تحریر

الأعراف

آیات ۱۱ تا ۳۴

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

11-25

ابلیسیت اور آدمیت میں فرق

ویڈیو

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ لَمۡ یَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۱۱﴾ قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُکَ ؕ قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۱۲﴾ قَالَ فَاہۡبِطۡ مِنۡہَا فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ اَنۡ تَتَکَبَّرَ فِیۡہَا فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾ قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴﴾ قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿۱۵﴾ قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ﴿ۙ۱۶﴾ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾ قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡہَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ؕ لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۸﴾ وَ یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ فَکُلَا مِنۡ حَیۡثُ شِئۡتُمَا وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹﴾ فَوَسۡوَسَ لَہُمَا الشَّیۡطٰنُ لِیُبۡدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنۡہُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِہِمَا وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنۡ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوۡ تَکُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾ وَ قَاسَمَہُمَاۤ اِنِّیۡ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾ فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوۡرٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ؕ وَ نَادٰىہُمَا رَبُّہُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡہَکُمَا عَنۡ تِلۡکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلۡ لَّکُمَاۤ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۲﴾ قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾ قَالَ اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۲۴﴾ قَالَ فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَ فِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ وَ مِنۡہَا تُخۡرَجُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾

آیت 11

وَ لَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ

’’اور ہم نے تمہیں تخلیق کیا ‘پھر تمہاری تصویر کشی کی‘ پھر ہم نے کہا فرشتوں سے کہ جھک جاؤ آدم کے سامنے‘‘

نظریۂ ارتقاء (Evolution Theory) کے حامی لوگ اس آیت سے بھی کسی حد تک اپنی نظریاتی غذا حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دراصل قرآن حکیم کی مختلف آیات میں انسان کی تخلیق کے مختلف مراحل کے بارے میں تفصیلات ملتی ہیں۔ مثلاً سورئہ آل عمران‘ آیت ۵۹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانِ اوّل کو مٹی سے بنا کر کُنْ کہا گیا تو وہ ایک زندہ انسان بن گیا (فَـیَکُوْن)۔ یہ آیت گویا انسان کی ایک خاص مخلوق کے طور پر تخلیق کی تائید کرتی ہے۔جبکہ آیت زیرِ نظر میں اس ضمن میں تدریجی مراحل کا ذکر ہوا ہے۔ یہاں جمع کے صیغوں ( وَلَقَدْ خَلَقْنٰکُمْ ثُمَّ صَوَّرْنٰـکُمْ) سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے اس سلسلہ کی کچھ انواع (species) پہلے پیدا ہو چکی تھیں۔گویا نسل انسانی پہلے پیدا کی گئی‘ پھر ان کی شکل و صورت کو finishing touches دیے گئے۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ آدم تو ایک تھا ‘ پھریہ جمع کے صیغے کیوں استعمال ہوئے ہیں؟ اس سوال کے جواب کے لیے سورۂ آلِ عمران کی آیت ۳۳ بھی ایک طرح سے ہمیں دعوتِ غور و فکر دیتی ہے‘ جس میں فرمایا گیا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے چنا تھا : {اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰۤی اٰدَمَ وَ نُوۡحًا وَّ اٰلَ اِبۡرٰہِیۡمَ وَ اٰلَ عِمۡرٰنَ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۳۳﴾}۔ گویا یہ آیت بھی کسی حد تک ارتقائی عمل کی طرف اشارہ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ بہر حال اس قسم کے موضوعات کے بارے میں جیسے جیسے جو جو علمی اشارے دستیاب ہوں ان کو اچھی طرح سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے‘ اور آنے والے وقت کے لیے اپنے options کھلے رکھنے چاہیں۔ ہو سکتا ہے جب وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مزید حقائق اللہ تعالیٰ کی حکمت اور مشیت سے انسانی علم میں آئیں تو ایسی آیات کے مفاہیم زیادہ واضح ہو کر سامنے آ جائیں۔

فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ لَمۡ یَکُنۡ مِّنَ السّٰجِدِیۡنَ ﴿۱۱﴾

’’تو سجدہ کیا سب نے سوائے ابلیس کے ‘ نہ ہوا وہ سجدہ کرنے والو ں میں۔‘‘

آیت 12

قَالَ مَا مَنَعَکَ اَلَّا تَسۡجُدَ اِذۡ اَمَرۡتُکَ ؕ

’’(اللہ تعالیٰ نے)فرمایا:کس چیز نے تمہیں روکا کہ تم نے سجدہ نہیں کیا ‘ جب کہ میں نے تمہیں حکم دیا تھا؟‘‘

قَالَ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡہُ ۚ خَلَقۡتَنِیۡ مِنۡ نَّارٍ وَّ خَلَقۡتَہٗ مِنۡ طِیۡنٍ ﴿۱۲﴾

’’اُس نے کہا :میں اِس سے بہتر ہوں‘ مجھے تو نے بنایا ہے آگ سے اور اس کو بنایا ہے مٹی سے۔‘‘

اس نے ایسا استکبار کی بنیاد پر کہا۔ اس کے اس قول کے ایک ایک لفظ سے تکبر جھلکتا ہے ۔

آیت 13

قَالَ فَاہۡبِطۡ مِنۡہَا فَمَا یَکُوۡنُ لَکَ اَنۡ تَتَکَبَّرَ فِیۡہَا فَاخۡرُجۡ اِنَّکَ مِنَ الصّٰغِرِیۡنَ ﴿۱۳﴾

’’(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا:پس اُتر جائو اس سے ‘تمہیں یہ حق نہیں تھا کہ تم اس میں تکبر کرو‘ پس نکل جائو‘ یقینا تم ذلیل و خوار ہو۔‘‘

آیت 14

قَالَ اَنۡظِرۡنِیۡۤ اِلٰی یَوۡمِ یُبۡعَثُوۡنَ ﴿۱۴﴾

’’اُس نے کہا :(اے اللہ!) مجھے مہلت دے اُس دن تک جس دن انہیں (زندہ کر کے )اٹھایا جائے گا۔‘‘

