبہات ان کے دلوں میں بھی جنم لے سکتے ہیں۔ دینی جماعتوں کے اندر بھی کسی مامور کو امیر سے ‘ امیر کو کسی مامور سے یا ایک رفیق کو دوسرے رفیق سے شکایت ہو سکتی ہے۔ کچھ ایسے گلے شکوے بھی ہو سکتے ہیں جو دنیا کی زندگی میں ختم نہ ہو سکے ہوں گے۔ ایسے گلے شکووں کے ضمن میں قرآن حکیم میں کئی مرتبہ فرمایا گیا کہ اہل جنت کو جنت میں داخل کرنے سے پہلے ان کے دلوں کو ایسی تمام آلائشوں سے پاک کر دیا جائے گا اور وہ لوگ باہم بھائی بھائی بن کر ایک دوسرے کے رو برو بیٹھیں گے: {وَ نَزَعۡنَا مَا فِیۡ صُدُوۡرِہِمۡ مِّنۡ غِلٍّ اِخۡوَانًا عَلٰی سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِیۡنَ ﴿۴۷﴾} (الحجر) ’’اور ہم نکال دیں گے ان کے سینوں میں سے جو کچھ بھی کدورت ہو گی بھائی بھائی بن کر (وہ بیٹھے ہوں گے) تختوں پر آمنے سامنے‘‘۔’’غِلٍ‘‘اُس کینے اور بغض کو کہا جاتا ہے جو سینوں میں مستور ہو۔چنانچہ اہل ایمان کو سورۃ الحشر میں یہ دعا بھی تلقین کی گئی ہے : {رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَنَا وَ لِاِخۡوَانِنَا الَّذِیۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِیۡمَانِ وَ لَا تَجۡعَلۡ فِیۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّکَ رَءُوۡفٌ رَّحِیۡمٌ ﴿٪۱۰﴾} ’’ اے ہمارے پروردگار! تو ہمارے اور ہمارے اُن بھائیوں کے گناہ معاف فرما دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور اہل ایمان میں سے کسی کے لیے بھی ہمارے دل میں کوئی کدورت باقی نہ رہنے دے ‘ بے شک تو رئوف اور رحیم ہے‘‘۔

دورِ فتن میں بعض صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں بھی باہمی رنجشیں اور کدورتیں پیداہو گئی تھیں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے کہ ’’مجھے اُمید ہے کہ میں‘ عثمان‘ طلحہ اور زبیر رضوان اللہ علیہم اجمعین اُن لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : {وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِہِمْ مِّنْ غِلٍّ}‘‘(البدایۃ والنہایۃ:۷/ ۲۰۲) یعنی ان حضرات کی باہمی رنجشیں دور کرکے ان کے دل آئینے کی طرح صاف کردیے جائیں گے۔

تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہِمُ الۡاَنۡہٰرُ ۚ

’’اور اُن (کے بالاخانوں) کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔‘‘

وَ قَالُوا الۡحَمۡدُ لِلّٰہِ الَّذِیۡ ہَدٰىنَا لِہٰذَا ۟ وَ مَا کُنَّا لِنَہۡتَدِیَ لَوۡ لَاۤ اَنۡ ہَدٰىنَا اللّٰہُ ۚ لَقَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ؕ

’’ اور وہ کہیں گے کل شکر اور کل تعریف اُس اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں یہاں تک پہنچادیا‘ اور ہم یہاں تک نہیں پہنچ سکتے تھے اگر اللہ ہی نے ہمیں نہ پہنچا دیا ہوتا۔ یقینا ہمارے رب کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے۔‘‘

وَ نُوۡدُوۡۤا اَنۡ تِلۡکُمُ الۡجَنَّۃُ اُوۡرِثۡتُمُوۡہَا بِمَا کُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۴۳﴾

’’اور (تب )انہیں پکارا جائے گاکہ یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث بنا دیے گئے ہو اپنے اعمال کی وجہ سے۔‘‘

بندے کا مقامِ عبدیت اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ وہ اللہ کے انعام و اکرام پر سراپا شکر بن کر پکار اٹھے کہ اے اللہ میں اس لائق نہیں تھا ‘ میرے اعمال ایسے نہیں تھے‘ میں اپنی کوشش کی بنیاد پر کبھی بھی اس کا مستحق نہیں ہو سکتا تھا ‘ یہ سارا تیرا فضل و کرم ‘ تیری عطا اورتیری دَین ہے‘ جبکہ اللہ تعالیٰ بندے کے حسن نیت اور اعمالِ صالحہ کی قدرافزائی کرتے ہوئے ارشاد فرمائے گا کہ میرے بندے ‘تو نے دنیا میں خلوصِ نیت سے حق کا راستہ چنا تھا ‘ اس میں تو نے محنت بھی کی‘ نقصان بھی برداشت کیا‘اور باطل کا مقابلہ کرنے میں تکالیف بھی اٹھائیں۔لہٰذا آج کا یہ مقام تیری محنت کا انعام ‘ تیری کوشش کا ثمر اور تیرے ایثار کا صلہ ہے۔ چنانچہ بندے کی کوشش و محنت اور اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم دونوں چیزیں مل کر ہی بندے کی دائمی فلاح کو ممکن بناتی ہیں ۔ ہم ایک نیک کام کا ارادہ کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نیت کے خلوص کو دیکھتے ہوئے اس کام کی توفیق دے دیتا ہے اور اسے ہمارے لیے آسان کر دیتا ہے۔ اگر ہم ارادہ ہی نہیں کریں گے تو اللہ کی طرف سے توفیق بھی نہیں ملے گی۔ اسی طرح اللہ کی توفیق وتیسیر کے بغیر محض ارادے سے بھی ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

