بِسْمِ ٱللَّهِ ٱلرَّحْمَـٰنِ ٱلرَّحِيمِ

تحریر

الأعراف

آیات ۱ تا ۱۰

بیان القرآن، ڈاکٹر اسرار احمد

سورت کا صفحہ
سورت

قرآنترجمہتشریححدیثشعر

تمہیدی کلمات

سورۃ الاعرا ف قرآن حکیم کی طویل ترین مکی سورت ہے ۔ اس سورت کا سورۃ الانعام کے ساتھ چونکہ جوڑے کا تعلق ہے اس لیے اس کے مضامین کا تعارف سورۃ الانعام کے آغازمیں آ چکا ہے۔ وہاں پر التذکیر بِآلائِ اللّٰہ اور التذکیر بِاَیَّامِ اللّٰہ کے فلسفے پر بھی تفصیلی بحث ہو چکی ہے اور دونوں سورتوں میں مضامین کی اس تقسیم کا ذکر بھی ہو چکا ہے کہ سورۃ الانعام میں تذکیر بِآلائِ اللّٰہ کا انداز ملتا ہے جب کہ سورۃ الاعراف میں تذکیربِاَیَّامِ اللّٰہ کا رنگ غالب ہے ۔ سورۃ الاعراف کے موضوعات کی ترتیب اس طرح سے ہے کہ سب سے پہلے قصہ حضرت آد م ؑو ابلیس بیان کر کے انسانی تخلیق کے آغاز کا ذکر کیا گیا ہے۔ پھر حیاتِ دُنیوی کے اختتامی دور کا تذکرہ کیا گیا ہے۔ اس اختتامی دَور میں تین اقسام کے لوگوں کی تفصیل آ گئی ہے۔ پہلے اہلِ جہنم کا تذکرہ ہے‘ اس کے بعد اہلِ جنت کا ‘ اور پھر اصحابِ اعراف کا‘ یعنی وہ لوگ جن کے جنت یا دوزخ میں دخول کے بارے میں فیصلہ مؤخر کر دیا جائے گا۔ اس طرح حیاتِ انسانی کی ابتدااور اس کی انتہا کے تذکرے کے بعد حیاتِ انسانی کے ’’درمیانی دَور‘‘ کا تذکرہ تذکیر بِاَیَّـامِ اللّٰہ (انبیاء و رسل علیہم السلام اور ان کی قوموں کے حالات) کے طور پر آ گیا ہے‘ جو اس سورت کے مضامین کا عمود (main theme) ہے ۔

1-10

تاریخِ انسانی کا بیان

ویڈیو

الٓـمّٓصٓ ۚ﴿۱﴾ کِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ لِتُنۡذِرَ بِہٖ وَ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾ اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾ وَ کَمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا فَجَآءَہَا بَاۡسُنَا بَیَاتًا اَوۡ ہُمۡ قَآئِلُوۡنَ ﴿۴﴾ فَمَا کَانَ دَعۡوٰىہُمۡ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵﴾ فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ بِعِلۡمٍ وَّ مَا کُنَّا غَآئِبِیۡنَ ﴿۷﴾ وَ الۡوَزۡنُ یَوۡمَئِذِ ۣالۡحَقُّ ۚ فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸﴾ وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۹﴾ وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾

آیت 1

الٓـمّٓصٓ ۚ﴿۱﴾

’’ا‘ ل ‘ م ‘ ص ۔‘‘

یہ حروفِ مقطعات ہیں ‘اور جیسا کہ پہلے بھی وضاحت ہو چکی ہے ‘حروفِ مقطعات کا حقیقی اور یقینی مفہوم کسی کو معلوم نہیں اور یہ کہ ان تمام حروف کے مفاہیم و مطالب اللہ اور اُس کے رسولﷺکے درمیان راز کا درجہ رکھتے ہیں۔ البتہ یہاں اضافی طور پر یہ بات نوٹ کرلیجیے کہ قرآنِ مجید کی دو سورتیں ایسی ہیں جن کے شروع میں چار چار حروفِ مقطعات آئے ہیں۔ ان میں سے ایک تو یہی سورۃالاعراف ہے اور دوسری سورۃ الرعد ‘ جس کا آغاز الٓـمّٓرٰ سے ہو رہا ہے۔اس سے پہلے سورۃالبقرۃ اورسورۂ آل عمران کے آغاز میں تین تین حروفِ مقطعات (الٓمّٓ) آچکے ہیں۔