آیت 15

قَالَ اِنَّکَ مِنَ الۡمُنۡظَرِیۡنَ ﴿۱۵﴾

’’فرمایا :(ٹھیک ہے جاؤ) تمہیں مہلت دے دی گئی۔‘‘

آیت 16

قَالَ فَبِمَاۤ اَغۡوَیۡتَنِیۡ لَاَقۡعُدَنَّ لَہُمۡ صِرَاطَکَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ﴿ۙ۱۶﴾

’’اُس نے کہا: (پروردگار!) تونے جو مجھے (آدم کی وجہ سے) گمراہ کیا ہے تو اَب میں لازماً ان کے لیے گھات میں بیٹھوں گا تیری سیدھی راہ پر۔‘‘

میں تیری توحید کی شاہراہ پر ڈیرے جما کر‘ گھات لگا کر‘ مورچہ بند ہو کر بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو شرک کی پگڈنڈیوں کی طرف موڑتا رہوں گا۔

آیت 17

ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مِنۡ خَلۡفِہِمۡ وَ عَنۡ اَیۡمَانِہِمۡ وَ عَنۡ شَمَآئِلِہِمۡ ؕ وَ لَا تَجِدُ اَکۡثَرَہُمۡ شٰکِرِیۡنَ ﴿۱۷﴾

’’پھرمیں ان پر حملہ کروں گا ان کے سامنے سے اور ان کے پیچھے سے‘ اور ان کے دائیں اور بائیں جانب سے ‘ اور تو نہیں پائے گا ان کی اکثریت کو شکر کرنے والا۔‘‘

آیت 18

قَالَ اخۡرُجۡ مِنۡہَا مَذۡءُوۡمًا مَّدۡحُوۡرًا ؕ لَمَنۡ تَبِعَکَ مِنۡہُمۡ لَاَمۡلَـَٔنَّ جَہَنَّمَ مِنۡکُمۡ اَجۡمَعِیۡنَ ﴿۱۸﴾

’’(اللہ تعالیٰ نے) فرمایا :نکل جاؤ اس میں سے برے حال میں مردود ہو کر۔ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے تو میں (انہیں اور تم کو اکٹھا کر کے )تم سب سے جہنم کو بھر کر رہوں گا۔‘‘

آیت 19

وَ یٰۤاٰدَمُ اسۡکُنۡ اَنۡتَ وَ زَوۡجُکَ الۡجَنَّۃَ فَکُلَا مِنۡ حَیۡثُ شِئۡتُمَا وَ لَا تَقۡرَبَا ہٰذِہِ الشَّجَرَۃَ فَتَکُوۡنَا مِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۹﴾

’’اور ( پھر ہم نے آدم سے کہا کہ) اے آدم ؑرہو جنت میں تم اور تمہاری بیوی‘ اور کھاؤ پیواس میں سے جہاں سے تم دونوں چاہو ‘اور (ہاں) اس درخت کے قریب مت جانا ‘ ورنہ تم ظالموں میں سے ہو جائو گے۔‘‘

آیت 20

فَوَسۡوَسَ لَہُمَا الشَّیۡطٰنُ لِیُبۡدِیَ لَہُمَا مَا وٗرِیَ عَنۡہُمَا مِنۡ سَوۡاٰتِہِمَا

’’توشیطان نے ان دونوں کو وسوسہ میں ڈالا تا کہ ظاہر کر دے ان پر جو ان سے پوشیدہ تھیں ان کی شرمگاہیں‘‘

قصۂ حضرت آدمؑ و ابلیس کی تفصیل قبل ازیں ہم سورۃ البقرۃ کے چوتھے رکوع میں بھی پڑھ چکے ہیں۔ یہاں یہ قصہ دوسری مرتبہ بیان ہو ا ہے۔ پورے قرآن مجید میں یہ واقعہ سات مرتبہ آیا ہے‘ چھ مرتبہ مکی سورتوںمیں اور ایک مرتبہ مدنی سورت(البقرۃ) میں۔ لیکن ہر جگہ یہ واقعہ مختلف انداز سے بیان ہوا ہے اور ہر بار کسی نہ کسی نئی بات کا اس میں اضافہ ہوا ہے۔ دراصل حضورﷺ کی دعوتی تحریک جیسے جیسے آگے بڑھ رہی تھی ‘ ہر دور کے مخصوص حالات کے سبب اس واقعے میں ہر دفعہ مزید تفصیلات شامل ہوتی گئیں۔ یہاں اس قصے کا آغاز کرتے ہوئے جمع کا صیغہ استعمال کر کے تمام انسانوں کو مخاطب کیا گیاہے: {وَ لَقَدۡ خَلَقۡنٰکُمۡ ثُمَّ صَوَّرۡنٰکُمۡ ثُمَّ قُلۡنَا لِلۡمَلٰٓئِکَۃِ اسۡجُدُوۡا لِاٰدَمَ ٭ۖ فَسَجَدُوۡۤا اِلَّاۤ اِبۡلِیۡسَ ؕ} سورۃ البقرۃ کی متعلقہ آیات کے مطالعے کے دوران اس واقعے سے متعلق بعض اہم نکات زیر بحث آ چکے ہیں۔یہاں آیات زیر مطالعہ کے حوالے سے کچھ مزید باتیں تشریح طلب ہیں۔ ایک تو شیطان کے حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کو ورغلانے اور ان کے دلوں میں وسوسے ڈالنے سے متعلق یہ سوال بہت اہم ہے کہ اس کی کیفیت کیا تھی۔ اس سلسلے میں جو مکالمات قرآن میں آئے ہیں ان سے یہ گمان ہر گز نہیں ہونا چاہیے کہ حضرت آدمؑ اور ابلیس ایک دوسرے کو دیکھتے اور پہچانتے ہوئے ایک دوسرے سے باتیں کرتے تھے۔ ایسا ہر گز نہیں تھا‘بلکہ شیطان جیسے آج ہماری نگاہوں سے پوشیدہ ہے اسی طرح حضرت آدمؑ اور حضرت حواؑ کی نظروں سے بھی پوشیدہ تھا اور جس طرح آج ہمارے دلو ں میں شیطانی وسوسے جنم لیتے ہیں اسی طرح ان کے دلوں میں بھی وسوسے پیدا ہوئے تھے۔ دوسرا وضاحت طلب نکتہ ایک خاص ممنوعہ پھل کے چکھنے اور اس کی خاص تاثیر کے بارے میں ہے۔ قرآن مجید میں ہمیں اس کی تفصیل اس طرح ملتی ہے کہ اس پھل کے چکھنے پر ان کی شرمگاہیں نمایاں ہو گئیں۔ جہاں تک اس کیفیت کی حقیقت کا تعلق ہے تو اسے معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس حتمی اور قطعی علمی ذرائع نہیں ہیں ‘اس لیے اس معاملے کو متشابہات میں ہی شمار کیا جائے گا۔ البتہ اس بارے میں مختلف مفسرین نے اپنے طور پر قیاس آرائیاں کی ہیں۔ مثلاً یہ کہ پہلے انہیں اپنے اِن اعضاء کے بارے میں شعور نہیں تھا ‘ مگر وہ پھل چکھنے کے بعد یہ شعور ان میں بیدار ہو گیا‘ یا یہ کہ پہلے انہیں جنت کا لباس دیا گیا تھا جو اس واقعے کے بعد اتر گیا۔ بعض لوگوں کے نزدیک یہ نیکی اور بدی کا درخت تھا جس کا پھل کھاتے ہی ان میں نیکی اور بدی کی تمیز پیدا ہو گئی۔ بعض حضرات کا خیال ہے کہ یہ دراصل حضرت آدمؑ اورحضرت حواؑ کے درمیان پہلاجنسی اختلاط (sexual act) تھا‘ جسے اس انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ مختلف لوگوں کی آراء ہیں‘ لیکن اس ضمن میں اصل بات یہی ہے کہ یہ معاملہ متشابہات میں سے ہے اور ٹھوس علمی معلومات کے بغیر اس بارے میں کوئی قطعی اور حقیقی رائے قائم کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے کہ وہ درخت کون ساتھا اور اسے چکھنے کی اصل حقیقت اور کیفیت کیا تھی۔