44-45

اہل جنت کی اہل جہنم سے گفتگو

ویڈیو

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَہَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمۡ حَقًّا ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾ الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾

آیت 44

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡجَنَّۃِ اَصۡحٰبَ النَّارِ اَنۡ قَدۡ وَجَدۡنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا

’’اور جنتی لوگ پکارکر کہیں گے جہنمیوں سے کہ ہم نے تو وہ وعدہ بالکل سچاپایا ہے جو ہمارے ربّ نے ہم سے کیا تھا‘‘

جن نعمتوں کا اللہ تعالیٰ نے ہم سے وعدہ کیا تھا وہ ہمیں مل گئیں۔ اس کا وعدہ ہمارے حق میں سچ ثابت ہوا۔

فَہَلۡ وَجَدۡتُّمۡ مَّا وَعَدَ رَبُّکُمۡ حَقًّا ؕ قَالُوۡا نَعَمۡ ۚ

’’تو کیا تم نے بھی سچا پایا ہے وہ وعدہ جو تمہارے رب نے تم سے کیا تھا؟ وہ کہیں گے کہ ہاں!‘‘

اہلِ جہنم جواب دیں گے کہ ہاں! ہمارے ساتھ بھی جو وعدے کیے گئے تھے وہ بھی سب پورے ہو گئے۔ جو وعیدیں ہمیں دنیا میں سنائی جاتی تھیں‘ عذاب کی جو مختلف شکلیں بتائی جاتی تھیں ‘ وہ سب کی سب حقیقت کا روپ دھا ر کر ہمارے سامنے موجود ہیں اور اس وقت ہم ان میں گھرے ہوئے ہیں۔

فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیۡنَہُمۡ اَنۡ لَّعۡنَۃُ اللّٰہِ عَلَی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۙ۴۴﴾

’’تو (اُس وقت) پکارے گا ایک پکارنے والا ان کے مابین کہ اللہ کی لعنت ہے ظالموں پر۔‘‘

آیت 45

الَّذِیۡنَ یَصُدُّوۡنَ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ وَ یَبۡغُوۡنَہَا عِوَجًا ۚ

’’وہ لوگ جو روکتے تھے (اور خود بھی رُکتے تھے) اللہ کے راستے سے اور اس (راستے)میں کجی نکالتے تھے‘‘

نہ صرف یہ کہ وہ خود ایمان نہیں لائے تھے‘ بلکہ دوسرے لوگوں کو بھی اس راستے سے روکنے کی حتی الوسع کوشش کرتے تھے۔ اگر کسی شخص کو حضرت محمد رسول اللہﷺکی محفل کی طرف جاتے دیکھتے تو اسے ورغلانے اور بہکانے کے درپے ہو جاتے تھے کہ کہیں وہ آپﷺ کی باتوں سے متاثر ہو کر ایمان نہ لے آئے۔

وَ ہُمۡ بِالۡاٰخِرَۃِ کٰفِرُوۡنَ ﴿ۘ۴۵﴾

’’اور یہ لوگ آخرت کے منکر تھے۔‘‘

46-49

اصحاب اعراف کا تذکرہ

ویڈیو

وَ بَیۡنَہُمَا حِجَابٌ ۚ وَ عَلَی الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ یَّعۡرِفُوۡنَ کُلًّۢا بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ وَ نَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۟ لَمۡ یَدۡخُلُوۡہَا وَ ہُمۡ یَطۡمَعُوۡنَ ﴿۴۶﴾ وَ اِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُہُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۴۷﴾ وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا یَّعۡرِفُوۡنَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡکُمۡ جَمۡعُکُمۡ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾ اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحۡمَۃٍ ؕ اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۹﴾