آیت 2

کِتٰبٌ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ

’’یہ کتاب ہے(اے نبیﷺ)جو آپ پر نازل کی گئی ہے‘ تو نہیں ہونی چاہیے آپ کے دل میں کچھ تنگی اس کی وجہ سے‘‘

اس سورت کا نزول مکی دور کے آخری برسوں میں ہوا جبکہ حضورﷺ کی دعوتی کوششوں کو شروع ہوئے دس گیارہ سال کا عرصہ گزر چکا تھا۔ رسول اللہﷺ دعوت کے لیے ہر ممکن طریقہ استعمال کر رہے تھے ‘ مگر آپ ؐ کی سالہا سال کی جدوجہد کے باوجود مکہ کے صرف چند لوگ ایمان لائے تھے۔ یہ صورتِ حال آپﷺ کے لیے باعثِ تشویش تھی۔ ایک عام آدمی تو اپنی غلطیوں کی ذمہ داری دوسروں کے سر پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنی کوتاہیوں کو بھی دوسروں کے کھاتے میں ڈال کر خود کو صاف بچانے کی فکر میں رہتا ہے‘ لیکن ایک شریف النفس انسان ہمیشہ یہ دیکھتا ہے کہ اگر اس کی کوشش کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آ رہے ہیں تو اس میں اُس کی طرف سے کہیں کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔اس سوچ اور احساس کی وجہ سے وہ اپنے دل پر ہر وقت ایک بوجھ محسوس کرتا ہے۔ لہٰذا جب حضورﷺ کی مسلسل کوشش کے باوجود اہلِ مکہ ایمان نہیں لا رہے تھے تو بشری تقاضے کے تحت آپؐ کو دل میں بہت پریشانی محسوس ہوتی تھی۔اس لیے آپؐ کی تسلی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ اس قرآن کی وجہ سے آپؐ کے اوپر کوئی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔

لِتُنۡذِرَ بِہٖ وَ ذِکۡرٰی لِلۡمُؤۡمِنِیۡنَ ﴿۲﴾

’’(یہ تو ا س لیے ہے )تاکہ اس کے ذریعے سے آپؐ خبردارکریں اور یہ یاد دہانی ہے اہلِ ایمان کے لیے۔‘‘

لِتُنْذِرَ بِہٖ تاکہ آپؐ اس قرآن کے ذریعے سے لوگوں کو خبردار کریں۔ انذار بالقرآن کا یہ مضمون سورۃ الانعام کی آیت ۱۹ میں بایں الفاظ آیا ہے : {وَ اُوۡحِیَ اِلَیَّ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنُ لِاُنۡذِرَکُمۡ بِہٖ وَ مَنۡۢ بَلَغَ ؕ} ’’اور یہ قرآن میری طرف اس لیے وحی کیا گیا ہے کہ اس کے ذریعے سے تمہیں بھی خبردار کروں اور جس جس کو یہ پہنچے‘‘۔ یہاں مزید فرمایا کہ یہ اہل ایمان کے لیے ذِکْرٰی (یاد دہانی) ہے۔یعنی جن سلیم الفطرت لوگوں کے اندر بالقوۃ (potentially) ایمان موجود ہے اُن کے سوئے ہوئے ( dormant) ایمان کو بیدار (activate) کرنے کے لیے یہ کتاب ایک طرح سے یاددہانی ہے۔ جیسے آپ کو کوئی چیز بھول گئی تھی‘ اچانک کہیں اس کی کوئی نشانی دیکھی تو فوراً وہ شے یاد آ گئی‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی معرفت کے حصول کے لیے اس کائنات کی چیزوں کو بھی انسانوں کے لیے یاد دہانی (ذکرٰی) بنا دیا ہے۔