وَ قَالَ مَا نَہٰکُمَا رَبُّکُمَا عَنۡ ہٰذِہِ الشَّجَرَۃِ اِلَّاۤ اَنۡ تَکُوۡنَا مَلَکَیۡنِ اَوۡ تَکُوۡنَا مِنَ الۡخٰلِدِیۡنَ ﴿۲۰﴾

’’اور اُس نے کہا (وسوسہ اندازی کی) کہ نہیں روکا ہے آپ دونوں کو آپ کے رب نے اس درخت سے مگر اسی لیے کہ کہیں آپ فرشتے نہ بن جائیں یا کہیں ہمیشہ ہمیشہ رہنے والے نہ ہو جائیں۔‘‘

یہ تو سیدھی سی بات ہے کہ فرشتوں کو حضرت آدم ؑ کے سامنے جھکایا گیا تھا تو اس کے بعدآپؑ کے لیے فرشتہ بن جانا کون سی بڑی بات تھی ‘لیکن بعض اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ انسان کو نسیان ہو جاتا ہے اور وہ اپنی اصل حقیقت‘ اصل مقام کو بھول جاتا ہے ۔چنانچہ یہ بات گویا شیطان نے وسوسے کے انداز سے ان کے دلوں میں ڈالنے کی کوشش کی کہ اس شجر ممنوعہ کا پھل کھا کر تم فرشتے بن جائو گے یا ہمیشہ ہمیشہ زندہ رہو گے اور تم پر موت طاری نہ ہوسکے گی۔

آیت 21

وَ قَاسَمَہُمَاۤ اِنِّیۡ لَکُمَا لَمِنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿ۙ۲۱﴾

’’اور اُس نے قسمیں کھا کھا کر اُن کو یقین دلایا کہ میں آپ دونوں کے لیے بہت ہی خیر خواہ ہوں۔‘‘

آیت 22

فَدَلّٰىہُمَا بِغُرُوۡرٍ ۚ

’’تو اُس نے دھوکہ دے کر انہیں مائل کر ہی لیا۔‘‘

فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَۃَ بَدَتۡ لَہُمَا سَوۡاٰتُہُمَا وَ طَفِقَا یَخۡصِفٰنِ عَلَیۡہِمَا مِنۡ وَّرَقِ الۡجَنَّۃِ ؕ

’’ تو جب ان دونو ںنے چکھ لیا اس درخت کے پھل کو تو ظاہر ہو گئیں ان پر ان کی شرمگاہیں اور وہ لگے گانٹھنے جنت کے (درختوں کے) پتوں کو اپنے اوپر (لباس بنانے کے لیے) ‘‘

اپنی عریانی کا احساس ہونے کے بعد وہ جنت کے درختوں کے پتوں کو آپس میں جوڑ کر اپنے اپنے ستر کو چھپانے کا اہتمام کرنے لگے۔

وَ نَادٰىہُمَا رَبُّہُمَاۤ اَلَمۡ اَنۡہَکُمَا عَنۡ تِلۡکُمَا الشَّجَرَۃِ وَ اَقُلۡ لَّکُمَاۤ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمَا عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿۲۲﴾

’’اور اب آواز دی اُن دونوں کو اُن کے رب نے کہ کیا میں نے تمہیں منع نہیں کیا تھا اس درخت سے اور کیا میں نے تم سے کہا نہیں تھا کہ شیطان تم دونوں کا کھلا دشمن ہے!‘‘

آیت 23

قَالَا رَبَّنَا ظَلَمۡنَاۤ اَنۡفُسَنَا ٜ وَ اِنۡ لَّمۡ تَغۡفِرۡ لَنَا وَ تَرۡحَمۡنَا لَنَکُوۡنَنَّ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾

’’(اس پر) وہ دونوں پکار اُٹھے کہ اے ہمارے رب! ہم نے ظلم کیا اپنی جانوں پر‘ اور اگر تونے ہمیں معاف نہ فرمایا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم تباہ ہونے والوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘

یعنی ہم اپنی غلطی کا اعتراف کرتے ہیں کہ ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے۔ یہ وہی کلمات ہیں جن کے بارے میں ہم سورۃ البقرۃ (آیت ۳۷) میں پڑھ آئے ہیں: {فَتَلَقّٰۤی اٰدَمُ مِنۡ رَّبِّہٖ کَلِمٰتٍ فَتَابَ عَلَیۡہِ ؕ} یعنی آدمؑ نے اپنے رب سے کچھ کلمات سیکھ لیے اور ان کے ذریعے سے معافی مانگی تو اللہ نے ان کی توبہ قبول کر لی۔ وہاں اس ضمن میں صرف اشارہ کیا گیا تھا ‘ یہاں وہ کلمات بتا دیے گئے ہیں۔ اس سارے واقعے میں ایک اہم بات یہ بھی قابل غور ہے کہ قرآن میں کہیں بھی کوئی ایسا اشارہ نہیں ملتاجس سے یہ ثابت ہو کہ ابلیس نے یہ وسوسہ ابتدا میں اماں حواؑ کے دل میں ڈالا تھا۔اس سلسلے میں عام طور پرہمارے ہاں جو کہانیاں مشہورہیں ان کی رو سے شیطان کے بہکاوے میں پہلے حضرت حوا ؑآئیں اور پھر ان کے ترغیب دلانے سے حضرت آدمؑ نے وہ پھل چکھا۔ لیکن قرآن اس امکان کی نفی کرتا ہے۔ آیات زیر نظر کے مطالعے سے تو ان دونوں کا ایک ساتھ بہکاوے میں آ جانا بالکل واضح ہو جاتا ہے ۔کیونکہ یہاں قرآن مسلسل تثنیہ کا صیغہ استعمال کر رہا ہے۔ یعنی شیطان نے ان دونوں کو ورغلایا‘ دونوں اس کے بہکاوے میں آ گئے اور پھر دونوں نے اللہ سے معافی مانگی اور اللہ نے دونوں کو معاف کر دیا۔

حضرت حواؑ کے شیطان کے بہکاوے میں آنے والی کہانیوں کی ترویج دراصل عیسائیت کے زیر اثر ہوئی ہے۔ عیسائیت میں عورت کو گناہ اور برائی کی جڑ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ Eve (حوا) سے لفظ evil عیسائیوں کے ہاں برائی کا ہم معنی قرار پایاہے۔ عیسائیت میں مرد کا شادی کرنا اور عورت سے قربت کا تعلق قائم کرنا ایک گھٹیا فعل تصور کیا جاتا تھا‘ جبکہ تجرد کی زندگی گزارنا اور رہبانیت کے طور طریقوں کو ان کے ہاں روحانیت کی معراج سمجھا جاتا تھا۔ نتیجتاً ان کے ہاں اس طرح کی کہانیوں نے جنم لیا‘ جن سے ثابت ہوتا ہے کہ آدمؑ کو جنت سے نکلوانے اور ان کی آزمائشوں اور مصیبتوں کا باعث بننے والی دراصل ایک عورت تھی۔ بہر حال ایسے تصورات اور نظریات کی تائید قرآن مجید سے نہیں ہوتی۔

آیت 24

قَالَ اہۡبِطُوۡا بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ

’’(اللہ نے) فرمایا :تم سب اُتر جاؤ (اب) تم ایک دوسرے کے دشمن ہو۔‘‘

ھُبُوط کے بارے میں سورۃ البقرۃ آیت ۳۶ میں وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ لفظ صرف بلندی سے نیچے اترنے کے معنی کے لیے ہی خاص نہیں بلکہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کا مفہوم بھی اس میں شامل ہے۔ جس دشمنی کا ذکر یہاں کیا گیا وہ حضرت آدم کے ہبوطِ ارضی کے وقت سے آج تک شیطان کی ذُرّیت اور آدم ؑکی اولاد کے درمیان مسلسل چلی آ رہی ہے اور قیامت تک چلتی رہے گی۔ اس کے علاوہ ان الفاظ { بَعۡضُکُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ ۚ} میں بنی نوع انسان کی باہمی دشمنیوں کا مفہوم بھی شامل ہے جو مختلف افراد اور اقوام کے درمیان پائی جاتی ہیں۔

وَ لَکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ مُسۡتَقَرٌّ وَّ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۲۴﴾

’’اور تمہارے لیے زمین میں ٹھکانہ ہے اور (ضرورت کا) سازوسامان بھی ایک وقت معین تک۔‘‘

یہ ٹھکانہ اور مال و متاع ابدی نہیں ہے‘ بلکہ ایک خاص وقت تک کے لیے ہے۔ اب تمہیں اس زمین پر رہنا بسنا ہے اور وہاں رہنے بسنے کے لیے جو چیزیں ضروری ہیں وہ وہاں پر تمہارے لیے فراہم کر دی گئی ہیں۔

آیت 25

قَالَ فِیۡہَا تَحۡیَوۡنَ وَ فِیۡہَا تَمُوۡتُوۡنَ وَ مِنۡہَا تُخۡرَجُوۡنَ ﴿٪۲۵﴾

’’پھر فرمایا کہ (اب) تم اسی (زمین) میں زندگی گزارو گے ‘ اسی میں مرو گے اور اسی میں سے تمہیں نکال لیا جائے گا۔‘‘

26-28

لباس میں تقویٰ اختیار کرو

ویڈیو

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۲۶﴾ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا ؕ اِنَّہٗ یَرٰىکُمۡ ہُوَ وَ قَبِیۡلُہٗ مِنۡ حَیۡثُ لَا تَرَوۡنَہُمۡ ؕ اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾ وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾

آیت 26

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمۡ لِبَاسًا یُّوَارِیۡ سَوۡاٰتِکُمۡ وَ رِیۡشًا ؕ

’’اے آدمؑ کی اولاد! ہم نے تم پر لباس اتارا جو تمہاری شرمگاہوں کو ڈھانپتا ہے اور آرائش و زیبائش کا سبب بھی ہے۔‘‘

عربوں کے ہاں زمانۂ جاہلیت کے غلط رسم ورواج اور نظریات میں سے ایک راہبانہ نظریہ یا تصور یہ بھی تھا کہ لباس انسانی جسم کے لیے خواہ مخواہ کا تکلف ہے اور یہ شرم کا احساس جو انسان نے اپنے اوپر اوڑھ رکھا ہے یہ بھی انسان کا خود اپنا پیدا کردہ ہے۔ اس نظریے کے تحت ان کے مرد اور عورتیں مادر زاد ننگے ہو کر کعبۃ اللہ کا طواف کرتے تھے اور اس فعل کو اعلیٰ درجے کی نیکی سمجھتے تھے ۔ ان کے نزدیک یہ نفیٔ ذات (self annihiliation) کا بہت بڑا مظاہرہ تھا اور اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قرب کا ایک خاص ذریعہ تھا۔ اس طرح کے خیالات و نظریات بعض معاشروں میں آج بھی پائے جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی بعض ملنگ قسم کے لوگ لباس پر عریانی کو ترجیح دیتے ہیں‘ جبکہ عوام الناس عام طور پر ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے مقرب بندے سمجھتے ہیں۔ اس آیت میں در اصل ایسے جاہلانہ نظریات کی نفی کی جا رہی ہے کہ تمہارے لیے لباس کا تصور اللہ تعالیٰ کا ودیعت کردہ ہے ۔ یہ نہ صرف تمہاری ستر پوشی کرتا ہے بلکہ تمہارے لیے زیب و زینت کا باعث بھی ہے۔