آیت 46

وَ بَیۡنَہُمَا حِجَابٌ ۚ

’’اوران (جنتیوں اورجہنمیوں) کے مابین ایک پردے کی دیوار ہو گی۔‘‘

اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ہونے والی گفتگو کانقشہ زیادہ واضح طور پر سورۃ الحدید میں کھینچاگیا ہے۔ وہاں (آیت نمبر ۱۳ میں) اس حجاب یا پردے کے بارے میں فرمایاگیا : {فَضُرِبَ بَیۡنَہُمۡ بِسُوۡرٍ لَّہٗ بَابٌ ؕ} یعنی ایک طرف جنت اور دوسری طرف دوزخ ہو گی اور درمیان میں فصیل ہو گی جس میں ایک دروازہ بھی ہو گا۔

وَ عَلَی الۡاَعۡرَافِ رِجَالٌ یَّعۡرِفُوۡنَ کُلًّۢا بِسِیۡمٰہُمۡ ۚ

’’اور دیوار کی برجیوں پر کچھ لوگ ہوں گے جو ہر ایک کو ان کی نشانی سے پہچانتے ہوں گے۔‘‘ یہ اصحابِ اعراف اہل جنت کو بھی پہچانتے ہوں گے اور اہل جہنم کو بھی۔ قلعوں کی فصیلوں کے اوپر اطراف و جوانب پر نظر رکھنے کے لیے عام طور پر جو برج اور جھروکے بنے ہوتے ہیں انہیں ’’عرف‘‘ (جمع اَعراف) کہا جاتا ہے۔ دوزخ اور جنت کی درمیانی فصیل پر بھی کچھ برج اور جھروکے ہوں گے جہاں سے جنت و دوزخ کے مناظر کا مشاہدہ ہو سکے گا۔ ان پر وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں بین بین چلتے رہے تھے ‘یعنی کسی طرف بھی یکسو ہو کر نہیں رہے تھے۔ ان کے اعمال ناموں میں نیکیاں اور بد اعمالیاں برابر ہو جائیں گی ‘ جس کی وجہ سے ایک وقت تک انہیں جنت میں بھیجنے یا جہنم میں جھونکنے کا فیصلہ نہیں ہوا ہو گا۔

وَ نَادَوۡا اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ سَلٰمٌ عَلَیۡکُمۡ ۟ لَمۡ یَدۡخُلُوۡہَا وَ ہُمۡ یَطۡمَعُوۡنَ ﴿۴۶﴾

’’اور وہ (اصحابِ اعراف) جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ آپ پر سلامتی ہو ! وہ اس (جنت) میں ابھی داخل نہیں ہوئے ہوں گے‘ مگر انہیں اس کی بہت خواہش ہو گی۔‘‘

وہ اہل جنت کو دیکھ کر انہیں بطور مبارک باد سلام کہیں گے اور ان کی اپنی شدید خواہش اور آرزو ہو گی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جلد از جلد جنت میں داخل کر دے ‘ جو آخر کارپوری کر دی جائے گی۔

آیت 47

وَ اِذَا صُرِفَتۡ اَبۡصَارُہُمۡ تِلۡقَآءَ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۙ قَالُوۡا رَبَّنَا لَا تَجۡعَلۡنَا مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۴۷﴾

’’اور جب ان کی نگاہیں پھیر ی جائیں گی اہل جہنم کی طرف تو (اُس وقت) وہ کہیں گے:

اے ہمارے پروردگار! ہمیں ان ظالموں کے ساتھ شامل نہ کر دیجیو۔‘‘

جنت کے نظارے کے بعد ان کو جہنم کا منظر بھی دکھایا جائے گا‘ کہ اب ذرا جہنمیوں کی کیفیت کا بھی مشاہدہ کر لو۔ یہ لوگ ابھی تک ’’بین الخوف و الرجائ‘‘ کی کیفیت میں ہوں گے۔ انہیں جنت میں داخلے کی امید بھی ہوگی اور جہنم میں جھونکے جانے کا خوف بھی۔ اس لیے جب وہ اہلِ جنت کی طرف دیکھیں گے تو انہیں سلام کہیں گے اور ساتھ ہی ان کے دلوں میں اُمنگیں اور تمنائیں بھی جاگ اٹھیں گی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی ا ن کے ساتھ شامل کردے۔ لیکن دوسری طرف جب اہل جہنم پر ان کی نظر پڑے گی تو فریاد کریں گے کہ اے پروردگار! ہم پر رحم فرمائیو اور ہمیں ان ظالم لوگوں کا ساتھی نہ بنائیو!