آیت 3

اِتَّبِعُوۡا مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکُمۡ مِّنۡ رَّبِّکُمۡ

’’پیروی کرو اُس کی جو نازل کیا گیا تمہاری طرف تمہارے ربّ کی جانب سے ‘‘ پچھلی آیت میں حضورﷺسے صیغہ واحد میں خطاب تھا {فَلَا یَکُنۡ فِیۡ صَدۡرِکَ حَرَجٌ مِّنۡہُ} جب کہ یہاں ’’اِتَّبِعُوْا‘‘ جمع کا صیغہ ہے۔ یعنی یہاں خطاب کا رخ عام لوگوں کی طرف ہے اور انہیں وحیٔ الٰہی کی پیروی کا حکم دیا جا رہا ہے۔

وَ لَا تَتَّبِعُوۡا مِنۡ دُوۡنِہٖۤ اَوۡلِیَآءَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَذَکَّرُوۡنَ ﴿۳﴾

’’اور مت پیروی کرو اُس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی۔ کم ہی ہے جو نصیحت تم حاصل کرتے ہو۔‘‘

یعنی اپنے ربّ کو چھوڑ کر کچھ دوسرے اولیاء (دوست ‘سرپرست) بنا کر ان کی پیروی مت کرو۔

آیت 4

وَ کَمۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَہۡلَکۡنٰہَا فَجَآءَہَا بَاۡسُنَا بَیَاتًا اَوۡ ہُمۡ قَآئِلُوۡنَ ﴿۴﴾

’’اورکتنی ہی بستیاں ایسی ہیں جنہیں ہم نے ہلا ک کر دیا‘ تو ان پر آ پڑا ہمارا عذاب جب وہ رات کو سورہے تھے یاجب دوپہر کو قیلولہ کر رہے تھے۔‘‘

چو نکہ اس سورئہ مبارکہ کے موضوع کا عمود التَذْکِیْر بِاَیَّامِ اللّٰہ ہے‘ لہٰذا یہاں شروع میں ہی اقوامِ گزشتہ پر عذاب اور ان کی بستیوں کی تباہی کا تذکرہ آگیا ہے ۔ اس آیت میں قومِ نوحؑ‘ قومِ ہودؑ‘ قومِ صالحؑ ‘ قومِ شعیب ؑ اور قومِ لوط ؑکی بستیوں کی طرف اشارہ ہے۔

آیت 5

فَمَا کَانَ دَعۡوٰىہُمۡ اِذۡ جَآءَہُمۡ بَاۡسُنَاۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۵﴾

’’تو پھر ان کی پکاراس کے سوا کچھ نہیں تھی جب ان پر ہمارا عذاب آ پڑا کہ (ہائے ہماری شامت) بے شک ہم ہی ظالم تھے۔‘‘

واقعتا ہمارے رسولوں نے تو ہماری آنکھیں کھولنے کی پوری کوشش کی تھی مگر ہم نے ہی اپنی جانوں پر زیادتی کی جو اُن کی دعوت کو نہ مانا۔