وَ لِبَاسُ التَّقۡوٰی ۙ ذٰلِکَ خَیۡرٌ ؕ

’’اور (اس سے بڑھ کر) تقویٰ کا لباس جو ہے وہ سب سے بہترہے۔‘‘

سب سے بہتر لباس تقویٰ کا لباس ہے ‘ اگر یہ نہ ہو تو بسا اوقات انسان لباس پہن کر بھی ننگا ہوتا ہے‘ جیسا کہ انتہائی تنگ لباس ‘ جس میں جسم کے نشیب و فراز ظاہر ہو رہے ہوں یا عورتوں کا اس قدر باریک لباس جس میں جسم جھلک رہا ہو۔ ایسا لباس پہننے والی عورتوں کے بارے میں حضورﷺ نے ’’کَاسِیَاتٌ عَارِیَاتٌ‘‘ کے الفاظ استعمال فرمائے ہیں‘ یعنی وہ عورتیں لباس پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں۔ ان کے بارے میں حضورﷺ کا فرمان ہے کہ یہ عورتیں جنت میں داخل ہونا تو درکنار‘ جنت کی ہوا بھی نہ پا سکیں گی‘ جبکہ جنت کی ہوا پانچ سو سال کی مسافت سے بھی محسوس ہو جاتی ہے۳۔ چنانچہ لِبَاسُ التَّقْوٰی سے مراد ایک طرف تویہ ہے کہ انسان جو لباس زیب تن کرے وہ حقیقی معنوں میں تقویٰ کا مظہر ہو اور دوسری طرف یہ بھی کہ انسانی شخصیت کی اصل زینت وہ لباس (سیرت و کردار) ہے جس کا تانا بانا شرم و حیا اور خدا خوفی سے بنا گیا ہو۔

ذٰلِکَ مِنۡ اٰیٰتِ اللّٰہِ لَعَلَّہُمۡ یَذَّکَّرُوۡنَ ﴿۲۶﴾

’’یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت اخذ کریں۔‘‘

(۳) صحیح مسلم‘کتاب اللباس والزینۃ‘ باب النساء الکاسیات العاریات المائلات الممیلات۔ وموطأ مالک‘ کتاب الجامع‘ باب ما یکرہ للنساء لبسہ من الثیاب۔ راوی : ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ۔

آیت 27

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ لَا یَفۡتِنَنَّکُمُ الشَّیۡطٰنُ کَمَاۤ اَخۡرَجَ اَبَوَیۡکُمۡ مِّنَ الۡجَنَّۃِ یَنۡزِعُ عَنۡہُمَا لِبَاسَہُمَا لِیُرِیَہُمَا سَوۡاٰتِہِمَا ؕ

’’اے بنی آدم (دیکھو اب) شیطان تمہیں فتنہ میں نہ ڈالنے پائے‘ جیسے کہ تمہارے والدین کو اُس نے جنت سے نکلوادیا تھا (اور) اُ س نے اُتروادیا تھا اُن سے اُن کا لباس ‘ تا کہ ان پر عیاں کر دے ان کی شرمگاہیں۔ ‘‘

اِنَّہٗ یَرٰىکُمۡ ہُوَ وَ قَبِیۡلُہٗ مِنۡ حَیۡثُ لَا تَرَوۡنَہُمۡ ؕ

’’ یقینا وہ اور اُس کی ذریت وہاں سے تم پر نظر رکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں دیکھ نہیں سکتے۔‘‘

چونکہ ابلیس کو اللہ تعالیٰ کی طر ف سے قیامت تک چھوٹ ملی ہوئی ہے لہٰذا وہ نہ صرف مسلسل زندہ ہے ‘بلکہ اُس نے اپنی اولاد اور اپنے نمائندوں کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کے لیے انسانوں کے درمیان پھیلا رکھا ہے ۔ یہ جن شیاطین چونکہ غیر مرئی (invisible) مخلوق ہیں اس لیے وہ ایسی ایسی جگہوں پر ہماری گھات میں بیٹھے ہوتے ہیں اور ایسے ایسے طور طریقوں سے حملہ آور ہوتے ہیں جس کا ہلکا سا اندازہ بھی ہم نہیں کر سکتے۔

اِنَّا جَعَلۡنَا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ لِلَّذِیۡنَ لَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۲۷﴾

’’ہم نے تو شیاطین کوان لوگوں کا دوست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔‘‘

جیسے گندگی اور مکھی کا فطری ساتھ ہے ایسے ہی شیطان اور منکرین حق کا یارانہ ہے۔ جس دل میں ایمان نہیں ہو گا اوروہ اللہ کے ذکر کے نور سے محروم ہو گا‘ وہ ’’خانۂ خالی را دیو می گیرد‘‘ کے مصداق شیطان ہی کا اڈہ بنے گا۔

آیت 28

وَ اِذَا فَعَلُوۡا فَاحِشَۃً قَالُوۡا وَجَدۡنَا عَلَیۡہَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ

’’اور جب یہ لوگ کوئی بے حیائی کا کام کرتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہم نے پایا ہے یہی کچھ کرتے ہوئے اپنے آباء و اَجداد کو‘ اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے۔‘‘

مشرکین عرب جب ننگے ہو کر خانہ کعبہ کا طواف کرتے تو اس شرمناک فعل کا جواز پیش کرتے ہوئے کہتے کہ ہم نے اپنے آباء و اَجداد کو ایسے ہی کرتے دیکھا ہے اور یقینا اللہ ہی نے اس کا حکم دیا ہو گا ۔یہ گویا ان کے نزدیک ایک ٹھوس ‘ قرائنی شہادت (circumstantial evidence) تھی کہ جب ایک رِیت اور رسم چلی آرہی ہے تو یقینا یہ سب کچھ اللہ کی مرضی اور اس کے حکم کے مطابق ہی ہو رہا ہو گا۔