آیت 48

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ الۡاَعۡرَافِ رِجَالًا یَّعۡرِفُوۡنَہُمۡ بِسِیۡمٰہُمۡ قَالُوۡا مَاۤ اَغۡنٰی عَنۡکُمۡ جَمۡعُکُمۡ وَ مَا کُنۡتُمۡ تَسۡتَکۡبِرُوۡنَ ﴿۴۸﴾

’’اور پکاریں گے اہل اعراف (اہل جہنم میں سے) ان لوگوں کو جنہیں وہ پہچانتے ہوں گے ان کی نشانی سے‘ کہیں گے کہ تمہارے کچھ کام نہ آئی تمہاری جمعیت اور (نہ وہ)جو کچھ تم تکبر کیا کرتے تھے۔‘‘

وہ انہیں یاد دلائیں گے کہ وہ تمہارے حاشیہ نشین‘ تمہارے وہ لائو لشکر‘ تمہارا وہ غرور و تکبر ‘ وہ جاہ وحشم سب کہاں گئے؟ اے ابو جہل !یہ تیرے ساتھ کیا ہوا؟ اور اے ولید بن مغیرہ! یہ تیرا کیا انجام ہوا؟

آیت 49

اَہٰۤؤُلَآءِ الَّذِیۡنَ اَقۡسَمۡتُمۡ لَا یَنَالُہُمُ اللّٰہُ بِرَحۡمَۃٍ ؕ

’’کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ نہیں نوازے گا انہیں اللہ اپنی کسی رحمت سے!‘‘

اصحابِ اعرا ف کو جنت والوں میں فقرائِ صحابہؓ ‘بھی نظر آئیں گے‘ وہاں وہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو بھی دیکھیں گے‘ وہاں ان کی نظر حضرت صہیب رومی رضی اللہ عنہ اور حضرت یاسر رضی اللہ عنہ پر بھی پڑے گی۔ چنانچہ وہ ان اصحابِ جنت کی طرف اشارہ کر کے جہنمیوں سے پوچھیں گے کہ کیا یہی وہ لوگ تھے جن کے بارے میں تم قسمیں کھا کھا کر کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ کسی طرح بھی ہم پر فضیلت نہیں دے سکتا ‘ان تک اللہ کی کوئی رحمت پہنچ ہی نہیں سکتی۔ ظاہر ہے تمہارے زعم میں تو وہ مفلس اور نادار تھے‘ گھٹیا طبقے سے تعلق رکھتے تھے اور گرے پڑے لوگ تھے!اور تم تھے کہ اُس وقت ان کے مقابلے میں اپنی دولت ‘ حیثیت ‘ وجاہت اور طاقت کے بل پر اکڑا کرتے تھے۔

اُدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ لَا خَوۡفٌ عَلَیۡکُمۡ وَ لَاۤ اَنۡتُمۡ تَحۡزَنُوۡنَ ﴿۴۹﴾

’’(ان سے تو کہہ دیا گیا ہے کہ) داخل ہو جاؤ جنت میں ‘نہ تم پر کوئی خوف ہے اور نہ تم کسی غم سے دو چار ہو گے۔‘‘

50-53

اہل جہنم کی اہل جنت سے گفتگو

ویڈیو

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ اَفِیۡضُوۡا عَلَیۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ؕ قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۰﴾ الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَہۡوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ فَالۡیَوۡمَ نَنۡسٰہُمۡ کَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ یَوۡمِہِمۡ ہٰذَا ۙ وَ مَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۵۱﴾ وَ لَقَدۡ جِئۡنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلۡنٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾ ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِیۡلَہٗ ؕ یَوۡمَ یَاۡتِیۡ تَاۡوِیۡلُہٗ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ نَسُوۡہُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ۚ فَہَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَیَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۵۳﴾

آیت 50

وَ نَادٰۤی اَصۡحٰبُ النَّارِ اَصۡحٰبَ الۡجَنَّۃِ اَنۡ اَفِیۡضُوۡا عَلَیۡنَا مِنَ الۡمَآءِ اَوۡ مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ ؕ

’’اور جہنم والے آواز دیں گے جنت والوں کو کہ کچھ تو بہا دو ہماری طرف پانی میں سے یا اس رزق میں سے (کچھ دے دو)جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے ۔‘‘

قَالُوۡۤا اِنَّ اللّٰہَ حَرَّمَہُمَا عَلَی الۡکٰفِرِیۡنَ ﴿ۙ۵۰﴾

’’ وہ کہیں گے کہ اللہ نے حرام کر دی ہیں یہ دونوں چیزیں (جنت کا پانی اور رزق) کافروں پر۔‘‘

اہل جنت جواب دیں گے کہ ہم تو شاید یہ چیزیں تم لوگوں کو دینا بھی چاہتے‘ کیونکہ ہماری شرافت سے تویہ بعید تھا کہ تمہیں کورا جواب دیتے ‘لیکن کیا کریں‘ اللہ نے کافروں کے لیے جنت کی یہ سب چیزیں حرام کر دی ہیں‘ لہٰذا ہم یہ نعمتیں تمہاری طرف نہیں بھیج سکتے۔

آیت 51

الَّذِیۡنَ اتَّخَذُوۡا دِیۡنَہُمۡ لَہۡوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتۡہُمُ الۡحَیٰوۃُ الدُّنۡیَا ۚ

’’(ان کے لیے) جنہوں نے اپنے دین کو تماشا اور کھیل بنا لیا تھا اور انہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں مبتلا کر دیا تھا۔‘‘