آیت 6

فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾

’’پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔‘‘

یہ فلسفۂ رسالت کا بہت اہم موضوع ہے جو اس آیت میں بڑی جلالی شان کے ساتھ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف قوموں کی طرف رسولوں کو اس لیے بھیجتا تھا تاکہ وہ انہیں خبردار کر دیں۔ یہ ایک بہت بھاری اور حساس ذمہ داری تھی جو پیغمبروں پر ڈالی جاتی تھی۔ اب اگر بالفرض کسی رسول کی طرف سے اس ذمہ داری میں ذرا بھی کوتاہی ہوئی ہو گی تو متعلقہ قوم سے پہلے اُس سے پوچھا جائے گا ۔اس کی مثال یوں سمجھئے کہ آپ نے ایک اہم پیغام دے کر کسی آدمی کو اپنے کسی دوست کے پاس بھیجا کہ وہ یہ کام کل تک ضرور کردے ورنہ میرا بہت نقصان ہو گا‘ لیکن آپ کے اس دوست نے وہ کام نہیں کیا اور آپ کا نقصان ہو گیا۔اس پر آپ غصّے سے آگ بگولہ اپنے دوست کے پاس پہنچے اور کہا کہ تم نے میرے پیغام کے مطابق بروقت میرا کام کیوں نہیں کیا؟ اب آپ کادوست اگر جواباً یہ کہہ دے کہ اس کے پاس تو آپ کا پیغام لے کر کوئی آیا ہی نہیں تو اپنے دوست سے آپ کی ناراضی فوراً ختم ہو جائے گی ‘کیونکہ اس نے کوتاہی نہیں کی ‘اور آپ کے غصے کا رخ اس شخص کی طرف ہو جائے گا جس کو آپ نے پیغام دے کر بھیجا تھا۔ آپ اس سے باز پرس کریں گے کہ تم نے میرا انتہائی اہم پیغام کیوں نہیں پہنچایااور غیر ذمہ داری کا ثبوت دے کر تم نے میرا اتنا بڑا نقصان کیوں کر دیا؟ اسی طرح کا معاملہ ہے اللہ ‘ رسول اور متعلقہ قوم کا۔ اللہ نے رسول کو پیغام بر بنا کر ایک قوم کی طرف بھیجا۔ بالفرض اس پیغام کے پہنچانے میں اگر رسول سے کوتاہی ہوئی تو وہ اس کے لیے جوابدہ ہو گا۔ ہاں اگر اس نے کماحقہ پیغام پہنچا دیا تو وہ اپنی ذمہ داری سے بری ہوگیا۔ پھر اگر متعلقہ قوم نے اس پیغام پر عمل درآمد نہ کیا تو وہ اس کوتاہی کے لیے ذمہ دار ٹھہرے گی۔ چنانچہ آخرت میں اُمتوں کا بھی محاسبہ ہوگااور رسولوں کابھی۔ اللہ تعالیٰ ہر اُمت سے جواب طلبی کرے گا کہ میں نے تمہاری طرف اپنا رسول بھیجا تھا تا کہ وہ تمہیں میرا پیغام پہنچا دے‘ تم نے اس پیغام کو قبول کیا یا نہیں کیا؟ اور مرسلین سے بھی پوچھے گا کہ تم نے میرا پیغام پہنچایا یا نہیں؟ سورۃ المائدۃ کی آیت ۱۰۹ میں {مَا ذَاۤ اُجِبۡتُمۡ ؕ} کے سوال اور آیت ۱۱۶ کے درج ذیل الفاظ میں اسی جواب طلبی کا ذکر ہے: {وَ اِذۡ قَالَ اللّٰہُ یٰعِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ ءَاَنۡتَ قُلۡتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوۡنِیۡ وَ اُمِّیَ اِلٰہَیۡنِ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ} (آیت ۱۱۶) ’’اور جب اللہ پوچھے گا کہ اے عیسیٰ ابن مریم کیاتم نے کہا تھا لوگوں سے کہ مجھے اور میری ماں کو بھی الٰہ بنا لینا اللہ کے علاوہ؟‘‘