قُلۡ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَاۡمُرُ بِالۡفَحۡشَآءِ ؕ اَتَقُوۡلُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۲۸﴾

’’(اے نبی ﷺ! ان سے) کہہ دیجیے کہ اللہ تعالیٰ بے حیائی کا حکم نہیں دیتا ‘ تو کیا تم اللہ کی طرف منسوب کر رہے ہو وہ کچھ جس کا تمہیں کوئی علم نہیں۔‘‘

29-30

اللہ عدل کا حکم دیتا ہے

ویڈیو

قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾ فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾

آیت 29

قُلۡ اَمَرَ رَبِّیۡ بِالۡقِسۡطِ ۟ وَ اَقِیۡمُوۡا وُجُوۡہَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ

’’آپؐ کہیے کہ میرے ربّ نے تو حکم دیا ہے انصاف (اور عدل و توازن ) کا‘اور اپنے رُخ سیدھے کر لیا کرو ہر نماز کے وقت‘‘

لفظ ’’مَسْجِد‘‘ اسم ظرفِ زمان بھی ہے اور اسم ظرفِ مکان بھی۔ بطور ظرفِ مکان سجدے کی جگہ مسجد ہے اور بطور ظرفِ زمان سجدے کا وقت مسجد ہے۔

وَّ ادۡعُوۡہُ مُخۡلِصِیۡنَ لَہُ الدِّیۡنَ ۬ؕ

’’اور اُسی کو پکارا کرو اُسی کے لیے اپنی اطاعت کو خالص کرتے ہوئے ۔‘‘

یعنی اللہ کو پکارنے اور اس سے دعا کرنے کی ایک لازمی شرط یہ ہے کہ اس کی کلی اطاعت کو اپنے اوپر لازم کیا جائے ۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ‘آیت ۱۸۶میں روزے کے احکام اور حکمتوں کو بیان کرنے کے بعد فرمایا : {اُجِیۡبُ دَعۡوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلۡیَسۡتَجِیۡبُوۡا لِیۡ } کہ میں تو ہر پکارنے والے کی پکار سنتا ہوں‘ اُس کی دعا کو قبول کرتا ہوں‘ لیکن انہیں بھی توچاہیے کہ وہ میرا کہنا مانیں ----اور یہ کہنا ماننا یا اطاعت جزوی طور پر قابل قبول نہیں‘ بلکہ اس کے لیے {ادۡخُلُوۡا فِی السِّلۡمِ کَآفَّۃً ۪} (البقرۃ: ۲۰۸) کا معیار سامنے رکھنا ہو گا‘ یعنی

اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پورے پورے داخل ہونا ہو گا۔ یہی بات یہاں آیت زیر مطالعہ میں اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ اپنی اطاعت کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے اسے پکارو۔ یعنی اس کی اطاعت کے دائرے کے اندر کلی طور پر داخل ہوتے ہوئے اس سے دعا کرو۔ یہاںیہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں بے شمار اطاعتوں سے سابقہ پڑتا ہے ‘ مثلاًوالدین کی اطاعت‘ اساتذہ کی اطاعت‘ اولوالامر کی اطاعت‘ وغیرہ۔ اس میں بنیادی طور پر جو اصول مطلوب ہے وہ یہ ہے کہ ’’لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُـوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ‘‘ یعنی مخلوق میں سے کسی کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس میں خالق حقیقی کی معصیت لازم آتی ہو ۔ اللہ کی اطاعت سب سے اوپر اور سب سے برتر رہے گی‘ باقی سب اطاعتیں اس کی اطاعت کے دائرے کے اندر رہتے ہوئے ہوں گی۔ جہاں کسی کی اطاعت میں اللہ کے کسی حکم کی خلاف ورزی ہوتی ہو توایسی اطاعت نا قابل قبول اور حرام ہو گی۔

کَمَا بَدَاَکُمۡ تَعُوۡدُوۡنَ ﴿ؕ۲۹﴾

’’جیسے اُس نے تمہیں پہلے پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ بھی پیدا ہوجاؤگے۔‘‘

آیت 30

فَرِیۡقًا ہَدٰی وَ فَرِیۡقًا حَقَّ عَلَیۡہِمُ الضَّلٰلَۃُ ؕ

’’ایک گروہ کو اُس نے ہدایت دے دی ہے اور ایک گروہ وہ ہے جس کے اوپر گمراہی مسلط ہو چکی ہے۔‘‘

یعنی جن لوگوں نے انکار کیا اور پھر اس انکار پر ڈٹ گئے وہ اپنی اس متعصبانہ روش کی وجہ سے‘ اپنی ضد اور اپنی ہٹ دھرمی کے سبب ‘ اپنے حسد اور تکبر کے باعث گمراہی کے مستحق ہو چکے ہیں۔

اِنَّہُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیۡنَ اَوۡلِیَآءَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ مُّہۡتَدُوۡنَ ﴿۳۰﴾

’’(اور یہ اس لیے کہ )انہوں نے شیطانوں کو اپنا ساتھی بنا لیا اللہ کو چھوڑ کر اور سمجھتے یہ ہیں کہ ہم ہدایت پر ہیں۔‘‘

31-32

حلال اشیاء کو حرام سمجھ لینا زہد نہیں

ویڈیو

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾ قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۲﴾

آیت 31

یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ خُذُوۡا زِیۡنَتَکُمۡ عِنۡدَ کُلِّ مَسۡجِدٍ

’’اے آدمؑ کی اولاد! اپنی زینت استوار کیا کرو ہر نماز کے وقت‘‘

یہاں اچھے لباس کو زینت کہا گیا ہے‘ جیسا کہ آیت ۲۶ میں لباس کو رِیْشًا فرمایا گیا تھا ‘یعنی لباس انسان کے لیے زیب و زینت کا ذریعہ ہے۔ یہاں پر یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ ابھی جن تین آیات (۲۶‘۲۷اور ۳۱)میں لباس کا ذکر ہوا ہے‘ ان تینوں میں بنی آدم کو مخاطب کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لباس کا معاملہ پوری نوع انسانی سے متعلق ہے۔ بہر حال اس آیت میں جو اہم حکم دیا جا رہا ہے وہ نماز کے وقت بہتر لباس زیب تن کرنے کے بارے میں ہے۔ ہمارے ہاں اس سلسلے میں عام طور پر اُلٹی روش چلتی ہے۔ دفتر اور عام میل ملاقات کے لیے تو عموماً بہت اچھے لباس کا اہتمام کیا جاتا ہے ‘لیکن مسجد جانا ہو تو میلے کچیلے کپڑوں سے ہی کام چلا لیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ جب تمہیں میرے دربار میں آنا ہو تو پورے اہتمام کے ساتھ اچھا اور صاف ستھرا لباس پہن کر آیا کرو۔