فَالۡیَوۡمَ نَنۡسٰہُمۡ کَمَا نَسُوۡا لِقَآءَ یَوۡمِہِمۡ ہٰذَا ۙ

’’ لہٰذا آج کے دن ہم بھی انہیں نظر انداز کردیں گے ‘ جیسا کہ انہوں نے اس دن کی ملاقات کو بھلائے رکھا تھا‘‘

لفظ’’نسیان‘‘ کے ایک معنی تو ہیں بھول جانا‘ جبکہ اس کے دوسرے معنی ہیں جان بوجھ کر نظر انداز کرنا۔

وَ مَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَجۡحَدُوۡنَ ﴿۵۱﴾

’’اور جیسا کہ وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے تھے۔‘‘

آیت 52

وَ لَقَدۡ جِئۡنٰہُمۡ بِکِتٰبٍ فَصَّلۡنٰہُ عَلٰی عِلۡمٍ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ ﴿۵۲﴾

’’اور ہم لے آئے ہیں ان کے پاس ایک کتاب‘ جس کی ہم نے پوری تفصیل بیان کر دی ہے علم قطعی کی بنیاد پر‘ ہدایت بھی ہے اور رحمت بھی ان لوگوں کے لیے جو ایمان لے آئیں۔‘‘

آیت 53

ہَلۡ یَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا تَاۡوِیۡلَہٗ ؕ

’’یہ کس چیز کا انتظار کررہے ہیں سوائے اس کی حقیقت کے مشاہدے کے!‘‘

یعنی کیا یہ لوگ آیاتِ عذاب کے عملی ظہور کا انتظار کر رہے ہیں؟ کیا یہ انتظار کر رہے ہیں کہ وقفۂ مہلت کا یہ بند ٹوٹ جائے اور واقعتا ان کے اوپر عذاب کا دھارا چھوٹ پڑے۔ کیا یہ لوگ اپنے لیے ایسے بھیانک انجام کا انتظار کر رہے ہیں؟

یَوۡمَ یَاۡتِیۡ تَاۡوِیۡلُہٗ یَقُوۡلُ الَّذِیۡنَ نَسُوۡہُ مِنۡ قَبۡلُ قَدۡ جَآءَتۡ رُسُلُ رَبِّنَا بِالۡحَقِّ ۚ

’’جس دن اس کا مصداق ظاہر ہو جائے گاتو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کیے رکھا تھا کہ یقینا ہمارے پروردگار کے رسول حق کے ساتھ آئے تھے ۔‘‘

فَہَلۡ لَّنَا مِنۡ شُفَعَآءَ فَیَشۡفَعُوۡا لَنَاۤ اَوۡ نُرَدُّ فَنَعۡمَلَ غَیۡرَ الَّذِیۡ کُنَّا نَعۡمَلُ ؕ

تو کیا (اب) ہیں ہمارے لیے کوئی شفاعت کرنے والے کہ ہماری شفاعت کریں یا کوئی صورت کہ ہمیں (دنیا میں) لوٹا دیا جائے تا کہ ہم عمل کریں اس کے برعکس جوکچھ (پہلے) ہم کرتے رہے تھے !‘‘

قَدۡ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۵۳﴾

’’ وہ تو اپنے آپ کو برباد کر چکے‘ اور جو افترا وہ کرتے رہے تھے وہ ان سے گم ہو گیا۔‘‘

اُس دن وہ لوگ دوبارہ دنیا میں جانے کی خواہش کریں گے ‘ لیکن تب انہیں اس طرح کا کوئی موقع فراہم کیے جانے کا کوئی امکان نہیں ہو گا۔

54

حقیقی رب صرف اور صرف اللہ ہے

ویڈیو

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟ یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۴﴾

آیت 54

اِنَّ رَبَّکُمُ اللّٰہُ الَّذِیۡ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ فِیۡ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسۡتَوٰی عَلَی الۡعَرۡشِ ۟

’’بیشک تمہارا پروردگار وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیے آسمان اور زمین چھ دنوں میں ‘پھر وہ متمکن ہوا عرش پر۔‘‘

عرش کی حقیقت اور اللہ تعالیٰ کے عرش پر متمکن ہونے کی کیفیت ہمارے تصور سے بالا تر ہے۔ اس کی اصل حقیقت کو اللہ ہی جانتا ہے۔ ممکن ہے واقعتا یہ کوئی مجسم شے ہو اور کسی خاص جگہ پر موجود ہو اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ محض استعارہ ہو ۔ عالم غیب کی خبریں دینے والی اس طرح کی قرآنی آیات مستقل طور پر آیاتِ متشابہات کے زمرے میں آتی ہیں۔ البتہ جن آیات میں بعض سائنسی حقائق بیان ہوئے ہیں‘ ان میں سے اکثر کی صداقت سائنسی ترقی کے باعث منکشف ہو چکی ہے‘ اور وہ ’’محکمات‘‘ کے درجے میں آ چکی ہیں ۔ اس سلسلے میں آئندہ تدریجاً مزید پیش رفت کی توقع بھی ہے۔ (واللہ اعلم!)