اب ذرا حجۃ الوداع (۱۰ ہجری) کے منظر کو ذہن میں لائیے۔حضرت محمد رسول اللہﷺ میدانِ عرفات میں ایک جمِ غفیر سے مخا طب ہیں۔ اس تاریخی موقع کے پس منظر میں آپﷺ کی ۲۳ برس کی محنت شاقہ تھی‘ جس کے نتیجے میں آپﷺنے پورے جزیرہ نمائے عرب میں دین کو غالب کر دیا تھا۔ لہٰذا آپﷺ نے اس مجمع کو مخاطب کرکے فرمایا: حدیث((اَلاَ ھَلْ بَلَّغْتُ؟)) لوگوسنو! کیا میں نے پہنچا دیا ؟اس پر پورے مجمع نے یک زبان ہو کر جواب دیا : نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ۔ ۱ ایک روایت میں یہ الفاظ آتے ہیں: اِنَّا نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ الرِّسَالَۃَ وَاَدَّیْتَ الْاَمَانَۃَ وَنَصَحْتَ الْاُمَّۃَّ وَکَشَفْتَ الْغُمَّۃ کہ ہاں ہم گواہ ہیں کہ آپﷺ نے رسالت کا حق ادا کر دیا‘آپؐ نے امانت کا حق ادا کر دیا(یہ قرآن آپؐ کے پاس اللہ کی امانت تھی جو آپؐ نے ہم تک پہنچا دی)‘ آپؐ نے اُمت کی خیر خواہی کا حق ادا کر دیا اور آپؐ نے گمراہی اور ضلالت کے اندھیروں کا پردہ چاک کردیا۔ اس موقع پر حضورﷺ نے تین دفعہ یہ سوال کیااور تین دفعہ لوگوں سے اس کا جواب لیا اور تینوں دفعہ آپؐ نے انگشت شہادت آسمان کی طرف اٹھا کر پکارا: اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ! اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ! اَللّٰھُمَّ اشْھَدْ! کہ اے اللہ تو بھی گواہ رہ‘ یہ لوگ تسلیم کر رہے ہیں کہ میں نے تیرا پیغام انہیں پہنچا دیا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا : حدیث((فَلْیُـبَـلِّغِ الشَّاھِدُ الْغَائِبَ))۲ کہ اب پہنچائیں وہ لوگ جو یہاں موجود ہیں ان لوگوں کو جو یہاں موجود نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ میرے کندھے سے یہ بوجھ اتر کر اب تمہارے کندھوں پر آ گیا ہے ۔ اگر میں صرف تمہاری طرف رسول بن کر آیا ہوتا تو اس مشن کی آج تکمیل ہو گئی ہوتی‘ مگر میں تو رسول ہوں تمام انسانوں کے لیے جو قیامت تک آئیں گے۔ چنانچہ اب اس دعوت اور تبلیغ کو ان لوگوں تک پہنچانا میری امت کے لوگوں کے ذمہ ہے۔

یہی وہ گواہی ہے جس کا منظر سورۃ النساء کی اس آیت میں دکھایا گیا ہے: {فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ۴۱﴾} ’’تو اُس دن کیا صورتِ حال ہو گی جب ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ کھڑا کریں گے اور (اے نبیﷺ) آپ کو لائیں گے ہم ان پر گواہ بناکر‘‘۔ پھر اس روز حجۃ الوداع کے موقع پر موجود لوگوں کی گواہی کا حوالہ بھی آئے گا۔ اور اس حوالے سے نبی اکرمﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور گواہی دیں گے کہ اے اللہ میں نے تو ان لوگوں تک تیرا پیغام پہنچا دیا تھا ‘ اب یہ ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ چونکہ معاملہ ان پر پوری طرح کھول دیا گیاتھا‘ لہٰذا اب یہ لوگ لاعلمی کے بہانے کا سہارا نہیں لے سکتے۔

(۱) صحیح مسلم‘ کتاب الحج‘ باب حجۃ النبیﷺ۔ وسنن ابی داوٗد‘ کتاب المناسک‘ باب صفۃ حجۃ‘النبی ﷺ۔

(۲) صحیح البخاری‘ کتاب الحج‘ باب الخطبۃ ایام منٰی۔ وصحیح مسلم‘ کتاب القسامۃ والمحاربین والقصاص والدیات‘ باب تغلیظ تحریم الدماء والاعراض والاموال۔

آیت 7

فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیۡہِمۡ بِعِلۡمٍ وَّ مَا کُنَّا غَآئِبِیۡنَ ﴿۷﴾

’’پھر ہم ان کے سامنے احوال بیان کریں گے علم کی بنیاد پر اور ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔‘‘

اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ جناب محمد رسول اللہﷺ فریضۂ رسالت کی ادائیگی میں کس قدر جدوجہد کرتے رہے تھے اور آپؐ کے صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کس طرح کے مشکل حالات میں آپؐکا ساتھ دیتے رہے تھے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ابوجہل اور ابو لہب کی کارروائیوں کو بھی دیکھ رہا تھا کہ وہ کس کس طریقے سے حضورﷺکو اذیتیں پہنچا رہے تھے اوراسلام کی مخالفت کر رہے تھے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دِن ہم ان کے سامنے اپنے علم کی بنیاد پر تمام احوال بیان کردیں گے ‘کیونکہ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو ہم وہاں سے غیر حاضر تونہیں تھے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ تو ہر وقت ہرجگہ موجود ہوتا ہے۔ سورۃ الحدید (آیت۴) میں اس حقیقت کو اس طرح بیان کیا گیا ہے: {وَ ہُوَ مَعَکُمۡ اَیۡنَ مَا کُنۡتُمۡ ؕ} کہ وہ (اللہ) تمہارے ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں کہیں بھی تم ہوتے ہو۔

آیت 8

وَ الۡوَزۡنُ یَوۡمَئِذِ ۣالۡحَقُّ ۚ

’’اور اُس روزوزن ہو گا حق ہی میں (یا وزن ہی فیصلہ کن ہو گا)‘‘

اُس روز اللہ تعالیٰ ترازو نما کوئی ایسا نظام قائم کرے گا ‘ جس کے ذریعے سے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن ہوگا‘ مگر اُس دن وزن صرف حق ہی میں ہو گا‘ یعنی صرف اعمالِ صالحہ ہی کاوزن ہو گا‘ باطل اور برے کاموں میں سرے سے کوئی وزن نہیں ہو گا‘ ریاکاری کی نیکیاں ترازو میں بالکل بے حیثیت ہوں گی۔ {وَ الۡوَزۡنُ یَوۡمَئِذِ ۣالۡحَقُّ ۚ} کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اُس دن وزن ہی حق ہو گا‘ وزن ہی فیصلہ کن ہو گا۔اگر دو پلڑوں والی ترازو کا تصور کریں تو اس جملے کا مطلب یہ ہو گا کہ جس کا نیکیوں والا پلڑا بھاری ہو گا نجات بس اسی کے لیے ہو گی۔

فَمَنۡ ثَقُلَتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿۸﴾

’’تو جس کے پلڑے بھاری ہوں گے تووہی لوگ ہوں گے فلاح پانے والے۔‘‘

آیت 9

وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ بِمَا کَانُوۡا بِاٰیٰتِنَا یَظۡلِمُوۡنَ ﴿۹﴾

’’اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو ہلاک کر لیا بسبب اس کے کہ وہ ہماری آیات سے ناانصافی کرتے رہے۔‘‘

آیت ۶ {فَلَنَسۡـَٔلَنَّ الَّذِیۡنَ اُرۡسِلَ اِلَیۡہِمۡ وَ لَنَسۡـَٔلَنَّ الۡمُرۡسَلِیۡنَ ۙ﴿۶﴾}

کی طرح اگلی آیت بھی اپنے موضوع کے اعتبار سے بہت اہم ہے ۔

آیت 10

وَ لَقَدۡ مَکَّنّٰکُمۡ فِی الۡاَرۡضِ وَ جَعَلۡنَا لَکُمۡ فِیۡہَا مَعَایِشَ ؕ قَلِیۡلًا مَّا تَشۡکُرُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾

’’اور (دیکھو انسانو!) ہم نے تمہیں زمین میں تمکن عطا فرمایا اور اس میں تمہارے لیے معاش کے سارے سامان رکھ دیے ‘ (لیکن) بہت ہی کم ہے جوشکر تم کرتے ہو۔‘‘

تم لوگوں کو توہر وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ زمین کے وسائل انسان کے مسلسل استعمال سے ختم نہ ہو جائیں‘ انسانی و حیوانی خوراک کا قحط نہ پڑ جائے۔ مگر تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ کے خزانے ختم ہونے والے نہیں ہیں۔ ہم نے تمہیں اس زمین میں بسایا ہے تو یہاں تمہاری اور تمہاری آئندہ تمام نسلوں کی جملہ جسمانی ضرورتیں پوری کرنے کا بندوبست بھی کیا ہے۔ اب اگلے (دوسرے) رکوع میں اسی مضمون یعنی تمکن فی الارض کی تفصیل بیان ہوئی ہے۔

یوٹیوب پر دیکھیے