وَّ کُلُوۡا وَ اشۡرَبُوۡا وَ لَا تُسۡرِفُوۡا ۚ اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الۡمُسۡرِفِیۡنَ ﴿٪۳۱﴾

’’اور کھاؤ اور پیو البتہ اسراف نہ کرو‘ یقینا وہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘

یہ حکم بھی تمام بنی آدم کے لیے عام ہے کہ دنیا کی یہ چیزیں تمہارے لیے ہی بنائی گئیں ہیں ‘ ان چیزوں سے جائز اور معروف طریقوں سے استفادہ کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے‘ البتہ اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کے بے جا استعمال اور اسراف سے اجتناب ضروری ہے ‘کیونکہ اسراف اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ یہاں ایک طرف تو اسی رہبانی نظریہ کی نفی ہو رہی ہے جس میں اچھے کھانے‘ اچھے لباس اور زیب و زیبائش کو سرے سے اچھا نہیں سمجھا جاتااور مفلسانہ وضع قطع اور ترکِ لذات کو روحانی ارتقاء کے لیے ضروری خیال کیا جاتا ہے‘ جبکہ دوسری طرف دُنیوی نعمتوں کے بے جا اسراف اور ضیاع کو سختی سے منع کر دیا گیا ہے۔

اس سلسلے میں افراط و تفریط سے بچنے کے لیے ضروریاتِ زندگی کے اکتساب و تصرف کے معیار اور فلسفے کو اچھی طرح سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک مسلمان جہاں کہیں بھی رہتا بستا ہے اس کو دو صورتوں میں سے ایک صورتِحال درپیش ہو سکتی ہے ۔ اس کے ملک میں یا تو دین غالب ہے یا مغلوب ۔ اب اگر آپ کے ملک میں اللہ کا دین مغلو ب ہے تو آپ کا پہلا فرض یہ ہے کہ آپ اللہ کے دین کے غلبے کی جدو جہد کریں اور اس کے لیے کسی باقاعدہ تنظیم میں شامل ہو کر اپنا بیشتر وقت اور صلاحیتیں اس جدوجہد میں لگائیں۔ ایسی صورت حال میں دُنیوی طور پر ترقی کرنا اور پھلنا پھولنا آپ کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ہونا چاہیے‘ بلکہ آپ کی پہلی ترجیح اقامت دین کی جدوجہد ہونی چاہیے ‘اور سورۃ الانعام کی یہ آیت ماٹو کے طور پر ہر وقت آپ کے پیش نظر رہنی چاہیے : {اِنَّ صَلَاتِیۡ وَ نُسُکِیۡ وَ مَحۡیَایَ وَ مَمَاتِیۡ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ﴿ۙ۱۶۲﴾}۔ اس کا منطقی نتیجہ یہ ہو گا کہ آپ مادی لحاظ سے بہت بہتر معیارِ زندگی کو برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔ یہ اس لیے نہیں ہو گا کہ آپ رہبانیت یا ترکِ لذات کے قائل ہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہوگی کہ دُنیا اور دُنیوی آسائشیں کمانے کے لیے نہ آپ کوشاں ہیں اور نہ ہی اس کے لیے آپ کے پاس وقت ہے۔ آپ تو شعوری طور پر ضروریاتِ زندگی کو کم سے کم معیار پر رکھ کر اپنی تمام تر صلاحیتیں‘ اپنا وقت اور اپنے وسائل دین کی سر بلندی کے لیے کھپا رہے ہیں۔یہ رہبانیت نہیں ہے بلکہ ایک مثبت جہادی نظریہ ہے۔ جیسے نبی اکرمﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے قربانیاں دیں‘ سختیاں جھیلیں اور اپنے گھر باردین کی سر بلندی کے لیے چھوڑے۔ ظاہر ہے اس کام کے لیے اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتوں کو نازل نہیں کر ے گا‘ بلکہ یہ کام انسانوں نے ہی کرنا ہے‘ یعنی مسلمانوں نے کرنا ہے۔ انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جو لوگ انقلاب کے داعی بنے انہیں قربانیاں دینا پڑیں‘ کیونکہ کوئی بھی انقلاب قربانیوں کے بغیر نہیں آتا۔ لہٰذا اگر آپ واقعی اپنے دین کو غالب کرنے کے لیے انقلاب کے داعی بن کر نکلے ہیںتو آپ کا معیارِ زندگی خود بخود کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔

البتہ اگر آپ کے ملک میں دین غالب ہو چکا ہے ‘ نظا مِ خلافت قائم ہو چکا ہے ‘ اسلامی فلاحی ریاست وجود میں آ چکی ہے تو دین کی مزید نشر و اشاعت ‘ دعوت و تبلیغ اور نظامِ خلافت کی توسیع ‘ عوامی فلاح و بہبود کی نگرانی ‘ امن و امان کا قیام‘ ملکی سرحدوں کی حفاظت ‘ یہ سب حکومت اور ریاست کی ذمہ داریاں ہیں۔ ایسی اسلامی ریاست میں ایک فرد کی ذمہ داری صرف اسی حد تک ہے جس حد تک حکومت کی طرف سے اسے مکلف کیا جائے‘ چاہے وہ کسی ٹیکس کی صورت میں ہو یا کسی اور نوعیت کی ذمہ داری ہو ۔ لیکن ایسی صورتِ حال میں ایک فرد ‘ ایک عام شہری آزاد ہے کہ وہ دین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی ذاتی زندگی اپنی مرضی سے گزارے۔ اچھا کمائے ‘ اسراف سے بچتے ہوئے اپنے بچوں کے لیے بہتر معیارِ زندگی اپنائے‘ نیوی ترقی کے لیے محنت کرے‘ علمی و تحقیقی میدان میں اپنی صلاحیتوں کو آزمائے یا روحانی ترقی کے لیے مجاہدے کرے‘ تمام راستے اس کے لیے کھلے ہیں۔