یُغۡشِی الَّیۡلَ النَّہَارَ یَطۡلُبُہٗ حَثِیۡثًا ۙ

’’وہ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر (یا رات کو ڈھانپ دیتا ہے دن سے) جواُس کے پیچھے لگا آتا ہے دوڑتا ہوا‘‘

دن رات کے پیچھے آتا ہے اور رات دن کے پیچھے آتی ہے۔

وَّ الشَّمۡسَ وَ الۡقَمَرَ وَ النُّجُوۡمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمۡرِہٖ ؕ

’’اور اُس نے سورج‘ چاند اور ستارے پیدا کیے جو اُس کے حکم سے اپنے اپنے کاموں میں لگے ہوئے ہیں۔‘‘

سورج ‘ چاند اور ستاروں کے مسخر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جو بھی قاعدہ یا قانون ان کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے ‘ وہ اس کی اطاعت کر رہے ہیں۔

اَلَا لَہُ الۡخَلۡقُ وَ الۡاَمۡرُ ؕ

’’آگاہ ہو جائو اُسی کے لیے ہے خلق اور (اُسی کے لیے ہے) امر۔‘‘

اس جملے کا سادہ اور عام فہم مفہوم تو یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ نے تخلیق کی ہے اور اب اس میں اُسی کا حکم کارفرما ہے ۔یعنی احکامِ طبیعیہ بھی اُسی کے بنائے ہوئے ہیں جن کے مطابق کائنات کا نظام چل رہا ہے ‘ اور احکامِ تشریعیہ (اوامر ونواہی) بھی اُسی نے اتارے ہیں کہ انسان ان کے مطابق اپنی زندگی گزارے۔مگر اس کا فلسفیانہ اور گہرا مفہوم یہ ہے کہ کائنات میں تخلیق دو سطح پر ہوئی ہے ۔ اس لحاظ سے یہ دو الگ الگ عالم ہیں ‘ایک عالم خلق ہے اور دوسرا عالم امر ۔ عالم امر میں عدمِ محض سے تخلیق (creation ex nihilio) ہوتی ہے اور اس میں تخلیق کے لیے بس ’’کُن ‘‘ کہا جاتا ہے تو مطلوبہ چیز وجود میں آجاتی ہے۔ (فَیَکُون) اس کے لیے نہ وقت درکار ہے اور نہ کسی مادے کی ضرورت ہوتی ہے۔ فرشتوں‘ انسانی ارواح اور وحی کا تعلق عالم امر سے ہے۔ اسی لیے ان کے سفر کرنے کے لیے بھی کوئی وقت درکار نہیں ہوتا۔ فرشتہ آنکھ جھپکنے میں زمین سے ساتویں آسمان پر پہنچ جاتا ہے۔

دوسری طرف عالم خلق میں ایک شے سے کوئی دوسری شے طبعی قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق بنتی ہے۔ اس میں مادہ بھی درکار ہوتاہے اور وقت بھی لگتا ہے۔ جیسے رحم مادر میں بچے کی تخلیق میں کئی ماہ لگتے ہیں۔ آم کی گٹھلی سے پودا اُگنے اور بڑھ کر درخت بننے کے لیے کئی سال کا وقت درکار ہوتا ہے۔ عالم خلق میں جب زمین اور آسمانوں کی تخلیق ہوئی تو قرآن کے مطابق یہ چھ دنوں میں مکمل ہوئی۔ (یہ آیت بھی ابھی تک متشابہات میں سے ہے ‘ اگرچہ اس کے بارے میں اب جلد حقیقت منکشف ہونے کے امکانات ہیں۔) چھ دنوں کی حقیقت کے بارے میں اللہ ہی جانتا ہے کہ اس سے کتنا زمانہ مراد ہے۔ ممکن ہے یہ دورانیہ کئی لاکھ سال پر محیط ہو۔خود قرآن کے مطابق اللہ تعالیٰ کا ایک دن ہماری گنتی کے مطابق ایک ہزار سال کا بھی ہو سکتا ہے (سورۃ السجدۃ‘ آیت ۵) اور پچاس ہزار سال کا بھی(سورۃ المعارج‘ آیت۴)۔

یہ قرآن مجید کا اعجاز ہے کہ اس میں انتہائی پیچیدہ علمی نکات کو بھی سادہ الفاظ اور عام فہم پیرائے میں بیان کردیا جاتا ہے کہ ایک عمومی ذہنی سطح کا آدمی بھی اسے پڑھ کر مطمئن ہو جاتا ہے‘ جبکہ ایک فلسفی و حکیم انسان کو اسی نکتے کے اندر علم و معرفت کا بحربے کراں موجزن نظر آتا ہے۔ چنانچہ پندرہ سو سال پہلے صحرائے عرب کے ایک بدو کو اس آیت کا یہ مفہوم سمجھنے میں کوئی الجھن محسوس نہیں ہوئی ہو گی کہ یہ کائنات اللہ کی تخلیق ہے اور اسی کو حق ہے کہ اس پر اپنا حکم چلائے۔ مگر جب ایک صاحبِ علم محقق اس لفظ ’’امر‘‘ پر غور کرتا ہے اور یہ جاننے کے لیے قرآن مجید میں غوطہ زنی کرتا ہے کہ یہ لفظ ’’امر‘‘ قرآن مجید میں کہاں کہاں‘ کن کن معانی میں استعمال ہوا ہے ‘ اور پھر ان تمام مطالب و مفاہیم کو آپس میں مربوط کر کے دیکھتا ہے تو اس پربہت سے علمی حقائق منکشف ہوتے ہیں ۔بہر حال ’’عالم خلق‘‘ ایک الگ عالم ہے اور ’’عالم اَمر ‘‘الگ‘ اور اِن دونوں کے قوانین و ضوابط بھی الگ الگ ہیں۔

تَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۵۴﴾

’’بہت با برکت ہے اللہ جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘

55-56

دعا کے آداب

ویڈیو

اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾ وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾

آیت 55

اُدۡعُوۡا رَبَّکُمۡ تَضَرُّعًا وَّ خُفۡیَۃً ؕ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ ﴿ۚ۵۵﴾

’’پکارتے رہا کرو اپنے رب کو عاجزی کے ساتھ اور چپکے چپکے‘ یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

گویا زیادہ بلند آواز سے دعا مانگنا اللہ کے ہاں پسندیدہ نہیں ہے۔

آیت 56

وَ لَا تُفۡسِدُوۡا فِی الۡاَرۡضِ بَعۡدَ اِصۡلَاحِہَا وَ ادۡعُوۡہُ خَوۡفًا وَّ طَمَعًا ؕ

’’اورزمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد مت مچاؤ اور اللہ کو پکارا کرو خوف اور امید کے ساتھ۔‘‘

اللہ کو پکارنے‘ اس سے دعا کرنے کے دو پہلو (dimensions) پہلے بتائے گئے کہ اللہ کو جب پکارو تو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے دل میں پکارو۔ اب اس ضمن میں مزید فرمایا گیاکہ اللہ کے ساتھ تمہارا معاملہ ہمیشہ ’’بین الخوف والرجائ‘‘ رہنا چاہیے۔ ایک طرف خوف کا احساس بھی ہو کہ اللہ پکڑ نہ لے ‘ کہیں سزا نہ دے دے ‘ اور دوسری طرف اس کی مغفرت اور رحمت کی قوی امید بھی دل میں ہو۔ لہٰذا فرمایا کہ اللہ سے دعا کرتے ہوئے تمہاری دلی اور روحانی کیفیت ان دونوں کے بین بین ہونی چاہیے۔

اِنَّ رَحۡمَتَ اللّٰہِ قَرِیۡبٌ مِّنَ الۡمُحۡسِنِیۡنَ ﴿۵۶﴾

’’یقینا اللہ کی رحمت اہل احسان بندوں کے بہت ہی قریب ہے۔‘‘

57-58

بارش میں ہدایت کا سامان

ویڈیو

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ حَتّٰۤی اِذَاۤ اَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا سُقۡنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنۡزَلۡنَا بِہِ الۡمَآءَ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ کَذٰلِکَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾ وَ الۡبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخۡرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ۚ وَ الَّذِیۡ خَبُثَ لَا یَخۡرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۵۸﴾

آیت 57

وَ ہُوَ الَّذِیۡ یُرۡسِلُ الرِّیٰحَ بُشۡرًۢا بَیۡنَ یَدَیۡ رَحۡمَتِہٖ ؕ

’’اور وہی ہے جو بھیجتا ہے ہوائیں بشارت دیتی ہوئی ‘ اس کی رحمت کے آگے آگے۔‘‘

یعنی ابرِ رحمت سے پہلے ہوائوں کے ٹھنڈے جھونکے گویا بشارت دے رہے ہوتے ہیں کہ بارش آنے والی ہے۔ اس کیفیت کا صحیح ادراک کرنے کے لیے کسی ایسے خطے کا تصور کیجیے جہاں زمین مردہ اور بے آب و گیاہ پڑی ہے ‘ لوگ آسمان کی طرف نظریں لگائے بارش کے منتظر ہیں ۔ اگر وقت پر بارش نہ ہوئی تو بیج اور محنت دونوں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے بارانِ رحمت کی نوید سنانے لگیں تو وہاں کے باسیوں کے لیے اس سے بڑی بشارت اور کیا ہو گی۔

حَتّٰۤی اِذَاۤ اَقَلَّتۡ سَحَابًا ثِقَالًا

’’یہاں تک کہ وہ ہوائیں اٹھا لاتی ہیں بڑے بڑے بھاری بادل‘‘

یہ بادل کس قدر بھاری ہوتے ہوں گے ‘ ان کا وزن انسانی حساب و شمار میں آنا ممکن نہیں۔ ظاہر ہے اللہ کی قدرت اور اس کی حکمت ہی کے سبب لاکھوں ٹن پانی کو ہوائیں روئی کے گالوں کی طرح اڑائے پھرتی ہیں۔

سُقۡنٰہُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ

’’تو ہم ہانک دیتے ہیں اس (بادل) کو ایک مردہ زمین کی طرف‘‘

ہوائیں ہمارے حکم سے اس بادل کو کسی بے آب و گیاہ وادی کی طرف لے جاتی ہیں اور بارانِ رحمت اس وادی میں ایک نئی زندگی کی نوید ثابت ہوتی ہے۔

فَاَنۡزَلۡنَا بِہِ الۡمَآءَ فَاَخۡرَجۡنَا بِہٖ مِنۡ کُلِّ الثَّمَرٰتِ ؕ

’’پھر ہم اس سے پانی برساتے ہیںاور پھر اس سے ہر طرح کے میوے نکال لاتے ہیں۔‘‘

بارش کے بعد وہ خشک اور مردہ زمین گھاس‘ فصلوں اور پھلدار پودوں کی روئیدگی کی شکل میں اپنے خزانے اُگل دیتی ہے ۔

کَذٰلِکَ نُخۡرِجُ الۡمَوۡتٰی لَعَلَّکُمۡ تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۵۷﴾

’’ اسی طرح ہم مردوں کو نکال لائیں گے (زمین سے)تا کہ تم نصیحت اخذ کرو۔‘‘

دراصل بادلوں اور ہواؤں کے مظاہر کی تفصیل بیان کر کے یہاں ایک عام ذہن کو تشبیہہ کے ذریعے سے بعث بعد الموت کی حقیقت کی طرف متوجہ کرنا مقصود ہے۔ یعنی مردہ زمین کو دیکھو!اس کے اندر زندگی کے کچھ بھی آثار باقی نہیں رہے تھے‘ حشرات الارض اور پرندے تک وہاں نظر نہیں آتے تھے‘ اس زمین کے باسی بھی مایوس ہو چکے تھے‘ لیکن اس مردہ زمین پر جب بارش برسی تو یکا یک اس میں زندگی پھر سے عود کر آئی اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے ؏ ’’مگر اب زندگی ہی زندگی ہے موجزن ساقی! ‘‘ کی مجسم تصویر بن گئی۔ بنجر زمین ہریالی کی سبز پوشاک پہن کر دلہن کی طرح سج گئی۔ حشرات الارض کا اژدہام ! پرندوں کی زمزمہ پردازیاں! اس کے باسیوں کی رونقیں! گویا بارش کے طفیل زندگی پوری چہل پہل کے ساتھ وہاں جلوہ گر ہو گئی۔اس آسان تشبیہہ سے ایک عام ذہنی استعداد رکھنے والے انسان کو حیات بعد الموت کی کیفیت آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ زمین کے اندرپڑے ہوئے مردے بھی گویا بیجوں کی مانند ہیں۔ جب اللہ کا حکم آئے گا ‘یہ بھی نباتات کی مانند پھوٹ کر باہر نکل آئیں گے۔

آیت 58

وَ الۡبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخۡرُجُ نَبَاتُہٗ بِاِذۡنِ رَبِّہٖ ۚ وَ الَّذِیۡ خَبُثَ لَا یَخۡرُجُ اِلَّا نَکِدًا ؕ

’’اور زرخیززمین تو اپنے رب کے حکم سے اپنا سبزہ نکالتی ہے‘ اور جو (زمین) خراب ہے وہ کچھ نہیں نکالتی مگر کوئی ناقص سی چیز۔‘‘

سرائیکی زبان کا لفظ ’’نکھِد‘‘صوتی اور معنوی اعتبار سے اس عربی لفظ ’’نَـکِد‘‘ سے ملتا جلتا ہے۔ یعنی بالکل ردی اور گھٹیا چیز۔

کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۵۸﴾

’’اسی طرح ہم اپنی آیات کو گردش میں لاتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو (ان کی) قدر کرنے والے ہوں۔‘‘

اللہ تعالیٰ قرآن کے ذریعے سے اپنی گوناگوں نشانیوں کو مختلف انداز سے بار بار متعارف کراتا ہے تاکہ لوگ ان کوپہچانیں اور ان کی قدر کریں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا انسانوں پر بہت بڑا احسان ہے ‘لیکن ظاہر ہے اس سے صرف وہی لوگ مستفیض ہو سکتے ہیں جو اس احسان کے قدردان ہوں۔

یوٹیوب پر دیکھیے