آیت 32

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِ ؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا

فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ

’’(اے نبیﷺ! ان سے )پوچھیں کہ کس نے حرام کی ہے وہ زینت جو اللہ نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لیے؟ اور (کس نے حرام کی ہیں) پاکیزہ چیزیں کھانے کی؟ آپ کہہ دیجیے یہ تمام چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی اہل ایمان کے لیے ہیں اورقیامت کے دن تو یہ خالصتاً ان ہی کے لیے ہوں گی۔‘‘

دُنیا میں رہتے ہوئے تو بے شک اللہ تعالیٰ کے منکرین کو بھی اجازت ہے کہ وہ اُس کی نعمتوں میں سے کھا پی لیں‘ استفادہ کر لیں ‘مگر آخرت میں یہ تمام پاکیزہ چیزیں اہل ایمان کے لیے مختص ہوں گی اور کفار کو ان میں سے کوئی چیز نہیں ملے گی۔

کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۲﴾

’’اسی طر ح ہم اپنی آیات کی وضاحت کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔‘‘

33

بے حیائی حرام ہے خواہ ظاہر ہویا پوشیدہ

ویڈیو

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾

آیت 33

قُلۡ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ

’’کہہ دیجیے کہ میرے ربّ نے تو حرام قرار دیا ہے بے حیائی کی باتوں کو خواہ وہ اعلانیہ ہوں اور خواہ چھپی ہوئی ہوں‘‘

بے حیائی خواہ چھپی ہوئی بھی ہو‘ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیںہے۔

وَ الۡاِثۡمَ وَ الۡبَغۡیَ بِغَیۡرِ الۡحَقِّ

’’اور (حرام کیا ہے اُس نے )گناہ کو اور نا حق زیادتی کو‘‘

وَ اَنۡ تُشۡرِکُوۡا بِاللّٰہِ مَا لَمۡ یُنَزِّلۡ بِہٖ سُلۡطٰنًا وَّ اَنۡ تَقُوۡلُوۡا عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعۡلَمُوۡنَ ﴿۳۳﴾

’’اوریہ (بھی حرام ٹھہرایا ہے) کہ تم اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراؤ (کسی ایسی چیز کو) جس کے لیے اُس نے کوئی سند نہیں اتاری ہے اور یہ بھی کہ تم اللہ کی طرف منسوب کرو وہ چیز جس کا تم علم نہیں رکھتے۔‘‘

34

ہر قوم پر زوال آئےگا

ویڈیو

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۳۴﴾

آیت 34

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ۚ

’’اور ہر قوم کے لیے ایک وقت معین ہے۔‘‘

یعنی جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول آتا‘ تو ایک مقررہ مدت تک اُس قوم کو مہلت دی جاتی تاکہ وہ اس مدتِ مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے رسول ؑکی دعوت پر لبیک کہے اور صحیح راستے پر آ جائے ۔ اس مقررہ مدت کے دوران اس قوم کی نافرمانیوں کو بھی نظر انداز کیا جاتا ۔ حضورﷺ کی بعثت کے بعد مکہ میں بھی یہی معاملہ درپیش تھا۔ اہل مکہ کو مشیتِ خداوندی کے تحت مہلت دی جا رہی تھی۔ دوسری طرف اہلِ ایمان کی خواہش تھی کہ کفار کا فیصلہ جلد از جلد چکا دیا جائے ۔ ان کے ذہنوں میں لازماً یہ سوال بار بار آتا تھا کہ آخر کفار کو اس قدر ڈھیل کیوں دی جا رہی ہے ! اس پس منظر میں اس فرمان کا مفہوم یہ ہے کہ اہل ایمان کا خیال اپنی جگہ درست سہی ‘لیکن ہماری حکمت کا تقاضا کچھ اور ہے۔ہم نے اپنے رسول (ﷺ )کو مبعوث فرمایا ہے تو ساتھ ہی اس قوم کے لیے مہلت کی ایک خاص مدت بھی مقرر کی ہے۔ اس مقررہ گھڑی سے پہلے ان پر عذاب نہیں آئے گا۔ہاں جب وہ گھڑی (اجل) آ جائے گی تو پھر ہمارا فیصلہ مؤخر نہیں ہو گا۔ سورۃ الانعام کی آیت ۵۸میں اسی حوالے سے فرمایا گیا کہ اے نبی(ﷺ) آپ کفار پر واضح کر دیں کہ اگر میرے اختیار میں وہ چیز ہوتی جس کی تم لوگ جلدی مچا رہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان یہ فیصلہ کب کا چکایا جاچکا ہوتا۔

فَاِذَا جَآءَ اَجَلُہُمۡ لَا یَسۡتَاۡخِرُوۡنَ سَاعَۃً وَّ لَا یَسۡتَقۡدِمُوۡنَ ﴿۳۴﴾

’’پھر جب اُن کا وہ مقررہ وقت آ جائے گا تونہ ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکیں گے‘ نہ آگے کی طرف سرک سکیں گے۔‘‘

اگلی دو آیات میں جو مضمون آیا ہے وہ ہم قبل ازیں سورۃ البقرۃ میں بھی پڑھ آئے ہیں۔ سورۃ البقرۃ کے چوتھے رکوع میں حضرت آدم اور حضرت حوا علیہما السلام کو زمین پر بھیجنے کے حکم کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنا یہ حکم بھی نقل فرمایا ہے : {فَاِمَّا یَاۡتِیَنَّکُمۡ مِّنِّیۡ ہُدًی فَمَنۡ تَبِعَ ہُدَایَ فَلَا خَوۡفٌ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یَحۡزَنُوۡنَ ﴿۳۸﴾وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ۚ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿٪۳۹﴾} ’’تو جب بھی آئے تمہارے پاس میری جانب سے کوئی ہدایت‘ تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیروی کریں گے ان کے لیے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔اور جو کفر کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے‘وہ آگ والے (جہنمی) ہوں گے‘ اس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہیں گے‘‘۔ اسی بات کو یہاں ایک دوسرے انداز سے بیان کیا گیا ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے